Golden Words
subscribe
آخری قسط - من کے محلے میں - شکیل احمد چوہان
ماہم کے اُٹھنے سے پہلے اُسے تیار کرنے والی بیوٹیشن اپنی تین رکنی ٹیم کے ساتھ آچکی تھی۔
انہوں نے ماہم کو پھر سے تیار کیا ۔مزمل کے لیے ۔مزمل بھی گھر واپس آچکا تھا۔
عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد مزمل تیار ہو کر نیچے آیا وہ شلوار قمیض میں ملبوس تھا۔ گلے میں پھولوں کی مالا۔
مزمل سادگی کے باوجود پر وقار نظر آرہا تھا۔
ماہم دُلہن بنی ہوئی لاؤنج کے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔
ممتاز بیگم نے مزمل کو اُس کے پہلو میں بیٹھنے کا حکم دیا۔
دونوں فوٹو گرافر اِسی انتظار میں تیار کھڑے تھے۔ ایک مختصر سا فوٹو سیشن ہوا۔
گھر کے تمام افراد نے اس جوڑے کو تحائف پیش کیے۔
اُس کے بعد ممتاز بیگم نے مزمل کو حکم دیا کہ تم دُلہن کو اپنے کمرے میں لے جاؤ۔
مزمل نے ہاتھ بڑھایا ماہم نے جلدی سے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
(جاری ہے)
مزمل اُسے اپنے بیڈ روم میں لے گیا۔
مزمل کا بیڈ روم دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ہر چیز امپورٹڈ اوپر سے بے شمار پھولوں کی سجاوٹ۔
مزمل نے ماہم کو اپنے بیڈ کے پاس لے جا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ماہم کمرے کو دیکھتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ دوسری طرف سے مزمل اُس کے پہلو میں آن بیٹھا۔
ماہم کے پہلو میں مزمل کے بیٹھنے کی دیر تھی۔ ماہم کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔
مزمل نے ماہم کے جھکے ہوئے مکھڑے کو اُٹھایا اور کہنے لگا :
”میرا نام مزمل بیگ ہے“ ماہم نے سنا تو اُس کے رخسار پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
”میں کل تک ماہم چوہدری تھی۔ آج الحمد اللہ ماہم مزمل ہوں“ ماہم نے اپنے ماضی اور حال کا تعارف کرایا۔ خاموش محبت کا یہ پہلا زبانی تعارف تھا۔
مزمل نے اپنی دُلہن کو ایک خوبصورت ڈائمنڈ کا نیکلس پیش کیا۔
اُن دونوں نے ساری رات باتوں اور شرارتوں میں گزاردی۔
خاموش محبت کو نکاح کی برکت سے قوتِ گویائی میسر آگئی تھی۔ رات بھر وہ اپنی انوکھی محبت کے واقعات کو یاد کرکر کے مہکتے رہے۔رات کے پچھلے پہر غسل کرنے کے بعد فجر کی اذان سے پہلے مزمل اپنی محبت کا ہاتھ تھامے ہوئے اُسے ٹیرس پر لے گیا۔
اُس سرد رات میں نیلے آکاش پرچاند دولہے جیسا لگ رہا تھا اور تارے باراتیوں کی طرح ۔
مزمل نے فلک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا :
”اِس وقت میں معراج کے لیے نکل جایا کرتا تھا“
”بہت کر لیا اکیلے سفر اب میں آپ کی ہمسفر ہوں“ ماہم نے اپنی بھوری آنکھوں سے مزمل کی کالی سیاہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ مزمل نے دیکھا تو اُسے ماہم پر پیار آگیا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں مسحور تھے۔
”آپ بہت خوبصورت ہو“ مزمل نے ماہم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
ماہم نظریں جھکاتے ہوئے شانِ دلربائی سے مسکرائی۔ اُس وقت ماہم کے رخسار ایسے تھے جیسے آفتاب زعفران کے کھیت میں سے طلوع ہو رہا ہو۔
” ایک بات کہوں…“ ماہم نے جھکی نظروں کے ساتھ ہی پوچھا تھا۔
” کہو…“ مزمل نے الفت سے جواب دیا۔
”تھوڑی پرسنل ہے…“ ماہم نے میٹھی آواز میں کہا۔
”میاں بیوی کا تعلق بھی تو پرسنل ہی ہوتا ہے“
”آپ اپنے والدین کو معاف کردیں۔
“ مزمل نے سنجیدگی سے ماہم کو دیکھا۔ ماہم نے سنجیدگی کی آگ پر اپنی مسکراہٹ کا ٹھنڈا پانی ڈالا۔ ماہم نے مزمل کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا :
”پلیز میری خاطر…میرا ماننا ہے سب سے بڑے عاشق تو والدین ہی ہوتے ہیں۔ وہ عاشق ہی کیا جو غلطی نہ کرے اُن سے بھی غلطی ہوگئی تھی۔“
”یہ سب کچھ آپ کو کِس نے بتایا…؟“ مزمل نے بے تاثر لہجے میں پوچھا ، ماہم کے چہرے کو پڑھتے ہوئے۔
”حکیم چچا نے…“ ماہم نے دھیمی آواز میں کہا، وہ بھی مزمل کے مکھڑے کو دیکھ رہی تھی۔
”پلیز…میری پہلی اور آخری خواہش سمجھ کر ہی۔میں زندگی بھر آپ سے کچھ نہیں مانگوں گی…“
”ایک شرط پر…“ مزمل نے روکھے لہجے میں کہا۔
”مجھے منظور ہے…“ ماہم شرط سنے بغیر ہی خوشی سے جھوم اُٹھی۔
”آئندہ آپ اُن کا ذکر کبھی نہیں کریں گی…!“ مزمل نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا۔
”یہ بھی منظور ہے…“ وہ کھل گئی مزمل کی بات سُن کر، ساتھ ہی وہ مسکراتے ہوئے شکایتی انداز میں بولی :
”اتنا غصہ ایک لمحے کے لیے تو میری جان ہی نکل گئی تھی آپ اتنا غصہ کرتے ہیں… ہائے اللہ“ ماہم نے ہائے اللہ اتنے خوبصورت انداز میں کہا تھا۔ مزمل سن کر مسکرا دیا۔
وہ محبت اور نفرت کی درمیانی خلیج سے چلتے ہوئے مکمل طور پر محبت کی وادی میں داخل ہو چکا تھا۔
”نمل حیدر سے ملنا چاہو گی؟“مزمل نے ماہم سے پوچھا۔
”وہ مشہور رائٹر…“ ماہم نے اندازہ لگایا۔
”ہاں وہی…!“
”ملنا چاہوں گی… پر اِس وقت نمل حیدر…؟“ ماہم نے حیرانی سے کہا۔ مزمل مسکرا دیا۔
”نمل حیدر نے کہا تھا۔ جب آپ محبت کی منزل پالو گے تو مجھے فون کرنا تب میں آپ پر بھی ناول لکھوں گی۔“
”کیا آپ نے پالی …اپنی محبت کی منزل۔“ ماہم نے ادائے بے نیازی سے پوچھا۔
”میری محبت اور میری منزل دونوں اِس وقت میرے سامنے ہی ہیں۔“ مزمل نے رومینٹک انداز میں کہا۔ ماہم نے اُس کی بات سن کر نظریں جھکا لی تھیں۔
