Rizwan Fabrics

Rizwan Fabrics

Share

Wearing Good clothes create your self effecient

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی ملکیت یعنی اپنے ملک کی سیر کو نکلا۔...؟ 14/04/2024

https://urdustoriesabc.blogspot.com/2024/04/blog-post.html

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی ملکیت یعنی اپنے ملک کی سیر کو نکلا۔...؟ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی ملکیت یعنی اپنے ملک کی سیر کو نکلا۔ وہ اپنی رعایا کی خبر لینا چاہتا تھا۔ دورے کے دوران اس کی نظر ایک ...

14/04/2024

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی ملکیت یعنی اپنے ملک کی سیر کو نکلا۔ وہ اپنی رعایا کی خبر لینا چاہتا تھا۔ دورے کے دوران اس کی نظر ایک ملنگ پر پڑی جو راستے میں بیٹھا تھا اور ایک دری اور ایک پرچ کے علاوہ اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ بادشاہ نے مزید نوٹ کیا کہ اس پرچ میں بھی صرف چند چھولے پڑے تھے پر وہ ملنگ مسکرا رہا تھا۔
ملنگ کی مسکراہٹ میں اتنا شدیدا طمینان اور سکون ظاہر ہو رہا تھا کہ بادشاہ حیران رہ گیا خیر وہ آگے بڑھ گیا۔ دوسرے دن پھر بادشاہ کی نظر اس پر پڑی اور وہ اسی طرح خوش باش۔ بادشاہ کی پالکی پھر بھی آگے بڑھ گئی۔ تیسرے دن جب بادشاہ کا گزر اس مقام سے ہوا اور پھر اس غریب کو اتنا مطمئن دیکھا تو اب بادشاہ اس حد تک تجسس کا شکار ہوا کہ پالکی رکوا دی اور نیچے اتر کر اس درویش کے پاس چلا گیا۔ اسے بتایا کہ ملک کا بادشاہ ہوں اور تین دن سے تیری مسکراہٹ اور مفلسی کا یکجا ہونا مجھے ہرگز ہضم نہیں ہو رہا۔ آخر ایسا کیا ہے تمہارے پاس جو تمہیں خوشی دیتا ہے؟ میرے پاس پورے ملک میں سب سے زیادہ دولت ہے مگر میں پرسکون نہیں ہوں۔
کیا تمہارے پاس پوشیدہ دولت ہے؟ درویش نے نفی میں سر ہلایا۔ بادشاہ نے پوچھاکہ پھر کیا تمہارا خاندان ہے یا گھر والے جو تم سے نہایت رغبت رکھتے ہیں؟ درویش نے بولا جی نہیں میں بالکل تنے تنہا ہوں، میرا کوئی نہیں۔۔میرے پاس ان چھولوں کے سوا کھانے کو کچھ اور نہیں۔> بادشاہ بہت حیران ہوا اور آخری سوال کیا کہ کیا کہ پھر کیا تمہیں اللہ نے قابل فخر صحت سے نوازہ ہے جو تم خوش رہتے ہو؟ ملنگ بولا ہا ہا ہا! ہرگز نہیں میرے آدھے دانت ٹوٹ کر گر چکے ہیں اور ٹھنڈ سے میری ہڈیاں درد کرتی ہیں۔بادشاہ نے پوچھا کہ او بھائی صاحب پھر کیوں سکون سے بیٹھے ہو؟

ملنگ بولا: اللہ پر یقین رکھو، اس پر توکل کرو۔ اس نے تمہیں جس حال میں، حالات میں اور جس بھی مشکل میں ڈالا وہ اس کا فیصلہ ہے، وہ تمہاری نشونما کے لیے ضروری ہے۔ اس کو پتہ ہے کہ تمہارے اندر کیا کمی کجی ہے جو تمہیں دور کرنے کی ضرورت ہے، وہ تمہیں اس آگ میں ڈال کر سونا بنائے گا۔ صبر، شکر، اللہ کی رضا میں رضا مندی۔۔ایسے سوچو اور اپنے حال کو ایسے ہی تسلیم کرو تو تمہیں کسی شے کی کمی محسوس نہیں ہوگی۔ رزق اس نے دینا ہے وہ دے گا!۔۔مجھے روز کے چھولے مل جاتے ہیں۔
اردو زبان میں کہانیاں حکایات اور دلچسپ تاریخی واقعات پڑھنے کے لئے ہمارا پیج لائیک کریں اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

