Subhan Zaheer Abbasi
Advertisment
19/11/2023
جنگل میں شیروں نے گدھے کا بچہ شکار کر لیا۔
گدھے کا بچہ کافی حد تک زخمی تھا تو ایک بزرگ شیر نے کہا: اسے مزید مارنے یا کھانے کے بجائے اسے اپنے پاس رکھ کر پال پوس کر بڑا کرنا زیادہ فائدہ مند ہے..
بوڑھے شیر کی بات مان کر شیروں نے اس گدھے کو گود لے لیا اور اس کا اچھّے سے خیال رکھا حَتّیٰ کہ وہ شیروں کا وفادار گدھا بن گیا..
ایک دن اسی بزرگ شیر نے کہا، اب وقت آگیا ہے کہ اس گدھے کو واپس اس کی برادری میں چھوڑ دیا جائے..
شیروں نے ایسا ہی کیا اور اس گدھے کو اپنی ہمراہی میں لے جا کر گدھا برادری کے سپرد کردیا اور کہا یہ گدھا تم میں سے باقی گدھوں سے ممتاز ہے
کیونکہ یہ ہمارا حمایت یافتہ گدھا ہے..
گدھوں نے فورًا اس گدھے کو اپنا سردار مان لیا اور شیروں کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے اور نافرمانی سے ڈرتے رہتے۔
کیونکہ جو بھی گدھا اس سردار گدھے کی حکم عدولی کرتا تو سردار گدھا اس نافرمان گدھے کو گرفتار کرکے
شیروں کے حوالے کر دیتا اور وہ اس نافرمان کو چیر پھاڑ کر کھا جاتے تھے..
اس طرح گدھوں کو سردار مل گیا اور شیروں کو شکار کی پریشانی سے نجات مل گئی..
جہاں تک بات ہے اس سردار گدھے کی تو وہ گدھوں کے نزدیک شیر تھا اور شیروں کے درمیان گدھا تھا..
اس پوسٹ کا ریاستی موجودہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے..
😊
18/10/2023
ہن آرام ہی 🤣🤣🤣🤣گڈ ویری گڈ
کل ایبٹ آباد میں ایک تاریخی شخصیت 106 سال کی عمر میں وفات پا گئی
آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ وہ کون سی شخصیت تھی جو گمنام رہی تو وہ شخصیت اس سید اکبر کی بیوی تھی جس نے 1951 میں ہمارے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا لیاقت باغ راولپنڈی میں قتل کیا تھا. اس سید اکبر کو تو موقع پر ہی پکڑنے کی بجائے قتل کیا گیا تھا
مگر اسکے چار بیٹوں اور بیوہ کو ایبٹ آباد کنج قدیم میں ایک گھر الاٹ کیا گیا اور سخت پہرے میں اُس وقت کی جدید ترین سہولیات بھی مہیا کی گئی تھیں
اسکا بڑا بیٹا دلاور خان جو اُس وقت 8 سال کا تھا، آج بھی 85 سال کی عمر میں زندہ سلامت اپنے ذاتی بہت بڑے گھر میں شملہ ہل بانڈہ املوک میں رہائش پزیر ہے کیونکہ جو گھر اس کو اور اسکی ماں کو الاٹ کیا گیا تھا وہ بیوہ کے نام پہ تھا اور انکا بچپن وہاں گزرا
اِسی دوران پہرہ دینے والے سپاہی سے انکی ماں نے شادی کر لی اور اسکے ہاں 5 بچے یعنی 4 بیٹے اور ایک بیٹی کی مزید پیدائش ہوئی، 8 بھائی اور ایک بہن والا کنبہ نہایت خوشحال زندگی گزارتا رہا, بالآخر دلاور خان کی شادی بھی اسکے دوسرے پاکستانی والد بدل زمان خان نے اپنی رشتہ دار سے کروائی جو 7 بچوں یعنی 4 بیٹوں اور 3 بیٹیوں کی ماں ہے، سید اکبر (لیاقت علی خان کا قاتل) کے باقی 3 بیٹے یکے بعد دیگرے امریکہ میں سیٹل کرا دیئے گئے
