IMAM MEHDI A.S 2027

IMAM MEHDI A.S 2027

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from IMAM MEHDI A.S 2027, Health/Beauty, Srinagar.

Deen e ilahi Urdu with Visuals 02/05/2023

💫عزت مآب سیدی یونس الگوھر کی تاکید💫

میں آپ لوگوں کوتاکید کروں گا کہ آپ لوگ اپنے اوپر فرض کر لیں کہ سرکار کی کتاب مقدس دینِ الہیٰ روزآنہ پڑھیں گے جب آپ روزآنہ دینِ الہیٰ پڑھیں گے تو سرکار گوہر شاہی علیہ الصلوۃ والسلام کا قولی جثۂ مبارک آپ سے مخاطب ہو جائے گا جب آپ دینِ الہیٰ پڑھیں گے تو آپکے سینے کی تاریں حرکت میں آجائیں گی اس سے آپ کو پیش بہا فیض ملے۔اس کتاب کو مرشد کی طرح treat کریں۔

💫از سیدی یونس الگوھر 💫

Deen e ilahi Urdu with Visuals Tassawuf, Irfan, Marifat, Ruhaniyat, Ishq e ilahiSupport and join ALRA TV to get access to perks: / ✅ Get the latest updates from ALRA TV on Telegr...

27/04/2023

"Perfect Practice makes Perfect."

His Holiness Sufi Master Sayyadi Younus AlGohar clarified that Practice alone will NOT make you Perfect.

You need a Mentor, Coach or Guide to show you the Perfect way of doing things then -

"Perfect Practice will make you Perfect"

We all have a Master whether you believe it or not.

Prophet Mohammed sws said "man Shaikh la hoo fahua Shaikh ul Shaitan"

means "If you don't have a Spiritual Master then Devil will become your Master by default and guide you away from the straight path towards God".

Please join and learn Spirituality directly from our Sufi Master and get perfected in your Spiritual Practice.

23/04/2023

🌹❤اب بادشاھت شہنشاہیت امام مہدی کی ہے❤🌹

🌹اس سے فرق نہیں پڑتا کہ سلسلہ کونسا ہے یقین کریں آپ ۔۔کیونکہ کوئی بھی سلسلہ ھو چشتیہ سلسلہ ھو نقشبندیہ سلسلہ ہو سہروردیہ سلسلہ ہو کوئی بھی ھو اُس کو اسمِ ذات غوثِ اعظم سے ہی ملنا تھا کیوںکہ اس کی کنجی سیدنا غوثِ اعظم کے پاس ہے تو جب اُن کے پاس کنجی تھی تو کہیں اور سے کیسے مل سکتا تھا لہٰذا ہر سلسلے والے کو ذکر قلب غوث پاک کی طرف سے ہی عطا ھوتا تھا اب وہ جو اسمِ ذات کی کنجی ہے وہ اب امام مہدی کے حوالے کر دی ہے غوث پاک نے 🌹
🌹ٹھیک ہے نہ
اچھا بھئ کنجی حوالے کر دی غوث پاک نے تو اُنکا تخت و تاج صحیح سلامت ہے ابھی تک ؟کنجی حوالے کیوں کی کہ میریjob ختم ہو رہی ہے اب یہ میں اپنی دکان امام مہدی کے حوالے کر کے جا رہا ہوں 🌹
🌹تو اب تو بادشاہت شہنشاہیت غوث پاک کی نہیں امام مہدی کی ھے نہ ،
اس بات کو سمجھنا ھوگا ۔۔
جیسے ہماری انجمن والے ہیں
دیکھو جی کل يا پرسوں ہم نے کوئی پچیس سال کے بعد کجائی پڑھی ھو گی جب ہم پاکستان میں تھے تو خوب پڑھتے تھے لیکن جب پھر ہم کو حقیقت کا پتہ چلا کہ اب تو امام مہدی کا دور ہے تو اس کے بعد پھر جو ھے ہم نے امام مہدی علیہ السلام کے قصیدے پّڑھنے شروع کئے سکّہ رائج الوقت ھے نہ بھئی!! یا نہیں ؟؟
یہاں ایک نقطہ اور بھی ہےکہ جب غوثِ اعظم جو تھے،جب وہ قطب الاقطاب تھے غوث الاغیاث پیرانِ پیر دستگیر تھے اور محبوب سبحانی قطب ربّانی بن کے اپنے تخت و تاج پر ولایت کے بیٹھے تھے تو اسوقت آئمہ کرام جو اہلِ بیت کے ہیں اُن میں سے کسی کی کجائی نہیں پڑھی جاتی تھی کسی کا قصیدہ نہیں پڑھا جاتا تھا کیوں کہ تخت پر غوثِ اعظم بیٹھے تھے تو اس وقت اُنکے وسیلے سے اسمِ ذات مل رہا تھا کیوں کہ اُنکو دیا تھا اللہ نے ،،غوثِ پاک کی ڈیوٹی ختم ہو گئی ھے جب غوثِ پاک کی ڈیوٹی ختم ہو گئی تو انہوں نے تخت و تاج اپنا اور اسمِ ذات کی کنجی کہ بھئی یہ آپ کا دور ہے یہ لیں امام مہدی کے حوالے اسمِ ذات کی کنجی کر دی🌹
🌹تو اب تو امام مہدی کا دور ہے نا ،،،،
اب تو امام مہدی کے قصائد پڑھے جائیں گے اُن کے محاسن مناقب اُنکے فضائل بیان ہوں گے اور جو ان کو نہیں مانے گا وہ کافر ہو گا ۔🌹
🌹اس دور میں کوئی مرشد کامل بچا نہیں سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی عالمگیر مرشد ہیں ۔ کوئی بھی ہدایت پر آنا چاہے وہ سیدنا گوھر شاہی سے رابطہ کرلے۔🌹
🌹از نمائندہ امام مہدی گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر 🌹

