Aoun Haider

Aoun Haider

Share

CHADHAR

20/07/2026

جیل اچھی کس سیاسی نے کاٹی آگے کیا ہونے جارہا خان اور نواز شریف کے بارے بڑے انکشافات
ویڈیو پوڈ کاسٹ کی مکمل تحریر
ارشاد بھٹی:
جیل میں عمران خان ہیں، آج کل۔ کیا آپ کو یقین تھا کہ عمران خان اتنی بہادری اور ہمت سے جیل کاٹ لے گا؟

حامد میر:
نہیں، مجھے یقین نہیں تھا کہ عمران خان اتنی بہادری سے جیل کاٹے گا۔

تو اس کی وجہ یہ تھی کہ جب پہلے وہ مشرف دور میں گرفتار ہوئے تھے اور ڈی جی خان جیل میں گئے تھے، تو مجھے بہت سے لوگوں نے بہت سی کہانیاں سنائیں کہ یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ اس کے بعد جس طرح عمران خان بطور وزیراعظم انٹیلی جنس ایجنسیوں کے بہت قریب تھے، حتیٰ کہ وہ اپنے ایم این ایز کو بھی آئی ایس آئی کے ذریعے کنٹرول کرتے تھے، تو مجھے لگتا تھا کہ یہ ان کی وقتی لڑائی ہے، بہت جلد ان کی صلح ہو جائے گی۔

جس طرح نواز شریف نے کمپرومائز کر لیا اور باہر چلے گئے، ویسے ہی عمران خان کا بھی کوئی نہ کوئی کمپرومائز ہو جائے گا۔ لیکن میری توقع کے برعکس عمران خان کو بار بار پیشکش کی گئی، مگر انہوں نے کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔ یہ بات آپ کو ماننا پڑے گی، بھٹی صاحب، کہ انہوں نے جیل بڑی بہادری سے کاٹی ہے۔

