Sada-e-Himalayan
The Echo of Truth from the Peaks. Representing the people of Gilgit-Baltistan with courage and integrity. #SadaEHimalayan
16/05/2026
امیر اہلِ سنّت و الجماعت مولانا قاضی نثار احمد کا پرنس رحیم الحسینی کی تشریف آوری کے حوالے سے ایک نہایت اہم پیغام-
15/05/2026
افسوسناک خبر: یاسین نوح میں شارٹ سرکٹ سے مکان میں آگ لگ گئی-
آج جمعہ کے مبارک دن، یاسین نوح کے رہائشی اور ایک محنت کش انسان، جلال الدین کے گھر میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے اچانک آگ بھڑک اُٹھی
آگ اس قدر شدید تھی کہ اس کے نتیجے میں گھر کے دو کمرے مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گئے۔ تاہم، اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تمام اہل خانہ محفوظ رہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جلال الدین صاحب اور ان کے اہلخانہ کو اس مشکل گھڑی میں صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ان کے نقصان کا بہترین نعم البدل عطا کرے۔ آمین۔
اور آپ تمام دوستوں سے بھی گزارش ہے کہ جلال الدین صاحب کے لیے خصوصی دعا کریں کہ اللہ ان کی پریشانی دور فرمائے۔ اگر ممکن ہو تو مقامی سطح پر ان کی مدد کے لیے بھی آگے بڑھیں۔
05/05/2026
شعائرِ اسلام کا تقدس اور قانونی کارروائی کا مطالبہ — 'رحمۃ للعالمین' صرف نبی کریم ﷺ کی ذات ہے!
سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایک ایسی پوسٹ نظر سے گزری جس میں جہالت اور حد سے بڑھی ہوئی عقیدت میں ایک عام انسان کے لیے وہ مقدس لقب استعمال کیا گیا جو کائنات کے خالق نے صرف اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے لیے مخصوص فرمایا ہے۔
"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ"** (اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا)۔
کچھ باتیں جو ہر مسلمان کو سمجھنے کی ضرورت ہیں:
•• "رحمۃ للعالمین" کوئی عام اعزاز نہیں، یہ وہ منفرد مقام ہے جو نہ کسی امام، نہ کسی ولی اور نہ ہی کسی پیشوا کو دیا جا سکتا ہے۔ یہ مقام صرف اس ہستی کا ہے جس پر نبوت ختم ہوئی۔
•• کسی بھی شخصیت کی محبت میں اتنا آگے بڑھ جانا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مقرر کردہ حدود کو پار کر لیا جائے، یہ محبت نہیں بلکہ "ذہنی پستی" اور "گمراہی" ہے۔ ایسی حرکات سے نہ صرف عقیدہ خراب ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں فتنہ اور انتشار پھیلتا ہے۔
•• جو لوگ ایسی جاہلانہ پوسٹس کرتے ہیں، وہ اپنے ہی رہنماؤں اور کمیونٹی کے لیے جگ ہنسائی اور نفرت کا باعث بنتے ہیں۔ ایسی لغو باتیں کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کر رہے ہیں۔
•• ایک سچے مسلمان کے لیے ناموسِ رسالت ﷺ اور آپ ﷺ کے مخصوص مقامات کا تحفظ ہر چیز سے مقدم ہے۔ ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اپنی سستی شہرت یا اندھی عقیدت کے لیے اسلام کی بنیادی اصطلاحات کا حلیہ بگاڑے۔
ہمارا پیغام واضح ہے:
عقیدت آپ کا نجی معاملہ ہو سکتا ہے، لیکن اسلام کی بنیادی اصطلاحات اور نبی کریم ﷺ کی شان میں کسی قسم کی مداخلت یا تجاوز کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسی حرکات کرنے والے افراد کو فوری طور پر توبہ کرنی چاہیے اور انتظامیہ کو چاہیے کہ ایسے فتنہ انگیز بیانات پر نظر رکھے جو علاقے کے امن و امان کو تباہ کر سکتے ہیں۔
28/04/2026
طاؤس چشمہ پہاڑ پر جاری تعمیراتی کام — عوامی املاک کا تحفظ اور حقائق جاننے کا حق
