I'll love u until my heart stops beating
I'm simple nd straight forward girl....
11/07/2026
سوشل میڈیا پر اکثر و بیشتر وائرل ہونے والی ایک دل کو چھو لینے والی خبر نے دنیا بھر کے لاکھوں انسانوں کو آبدیدہ کر دیا۔ ترکیہ میں ایک ماں نے اپنی نابینا بیٹی کا خواب پورا کرنے کے لیے محبت اور قربانی کی ایسی لازوال مثال قائم کی ہے جس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔
ترکیہ کی ساکاریا یونیورسٹی میں قانون کی طالبہ بیرو مروے کل بینائی سے محروم تھیں۔ یونیورسٹی میں نابینا طالبات کے لیے بریل (Braille) سسٹم یا آڈیو بکس کی سہولت موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے ان کا تعلیم جاری رکھنا ناممکن نظر آ رہا تھا۔ایسے میں ان کی والدہ حوا کل (Havva Kul) اپنی بیٹی کی ڈھال بن گئیں۔
انہوں نے مسلسل چار سال تک روزانہ بیٹی کے ساتھ لاء کالج کی ہر کلاس میں شرکت کی، پروفیسروں کے لیکچرز کے نوٹس بنائے، اور گھر جا کر قانون کی موٹی اور بھاری بھرکم کتابیں گھنٹوں اونچی آواز میں پڑھ کر اپنی بیٹی کو یاد کروائیں۔
چار سال کی اس کٹھن محنت کے بعد جب بیرو مروے کل نے اچھے نمبروں سے قانون کی ڈگری حاصل کر لی، تو گریجویشن کی تقریب میں ایک سحر انگیز منظر دیکھنے کو ملا، یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر محمود بیلن نے اسٹیج پر اعلان کیا کہ یہ ڈگری صرف بیٹی کی نہیں بلکہ اس کی عظیم ماں کی بھی ہے۔جامعہ انتظامیہ نے ماں کی اس بے مثال قربانی، لگن اور استقامت کے اعتراف میں حوا کل کو بھی قانون کی اعزازی ڈگری (Honorary Law Degree) سے نوازا۔
ڈگری لیتے وقت ماں اور بیٹی دونوں کی آنکھیں اشکبار تھیں اور پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔یہ واقعہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر ماں کی دعا ساتھ ہو، تو دنیا کی کوئی بھی معذوری انسان کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
Disclaimer: This story is shared solely for educational, inspirational, public awareness, and journalistic purposes.
Click here to claim your Sponsored Listing.