ANP GUL ABAD
خدائی خدمت گاری | جمہوریت | خودمختاری
چارسدی ضلعی صدر جناب شکیل بشیر خان وی سی گل آباد ته د اصلاح په تکل کی راپیخه اوکڑہ او د گل آباد وی سی منتظمینوں ورته خرکلے اویلو، غونڈہ کی د وی سی گل آباد صدر ، نائب صدر سیکرٹری او داسی نور ذمه دار ملگرو گڈون اوکو ۔ غونڈہ د آیاز خٹک ماما زایی کی ترسرہ شوہ
اے این پی 🚩 د قامی اصلاح دعویٰ کوی خو ولی دا دعویٰ صرف تر بیانه پوری محدودہ نه دہ بلکہ په عملی توگه لیدی شی او ھر کارکن د خپلی حصی کار ته ملا تڑلی دہ۔
عوامی نیشنل پارٹی وی سی گل آباد
02/03/2026
مرگ نمی تواند مقاومت را سرکوب کند
موت مزاحمت کو نہیں دبا سکتی
21/02/2026
زما پختو زما سرمن دہ
دا نوری ژبی د لباس پشانتی دینه
06/02/2026
په قلعہ کورونو کی نن شمولیتی پروگرام تر سرہ شو چی پکی د کلی ٹولو تنظیمی ملگرو گڈون اوکو ، د تنظیمی مشرانو په منڈو ترڑو دا کامیابی تر لاسہ شوہ چی د قلعہ کورونو یوی درنی کورنئ د عوامی نیشنل گوند سرہ په ھر ساز و ناساز حالاتوں کی په ثابت قدمئ سرہ اودریدو پریکڑہ اوکڑہ او د JUI نه مستفید کیدو سرہ سرہ یی د نیشنل گوند لمن اونیوہ او پارٹی سرہ یی په کلکه د اودریدو اعلان اوکڑو شامل شوی ملگرو کی ماصل ماما، نیاز علی خان ، ارزمین خان ، خامد ، یونس ، جمال ، جلال، بلال قاری صیب ، احمد ، عدنان ، سدیس او مشال سرہ د کورنو شامل دی۔ د عوامی نیشنل گوند د صوبے د خپل اختیار مقدمہ دُمرہ واضحہ او مثبت دہ چی ھر سڑی پی اعتماد کوئ ۔ او د دی پارٹی دروازی د ھر چا دپارہ ھر وخت کولاو دی۔
🚩
05/02/2026
د یوې پوښتنې یا سوال زور؟ که دا څلور کروړه سوالونه وشو نو بیا؟
البته چې څوک پوښتنه کوي نو د اعلا وزیره پورې ټول ورته وایي ته په اې اېن پي کې یې،خلک پوھه دی چی پوښتنه د اے این پی کار دی نور څوک پوښتنه نشي کولې۔
🚩
23/01/2026
ہشنغر!!!!
عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے زیرِ اہتمام، فخرِ افغان باچا خان کی 38ویں اور قائدِ جمہوریت خان عبدالولی خان کی 20ویں برسی کے موقع پر چارسدہ میں عظیم الشان جلسۂ عام کا انعقاد۔ہزاروں کی تعداد میں کارکنان کی شرکت!!!!!!!
