The Valley Vibes
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Valley Vibes, Health/Beauty, Bandipora.
“A ₹12-Lakh Wonder? Questions Raised Over Development Claims at Lal Qila Mode”
A cafeteria constructed at Lal Qila Mode has sparked public criticism, as the structure reportedly lacks a roof and has been built by dumping soil over an existing park. Residents question whether such projects truly reflect meaningful development.
Jammu and Kashmir Legislative AssemblJammu and Kashmir Legislative Assembly Session Marred by Loud Protests and Ruckusy Session Marred by Loud Protests and Ruckus
08/04/2026
https://whatsapp.com/channel/0029VbCVYYy8fewny2DkqN0s
The Valley Vibes – WhatsApp channel Follow The Valley Vibes's WhatsApp channel. Join 6 followers for the latest updates.
جموں و کشمیر کے ضلع Rajouri سے تعلق رکھنے والے نوجوان Zahid Ali نے پانی سے بجلی پیدا کرنے کا ایک منفرد تجربہ شروع کر دیا ہے اور اس میں ابتدائی کامیابی بھی حاصل کر لی ہے۔
اطلاعات کے مطابق زاہد علی نے اپنے گھر کے قریب دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے لکڑی کے جنریٹر (واٹر ٹربائن نما سادہ آلہ) اور تاروں کی مدد سے ایک چھوٹا نظام تیار کیا، جس کے ذریعے وہ بلب روشن کرنے اور موبائل بیٹری چارج کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
یہ تجربہ بنیادی طور پر چھوٹے پیمانے کی ہائیڈرو پاور کا نمونہ ہے، جس میں بہتے پانی کی توانائی کو گھومنے والی حرکت میں تبدیل کر کے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ زاہد علی کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد دیہی علاقوں میں کم خرچ اور آسان طریقے سے بجلی پیدا کرنے کا حل تلاش کرنا ہے تاکہ جہاں بجلی کی فراہمی محدود ہے وہاں لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
مقامی لوگوں نے نوجوان کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر اس منصوبے کو حکومتی یا تکنیکی تعاون مل جائے تو یہ دور دراز علاقوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ اقدام اس بات کی مثال ہے کہ محدود وسائل کے باوجود نوجوان اپنی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں سے توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
07/04/2026
ولر سکڑ رہی ہے: ماہی گیروں کی روزی خطرے میں
بانڈی پورہ: :_ تحریر بلال رحمانی
شمالی کشمیر کی مشہور اور ایشیا کی بڑی میٹھے پانی کی جھیلوں میں شمار ہونے والی Wular Lake آج کل تیزی سے ماحولیاتی مسائل کا شکار بنتی جا رہی ہے۔ ، بڑھتی آلودگی اور حکومتی توجہ کی کمی نے نہ صرف جھیل کے حسن کو متاثر کیا ہے بلکہ اس سے وابستہ ہزاروں ماہی گیروں کی روزی روٹی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران جھیل میں پانی کی سطح نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجوہات میں بھیجا تجاوزات، غیر منصوبہ بند تعمیرات اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہیں۔ پانی کی کمی کے باعث جھیل کا رقبہ سکڑ رہا ہے جس سے آبی حیات پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے۔
آلودگی بڑھتی جا رہی ہے
جھیل میں گھریلو فضلہ، پلاسٹک اور زرعی کیمیکلز کے اخراج نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ پہلے جہاں صاف پانی اور کثرت سے مچھلیاں دستیاب تھیں، اب وہاں آلودگی کے باعث مچھلیوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ایک مقامی ماہی گیر نے بتایا:
“پہلے ایک دن میں اچھی کمائی ہو جاتی تھی، اب کئی دن جھیل میں گزارنے کے باوجود خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا۔”
ماہی گیروں کی مشکلات
ولر جھیل کے کنارے آباد سینکڑوں خاندانوں کا واحد ذریعہ معاش ماہی گیری ہے۔ آمدنی کم ہونے سے ان خاندانوں کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔ ماہی گیروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جھیل کی بحالی، صفائی اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
