Tajweed ul quran

Tajweed ul quran

Share

ilm-Ul-Quran-Academy

14/09/2026

سبق نمبر 13
اس تختی کو سمجھنے اور پڑھنے کا سب سے آسان اور مختصر طریقہ یہ ہے:

1۔ جزم (سکون) کیا ہے؟علامت: حرف کے اوپر آنے والا چھوٹا سا نشان (^) جزم (کبھی یہ حرف پر چھوٹی سی دال یا گول دائرے کی صورت میں بھی ہوتا ہے)کہلاتا ہے۔
قاعدہ: جزم والا حرف اکیلا نہیں پڑھا جاتا۔ اسے ہمیشہ پچھلے حرف سے ملا کر پڑھتے ہیں۔
2۔ پڑھنے کا آسان فارمولاپہلے حرف کی آواز (زبر، زیر یا پیش) کو جزم والے حرف کی آواز کے ساتھ جوڑ کر وہیں روک دیں۔
3۔ پہلی لائن کو پڑھنے کی مثالیں اُاْ ہمزہ + ہمزہ پیش = اُاْ (آواز کو جھٹکے سے روکیں)
اُعْ (ہمزہ + عین پیش = اُعْ) (حلق سے آواز نکال کر روکیں)
اُثْ (ہمزہ + ثا پیش= اُثْ) (زبان کی نوک دانتوں سے لگا کر نرمی سے روکیں)
(اُذْ ہمزہ + ذال پیش = اُذْ)
(نرمی سے آواز روکیں)

نوٹ 👇
اس تختی میں حروف قلقلہ کو واضح کر کے قلقلہ کے ساتھ ادا کریں گے
👇
قلقلہ کا سادہ اور عام فہم مطلب ہے "آواز کا پلٹنا یا ٹکرانا"۔
جب ہم بولتے ہوئے کسی حرف پر رکتے ہیں، تو آواز وہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ایک جھٹکے یا ٹکراو کے ساتھ واپس آتی ہے۔
جیسے دیوار پر ماری ہوئی گیند واپس پلٹتی ہے۔
1۔ قلقلہ کے حروف (صرف 5 ہیں)قرآن پاک کے صرف ان پانچ حروف پر قلقلہ ہوتا ہے: ق ، ط ، ب ، ج ، د۔(یاد رکھنے کے لیے ان کا مجموعہ "قُطْبُ جَدٍ" ہے)۔
2۔ قلقلہ کب ہوتا ہے؟
جب ان پانچ حروف (ق، ط، ب، ج، د) کے اوپر جزم (سکون) ہو، تو ان کو پڑھتے وقت آواز کو ہلکا سا جھٹکا دے کر پلٹایا جاتا ہے۔
3۔ عام فہم مثالیں (اردو کے ذریعے)اَبْ (Ab): اگر ہم عام اردو میں "اب" کہیں، تو آواز 'ب' پر رک جاتی ہے۔
لیکن قلقلہ میں اسے "اَبْ۔بہ" کی طرح ہلکا سا پلٹائیں گے
اَجْ (Aj): آواز کو صرف 'ج' پر روکنا نہیں ہے، بلکہ "اَجْ۔جہ" کی طرح ہلکی سی بازگشت (Echo)
پیدا کرنی ہے۔

اللّٰہ تعالٰی ہمارے سیکھنے سکھانے کو قبول فرمائے آسان فرمائے آمین ۔

✨ خواتین اور بچوں کے لیے آن لائن قرآن پاک سیکھنے کا سنہری موقع! ✨گھر بیٹھے تجوید کے ساتھ قرآنی تعلیم حاصل کریں۔ ہماری ماہر اور تجربہ کار خواتین اساتذہ (Female Teachers) کے زیرِ نگرانی واٹس ایپ کے ذریعے بالکل مفت تعلیم حاصل کریں۔
📖 کورسز کی تفصیل:نورانی قاعدہ اور تجوید کورس ناظرہ / حفظِ قرآن کریم
🤲مسنون دعائیں اور نماز کورس