23/04/2023

🌹❤گمراہی کیا ہے؟❤🌹

یہ جو روحانیت میں دل کا راستہ اللہ کی طرف جا رہا ہے اُس راستے پر اللہ اور اسکے رسول نے کسی کو مامور کیا ہے تاکہ وہ لوگ جو خالی سینہ لے کر آ رہے ہیں وہ اُسے نور اللہ سے بھرتا رہے۔ شیطان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ اُس ڈیوٹی پر مامور ہستی کے خلاف آپ کے دل میں کسی کے زریعے بدگمانی ڈالے گا تاکہ وہ نوری تار کٹ جائے ۔اب وہ شخص بھلے نمازیں پڑھتا رہے، روزہ رکھتے رہے یا دیگر عبادات کرتا رہے وہ رب تک پہنچیں گی ہی نہیں کیونکہ اُن عبادات نے تو نوری تار جو مرشد کے دل سے ہو کر گزر رہی تھی اُسے ہی کاٹ دیا اس لئے تمام عبادات بھی رائیگاں ہوگئیں۔ شیطان یہ نہیں کہے گا اللہ اور اسکے رسول کو برا کہو، مولیٰ علی کو برا کہو، غوث الاعظم کو برا کہو بلکہ اُس وقت جو ہستی ڈیوٹی پر بیٹھی ہوئی ہے وہ اس کی کردار کشی کرے گا، اسکے خلاف کسی کے زریعے آپ کے دل میں بد گمانی ڈالے گا تاکہ وہ سبیل اللہ والا راستہ رک جائے اور آپکو ہدایت نہ مل سکے۔اور جو شخص یہ بدگمانی کسی کے دل میں ڈال رہا ہوتا ہے اُسے اسکا شعور بھی عطا نہیں ہوتا ۔ ایک وہ بھی مقام تھا جہاں پر اللہ تعالی نے فرمایا کہ تمھارے بہت سے راہب اور عالم ایسے ہیں جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور لوگوں کا مال بالباطل کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۗ
سورة توبہ آیت نمبر 34

اب یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اس آیت میں یہودی عالم اور راہب کی طرف اشارہ ہے اُس وقت دین اسلام تو نیا بن رہا تھا اسی لئے حوالے پچھلے دین کے دئیے جا رہے تھے کہ تمھارے بہت سے راہب اور عالم ایسے ہیں جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور لوگوں کا مال بالباطل کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ یہاں اللہ نے شیطان کا کہاں فرمایا کہ وہ اللہ کے راستے سے روکتا ہے ۔ شیطان گمراہ کرتا ہے رب کے راستے سے روکتا نہیں ہے۔ روکنے والے انسان ہیں جو دور حاضر میں ڈیوٹی پر مامور ہستی کی کردار کشی کر کے دلوں میں اس کے خلاف بد گمانی کا بیج بوتے ہیں تاکہ جہاں سے نور میسر ہونا ہے وہ راستہ رک جائے اور تمھارا سینہ بنجر ہو جائے۔ جب وہ نور کا راستہ رک گیا تو اب تمھارا دل اللہ کے راستے میں چل ہی نہیں سکتا کیونکہ نور ہی نہیں ہے۔ یہ ہے اللہ کے راستے سے روکنے کا عملی طریقہ اور لوگوں کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا ہو رہا ہے ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 17 ستمبر 2021 کویو ٹیوب لائیو سیشن میں قرآن مکنون کی خصوصی نشت سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

23/04/2023

Q.Allah ki Qom kon hai ?

His Holiness Sufi Master Sayyadi Younus AlGohar ne aaj ki live mehfil mein farmaya ki -

"Allah ki Qom woh hai jiska talluq Sabekoon ki rooh se hai."

Allah ne sabse pehle sabekoon ki 3 tarah ki rooh qurb, mohabbat aour jalwa ki fitrat se banayi -
1. Qurb
2. Mohabbat
3. Jalwa

Allah ne uske bahut arse baad kun-fayakoon ki 3 tarah ki rooh lalach aour khof ki fitrat se banayi-
1. Duniyadar
2. Jannati
3. Moallaq - Duniyadar or Jannati (not decided)

Quran ayat 5:54 "ya ayyohal lazina amanu man yartadda minkum an deenihi fa-saufa yati Allahu bi-koumim yuhibboohum wa yuhibboonahu."

matlab " Momino jab tum apne apne deen se fir jaoge tab Allah apni Qom ko layega, Allah unse mohabbat karega aour woh Allah se mohabbat karenge."

Allah ki Qom - Qurb, Mohabbat aour Jalwa wali Sabekoon ki rooh hain.

Jannatiyon ke liye Allah ne Teacher bharti kiye sabekoon ki rooh mein se. 124,000 Nabi aour Paigambar ki rooh sabekoon mein se hai.

Yeh Sayyadana Imam Mehdi Sarkar Gohar Shahi ka dour hai aour Allah ne sabekoon ki roohon ko duniya mein bheja hai Imam Mehdi ka pairokar banne ke liye aour unka saath dene ke liye.

