PDA D I Khan
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from PDA D I Khan, Health/Beauty, Dera Ismail Khan.
01/02/2026
ڈایریکٹر جنرل ہیلتھ سروسیسز تمام کیڈرز کی عارضی سینیارٹی لسٹ برائے سال 2026فی الفور آفیشل ویب سائٹس پر جاری کریں ۔پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن
ڈایریکٹر جنرل ہیلتھ افس فی الفور تمام ڈاکٹرز سے اہم کاغذات جسمیں ٹریننگ سرٹیفیکیٹ ،نو ڈیمانڈ سرٹیفیکیٹ،تصاویر، پے سلپ ، ایف بی ار سرٹیفیکیٹ ،ایسِٹ ڈیکلریشن اور اے سی ار بذریعہ آفیشل ای میل اور وٹس ایپ نمبر کے زریعے اے سی ار سیکشن میں جمع کروائیں۔ ۔پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن
ڈی جی ہیلتھ افس 15فروری 2026تک تمام کیڈرز کے ڈاکٹرز کے سینیارٹی اور ورکنگ پیپرز مکمل کریں تاکہ ڈاکٹرز کے لئے سپیشل پی ایس بی کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ڈی جی ہیلتھ اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں ۔پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن
اگلے ہفتے میں ڈی جی ہیلتھ ۔سیکٹری صحت اور منسٹر ہیلتھ سے ڈاکٹرز کی پروموشنز کے سلسلے میں پھر ملاقات کریں گے اور ڈاکٹرز کی پروموشنز میں تمام روکاوٹیں دور کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے پر زور دیں گے ۔پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن
ڈایریکٹر جنرل ہیلتھ سروسیسز اے سی آرز سیکشن کو لیپ ٹاپ ،وائی فائی پرنٹر ،فوٹو سٹیٹ مشین اور پرنٹنگ کیلئے کاغذات فی الفور مہیا کریں تاکہ پروموشنز کیلئے کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختون خواہ
تمام اضلاع کے ڈاکٹرز تیاری کر لیں اگر اس مرتبہ پروموشنز میں تمام کیڈرز کے ڈاکٹرز کو شامل نہیں کیاگیا اور رکاوٹ ڈالی گئی تو صوبے بھر میں احتجاج کریں گے ۔
پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن
" اطلاعِ عام "
تمام معزز ڈاکٹرز صاحبان کو مطلع کیا جاتا ھے کہ پِچھلے دِنوں نئی بننے والی پی ڈی اے ( PDA ) پراونشل ڈاکٹرز ایسو سی ایشن ڈسٹرکٹ ڈی ، آئی ، خان ،
اور
ڈسٹرکٹ ٹانک ،
کی حلف برداری کی تقریب ھونے جارہی ھے ،
سب ڈاکٹرز حضرات سے گزارش ھے کہ اس پُروقار تقریب میں شرکت فرماکر اپنی ڈاکٹرز کمیونٹی کا حوصلہ بڑھائیں ،
آپ ڈاکٹرز صاحبان کی شرکت ھمارے لئے باعثِ افتخار ھوگی ۔
Date : 29/01/2026
Time : 1 Pm
Venue : DHQ Hospital Auditorium Hall
پراونشل ڈاکٹرز ایسو سی ایشن ڈیرہ اسمٰعیل خان
پراونشل ڈاکٹرز ایسو سی ایشن ٹانک ۔
23/01/2026
زرا ہٹ کے ....!!!!
پراوِنشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (PDA) ڈیرہ اسماعیل خان کی نئی کابینہ کا اعلان کردیا گیا
ڈیرہ اسماعیل خان میں پراوِنشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (PDA) خیبرپختونخوا کی ضلعی کابینہ کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
پراوِنشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ایک فعال ، منظم اور نمائندہ پلیٹ فارم ہے جو سرکاری ہسپتالوں اور محکمہ صحت کے دوسرے اداروں میں فرائض سر انجام دینے والے ڈاکٹرز کے حقوق کے تحفظ، پیشہ ورانہ مسائل کے حل اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے طویل عرصے سے سرگرم عمل ہے۔
P نے ہمیشہ مشکلPDA حالات میں عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح رکھا ہے اور قدرتی آفات، ہنگامی صورتحال، وبائی امراض اور روزمرہ طبی مسائل میں بلا تفریق عوام کی خدمت کی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایسوسی ایشن نے ڈاکٹرز کو درپیش انتظامی، پیشہ ورانہ اور سروس اسٹرکچر سے متعلق مسائل پر بھی ہر فورم پر مؤثر آواز بلند کی ہے۔
نئی ضلعی کابینہ میں ڈیرہ اسماعیل خان کے سینیئر، تجربہ کار اور قابل ترین ڈاکٹرز کو شامل کیا گیا ہے جو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ٹیچنگ ہسپتال (DHQ/MTI)، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال (THQ)، رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs)، بیسک ہیلتھ یونٹس (BHUs) اور دیگر سرکاری اور پرائیویٹ صحت مراکز میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
نومنتخب کابینہ کے مطابق ڈاکٹر محمد طارق حیات میانخیل صاحب کو سرپرستِ اعلیٰ مقرر کیا گیا ہے،
جبکہ ڈاکٹر محمد سجاد بلوچ صاحب چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حافظ محمد فاروق گُل بیٹنی صاحب ، جبکہ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شکیل احمد مدنی صاحب ہوں گے۔
دیگر عہدیداران میں سینئیر نائب صدر میل ڈاکٹر غازی خان صاحب ، سینئیر نائب صدر فیمیل ڈاکٹر شائیستہ پروین صاحبہ ، نائب صدر اول ڈاکٹر اسد حنیف صاحب ، نائب صدر دوئم ڈاکٹر کامران زکریہ صاحب، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ڈاکٹر منیر احمد صاحب، جبکہ نائب صدر گومل میڈیکل کالج ڈاکٹر محمد علی شاہ صاحب اور ، نائب صدر ڈی ایچ او سائیڈ ڈاکٹر عنصر وسیم صاحب مقرر کئے گئے ہیں ۔
اسی طرح نائب صدر مُفتی محمود ہسپتال ڈاکٹر شاہ رخ صاحب ، نائب صدر نان گورنمنٹ ہسپتال ڈاکٹر فیصل یونس صاحب جوائنٹ سیکرٹری اول ڈاکٹر صدام صاحب، جوائنٹ سیکرٹری دوئم ڈاکٹر انعام صاحب ، فنانس سیکرٹری اول ڈاکٹر سمیع اللّٰہ بلوچ صاحب، فنانس سیکرٹری دوم ڈاکٹر جاوید صاحب ، پریس سیکریٹری ڈاکٹر حشمت صاحب مقرر کیے گئے ہیں۔
دفتر کے تنظیمی امور کے لیے آفس سیکرٹری اول ڈاکٹر فہیم صاحب اور آفس سیکرٹری دوم ڈاکٹر زاہد صاجب کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں،
جبکہ رابطہ سیکرٹری ڈاکٹر گوہر زمان محسود صاحب ہونگے ،
اور خاص طور پر ڈاکٹر دُرِ آب صاحب کو رابطہ سیکریٹری TMOs ,HOs , اور میڈیکل سٹوڈنٹس مقرر کیا گیا ھے