پچھلے کئی ہفتوں سے 'طاؤس چشمہ' کے مقام پر پہاڑ کی چوٹی کی طرف ایک نئی سڑک نکالنے کا کام جاری ہے اور بھاری مشینری مسلسل کام کر رہی ہے۔ یہ سڑک اب پہاڑ کے کافی اوپری حصے تک پہنچ چکی ہے۔
یہاں یہ بات انتہائی قابلِ غور ہے کہ اس پہاڑ کے بالکل نیچے صرف ایک بستی یا دیدار گاہ ہی نہیں، بلکہ ایک بہت بڑی مارکیٹ، کالجز، سکولز، ہسپتال اور نادرا آفس سمیت دیگر اہم عوامی اور سرکاری املاک موجود ہیں۔
چونکہ اس تعمیراتی کام کو شروع ہوئے کئی ہفتے گزر چکے ہیں، لیکن تاحال متعلقہ منتظمین کی جانب سے اس پراجیکٹ کے مقاصد کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لینڈ سلائیڈنگ روکنے کا کوئی منصوبہ ہے، لیکن مستند معلومات نہ ہونے کی وجہ سے عوام کے ذہنوں میں ہزاروں سوالات اور خدشات جنم لے رہے ہیں کہ آخر اتنی بلندی پر کیا بنایا جا رہا ہے جس سے نیچے موجود اربوں روپے کی املاک اور انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ہمارا علاقہ سنی، شیعہ اور اسماعیلی کمیونٹی کے باہمی اتحاد، رواداری اور بھائی چارے کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ چونکہ یہ پراجیکٹ مبینہ طور پر اسماعیلی کمیونٹی کے زیرِ انتظام ہے، اس لیے ہم انتہائی ذمہ داری اور احترام کے ساتھ پراجیکٹ کے منتظمین اور متعلقہ حکام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے ایک تفصیلی بریفنگ یا آفیشل بیان جاری کریں۔
جب معلومات چھپائی جاتی ہیں یا تاخیر کا شکار ہوتی ہیں، تو معاشرے میں بے چینی اور غلط فہمیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ واقعی عوامی فلاح اور لینڈ سلائیڈنگ سے بچاؤ کے لیے ہے، تو عوام کو اعتماد میں لینے سے نہ صرف ان کی پریشانی دور ہوگی بلکہ تمام کمیونٹیز کی جانب سے اس پراجیکٹ کو بھرپور سپورٹ بھی ملے گی۔
تعمیر و ترقی سب کے لیے اہم ہے، لیکن عوامی تحفظ اور باہمی اعتماد اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
Disclaimer
Please note that this image is a representation generated based on your description for illustrative and documentary purposes. While it includes the key elements mentioned, such as the construction on the mountain and the public infrastructure below, it is not a direct photograph of the actual "Taus Chashma" location in Gilgit-Baltistan. Its purpose is to visually support your post by highlighting the spatial relationship and the public safety concerns described.
17/03/2026
علامہ جواد نقوی کا بیانیہ — علمی بصیرت یا نظریاتی غلامی؟
ہم اکثر "ذہنی غلامی" کی بات کرتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ سب سے خطرناک غلامی وہ ہے جو عقیدت اور مذہب کے لبادے میں بیچی جائے۔ حالیہ دنوں میں علامہ جواد نقوی کے بیانات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب عقیدت وطن کی محبت پر غالب آ جائے تو انسان اپنی ہی جڑوں کو کاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
"مذہبی لبادہ اوڑھ کر اپنے ہی ملک کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا اور دشمن کے بیانیے کو تقویت دینا سب سے بڑی 'ذہنی غلامی' ہے۔ عالم وہ ہوتا ہے جو قوم کو جوڑے، نہ کہ جواد نقوی کی طرح بیرونی ایجنڈے پر اپنے ہی ملک کو نیچا دکھائے۔"
• وطن دشمنی یا نظام پر تنقید؟ علامہ جواد نقوی کا تسلسل کے ساتھ پاکستان کے دفاعی اداروں پر تبرہ کرنا اور ریاست کو "کرائے کا سپاہی" کہنا محض تنقید نہیں بلکہ بغاوت کی ترغیب ہے۔ جو شخص اپنی مٹی کا دفاع کرنے کے بجائے حملہ آور کے بیانیے کو "حق" ثابت کرے، اس کی نیت پر سوال اٹھانا ہر محبِ وطن کا حق ہے۔
