Digital Oasis
social,funny, informative and useful
اس بڑی عید پر پشتو رنگین فلم کالجی زوان آرہی ہے۔ جس میں ھیرو اور کالج بوائے کا کردار ساٹھ سالہ خوف صورت ایکٹر شاھد خان ادا کرینگے۔
دیکھنا نہ بھولیں آپکی قریبی سینما گھروں میں اس خوف صورت نوجوان ایکٹر کی یہ شاہکار ۔! 👍🏼
゚viralシ
موجودہ حکومت کا 100 ارب ڈالر کا ڈاکہ۔۔۔۔۔۔۔3/4 سال سے تو آپ کی شہباز شریف کی ،آصف زرداری کی اور آپ لوگوں کے سرپرستوں کی حکومت ہے،تو یہ 100 ارب ڈالر تو آپ لوگ لے گئے ہیں، آپ لوگوں کی رضامندی، سہولت کاری سے باہر لے گئے ہیں،
5 ارب ڈالر کیلئے آئی ایم ایف کی غلامی اور خود 100 ارب کا ڈاکہ۔۔۔
یہ خونخوار بدمعاشیہ پاکستان کے مسائل کی جڑ ہے،اسی مافیا نے پاکستان کو غلام،مقروض، غریب، پسماندہ اور ناخواندہ رکھا ہے۔عوام کے حق حکمرانی پر بھی ڈاکہ اور ملک کے وسائل پر بھی ڈاکہ۔۔
غریبوں کا خون چوسنے والا ،آئی ایم ایف اور ٹرمپ کی غلامی کرنے والا کیخلاف بغاوت،
مزاحمت ہی آزادی کا حقیقی راستہ ہے۔
موجودہ حکومت کا 100 ارب ڈالر کا ڈاکہ۔۔۔۔۔۔۔3/4 سال سے تو آپ کی شہباز شریف کی ،آصف زرداری کی اور آپ لوگوں کے سرپرستوں کی حکومت ہے،تو یہ 100 ارب ڈالر تو آپ لوگ لے گئے ہیں، آپ لوگوں کی رضامندی، سہولت کاری سے باہر لے گئے ہیں،
5 ارب ڈالر کیلئے آئی ایم ایف کی غلامی اور خود 100 ارب کا ڈاکہ۔۔۔
یہ خونخوار بدمعاشیہ پاکستان کے مسائل کی جڑ ہے،اسی مافیا نے پاکستان کو غلام،مقروض، غریب، پسماندہ اور ناخواندہ رکھا ہے۔عوام کے حق حکمرانی پر بھی ڈاکہ اور ملک کے وسائل پر بھی ڈاکہ۔۔
غریبوں کا خون چوسنے والا ،آئی ایم ایف اور ٹرمپ کی غلامی کرنے والا کیخلاف بغاوت،
مزاحمت ہی آزادی کا حقیقی راستہ ہے۔
UNSKILLED
ایشیہ قذافی، مرحوم لیبیائی رہنما معمر قذافی کی بیٹی نے ایرانی عوام کو ایک سخت انتباہ جاری کیا ہے، جو براہ راست اپنے خاندان کے المناک تجربے سے اخذ کیا گیا ہے۔
ان کے پیغام میں کہا گیا: **"بھیڑیوں سے مذاکرات ریوڑ کو بچاتے نہیں — وہ صرف اگلی شکار کی تاریخ مقرر کرتے ہیں۔"**
وہ اپنے تکلیف دہ ذاتی تجربے کی بنیاد پر بات کر رہی ہیں۔ مغرب نے ایک بار ان کے والد سے وعدہ کیا تھا کہ اگر لیبیا اپنے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کو ترک کر دے تو ملک کو بین الاقوامی برادری میں خوش آمدید کہا جائے گا۔ معمر قذافی نے اچھی نیت سے تعمیل کی اور ان پروگراموں کو ختم کر دیا۔
لیکن ۲۰۱۱ میں نیٹو نے بہرحال مداخلت کی۔ لیبیا افراتفری اور تباہی میں ڈوب گیا، اور ان کے والد کو گرفتار کر لیا گیا — ایک نکاسی کے پائپ سے کھینچ کر — اور ویڈیو میں وحشیانہ طور پر قتل کر دیا گیا۔
ایرانی عوام کے لیے ان کا واضح مشورہ: ایسی ہی رعایتیں دینے سے گریز کریں۔ ایسے معاہدے حقیقی امن یا سلامتی نہیں لاتے۔ بلکہ وہ صرف اگلی جارحیت اور تباہی کی لہر کو ملتوی کرتے ہیں — اور ممکنہ طور پر دعوت دیتے ہیں۔
یہ پیغام، جو اصل میں ۲۰۲۶ کے ابتدائی دنوں میں (ان کے عمان میں جلاوطنی سے) شیئر کیا گیا تھا، اب علاقائی تناؤ میں دوبارہ سامنے آیا ہے۔ یہ جوہری غیر مسلح ہونے سے متعلق مغربی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہ کرنے کی ایک احتیاطی کہانی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