اس موقع پر نومنتخب عہدیداران کا کہنا تھا کہ نئی کابینہ ڈاکٹرز کے جائز حقوق کے تحفظ، ہسپتالوں میں درپیش مسائل کے حل، حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر رابطے، اور عوام کو بہتر و معیاری علاج کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پروونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈیرہ اسماعیل خان صحت کے شعبے میں بہتری اور عوامی خدمت کے مشن کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھائے گی۔
15/12/2025
" * *لاوا جو بلآخر پَھٹ پڑا* * "
لوگ ہم سے پوچھتے تھے کہ ڈاکٹرز لیڈر ھونے کے باوجود گومل میڈیکل کالج کے سٹوڈنٹ کے تازہ واقعے پر آپ خاموش کیوں ھیں تو ھم سَر جُھکا دیتےتھے۔
کیونکہ ہماری تنظیم پَراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن
( PDA KPK )
اس بات پر یقین رکھتی ھے کہ سٹوڈنٹس میں
کسی قسم کی سیاست نہیں ھونی چاہئے ۔
......لیکن
آخر کار جب ایک نام نہاد ڈاکٹرز تنظیم نے کالج انتظامیہ کی مِلی بَگھت سے جی ایم سی کے سٹوڈنٹس کو لولی پاپ دینے کی کوشش کی اور سٹوڈنٹس کی ہمدردیاں حاصل کیں ، تو مجبوراً بہت سے ڈاکٹرز دوستوں کے منع کرنے کے باوجود سٹوڈنٹس کے مستقبل کی خاطر
ہمیں اس جلتی ھوئی آگ میں کودنا پڑا ۔
حفیظ جھالندری نے کیا خوب کہا ھے۔
یہ نصف صدی کا قصہ ھے دو چار برس کی
بات نہیں ۔
جی ایم سی کے سٹوڈنس جب ہر طرف سے مایوس ھو کر ہم سے ملے اور اپنی روئے داد سُنائی تو تب ہمیں معلوم ھوا کہ دوسرے سٹوڈنس کی نسبت میڈیکل کالج کے سٹوڈنس
میں " * خودکشی * " کا رُجہان کیوں زیادہ
ھے ۔
یہ "* لاوا *" اُس دِن سے پکنا شروع ھوا جب ایک سٹوڈنٹ کو کلاس میں سوال کرنے اور ٹیچر کے بُرا منانے پر ٹاپ سٹوڈنٹ ھونے کے باوجود
وایوا امتحان میں فیل قرار دیا گیا۔
وہ تڑپتا رہا۔ ،
ہر دروازے پر دستک دی۔
تھک ہار کر اپنی ہار مان لی۔ ،
لیکن جِن کی ایگو ہِٹ ھوئی تھی اُن کو اس ٹاپ سٹوڈنٹ پر ترس نہیں آیا اپنی اولاد نہیں بلکہ ایک اچھوت سمجھتے ھوئے ہر در سے ٹُھکرایا اور دھتکارا ۔
جسکا زِکر ایک جی ایم سی کی سابقہ سٹودنٹ ڈاکٹر سَسی ( جو کہ آج اسسٹنٹ کمشنر ھے ) نے بھی اپنے ایک ارٹیکل میں کیا کہ کیوں اُس کو بھی کالج انتظامیہ کی اس طرح کی حرکتوں پر گومل میڈیکل کالج چھوڑنا پڑا۔
سیکنڈ ائیر کی امتحان میں جو سپلیاں دی گئیں اُس کے تو ھم خود چشم دید گواہ ھیں ۔
ھوا کُچھ یوں کہ سیکنڈ ائیر کے طلباء نے ہمیں اَپروچ کیا کہ ہمارے کُچھ سٹوڈنٹس کی اٹنڈنٹس شارٹ ہے ، کمپنسیٹ کرنے کی جگہ ہمیں سپلی دی جا رہی ھے جو کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہے
ہم بھی متفق تھے کہ اگر اٹنڈنٹس شارٹ ھو تو بچے کو سپلی جیسی بڑی سزا دینے کی بجائے کمپنسیشن کی جاتی ہے جیسا کہ صوبے کے باقی میڈیکل کالجز میں کیا جاتا ھے جو کہ
۔۔ Extra Classes
۔۔ Social Works
۔۔Extra Wards
یا
۔۔Fine etc
کی صورت میں ھوتا ھے۔
ہائیر کالج انتظامیہ اس موقع پر شاید ملک سے باہر تھی ۔
سیکنڈ لیول کالج انتظامیہ سے بات ہوئی۔
اُنھوں نے ایچ او ڈیز سے بات کرنے کو کہا ۔
ھم نے تمام ایچ او ڈیز کو راضی کیا ۔
دوسرے دِن جب سیکنڈ لیول کالج انتظامیہ نے متاثرہ سیکنڈ ائیر سٹوڈنٹ اور ایچ او ڈیز ( جن میں دو ایچ او ڈیز خود تو نہیں آئے بلکہ اپنے نمائندے بھیجے ، جو کہ ان کی سیریسنس کا ثبوت ھے ) کو آمنے سامنے بیٹھایا تو اُنھوں نے طُلُباء پر ترس نہ کھاتے ھوئے صاف لفظوں میں کہا کہ آپ سٹوڈنٹ لوگ سپلی کی تیاری کریں ۔