محراب و منبر کا تقدس اس میں ہے کہ وہ امت کو جوڑے۔ لیکن جب کوئی عالم کسی دوسرے ملک (ایران) کے سیاسی نظام کی وکالت میں اپنے ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگا دے، تو وہ عالم نہیں بلکہ ایک سیاسی مہرہ بن جاتا ہے۔
جواد نقوی صاحب نوجوانوں کو "حریت" کا درس تو دیتے ہیں، لیکن عملی طور پر انہیں اپنے ہی ملک اور پرچم کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں۔ یہ وہی "ذہنی غلامی" ہے جہاں آپ کو اپنے ملک کی فتح میں شرمندگی اور دوسرے ملک کی مداخلت میں فخر محسوس ہونے لگتا ہے۔
سیاسی پالیسیوں سے اختلاف کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن ریاستِ پاکستان کی توہین اور دشمن کے ایجنڈے کی تشہیر کسی صورت قبول نہیں۔ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں، مگر پاکستان کی بقا مقدم ہے۔
خدارا! اندھی عقیدت کے بتوں کو توڑیں اور پہچانیں کہ کون آپ کو شعور دے رہا ہے اور کون آپ کو اپنے ہی گھر کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
08/03/2026
شاہ لطیف ٹاؤن شرپسندی — بے جان پینا فلیکس سے دشمنی یا بیمار ذہنیت کی عکاسی؟
رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں، جہاں ہر مسلمان عبادت اور ایثار کا درس لیتا ہے، نیشنل ہائی وے شاہ لطیف ٹاؤن کے مقام پر "عشرۂ ماںؓ بیٹاؓ" کے پینا فلیکس کی بے حرمتی کا واقعہ انتہائی دلخراش ہے۔ شرپسند عناصر نے نہ صرف ان فلیکسز کو پھاڑا اور سگریٹ سے جلایا، بلکہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نامِ مبارک کی توہین کر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
ایک لمحہ فکریہ:
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان "بے جان پینا فلیکسز" نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ یہ محض کپڑے یا پلاسٹک کے ٹکڑے نہیں تھے، بلکہ ان پر درج نام ہماری عقیدتوں کے مرکز اور ہماری تاریخ کا اثاثہ ہیں۔
• بے جان چیز پر غصہ کیوں؟ کسی پینا فلیکس کو پھاڑنے یا جلانے سے آپ کسی کی عظمت کو کم نہیں کر سکتے، بلکہ ایسا کر کے آپ صرف اپنی بیمار ذہنیت اور اخلاقی پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔
• نفرت کا نشانہ: ایک ایسی ہستی کا نام جو پوری امت کی ماں ہیں، انہیں نشانہ بنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ شرپسند عناصر معاشرے میں امن نہیں بلکہ صرف "افرا تفری" اور "نفرت" دیکھنا چاہتے ہیں۔
• دین کی تعلیمات کے خلاف: کوئی بھی مذہب یا مسلک ایسی نیچ حرکت کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ کسی خاص گروہ کا کام نہیں بلکہ ان مٹھی بھر لوگوں کا فعل ہے جو چاہتے ہیں کہ ہم ان بے جان چیزوں کی آڑ میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جائیں۔
ہماری آواز:
ہم اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ پینا فلیکس کو جلایا جا سکتا ہے، لیکن دلوں میں موجود محبت اور احترام کے چراغوں کو کوئی نہیں بجھا سکتا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ان مجرموں کا سراغ لگایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
آئیے! جذبات کے بجائے ہوش سے کام لیں اور ان شرپسندوں کو ان کے ناپاک مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیں۔
07/03/2026
استور واقعہ — مجرم کو نشانِ عبرت بنائیں، فرقہ واریت کو نہیں!