11/12/2023

سکردو کے ایک جج صاحب واقعہ سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ میری عدالت میں ایک نوجوان وکیل تھا اس نے پی ایچ ڈی فزکس کر رکھی تھی اور وکالت کے پیشے سے منسلک تھا انتہائی زیرک تھا بات انتہائی مدلل کرتا تھا اس کی خوبی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا میری وہاں پوسٹنگ کے دوران میں نے اسے کبھی کوئی کیس ہارتے ہوئے نہیں دیکھا میں اس کی سچائی کا اتنا گرویدہ تھا کہ بعض دفعہ اس کی بات پر بغیر کسی دلیل کے میں فیصلہ سنا دیتا تھا اور میرا فیصلہ ٹھیک ہوتا تھا وہاں تعنیات ہر جج ہی ان کا گرویدہ تھا پوری عدالت میں سب ہی اس کا احترام کرتے تھے بعض مواقعوں پر ججز صاحبان اس سے کیس ڈسکس کر کے فیصلہ کرتے تھے میں اتنا اس کے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجو اس فیلڈ میں آنے اور پھر جج بن جانے کی اہلیت ہونے کے باوجود وکیل رہنے کی وجہ جاننا چاہتا تھا بہت کوشش کے بعد اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے یہ سوال اس سے پوچھ ہی لیا...اس نے بتایا کہ میرے نانا انتہائی غریب تھے ان کی اولاد میں بس دو ہی بیٹیاں تھیں انہوں نے بھٹے پر محنت مزدوری کر کے اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوائی ان کی پرورش کی اور پھر ان کی شادیاں کیں میری والدہ کی قسمت اچھی تھی وہ گورنمنٹ سکول میں ٹیچر لگ گئیں جب کہ میری خالہ کو سرکاری ملازمت نہ مل سکی میرے نانا نے بھٹہ سے قرض لے کر اپنی بیٹیوں کی شادی کی میری والدہ نے گھریلو اخراجات سے بچت کر کے میرے نانا کی قرض اتارنے میں مدد کی مگر پھر میرے والد صاحب نے ان کو منع کر دیا تو میرے نانا خود ہی قرض کے عوض مزدوری کرنے لگے جب کہ دوسری طرف میری خالہ کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تو انہوں نے میری خالہ کو تنگ کرنا شروع کر دیا کئی بار مار پیٹ کر کے میری خالہ کو گھر سے نکالا گیا پھر گاؤں والوں کی مداخلت سے ان کو راضی کر کے بھیجا گیا اور تیسرے مہینے پھر وہ سسرال والوں کے ہاتھوں مار کھا کر والد کی دہلیز پر آ بیٹھیں یہاں تک کہ أخری بار جب ان کے سسرال والے ان کو لے کر گئیے تو ان کے شوہر نے دوسری شادی کر لی اور میرے خالہ کو اس شرط پر ساتھ رکھنے کی ہامی بھر لی کہ گھر کے سارے اخراجات میرے نانا اٹھائیں گے میرے نانا بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر مزید مقروض ہوتے گئیے اور پھر سردیوں کی ایک دھند میں لپٹی ہوئی صبح کو جب وہ سائیکل پر جا رہے تھے تو گنے سے بھرے ٹرالے کے نیچے أ گئیے اور اس دنیا سے کوچ کر گئیے جب میرے نانا فوت ہوئے تو تب بھی مقروض تھے....میری والدہ نے میرے والد سے چوری اپنا زیور بیچ کر میرے نانا کے قرض ادا کئیے ان کی تجہیزو تکقین کا انتظام کیا اس معاملے میں میرے دادھیال والوں نے میری والدہ سے کوئی تعاون نہ کیا یہاں تک کہ میرے والد نے بھی نہیں
نانا کی وفات کے بعد میری خالہ کے سسرال والوں نے میری خالہ کو مجبور کرنا شروع کر دیا کہ وہ میری والدہ سے گھر کے اخراجات کا مطالبہ کرے میری خالہ نے انکار کر دیا تو ان کو طلاق ہو گئی مگر نہ تو ان کو ان کا سامان واپس کیا گیا اور نہ ہی زیور بلکہ ان کا حق مہر بھی نہ دیا گیا