13/09/2026

سبق نمبر 12
نیچے دئیے گئے الفاظ کو بغور پڑھیں اور گزشتہ سبق نمبر 11 میں ہم نے جو پڑھا اسکی روشنی میں ان الفاظ میں سے
مد متصل 01
مد منفصل 02
مد عارض وقفی مدہ 03
اور مد عارض وقفی لین 04
کی مثالیں کمنٹس میں تحریر فرمائیں

اللّٰہ تعالٰی ہمارے سیکھنے سکھانے کو قبول فرمائے آسان فرمائے آمین ۔

✨ خواتین اور بچوں کے لیے آن لائن قرآن پاک سیکھنے کا سنہری موقع! ✨گھر بیٹھے تجوید کے ساتھ قرآنی تعلیم حاصل کریں۔ ہماری ماہر اور تجربہ کار خواتین اساتذہ (Female Teachers) کے زیرِ نگرانی واٹس ایپ کے ذریعے بالکل مفت تعلیم حاصل کریں۔
📖 کورسز کی تفصیل:نورانی قاعدہ اور تجوید کورس ناظرہ / حفظِ قرآن کریم
🤲مسنون دعائیں اور نماز کورس

13/09/2026

سبق نمبر 11

تصویر میں دیے گئے قاعدے کے مطابق مد متصل اور مد منفصل کو پڑھنے اور سمجھنے کا آسان طریقہ درج ذیل ہے:

1۔ مد متصل (مدِ واجب)جب حروفِ مدہ کے بعد ہمزہ (ء) اسی ایک ہی لفظ (کلمہ) کے اندر موجود ہو، تو اسے مد متصل کہتے ہیں۔
معنی: متصل کا مطلب ہے "ملا ہوا ہونا"۔
پہچان: حروفِ مدہ کے بعد چھوٹا ہمزہ (ء) آتا ہے۔
مثالیں: جیسے جَاءَ اور غُثَاءً (یہ پورے ایک ہی لفظ ہیں)۔کھینچنے کی مقدار: اسے تین الف کے برابر لمبا کر کے پڑھتے
ہیں۔
2۔ مد منفصل (مدِ جائز)جب حروفِ مدہ پہلے لفظ کے آخر میں ہو اور ہمزہ (ا) دوسرے لفظ کے شروع میں ہو، تو اسے مد منفصل کہتے ہیں۔معنی: منفصل کا مطلب ہے "الگ الگ یا جدا جدا ہونا"۔
پہچان: حروفِ مدہ کے بعد دوسرے لفظ کے شروع میں الف کی شکل والا بڑا ہمزہ (اَ، اِ، اُ) آتا ہے۔مثالیں: جیسے اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ یا اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ (ان میں 'اِنَّا' پہلا کلمہ ہے اور 'اَنْزَلْنَا/اَعْطَیْنٰکَ' دوسرا کلمہ ہے)۔کھینچنے کی مقدار: اسے بھی تین الف کے برابر لمبا کر کے پڑھا جاتا ہے

آسان خلاصہ اگر مد اور ہمزہ ایک ہی لفظ میں ہوں 👈 مد متصل (جیسے: جَاۤءَ)۔
اگر مد ایک لفظ میں اور ہمزہ دوسرے لفظ کے شروع میں ہو 👈 مد منفصل (جیسے: اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ)۔
(ان اسباق کی پریکٹس کیلئے الفاظ اگلے سبق میں پوسٹ کیے جائیں گے ان شاءاللہ)
✨ خواتین اور بچوں کے لیے آن لائن قرآن پاک سیکھنے کا سنہری موقع! ✨گھر بیٹھے تجوید کے ساتھ قرآنی تعلیم حاصل کریں۔ ہماری ماہر اور تجربہ کار خواتین اساتذہ (Female Teachers) کے زیرِ نگرانی واٹس ایپ کے ذریعے بالکل مفت تعلیم حاصل کریں۔
📖 کورسز کی تفصیل:نورانی قاعدہ اور تجوید کورس ناظرہ / حفظِ قرآن کریم
🤲مسنون دعائیں اور نماز کورس

22/08/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

✨ آج کا سبق: حروفِ لین (سبق نمبر 10) کو پڑھنے اور یاد کرنے کا طریقہ ✨
حروفِ لین کو درست تجوید کے ساتھ پڑھنے اور ذہن نشین