ماہرین کی رائے
ماہرین ماحولیات کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو جھیل کا ماحولیاتی نظام مزید تباہ ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف مقامی معیشت بلکہ پورے خطے کا قدرتی توازن متاثر ہوگا۔
فوری اقدامات کی ضرورت
مقامی آبادی اور سماجی تنظیموں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ جھیل کی بحالی کے منصوبوں کو تیز کیا جائے، آلودگی روکنے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں اور ماہی گیروں کی مالی مدد کے لیے خصوصی پیکج دیا جائے۔
ولر جھیل کی بقا صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے مستقبل کا سوال بھی ہے۔
زین العابدین کے دور میں ولر جھیل کی اہمیت Zain-ul-Abidin کے دورِ حکومت میں Wular Lake کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ سلطان زین العابدین، جنہیں “بادشاہ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے جھیل کو نہ صرف معاشی بلکہ دفاعی اور تجارتی لحاظ سے بھی مضبوط بنایا۔
کہا جاتا ہے کہ اسی دور میں ولر جھیل کے وسط میں مشہور زینہ لنک (Zaina Lank) جزیرہ تعمیر کیا گیا، جو اُس زمانے میں تجارتی اور سفری مرکز کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ جھیل کے ذریعے کشتیوں میں سامان کی نقل و حمل کی جاتی تھی اور یہ علاقائی تجارت کا اہم راستہ سمجھی جاتی تھی۔
ولر جھیل اس زمانے میں
تجارتی راستہ
ماہی گیری کا بڑا مرکز
آبی نقل و حمل کا اہم ذریعہ
اور دفاعی نقطۂ نظر سے ایک قدرتی رکاوٹ
کی حیثیت رکھتی تھی۔
مورخین کے مطابق اس دور میں جھیل کی دیکھ بھال اور صفائی پر خاص توجہ دی جاتی تھی، جس کے باعث یہ اپنی وسعت اور قدرتی خوبصورتی برقرار رکھے ہوئے تھی۔ آج جب جھیل سکڑنے اور آلودگی کا شکار ہے تو ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرز کی توجہ دوبارہ دی جائے تو اس تاریخی ورثے کو بچایا جا سکتا ہے۔
07/04/2026
کشمیر کی تاریخ کا زندہ حوالہ — تاریخِ حسن
تحریر: بلال رحمانی
کشمیر صدیوں سے علم، ادب اور روحانیت کا مرکز رہا ہے۔ اسی علمی روایت کو محفوظ رکھنے میں جن شخصیات نے غیر معمولی خدمات انجام دیں، ان میں غلام حسن شاہ کھومی کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کی شہرۂ آفاق تصنیف تاریخِ حسن آج بھی کشمیر کی تاریخ، تہذیب اور روحانیت کو سمجھنے کے لیے ایک معتبر حوالہ سمجھی جاتی ہے۔
پیدائش اور ابتدائی پس منظر
غلام حسن شاہ کھومی کی پیدائش انیسویں صدی کے وسط میں ایک علمی و مذہبی گھرانے میں ہوئی۔ ان کا تعلق بانڈی پورہ کے گاؤں گامرون سے تھا، جہاں دینی تعلیم، روحانیت اور علم و ادب کی مضبوط روایت موجود تھی۔ اسی ماحول نے ان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کیا اور بچپن ہی سے ان میں علم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا۔
انہوں نے اپنے دور کے رائج نصاب کے مطابق قرآن، دینیات، فارسی، عربی، اسلامی تاریخ، منطق اور فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ اس زمانے میں فارسی علمی و سرکاری زبان تھی، اس لیے انہوں نے فارسی زبان پر خصوصی عبور حاصل کیا۔
علمی ذوق اور مؤرخ بننے کا سفر
تعلیم کے دوران ہی ان میں روحانی اور صوفیانہ رجحان پیدا ہو گیا۔ وہ علما و اساتذہ کی صحبت اختیار کرتے اور علمی مجالس میں حصہ لیتے رہے۔ یہی علمی ماحول انہیں تاریخ نویسی کی طرف لے گیا اور انہوں نے کشمیر کی تاریخ کو قلم بند کرنے کا عظیم فیصلہ کیا۔
تاریخِ حسن — ایک جامع تاریخی دستاویز
تاریخِ حسن محض حکمرانوں اور جنگوں کی داستان نہیں بلکہ کشمیر کی مکمل سماجی، ثقافتی اور روحانی تصویر پیش کرتی ہے۔ کتاب میں شامل اہم موضوعات یہ ہیں:
قدیم سے جدید دور تک کشمیر کی تاریخ
سلاطین اور حکمرانوں کے ادوار کی تفصیل
صوفیاء، علما اور بزرگوں کی سوانح
تہذیب، رسم و رواج اور معاشرتی زندگی
یہ خصوصیات اس کتاب کو صرف تاریخی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت سماجی دستاویز بناتی ہیں۔
صوفی روایت کا عکاس