میری واالدہ اور خالہ کے پاس آخری سہارا قانون کا تھا اور قانون طاقتور کی باندی ھے میری والدہ اور خالہ نے ہائی کورٹ تک کیس لڑا مگر اپنا حق نہ لے سکیں اور پھر خالہ ہائی کورٹ میں کیس سنوائی کی پیشی کے بعد واپس آئیں اور خود سوزی کر لی ان کے کی تجہیزو تکفین بھی میری والدہ کے ذمہ تھی.میری والدہ نے یہ کام بھی بخوبی کیا مگر بہن کی موت کے بعد ان کا چہرہ بجھ گیا یہاں تک کہ میری کامیابی پر میری والدہ خوش نہ ہوتیں تو یہاں تک کہ جب میں نے پی ایچ ڈی کی تو میرے دور پار کے سارے رشتہ دار خوش ہوئے مگر میری ماں کے چہرے پر پہلے جیسی خوشی نہیں تھی.میں نے اس رات مصلے پر بیٹھی دعا مانگتی اپنی ماں کو اپنے سینے سے لگا لیا اور پوچھا کہ آپ کی اداسی کی وجہ کیا ہے ؟
میری والدہ نے مصلے کو تہہ کیا اور کہا کہ میں چاہتی ہوں تم وکیل بنو
زندگی میں پہلی بار میری والدہ نے کسی خواہش کا اظہار کیا تھا میں نے وجہ پوچھی تو میری والدہ نے الٹا سوال داغ دیا تھا کہ أپ کو پتہ ہے آپ کی خالہ نے خودکشی کیوں کی تھی میں نے کہا نہیں تو میری والدہ نے جواب دیا کہ تمہاری خالہ کے پاس وکیل کی فیس کے پیسے نہیں تھے تو وکیل نے جسم کا تقاضا کیا تھا
میری خالہ نے اس دن گھر آ کر خود کشی کر لی تھی اس دن میرے دل میں خواہش آئی تھی کہ میں اپنے بیٹے کو وکیل بناؤں گی ایسا وکیل جو پیسوں کے عوض جسم کا مطالبہ نہیں کرے گا ایسا وکیل جو مظلوم کو انصاف چھین کر لے دے گا مگر میں کبھی تمہارے والد اور تمہارے ڈر سے اس خواہش کا اظہار نہیں کر سکی میری والدہ نے بات مکمل کر کے رونے لگی تو میں نے ان کے قدم چومے اور وعدہ کیا کہ میں ایسا ہی وکیل بنوں گا اور پھر وکالت میں داخلہ لے لیا میرے اس فیصلے سے تمام فیملی میمبر اور دوست احباب حیران تھے مگر میری والدہ بہت خوش تھیں میں جب تک جاگ کر پڑھتا رہتا تھا میری والدہ میرے ساتھ جاگ کر أیت الکرسی پڑھ کر مجھ پر پھونکتی رہتی تھی میں نے وکالت میں بھی گولڈ میڈل لیا اور اپنی ماں کا خواب پورا کر دیا مگر افسوس کہ میری والدہ اس خواب کی تعبیر نہ دیکھ سکیں۔۔۔۔
میں وکیل بننے کے بعد ہمیشہ سچ کے لئیے لڑا میں نے کبھی کسی ظالم کو سپورٹ نہیں کیا میں ہر کامیابی پر اپنی والدہ کی قبر پر جاتا ہوں مگر ایک عرصہ تک میری والدہ مجھے خواب میں نہیں ملیں چند ماہ پہلے میں نے ایک یتیم لڑکی کا کیس لڑا نہ صرف اس کا سامان اور حق مہر لے کر دیا بلکہ اس کے بچوں کا ماہانہ خرچ بھی لے کر دیا اس دن جب والدہ صاحبہ کی قبر پر گیا تو رات کو میری والدہ خواب میں مجھے ملیں اسی مصلے سے اٹھ کر مجھے سینے سے لگایا اور مجھ پر کچھ پڑھ کر پھونکا اس دن مجھے لگا کہ میں نے زندگی کا مقصد حاصل کر لیا ہے۔۔۔۔!!
اہلیت ہوتے ہوئے بھی جج نہ بننے کی وجہ یہ ہے کہ بطور جج مجھ پر پریشر آ سکتا ہے مگر بطور وکیل کوئی مجھے مجبور نہیں کر سکتا میں حلال طریقہ رزق سے اتنا کما لیتا ہوں کہ گزارا ہو جاتا ہے بس میں اتنے میں ہی خوش و مطمئن ہوں
جج صاحب بتاتے ہیں کہ پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ عزت عہدے میں نہیں اعمال میں ہوتی ہے.