ملن شادی ہال سے شروع ہونے والی کہانی ملن پر ہی ختم ہوئی۔
ختم شد
قسط نمبر23 - من کے محلے میں - شکیل احمد چوہان
فجر کے بعد نکاح پڑھا کر حکیم صاحب نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ ماہم پورے مان سمان کے ساتھ اپنے گھر سے رخصت ہوئی تھی۔ اُس کے باپ کی زبان بھی جیت گئی اور ماہم نے اپنا محبوب بھی پا لیا تھا۔
وہ اُس کے ساتھ دُلہن بنی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔ مزمل کی سفید مرسڈیز اِس بار دُلہن کی طرح سجھی نہیں تھی۔ سجاوٹ کا کام فجر کے بعد ہی سے ماڈل ٹاؤن میں شروع ہو چکا تھا۔
پچھلی رات کے واقعے کے بعد حکیم عاقل انصاری نے اپنی خالہ ممتاز بیگم کو ساری صورتِ حال سے آگاہ کر دیا تھا۔
ممتاز بیگم نے خود ہی خوشی خوشی حکیم صاحب کو ماہم اور مزمل کے نکاح کی اجازت دے دی تھی۔ ماڈل ٹاؤن میں سب کو معلوم تھا سوائے مزمل کے۔ تقریباً 400 دنوں تک چلنے والی محبت کی یہ کہانی اب 72کلو میٹر کی مسافت طے کر رہی تھی۔
(جاری ہے)
مزمل چپ چاپ گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا اور ماہم اُس کے پہلو میں بیٹھی تھی۔
خاموش محبت کے کردار اب بھی خاموش ہی تھے۔ دونوں چور نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ بات کرنے کی ہمت دونوں میں نہیں تھی یا پھر اُن دونوں نے کوشش ہی نہیں کی یا پھر وہ دونوں ہی لکھنو کے نوابّوں جیسے تھے۔ اس کی خبر مجھے بھی نہیں ہے۔
مزمل کے ہارن دینے سے پہلے ہی گھر کا مین گیٹ کھُل گیا۔ وائیٹ مرسڈیز چلتی ہوئی گھر کے داخلی دوازے پر جا کے رُکی۔
ایک طرف بلقیس اور باذلہ کھڑی تھیں۔ دوسری طرف باسط اور بینش کھڑے تھے۔ چاروں کے ہاتھوں میں گلاب کی پتیوں سے بھری ہوئی پلیٹیں تھیں۔ مزمل گاڑی سے اُترا اُس نے جلدی سے ماہم کا دروازہ کھولا اور اپنا دائیاں ہاتھ ماہم کی طرف بڑھایا ماہم نے پہلے مزمل کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھا پھر ایک نگاہ اپنے محبوب پر ڈالی۔
وہ نکاح کے بعد اپنے مجازی خدا کو پہلی بار چھونے والی تھی۔
اُس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اپنا ہاتھ مزمل کے ہاتھ میں دے دیا۔ گاڑی سے اُترنے کے بعد اُن کو چار سیڑھیاں چڑھنی تھی۔ ماہم کو یاد آیا مسجد کی بھی چار ہی سیڑھیاں تھیں جو گلی کی طرف اُترتی تھیں۔
آخری سیڑھی پر پہنچ کر اُن دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ سامنے اُن کی راہوں میں گلاب کے پھول پتیوں کی شکل میں بکھر کر لیٹے تھے۔ مزمل اُن گلاب کی پتیوں پر پاؤں رکھنے ہی لگا تھا۔
ماہم نے اُس کا ہاتھ دبایا اور مزمل کی طرف دیکھا۔ مزمل نظروں کا حکم سمجھ گیا۔
مزمل نے اپنے لیدر کے شوز اُتار دیئے۔ ماہم کے ہونٹوں پر میٹھی مسکراہٹ نے انگڑائی لی۔ اُس نے بھی اپنی ہیل والی سینڈل اُتار دی۔ ماہم کے پیروں میں مہندی رچی ہوئی تھی۔
جرابیں اُتارنے کے بعد مزمل کے سفید پاؤں اور بھی سفید نظر آ رہے تھے۔
وہ دونوں ننگے پاؤں چلتے ہوئے اپنی دادی کی طرف بڑھے۔
اُن کے اوپر پھولوں کی برسات ہو رہی تھی۔ دادی کے پاس پہنچ کر مزمل بولا :
”دادو! یہ ہے آپ کی بہو“ ممتاز بیگم دو بازؤں والی کرسی سے اُٹھیں اور ماہم کی پیشانی سے بوسہ لے لیا۔
”دادو! میں چلتا ہوں…“مزمل نے اِک نظر ماہم کو دیکھا۔ وہی اِک نظر جو وہ چار سودنوں سے دیکھتا آرہا تھا۔ وہ لاؤنج سے اوپر جاتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ وہ اپنے کمرے میں پہنچا جس کی سجاوٹ کا کام ہو رہا تھا۔
وہ بغیر کچھ بولے تیار ہوا اور فیکٹری کے لیے نکل گیا۔ باذلہ ایک کمرے میں ماہم کو لے گئی۔ اُس کے پیچھے پیچھے ممتاز بیگم بھی پہنچ گئیں۔
”ماہم بیٹی! وہ میانوالی گیا ہے۔ رات مجھے بتا رہا تھا۔ اُسے سرامکس کا بزنس بڑا راس آیا ہے۔ میانوالی کی ایک پارٹی ہے۔ وہ اپنی فیکٹری بیچ رہی ہے۔ اُس کی ڈیل کرنے گیا ہے۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں حنیف اور وکیل صاحب اُس کے ساتھ ہیں۔
شام تک واپس آجائے گا۔
ممتاز بیگم متواتر بول رہی تھیں اور ماہم خاموشی سے سُن رہی تھی۔
”ماہم بیٹی! تم کپڑے چینج کر لو اور فریش ہو جاؤ… پھر ناشتہ کرتے ہیں۔“ ماہم نے اپنے عروسی لباس کی طرف دیکھاپھر ایک نظر کمرے سے جاتی ہوئی ممتاز بیگم پر ڈالی۔
بھابھی! آپ یہ پہن لیں!“ باذلہ نے ایک سوٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ماہم کو صرف بھابھی یاد رہا باقی وہ کچھ یاد نہیں رکھنا چاہتی تھی۔
”باذلہ! یہ اُتار دوں…؟“ ماہم نے اپنے عروسی لباس کی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں پوچھا۔
”جی ہاں… شام کو بیوٹیشن آجائے گی۔ آپ پھر سے تیار ہوں گی اور بیگم صاحبہ کا خریدا ہوا لہنگا پہنیں گی۔ بیگم صاحبہ کل رات کو کہہ رہی تھیں :
”باذلہ میں اپنی ماہم کو مزمل کے لیے خود تیار کرواؤں گی۔“
”بھابھی! آپ کا لہنگا بھی بہت خوبصورت ہے، لیکن پہنا تو آپ نے کسی اور کے لیے ہی تھا۔
“
آخری بات ماہم کے دل پر جا کے لگی۔ وہ اُٹھی اور جلدی سے شمعون کے لیے پہنا ہوا عروسی لباس اُتار کر سادہ کپڑے پہن لیے۔ ناشتہ کیا اور ممتاز بیگم کے کہنے پر سو گئی۔
#… #
مزمل پچھلی سیٹ پر سکون کی نیند سو رہا تھا۔ جب کہ حنیف گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔ حنیف کے برابر میں مزمل کا وکیل بیٹھا تھا۔
