Ahmar Shafiq
Ahmar
07/09/2026
A beautiful glimpse of real Pakistani village life — colorful homes, busy courtyards, green fields, and simple moments full of warmth. 🌾🏡
پاکستان کے دیہات کی خوبصورت زندگی، جہاں رنگین گھر، مصروف صحن، سرسبز کھیت اور سادہ لمحات دل کو سکون دیتے ہیں۔ 🌾💙
01/09/2026
یہ ڈیم پاکستان کو چند گھنٹوں میں ڈوبانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسکا نام سلال ڈیم ہے جو دریائے چناب پر پاکستان سے صرف 38 میل دور ہے. حلانکہ اس ڈیم کے متعلق رائے ہے کہ اسے صرف پانی سے بجلی بنانے کے بنایا گیا ہے اور یہاں پانی جمع نہیں ہوتا لیکن یہ ڈیم سیلاب کے دنوں میں 11 ہزار 895 کیوبک میٹر پانی فی سیکنڈ خارج کرسکتا ہے جوکہ چار لاکھ 28 ہزار کیوسک بنتا ہے۔
سلال ڈیم میں 21 ہزار 497 سکوائر کلومیٹر علاقے کا پانی آتا ہے جس کا مطلب یہاں بارشوں کی صورت میں کچھ دنوں کے لیے پانی روک کر اچھا خاصا بڑا سیلابی ریلا بنایا جاسکتا ہے۔
جب پاکستان انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ سائن کیا تو چناب دریا پاکستان کو ملا لیکن انڈیا پہلے دن سے ہی اس ڈیم کی منظوری چاہتا تھا لیکن پاکستان انکاری تھا کیونکہ پاکستان کے خیال میں پاکستان کی سرحد کے اس قدر قریب ڈیم بنانے سے پاکستان کو اچانک ڈبویا جاسکتا ہے اور اسکی تعمیر خطرناک ہوگی۔
کئی سالوں کی کوششوں کے بعد اپریل 1978 میں نئی دہلی میں انڈیا کی طرف سے وزیر داخلہ اٹل بہاری واجپائی اور پاکستان کے فارن سیکریٹری آغا شاہی نے اس ڈیم کی تعمیر پر دستخط کئے جس کے تحت اسکی تعمیر میں غیر معمولی تبدیلیاں کی گئی اور سلال ڈیم کے علاقے میں کنکریٹ کے بلاکس کی تعمیرات ہوئی تاکہ پانی کی رفتار کم سے کم رکھی جاسکے اور اس ڈیم کو پانی سٹور کرنے کے بجائے چلتے دریا پر بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے اور اسکے دروازے بھی کچھ کم اونچائی والے رکھے گئے۔
سلال ڈیم 930 کروڑ انڈین روپے میں 1987 میں مکمل ہوا اور اسکی مکمل بجلی پیدا کرنے کی گنجائش 690 میگاواٹ ہے۔
یہ ڈیم سیلاب کے دنوں میں 22 ہزار 427 کیوبک میٹر جو 8 لاکھ کیوسک بنتے ہیں روکنے کی گنجائش رکھتا ہے تاکہ پہلے سے موجود جموں وکشمیر کے سیلابی ندی نالے چناب میں گر کر گزر جائیں اور تباہی سے بچا جاسکے اور (شائد کل کی پی ڈی ایم اے کی خبر اسی بنیاد پر تھی).