11/12/2023

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ جو اپنے وقت کے ایک ولی کامل گذرے ہیں ایک کنیز کا حال لکھتے ہیں کہ ایک رات وہ بہت بے چین تھے اللہ والے عموماً راتیں اپنے رب کی یاد میں گذارتے اور سکون پاتے ہیں اور یہ عبادت صرف مصلے اور جائے نماز پر ہی نہیں ہوتی یادِ الٰہی تو ہر رنگ میں ہوتی ہے رات کو گھر سے نکلے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر نظر کی پھولوں پودوں کا خیال کیا سبزہ زاروں کا تصور ابھرا صحرا کی طرف نکلے مگر کہیں چین نہ تھا قریب ہی ایک شفا خانہ تھا سوچا چلو مریضوں کو دیکھو شاید سکونِ قلب حاصل ہو جائے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک نہایت خوبصورت اور حسین و جمیل لڑکی بہترین کپڑے پہنے اور زر و جواہر سے لدی پھندی ہاتھوں میں ہتھکڑیاں گلے میں طوق اور پیروں میں بیڑیاں ڈالے آہ و زاری میں مصروف و مشغول ہے حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ یہ دیکھ کر بھونچکے رہ گئے کہ کیا معاملہ ہے؟ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے شفا خانے کے داروغہ سے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے ایک امیر کبیر سوداگر کا نام لیا کہ یہ اس کی کنیز ہے اور کچھ دنوں سے اس پر دورے پڑتے ہیں اس لیے اس کا مالک یہاں علاج کے لیے چھوڑ گیا ہے جس وقت حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ اور داروغہ بات چیت کر رہے تھے تو وہ حسین و جمیل لڑکی ہوش میں آ گئی اور پُر درد آواز میں شعر پڑھنے لگی خوبصورت اور دل کش آواز اور اس کے ساتھ رقّت کرب اور درد اشعار تھے کہ آگ کے شعلے سننے والوں کا دل بھی جلا دیا ان اشعار کا تقریباً مطلب یہ تھا کہ لوگوں مَیں پاگل نہیں ہوں مَیں تو اس کی محبت میں سرشار ہوں اور میرا دل فریاد کناں ہے تم لوگوں نے مجھے ہتھکڑیاں پہنا رکھی ہیں حالانکہ اس کے سوا مَیں نے کوئی گناہ نہیں کیا کہ اپنے محبوب کی محبت میں سرگرم و سرگفتہ ہوں تم جس میں میری بھلائی سمجھ رہے ہو اس میں میرے ساتھ دشمنی کر رہے ہو جس کو تم برائی سمجھتے ہو دراصل وہ تو بھلائی ہے حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب یہ دردناک اور کرب ناک اشعار مَیں نے سنے تو میرا دل دھڑک اٹھا اور بے اختیار آنسو بہنے لگے وہ خوبصورت لڑکی میری طرف متوجہ ہوئی اور بولی اے سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ یہ رونا اس کی صفت پر ہے اگر تم اس کی ذات کو پہچانتے تو کیا ہوتا؟
حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ نے عالمِ حیرت و استعجاب میں اس لڑکی سے پوچھا اے لڑکی تو میرا نام کس طرح جانتی ہے؟ لڑکی نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارا کیا اور کیا جب میں اس سے واقف ہو گئی ہوں تو کسی سے ناواقف نہ رہی حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا تم کس کی محبت میں اپنے آپ کو فنا کر رہی ہو؟ لڑکی نے ایک سرد آہ بھر کر جواب دیا میری محبت صرف اس کے لیے ہے جس نے مجھے اپنی نعمتوں سے آگاہ کیا اور اپنی مہربانیوں سے شکر گزار بنایا جو دلوں میں بستا ہے جو سوال کرنے والوں کو خود جواب دیتا ہے حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا یہاں تم کو کس نے قید کیا ہے؟ اس لڑکی نے جواب میں کہا حسد کرنے والوں نے لڑکی نے اتنا بولا ایک پُردرد نعرہ مارا اور بے ہوش ہو گئی حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ نے داروغہ سے کہا اسے رہا کر دو دروغہ نے اس لڑکی کی ہتھکڑیاں کھول دیں اور آزاد کر دیا حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ نے لڑکی کو مخاطب کرت ہوئے فرمایا تم آزاد ہو جہاں چاہو چلی جاؤ لڑکی نے جوب دیا مَیں کس طرح جا سکتی ہوں؟
جو میرا محبوب ہے اس نے مجھے اپنے ایک غلام کی ملکیت بنایا ہوا ہے اس کی اجازت کے بغیر مَیں کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جب یہ باتیں ہو رہی تھیں تو اس کنیز لڑکی کا مالک سوداگر بھی شفا خانے میں آ گیا اس نے جب حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا تو بے حد خوش ہوا اور خدمت میں حاضر ہو کر بہت تعظیم و احترام کا اظہار کیا
حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا میرے معاملے میں تم خوامخواہ مبالغے سے کام لے رہے ہو یہ لڑکی مجھ سے زیادہ عزت و احترام کی مستحق ہے تم نے اس کو کیوں پابہ زنجیر کر رکھا ہے؟ مالک بہت شرمندہ ہوا اور کہا مَیں نے اس لڑکی کو اپنا بہت سارا سرمایہ خرچ کر کے خریدا ہے یہ اپنے حُسن کے علاوہ بہترین خوش گلو گلوکارہ اور رقاصہ بھی ہے میرا خیال تھا مَیں اسے فروخت کر کے بہت زیادہ منافع کماؤں گا مَیں نے اس پر بیس ہزار درہم خرچ کیے مگر اب تو مجھے بیس درہم بھی ملنے کی امید نہیں حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ نے سوداگر سے پوچھا اس لڑکی کی یہ حالت کب اور کیسے ہوئی؟ وہ سوداگر بولا مَیں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو پہلے بتایا کہ یہ لڑکی بہت اچھا گاتی ہے تقریباً ایک سال کا عرصہ ہوا ایک دن یہ مستانہ وار عود بجا کر یہ اشعار گا رہی تھی جس کا مطلب ہے کہ اے وہ شخص جس کے سوا میرا کوئی آقا نہیں تو نے مجھے لوگوں میں غلام بنا کر رکھ دیا ہے بس اسی شعر کی تکرار کرتے ہوئے بےخود ہو گئی عود توڑ کر دور پھینک دیا اور رونے لگی ہم نے سمجھا شاید اسے کسی سے عشق ہو گیا ہے مگر یہ بات بھی غلط ثابت ہوئی آخر تنگ آ کر علاج کے لیے شفاخانے لانا پڑا اور اسی کی بہتری اور بھلائی کے لیے ہم نے اسے پابہ زنجیر کیا ہے حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اچھا تم اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو مَیں اس کی قیمت کے ساتھ منافع بھی دوں گا‘ اس شخص کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا بھلا ایک درویش کہاں سے اتنی رقم دے سکتا ہے؟ حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ نے اس سوداگر کی حیرانگی بھانپ لی اور فرمایا تم میری زبان پر اعتبار کرو یہ فرما کر حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ شفاخانے سے واپس چلے آئے یہ حقیقت تھی کہ درویش کے پاس مال کہاں؟ ایک درہم بھی نہ تھا حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ نے تمام رات گریہ وزاری اور مناجات و دعا میں بسر کی صبح دم ابھی روشنی بھی نہیں پھوٹی تھی کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا آپ رحمتہ اللہ علیہ نے دروازہ کھولا تو ایک شخص کھڑا تھا پوچھنے پر بتایا کہ میرا نام احمد مثنیٰ ہے رات مجھے غیب سے آواز آئی کہ پانچ تھیلیاں سری سقطی کو پہنچا دو چناں چہ مَیں پَو پھٹتے ہی رقم لے کر حاضر ہو گیا ہوں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے تھیلیاں لے لیں اور سجدۂ شکر بجا لائے اور اسی وقت تھیلیاں لے کر شفاخانے پہنچے داروغہ نے دیکھ کر کہا مرحبا مَیں نے غیب سے آواز سنی جس سے اس لونڈی کا حال ظاہر ہوا واقعی وہ صاحبِ عظمت ہے اسی وقت کنیز لڑکی کا مالک وہ سوداگر بھی آ گیا اس کی آنکھوں سے آنسو رواں دواں تھے حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تم رنجیدہ نہ ہو مَیں پوری قیمت کے ساتھ منافع بھی لے کر آیا ہوں مگر اس نے قیمت لینے سے انکار کر دیا حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ نے مزید رقم بڑھا دی مگر اس سوداگر نے کہا ساری دنیا اس کی قیمت کے بدلے میں مجھے ملے تو مَیں اسے بھی قبول نہ کروں گا مَیں ہاتفِ غیبی سے اس کی عظمت اس کی رفعت اس کا مقام سن چکا ہوں مَیں خالص اللہ کے نام پر اسے آزاد کرتا ہوں یہ منظر دیکھ کر احمد مثنیٰ جو حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ ہی شفاخانے آئے تھے اپنا مال راہِ حق میں لٹا کر فقیر ہو گئے اس لڑکی کا مالک وہ سوداگر بھی راہِ سلوک و معرفت کا راہی بن گیا مختصر یہ کہ بہ ظاہر ایک رقاصہ جسے اللہ عزوجل کی سچی محبت مل گئی تھی اس خدا کی دیوانی نے کئی دنیا داروں کو واصل حق کر دیا
حکایاتِ اولیاء