کرنے کے لیے ان قواعد پر عمل کریں:حروفِ لین کی پہچان: حروفِ لین کل دو (2) ہیں: "واؤ (و)" اور "یا (ی)"۔
لین کب بنتے ہیں؟ جب واؤ ساکن (وْ) یا یاء ساکن (یْ) سے پہلے زبر (◌َ) ہو، تو انہیں حروفِ لین کہا جاتا ہے (جیسے: بَوْ، بَیْ)۔
پڑھنے کا درست طریقہ: حروفِ لین کو بغیر کھینچے (بغیر مد کیے) اور بغیر جھٹکا دیے، بہت نرمی سے پڑھا جاتا ہے۔حروفِ مدہ اور لین میں فرق:اگر واؤ ساکن سے پہلے زبر ہو تو وہ واؤ لین ہے (جیسے: بَوْ)، اور اگر پیش ہو تو واؤ مدہ ہے (جیسے: بُو)۔اگر یاء ساکن سے پہلے زبر ہو تو وہ یاء لین ہے (جیسے: بَیْ)، اور اگر زیر ہو تو یاء مدہ ہے (جیسے: بِي)۔مشق کا طریقہ: نیچے دی گئی تختی میں موجود الفاظ (جیسے: تَوْ، تَیْ، ثَوْ، ثَیْ) کو بار بار نرمی سے دہرا کر تلفظ کی مشق
کریں

✨ خواتین اور بچوں کے لیے آن لائن قرآن پاک سیکھنے کا سنہری موقع! ✨گھر بیٹھے تجوید کے ساتھ قرآنی تعلیم حاصل کریں۔ ہماری ماہر اور تجربہ کار خواتین اساتذہ (Female Teachers) کے زیرِ نگرانی واٹس ایپ کے ذریعے بالکل مفت تعلیم حاصل کریں۔
📖 کورسز کی تفصیل:نورانی قاعدہ اور تجوید کورس ناظرہ / حفظِ قرآن کریم
🤲مسنون دعائیں اور نماز کورس

05/08/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سبق 09
تصاویر میں تجوید کی بنیادی تختیاں "حروفِ مدہ" اور "حروفِ لین" شامل ہیں۔
انہیں پڑھنے اور سمجھنے کا آسان طریقہ درج ذیل ہے۔
:1۔ حروفِ مدہ کو سمجھنے اور پڑھنے کا طریقہ حروفِ مدہ کل تین (3) ہیں:
الف (ا)، واؤ (و)، اور یا (ی)
انہیں ایک الف کی مقدار (دو حرکات کے برابر) کھینچ کر پڑھا جاتا ہے۔
الف مدہ: جب الف سے پہلے زبر ہو (جیسے: بَا)۔
واؤ مدہ: جب واؤ ساکن سے پہلے پیش ہو (جیسے: بُوْ )۔
یا مدہ: جب یا ساکن سے پہلے زیر ہو (جیسے: بِيْ)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✨ خواتین اور بچوں کے لیے آن لائن قرآن پاک سیکھنے کا سنہری موقع! ✨

گھر بیٹھے تجوید کے ساتھ قرآنی تعلیم حاصل کریں۔ ہماری ماہر اور تجربہ کار خواتین اساتذہ (Female Teachers) کے زیرِ نگرانی واٹس ایپ کے ذریعے بالکل مفت تعلیم حاصل کریں۔

نورانی قاعدہ اور تجوید کورس ناظرہ/حفظ قرآن کریم🤲 مسنون دعائیں اور نماز کورس ابھی

02/08/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سبق نمبر 8

(تختی نمبر 7: کھڑی حرکات)