| |
21/01/2026
چی په عظمت یی د اغیاو سترگی بریخی
ھر پختون دی باچا خان غوندی بدنام شی
20/01/2026
(ایک قومی اجتماعی تعارف)
جنوری 20 برصغیر پاک وہند کے عظیم تحریکِ آزادی اور اسکے سرحدی حدود کے ملی رہنما خان عبدالغفار خان عرف باچا خان بابا کا یومِ وفات ہے،اُنکی خدمات اور جدوجھد اور آزادی ہند کے اندر کردار اور عمل کے بےمثال دور سے تو تقریباً اہلِ قلم حضرات و خواتین واقف ہیں۔
مگر یہ جتنی بھی معلومات کا ذخیرہ عام طور پر باچا خان کے متعلق کتابوں اور رسائل یاں سوشل میڈیا پر ملتا ہے وہ اُنکے اجتماعی عمل کی جگہ قومی آزادی میں ایک شخصی کردار کو اجاگر کرتا نظر آتا ہے جس سے برحال حقیقی عوامی اور خیبر پختونخواہ کے خصوصی مسائل میں حل کیلئے نوجوانوں کو کوئی درست راہ ملنے سے رہ جاتی ہے۔
،یہ حقیقت اِس سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ تقسیم ہند کے بعد باچا خان بابا نے جو تنظیم پاکستان کے اندر پختون اور تمام پاکستانیوں کے عوامی حقوق کے حاصلات کی جدوجھد کیلئے قائم کی وہ اُنکی وصال کے ساتھ اسی عوامی حقوق غصب کرنے کے نظام اور بیوروکریسی کے مفادات میں کام کرنے کا ٹول بن کر رہ گئی
پیشِ نظر حقیقت یہ ہے کہ خان عبدالغفار خان ماورائے ارض شخصیت بن کر نہیں آئے تھے بلکہ وہ غلامی اور استعمار کے 3 صدیوں پر محیط ظلم و جبر کے ردِ عمل میں پیدا ہونے والے اجتماعی تشکیلِ امورِ آزادی کے رہنماؤں کا حصہ تھے وہ محض فرنٹیئر گاندھی نہ تھے کے جو گاندھی کے فلسفے پر من و عن عدم تشدد کے پالیسی پر آخر تک چلنے کو آزادی کی راہ سمجھتے تھے اور اگر اسکے علاوہ کسی اور راہ پر قومی تنظیم کے اندر مضبوط پارٹی پیدا ہوتی یاں ہونے کو آئی تو وہ اسکا حصہ ہونے سے کتراتے ،نہ وہ افغانستان اور سوویت روس کے ایجنٹ تھے صرف اِس لیئے کے انہوں نے تقسیم ہند کے بعد نئی بننے والی امریکی اور سامراجی کیمپ کے مفادات کو پورا کرنے کیلئے کالونی کے اندر خیبر پختونخواہ کے 90٪ محنت کش،مزدور اور جہالت و توہمات کا شکار عوام کے ساتھ سندھ،بلوچستان،پنجاب کے کسانوں،مزدوروں اور ملی اجتماع کے دست و بازووں کیلئے ایک بہتر زندگی کی جدوجھد کو انتھک کوششوں سے جاری رکھا۔
یہ ہی وہ فرنٹیئر گاندھی ہیں جن کے تعارف میں تحریک آزادی کے بنگالی مرکزی رہنما سبھاش چندر بوس محوری طاقتوں کو اپنے خطوط میں یہ لکھ کر بتاتے اور باور کرواتے ہیں کے صوبہ سرحد میں ایک زبردست لیڈرشپ موجود ہے جس کو ہندوستانی فرنٹیئر گاندھی کے نام سے جانتے ہیں مگر وہ گاندھی کی طرح ہماری آزاد ہند فوج کی سرکردگی میں ہونے والے حملے کو لیکر اُسی طرح کی رکاوٹ نہیں ڈالیں گیں،ہمارے لیئے فرنٹیئر گاندھی گاندھی کے برعکس ایک عمل و علم والے ساتھی ہیں.