26/03/2026
ماتا ہاری کی کہانی ایک دلچسپ، پراسرار اور المناک داستان ہے۔ اس کی اصل نام **مارگریتھا گیرترویدا زیلے** (Margaretha Geertruida Zelle) تھا۔ وہ ایک ڈچ عورت تھی جو **ایگزوٹک ڈانسر**، **کورٹیزن** (امیر مردوں کی محبوبہ) اور **مبینہ جاسوسہ** بن گئی۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران فرانس نے اسے جرمنی کے لیے جاسوسی کا الزام لگا کر **فائرنگ سکواڈ** سے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
# # # ابتدائی زندگی (Early Life)
ماتا ہاری کی پیدائش **7 اگست 1876** کو نیدرلینڈز کے شہر **لیوارڈن** (Leeuwarden) میں ہوئی۔ اس کے والد ایک خوشحال ہیٹ بنانے والے تاجر تھے، لیکن جب وہ نوعمر تھی تو خاندان دیوالیہ ہو گیا۔ والدہ کی موت کے بعد اس کی زندگی مشکل ہو گئی۔
18 سال کی عمر میں اس نے ایک اشتہار دیکھ کر **کیپٹن رودولف میک لیوڈ** (Rudolph MacLeod) سے شادی کر لی، جو اس سے 21 سال بڑا تھا اور ڈچ نوآبادیاتی فوج میں افسر تھا۔ شادی خوشگوار نہیں تھی — شوہر ظالم تھا، شراب کا عادی تھا اور اس نے مارگریتھا کو **سفلس** (syphilis) کا مرض منتقل کر دیا۔
دونوں **جاوا** اور **سماترا** (انڈونیشیا، جو اس وقت ڈچ ایسٹ انڈیز تھا) چلے گئے۔ وہاں ان کے دو بچے ہوئے: ایک بیٹی اور ایک بیٹا۔ بیٹے کی موت ہو گئی (کچھ کہتے ہیں نینی نے زہر دیا، کچھ کہتے ہیں مرض کی وجہ سے)۔ شوہر کی بدسلوکی کی وجہ سے 1902 میں وہ یورپ واپس آئے اور **1906** میں طلاق ہو گئی۔ بیٹی کی کسٹڈی شوہر کے پاس رہی، اور مارگریتھا مالی طور پر تباہ حال تھی۔
# # # پیرس میں شہرت (Rise to Fame in Paris)
پیسے کمانے اور بیٹی کو واپس لانے کی امید میں مارگریتھا **1905** میں **پیرس** پہنچی۔ وہاں اس نے خود کو **ماتا ہاری** کا نام دیا، جو ملائی زبان میں "دن کی آنکھ" یا "سورج" کے معنی رکھتا ہے۔
اس نے **ایشیائی طرز کے رقص** پیش کیے — جو اس نے انڈونیشیا میں دیکھے تھے۔ وہ خوبصورت، لمبی قد کی، دلکش اور تقریباً ننگے جسم کے ساتھ رقص کرتی تھی۔ جلد ہی وہ یورپ بھر میں مشہور ہو گئی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک **ہندوستانی مندر کی رقاصہ** تھی جسے پریسٹس نے تربیت دی تھی۔ لوگ اس کی خوبصورتی اور پراسرار شخصیت پر فریفتہ ہو گئے۔
وہ امیر جرنیلوں، سیاستدانوں اور اشرافیہ کی **محبوبہ** بنی۔ اس کے بہت سے عاشق فوجی افسران تھے — کچھ فرانسیسی، کچھ جرمن۔
# # # جنگ اور جاسوسی کا الزام (World War I and Espionage)
**1914** میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی۔ ماتا ہاری یورپ میں سفر کرتی رہی۔ اس کے عاشقوں کی وجہ سے وہ دونوں طرف کے فوجی رازوں تک رسائی رکھتی تھی۔
- **1916** میں فرانسیسی انٹیلی جنس (Deuxième Bureau) نے اسے **فرانس کے لیے جاسوس** بننے کی پیشکش کی۔ اس نے قبول کیا، کیونکہ اسے ایک روسی عاشق (Vadim Maslov) سے ملنے کی اجازت ملنی تھی جو زخمی تھا۔ فرانس نے اسے ایک ملین فرانک بھی دیے۔
- جرمن انٹیلی جنس نے بھی اسے پیسے دیے (لیکن کچھ مورخین کہتے ہیں کہ وہ صرف "ڈبل ایجنٹ" کا کھیل کھیل رہی تھی)۔