IMAM MEHDI A.S 2027 Health/beauty

23/04/2023

کیا مزارات پر جانا اور اُن سے مانگنا شرک ہے ؟

اہل اللہ کے مزار پر جانے کے حوالے سے لوگوں کے اذہان میں ایسے بہت سارے سوالات ہیں جن کا وہ جواب ڈھونڈتے ہیں اور جب جواب نہیں ملتا ہے تو اُن کا عقیدہ بدل جاتا ہے ۔ پھر اُن کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مر گئے ہیں وہ سن نہیں سکتے حالانکہ یہ بڑی بَھونڈی بات ہے کہ اگر وہ مرگئے ہیں سن نہیں سکتے ، بول نہیں سکتے ، دیکھ نہیں سکتے، تو پھر قبر میں سوال وجواب کیسے ہونگے؟ حضور کی شبیہ کیوں دکھائی جائے گی؟ اس کا مطلب ہے آنکھیں بھی سلامت ہونگی کونسی آنکھیں سلامت ہونگی یہ ابھی زیرِ بحث ہے۔ جو مغالطہ فرشتوں کو ہوا تھا وہ چلا آرہا ہے۔ فرشتوں کو یہ مغالطہ ہوا کہ اس سے پہلے جتنے بھی آدم اللہ نے بنا کے زمین پہ بھیجے ہیں اُنہوں نے قتل و غارت کی، خون خرابہ کیا، لڑائی جھگڑا کیا تو وہ ایک جھنجھٹ ہی ہے ایک پریشانی کی بات ہی ہے ۔ فرشتوں نے جب آدم صفی اللہ کے جسم کو بنتے ہوئے دیکھا تو اللہ سے اعتراض کیا کہ پھر بنا رہے ہیں پھر یہ جا کے دنگا فساد ‘خون خرابہ کریگااور جہاں تک عبادت اور حمد و ثنا کا تعلق ہے تو کیا تیری حمد و ثنا کے لئے ہم کافی نہیں ہیں ؟ یہ سارا واقعہ قرآن میں موجود ہے ۔جواب میں اللہ نے فرمایا: اس آدم کو میں خاص علم ، باطنی علم دے رہا ہوں یہ دنگا فساد نہیں کریگا۔ اگر تمہارے پاس وہ علم ہے تو بتاؤ؟ تم کہہ رہے ہو کہ ہم عبادت کرینگے، بتاؤ پھر کیا علم ہے تمہارے پاس؟ انہوں نے کہا : کیا ہمیں آپ نے وہ علم دیا ہے؟ ہم کیسے بتائیں ؟ ۔ اب جس جس کو وہ عظمت والا علم مل گیا وہ رب کا فرمانبردار ہوگیا، محبت کرنے والا ہوگیا ، امن و شانتی والا ہوگیا اور جن کو وہ باطنی تعلیم میسر نہیں آئی وہ تو دنگا فساد ہی کریگا اسی طریقے سے یہ جو لوگ مر جاتے ہیں ان کے بارے میں بھی قرآن و حدیث میں کوئی خاص تعلیم وضاحت ،سراحت اور شفافیت کے ساتھ قرآن مجید میں موجود نہیں ہے اگر موجود ہوتی تو پھر مختلف فرقے جو آج موجود ہیں یہ مزاروں پر جانا اور اُن سے مدد مانگنے کوبُرا نہ سمجھتے ۔

کیا مرنے والا ہر آدمی مردہ ہے ؟

وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَـٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ
سورة البقرة آیت نمبر 154
رجمہ : جو لوگ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں راہ خدا میں اُنہیں مردہ نہ کہو بے شک وہ تو زندہ ہیں اُن کی حیات کاتمہیں شعور نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر اشارہ دیا ہے لیکن اُس کی تشریح غلط ہوگئی ہے اُس کو محدود کردیا گیا۔ یعنی تمہارے پاس وہ تعلیم نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے سینے میں پانچ روحیں رکھی ہیں ایک روح دماغ میں رکھی ہے ۔ یہ چھ ارواح ہیں جن کو ہم سماوی ارواح کہتے ہیں اگر ان کو بیدار کرلیا جائے تو ان چھ ارواح کے ذریعے انسان کی زندگی میں ہی یہ ارواح اُس کے جسم سے نکل کر باہر مختلف معمولات ومشغولات میں لگ جاتی ہیں۔ آپ نے بزرگوں سے سنا ہوگا کہ درویش کی نماز عرشِ معلی میں ہوتی ہے ۔ عرشِ معلی میں یہ جسم تو نہیں جاتا بلکہ وہی روحیں جاتی ہیں جو ہم نے بیدار کی ہیں جو سینے میں ہیں اُن میں سے ہر روح کا کسی ایک عالم سے تعلق ہے۔ لطیفۂ قلب کا تعلق عالمِ ملکوت سے ہے ، لطیفۂ روح کا تعلق عالمِ جبروت سے ہے ۔ مومن کے لئے ضروری ہے کم سے کم عالمِ جبروت تک تو اُس کی رسائی ہو کیونکہ عالمِ جبروت میں ہی بیت المعمور واقع ہے جو کہ اصل کعبہ ہے مومن کی نماز کی ادائیگی وہاں جا کر ہو۔ تو مختلف ارواح انسان کے سینے میں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں اور یہ ارواح جن کو ہم لطائف بھی کہتے ہیں ان کی وجہ سے ابلیس کو مایوسی ہوئی کہ میرے پاس تو یہ چیزیں ہی نہیں ہیں ۔ میں ترقی نہیں کرسکتا۔ انسان کو یہ لطائف عطا ہوگئے، اللہ تعالیٰ نے عطا فرمادئیے اُس کی وجہ سے وہ اشرف المخلوقات بن سکتا ہے۔ایک حدیث شریف میں آیا کہ انسانوں اور جانوروں میں فرق ان لطائف کی وجہ سے ہے کیونکہ انسان ان لطائف کی وجہ سے عرشِ الہٰی تک پہنچ جاتا ہے جانور میں چونکہ وہ لطائف نہیں ہیں اس لئے وہ یہیں رہ جاتا ہے ۔ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ

وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ
سورة الرحمن آیت نمبر 6

شجر اورہجر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں آپ بھی اگر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں تو شجر و ہجر اور آپ میں کیا فرق ہوا؟ قرآن شریف میں ہے کہ کچھ خاص پتھر اللہ کا ذکر کرتے ہیں آپ بھی اگر یہیں بیٹھ کے اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو پتھر بھی کرتے ہیں یہ کونسی بڑی بات ہے۔ آپ اگر سب سے بہترین مخلوق ہیں تو آپ وہ کرکے دکھائیں جو کوئی نہ کرسکے نہ ملائکہ کرسکے نہ فرشتہ کرسکے ، نہ چرند پرند، نہ ہجر و شجرکرسکیں۔ وہ کیا چیز ہے ؟ کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو سماوی ارواح دی ہیں انہی سماوی ارواح کے ذریعے وہ اللہ سے ہمکلام بھی ہوسکتا ہے وہ اُم الکتاب (لوحِ محفوظ) تک رسائی حاصل کرسکتا ہے اور انہیں ارواح کی وجہ سے وہ اللہ کے روبرو جاسکتا ہے اور اللہ کا دیدار بھی کرسکتا ہے۔ جن لوگوں نے اپنے ان لطائف کومنور کر لیا ان ارواح کو منور کرلیا ان کو طاقت پہنچائی اور پھر اللہ تک رسائی حاصل کرلی وہ انسان اشرف المخلوقات کہلائے گا ۔ لہٰذا فرق ہوا ان لطائف کا اور اگر جس انسان نے ان لطائف کو چھیڑا ہی نہیں ان کو بیدار ہی نہیں کیا تو اُس میں اور جانور میں کیا فرق ہوا! اسی طرح تُو انسان ہے تیرے اندر لطائف تھے تُو نے اللہ کو ناراض کیا ۔ اللہ نے تیرے لطائف پر قفل لگا دیا ، تیرے لطائف کی عمر برباد ہوگئی اُن کی زندگی معدوم ہوگئی اب تُو اللہ تعالیٰ تک جانہیں سکتا۔اسی طرح یہ جو تمہارے لطائف ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان سب کو بین لگاتا ہے توتمہارے ان لطائف کی زندگی کو ختم کردیتا ہے ۔

خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ
سورة البقرة آیت نمبر 7

جب تمہارے لطائف کو بین لگ گیا تو تم وہاں جا ہی نہیں سکتے ۔ جہنم کی کیا سزا ہوگی؟ یہیں سزا مل گئی۔ ایسے بہت سے لوگ تھے حضور ﷺ کے دَور میں۔ اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو تاکید فرمائی کہ جن لوگوں نے اس حق کو جھٹلا دیا ہے اُن کو تبلیغ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب جس کے پاس امریکہ کا ویزہ ہی نہیں ہے اُس کو یہ بتانے کا کیا فائدہ کہ فلاں جگہ جانا فلاں جگہ جاناوہ تو امریکہ جا ہی نہیں سکتا ہے ۔اسی طرح کوئی اگر نامرد ہے توآپ اُس کو کہیں کہ بچے ایسے پیدا کرتے ہیں ۔ بتا دو لیکن فائدہ تو نہیں ہے کوئی ۔ وہ تو نامرد ہے۔ ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو یہ مشورہ دیا کہ یا رسول اللہ ! جن کے سینوں میں موجود ارواح زندہ ہوں اُن کو تبلیغ کریں وہ مومن بن سکتے ہیں اور جن کے دلوں کی زندگیوں کو میں نے ختم کردیا ہے اُن کو تبلیغ کرنا یا نہ کرنا برابر ہے کیوں کہ جو چیز تجھے ایمان والا بناتی ہے وہ چیز تیرے اندر اللہ نے ختم کردی ہے لہٰذا تُو ایمان والا نہیں بن سکتا جب ایمان والا نہیں بن سکتا تو اب بیکار ہے تجھے تبلیغ کی جائے نہ کی جائے۔تو جن لوگوں نے ان لطائف کو منور کرلیا طاقتور بنا لیا تو ان کی رسائی اللہ تک ہوگئی ۔ جب اِس دنیا میں اُن کا وقت پورا ہوگیا اور جب اُن کو موت آئی تو اُن میں سے ایک روح، روحِ انسانی اوپر عالمِ برزخ میں چلی گئی اور جو باقی لطائف منور تھے وہ قبر میں رہ گئے۔ لطیفہ نفس بھی قبر میں رہا اور باقی لطائف بھی قبر میں رہے صرف روح اوپر عالم برزخ میں گئی۔اب یہ جو باقی لطائف ہیں جیسے قلب کے لطیفے ہیں جب یہ نکلے گا تو اس کی شکل و صورت آپ کے جیسے ہو گی ۔یہ جو لطائف اور لطیفہ نفس ہیں ولی بن کے اُس قبر کے اندر بیٹھ گئے۔اُس ولی کی روح انسانی عالم برزخ میں چلی گئی اور یہ باقی لطائف اور لطیفہ نفس جو پاک ہو گیا تھا وہ قبر میں بیٹھ کرساری زندگی ذکر کریگا ، نمازیں پڑھے گا جو مدد کے لئے آئیں گے اُن کی مدد بھی کریگا۔ جب یہ چیزیں انسان کی قبر میں زندہ ہیں ذکر کر رہی ہیں نمازیں پڑھ رہی ہیں اگر ذکر کرسکتی ہیں نمازیں پڑھ سکتی ہیں تو پھر تمہاری التجاؤں کو سن بھی سکتی ہیں ۔
مسلمانوں میں حاضر و ناظر کا بڑا چکر ہے۔ وہابی سُنّیوں کو کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے نام کے ساتھ ’’یا ‘‘ مت لگاؤ کیونکہ یہ صیغۂ نِدا ہے ۔یہ اُس کو پکارنے کے لئے ہے جو حاضر ہو۔ بریلوی کہتے ہیں کہ حضور حاضر ہیں دیوبندی کہتے ہیں کہ غیر حاضر ہیں۔ عام جو ولی ہے اُس کے لطائف جو طاقتور ہیں وہ لطائف اُس کی قبر میں ہوتے ہیں۔ سنتے بھی ہیں بولتے ہیں باہر بھی نکلتے ہیں لوگوں کی مدد کے لئے بھی جاتے ہیں تو کیا حضور پاک ﷺ کی قبرِ انور کے اندر حضورﷺ کی کوئی چیز نہیں ہوگی؟ کیوں نہیں حضور پاکﷺ حاضر؟ حاضر بھی ہیں اور ناظر بھی ہیں لیکن اس بات کو دل سے مانتا کون ہے وہ جو خود اندر سے زندہ ہے۔ جن کا اندر مردہ ہوگیا ‘جن کے دلوں کی زندگی ختم ہوگئی جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے قفل لگا دئیے وہ اُن کو مردہ ہی سمجھتے ہیں اور جو وہاں پر جا کر سلام پڑھتے ہیں اور حضورﷺ اُن کے سامنے آجاتے ہیں وہ کیسے انکار کریگا۔

