Vloging Muhammad Ismail Qadri
Love Pakistan
پاکستان میں مزید صوبے بالکل نہ بنائے جائیں کیونکہ غریب عوام مزید کتے پالنے کے قابل نہیں
تحیتہ الوضو کا مقام
*صحيح البخاري # ١١٤٩*
*Sahih Bukhari # 1149*
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، *أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ : «يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ» ، قَالَ : مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا فِي سَاعَةِ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ .*
Narrated Abu Hurairahؓ: *The Prophet (ﷺ) said to Bilalؓ at the time of the Fajr prayer, "O Bilal! Tell me of the most promising deed you have done in Islam, for I heard the footsteps of your shoes in front of me in Paradise." Bilalؓ said, "I have not done any deed more promising to me than this: whenever I perform ablution (Wudu) at any time of the night or day, I pray with that ablution as much as has been written for me to pray."*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: *نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا، ”اے بلال! مجھے اسلام میں اپنا وہ عمل بتاؤ جس سے تمہیں سب سے زیادہ امید ہو، کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔“ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، ”میں نے اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید والا کوئی عمل نہیں کیا کہ میں نے رات یا دن کے کسی بھی حصے میں جب بھی کامل وضو کیا، تو اس وضو سے اتنی (نفل) نماز ضرور پڑھی جتنی میرے مقدر میں لکھی گئی تھی۔“*
_*(سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ نے اپنے اس عظیم الشان مقام کی وجہ اپنے دائمی طہارت اور عبادتی یکسوئی کے معمول کو بتایا، جس پر آپ ﷺ کی خاموشی نے مہر تصدیق ثبت فرما دی۔ یعنی ہمیشہ باوضو رہنے اور ہر وضو کے فوراً بعد شکرانے یا تحیۃ الوضو کے طور پر نفل نماز ادا کرنے کی عادت اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنی محبوب ہے کہ اس پر دائمی عمل جنت کے اعلیٰ درجات کا سبب بنتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں بھی باوضو رہنے اور سنتِ بلالی پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔)*_ طالب دعا: محمد اسماعیل قادری
20/08/2026
سوچو اللّٰہ تعالیٰ کتنا خوش ہوگا۔
پاکستان کی عدلیہ آزاد ھے
عجیب لطیفہ ھے جس پر ھنسی کے بجائے غصہ آتا ھے
وضو اور نماز حدیث پاک کی روشنی میں
*صحيح مسلم # ٥٣٨*
*Sahih Muslim # 538*
[عن] حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ، *أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ؛ ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» .*
Narrated Humran, the freed slave of 'Uthman that *'Uthmanؓ bin 'Affan asked for water to perform ablution (Wudu). He washed his hands thrice, then rinsed his mouth and blew his nose, then washed his face thrice, then washed his right arm up to the elbow thrice, then washed his left arm likewise, then wiped his head, then washed his right foot up to the ankles thrice, then washed his left foot likewise. He then said: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) perform ablution like this ablution of mine. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: «Whoever performs ablution like this ablution of mine and then stands and prays two rak'ahs without letting his mind wander (focusing entirely on prayer), his previous sins will be forgiven.»"*
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت ہے کہ *عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا۔ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے، پھر کلی کی اور ناک صاف کی، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر بایاں ہاتھ اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں تک تین بار دھویا، پھر بایاں پاؤں اسی طرح دھویا۔ پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرے اس وضو کی طرح وضو کرتے دیکھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑا ہو کر دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ان میں اپنے دل میں (دنیاوی) باتیں نہ کرے (یعنی کامل خشوع رکھے)، تو اس کے پچھلے تمام (گناہِ صغیرہ) معاف کر دیے جاتے ہیں۔»“*
_*(اس حدیثِ مبارکہ میں وضو کے تمام تر مسنون اعضاء کو دھونے کا مسنون بیان ہے۔ بعض دوسری احادیث میں کانوں کا مسح سر سے علیحدہ بھی مذکور ہے۔ یہاں وضو کے فوراً بعد دو رکعت نفل نماز کی عظیم الشان فضیلت بھی معلوم ہوتی ہے۔ ان دو رکعت سے اکثر علماء تحیۃ الوضو مراد لیتے ہیں۔ حدیث کے مطابق شرط یہ ہے کہ نماز میں دنیاوی خیالات و وسوسوں کو قصداً نہ آنے دیا جائے بلکہ کامل خشوع اور حضورِ قلب قائم رکھا جائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں سنت کے مطابق وضو کرنے اور خشوع کے ساتھ اس نماز کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔)*_ طالب دعا: محمد اسماعیل قادری
اللہ پر توکل
*جامع الترمذي # ٢٣٤٤*
*Jami At-Tirmidhi # 2344*
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: *قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرُزِقْتُمْ كَمَا تُرْزَقُ الطَّيْرُ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا» .*
Narrated 'Umarؓ bin Al-Khattab: *The Messenger of Allah (ﷺ) said, "If you were to rely upon Allah with the reliance due to Him, you would be provided for just as the birds are provided for: they go out in the morning hungry and return in the evening full."*
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، "اگر تم اللہ پر ویسا ہی توکل کرو جیسا اس پر توکل کرنے کا حق ہے، تو تمہیں اس طرح رزق دیا جائے جیسے پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے؛ وہ صبح کے وقت بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔"*
_*(یہ حدیثِ مبارکہ توکل علی اللہ کا حقیقی مفہوم اور اس کا عملی توازن واضح کرتی ہے۔ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنا یا اسباب کو بالکل چھوڑ دینا نہیں ہے، بلکہ پرندے کی طرح صبح اپنے گھونسلے سے نکلنا، یعنی عملی جدوجہد اور کوشش کرنا ہے، جبکہ دل کا پورا اعتماد اور یقین صرف مسبب الاسباب ﷻ کی ذات پر ہو۔ جو بندہ اسباب اختیار کرتے ہوئے نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی کفایت فرماتا اور غیب سے رزق کا سامان فراہم کرتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں اپنے اوپر سچا اور کامل توکل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔)*_ طالب دعا: محمد اسماعیل قادری
Click here to claim your Sponsored Listing.