دلاور خان شادی کے کچھ عرصہ بعد کابل گیا، بقول اس کے اپنی آبائی زمینیں دیکھنے اور اپنی بیوی اور ایک ہی بیٹا جو اس وقت تھا اس کو ماں کے پاس چھوڑ رکھا تھا 8 سال بعد واپس آیا اور بیوی بچے کو بھی لے گیا مگر کچھ عرصہ آتا جاتا رہا اور بالآخر پچھلے 50 سال سے مستقل اپنے ذاتی گھر میں مقیم ہے. الاٹ ہوا گھر ماں نے فروخت کر دیا اور دوسرے خاوند کے بچوں کے ساتھ نئے بنگلوں میں رہائش پذیر ہو گئی اور بالآخر دنیا سے رخصت ہو گئیں
امید ہے آپ لوگوں کو پہلے وزیرِ اعظم کے قتل کے بارے کچھ تو سمجھ آئی ہو گی؟
لیاقت علی خان کو جس نے شہید کیا اس قاتل کی بیوہ کو وظیفہ دیا جاتا رہا اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کی بیوہ رعنا لیاقت علی خان کی پینشن حکومت پاکستان کی جانب سے روک دی گئی. قاتل سید اکبر کے بیٹے امریکہ گئے اور وہاں کاروبار کر کے کروڑ پتی بنے، جبکہ بھارت میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین سینکڑوں ملازم اور کروڑوں روپے ملک پاکستان کی خاطر ٹھکرا کر ہجرت کرنے والے نواب لیاقت علی خان کے بچے ان کی شہادت کے بعد سکول کی فیسوں اور روٹی کے چند نوالوں کو ترستے رہے. *سید اکبر کو قتل کر کے کیس ختم/ خراب کرنے والے ڈی ایس پی کو خانیوال میں مخدوم پور پہوڑاں روڈ پر ایک چک میں 10 مربع زرعی اراضی سے نوازا گیا اسکی اولادیں بھی آج عیش کر رہی ہیں
کس شخصیت کی ایماء پر قائداعظم کی بہن کو جلوسوں میں نازیبا الفاظ سے نوازا گیا قوم اب کھوجتی ہے پرکھتی ہے اور سمجھتی ہے اور آخر میں یہ بتاتا چلوں کہ لیاقت علی خان کو جب شہید کیا گیا تو وزیر اعظم پاکستان تھے مگر انکی شیروانی کے نیچے موجود بنیان کئی جگہ سے پھٹی ہوی تھی
لیاقت علی خان کے قتل کی کامیاب سازش کے بعد آج تک پاکستان کے ساتھ یہی کھلواڑ کھیلا آتا جا رہا ہے
اس تحریر میں غور وفکر کرنے والوں کیلئے بہت نشانیاں ہیں
تھوڑا نہیں پورا سوچو ...
(copy)
@الجمیع
تاش کھیلتے ہوئے کسی جوارئیے کو خبر ملی کہ اس کی ماں مر گئی ہے،
اس نے پیغام دیا کہ قبر کشائی کروائیں، میں بازی ختم کر کے پہنچ رہا ہوں، پھر خبر آئی کہ قبر کشائی ہو گئی، اس نے پھر پیام دیا، غسل اور کفن کا انتظام کریں، میں پہنچتا ہوں، خبر آئی کہ وہ بھی ہو گیا ہے، کہنے لگا، جنازہ اٹھائیں، میں پہنچنے لگا ہوں، پھر خبر ملی کہ جنازہ روانہ ہو گیا ہے،
کہنے لگا،مولوی کو کہیں، شروع کرے، میں بس آیا پہنچا،
آخری خبر آئی کہ جنازہ ہو گیا ہے،اور تدفین کر دی گئی ہے،
بولا،چلیں اللہ مغفرت فرمائے،،
چلو بھئی نئی بازی شروع کرو،،
احباب،،!
پاکستان وہ مرنے والی ماں ہے،اور جبکہ اسٹیبلیشمنٹ ، عدلیہ اور سیاستدان سب اس ماں کی جواری اولاد ہیں، جن کے سامنے ماں مر رہی ہے، اور یہ سب بازیاں کھیل رہے ہیں،،!!
😥😥
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Islamabad
22651