مزارات پر جانا شرک اور بدعت ہے ؟

اب رہ گئی بات کہ مزار پہ جانا چاہئے یا نہیں تو مزار پر جانا کم و بیش ایسا ہی ہے جیسے اُس ولی کی ظاہری حیات میں آپ اُس سے بالمشافہ ملنے جاتے تھے فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے اُس کی روحیں جسم میں تھیں اب قبر کے اندرموجود ہیں ۔ جب جسم میں تھیں تب بھی وہ زندہ تھیں اب قبر میں ہیں تب بھی وہ چیزیں زندہ ہیں کیونکہ جب اُس ولی کی ظاہری حیات میں گیا تب بھی تیرا ذکر اُس ولی کے پاس جانے سے تیز ہوگیا تھا اور جن چیزوں کی وجہ سے تیرا ذکر تیز ہوا تھا وہ چیزیں اُس کی قبر میں بھی موجود ہیں اس لئے جب تُو مزار پہ گیا اُدھر بھی اللہ ، اِدھر بھی اللہ ، دونوں اللہ آپس میں ٹکرائے رِقّت طاری ہوگئی۔

“مزاروں پر جانا باعثِ سعادت و باعثِ فیض ہے ۔ اللہ اور قرآن کے نزدیک خوش قسمت لوگ وہاں جاتے ہیں کیونکہ مزار والے وہ ہستیاں ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت سے نوازا ہے “

انہی کے راستے پر آپ کو چلنا ہے۔ ہم کو اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا کون ہونا چاہئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا صالحین، اولیاء ، انبیاء ، مرسلین اور شہداءیہ اس راستے میں چلنے والے بہترین ساتھی ہیں ۔

وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا
سورة النساء آیت نمبر 69

تو جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ تک پہنچانے کی ڈیوٹی اللہ نے لگائی اُن میں جہاں انبیاء ، مرسلین اور اولیاء شامل ہیں وہاں وہ ولی بھی ہیں جن کو شہادت کا درجہ ملا ۔ شہید وہ ہے جس کی تعلیم پوری نہیں ہوئی اور وہ اپنی قبر میں موجود ہے۔ تو اُس ولی کے مزار پر جائیں جو کامل مرشد تھا کامل ولی تھا اور اس کا آپ کو کیسے پتہ چلے گا؟ جب آپ کے اپنے دل میں اللہ اللہ ہوگا تب آپ کو پتہ چلے گا کہ وہ بھی اللہ والا ہے۔ آپ نے اگر کالا رنگ کبھی دیکھا نہ ہو تو کیسے پہچانیں گے کیسا ہے؟ آپ خود اللہ والے نہیں ہیں تو کیسے پہچانیں گے کہ کوئی اللہ والا ہے؟ مزاروں پر جانا چاہئے لیکن مزاروں پر جا کے ملتا کیا ہے اُس کے لئے پہلے مومن بننا چاہئے ورنہ مزار پر ٹکریں مار کے آجاؤ گے جیسے مسجد میں مار کے آگئے۔ مزار پر جانے کا فائدہ اُسی کو ہوگا جس کا قلب اللہ کے نور سے روشن اور منور ہوگا ۔