فروری **1917** میں فرانس نے اسے **جرمنی کے لیے جاسوسی** کا الزام لگا کر گرفتار کر لیا۔ اسے **سینٹ لازار زندان** میں رکھا گیا۔
# # # مقدمہ اور سزا (Trial and Ex*****on)
جولائی **1917** میں فوجی عدالت میں مقدمہ چلا۔ الزامات:
- جرمنی کو اہم فوجی راز بتانا۔
- اس کی وجہ سے 50,000 فرانسیسی فوجیوں کی موت (یہ الزام بے بنیاد تھا)۔
ثبوت بہت کم تھے — زیادہ تر اس کے عاشقوں سے ملنے، سفر اور جرمنوں سے پیسے لینے پر مبنی۔ اس کے وکیل نے کہا کہ وہ صرف ایک **کورٹیزن** ہے، جاسوس نہیں۔ ماتا ہاری نے کہا: **"ایک کورٹیزن، میں مانتی ہوں۔ ایک جاسوس، کبھی نہیں!"**
عدالت نے اسے **قصوروار** قرار دیا اور **موت کی سزا** سنائی۔
**15 اکتوبر 1917** کو صبح سویرے **ونسینز** (Vincennes) کے قلعے کے خندق میں **12 فرانسیسی فوجیوں** کے فائرنگ سکواڈ نے اسے گولی مار دی۔ وہ 41 سال کی تھی۔
اس نے **آنکھوں پر پٹی باندھنے سے انکار** کر دیا، ہاتھ باندھنے سے بھی۔ کچھ عینی شاہدین کے مطابق اس نے فائرنگ سکواڈ کی طرف مسکرا کر **چومہ بھیجا**۔
# # # حقیقت کیا تھی؟ (Was She Really a Spy?)
آج بہت سے مورخین کا خیال ہے کہ ماتا ہاری **بے گناہ** تھی یا کم از کم اتنی بڑی جاسوس نہیں تھی۔ فرانس جنگ میں ناکامیاں چھپانے کے لیے اسے **بکرا** (scapegoat) بنایا۔ اس نے کوئی اہم راز نہیں دیے — جو کچھ بھی دیا، وہ اخباروں میں دستیاب تھا۔
اس کی پراسرار شخصیت، آزادانہ جنسی زندگی اور "غیر ملکی" (exotic) ہونے کی وجہ سے وہ آسان ہدف بنی۔ بعد میں فرانسیسی prosecutors نے خود تسلیم کیا کہ ثبوت ناکافی تھے۔
ماتا ہاری کی کہانی فلموں، کتابوں اور ڈراموں میں امر ہو گئی ہے۔ وہ **پراسرار عورت** کی علامت بن گئی — خوبصورتی، ذہانت، رازداری اور المناک انجام کی ہے
ایک برہمن خاتون جو عمان میں رہتی ہیں، دعویٰ کرتی ہیں کہ بی جے پی کی بیانیہ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ وہ کہتی ہیں کہ عمان میں دستیاب زیادہ تر بیف ہندوستان سے درآمد کیا جاتا ہے۔ وہ یہ بھی دلیل دیتی ہیں کہ "بھینس کے گوشت کو بیف کہہ کر لیبل لگانے" کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ دراصل یہ گائے کا گوشت ہے جو ہندوستان برآمد کرتا ہے۔ ان کے مطابق، جو حقیقت لوگوں کو ہندوستان میں بتائی جا رہی ہے اس سے مختلف ہے۔ لیکن بدقسمتی سے معصوم ہندوستانی اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بیف سے مراد بھینس کا گوشت ہے۔
---
**نوٹ (حقیقت کے لیے):**
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی سرکاری پالیسی کے مطابق گائے کا گوشت (cow beef) برآمد کرنا قانونی طور پر منع ہے۔ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ "بیف" کا ہے، لیکن یہ تقریباً مکمل طور پر بھینس کا گوشت (carabeef / buffalo meat) ہوتا ہے، جو بین الاقوامی تجارت میں "beef" کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ عمان سمیت خلیجی ممالک میں بھی زیادہ تر ہندوستانی "بیف" دراصل بھینس کا گوشت ہی ہوتا ہے۔
! 😊
Pakistan consulate
Click here to claim your Sponsored Listing.
Telephone
Address
Al Ajman
32237