plz.share and follow Abdul write's

10/12/2023

✍*حکمتِ الٰہی ۔ ۔ ۔ ۔*

دودھ سے بھری کیتلی اس کی بیٹی کے ہاتھوں سے اچانک چھوٹ کر نیچے گری، سارے کا سارا دودھ زمین پر پھیل گیا، وہ خاموشی سے ایک طرف بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا ایک لمحے کے لئے اس کے ذہن میں شکوہ پیدا ہوا۔
"اے مالک اس طرح کے چھوٹے بڑے نقصان ہم غریبوں کا مقدّر ہی کیوں ہوتے ہیں؟"
اگرچہ ایک ہی لمحے میں پورے دن کی کمائی کے برابر نقصان ہو چکا تھا تاہم وہ زبان سے کچھ نہ بولا۔
اچانک اس نے عجیب منظر دیکھا-
ایک بلی کہیں سے نمودار ہوئی اور اس نے زمین پر پھیلا دودھ چاٹنا شروع کر دیا، جب وہ جانے کے لئے مڑی، تو ایک دم لڑکھڑائی اور زمین پر گر کر لوٹ پوٹ ہونے لگی۔ وہ بھاگ کر پہنچا لیکن اس کے پہنچنے سے پہلے ہی بلی کی موت ہو گئی تھی، اسے صدمہ ہوا۔
یقیناً انجانے میں دودھ میں کوئی مہلک چیز شامل ہو گئی تھی- اچانک اسے خیال آیا کہ اگر یہ دودھ زمین پر نہ گرتا تو کیا ہوتا؟
فورًا رب کی بڑائی کا اسے احساس ہوا