اولیاء کرام کی چوکھٹ کو چومنا کیساہے؟

اب رہ گئی بات کہ کیا اُن کی چوکھٹ کو چومنا صحیح ہے یا غلط ہے؟ تو وہ اللہ والے ہیں اللہ نے اُن کو عزت دی ہے۔ قرآن مجید کے اوپر ہم غلاف چڑھاتے ہیں۔ اُس کو بھی چوم لیتے ہیں تو اللہ والے کے در کی چوکھٹ اللہ والے کی نسبت کی وجہ سے مقدس ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو نیت کو دیکھتا ہے چوکھٹ کو نہیں دیکھتا تم کسی کی چوکھٹ کو اس لئے چوموگے ناں کہ یہ اللہ والے کی چوکھٹ ہے ورنہ لکڑی تو باہر بھی پڑی ہے لہٰذا نسبتوں کا بوسہ لیا جاتا ہے چوکھٹ کا نہیں۔ اب بہت سے لوگ عمران خان کو کہہ رہے ہیں کہ اس نے سجدہ کیا ۔ اوہ بھائی سجدہ نہیں کیا اُس نے بابا فرید کی چوکھٹ کو چُوما اور اُس کا یہ عمل بتاتا ہے کہ اُس بندے کے اندر انانیت اور اکڑ نہیں ہے اور اُس کے اس عمل سے میرے دل میں بھی یہ اطمینان ہوگیا کہ یہ وہابیوں کے ہتھے نہیں چڑھا۔ لوگ تو کہہ رہے ہیں کہ اِس نے تیسری شادی کی ۔ میں کہتا ہوں بڑا اچھا ہوا اُس نے یہ شادی کرلی ‘کم سے کم اب اُس کا عقیدہ تو خراب نہیں ہوگا۔ لہٰذا مزاروں پر جانا کوئی غلط بات نہیں ہے۔ اب رہ گئی بات کہ کون جارہا ہے؟ اگر وہ بندہ مزار پہ جا رہا ہے جو کعبہ گیا خالی آگیا، جو مدینہ گیا خالی آگیا تو اُس کا مزار پہ جانا فضول ہے ۔ اگر وہ مزار پہ جارہا ہے جس کے دل میں اللہ کا نور آگیا ہے تو پھر جس مزار پر جائے گا وہ اللہ والے اُس کے دل کے نور میں مزید اضافہ کرینگے۔ بہت سے لوگ نماز اور دیگر عبادتیں ریا کاری کے لئے کرتے ہیں اسی طرح اگر کوئی مزار پر بھی ریاکاری کے لئے جاتا ہے تو بیکار ہے۔ انسان کے ہر عمل کا مرکز و محور اُس کی نیت ہے۔ انما الاعمال باالنّیات۔ جو بھی عمل آپ کرلیں اللہ تعالیٰ اُس کی نیت کو دیکھے گا۔ اگر آپ نے کسی کی چوکھٹ کا بوسہ لیا اس نیت سے کہ یہ اللہ والا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نظر میں آپ کی قدر و قیمت بڑھ جائے اور اگر آپ نے دنیا کو خوش کرنے کے لئے بوسہ لیا کہ یہ سب ولیوں کے ماننے والے خوش ہوجائینگے تو وہ تو خوش ہوجائینگے اللہ نہیں ہوگااس لئے جو بھی کام کرو اُس کا نتیجہ اُس کی نیت کے اوپر منحصر ہے۔ عام آدمی کی قبر پہ جانا جو مومن نہیں تھا بڑا خطرناک کام ہے۔ شریعت تو کہتی ہے کہ عورتوں کا قبرستان میں جانا ممنوع ہے ۔ میں تو کہتا ہوں کہ مردوں کا جانا بھی ممنوع ہونا چاہئے۔ جب وہ زندہ تھا اُس وقت اُس کے اندر شیطان بھرے ہوئے تھے اب وہ مر گیا ہے تو اب تو شیطانوں نے اُس کی قبر کو اڈا بنا لیا ہوگا جنات نے اُس کی قبر کو اڈا بنا لیا ہوگا اگر تُو بلاوجہ جا کے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے لئے گڑھا کھود رہا ہے اس لئے صرف ایسے لوگوں کی قبر پر مزاروں پر جاؤ جو ولی تھے جو مومن تھے، ولی نہیں تھے ایسی قبروں پر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 15 اگست 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کیے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

22/04/2023

حضرت جابر بن عبداللہ نے حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا سے روایت کی ہے کہ ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لائے۔ وہ ایک بڑی یمنی چادر اوڑھ کر آرام فرمانے لگے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے روایت کی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح نورانی تھا۔ تھوڑی دیر میں نواسہ رسول حضرت حسن بن علی گھر آئے تو انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے اپنے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ بعد میں انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا اور انہیں اپنے ساتھ چادر اوڑھا دی
کچھ دیر بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوسرے نواسے حضرت حسین بن علی آئے۔ انہوں نے بھی نانا کی موجودگی محسوس کی سلام کیا اور چادر اوڑھ لی۔ کچھ دیر کے بعد حضرت علی ابن ابوطالب کرم اللہ وجہہ تشریف لائے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا جنہوں نے انہیں اپنے ساتھ چادر اوڑھا دی۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ میں بھی اجازت لے کر چادر میں داخل ہو گئی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چادر پکڑی اور دائیں ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اے خدا یہ ہیں میرے اہل بیت ہیں، یہ میرے خاص لوگ ہیں، ان کا گوشت میرا گوشت اور ان کا خون میرا خون ہے۔ جو انہیں ستائے وہ مجھے ستاتا ہے اور جو انہیں رنجیدہ کرے وہ مجھے رنجیدہ کرتا ہے۔ جو ان سے لڑے میں بھی ان سے لڑوں گا اور جو ان سے صلح کرے میں ان سے صلح کروں گا۔ میں ان کے دشمن کا دشمن اور ان کے دوست کا دوست ہوں کیونکہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ پس اے خدا تو اپنی عنائتیں اور اپنی برکتیں اور اپنی رحمتیں اور اپنی بخشش اور اپنی خوشنودی میرے لیے اور ان کے لیے قرار دے۔ ان سے رجس کو دور رکھ اور ان کو پاک کر بہت ہی پاک۔ ۔۔ !!