ارشاد بھٹی:
آپ کا ویسے کیا خیال ہے؟

حامد میر:
نہیں، اس میں کوئی شک نہیں، عمران خان نے واقعی کمال ہمت سے جیل کاٹی ہے۔
ارشاد بھٹی:
ویسے جیل میں آپ کو بہت سارے لوگ ملے، اور جیل میں جا کر آپ کو... حامد میر، ضرور یاد آتا ہو گا۔ دو ایک دوسرے سیاستدان ایسے بھی تھے جو ٹوٹ گئے، رو پڑے؟
حامد میر:
دیکھیں، میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔ کوٹ لکھپت جیل لاہور، اڈیالہ جیل راولپنڈی اور اٹک جیل میں بہت سے سیاست دانوں سے جا کر ملا ہوں۔ جن سیاست دانوں نے بڑے حوصلے کے ساتھ جیل کاٹی، ان میں سب سے آگے آصف زرداری، پھر شہباز شریف، پھر جاوید ہاشمی اور یوسف رضا گیلانی ہیں۔
نواز شریف صاحب کو میں جیل میں مل نہیں سکا۔ میں نے کوشش کی، لیکن میری کوشش کامیاب نہیں ہوئی، اس لیے میں ان کے بارے میں کچھ نہیں کہتا۔ البتہ مریم نواز نے بھی بڑی ہمت کے ساتھ جیل کاٹی، اور حنیف عباسی صاحب... آپ کو یاد ہو گا، رات کو پونے بارہ بجے میرا اور آپ کا اسی موضوع پر پروگرام بھی ہوا تھا۔
حامد میر:
ہاں، پھر کیمپ جیل لاہور میں میں جا کر سعد رفیق صاحب، خواجہ سلمان رفیق اور دوسرے لوگوں سے بھی ملتا رہا۔ میں بہت سے سیاست دانوں سے جیل میں ملا ہوں۔
دو سیاست دان ایسے تھے، ایک بہت بڑا نام تھا، جو اب اس دنیا میں نہیں رہے، اور ایک ابھی تک اس دنیا میں موجود ہیں۔ انہوں نے جیل اتنی ہمت سے نہیں کاٹی۔ وہ مسلسل ڈیل کرنے کی کوشش کرتے رہے، اور آخرکار ڈیل کر کے باہر آ گئے۔ میں ان کا نام نہیں لیتا، چھوڑ دیں۔
ارشاد بھٹی:
ہاں، مجھے پتا ہے، لیکن آپ نہیں لیتے تو ٹھیک ہے۔ اچھا، عمران خان واپس اقتدار میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔
حامد میر:
اگر عمران خان دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں، تو آپ بھی دعا کریں اور میں بھی دعا کرتا ہوں کہ دوبارہ ان سے میرا میچ نہ پڑے۔
کیونکہ پہلے جب وہ اقتدار میں آئے تھے تو ان کے ساتھ ہمارا میچ پڑ گیا تھا، اور ہم ان کے خلاف سڑکوں پر آ گئے تھے، ہم پر پابندیاں بھی لگ گئیں۔
اب اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو اللہ کرے ہمارا ان کے ساتھ دوبارہ میچ نہ پڑے۔ لیکن جو کچھ آج کل ہو رہا ہے، اگر انہوں نے بھی یہی کچھ کیا تو پھر میچ تو پڑے گا۔
ارشاد بھٹی:
سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کیوں نہیں پنپ سکی؟ کیوں نہیں آگے بڑھ سکی؟
حامد میر:
اس لیے کہ فوجی ڈکٹیٹر اور اس ملک کی خودسر انٹیلی جنس ایجنسیاں بڑی مکاری اور عیاری کے ساتھ سیاسی جماعتوں کو اندر سے توڑتی ہیں، ان میں فارورڈ بلاک بنواتی ہیں۔
جن سیاسی جماعتوں میں جمہوریت ہوتی ہے، انہیں بھی نہیں بخشا جاتا، اور جن میں جمہوریت نہیں ہوتی، انہیں بھی نہیں بخشا جاتا۔
اگر آپ نے ساری کہانی پڑھنی ہے تو اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں نیشنل انٹرسٹ کے نام پر کس طرح آئین توڑتی رہی ہیں، سیاست دانوں میں پیسے تقسیم کرتی رہی ہیں، انہیں ایک دوسرے سے لڑاتی رہی ہیں، اور پھر جب وہ آپس میں لڑتے ہیں تو میڈیا میں اپنے خاص لوگوں کے ذریعے ان کا تماشا بھی لگواتی ہیں۔
ارشاد بھٹی:
کئی دفعہ میں نے آپ سے سوال پوچھا کہ عہدوں کی بھی آفر ہوئی، پلاٹ کی بھی آفر ہوئی، آپ نے نہ عہدہ لیا نہ پلاٹ۔
تو یہ دودھ پیتے بچے ہیں، چوسنی منہ میں ڈالی ہوئی ہے کہ ان کو کوئی آتا ہے، ہاتھ پکڑ کر بھٹکا کے لے جاتا ہے، پھر واپس آ جاتے ہیں؟ ان کا قصور نہیں ہے؟
حامد میر:
اچھا، طعن ہمارا ہے؟ آپ نے سوال بھی اچھا کیا ہے۔ میں آپ کی ساری باتوں سے اتفاق کرتا ہوں، لیکن یہ جو آپ نے دودھ پیتے بچے سمجھے ہوئے ہیں، تو ایک مثال ابھی پیدا ہو گئی ہے جسے میں پیش کر سکتا ہوں۔
ارشاد بھٹی:
کر دیں۔
حامد میر:
عمران خان کے پاس بھی بار بار گئے نا، ڈیل لے کر گئے نا؟
ارشاد بھٹی:
ہاں۔
حامد میر:
تو انہوں نے ڈیل نہیں کی، انکار کر دیا نا؟
ارشاد بھٹی:
ہاں۔
حامد میر:
تو کم از کم آج کے دن ہمارے پاس ایک مثال تو موجود ہے کہ جس سے آپ لاکھ اختلاف کریں، لیکن اس نے ڈیل نہیں کی۔ یہ ایک اچھی مثال ہے۔
ارشاد بھٹی:
کل کا مجھے نہیں پتا، میں آج کی بات کر رہا ہوں۔ کم از کم آج تو ایک مثال بن گئی ہے۔
اچھا، آپ نے اصغر خان کیس کا حوالہ دیا۔ اس میں پیسے لینے والوں میں نواز شریف صاحب کا بھی نام ہے، جاوید ہاشمی صاحب کا بھی نام ہے، شہباز شریف کا بھی نام ہے؟
حامد میر:
نہیں، شہباز شریف کا نام نہیں ہے۔ اس وقت کے تقریباً تمام بڑے سیاست دانوں کے نام آئے تھے، جن میں جتوئی صاحب، الطاف حسین صاحب اور دوسرے لوگ بھی شامل تھے۔
ارشاد بھٹی:
تو بچے تو نہیں تھے نا، پھر قصور تو ان کا ہی تھا؟
حامد میر:
ہاں، قصور ان کا بھی تھا۔
ارشاد بھٹی:
اچھا، چھوٹے چھوٹے سوال...