کھڑا زبر (ٰ)، کھڑی زیر (ٖ)، اور الٹا پیش (ٗ) کو کھڑی حرکات کہتے ہیں۔
کھڑا زبر (ٰ): یہ الف مدہ کی جگہ کام کرتا ہے۔
کھڑی زیر (ٖ): یہ یاء مدہ کی جگہ کام کرتا ہے۔
الٹا پیش (ٗ): یہ واؤ مدہ کی جگہ کام کرتا ہے۔
قاعدہ(Rule):
ان تینوں حرکات کو پڑھتے وقت ایک الف کے برابر لمبا (کھینچ کر) پڑھا جاتا ہے۔
مشق کی مثالیں:بٰ (باء کھڑا زبر 'با')
یٖ (یاء کھڑی زیر 'یی')
رٗ (راء الٹا پیش 'رو')
نیز
خواتین اور بچوں کے لیے سنہری موقع! ✨
خواتین اور بچوں کو مفت قرآنی تعلیمات (تجوید اور نورانی قاعدہ) بذریعہ واٹس ایپ، تجربہ کار خواتین اساتذہ
(Female Teachers)
کی زیرِ نگرانی حاصل کرنے کے لیے ابھی ہمیں ان باکس (Inbox) کریں۔

:

26/07/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سبق نمبر 7
یہ تصویر نورانی قاعدے کی ایک مشق (تختی) پر مشتمل ہے، جس کا مقصد حروف کو حرکات (زبر، زیر، پیش) کے ساتھ ملا کر درست مخارج سے پڑھنا سکھانا ہے۔پڑھنے اور سیکھنے کا طریقہ نورانی قاعدے کی اس مشق کو دو طریقوں سے پڑھا اور سیکھا جاتا ہے:
ہجوں(spellings) کے ساتھ (حرف بہ حرف): پہلے ہر حرف کو اس کی حرکت کے ساتھ الگ پڑھیں، پھر ملا کر لفظ مکمل کریں۔
مثال کے طور پر: اَبَدًا کو پڑھنے کے لیے "ہمزہ زبر اَ، ب زبر بَ (اَبَ)، دال دو زبر دًا (اَبَدًا)" بولیں۔رواں پڑھنا (بغیر ہجوں کے): جب ہجوں کے ساتھ الفاظ کی پہچان پکی ہو جائے، تو بغیر رکاوٹ اور بغیر ہجے کیے پورے لفظ کو ایک ساتھ روانگی سے پڑھیں، جیسے: اَبَدًا، اَحَدٌ، اَخَذَ۔حرکات کی
ادائیگی: زبر، زیر اور پیش کو لمبا کیے بغیر جلدی پڑھیں۔

تنوین کا خیال: دو زبر، دو زیر اور دو پیش (تنوین) پر نون کی آواز (غنہ) واضح کریں۔وقف کے قواعد: تصویر کے نیچے دی گئی ہدایت کے مطابق، حالتِ رواں میں "الف" کو نہیں پڑھا جائے گا، لیکن حالتِ وقف (رکنے کی صورت) میں اسے الف کے ساتھ پڑھا جائے گا۔

خوشخبری! خواتین اور بچوں کے لیے سنہری موقع خواتین اور بچوں کو گھر بیٹھے مفت قرآنی تعلیمات بذریعہ واٹس ایپ گروپ دی جا رہی ہیں۔ وہ خواتین جو خود یا اپنے بچوں کو تجوید کے ساتھ قرآن پاک سکھانا چاہتی ہیں، وہ مزید تفصیلات اور گروپ میں شمولیت کے لیے ابھی ان باکس () کریں۔

#قاعدہ

16/07/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سبق نمبر 6

*نورانی قاعدہ - تختی نمبر 5: تنوین اور اس کی مشق*

*1. تنوین کے بنیادی اصول*

*تعریف:*
- دو زبر *ً*، دو زیر *ٍ*، اور دو پیش *ٌ* کو *تنوین* کہتے ہیں۔

*آواز کی پہچان:*
- تنوین کی آواز کے آخر میں *نون ساکن نْ* جیسی آواز نکلتی ہے
*مثال:* مَنْ، مِنْ، مُنْ

*غُنہ کرنا:*
- تنوین پڑھتے وقت *ناک میں آواز لے جانا لازمی* ہے۔ اس آواز کو *غُنہ* کہتے ہیں۔
- *غنہ کی مقدار:* ناک میں آواز کو *ایک الف کی مقدار* کے برابر تقریباً *2 سیکنڈ* روک کر رکھیں۔

*اہم استثناء - جہاں غُنہ نہیں کریں گے:*
- *لام ل* اور *راء ر* پر تنوین آئے تو *غنہ نہیں کریں گے*۔ یہاں ادغام بلا غنہ ہوتا ہے۔
- *حروف حلقی* *ء، ہ، ع، ح، غ، خ* پر بھی تنوین آئے تو *غنہ نہیں کریں گے*۔