لاہور سے میانوالی تک سارے رستے مزمل سوتا رہا۔
ڈیل فائنل کرنے کے بعد واپسی پر وہ ماہم کے خیالوں میں کھویا ہوا تھا اُسی وقت دل سے آواز آئی جو کہ دل ہی کی تھی :
”مزمل صاحب! میں نے صحیح کہا تھا نا! صرف وہ چیز نا ممکن ہے جسے انسان نا ممکن سمجھتا ہے۔ دل کی دھرتی کا درد، دوائی سے دور نہیں ہوتا اُس کے لیے اُمید اور دعائیں درکار ہوتی ہیں۔ اُمید آپ نے چھوڑی نہیں دُعا کا مشورہ تو میرا تھا“ دل نے سینے کے اندر ننھے بچے کی طرح اُچھلتے ہوئے کہا۔ دماغ نے آج دل کو منہ لگانا مناسب نہیں سمجھا۔
مزمل تخیل کی وادی میں کھویا ہوا تھا۔ گاڑی لاہور کی طرف رواں دواں تھی۔ مزمل نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں اُس نے بند آنکھوں کے ساتھ منہ میں کہا :
”میری ماہم!!“
قسط نمبر22 - من کے محلے میں - شکیل احمد چوہان
تیل مہندی کی رسم ماہم کے اسکول کے گراؤنڈ میں انجام پائی۔ بارات کا انتظام ملن میرج ہال میں کیا جانا تھا۔ مہندی کی تقریب کے دوران ماہم کی طرح عشال بھی بجھی بجھی سی رہی۔ بارات والے دن صبح مزمل مسجد کے زینے اُتر رہا تھا۔ ہزار کوشش کے باوجود وہ اپنی نظر نہیں روک سکا۔ نظر اُٹھی۔ وہ ہمیشہ کی طرح کھڑکی میں کھڑی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں نور کی بجائے ظلمت تھی۔
اداسی کے ساتھ ساتھ ویرانی بھی تھی۔ ماہم ہاتھوں میں مہندی رچائے، کلائیوں میں گجرے پہنے، گلے میں مالا ڈالے ، مہندی کے پیلے جوڑے میں ملبوس تھی۔ وہ من موہنی سی لڑکی ماہ پارہ لگ رہی تھی۔ یہ تو اُس کا ظاہر تھا۔
اصل میں مہندی کی ٹھنڈک کے بجائے اُسے تپش محسوس ہو رہی تھی۔ کلائیوں کے گجرے ہتھ کڑیاں لگ رہیں تھیں۔
(جاری ہے)
گلے کی مالا پھانسی والی رسی جیسی تھی۔
پیلا لباس اُس کے نزدیک اُسے ماتمی لباس کی کیفیت میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔ چندر مکھی کی طرح نظر آنے والی ماہم اُس وقت اندر سے پارو نہیں بلکہ پارہ پارہ ہو چکی تھی۔
مزمل اور ماہم کے مابین کوئی میثاق، کوئی معاہدہ طے نہیں تھا۔ اس کے باوجود وہ دونوں اپنے اپنے محاذ پر مجرم بنے کھڑے تھے۔ کس نے کس کو مجروح کیا یہ معمہ تھا۔ پھر بھی وہ دونوں مضطرب تھے۔
ملاقات کے بغیر صرف محبت کی معرفت سے اُن دونوں کے جسم معطر ہو چکے تھے۔ اُس مسافت کے دوران اُنھیں محبت کی مہک تومیسر آئی پر محبت کی منزل نہیں ملی۔ اُن کے ملن کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔
مہندی کی تقریب کے بعد سے ماہم کھڑکی میں مجسمہ بنی کھڑی تھی۔ رات بھر وہ صبح کا انتظار کرتی رہی۔
جس کے انتظار میں وہ کھڑی تھی۔ وہ اس کے سامنے تھا۔
وہ اپنے نکاح سے پہلے شاید آخری بار اُسے دیکھ رہی تھی۔ مزمل نے بھی اُس لمحوں کے اندر اندر صدیوں جیسا دیکھ لیا۔ اُس کے دل میں پتا نہیں کیا بات آئی وہ واپس مسجد کے اندر چلا گیا۔ چند منٹوں کے بعد واپس آیا ماہم وہیں کھڑی تھی۔ مزمل نے اُسے ہمیشہ کی طرح ایک نظر دیکھا اور نظریں جھکائے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر لاہور چلا گیا۔
#… #
اب جاگنے کی باری مزمل بیگ کی تھی۔
وہ رات بھر اپنے ٹیرس پر صبح کا انتظار کرتا رہا۔ کھلی کھڑکی کو دیکھنے والی مشتاق آنکھیں اس بار مزمل بیگ کی تھیں۔ اُس کے ذہن میں کچھ نہیں تھا سوائے اُس کھڑکی کے کہ وہ جلد از جلد اُس کھڑکی کو دیکھنا چاہتا تھا۔ نماز سے پہلے دیکھنے کی اجازت اُس کو نہیں تھی۔
مزمل گردن جھکائے گلی سے گزر گیا۔ اُس کے دل میں کھڑکی کا کوئی خیال نہیں آیا۔ اُس نے خشوع خضوع سے نماز ادا کی۔
سب نمازیوں کے جانے کے ساتھ ہی آج پہلی بار حکیم صاحب بھی چلے گئے۔ حکیم صاحب کے جانے کے کچھ دیر بعد وہ حسب معمول اُٹھا اور مسجد کے بیرونی دروازے کی طرف قدم بڑھائے ۔ اُسے کبھی بھی مسجد کی حدود میں کھڑکی یا کھڑکی والی کا خیال نہیں گزرا۔ اس دن بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ مزمل نے سیڑھیاں اُترنی شروع کیں۔ نظر اُٹھائی کھڑکی کھلی تھی۔ ماہم دُلہن بنی کھڑکی میں کھڑی تھی۔
مزمل نے ہمیشہ کی طرح ایک نظر دیکھنے کے بعد اپنی نظریں جھکا لیں۔ مزمل کی آنکھوں میں بجھے دیپ جل اُٹھے۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ لوٹ آئی۔ دل سے دھک دھک کی آواز آنے لگی۔ دل کی دھک دھک دماغ سے برداشت نہیں ہوئی۔ دماغ کہنے لگا :
”بیگ صاحب …! کھلی کھڑکی کے پیچھے دُلہن کھڑی ہے۔خوش ہونے کی بجائے پتا تو کر لو وہ کس کی دُلہن ہے؟“
”دل نے حکم دیا :
”مزمل صاحب…! نظریں اُٹھاؤ اور دوبارہ دیکھ لو میرا دھڑکنا بے وجہ نہیں ہوتا۔
میری دھڑکن زندگی کی علامت ہے۔“
”نظریں اُٹھاؤ گے تو بے ادبی ہو جائے گی۔“ دماغ نے جلدی سے میسج دیا۔ اُسی لمحے دل نے بھی صدا لگا دی۔
”مسٹر برین…! آپ عقل والوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور میں عشق والوں کا ساتھی ہوں۔ مزمل صاحب !تم نظریں اٹھا دو۔“
مزمل نے نظریں اُٹھا کر دیکھا۔ ماہم کے چہرے پر عجیب طرح کی مسرت تھی۔ وہ تھوڑی دیر اُسے دیکھتا رہا۔
آنکھوں کی گفتگو سے دلوں کوسکون مل گیا۔ مزمل کو گلی میں کھڑے ہو کر مزید اس طرح دیکھنا غیر مناسب لگا۔ وہ نظریں جھکا کر اپنی گاڑی کی طرف چل دیا۔
”بیٹا اندر آجاؤ…!“ مریم بی بی نے بڑے اعتماد سے کہا جو اپنے دروازے پر کھڑی تھیں۔