سن 1941 میں عالمی جنگ کا فائدہ اٹھا کے برطانوی ہند پر حملا کرکے اُسکی قوت توڑنے پر پرعزم سبھاش جی اتنے یقین سے یہ کیسے کہہ سکتے تھے؟ اسکا بھی تاریخی تسلسل ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے منڈلاتے بادلوں کے وقت امام عبیدااللہ سندھی اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے بدولت افغانستان سے ہوتے ہوئے بعینہ اسی نظریے پر مسلح جنگ مسلط کرنے کے لیئے شروع ہونے والی تحریکِ ریشمی رومال کے بدولت انقلابی عمل کو پایا تکمیل تک لیجانے کے لیئے صوبہ سرحد اور آزاد قبائل میں شیخ الہند کے ہدایات پر شریک تھے اور اِس لیئے جو پہلی جلاوطن آزاد ہند حکومت first provisional government of free india امام عبیداللہ سندھی نے قائم کی اِس تمام عمل میں وہ اِس زنجیر سے جڑے تھے جس کے بنیادوں پر دوسری جلاوطن آزاد ہند حکومت second provisional government of free india سبھاش جی نے اُنہیں طاقتوں کے ساتھ عمل میں لائی۔
گر یہ رہنما ہمارے ہیں،یہ تحریک ہماری ہے،یہ جدوجھد ہماری نسلوں اور قوموں کے حقیقی آزادی کیلئے تھی تو کیا یہ مضحکہ خیز نہیں کے انہیں سمجھنے اور جاننے میں نظریات و افکار باہر سے imported شدہ اور اُنکے خاص اور محدود حالات پر ردِ عمل کے سوچوں پر انکی تحقیق ہو؟
ان تمام رہنماؤں کے کردار کا درست خاکہ تب ہی سامنے آسکتا ہے جب انہیں مارکس،لینن،نپولین،روسو کے فلسفوں اور اعمال کی جگہ برصغیر کے اُس فلسفے جو اس تحریک کو پیدا کرنے والا ہے اسے آگے رکھ کر اجتماعی بنیادوں پر تجزیہ ہو۔
نظرالدین آزاد ✍🏻
15/01/2026
09/01/2026
نن په عمری محال کی د وی سی گل آباد او خانمائی په گڈہ غونڈہ اوشوہ چی ایجنڈا یی د بابا گانو برسی لمانزلو پلان او ۔ عوامی نیشنل گوند دا عقیدہ لری چی د قام په جوڑخت کی د تاریخ د لمانزلو لوی برخه وی که یو قام خپل تاریخ ھیر کڑی او خپل مشران ھیر کی نو د ھغه قام زوال شروع شی او داسی د ھر قسمه کامیابیوں نه محرمه پاتی شی دا سیناریو په ذھن کی ساتلو له کبله عوامی نیشنل گوند د خپل ستر او درنو مشرانو په 23 جنورئ برسی لمانزی چی نوی کُل د خپلو ستر مشرانو نه باخبرہ وی ، د ھغوی د دی قام دپارہ ستڑی یاد ساتی او د ھغوی ٹاکلی لار خپله کڑی۔ په دی غونڈہ کی ضلعی جوائنٹ سیکرٹری کامران جلیل باچا او ضلعی کونسلر آیاز خٹک ماما سرہ د وی سی خانمائی صدر اکرم خان سرہ د خپل تنظیم سکتر او د وی سی گل آباد صدر عزیز خان او جنرل سیکتر فلک نیاز او نورو گنڑ شمیر ملگرو گڈون اوکو دا غونڈہ د توصیف خان دی حجرہ کی تر سرہ شوہ۔
🚩🚩
04/01/2026
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی کونسل کا اجلاس مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کی زیرِ صدارت جاری ہے۔ اجلاس میں حاجی غلام بلور، سینئر نائب صدر داؤد خان اچکزئی، سیکرٹری جنرل سلیم خان، تمام صوبائی یونٹس کے صدور و جنرل سیکرٹریز سمیت دیگر اراکین شریک ہیں۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اجلاس میں تنظیمی امور سمیت دیگر اہم معاملات بھی زيربحث آئیں گے۔ اجلاس میں پارٹی آئین میں مجوزہ ترامیم اور اہم تنظیمی اصلاحات کو بھی منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔
| |
28/12/2025
پشاور: شہدائے عوامی نیشنل پارٹی، شہیدِ امن بشیر احمد بلور کی 13ویں برسی کے موقع پر نمک منڈی چوک میں جلسہ عام کا انعقاد۔ مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان خطاب کر رہے ہیں
| |
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
CHARSADDA