*"یا رب! تیرے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے، ہم کتنے نادان ہیں کہ چھوٹے سے چھوٹے نقصان پر تقدیر کا گلہ کرنے لگتے ہیں۔

25/10/2023

تو وعدے کے مطابق جیسے میں نے لکھا تھا کہ میں شادی کے بارے میں لکھوں گا تھوڑی دیر کے لیے معذرت تو بات شروع کرتے ہیں مہندی کے فنکشن سے ملک پاکستان کی روایات کے مطابق مہندی کے ٹائم میں ہمیشہ سے ایک سے دو گھنٹے کی تاخیر کی جاتی ہے دراصل شادی ایک بوجھ ہے یہ بات ہماری دلہے میاں سے پوچھ لیں جو مہندی کے روز بڑا ہی اداس پھر رہا تھا اس کے اوپر ایک بہت بڑی ٹینشن لاحق تھی پہلی یہ کہ کھانا بنانے کے لیے نائی کب ائے گا اور دوسری یہ کہ کھانا کھائے بغیر کوئی چلا نہ جائے جیسے تیسے مہندی کا فنکشن شروع ہو جاتا ہے اور خواتین وہ رسم و رواج کو پورا کرتی ہیں جو قران و حدیث کی روشنی میں اج تک نہ ملا دراصل میرے اندازے کے مطابق فضول خرچی کا دوسرا نام مہندی ہے خیر اس کے بعد مرد حضرات کی مہندی کا وقت شروع ہو جاتا ہے ویسے تو میں اپنے پورے خاندان والوں کو بے وقوف سمجھتا ہوں لیکن اس روز مجھے کچھ ایسے سمجھدار بندے بھی نظر ائے جو وقت سے تھوڑا پہلے ہی ڈھول والے کے پاس چلے گئے اور اس کو تھوڑے سے پیسے دے کر ویلے کروانے کی چاول مارنے لگے اور دوسری طرف ہم وہ بے وقوف لوگ تھے جنہوں نے پانچ سات کاپیاں ویسے ہی اڑا دیں اور وہ سمجھدار لوگ ایک دو ہزار میں ہی اپنا کام بنا کر اگے چلتے بنے اور ان سمجھدار لوگوں میں ایک کیٹگری ان لوگوں کے بھی اتی ہے جو صرف کیمرے کے اگے ہی پیسے اچھالتے ہیں اور ویلے کرواتے ہیں دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں تو اسی کے ساتھ ہی مہندی کا فنکشن تمام ہوتا ہے اور سبھی لوگ اپنی اپنی چارپائیاں ڈھونڈنے میں مصروف ہو جاتے ہیں

17/10/2023

السلام علیکم
میری عادات میں یہ شامل ہے کہ عموما میں عرس وغیرہ کے سٹیٹس لگاتا رہتا ہوں ابھی کل میں ایک عرس پہ گیا وہاں قوالی وغیرہ تھی تو وقت سے تھوڑا پہلے ہی وہاں پہنچ گیا اور کچھ دوست احباب سے ملاقات کی تو گفتگو کے دوران ایک بڑی ہی عجیب بات سننے کو ملی تمام نے مجھ سے سوال پوچھا کہ کیا میاں صاحب اپ ان کے مرید ہیں تو حسب معمول میں نے بھی نہ میں سر ہلایا ۔تو پوچھتے پھر یہاں کیسے تو میں نے بتایا کہ ایک دوست کی حیثیت سے مجھے یہاں دعوت دی گئی تھی تو اس کے بعد انہوں نے بڑی ہی عجیب باتیں کی جسے میں بیان نہیں کرنا چاہتا
دراصل ذات رسول کی عزت کرنا بھی میرا ایک مشغلہ ہے اور میرا اس بات پہ بھی ایمان ہے کہ بندے کو پار مرشد ہی لگاتا ہے لیکن میں نے اپنی زندگی کا ایک اصول بنایا ہے کہ میں مرید ان کا ہی ہوں گا جن کی ذات کا میں پہلے سے تو انجان ہوں گا بعد میں جب وہ میرے ساتھ بھلائی کریں گے یا ان کی کوئی اچھی عادت مجھے پسند ائے گی اور بعد میں مجھے پتہ لگے گا کہ یہ کوئی سعید اور پیر وغیرہ ہے تو پھر ہی میں ان کا مرید ہوں گا کیونکہ مجھے اللہ تعالی کی ذات پہ یقین ہے کہ بندہ جیسا سوچتا ہے اللہ تعالی کچھ ویسا ہی اس کی قسمت میں بھی لکھ دیتے ہے ابھی میں امید کرتا ہوں تمام کو جواب مل گیا ہوگا جو مجھ سے یہ دریافت کرنا چاہتے تھے کہ تمہارا مرشد کون ہے
والسلام