مزمل گھر کے اندر داخل ہوگیا۔ ڈرائنگ روم میں ایک آدمی وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے حکیم عاقل انصاری ، گلاب خان اورشمائل کا شوہر شرافت بیٹھے ہوئے تھے ۔
دوسرے صوفے پر چند عورتیں تھی جن میں ، مومنہ ، عشال،شمائل، شاہدہ بی بی اور ایک طرف عروسہ وہیل چیئر پر بیٹھی تھی۔
”جوان…! میری بیٹی سے شادی کرو گے؟“ چوہدری شمشاد نے گرجتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
اس سے پہلے مزمل کچھ کہتا ڈرائنگ روم میں ماہم دُلہن کے لباس میں ملبوس داخل ہوئی۔ مزمل نے حیرانی سے چوہدری شمشاد کی طرف دیکھا۔
”جوان…! میری بیٹی ماہم سے شادی کرو گے؟“ چوہدری شمشاد اُسی انداز میں دوبارہ بولا۔
”جی…!“ مزمل نے ماہم کی طرف دیکھ کر کہا۔
”حق مہر میں کیا لکھواؤ گے۔“ چوہدری شمشاد نے بے دھڑک ہو کر کہہ دیا۔
”یہ والی فیکٹری لکھ لیں۔“ مزمل بیگ نے حتمی انداز میں جواب دیا۔
ماہم نے مزمل کی طرف د یکھا۔ ڈرائنگ روم میں موجود سب لوگوں نے باری باری ایک دوسرے کی طرف نگاہ ڈالی ۔ اُن کے چہروں پر ملی جُلی کیفیات تھیں۔ خوشی کے ساتھ ساتھ حیرت بھی نمایاں تھی۔
”حکیم صاحب! بسم اللہ کریں۔“ چوہدری شمشاد نے نکاح پڑھانے کا فرمان جاری کر دیا۔
#… #
”حکیم صاحب…! بسم اللہ کریں“ پچھلی رات بھی چوہدری شمشاد نے ایسے ہی کہا تھا۔
”چوہدری شمشاد ! یہ نکاح نہیں ہو سکتا“ ایک آدمی گھن گرج کے ساتھ بولا۔
”کیوں نہیں ہو سکتا یہ نکاح؟“ چوہدری شمشاد نے للکار کر پوچھا۔
”اس لیے کہ تیرے بیٹے نے میری بہن سمبل سے شادی کر رکھی ہے۔
اب وہ دوسری شادی نہیں کر نا چاہتا۔“ مہر سعید نے وضاحت پیش کی۔
”کیوں اوئے شمعون…؟“ چوہدری شمشاد نے قہرو غضب سے پوچھا۔
”جی ابّا جی…!“ شمعون نے گردن جھکائے فوراً اقرار کرلیا۔
”اوئے کھوتے دے پتر…! پھر یہ تماشا لگانے کی کیا ضرورت تھی۔“ چوہدری شمشاد وہیل چیئر پر بیٹھے بیٹھے ہی آپے سے باہر ہوگیا تھا۔
”تو مجھے پہلے بتا دیتا…بے غیرتا…بے شرما…اب میں سارے شریکے کو کیا جواب دوں گا۔
کون کرے گا میرے مرحوم بھائی کی بیٹی سے شادی؟“ چوہدری شمشاد نے واہ ویلا ڈالا ہوا تھا۔
”کھانا کھول دو“ حکیم صاحب نے موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے میرج ہال کی انتظامّیہ کو کہہ دیا۔ حکیم صاحب خود چوہدری شمشاد کی وہیل چیئر کو دھکا لگاتے ہوئے دُلہن کے کمرے میں لے گئے تھے۔ چند منٹوں بعد ہی سارا ہجوم تتر بتر ہوگیا۔ شادی ہو یا نہ ہو لوگوں کو کھانا ملنا چاہیے۔
لوگوں نے کھانا کھایا، اپنے اپنے ہاتھ صاف کیے اور اپنے اپنے گھروں کی راہ پکڑی۔
”کون کرے گا میرے بھائی کی بیٹی سے شادی؟“ چوہدری شمشاد نے مگر مچھ والے آنسو گراتے ہوئے پھر سے پوچھا۔
”ایک لڑکا ہے …میرے رشتے میں بھی لگتا ہے۔“ چوہدری شمشاد نے سوالیہ نظروں سے حکیم صاحب کو دیکھا۔
”وہی جس نے سیٹھ کی فیکٹری خریدی ہے۔“ حکیم صاحب نے تسلی دیتے ہوئے بتایا۔
”وہ اتنا بڑا آدمی ہے، وہ کیوں کرے گا شادی؟“ چوہدری شمشاد کے آنسو فوراً غائب ہوگئے تھے۔ ساتھ ہی اُس نے تفتیش بھی شروع کردی۔
”اُس نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ سے رشتہ مانگوں۔ جب میں نے بتایا کہ ماہم کی منگنی ہو چکی ہے پھر وہ کہنے لگا :
حکیم صاحب…! آپ ہی میرے بڑے ہیں۔ آپ جہاں کہیں گے میں شادی کر لوں گا۔“
”مگر …پھربھی …حکیم صاحب…مجھے نہیں لگتا…وہ لڑکامانے گا۔
“ چوہدری شمشاد نے رُک رُک کر اپنے خدشے ظاہر کیے۔
”انکل جی…! آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔ اُس کی کیا مجال وہ ابّا کی بات ٹالے۔ ہماری ماہم راج کرے گی۔ اُس کے پاس ایسی دو فیکٹریاں اور بھی ہیں۔ دو بنگلے چار گاڑیاں اور کروڑوں کا بنک بیلنس الگ سے ہے۔“ عشال نے ماہم کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا۔
چوہدری شمشاد کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اُس وقت برائیڈل روم میں صرف پانچ افراد تھے۔
پانچویں مریم بی بی تھی جو کچھ دیر بعد آئی تھی۔
”کچھ بھی ہو۔ میں ماہم کی رضا مندی کے بغیر ہاں نہیں کرسکتا“ چوہدری شمشاد نے اپنا لالچ چھپاتے ہوئے سنبھل کرکہا۔
”لالہ جی…! ماہم اور مجھے آپ کے کسی فیصلے پر کوئی اعتراض نہ پہلے تھا اور نہ ہی آئندہ ہوگا۔ آپ جو بھی فیصلہ کریں ہمیں قبول ہوگا۔ “ مریم بی بی نے تابع داری کے ساتھ ساتھ اپنے حصے کی ڈیوٹی پوری کر دی۔
”تو پھر حکیم صاحب…! ابھی اُس لڑکے کو بلائیں۔ ابھی کلمے پڑھا دیتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر سلہ۔“ چوہدری شمشاد نے اپنی عزت بچانے کے لیے فوراً رضا مندی ظاہر کر دی تھی۔
”چوہدری صاحب…! اس وقت غیر مناسب ہے۔ میں اُس سے فون پر بات کر لیتا ہوں۔ انشاء اللہ کل صبح فجر کے بعد میں نکاح پڑوا دوں گا۔ یہ میرا وعدہ ہے۔ آپ آج رات یہیں رُک جائیں۔ گاؤں مت جائیں۔
کل نکاح کے بعد ہی گاؤں جائیے گا۔ اس طرح آپ کی عزت بھی رہ جائے گی اور شریکے برادری کوباتیں بنانے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔“ حکیم صاحب کی بات چوہدری شمشاد کے دل پر جا کرلگی تھی۔ وہ فوراً مان گیا۔
#… #
ماہم اپنے کمرے میں آئی۔ اُس نے جنوری کی سخت سردی کے باوجود اپنی کھڑکی بند نہیں کی۔ وہ دُلہن بنی ہوئی مسجد کی سیڑھیوں کو دیکھنے لگی۔
جہاں آج صبح مزمل کھڑا تھا۔ اُس نے ماہم کو دیکھا نظریں جھکائیں اور واپس مسجد میں چلا گیا۔