یہ ڈیم کہنے کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان باہمی اتفاق سے حل کئے گئے بڑے معمالات میں مانا جاتا ہے لیکن معاہدے نے ڈیم کے اصل منصوبے کو بدلا بھی اور اسی وجہ سے یہاں کنکریٹ اور پتھروں کے مدد سے جو پانی کی رفتار کم کرنے کے منصوبے نے مٹی اور گارے کی صورت میں اسکی گنجائش کافی کم کردی ہے جس پر انڈیا میں کچھ سالوں سے تشویش بھی تھی کیونکہ یہاں سالانہ بنیادوں پر 32 ملین کیوبک میٹر تک سلٹ آتی رہی جس نے اسکی تعمیر کے ابتدائی پانچ سالوں میں ہی اسکی گنجائش کم کردی اور ڈیم کی نچلی تہہ لگ بھگ گیٹس تک آگئی اور اسئ بنیاد پر اسکا ڈیٹ لیول ہی نہیں رہا۔
آج یہ ڈیم اپنی گنجائش کا 95 فیصد حصہ کھو چکا ہے۔
اس ڈیم کے 12 بڑے دروازے اور سپل ویز ایک ساتھ 22 ہزار 427 کیوبک میٹر پانی کی بڑی مقدرا ایک ساتھ خارج کرسکتے ہیں جو 8 لاکھ کیوسک بنتی ہے اور شاید اسی اندازے کی بنیاد پر کل میڈیا میں یہاں سے 8 لاکھ کیوسک پانی کے اخراج کی خبر چلی۔
اس اپریل میں جب سندھ طاس معاہدہ معطل ہوا تو انڈیا نے بگیہار ڈیم کے بعد سلال ڈیم پر بھی پانی روکا جو بعدزاں بارشوں کی وجہ سے کھولا گیا اور انڈیا اب اسکی تعمیرات میں کنکریٹ یا پتھروں کو نکالنے کا منصوبہ بنا چکا ہے جسکی وجہ سے ناصرف اس میں موجود گاڑا ختم ہوجائے گا بلکہ پانی کی رفتار تیز ہوگی اور اسکے گیٹ بھی کم از کم 10 فٹ مزید بلند جدید طرز کے انسٹال ہونگے جس کے بعد گنجائش بھی بڑھ جائے اور یوں پاکستان کو مون سون میں ہر سال بڑے سیلابی ریلے کا سامنا ہوگا اور بقیہ مہینوں میں پانی روک لیا جائے گا۔
نوٹ:
اس تحریر کو لکھنے میں دی پرنٹ، ٹائمز آف انڈیا ، اکنامک ٹائمز ، دی ہندو، انرجی سسٹینبلٹی ڈائریکٹری اور لاتعداد اعداد شمار ویب سائٹس کا سہارا لیا گیا ہے۔
قاسم سلیم
22/06/2026
الٰہی محبوب کل جہاں کو دل و جگر کا سلام پہنچے
نفس نفس کا درود پہنچےنظر نظر کا سلام پہنچے
بِساط عالم کی وسعتوں سےجہان بالا کی رفعتوں سے
مَلَک مَلَک کا درود اترےبشَر بشَر کا سلام پہنچے
حضور کی شام شام مہکےحضور کی رات رات جاگے
ملائکہ کےحسیں جلو میں سحر سحر کا سلام پہنچے
زبان فطرت ہے اس پےناطق بہ بارگاہِ نبی صادق
شجر شجر کا درود جائےحجر حجر کا سلام پہنچے
رسولِ رحمت کا بارِ احساں تمام خلقت کےدوش پر ہے
تو ایسےمحسن کو بستی بستی نگر نگر کا سلام پہنچے
مرا قلم بھی ہے انکا صدقہ مرےہنر پر ہےانکی رحمت
حضور خواجہ مرےقلم کا مرےہنر کا سلام پہنچے
یہ التجا ہےکہ روز محشر گنہگاروں پہ بھی نظر ہو
شفیعِ امت کو ہم غریبوں کی چشم تر کا سلام پہنچے
نفیس کی بس دعا یہی ہے فقیر کی اب صدا یہی ہے
سواد طیبہ میں رہنےوالو کو عمر بھر کا سلام پہنچے
(حضرت سید نفیس الحسینیؒ شاہ صاحب)
Contact the business
Telephone
Website
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Ahmar Shafiq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.