یہ روایت آگے مزید چلتی ہے۔ اس دعا کے بعد قرآن کی ایک آیت نازل ہوئی (سورہ الاحزاب آیت 33) جسے آیت تطہیر کہا جاتا ہے۔ اس روایت کو بے شمار علما نے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں بھی نقل کیا ہے۔ آیت کا ترجمہ ہے کہ خدا نے ارادہ کر لیا ہے کہ آپ لوگوں سے رجس کو دور رکھے اے اہل بیت اور آپ کو پاک و پاکیزہ رکھے
۔ یہ روایت صحیح مسلم میں سیدنا عائشہ صدیقہ (سلام اللّه علیہ) سے بھی اسی طرح منقول ہے جس میں انہوں نے یمنی چادر کی جگہ اونٹ کے بالوں سے تیار کردہ سیاہ چادر کا ذکر کیا ہے

21/04/2023
21/04/2023

Twenty-two years ago, I was in America with Nadeem Bhai, and he said to me, 'I want to feel spiritual pleasure and become immersed in HDE Gohar Shahi's love. What do I do?" I said, "You need to break the idol of your ego, your ego must be shattered'. Bulleh Shah said the same thing-O'girl, take off this white cloak of piety for it is easily stained and cover yourself with the stained cloak of a Faqir Any stain on white surfaces is instantly prominent and we can spot it from afar. White cloak here symbolises the Sharia Law If you happen to sin, the black spot of the sin will remain on the heart whereas if you adopt spirituality (custom of the saints). with the knowledge of spirituality, the black spots of sins will be washed away from your heart. HDE Gohar Shahi said, 'The Sharia Law is like a dry pond where water accumulates and doesn't stream. Anything you deposit will remain in that pond. Your sins and your good deeds bath but if you adopt spirituality, it is like a flowing river. And your sins will be washed away. What Bulleh Shah meant was to adopt the path of the saints of God, the teachings of spirituality. So that even if you happen to sin, that sin would be washed away with the flowing river of divine energy. By the grace of HDE Gohar Shahi, we have obtained these teachings. There are so many things that one needs to do when he or she is on the way to purifying the lower self. The most prominent is blameworthiness. The most prominent is blameworthiness. This is why, as soon as the divine energy enters the lower self, it changes its state from Nafs e Ammarah (The Commanding Self) to Nafee Lawamah (The Regretful Self) And it remains at this stage for quite some time. The moment your lower self becomes Nafs e Lawammah (Regretful Self), you have to also face "Malamah' from those around you, and this is what will speed up your spiritual progress. When you do something wrong and others criticise you for it, you dont like it. But when you have done something wrong, ask your lower self when you have done something wrong and people are pointing it out to you, why don't you like it? The reason why the lower self does not like it is because this criticism or blameworthiness (malamah) will weaken the lower self, and that is why the lower self doesn't like it. How many people have the courage to accept their own mistakes and not seek forgiveness for it? Because as soon as you are exposed you ask for forgiveness so that you don't have to face the blameworthiness Or remorse, because these are the tricks of the devil to avoid purification. The lower self is more cunning than a fox. In your day to day life, if you have done something wrong and people criticise you for it, do not stop them. Accept that what you did is wrong and you deserve this and this is what will purify your lower self. If you stand up shamelessly and admit you have done what you did. and you are not bothered what anyone says- this is not an act of bravery and definitely not a custom of a Sufi. On the other hand, if you have not done something and then people accuse you falsely or blame you for something you have not done, and you remain steadfast and patient, this too will speed up the process of purgation of the lower self. Although it seems unjust. There are people who are born genderless. In our societies, especially in Pakistan, such people are given a very hard time and have to face a lot of hatred from socisty. For such people, HDE Gohar Shahi says, 'Because these people are victims of hatred and blameworthiness, the idol of their ego is shattered, and the mischievous nature of the lower self diminishes'. This is why it is said that such people are half saints, because their lower self has become purified but they have not obtained Activation of the Heart, hence they are only half-saints If such people come to obtain Activation of the Heart, they could progress in spirituality very rapidly.

20/04/2023

Jab Haq saamnay ajaye to usko mat chupao

9 lac logon k qalb kaisay zinda hogaye? .ap logon ko moulvi ki sab baaten yaad hain par Sarkar ki ye shan nahi? Isliye because you have unconscious and conscious bhugz for Sarkar.

Kaisay Sarkar Gohar Shahi logon ko Allah ka dedaar karwa detay hain? Guneh gaar say guneh gaar log darbar e rasalat kaisay pohanch jatay hain?
Hai Kisi ki esi nazar??

Just think about one thing: agar نبوت k bohat saray logon nay jhootay daway kiye iska kia ye mtlb hai k Sacha nabi koi hai he nahi?
Imam Mehdi k jhootay daway agar bohat saray logon nay kiye kia iska mtlb hai k asli imam Mehdi kbhi ayengay he nahi? Your hyper sensitivity to shut the mouth of everyone who talks about Imam Mehdi, till when will you do it? Kia kbhi Imam Mehdi nay ana nahi tha? How do you know that a certain entity is NOT Imam Mehdi?? What makes you think that you are the perfect parameter to judge somebody's worth?
Apki apni personal kia struggle hai to know the truth? Have you ever tried to question your reality? Who you are? And how will you conclude what is truth and what isn't?

Only divine light in you will lead you towards truth. You instead of doing your homework first, purifying and cleaning lower self first, all you are doing is talking rubbish about anyone jokay apkay comfort zone say hat Kay baat karrha hai. Khud nay koi mehnat nahi krni Haq ko pehchannay ki, or Jo pehchan chukay hain unkay upar you have to bark

The search for truth starts from within.... everything starts from within. Kia samjhtay hain ap apnay apko k agar ap Kisi cheez ko sahi smjh rahay hain to wo sahi hai? Or Kisi cheez ko ghalat smjh rahay hain to wo ghalat hai? Ya agar koi b Banda apko Kuch b bol kar Chala jayega ap uspar yaqeen karlengay!? You cannot technically, practically, spritually and fundamentally differentiate between bad and good with an impure self!!