”وہ واپس مسجد میں کیا لینے گیا ہے؟“ اُس وقت ماہم کھڑکی میں کھڑی ہوئی یہ سوچ رہی تھی۔
”ہر شے من جانب اللہ ہے۔ یا للہ…! اے میرے مالک…! میں نے تجھ سے مانگنا چھوڑ دیا تھا۔ آج پھر مانگتا ہوں اپنی محبت کو۔ مالک…!تو مسبب الاسباب ہے، میں نہیں جانتا تو کیسے کرے گا بس تو ہی کر سکتا ہے۔
مجھے ماہم عطا کر دے پورے مرتبے اور مقام کے ساتھ۔“ مزمل مسجد میں آنے کے بعد سجدے میں گڑ گڑا رہا تھا۔ اُس کے اشکوں سے مصلیٰ بھیگ گیا تھا۔ اُس نے دعا مانگی۔ رومال سے اپنی بھیگی پلکیں صاف کیں۔ سیڑھیاں اُترتے ہوئے ایک نظر اپنے محبوب پر ڈالی اور لاہور چلا گیا۔
وہ ٹیرس پر کھڑا ہوا رات بھر کھڑکی کے متعلق سوچتا رہا اور ماہم رات بھر کھڑکی سے باہر سیڑھیوں کو دیکھتی رہی۔
قسط نمبر21 - من کے محلے میں - شکیل احمد چوہان
دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہفتہ بھی گزر گیا۔ بارات سے ایک دن پہلے مزمل نماز پڑھ کر نکلا۔ وہ کھڑکی میں کھڑی تھی مرجھائے ہوئے سرخ گلاب کی طرح۔ اُس دن اُس کی آنکھوں میں اُداسی تھی۔ خاموشی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں کوئی عبارت نہیں تھی جسے مزمل پڑھتا۔ صرف ہجر کے سندیسے تھے۔ مزمل نے ایک نظر دیکھا اور چل دیا۔
وہ ماسٹر محمود کے دروازے کے آگے سے گزر رہا تھا ایک آواز نے اُس کے قدم روک لیے :
”بیٹا اندر آجاؤ…!“ مریم بی بی نے ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے مختصر بات کی اور دروازے سے اندر ہوگئی۔
گلی میں کوئی نہیں تھا۔ مزمل شش و پنج میں مبتلا تھا۔ لمحہ بھر اُس نے سوچا پھر وہ بھی دروازے سے گھر کے اندر چلا گیا۔
”بیٹھو بیٹا…! مریم بی بی نے ڈرائنگ روم میں مزمل کو بٹھایا۔
(جاری ہے)
مزمل جھجکتے جھجکتے بیٹھ گیا۔
”کل رات کو ماہم کی بارات ہے۔ آج پچھلے ٹائم مہمان آنا شروع ہو جائیں گے۔ کچھ مہمان رات کے آچکے ہیں۔ اُنھیں میں نے گاؤں والی حویلی میں ٹھہرایا ہوا ہے۔
کل سے تم یہاں نہیں آؤ گے۔” مریم بی بی نے تفصیل بتانے کے بعد فرمان جاری کیا۔
”کیوں؟“ مزمل نے اعتماد سے نظریں ملا کر پوچھا۔
”اس لیے کہ کل سے وہ کھڑکی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گی۔“ مریم بی بی نے سخت لہجے میں جواب دیا۔
”حاضری میں دیدار کی شرط نہیں ہوتی۔“مزمل نے موٴدب ہو کر کہا ۔
”ادب والے حکم عدولی نہیں کرتے۔“ مریم بی بی نے کرخت لہجے میں بتایا۔
”بے وفائی کے علاوہ سب حکم مانوں گا۔“ مزمل نے عاجزی سے اپنی بات کی۔
”وفا کا دم بھرنے والے محبوب کو بدنام نہیں کرتے۔“مریم بی بی نے دانت پیستے ہوئے اپنی سنائی۔
”اُس کی بدنامی نہ ہوئی ہے…نہ ہوگی…یہ میرا وعدہ ہے۔“ مزمل نے یقین دلانے کی کوشش کی۔
”کب تک یہاں آتے رہو گے؟“ مریم بی بی نے روکھے لہجے میں پوچھا۔
”اب تو میں یہاں سے جانا ہی نہیں چاہتا۔
سوچ رہا ہوں یہیں شفٹ ہو جاؤں۔“ مزمل نے لرزتی آواز میں اپنے دل کا حال سنایا۔
”کس لیے؟“مریم بی بی نے برہمی سے کہا۔
”تاکہ اُس کھڑکی کو دیکھتا رہوں۔ مزمل نے دھیمی آواز میں عرض کی۔
”بند کھڑکی کو دیکھنے کا فائدہ؟“مریم بی بی نے طنز کیا۔
”محبت میں فائدہ نقصان نہیں دیکھا جاتا۔“ مزمل نے دُکھی آواز میں کہا۔
”اب تو ہر چیز میں فائدہ نقصان دیکھا جاتا ہے“ مریم بی بی نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بتایا۔
”میں تاجر ہوں صرف تجارت میں فائدہ نقصان دیکھتا ہوں محبت میں نہیں۔“ مزمل نے اپنی صفائی دی۔
”کرتے تجارت ہو اور باتیں محبت کی“مریم بی بی نے طنز کیا۔
”محبت کے ساتھ تجارت کرتا ہوں…تجارت سے محبت نہیں کرتا…“مزمل نے آنکھیں ملاتے ہوئے اطلاع دی۔
”باتیں اچھی کر لیتے ہو…“ مریم بی بی نے طنز کے ساتھ تعریف کی۔
”محبت نے سکھا دی ہیں۔
“ مزمل نے دل پر پتھر رکھ کے مسکراتے ہوئے کہا ۔مریم بی بی کو مزمل کی مسکراہٹ پر تھوڑا سا غصہ آگیا وہ غصے میں بولی:
”دیکھو مزمل صاحب !!ہم نے محبت محبت کافی کھیل لی۔ اب حقیقت کی دنیا میں واپس آجاؤ۔ میں نے کہانا کل سے تم یہاں نہیں آؤ گے…بس!“مریم بی بی نے گھن گرج کے ساتھ اپنا فیصلہ سنا دیا۔
”آپ ماں بن کر حکم دیں گی تو میں مان لوں گا۔
اگر چودھرائن بن کر کہیں گی تو …“مزمل نے شائستگی سے کہہ دیا۔
”تو کیا…؟!“ مریم بی بی نے تیور دکھاتے ہوئے پوچھا۔
”تو کچھ نہیں…“ مزمل پھر اُسی طرح مسکرا دیا۔
”تم مجھے سمجھتے کیا ہو…؟“ مریم بی بی نے گھوری ڈالتے ہوئے پوچھا۔
”اُس کی ماں…اور اپنی ماں جیسی …نہیں نہیں…آپ کو اپنی ماں مانتا ہوں“مزمل کو نمل حیدر کی بات یاد آگئی تھی۔
اُس نے مریم بی بی کا اقبال بلند کرتے ہوئے اَدب سے کہا تھا۔
” یہ اُس…!اُس…کیا لگا رکھی ہے…اُس کا ایک نام بھی ہے…وہ کیوں نہیں لیتے…؟“مریم بی بی نے ٹٹولتی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”اُس کا نام صرف دعا میں لیتا ہوں۔۔”مزمل نے اُلفت کے ساتھ بتایا۔
”دعا میں کیوں… لیتے ہو اُس کا نام“ مریم بی بی نے حق جتاتے ہوئے پوچھا۔
”اِس کے لیے کہ دعا کرنے کے لیے آپ کی اجازت نہیں د رکار“مزمل نے صاف گوئی سے کہہ دیا۔
”کیا دعا کرتے ہو اُس کے لیے…؟“ مریم بی بی نے کچھ نرمی سے پوچھا۔
”یا اللہ !ماہم کو وہ صحت عطا فرما جس کے بعد بیماری نہ ہو“مزمل نے عقیدت سے بتایا۔
”عشال ٹھیک کہتی ہے۔ تم دونوں واقعی پاگل ہو۔“ مریم بی بی نے فوراً اپنا لہجہ اور رویہ بدل لیا۔