استور میں 6 سالہ معصوم بچے کے ساتھ پیش آنے والا درندگی کا واقعہ انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ اس معصوم کلی کے ساتھ ہونے والے ظلم پر آج ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل رنجیدہ ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب متحد ہو کر اس درندے کے لیے ایسی سزا کا مطالبہ کریں جو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن جائے۔
انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم ایک ایسی "ذہنی غلامی" کا شکار ہو چکے ہیں جہاں ہمیں معصوم کے بہتے خون سے زیادہ مجرم کا مسلک عزیز ہوتا ہے۔ جب کوئی سنی، شیعہ یا اسماعیلی فرد ایسا جرم کرتا ہے، تو ہم انصاف مانگنے کے بجائے دوسرے فرقے پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیتے ہیں۔ یاد رکھیے! جب آپ کسی مجرم کو مسلکی رنگ دیتے ہیں، تو آپ نادانستہ طور پر اس درندے کو ایک "تحفظ" فراہم کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ معاشرہ انصاف کے بجائے آپسی جھگڑوں میں الجھ جاتا ہے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ "درندگی کا کوئی دین نہیں ہوتا"۔ جس شخص نے یہ قبیح فعل انجام دیا، وہ خود اپنے فعل کا ذمہ دار ہے، اس کا مسلک نہیں۔ دنیا کا کوئی بھی دین، چاہے وہ اسلام کے مختلف مکاتبِ فکر ہوں یا کوئی اور مذہب، معصوم بچوں پر تشدد یا جنسی زیادتی جیسی غلیظ حرکات کی اجازت تو دور کی بات، ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کسی ایک شخص کے انفرادی گناہ کی بنیاد پر پورے مسلک یا گروہ (اہلِ سنت، شیعہ یا اسماعیلی) کو کٹہرے میں کھڑا کرنا بذاتِ خود ایک ذہنی پستی اور جہالت ہے۔
ہمیں بحیثیتِ انسان اور بحیثیتِ مسلمان اس "تقسیم کرو اور راج کرو" کی پالیسی کو مسترد کرنا ہوگا۔ ہمارا مطالبہ صرف اور صرف "انصاف" ہونا چاہیے۔ ہمیں اس درندے کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف دست و گریبان ہونا چاہیے۔ اگر ہم آج خاموش رہے یا فرقوں میں بٹ گئے، تو کل کسی اور معصوم کی باری ہوگی۔
ہم حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
• اس کیس کی تفتیش کو کسی بھی قسم کے فرقہ وارانہ یا سیاسی دباؤ سے پاک رکھا جائے۔
• مجرم کو نشانِ عبرت بنا کر سرِ عام ایسی سزا دی جائے کہ پھر کوئی درندہ کسی معصوم کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہ کر سکے۔
آئیے! اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہوں اور انصاف کے حصول کے لیے متحد ہو جائیں۔ فرقوں میں بٹ کر ان پر سیاست کرنا بند کریں۔ انسانیت سب سے پہلے ہے۔ اگر آج ہم نے اپنے دماغوں کو اس نفرت کی غلامی سے آزاد نہ کیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
Disclaimer: "Symbolic illustration. Not a photograph of a real event."
07/03/2026
سوشل میڈیا کی جھوٹی خبریں اور ہماری "کاپی پیسٹ" کی بیماری!
آج کل ہم سب کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے اور جانے انجانے میں ہم سب "بریکنگ نیوز رپورٹر" بن چکے ہیں۔ کوئی بھی سنسنی خیز خبر، تصویر یا ویڈیو ہمارے سامنے آتی ہے، تو ہم سچائی جانے بغیر، ایک سیکنڈ لگائے فوراً "کاپی، پیسٹ اور شیئر" کا بٹن دبا دیتے ہیں۔
لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اس اندھی تقلید کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟
ہماری بغیر تصدیق کی گئی ایک چھوٹی سی شیئرنگ یا فارورڈ کیا گیا ایک میسج کتنا بڑا نقصان کر سکتا ہے، اس کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا:
• یہ کسی بے گناہ کی عزت اچھال سکتا ہے۔
• یہ معاشرے میں خوف اور افراتفری پھیلا سکتا ہے۔
• یہ دو لوگوں، برادریوں یا فرقوں کے درمیان نفرت اور فساد کی آگ بھڑکا سکتا ہے۔
ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر چیز سچ نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ اپنے فالوورز بڑھانے، پیسے کمانے یا کسی خاص ایجنڈے کے تحت جان بوجھ کر جھوٹی خبریں (Fake News) پھیلاتے ہیں، اور ہم مفت میں ان کے آلے کے طور پر استعمال ہو رہے ہوتے ہیں۔
ہمارے دین میں بھی واضح ہدایت موجود ہے کہ:
"کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو (بغیر تصدیق کے) آگے بیان کر دے۔"
آئیے آج ایک ذمہ دار انسان بننے کا فیصلہ کریں!