*الف اور یاء کا قاعدہ:*
- دو زبر کے ساتھ لکھے ہوئے *'الف' یا 'یاء'* کو ہجے کرتے وقت *نہیں پڑھا جاتا*۔

*2. ہجے (اسپیلنگ) اور رواں پڑھنے کا طریقہ*

*مشق میں دیے گئے حروف کو اس طرح ادا کریں:*

- *مًا*: میم دو زبر = *مَنْ* → ہجے میں الف کا نام نہ لیں
- *مٍ*: میم دو زیر = *مِنْ*
- *مٌ*: میم دو پیش = *مُنْ*

*رواں آوازیں:*
- *مَنْ، مِنْ، مُنْ* → ناک میں غُنہ کے ساتھ

*دیگر مثالیں:*
- *وًا، وٍ، وٌ*: واؤ دو زبر *وَنْ*، واؤ دو زیر *وِنْ*، واؤ دو پیش *وُنْ*
- *بًا، بٍ، بٌ*: با دو زبر *بَنْ*، با دو زیر *بِنْ*، با دو پیش *بُنْ*

*نوٹ:* باقی تمام حروف جیسے *ثًا، ذًا، ظًا* وغیرہ کو بھی اسی طریقے پر غُنہ کے ساتھ پڑھیں۔

*3. وقف (رکنے) کا خاص قاعدہ*

*گول تا ة:*
- اگر کسی لفظ کے آخر میں گول *ة* ہو اور وہاں *رکنا (وقف کرنا)* ہو، تو وہ *ہْ (ہائے ساکنہ)* میں بدل جاتی ہے۔

*مثال:*
- لفظ *سَفَرَةٍ* کو وقف کی حالت میں *سَفَرَهْ* پڑھا جائے گا
نوٹ 👇

خواتین اور بچوں کو بذریعہ واٹس ایپ گروپ خواتین اساتذہ کی زیر نگرانی مفت قرآنی و دینی تعلیم دی جاتی ہے
خواہشمند خواتین ان باکس کر سکتی ہیں ۔

11/07/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سبق نمبر 5

یہ تصویر نورانی قاعدہ کی تختی نمبر 4:
پڑی حرکات (زبر، زیر، پیش) اور اس کی مشق پر مشتمل ہے۔
عربی حروف کو درست مخارج اور قواعد کے ساتھ پڑھنے کا عام فہم طریقہ درج ذیل ہے:
1۔ بنیادی قواعد (حرکات کو سمجھنا)زبر ( َ ): یہ حرف کے اوپر ہوتی ہے اور اس کی آواز اوپر کو اٹھتی ہے (جیسے 'اَ')۔زیر ( ِ ): یہ حرف کے نیچے ہوتی ہے اور اس کی آواز نیچے کو گرتی ہے (جیسے 'اِ')۔پیش ( ُ ): یہ حرف کے اوپر مڑی ہوئی ہوتی ہے اور اسے پڑھتے وقت ہونٹ گول ہوتے ہیں (جیسے 'اُ')۔
2۔ ادائیگی کا سنہری اصول بغیر کھینچے پڑھیں: ان حرکات کو بالکل لمبا نہیں کرنا اور نہ ہی جھٹکا دینا ہے۔ انہیں نرمی اور معروف (صحیح عربی لہجے) کے ساتھ جلدی پڑھا جاتا ہے۔