”دیکھو مزمل بیٹا…! میں کچھ نہیں کر سکتی۔ میری بیٹی کے لیے تم سے اچھالڑکا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔
میری خواہش کے باوجود اُس کی شادی تم سے نہیں ہو سکتی۔ شادی کے بعد پتا نہیں کیا ہوگا۔“ مریم بی بی نے فکر مندی سے کہا تھا۔
”اور کسی بات کا تو مجھے بھی پتا نہیں۔ ایک بات کنفرم ہے۔ میں اپنی نظر پر پردہ ضرور ڈال دو ں گا۔“یہ کہہ کر مزمل چپ چاپ گردن جھکائے وہاں سے چلا گیا۔
#… #
”تمھاری شمعون سے شادی ہونے کے بعد بھی یہ ونڈو اوپن رکھو گی؟“ عشال نے ماہم کو جھنجھوڑ کر پوچھا تھا۔
ماہم اب بھی گم سم تھی۔ عشال نے دوبارہ اُسے ہلایا۔
”ٹیل می۔“
”نہیں…کبھی نہیں۔ میں مزمل کی طرف کھلنے والی ساری کھڑکیاں بند کردوں گی۔ چاہے وہ دل کی ہوں یا لکڑی کی۔“ ماہم نے بائیں ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسوصاف کیے تھے۔
ماہم چوہدری! چلو مان لیا تم مزمل کی طرف کھلنے والی کھڑکی بند کر بھی لو…کیا اُسے شمعون کے لیے کھول سکو گی…؟“ عشال نے کھنکتی آواز میں پوچھا۔
”کوشش کروں گی…!“ ماہم نے زخمی آواز میں جواب دیا۔
”حارث کہتا ہے عشال یاد رکھنا! دل کے دوار ہردستک پر نہیں کھُلتے…“
”شوہر کے لیے کھُل جاتے ہیں“ ماہم نے حتمی انداز میں کہا۔
”میری ماں کے تو نہیں کھُلے تھے…“ عشال نے کرب سے بتایا۔
”بیوی کا فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر سے محبت کرے کوئی فرض ادا کر لیتا ہے اور کوئی قضاء…“
”ابّا کہتے ہیں، ہر عورت کا حق ہے کہ اُس کی شادی میں اُس کی مرضی شامل ہو“ عشال نے حکیم صاحب کی کہی ہوئی بات کا سہارا لیا۔
”میں نے اپنا یہی حق شمعون کے لیے ا ستعمال کیا ہے“
”ماہم! فار گاڈ سیک… حق تلفی کو حق کا نام مت دو“عشال نے سمجھانے کے انداز میں کہا۔ ماہم گردن جھکائے خاموش تھی۔ ضبط کے باوجود اُس کی آنکھوں سے اشک چھلک پڑے۔ عشال اُسے غور سے دیکھ رہی تھی۔وہ پاس گئی اور اُسے گلے لگا لیا۔ عشال نے ماہم کے آنسو صاف کیے اور اُس کا ہاتھ تھام کر کہنے لگی :
”تمھیں یاد تو ہوگا ،اِس برسات جس رات بڑی طوفانی بارش ہوئی تھی۔
میری برتھ ڈے کے ایک دن بعد میں نے سوچا صبح وہ نہیں آئے گا۔ ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ لائٹ بند تھی۔ تین چار گھنٹے بعد UPSبھی جواب دے گیا۔ مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ ابّا اپنی ٹارچ لیے مجھے دیکھنے میرے روم میں آئے۔ مجھے دیکھا اور کہنے لگے : ”اب تک جاگ رہی ہو۔“ میں نے کہا نیند نہیں آرہی۔ ابّا بولے:
”ایمرجنسی لائٹ جلا لو“ میں ایمرجنسی لائٹ جلانے لگی تو میری نظر موم بتیوں اور ماچس پر پڑی جو پچھلی رات کیک کاٹنے سے پہلے بجھا دی گئی تھیں۔
میں نے اُن سب موم بتیوں کو اُٹھایا اُن میں سے ایک کو آگ دی اور اپنے سامنے شیلف پر لگا دیا۔
ایک کے بعد ایک موم بتی جل کر اپنے ہی موم میں غرق ہونے لگی۔ وہ موم بتیاں فجر کی اذان تک روشنی کرتی رہیں۔ بارش تھم چکی تھی۔ ابّا مسجد کے لیے نکلے تو میں نے آخری جلتی ہوئی موم بتی کو چھوڑا اور چھت پر چلی گئی۔ چھت پر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ دور نزدیک سے مینڈکوں کی آوازیں آرہی تھیں۔
ابّا نے مسجد کے صحن میں کھڑے ہو کر اذان دینا شروع کی“ ماہم بُت بنی عشال کو دیکھ رہی تھی۔ جیسے وہ کسی اور کی داستان سن رہی ہو۔
”تم اپنی ونڈو میں ماسٹر صاحب کی لالٹین لیے کھڑی تھی۔ میں نے سوچا ہے نا بیوقوف اِس کے پاس بھی تو ایمرجنسی لائٹ ہے وہ کیوں نہیں ONکی اِس نے۔ پھر میری نگاہوں نے تمھاری نظروں کا تعاقب کیا۔ فیکٹری کے موڑ سے روشنی کی کرن نمودار ہوئی مزمل بیگ تھا۔
گلی میں پنڈلی پنڈلی پانی تھا۔ اُس کے بائیں ہاتھ میں اُس کے سلیپر اور دائیں ہاتھ میں موبائل کی لائٹ جل رہی تھی۔ وہ پانی میں سے گزرتا ہوا۔ تمھاری ونڈو کے نیچے اور مسجد کی سیڑھیوں کے پاس پہنچا، میرا خیال تھا وہ تمھیں گردن اُٹھا کر دیکھے گا۔
مزمل نے مجھے غلط ثابت کر دیا۔ تمھاری لالٹین پھڑپھڑا رہی تھی۔ جس کی تمھیں کوئی خبر نہیں تھی۔
تم مزمل کو فوکس کیے ہوئے تھی۔
مزمل نے مسجد کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا کہ اُس کا پیر پھسل گیا۔ تمھارے ہاتھ میں پھڑکتی ہوئی لالٹین بجھ گئی۔ تم نے تڑپتے ہوئے بائیں ہاتھ سے ونڈو کے راڈ کو پکڑا۔ اُس وقت تم ایسے تڑپ اُٹھی تھی جیسے مچھلی پانی سے باہر تڑپتی ہے۔
تھینک گاڈ مزمل گرنے سے بچ گیا تھا۔ وہ مسجد میں داخل ہوگیا تم بجھی ہوئی لالٹین ہاتھ میں اُٹھائے وہیں کھڑی رہی۔
چند منٹ بعد تم اُلٹے پاؤں پیچھے ہٹ گئی۔ مزمل کے بعد تین چار اور نمازی مسجد میں داخل ہوئے۔ تم پھر سے ونڈو کے پاس چلی گئی ۔ جماعت کے بعد جب نمازیوں کے باہر نکلنے کا وقت ہوا۔ تم دوبارہ اُلٹے پاؤں دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ تب بھی بجھی ہوئی لالٹین تمھارے ہاتھ میں ہی تھی۔ مزمل جب مسجد سے نکلا اُس نے مسکراتے ہوئے تمھیں اِک نظر دیکھا اور گردن جھکائے گلی میں کھڑے ہوئے پانی میں سے چلتا ہوا فیکٹری کے موڑ تک چلا گیا۔
جیسے ہی اُس نے موڑ مڑا تم ونڈو کے ساتھ پڑی ہوئی اُس ایزی چیئر پر بیٹھ گئی۔ میں تمھیں چھت سے مسلسل دیکھ رہی تھی۔“ عشال نے کھڑکی کے پاس پڑی ہوئی ایزی چیئر کی طرف اشارہ کرتے پھر سے کہا :