Kyun ham log Syedna Gohar Shahi ko imam mehdi mantay hain Tum tehqeeq nahi karogay?
Janna nahi chahogay?
Unka aqeeda kaisa hai ? Kia wo sbko lara rahay hai? Ya sbko mutahid karrhay hai nafoos ko pak kark?

In ki Zindagi Dekho inki soch Dekho, 9 lac logon ki .
Kisi say nahi lartay
Apas may Bhai Bhai hogaye aik dusray k
Agar Sarkar Imam Mehdi na hotay...to kia pari thi unko k Sikho ko or Hindu ko b Galay say lagayen?
Church main jaye, synagogue jaye
Khana ho to masjid main he rehtay

Kon sahi hai, shia ya sunni? Ye kisnay btaya? K
Koi Sahi nahi hai bas ummati sahi hai?
Syedna Gohar Shahi Imam Mehdi nay saray firqon ko Kaha....ao us Noor ko wapis hasil krnay ka tareeka seekho
Itni revolutionary baat kon karta hai?
Kiski itni nazar hai? Kay wo insan ko naar say noori bana day apni nazar say. Kiski esi nazar hai Kay wo chaand par Mujood apni tasveer mubarak say logon kay dil Allah hu say jaari karday? Kiski esi nazar hai Kay gunehgar say gunehgar log seconds main Huzoor Kay kadmon main pohanch jatay hain, dedar e Ilahi Tak pohanch jatay hain?

Pehle Sarkar say mutarif hojao ...uskay Baad pochnay ki nobat b Aaye Kay Sarkar kon hain
Pehle taleem ko jaano
Phr koi baqwas karo
KAB TAK TUM IMAM MEHDI KI BAAT KARNAY WALON KO PERSECUTE KAROGAY????

You have created a perception of Imam Mehdi is your heads and that perception is you want that imam Mehdi who will kill everyone who is not so called 'Muslim'. You self entitled and self righteous people!! Allah ka Deen mohabbat hai, ishq hai!! Or saari insaniyat ko Allah ka ishq ataa Karnay k liye imam Mehdi (AS) arahay hain!! Ab ye Jo imam Mehdi(AS) ka sahi taaruff hai k Imam Mehdi(AS) ka sahi paigham mohabbat hai, qattaal nahi hai, larayi jhagra nahi hai, nafrat nahi hai, kisi aik mazhab ko Sahara dekar dusray mazhab ko neecha dikhana nahi hai, balkay insan ko elevate krna hai , gumrahi say Puri insaniyat ko nikaalna hai or unko is mazhabi pasmandagi say nikaal kar Arsh ki unchaayon par lejana hai. Jahan say wo Rab ko dekh sakay. Ye taaruff imam Mehdi (AS) ka ab Dunia main phel raha hai.
Kuch jahanumi ruhon say ye mohabbat wali taleem digest nahi hoti, unko wohi imam Mehdi chahyen Jo saray gher Muslim ko qatal karden. God's nature is love. Iblees's nature is violence. If violence is what appeals to you and you reject this message of divine love to andaza Laga len ap kon hain. Azli jahanumi hain or koi nahi.

20/04/2023

"Azm" ya "Determination" humare kirdar mein hona kyon jaroori hai?

His Holiness Sufi Master Sayyadi Younus AlGohar ne aaj ki live mehfil mein bahut detail mein "Azm" ka matlab oaur iski ahmiyad ko samjhaya. Yeh attribute hum sab ko apne under develop karna chahiye.

Arabic word "Azm" ka matlab "Determination" hai, isko "Will Power" bhi kahte hain. Yeh ek aisi khoobi hai Insan ke under jo Allah ki fitrat aour shift hai. Agar aap isko develop kar lein to fir aapki zindagi ke bahut sare kaam aasan ho jayenge.

Azm ka barahe raast himmat se talluq hai. Yeh ek aisi positive attribute hai isse Insan ki zindagi mein ek revolution aa jata hai.

Jaise aap ne kisi ko maaf kar diya lekin woh banda aapko baar baar tang karta hai to maafi se to kam nahin chal raha fir aap ne azm karna hai ki woh galti karta rahe aour mein maaf karta rahunga.

Mursaleen mein se sabse bada maqam aour martaba jinko diya unko kaha
"Oolul Azm" yani hai badi Determination wale.

Quran ne Hazrat Ali ke liye yeh word istemaal kiya "azmul umoor" matlab "dhun ka pakka"

His Divine Eminence Sarkar Gohar Shahi Sayyadana Imam Mehdi alai salam ne Sayyadi Younus AlGohar ko yeh nasihat farmayi -

"Himmat aour Azm paida karo."

"Iblees jo hai pur-azm rahta hai. Usko maloom hai ki woh Allah walon ko gumrah nahin kar sakta uske bawazood bhi unke piche jata hai. Unko gumrah nahin kar sakta lekin jo woh kaam kar rahe hain usko slow kar sakta hai. Iblees dhun ka pakka hai, Shaitan se hoshiyar raho bawazood iske ki Murshid nigahbani karega.".

Zindagi mein kamyabi ka raaz yeh hai ki insan himmat wala ho, kabhi haar na mane "Never Give Up" keep trying.

If Shaitan is determined to misguide you then you should determine to remain alert and vigilant and you should also be determined not to be misguided.

Sarkar Gohar Shahi ne farmaya "Younus tum humari chattan ho, bas is chattan ko azm se sakht rakhna".

Determination ek aisi qoowat hai jo insan ko invincible bana deti hai, somebody that cannot be defeated.

As a follower of Sarkar Gohar Shahi we must be invincible.

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Srinagar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Srinagar