مزے کی بات یہ ھے کہ ایک ایچ او ڈی صاحب جو موقع پر موجود تھے نے سٹوڈننٹس کو کہا کہ سپلی میں آپ لوگوں کو میں پاس کرونگا یعنی کہ کے ایم یو اور باقی کالج انتظامیہ کی جگہ موصوف نے پاس کرانے کا ٹھیکہ خود ہی اپنے سر لے لیا ۔
گویا کے ایم یو تو بقولِ مروت صاحب وَڑ گیا۔
اسی طرح تھرڈ ائیر کے طُلُباء کو بھی اٹنڈنٹس شارٹ ھونے کی وجہ سے سپلیاں دی گئیں ۔
اور اب فورتھ ائیر کے طُلُباء کو امتحان سے کافی دن پہلے یہ خوشخبری سُنا دی گئی کہ اب116
طُلُباء میں سے 97 طلباء سپلی کا مزا چکھیں گے ۔
طُلُباء تڑپتے رہے اور انتظامیہ کے بڑے سے لیکر چھوٹے تک کے در پر دستک دیتے رھے لیکن کسی نے داد رسی نہیں کی اور کوئی بھی ان کے ساتھ بیٹھنے کو تیا ر نہیں ہوا
.......تو آخر کار
تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق
طُلُباء اب کی بار "* خود کُشی *" کرنے کے بجائے اپنے جائز حق کے لئے اُٹھ کھڑے ھوئے ۔
ایک دن پہلے ہی طُلُباء نے انتظامیہ کو بتا دیا کہ ھم اپنے جائز حقوق کے لئے کل سے احتجاج کرینگے ۔
پھر بھی انھیں اَنگیج نہیں کیا گیا بلکہ روڈ پر بیٹھے طلباء کا "* تمسخر *" اُڑایا گیا
آخر کار احتجاج کے دوسرے دن طلبا نے مجبوری میں ایک غلط قسم کا سٹپ اُٹھایا اور کالج فکیلیٹی کو محسور کردیا جس میں انتظامیہ اور طلباء کی طرف سے کچھ لوگ زخمی بھی ھوئے اور پھر دونوں طرف سے ایف آئی آرز بھی کاٹی گئیں۔
ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی طرف سے مداخلت کے بعد ایک معاہدہ سا ہوا جو کہ ٹھنڈی ھوا کا جھونکا ثابت ھوا ۔
معاہدے میں کچھ پوائیٹس لکھے گئے جس پر ڈی سی صاحب ، ڈی پی او صاحب ، کالج انتظامیہ ڈین صاحبہ اور سٹوڈنٹس نے سیگنیچر کئے جسپر یہ احتجاج انکوائیری مکمل ہونے تک پوسٹ پون کر دیا گیا ۔
لیکن اب پھر ایک نام نہاد "* پَلانٹڈ *" ڈاکٹرز تنظیم وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے ھوئے اس معاہدے کو سبوتاج کرنا چاہتی ھے ۔
جو پی ڈی اے ڈی آئ خان اور پی ڈی اے خیبر پختون خواہ کسی بھی صورت میں نہیں ھونے دے گی ۔
اگر اس طرح کا کوئی بھی غلط قدم اُٹھایا گیا تو پی ڈی اے ڈی آئی خان اور پی ڈی اے خیبر پختونخواہ طُُلُباء کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑی ھوگی ۔
کیونکہ یہ احتجاج سٹوڈنٹس کا ہے تو پھر اس میں نہ صرف گومل یونیورسٹی ، زرعی یونیورسٹی اور دوسری یونیورسٹیوں کے طلباء کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ اور دوسرے پرائیویٹ کالجز کے طلباء کو بھی اس احتجاج میں شامل ھونے کی کال دی جائے گی ۔
اور
ہمارا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ اس انکوائیری کو جلد از جلد پایہء تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ طلباء کے اندر پائی جانے والی بے چینی کو دور کیا جا سکے اور خُدانخواستہ اس طرح کے واقعے سے متوقع "* خودکشی "* کے رُجحان کو بھی ختم کیا جاسکے ۔
.........ورنہ
دمادم مست قلندر ھوگا ۔
ڈاکٹر حافظ محمد فاروق گُل
صوبائی آگَنائیزر
پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختون خواہ
و
صدر
پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈئی آئ خان
پریس ریلیز GHA
ڈسٹرکٹ ایبٹ اباد۔
گرینڈ ہیلتھ الائینس کیساتھ حکومت نے مزاکرات کئے جس میں گرینڈ ہیلتھ الائینس کے تمام مطالبات مان لئ گئے ۔