”اُس چیئر پر بیٹھنے کے بعد تمھیں پتہ چلا تمھارے ہاتھ میں جلتی ہوئی لالٹین تو بجھ چکی ہے۔ تم نے لالٹین کو ہلا کے دیکھا اُس میں مٹی کا تیل ختم ہو چکا تھا۔
پھر بھی اُس کی بتی جلنے سے بچ گئی تھی۔
میں جب اپنے روم میں آئی تو سای موم بتیوں کا ڈھیر ایک جگہ ہی تھا۔ وہ رات بھر جلتی رہیں اورصبح جلے ہوئے موم کے قبرستان میں دفن ہوگئیں۔
ایک بات بتاؤں۔ ماہم چوہدری!بیوی لالٹین کی طرح ہوتی ہے۔ جس میں تعریف کا تیل ڈالوں تو وہ پھر سے جل اُٹھتی ہے۔ جبکہ محبوبہ موم بتی کی طرح …جو اپنے ہی موم میں جل جل کر موم کا ڈھیر بن جاتی ہے۔
تم بھی مزمل بیگ کی محبت میں اپنے ہی موم میں جل رہی ہو۔ تمھیں میں نے تمھاری ہی لو اسٹوری سے ایک سین …پوچھو کیوں سنایا…؟“ عشال نے ماہم کا ہاتھ تھامتے ہوئے سوالیہ نگاہوں سے اُس کی طرف دیکھا۔
”کیوں…؟“ ماہم نے ایسے کہا جیسے اُس کی آواز کسی گہری کھائی سے آئی ہو۔
”اس لیے کہ میں تمھیں بتا سکوں…! جو کچھ میں نے اُس دن دیکھا وہ دیوانگی کی حد تھی۔
ماہم چوہدری! شمعون جیسا ایک ڈھونڈ نے جاؤ تو لاکھوں ملیں گے اور تم جیسی لاکھوں میں سے ایک بھی ملنا مشکل ہے۔
تم شادی کے بعد شمعون کے بچے ضرور پیدا کرو گی۔ اُس کی طرف محبت کی کھڑکی کبھی نہیں کھول سکو گی۔ یہ میری پریڈیکشن ہے۔ کل تمھاری تیل مہندی ہے، میں سوچ رہی ہوں پیلے سوٹ کی جگہ ماتمی لباس پہنوں ۔مزمل کے ساتھ کوئی تو ہو جو تمھاری شادی کا ماتم منائے۔“ عشال نے ماہم کا ہاتھ چھوڑا اور غصے سے ماہم کے کمرے سے چلی گئی۔ ماہم رنجیدگی سے گردن جھکائے وہیں بیٹھی رہی۔ تھوڑی دیر بعد اُس نے اپنے نازک اور سفید ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہوئے خود کلامی کی :
”کل میری تیل مہندی ہے“
قسط نمبر20 - من کے محلے میں - شکیل احمد چوہان
تقریباً چار ہفتوں بعد ایک دن باذلہ آنکھوں میں اشکوں کی چمک سجائے، جنوری کی چمکتی دھوپ میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج کے لان کی ہری ہری گھاس پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی ہوئی تھی۔ اُسے مومنہ کے آنے کی بھی خبر نہ تھی۔ مومنہ اُس کے پیچھے کھڑی تھی۔ چند لمحوں بعد مومنہ بھی اُس کے سامنے اُسی کے اندازمیں بیٹھ گئی تھی۔
”او ہیلو…کیا ہوا تمھیں…؟“مومنہ نے دائیں ہاتھ سے باذلہ کے بائیں کندھے کو ہلاتے ہوئے پوچھا۔
باذلہ نے مومنہ کی طرف اَشکوں سے بھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ دیکھا ہی تھا کہ اشک فٹ سے چھلک پڑے وہ شاید مومنہ کا ہی انتظار کر رہے تھے۔
”رو کیوں رہی ہو کچھ بتاؤ تو سہی…؟“ اس بار مومنہ نے قدر ے فکر مندی سے پوچھا۔ باذلہ نے خود کو سنبھالتے ہوئے مصنوعی مسکراہٹ کا سہارا لیا اور کہنے لگی:
”رو نہیں رہی…بس دل بھر آیا تھا پتہ ہی نہیں چلا کب آنسو نکل آئے۔
(جاری ہے)
“باذلہ نے شولڈ ربیگ سے ٹشو پیپر نکال کر اپنے آنسو صاف کیے ۔ مومنہ نے باذلہ کی گھاس پر رکھی ہوئی کتابوں کے اوپر پڑے ہوئے چشمے کو اُٹھایا اور باذلہ کو لگاتے ہوئے بولی:
”لوگ چشمے کے ساتھ جن لگتے ہیں اور تم چشمے کے بغیر چڑیل …“ مومنہ کی بات سن کر باذلہ مسکرا دی۔ اُس کی مسکراہٹ دیکھ کر مومنہ پھر سے بول پڑی :
”چلو کینٹین چلتے ہیں…جو مرضی کھاؤ…بل میں دوں گی۔
“مومنہ نے شاہانہ انداز کے ساتھ کہا تھا۔ وہ دونوں کینٹین کی طرف چل پڑیں۔ فاطمہ جناح میڈیکل کالج اور گنگا رام ہاسپٹل کے درمیان سڑک کے نیچے سے جو انڈر پاس دونوں اداروں کو ملاتا ہے۔ وہ چلتے چلتے وہاں پہنچ گئیں اُس جگہ ٹریفک کا شور قدرے کم ہوتا ہے۔ مومنہ نے اُس بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے باذلہ کو اُسی جگہ روک کر پوچھا :
”دل کیوں بھر آیا تھا…تمھارا…؟“ مومنہ کی سوالیہ نظریں باذلہ کے چہرے پر مرکوز تھیں۔
باذلہ نے بھرائی ہوئی آواز کے ساتھ جواب دیا :
”مزمل بھائی کی وجہ سے اُن کو ایک دم چپ سی لگ گئی ہے۔ بات تو وہ پہلے بھی کم ہی کرتے تھے…اب تو…“ اب تو کے بعد باذلہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کہہ پائی۔
”ماہم آپی کا بھی یہی حال ہے…“ مومنہ نے ماہم کا دکھڑا سنا دیا۔ مومنہ نے باذلہ کا ہاتھ تھاما اور چلتے ہوئے کہنے لگی :
”کینٹین میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔
“ چند منٹ بعد وہ دونوں کینٹین میں تھیں۔
”تم نے ”محبت بے درد سا درد ہے۔“ ناول پڑھا ہے…؟“باذلہ نے بیٹھنے کے بعد پہلی بات یہی کہی تھی۔ مومنہ نے عجیب نظروں سے اُس کی طرف دیکھا اور ترش آوز کے ساتھ بولی :
”اِس وقت یہ ناول کہاں سے یاد آگیا…تمھیں…میں حقیقت جاننا چاہتی ہوں اور تم ناول کے متعلق پوچھ رہی ہو۔“
”تم بتاؤ تو سہی…پھر میں بھی بتاتی ہوں…“باذلہ نے سنجیدگی سے زور دے کر کہا تھا۔
مومنہ نے اپنے سامنے ٹیبل پر پڑی ہوئی موٹی موٹی میڈیکل کی کتابّوں پر ایک نگاہ ڈالی اور کہنے لگی :
”مجھ سے تو یہ کورس کی کتابیں نہیں پڑی جاتیں … یہ ناول شاول کہاں سے پڑھوں گی!“
”مزمل بھائی نے ایک رات میں ہی پونے پانچ سو صفحات کا ناول پڑھ ڈالا۔“
”باذلہ…! رکو…رکو… تم آج کھسکی ہوئی لگ رہی ہو۔ میں تمھیں یہاں مزمل بھائی اور ماہم آپی کے بارے میں بات کرنے کے لیے لائی ہوں اور تم مجھے ناول کے صفحات گنوا رہی ہو۔
“ مومنہ نے کچھ خفگی سے کہا تھا۔ باذلہ نے پہلی بار اُس کی پریشانی کو نوٹس کیا تھا۔