کشمیر کو اولیاء اور صوفیاء کی سرزمین کہا جاتا ہے، اور غلام حسن شاہ کھومی نے اپنی تصنیف میں اس پہلو کو خصوصی اہمیت دی۔ مختلف خانقاہوں، درگاہوں اور روحانی شخصیات کا تفصیلی ذکر اس کتاب کو منفرد روحانی رنگ عطا کرتا ہے۔
تحقیق کے لیے بنیادی حوالہ
آج بھی کشمیر کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے طلبہ اور محققین کے لیے تاریخِ حسن ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی وجہ کتاب میں موجود مستند معلومات، مقامی مشاہدات اور تاریخی تسلسل ہے، جو اسے قابلِ اعتماد تاریخی دستاویز بناتے ہیں۔
علمی ورثہ
غلام حسن شاہ کھومی نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق اور تحریر کے لیے وقف رکھی۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا علمی ورثہ ہے جس نے کشمیر کی تاریخ اور تہذیب کو آنے والی نسلوں تک منتقل کر دیا۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخِ حسن آج بھی کشمیر کی تاریخ کا ایک زندہ حوالہ سمجھی جاتی ہے۔
Midday meal cooks from Bandipora and Quil Zone held a protest outside the DC Office Bandipora, demanding immediate salary enhancement and regularisation. They said they have been working for years in government schools but receive only ₹900 per month. Union president Haneefa urged implementation of minimum wages, warning of intensified protests if demands remain unaddressed.
Bharatiya Janata Party Celebrates 47th Foundation Day with Enthusiasm in Bandipora
06/04/2026
Hailstorm Wreaks Havoc on Bandipora's Agro-Horticulture Sector
Adv Sheikh Farooq Habeeb Demands Urgent Survey and Fair Compensation for Farmers
Bandipora | April 06, 2026
BANDIPORA, April 06, 2026: Advocate Sheikh Farooq Habeeb, District President of the Indian National Congress (INC), Bandipora, has expressed grave concern over the large-scale damage inflicted upon the agro-horticulture sector of District Bandipora by the recent devastating hailstorm and heavy rains, which has pushed the farming and orchardist community into a state of severe distress.
Addressing the crisis, Advocate Sheikh Farooq urged the District Commissioner, Bandipora, to immediately constitute joint inspection teams comprising officers from the Revenue, Agriculture, and Horticulture Departments to carry out a comprehensive on-ground assessment of the losses sustained by the affected farmers and horticulturists across all areas of the district.
He further demanded that full and fair compensation be disbursed to every affected farmer and horticulturist at the earliest possible, without any undue delay, ensuring that no genuine victim is left without support.
Advocate Sheikh Farooq Habeeb categorically affirmed that the Indian National Congress stands firmly and unequivocally with the farming community of Bandipora in this hour of crisis, and shall extend every possible cooperation to the district administration in expediting the relief and rehabilitation process.
"Congress stands firmly with the farming community and shall extend every possible cooperation to the administration in expediting the relief process."
05/04/2026
Bandipora: The Kaloosa–Gurdal road continues to remain in poor condition, disrupting movement for residents and commuters across Kaloosa, Quilmuqam, Onagam, and nearby areas. Locals have urged the district administration to execute immediate repairs, citing routine travel difficulties for students, patients, and employees.
Free Eye Screening Camp Held at Kaloosa by MAAB Valley Foundation in Collaboration with ASG Eye Hospital Batmaloo
Special conversation with National Conference Youth Leader Sameer Iqbal Butt
Click here to claim your Sponsored Listing.