قاضی فائز عیسیٰ کا خیال آتے ہی پہلا فقرہ یا پہلا خیال کیا آتا ہے؟
حامد میر:
کوئی تبصرہ نہیں۔
ارشاد بھٹی:
آصف زرداری؟
حامد میر:
اللہ ان کو صحت دے۔
ارشاد بھٹی:
بلاول بھٹو؟
حامد میر:
ہوپ فار دی بیسٹ۔
ارشاد بھٹی:
مریم نواز؟
حامد میر:
ڈس اپائنٹمنٹ۔
ارشاد بھٹی:
نواز شریف؟
حامد میر:
ڈس اپائنٹمنٹ۔
ارشاد بھٹی:
شہباز شریف؟
حامد میر:
بِگ ڈس اپائنٹمنٹ۔
ارشاد بھٹی:
مولانا فضل الرحمان؟
حامد میر:
مولانا جو بھی ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر کرم کرے۔
ارشاد بھٹی:
عمران خان؟
حامد میر:
اَن ایکسپیکٹڈ۔
ارشاد بھٹی:
سکندر سلطان راجہ؟
حامد میر:
یار، کسی اور بندے کا نام لے یار، کیا کرنا ہے۔
ارشاد بھٹی:
تھینک یو۔
حامد میر:
نہیں، نہیں، بس ادھر ہی انٹرویو ختم۔
ارشاد بھٹی:
نہیں، نہیں، یہ آپ نے کہاں کی بات کہاں...
حامد میر:
میں معذرت چاہتا ہوں، اس پر انٹرویو ختم۔
ارشاد بھٹی:
نہیں، پلیز سر، پلیز۔
حامد میر:
نہیں، نہیں، پلیز، میرے لیے اس سوال کو چھوڑ دیں۔
ارشاد بھٹی:
اچھا، زندگی کا کوئی مایوس کن لمحہ؟ کوئی ایسا لمحہ جسے آپ ڈپریشن، فرسٹریشن یا شدید مایوسی کا لمحہ سمجھتے ہوں؟
حامد میر:
ماضی قریب میں کافی ایسے واقعات ہوئے جن میں مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ جب پاکستان کے خلاف سازشوں میں اپنے ہی لوگ ملوث نظر آتے ہیں تو بہت مایوسی ہوتی ہے۔
ارشاد بھٹی:
زندگی کا سب سے بڑا دکھ؟
حامد میر:
والدہ کی وفات۔
ارشاد بھٹی:
زندگی کا سب سے فخر کا لمحہ؟
حامد میر:
جب پرویز مشرف نے مجھے آرمی ہاؤس میں طلب کیا...