”خفا کیوں ہوتی ہو … میری بات سنو…“ باذلہ نے قدرے نرمی سے کہا۔
”جی باجی… کیا لیں گی آپ…“ چودہ پندرہ سال کے ایک لڑکے نے پوچھا تھا۔ مومنہ نے اُس لڑکے کو گھوری ڈالتے ہوئے جواب دیا:
”بچو ! اُس دن بھی پانی ملا جوس تم نے پلایا تھا۔ دو موسمی کے جوس برف اور نمک کے بغیر پانی کا ایک بھی قطرہ نہ ہو اپنے اُستاد کو بول دینا۔
“
مومنہ نے اپنے اندر کا کافی غصہ ویٹر پر نکال دیا۔ وہ آرڈر لے کر خاموشی سے چلا گیا تھا۔
”اب تم سناؤ…“مومنہ اُسی تال میں بولی۔
”مزمل بھائی ”محبت بے درد سا درد ہے۔“ ناول اور نمل آپی کے بہت خلاف تھے۔“ باذلہ نے یہ کہا ہی تھا۔ مومنہ نے بیزاری سے پوچھا:
”اب یہ نمل آپی کون ہے…؟“
”مجھے بولنے تو دو… سب بتاتی ہوں۔“ باذلہ معصومیت سے کہنے لگی جیسے درخواست کر رہی ہو۔
مومنہ نے پلکوں کو جنبش دے کر بولنے کا اشارہ کیا۔ باذلہ کہنے لگی :
”نمل آپی مشہور ناول نگار ہیں۔“
”ہاں …ہاں…یاد آیا… اُس رائٹر کا نام تو آئی تھنک نمل حیدر ہے۔“
”ہاں…وہی۔“
”تو سیدھی طرح نمل حیدر کہو یہ نمل آپی۔نمل آپی کیا لگا رکھا ہے۔ باذلہ! اب تم میرا بلڈ پریشر ہائی کر رہی ہو۔“ مومنہ نے باذلہ کو انگلی دکھاتے ہوئے کہا۔
”تم بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھو۔ بس تم مجھے ٹوکنا مت ساری بات سمجھاتی ہوں۔ میں شروع ہی سے نمل آپی کی بہت بڑی فین ہوں۔ اُن کے سارے ناول میرے پاس ہیں۔ میں نے نمل آپی کے سارے ناولز کے مرکزی خیال مزمل بھائی کو سنائے تھے۔ مجھے اندازہ تھا کہ اُن کو ناولز وغیرہ بالکل بھی پسند نہیں ہیں۔ وہ لفط محبت سے بھی شدید نفرت کرتے تھے۔ نمل آپی اپنے ناولز میں بات ہی محبت کی کرتی ہیں، اسی وجہ سے مزمل بھائی کو نمل آپی بھی بُری لگنے لگی۔
میٹرک تک تو ٹھیک تھا فسٹ ایئر میں میری پرسنٹیج بہت بُری آئی تھی۔ تب مزمل بھائی کو لگا میں ناولز پڑھتی ہوں اِس لیے ایسا ہوا ہے ۔ انہوں نے مجھے سختی سے ناولز پڑھنے سے منع کر دیا تھا۔ میں نے بھی اُن سے وعدہ کر لیا کہ میں جب تک ڈاکٹر نہیں بن جاتی کسی بھی ناول اور ڈائجسٹ کو ہاتھ تک نہیں لگاؤں گی۔ وعدہ تو میں نے کر لیا تھا پر میں اُسے نبھا نہ سکی اور کالج فرینڈز سے ناول اور ڈائجسٹ لیتی پڑھ کر اُنہیں واپس کر دیتی۔
باسط بھائی کی بارات سے ایک دن پہلے باتوں باتوں میں میرے منہ سے نکل گیا کہ میں ناول پڑتی ہوں۔ مزمل بھائی کو غصہ تو آیا پر کہا کچھ نہیں۔“
”ایک نمبر کی ڈفر ہو تم…بس کرو“مومنہ نے باذلہ کو پھر روک دیا۔
”باجی …! جوس…“ ویٹر نے جوس اُن کے سامنے رکھتے ہوئے بتایا۔ مومنہ باذلہ کے حصے کا باقی غصہ اُس ویٹر پر نکال دیتی مگر وہ خود ہی بول پڑا :
”باجی…پانی کا ایک قطرہ ثابت کر دیں تو ہزار کا نوٹ انعام دو ں گا۔
“ ویٹر نے شوخی ماری۔
”ٹھیک ہے بچو…! وہ ابھی پتہ چل جائے گا۔ اب میرا منہ کیا دیکھ رہے ہوٍجاؤ یہاں سے“ مومنہ نے اُس کی شوخی پر غصے سے ہتھوڑی ماری تھی۔ مومنہ نے سٹرا کو منہ لگاتے ہوئے جلدی ہی سے آدھا جوس پی لیا۔ اِس کے برعکس باذلہ سٹرا کو جوس میں ہلائے جا رہی تھی۔
”باذلہ !!بتاؤں تمھارے ساتھ پرابلم کیا ہے۔ سب تمھاری تعریفیں کرتے ہیں۔
اس لیے تم نے خود کو عقلمند سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ تمھاری آنکھوں میں آنسو دیکھے تو مجھے لگا تمھیں تو مجھ سے بھی زیادہ غم ہے مزمل بھائی اور ماہم آپی کا پر ایسا نہیں ہے۔ تم تو اپنی رام لیلا ہی سنائے جا رہی ہو“
”اُس ناول میں لڑکا اور لڑکی دونوں مر جاتے ہیں“ باذلہ نے مومنہ کی بات کاٹتے ہوئے افسردگی سے بتایا۔
اُس ناول میں لڑکا اور لڑکی دونوں مر جاتے ہیں…؟“ مومنہ بڑی مشکل سے باذلہ کا جملہ دہرا پائی، کھلے منہ اور کھلی آنکھوں کے ساتھ۔
باذلہ کے چہرے پر اُداسی تھی۔ اُداسی کے باوجود باذلہ نے بولنا شروع کیا :
”میں مزمل بھائی کو کافی دینے گئی تھی اُسی وقت مزمل بھائی کے کسی کلائنٹ کی کال آئی وہ ٹیرس پر چلے گئے۔ سائید ٹیبل پر کافی کا مگ رکھتے ہوئے مجھے لگا تکیے کے نیچے کوئی چیز ہے میں نے تکیہ اُٹھایا تو اُس کے نیچے ”محبت بے درد سا درد ہے۔“ ناول تھا۔ پیج نمبر چالیس پر بُک مارک تھا۔
میں نے دیکھ کر اُسی طرح ناول پھر وہاں رکھ دیا۔ آج صبح میں مزمل بھائی کی بیڈ روم والی فریج میں فروٹ چاٹ رکھنے گئی تو وہ واش روم میں تھے۔ میں نے جلدی سے تکیہ اُٹھا کر دیکھا تو بک مارک 472نمبر پیج پر تھا۔ صرف ناول کے 1پیج با قی تھا۔“
”1پیج کیوں چھوڑا…؟“ مومنہ نے پوچھا ۔
”1صفحہ پہلے ہی رفعت اور رمیض کی کہانی ختم ہو جاتی ہے“
”مطلب …؟“ مومنہ نے ایسے کہا جیسے اُسے کوئی ڈر ہو۔
”مطلب یہ کہ …وہ دونوں مر جاتے ہیں!!“باذلہ نے سنجیدگی سے بتایا۔
”کیسے…؟“ مومنہ نے غمزدہ آواز میں پوچھا۔
”اب تم ناول کے متعلق پوچھ رہی ہو… اور میں حقیقت کے متعلق سوچ رہی ہوں کہ آگے کیا ہوگا…؟“
باذلہ بات کرتے کرتے خاموش ہوگئی۔ موسمی کے جوس سے اُس نے ایک گھونٹ بھی نہیں لیا تھا، جبکہ مومنہ آدھا جوس پی چکی تھی۔ وہ دونوں کافی دیر خاموش بیٹھی رہیں۔
”مومنہ! مجھے ڈر ہے کہیں مزمل بھائی اور ماہم آپی ایسا کچھ نہ کر گزریں…“باذلہ نے درد میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہا تھا۔ ”ایک ہفتہ رہ گیاہے …شادی میں…“اِس بار مومنہ اُسی تال میں بولی تھی ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Gujrat