متحرک حرف: جس حرف پر کوئی حرکت (زبر، زیر، پیش) ہو، اسے 'متحرک' کہتے ہیں۔

الف اور ہمزہ کا فرق: جب 'الف' خالی ہو تو وہ الف ہوتا ہے، لیکن جب الف پر کوئی حرکت (زبر، زیر، پیش) یا جزم آ جائے تو وہ 'ہمزہ' بن جاتا ہے۔
3۔ مشق (پڑھنے کا طریقہ)تصویر کے نچلے حصے میں دی گئی مشق کو ہجے (اسپیلنگ) اور رواں دونوں طریقوں سے پڑھا جا سکتا ہے۔ حروف کو ان کے مخرج (حلق، زبان، ہونٹ) سے درست ادا کریں۔
پہلی لائن (ہمزہ اور ہاء - حلق کا آخری حصہ):اَ (ہمزہ زبر 'اَ')، اِ (ہمزہ زیر 'اِ')، اُ (ہمزہ پیش 'اُ') — رواں: اَ، اِ، اُ۔
هَ (ہا زبر 'ہا')، هِ (ہا زیر 'ہِ')، هُ (ہا پیش 'ہُ') — رواں: هَ، هِ، هُ۔
دوسری لائن (عین اور حاء - حلق کا درمیانی حصہ):عَ، عِ، عُ (آواز کو حلق کے درمیان سے تھوڑا دبا کر نکالیں)۔
حَ، حِ، حُ (صاف اور واضح 'ح' کی آواز حلق کے درمیان سے)۔
تیسری لائن (غین اور خاء - حلق کا شروع کا حصہ):غَ، غِ، غُ (انہیں پر/موٹا پڑھا جاتا ہے)۔خَ، خِ، خُ (خراش دار آواز کے ساتھ موٹا پڑھیں)۔

چوتھی لائن (قاف اور کاف - زبان کی جڑ):قَ، قِ، قُ (موٹا قاف، زبان کی جڑ اوپر تالو سے لگا کر)۔كَ، كِ، كُ (باریک کاف)۔پانچویں لائن (جیم، شین، یاء - زبان کا درمیان):جَ، جِ، جُ ۔شَ، شِ، شُ(نوٹ: تصویر میں جیم کے بعد اگلی لائنوں میں شین، ضاد، لام اور نون کی مشقیں ہیں جنہیں اسی طرح زبر، زیر، پیش کے ساتھ بغیر کھینچے پڑھنا ہے)

خواتین اور بچوں کو بذریعہ واٹس ایپ گروپ خواتین اساتذہ کی زیر نگرانی مفت قرآنی و دینی تعلیم دی جاتی ہے
خواہشمند خواتین ان باکس کر سکتی ہیں ۔
#قاعدہ

08/07/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سبق نمبر 5
1۔ حروفِ مقطعات کا تعارف

تعریف: قرآن پاک کی بعض سورتوں کے شروع میں آنے والے وہ ابتدائی حروف، جو الگ الگ اور بغیر کسی حرکت (زبر، زیر، پیش) کے پڑھے جاتے ہیں، انہیں "حروفِ مقطعات" کہتے ہیں۔

مثال: جیسے الٓمّٓ کو ملا کر ایک لفظ نہیں پڑھا جائے گا، بلکہ ہر حرف کو جدا جدا (الف، لام، میم) کر کے پڑھا جائے گا۔

2۔ پڑھنے کے اہم تجویدی اصول (قواعد)
تصویر میں موجود متن کے مطابق ان حروف کو پڑھتے وقت 3 بنیادی باتوں کا خیال رکھنا لازمی ہے:

مد ( ۤ ) کا قاعدہ: جس حرف پر بڑی مد ( ۤ ) موجود ہو، اسے "تین الف" کی مقدار کے برابر کھینچ کر (لمبا کر کے) پڑھا جاتا ہے۔

میم مشدد ( مّ ) کا قاعدہ: جہاں میم پر تشدید ہو، وہاں "ایک الف غنہ" کی مقدار (ناک میں آواز روک کر) پڑھا جاتا ہے۔

کھڑا زبر ( ٰ ) کا قاعدہ: جس حرف پر کھڑا زبر ہو، اسے "ایک الف" کی مقدار کے برابر کھینچ کر پڑھا جاتا ہے۔

3۔ تصاویر میں دی گئی مثالوں کو پڑھنے کا طریقہ
تصویر میں رنگوں اور تیر کے نشانات کی مدد سے پڑھنے کا طریقہ واضح کیا گیا ہے:
پہلی مثال: الٓمّٓ (الم)
ا (الف): اسے بغیر کھینچے عام حالت میں پڑھیں (الف)۔
لٓ (لام): اس پر مد ہے، اسے تین الف کی مقدار کے برابر کھینچیں (لاااام)۔
مّٓ (میم): لام اور میم کے ملاپ پر ایک الف کی مقدار غنہ کریں، اور پھر میم پر مد ہونے کی وجہ سے اسے بھی تین الف کی مقدار کھینچیں (مییییم)۔