20/07/2026

کچھ دن پہلے مجھے بہاولپور سے رحیم یار خان جانا تھا۔ راستے میں صبح تقریباً 7 بجے خانپور پہنچ گیا۔ سوچا کیوں نہ یہاں کا مشہور ناشتہ کیا جائے۔ کئی لوگوں سے پوچھا تو سب نے ایک ہی نام لیا، ماڈل ٹاؤن کے احمد بھائی کے چنے۔

میں ان کی دکان پر پہنچا، ایک پلیٹ چاول چنے (150 روپے) لیے اور کھانا شروع کر دیا۔ ابھی چند ہی لقمے کھائے تھے کہ ایک مسافر اپنی موٹر سائیکل پر وہاں آیا۔ اس کے ساتھ اس کی فیملی تھی، دو چھوٹے بچے بھی تھے۔ وہ بڑی جھجک کے ساتھ احمد بھائی کے پاس آیا اور آہستہ سے بولا:

“بھائی، میں بستی جا رہا ہوں، میرے پاس ناشتے کے پیسے نہیں ہیں۔ اگر ممکن ہو تو میری فیملی کو ناشتہ کروا دیں۔”

میں نے سوچا شاید احمد بھائی معذرت کر دیں گے، لیکن جو منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس نے میرا دل جیت لیا۔

احمد بھائی نے فوراً اس مسافر کو عزت کے ساتھ اندر بٹھایا، سب سے پہلے ٹھنڈا پانی پیش کیا، پھر اس کی پوری فیملی کے لیے اچھا سا ناشتہ تیار کروایا۔ نہ کوئی سوال، نہ کوئی تذلیل، نہ ہی کسی کے سامنے اسے شرمندہ ہونے دیا۔

جب وہ فیملی ناشتہ کر کے خوشی خوشی روانہ ہوئی تو میں نے احمد بھائی سے پوچھا:

“بھائی، آپ نے اس سے پیسے کیوں نہیں لیے؟”

احمد بھائی مسکرا کر بولے:

“یہ ہر ہفتے میرے پاس آتا ہے۔ غریب مزدور آدمی ہے، کچھ عرصہ پہلے اس کی مزدوری ختم ہو گئی۔ جب بھی مشکل میں ہوتا ہے، میرے پاس آ جاتا ہے۔ میں اسے کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجتا۔ میں نے اسے گاہک نہیں، اپنا دوست بنایا ہوا ہے۔ دوست سے بھلا پیسے لیے جاتے ہیں؟”

یہ الفاظ سن کر مجھے احساس ہوا کہ اصل دولت پیسہ نہیں، بلکہ بڑا دل ہے۔ انسان کی پہچان اس کے لباس، دکان یا کاروبار سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اخلاق، کردار اور دوسروں کے ساتھ کیے گئے سلوک سے ہوتی ہے۔

بعد میں وہاں موجود کئی لوگوں سے بات ہوئی تو سب نے احمد بھائی کی تعریف کی۔ تب معلوم ہوا کہ احمد بھائی کی کامیابی بھی ایک لمبی محنت کی کہانی ہے۔ انہوں نے تقریباً پانچ سال تک دوسروں کے پاس کام سیکھا، ویٹری کی، پلیٹیں دھوئیں، ہر چھوٹا بڑا کام کیا، پوری ایمانداری سے چنے بنانے کا ہنر سیکھا۔ پھر اپنے استاد سے اجازت لے کر اپنا چھوٹا سا چاول چنے اور نان چنے کا پوائنٹ شروع کیا، اور آج خانپور میں ان کے چنے لوگوں کی پہلی پسند بن چکے ہیں۔

مجھے ایسے لوگوں کی کہانیاں شیئر کرنا اس لیے اچھا لگتا ہے کیونکہ یہ صرف کھانا نہیں بیچتے، بلکہ محبت، عزت اور انسانیت بھی بانٹتے ہیں۔

اگر آپ کبھی خانپور جائیں تو ایک بار ضرور احمد بھائی کے پاس ناشتہ کریں۔ یقین کریں، صرف چنوں کا ذائقہ ہی نہیں بلکہ ان کے اخلاق بھی آپ کے دل میں جگہ بنا لیں گے۔

📍 لوکیشن: ماڈل ٹاؤن روڈ، شمع بریانی کے بالکل ساتھ، خانپور۔

اللہ تعالیٰ احمد بھائی کے رزق میں مزید برکت عطا فرمائے، انہیں ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنے کی توفیق دے، اور ہم سب کو بھی ایسا دل عطا فرمائے جو کسی ضرورت مند کو خالی ہاتھ واپس نہ لوٹائے۔ آمین۔

20/07/2026

Me Form vehari and you ?????