ہمارے مطالبات درجہ ذیل تھے۔
۔1:JIT کا قیام
2 دہشتگردی کے مقدمات
3 ایس-ایچ-او کی معطلی
4: بینظیر بھٹو شہید ہسپتال ایبٹ آباد میں پوسٹ مارٹم
5: سونے اور رقم کی دستیابی
6: پولیس کے ملوث افسران کی معطلی۔
مندرجہ بالا مطالبات میں دہشت گردی کے مقدمات ، جی-آئی-ٹی کا قیام اور ایس-ایچ-او کی معطلی پر عمل درآمد ہوگیا جبکہ باقی مطالبات کو جلد ماننے اور JIT میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
ڈاکٹر وردا مشتاق کے والد صاحب اور فیملی کے اسرار ، سول سوسائیٹی کے سفید ریش مشران کے درخوسات پر گرینڈ ہیلتھ الاینس ایبٹ اباد احتجاج موخر کرنے کا اعلان کرتی ہے اور متاثرہ خاندان اور کمیونٹی کو باور کراتی ہے کہ اگر مطالبات ماننے میں ذرا سی بھی کوتاہی ہوئی تو ہم اس سے ذیادہ قوت کیساتھ پیش آینگے۔
ہم تمام ڈاکٹرز کمیونٹی ، خیبر پختونخواہ ڈاکٹرز کونسل کے مرکزی قیادت ،ینگ نرسنگ ایسوسیشن ، پیرامیدیکل ایسوسیشن ، کلاس فورز ایسوسیشن، میڈیا، سول سوسائٹی، وکلا برادرادری کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ دیا اور ہمارے غم میں برابر کے شریک رہے۔
ہم تمام ہسپتالوں کے انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے صوبہ گیر اھتجاج میں ہمارا ساتھ دیا ۔
منجانب : * ترجمان گرینڈ ہیلتھ الائینس ابیبٹ اباد ہزارہ *۔
11/12/2025
Long Live PDA .
Long Live PDA
میں کس کے ہاتھ اپنا لہو تلاش کروں
سارے شہر نے پہن رکھے ہیں دستانے
ڈاکٹر وردا مشتاق جو کہ DHQ Hospital ایبٹ اباد میں ڈیوٹی سرانجام دے رہی تھی ، جمعرات کے دن ڈیوٹی سے گھر جاتے ہوئے اغوا ہوئی اور چار دن بعد اس کی لاش ایک جنگل سے بر آمد ہوئی ,
یہ ایک غیر معمولی نوعیت کا کیس تھا کیونکہ اس کیس میں اغوا کار پہلے ہی سے معلوم تھے ،
پیسوں کا معاملہ تھا(ردا نامی عورت نے ڈاکٹر وردا سے کروڑوں روپے اور 67 تولے سونا ہڑپ کیا ہوا تھا ) ڈاکٹر وردا مشتاق کو دوستی کی آڑ میں دھوکا دیا گیا ،
ڈاکٹر وردا کو آخری بار ردا نامی لڑکی کیساتھ گاڑی میں بیٹھ کر جاتے ھوئے دیکھاگیا ،
یہ ایک حساس معاملہ تھا جس میں پیسے Involve تھے اور ہمیں اس چیز کی حساسیت کا پہلے ہی سے معلوم تھا کہ اگر ڈاکٹر صاحبہ کو بروقت بازیاب نہ کیا گیا تو نتیجہ بھیانک ہوگا اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا ،
لوکل انتظامیہ اور پولیس چار دن تک مقامی ڈاکٹرز اور ان کے رشتہ داروں کو لولی پاپ دیتی رہی ، نامزد ملزمان کو تفتیش کے نام پر بُلا یا جاتا اور پھر چھوڑ دیا جاتا رہا ،
انتظامیہ آنکھ مچولی کھیلتی رہی اور محمکہ صحت چَین کی بانسری بجاتی رہی ،
پولیس کا کارنامہ دیکھیں جنہوں نے دو دن تک DPO تک کو لا علم رکھا جبکہ دوسری طرف منشیاتی مافیا اور سفاک قاتل اپنے مزموم کام میں لگا رہا ،
ڈاکٹر وردا کو ایک گروہ سے دوسرے گروہ منتقل کرتا رہا ،
اور آخر کار ڈاکٹر وردا کو قتل کرکے لاش ایک ویرانے جنگل میں پھینک دی گئی ،
بظاہر تو یہ ایک آسان معاملہ لگ رہا ہے لیکن اس کو سرانجام دینے کیلئے کتنے لوگ Involve رہے ہونگے اور اس واقعہ کے سرغنہ کیساتھ بِلمُشافہ اور موبائل پر رابطے کئے ہونگے ،
اور یہ مشکوک نقل و حرکت کسی سے کیسے ڈھکی چُھپی رہی ،
شامل تفتیش لوگ حواستہ باختہ ہوئے ہونگے،
ہائے افسوس .......