دوسری مثال: طٰسٓمّٓ (طسم)
(طا، سین، میم) کو ملا کر پڑھنے کے لیے مد (لمبا کرنے)، ادغام (حروف کو ملانے) اور غنہ (ناک میں آواز روکنے) کے اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے۔

اسے پڑھنے کا تفصیلی اور درست طریقہ درج ذیل ہے:
1۔ حروف کے ہجے (Spelling) اور ان کے تجویدی قواعد:جب ہم ان حروف کو الگ الگ لکھتے ہیں، تو یہ "طَا۔ سِینْ۔ مِیمْ" بنتے ہیں۔
تلاوت کے دوران ان کو اس طرح پڑھا جائے گا:
طٰ (طا): اس پر کھڑا زبر ہے۔ اسے صرف 1 الف کی مقدار کے برابر کھینچیں اور موٹا (پُر) پڑھیں (طَا)۔
سٓ (سین): اسے پڑھتے ہیں "سِینْ"۔ اس پر بڑی مد ہے، اسے 3 الف کی مقدار کے برابر لمبا کر کے پڑھیں۔
مّٓ (میم): اسے پڑھتے ہیں "مِیمْ"۔ اس پر بھی بڑی مد ہے، اسے بھی 3 الف کی مقدار کے برابر لمبا پڑھیں。

2۔ درمیانی جوڑ کا اہم قاعدہ (ادغام مع الغنہ):
جب آپ سِینْ (س، ی، ن) پڑھتے ہیں تو اس کے آخر میں نون ساکن (نْ) کی آواز آتی ہے،
اور اس کے فوراً بعد اگلا حرف مِیمْ (م) ہے۔
تجوید کے قاعدے کے مطابق جب نون ساکن کے بعد "میم" آئے تو نون کو میم سے بدل کر آپس میں ملا دیا جاتا ہے (جسے ادغام کہتے ہیں)۔اس ملاپ کی وجہ سے میم پر تشدید (مّ) آ جاتی ہے، اور یہاں 1 الف کی مقدار کا غنہ (ناک میں آواز کو روکنا) کیاجاتا ہے۔
3۔ ملا کر پڑھنے کی صوتی ترتیب (بغیر سانس توڑے):آپ نے ایک ہی سانس میں اس طرح پڑھنا ہے:
طَا —— سِیییییمْ —— (یہاں ناک میں آواز روک کر غنہ کریں) —— مِیییییمْ(یعنی "سین" کے آخر میں "ن" کی آواز بالکل نہیں نکالنی، بلکہ اسے "میم" سے بدل کر "سِیمْ" پڑھنا ہے اور غنہ کرنے کے بعد اگلا "میم" تین الف کے برابر لمبا کرنا ہے)

4۔ تختی نمبر 3 کی مشق (دوسری تصویر)
مشق والی تصویر میں مختلف حروفِ مقطعات کو اسی رنگین قاعدے کے مطابق پڑھا جائے گا:
الٓمّٓصٓ: الف (بغیر کھینچے)، لام (3 الف)، غنہ (1 الف)، میم (3 الف)، صاد (3 الف)۔
الٓرٰ / الٓمّٓرٰ: الف (بغیر کھینچے)، لام (3 الف)، غنہ (1 الف)، میم (3 الف)یہاں آخری حرف "را" پر کھڑا زبر ہے، اسے صرف 1 الف کی مقدار کھینچیں، زیادہ لمبا نہ کریں۔
كھٰیٰعٓصٓ: یہ قرآن مجید کا سب سے لمبا مقطعات کا مجموعہ ہے (سورہ مریم کے شروع میں)۔ اسے ملا کر پڑھنے کی ترتیب یہ ہے:

كٓ (کاف): اس پر بڑی مد ہے، اسے 3 الف کی مقدار کے برابر لمبا کر کے پڑھیں (کَااااف)۔

ھٰ (ہا): اس پر کھڑا زبر ہے، اسے صرف 1 الف کی مقدار کے برابر ہلکا سا کھینچیں (ھَا)۔