20/07/2026

لاہور کے علاقے گلشنِ راوی میں ایک بیکری پر خراب سینڈوچ واپس کرنے کے معاملے پر ہونے والا جھگڑا افسوسناک صورت اختیار کر گیا۔ اطلاعات کے مطابق تلخ کلامی کے دوران خاتون نے کیش کاؤنٹر پر موجود نوجوان کو تھپڑ مارا، جس کے ردِعمل میں نوجوان نے خاتون کو کئی تھپڑ مار دیے۔ بعدازاں پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا۔

اس واقعے نے ایک اہم سوال ضرور اٹھایا ہے کہ عزت، تحفظ اور قانون کیا صرف ایک جنس کے لیے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی خاتون کو مرد پر ہاتھ اٹھانے کا حق نہیں، اور کسی مرد کو بھی جواب میں حد سے بڑھ کر تشدد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ پہلا تھپڑ غلط تھا، لیکن اس کے جواب میں کئی تھپڑ مارنا بھی کسی طور جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

معاشرے میں اکثر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ مرد کو مارا جائے تو اسے خاموش رہنا چاہیے، ورنہ اسے ہی ظالم قرار دے دیا جائے گا۔ یہ رویہ بھی درست نہیں۔ مرد ہو یا عورت، ہر انسان کی عزتِ نفس برابر ہے۔ کسی کو بھی دوسرے پر ہاتھ اٹھانے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔

انصاف کا مطلب بدلہ لینا نہیں بلکہ قانون کے مطابق کارروائی ہونا ہے۔ اگر کسی نے حملہ کیا ہے تو اس کے خلاف پولیس اور عدالت سے رجوع کیا جانا چاہیے، نہ کہ غصے میں خود فیصلہ کرکے تشدد کو مزید بڑھا دیا جائے۔ ایسے واقعات میں دونوں فریقوں کے کردار کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور جس نے جتنی زیادتی کی، اسے اسی کے مطابق جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔

ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں عورت کی عزت بھی محفوظ ہو اور مرد کی عزت بھی۔ تشدد خواہ کسی بھی جانب سے ہو، اس کی حمایت نہیں ہونی چاہیے۔ قانون سب کے لیے برابر، اور سزا بھی عمل کے مطابق ہونی چاہیے۔

20/07/2026

مفتی عبدالقوی نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ہماری پی ٹی آئی کی بہت بڑی لیڈر ہیں، انہوں نے مجھے کہاکہ چارسال ہوگئے ہیں ، میرا خاوند مجھے چھوڑ کر چلاگیاہے، میں نے کہاکہ میں حاضرہوں۔میزبان نے استفسار کیاکہ پھر آپ نے کیا کیا؟اس پر مفتی عبدالقوی نے کہاکہ انہوں نے پیغام نکاح دیا، میں نے قبول کیا، پھر اس کے بعد جس طرح میاں بیوی کے تعلقات ہوتے ہیں، حلال ، طبیب، اسی طرح ہم وقت گزار رہے ہیں۔

20/07/2026

🚨🏍️ ہونڈا والوں سے ہماری ایک چھوٹی سی اپیل! ❤️

🙏 اگر آپ 2027 ماڈل لانچ کریں تو پلیز اس میں ایسا ڈیجیٹل میٹر ضرور دیں جس میں:

⛽ فیول گیج
💚 نیوٹرل لائٹ
📈 RPM میٹر
➡️ انڈیکیٹر سگنلز
🏍️ گیئر پوزیشن انڈیکیٹر
📊 ایک لیٹر میں کتنی ایوریج آ رہی ہے، وہ بھی Live شو کرے۔

💯 اگر اتنے مہنگے داموں موٹرسائیکل خرید رہے ہیں تو ایسے جدید فیچرز بھی ضرور ہونے چاہییں۔ 😍

📢 زیادہ سے زیادہ اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ یہ ہونڈا والوں تک پہنچ جائے، شاید 2027 ماڈل میں ہماری یہ خواہش پوری ہو جائے! 🤲🔥