اگلی بار فیس بک، واٹس ایپ یا کسی بھی جگہ کوئی خبر یا پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے صرف دو منٹ رکیں اور خود سے یہ 3 سوال پوچھیں:
1. کیا یہ خبر 100 فیصد سچ اور مستند ہے؟
2. کیا میرے شیئر کرنے سے معاشرے میں کوئی بہتری آئے گی یا صرف سنسنی پھیلے گی؟
3. اگر یہ جھوٹ نکلی تو کیا میں اس کا گناہ اٹھانے کو تیار ہوں؟
اگر جواب 'نہیں' ہے، تو اس سلسلے کو اپنے پاس ہی توڑ دیں۔ انگلیاں چلانے سے پہلے اپنا دماغ چلائیں، کیونکہ سچ کو پھیلانا صدقہ ہے اور جھوٹ کو پھیلانا ایک جرم۔
Disclaimer: "Symbolic illustration. Not a photograph of a real event.
06/03/2026
ان معصوموں کا کیا قصور تھا؟" — بڑوں سے چند چبھتے ہوئے سوالات
پچھلے چند دنوں سے ہر طرف ایک ہی سوال گونج رہا ہے:
"ان پھول جیسے معصوم بچوں اور نوجوانوں کا آخر کیا قصور تھا؟ جن ماؤں کی گود اجڑ گئی، ان کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی؟"
بلاشبہ، کسی بھی معصوم جان کا ضیاع ایک ایسا لرزہ خیز سانحہ ہے جس پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ کسی بھی ماں کا اپنے لختِ جگر کو کھونا وہ کرب ہے جس کا مداوا دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی۔ ظلم چاہے کسی کی بھی طرف سے ہو، ناحق خون بہنے کی مذمت ہر انسان پر فرض ہے۔
لیکن، آج میں آپ سب سے یہ تلخ سوال پوچھنا چاہتا ہوں:
اگر وہ بچے معصوم تھے، تو آپ لوگوں نے انہیں اس پرتشدد اور مشتعل ہجوم کی اگلی صفوں میں کیوں کھڑا کیا؟ کیا یہ آپ سب کی، بحیثیتِ معاشرہ اور بحیثیتِ بڑے، ایک بدترین ناکامی نہیں ہے کہ آپ نے ان معصوموں کو سیاست اور جذباتیت کی اس آگ کا ایندھن بننے دیا؟
خدارا! ان کے ہاتھوں میں پتھر نہیں، قلم دیجیے!
بچوں کے ہاتھ کسی کے دفاتر، گاڑیاں یا املاک تباہ کرنے کے لیے نہیں بنے۔ ان کے ہاتھوں میں صرف "کتاب" جچتی ہے۔ جب آپ لوگ اپنے غصے اور احتجاج کے لیے ان چھوٹے بچوں کو سڑکوں پر لاتے ہیں، تو دراصل آپ خود ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
اگر آپ لوگوں کو واقعی اپنے بچوں سے پیار ہے اور ان ماؤں کے آنسوؤں کا ذرا بھی احترام ہے، تو آج یہ فیصلہ کریں کہ اپنی نسلوں کے ذہنوں میں نفرت اور اشتعال نہیں بھریں گے۔ ان معصوموں کو یہ سکھائیں کہ دنیا میں اپنا حق مانگنے اور ظالم کا مقابلہ کرنے کا سب سے طاقتور اور ناقابلِ شکست ہتھیار 'تعلیم'، 'شعور' اور 'دلیل' ہے۔
لاشیں اٹھانا، جنازے پڑھنا اور عمارتیں جلانا ہمارا مقدر نہیں ہونا چاہیے۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں، اور زندہ قومیں اپنے بچوں کو مرنے کے لیے سڑکوں پر نہیں چھوڑتیں، بلکہ انہیں جینے اور دنیا پر راج کرنے کے لیے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں بھیجتی ہیں۔
اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور ہمارے خطے کو امن کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔
Disclaimer: "Symbolic illustration. Not a photograph of a real event."
Trout fish 🐟 GB
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the business
Telephone
Website
Address
Gilgit
15100