یٰ (یا): اس پر بھی کھڑا زبر ہے، اسے بھی صرف 1 الف کی مقدار کے برابر کھینچیں (یَا)۔

عٓ (عین): اسے پڑھتے ہیں "عَینْ"۔ اس پر بڑی مد ہے، اسے 3 الف کی مقدار لمبا کریں۔ چونکہ اس کے آخر میں نون ساکن آ رہا ہے اور اگلا حرف "صاد" (حرفِ اخفاء) ہے، اس لیے یہاں 1 الف کی مقدار (اخفاء) لازمی کریں۔
صٓ (صاد): اسے پڑھتے ہیں "صَادْ"۔ اس پر بڑی مد ہے، اسے 3 الف کی مقدار کھینچیں اور آخر میں "دال" پر قلقلہ (آواز کا پلٹنا) کرتے ہوئے واضح پڑھیں۔

ملا کر پڑھنے کی صوتی ترتیب: کَااااف—ھَا—یَا—عَییییینْ—(اخفا)—صَاااادْ۔

ایک اہم تجویدی نکتہ:
جب آپ عین کے بعد صاد پر اخفاء کریں گے، تو نون کی آواز کو ناک میں چھپاتے وقت منہ کی پوزیشن اگلے حرف (صاد) کے مخرج کے قریب لے جائیں، کیونکہ یہ حرفِ مستعلیہ (موٹے پڑھے جانے والا حرف) ہے، اس لیے یہاں اخفا بھی تھوڑا بھاری (موٹا) سنائی دے گا۔

حٰمٓ: حا (1 الف)، میم (3 الف)۔
قٓ / نٓ / صٓ: ان اکیلے حروف پر مد ہے، اس لیے ان سب کو تین تین الف کی مقدار کے برابر لمبا کر کے پڑھا جائے گا۔
حٰمٓ: حا (1 الف)، میم (3 الف)۔
1۔ "عٓسٓقٓ" (عین۔ سین۔ قاف) پڑھنے کا طریقہ اس کلمہ کو پڑھتے ہوئے دو جگہوں پر اخفاء ہوگا، کیونکہ حروف کے ہجوں کے آخر میں "نون ساکن" آتا ہے جس کے بعد حروفِ اخفاء موجود ہیں:
عٓ (عین): اسے پڑھتے ہیں "عَینْ"۔ اس پر مدِ لازم ہے، اسے 3 الف کی مقدار کے برابر لمبا کریں۔
چونکہ اس کے آخر میں نون ساکن (نْ) آ رہا ہے اور آگے
"سین" ہے، اس لیے یہاں 1 الف کی مقدار (اخفاء) کریں گے۔

سٓ (سین): اسے پڑھتے ہیں "سِینْ"۔ اس پر بھی مد ہے، اسے بھی 3 الف کی مقدار کھینچیں۔
اس کے آخر میں بھی نون ساکن آ رہا ہے اور آگے "قاف" ہے،
اس لیے یہاں بھی 1 الف کی مقدار کا (اخفاء) کریں۔

قٓ (قاف): اسے پڑھتے ہیں "قَافْ"۔ اس پر مد ہے، اسے 3 الف کی مقدار کھینچ کر پڑھیں اور آخر میں "ف" کی آواز پر سانس روکیں۔
ملا کر پڑھنے کی صوتی ترتیب: عَییییینْ—(اخفا)—سِییییینْ—(اخفا)—قَاااااف۔
ایک اہم تجویدی نکتہ:
جب آپ سین کے بعد قاف پر اخفاء کریں گے، تو نون کی آواز کو ناک میں چھپاتے وقت منہ کی پوزیشن اگلے حرف (قااااف) کے مخرج کے قریب لے جائیں، کیونکہ یہ حرفِ مستعلیہ (موٹے پڑھے جانے والا حرف) ہے، اس لیے یہاں اخفا
بھی تھوڑا بھاری (موٹا) سنائی دے گا۔

خواتین اور بچوں کو بذریعہ واٹس ایپ گروپ خواتین اساتذہ کی زیر نگرانی مفت قرآنی و دینی تعلیم دی جاتی ہے
خواہشمند خواتین ان باکس کر سکتی ہیں ۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Dubai?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Dubai