Al munawar traders
we deal in rendom items for beauty, cloths,jewlery, fragrance,shoe,garments,farmal and nopn formal and groom item
17/08/2026
14/08/2026
پہلے مجھے بھی لگتا تھا کہ اگر ایک دکاندار وہی سوٹ 1,500 روپے میں دے رہا ہے اور دوسرا 2,200 روپے میں، تو 1,500 والا ہی فائدہ مند ہے۔
پھر مارکیٹ میں خریداری کرتے کرتے اور اپنے پیسے ضائع کر کے سمجھ آیا کہ کپڑے یا کسی بھی آئٹم کی دکانداری کی قیمت صرف ایک نمبر نہیں ہوتی، اس کے پیچھے پوری کہانی ہوتی ہے۔
آج جب میں بازار میں خریداری کے لیے نکلتا ہوں اور مجھے کوئی ایسا کپڑا یا سوٹ پسند آتا ہے، تو میں فوراً یہ نہیں سوچتا:
“سب سے سستا کہاں سے ملے گا؟”
میں پہلے یہ سوچتا ہوں:
“یہ اتنا سستا دے کیوں رہا ہے؟”
فرض کریں ایک ہی ڈیزائن کا سوٹ میں نے الگ الگ دکانوں پر دیکھا۔
آٹھ دکانوں پر اس کی قیمت 2,000 سے 2,200 روپے کے آس پاس ہے۔
دو دکاندار وہی سوٹ 1,200 روپے میں دے رہے ہیں۔
یہاں زیادہ تر خریدار خوش ہو کر فوراً پیسے نکال لیتے ہیں کہ بچت ہو گئی۔
لیکن میں رک جاتا ہوں!
کیونکہ ممکن ہے 1,200 روپے والے کے ہاں:
کپڑا دیکھنے میں ویسا ہو لیکن ایک دو دھلائی کے بعد بور یا رنگ اتر جائے،
سوٹ کا ناپ اور کپڑے کی گز گزاری کم ہو (بر یا لمبائی چھوٹی ہو)،
سلائی کا کپڑا ہو تو دھاگا اور فنشنگ ہلکی ہو،
پرانا یا کٹا پھٹا ریجیکٹڈ مال (Leftover) چپکایا جا رہا ہو،
یا وہ کپڑا کاٹن/واش اینڈ ویئر بول کر مکس (پالسٹر) بیچ رہا ہو۔
اور یہی وہ جگہ ہے جہاں صحیح خریدار کی اصل سمجھ کام آتی ہے۔
میں صرف ایک سوٹ کا ٹیگ نہیں دیکھتا، میں دکان اور دکاندار کا انداز بھی دیکھتا ہوں۔
وہ دکان پر اور کیا بیچ رہا ہے؟
کیا اس کے پاس کپڑے کی مکمل ورائٹی اور معیار موجود ہے؟
کیا اس کے پاس اسی سوٹ کے الگ الگ رنگ اور ناپ دستیاب ہیں؟
اگر ایک دکاندار کپڑوں کے ساتھ ساتھ برتن، کھلونے، موبائل کے کور اور ہر قسم کا سستا مال ایک ساتھ بیچ رہا ہے، تو میرے ذہن میں فوراً سوال آتا ہے:
“یہ معیاری کپڑا رکھتا ہے یا صرف سستا سیل کا مال بیچ رہا ہے؟”
پھر میں ریٹ کا پورا حساب لگاتا ہوں، جیسے:
1,950 روپے
2,000 روپے
2,100 روپے
2,200 روپے
اور پھر اچانک ایک جگہ قیمت: 1,200 روپے!
اب 1,200 روپے میرے لیے "قسمت کھلنے" کی بات نہیں، بلکہ ایک سوال ہے۔
میں دکاندار سے سیدھا پوچھتا ہوں:
کپڑے کا Stuff کیا ہے؟ مکس تو نہیں؟
کپڑے کا بر اور گَز پورا ہے؟
دھونے کے بعد رنگ یا بور کی گارنٹی ہے؟
ایک بار دھو کر دیکھیں تو کیا کپڑا سکڑ (Shrink) تو نہیں جائے گا؟
اکثر اسی سوال جواب میں دکاندار کی بات سے سچ سامنے آ جاتا ہے۔
لیکن میری نظر میں اس سے بھی زیادہ اہم ایک بات ہے:
دکاندار آپ سے کس طرح بات کرتا ہے؟
اگر میں کہوں: “یہ سوٹ دکھانا۔”
اور آگے سے دکاندار بغیر کچھ پوچھے بولے: “1,500 کا ہے، لینا ہے تو بولو۔”
تو مجھے ایسی جگہ سے خریدنے میں زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی۔
لیکن اگر دکاندار پوچھے:
“آپ نے کس استعمال کے لیے لینا ہے؟ روزمرہ کے لیے یا کسی تقریب کے لیے؟”
“آپ کو ہلکا کپڑا چاہیے یا مضبوط اور پائیدار؟”
“آپ پر کون سا رنگ زیادہ اچھا لگے گا؟”
تو مجھے لگتا ہے کہ سامنے والا صرف مجھ سے پیسے بٹورنے کی کوشش نہیں کر رہا، وہ مجھے صحیح چیز مشورہ دے کر بیچنا چاہتا ہے۔
اور میں کبھی بھی کسی ایک دکان کے ریٹ پر آنکھ بند کر کے بھروسہ نہیں کرتا۔
جب کوئی بڑا سوٹ یا کپڑا لینا ہو تو دو تین دکانوں سے چیک کرتا ہوں۔
ایک سوٹ کا کپڑا ہاتھ میں پکڑ کر دیکھتا ہوں۔
دوسرے کی فنشنگ دیکھتا ہوں۔
تیسرے کا فیبرک محسوس کرتا ہوں۔
پھر سب کو ملا کر دیکھتا ہوں:
کپڑے کا وزن اور مضبوطی
رنگ کی صفائی
کپڑا پہننے میں کتنا آرام دہ ہوگا
اور سب سے اہم: کیا میں یہ کپڑا پہن کر مطمئن رہوں گا یا پہلی دھلائی پر پچھتاؤں گا؟
کیونکہ آج اگر میں 2,000 یا 3,000 روپے کا ایک سوٹ خرید رہا ہوں، تو مقصد پیسے ضائع کرنا نہیں بلکہ صحیح چیز پہننا ہے۔
اس لیے خریدی ہوئی چیز صرف پیسے کا ٹیسٹ نہیں ہوتی، یہ آپ کی اپنی پسند اور سمجھ کا بھی ٹیسٹ ہوتی ہے۔
اور آخر میں، میرا فیصلہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ:
“کون سب سے سستا دے رہا ہے؟”
میں چار چیزیں ایک ساتھ دیکھتا ہوں:
مناسب قیمت + کپڑے کا معیار + دکاندار کا اخلاق + پائیداری
کیونکہ 2,200 روپے کا ایسا سوٹ جو سالہا سال چلے اور بار بار دھونے پر بھی نیا لگے…
1,200 روپے کے ایسے سوٹ سے ہزار گنا بہتر ہے جو ایک بار دھونے کے بعد پہننے کے قابل بھی نہ رہے!
کاشف منظور
کاشف گارمنٹس نوشہرہ ورکاں
المنور والےنوشہرہ ورکاں
03016660612
Category
Website
Address
Gujranwala
52370