❓ کمنٹ میں ضرور بتائیں، یہ ڈیجیٹل میٹر آپ کو کیسا لگا؟
👍 کیا آپ بھی چاہتے ہیں کہ 2027 ماڈل میں ایسا میٹر آئے؟ 💬

❤️ جلدی سے ہمیں فالو کریں، پوسٹ کو لائک کریں اور اپنے
تمام بائیک والے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں! 🏍️🔥
منجانب # غوثیہ ہمدانیہ آٹو ورکشاپ جھنگ
مستری محسن علی ماہی

05/04/2026

ptianMuseumPriya

20/03/2026

میں اپنی پوری ہوش و حواس میں بغیر کسی جبر و تشدد کے حلفیہ کہتا ہوں۔ میں موبائل فون، ایزی لوڈ، اور پیکجز لیتے ہوئے ٹیکس ادا کرتا ہوں، کھانے پینے، پہننے کے اشیاء پر ٹیکس ادا کرتا ہوں، گیس، پانی، کا بل ادا کرتے ہوئے ٹیکس دے دیتا ہوں۔ الغرض صبح جاگنے سے لیکر رات سونے تک جتنی چیزیں میرے استعمال میں ہوتی ہیں سب کا ٹیکس ادا کر رہا ہوتا ہوں۔ میں اپنا ٹیکس ان تمام سرکاری ملازمین پر بخشتا ہوں جو بغیر رشوت اور ہیرا پھیری کے ایمانداری سے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ میرا ٹیکس ان سیاستدانوں پر حرام ہے جو اپنے بچوں کے لیے میرے پیسوں سے باہر ممالک میں جائیدادیں بنا کر ان کا مستقبل تاریک کر رہے ہیں۔ جو جرنیل میرے پیسوں سے باہر ممالک میں جزیرے خرید رہے، کمپنی اور ریسٹورانٹ چلا رہے ہیں، کھیل سے وابسطہ تمام لوگ جو میرے ٹیکسوں پر عیاشیاں کر رہے، سیاستدان اور ان کے بچے میرے ٹیکسوں سے شراب پیتے ہیں، جوئے کھیلتے ہیں، زنا کاری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ آج حلفیہ کہتا ہوں کہ میں اپنے ٹیکس کا ایک پیسہ بھی ان پر حرام سمجھتا ہوں، لہذا قیامت کو یہ لوگ اپنی ان حرکتوں کا خدائے ذوالجلال کو خود جوابدہ ہونگے۔ میں ان سے برأت کا اعلان کرتا ہوں اور روز محشر ان کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اپنا حق مانگنے کا حق رکھتا ہوں۔ نوٹ: حلف نامہ ٹرینڈ میں حصہ لیں، تحریر کو اپنے نام اور تصویر کے ساتھ کاپی کر کے وال کی زینت بنائیں۔

Aoun Haider CHADHAR

18/03/2026

🚨 عاقب جاوید کا جھوٹ ایک بار پھر یہاں پکڑا گیا 🚨
یہ ہے وہ ان فٹ ( انجرڈ ) فخر زمان جس کا عاقب جاوید نے ذکر کیا تھا کہ فخر زمان کو انجری کی وجہ سے بنگلہ دیش سیریز سے ڈراپ کیا تھا۔ آج فخر زمان نے نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں ہوا میں اڑ کر ایسا کیچ پکڑا جس جو کسی کا یقین بھی نہیں آرہا ۔
عاقب جاوید اب کس منہ سے پی سی بی میں بیٹھا ہوا ہے اس کو خود نکلنا چاہیے ۔
ٹرینڈ بنا ہوا ہے عاقب جاوید کے خلاف اس کو نکالنا اب ہمارا فرض بن گیا ہے سارے دوست ٹرینڈ میں اپنا حصہ ڈالیں اگر پاکستان کرکٹ کو بچانا ہے۔
" عاقب جاوید کو نکالو پاکستان کرکٹ کو بچالو "

14/03/2026
Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Chak No 161 Wb Vehari
Islamabad
61110