پولیس اور ضلعی انتظامیہ مغوی کی باذیابی میں ناکام رہی۔۔
اب میں عام عوام سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں کہ
جب کوئی بندہ موٹر سائکل پر سپیڈ سے One wheeling کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوتاہے اور ڈاکٹروں کی سر توڑ کوششوں کے باوجود فوت ہوجاتا ہے تو کیا ذمہ دار ڈاکٹر ہوتا ہے ؟
جب کوئی بندہ گولی سے بُری طرح زخمی ہوتا ہے اور ذخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ دیتا ہے تو کیا ذمہ دار ڈاکٹر ہوتا ہے ؟
جب کوئی بندہ حکیم اور دیسی ٹوٹکو سے اپنے گردے خراب کر دیتا ہے، ناکارہ گردو کی وجہ سے اس کی موت ہسپتال میں واقع ہوجاتی ہے تو کیا ذمہ دار ڈاکٹر یوتا ہے ؟
اور اگر والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے مثلاً خسرہ وغیرہ کا ٹیکہ نہیں لگانے دیتے اور بچہ ان موزی بیمایوں کا شکار ہوکے فوت ہوجاتاہے تو کیا ذمہ دار ڈاکٹر ہوتا ہے ؟
لیکن عوام اپنی اور انتظامیہ کی کوتاہیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے ہیلتھ سٹاف پر چڑھ دوڑتی ہے اور مرنے مارنے پر تُل جاتی ہے ،
اب میں صوبے کی تمام تنظیموں اور عام عوام سے فریاد کر رہا ہوں ،
کیا ڈاکٹر وردا کسی کی ماں ، بیوی ، بیٹی یا بہن نہیں تھی جس کو نہایت ہی بے دردی کے ساتھ عورت ہوتے ہوئے ایک Nominated مافیا نے صرف پیسوں کی خاطر قتل کر دیا ہے ،
ایک ماں ، بیٹی ، بہن اور بیوی قتل ہوئی ہے ،
*ایک ڈاکٹر قتل ہوئی* ،
جس نے اپنی زندگی کے نہایت ہی قیمتی تقریباً پندرہ سال ایک کمرے میں ہر قسم کی خوشی اور غمی میں شرکت نہ کرتے ہوئے گزارے ،
*کیا آپ ہمارا ساتھ دینگے !*
پولیس اور انتظامیہ نے غفلت برتی ہے ،
اور قاتلوں کا ساتھ دے رہی ہے ،
پولیس کی طرف سے SHO , DSP DPO, DIG , IG , انتظامیہ کی طرف سے AC , DC کمشنر سیکریٹری ہیلتھ ، چیف سیکریٹری ، ہیلتھ منسٹر اور خاص طور پر چیف منسٹر صاحب ( CM ) ( جس نے کہ اپنے صوبے کو بے یارو مددگار چھوڑ کر ایک آدمی کو جیل سے چُھڑانے کے لئے 4 کروڑ عوام کو ان بھوکے درندوں کے آگے ڈال دیا ہے ) کو شامل تفتیش کیا جائے اور ان حضرات کو فیلفور استعفی دینا چاہئے ،
ورنہ .............
ڈاکٹر حافظ محمد فاروق گل بیٹنی
صوبائی آرگنائیزر
صوبائی ڈاکٹرز ایسو سی ایشن خیبر پختون خواہ
و
صدر ڈیرہ اسمٰعیل خان
صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ۔
بشکریہ ڈاکٹر فضلِ منان صاحب
صدر
"
Click here to claim your Sponsored Listing.