07/10/2023

عرب کی 🐫 اونٹنی
قبیلہ عرب کی ایک لڑکی ایک لڑکے پر عاشق ھو گئ مجاز کا بھوت دونوں کہ سر پر چڑھ کر ناچنے لگا مختصر یہ کہ دونوں نے بھاگ کر شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا لڑکی نے کہا میرے پاس ایک تیز رفتار اونٹنی ھے ھم رات کو ندی پار کر کہ دوسرے شہر روانہ ھو جائیں گے لڑکے نے بھی ھاں کر کہ رضا مندی کا اظہار کیا رات کے پچھلے پہر وقت مقررہ پر دونوں ندی کنارے اکٹھے ھوۓ لڑکی بولی میں 🐫 اونٹنی پر سوار ھوتی ھوں تم اسے پیچھے سے ھانکتے ھانکتے ندی پار کرو پھر اوپر بیٹھ جانا ندی پار کر کے لڑکے نے کہا مگر ایسا کیوں میں بھی تمھارے ساتھ ھی بیٹھ جاتا ھوں ھانکنے کی کیا ضرورت ھے خود بخود چل تو رھی ھے
لڑکی نے کہا اسکا باپ بھی ھمارا پالتو 🐫 اونٹ تھا اسکی عادت تھی کہ وہ بیچ ندی میں جا کر بیٹھ جاتا پانی دیکھ کر مست ھو جاتا اور مارنے پیٹنے پر بھی ڈھیٹ بنا رھتا
یہ اونٹنی بھی پانی میں جا کر بیٹھ جاتی ھے عادت ھے اسکی بھی تو اس لۓ تم سے کہہ رھی ھوں کہ اسکو پیچھے سے ھانکتے جانا پھر نہیں بیٹھے گی اور ھمارا وقت بچ جاۓ گا ھم صبح ھونے سے پہلے شہر سے دور نکل جائیں گے
لڑکے نے کچھ دیر لڑکی کہ چہرے پر نظریں گاڑے رکھیں اور پھر ٹھنڈا لمبا سانسوسلم
جیسے کوئی پختہ ارادہ کر چکا ھو اور بولا ھم بھاگ کر شادی نہیں کریں گے مقدر ھوا تو نکاح ھو جاے گا نہیں تو جو رب کی رضا تم واپس اپنے گھر چلی جاؤ لڑکی نے کہا مگر کیوں اچانک کیا ھو گیا تمھیں
اس پر لڑکے نے کہا اس اونٹنی کے باپ کی خصلت اس میں منتقل ھو گئ تو کیا میری خصلتیں میری بیٹی میں اور آنے والی نسل میں منتقل نہیں ھوں گی
آج میں تمھارے ساتھ بھاگ رھا ھوں کل میری بیٹی کسی اور کیساتھ بھاگ جاۓ گی
یہ کہہ کر لڑکا واپس پلٹ گیا
کہانی لکھنے کا مقصد عزیز دوستو فقط اتنا ھے
دنیا مکافات عمل ھے,.....
اردو زبان میں کہانیاں حکایات اور دلچسپ تحریریں پڑھنے کے لئے ہمارے پیج کو لائیک کر لیں اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں شکریہ

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Faisalabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Faisalabad