Agricultural Solutions in Pakistan

Agricultural Solutions in Pakistan

Share

Dear fellows this page is a plate form where i shall share my personal experience and knowledge about Agriculture. Also criticize where necessary.

I shall welcome others to share their experience and ask freely any queries they may have about Agriculture.

21/10/2023

DEADLINE EXTENDED only for applicants who have applied at Commonwealth portal, but have not applied at HEC scholarship portal yet.

For info & online application of Masters & PhD Scholarship, visit: www.hec.gov.pk/site/CWGS

For info & online application of Teaching Faculty (PhD) Scholarship, visit: www.hec.gov.pk/site/CWTF

21/10/2023
20/10/2023

کٹنگز (قلمیں) لگانے کا طریقہ۔۔۔ اور کن پودوں کی قلمیں لگا سکتے ہیں۔۔۔

1۔ قلم لگانے کے لیے اس پودے کا انتخاب کریں جس کا اسی جیسا پودا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی کوئی صحت مند سی شاخ لیں جس کی کم از کم موٹائی ایک پنسل جتنی ہو۔
2۔ اسے 45 درجے کے زاوئیے سے کاٹ کر پودے سے الگ کریں اور نیچے سے پتے اتار دیں۔
3۔ کٹ کے قریب تقریبا ایک انچ کی چھال چھیل لیں۔
4۔ ایک برتن لیں جس میں شہد اور ایلوویرا جیل برابر مقدار میں ڈال لیں اور اس میں تھوڑا سا دار چینی پاوڈر یا ہلدی پاؤڈر (تقریباً آدھی چٹکی) ڈال دیں۔ صرف ایلوویرا یا صرف شہد سے بھی کام چل جائے گا۔ یہ چیز روٹنگ ہارمون (rooting harmone) کا کام کرتی ہے۔
5۔ یہ آمیزہ اس چھلی ہوئی جگہ پر لگا دیں۔ یا قلم کو اس میں ڈبو دیں۔
6۔ ایک گملا لیں اس کے اندر 40 فیصد مٹی اور 60 فیصد ریت اور تھوڑی سی ورمی کمپوسٹ ڈالیں اور اس کے اندر یہ قلمیں لگا دیں اور پانی دیں۔
7۔ چند دانے ایس ایس پی یا ڈی اے پی یا این پی کے کھاد ڈال دیں۔ یہ جڑوں کے پھوٹنے میں مدد دے گی۔
8۔ ایک بار فل پانی دینے کے بعد پھر جب تک اوپری مٹی خشک نہ ہو پانی بالکل نہیں دینا
9۔ قلموں کے اوپر پولیتھین بیگ چڑھا دیں لیکن شاپر قلموں کو ٹچ نہ کرے۔ یہ ایک پولی ہاؤس بن جائے گا اور گملے کے اندر نمی برقرار رہے گی۔
10۔ تقریباً 10 دنوں بعد شاپر ہٹا کر نمی والا پانی صاف کر دیں۔ ٹہنیوں کا مشاہدہ کریں اور پانی وغیرہ چیک کر کے دوبارہ ڈھک دیں۔
11۔ ایک مہینے بعد آپ کی قلمیں کئی پتے نکال چکی ہوں گی۔ اب انہیں اپنی پسند کی جگہ پر لگا سکتے ہیں۔ اس دوران خیال کریں کہ جڑیں خصوصاً تنے کے ساتھ والی جڑیں بالکل اوپن نہ ہوں اور چند دن تیز دھوپ سے بچائیں۔

ضروری نہیں کہ یہ قلمیں پودے فروخت کرنے کے لیے ہی لگائی جائیں۔۔۔ کسی کو گفٹ دینے کی نیت سے بھی لگا سکتے ہیں ان شاءاللہ اس سے مفت میں نیکیاں ملیں گی۔

کن پودوں کی قلمیں (کٹنگز) کب لگا سکتے ہیں؟

1۔ ٹکوما بیل۔۔۔ اکتوبر سے فروری تک۔
2۔ ہابسکس، چائنہ روز۔۔۔ اکتوبر سے فروری تک۔
3۔ گل عباسی۔۔۔ اکتوبر سے فروری تک۔
4۔ انگور۔۔۔ اگست سے فروری تک۔
5۔ انار۔۔۔ اگست سے فروری تک۔
6۔ گلاب۔۔۔ اکتوبر سے فروری تک۔
7۔ سکھ چین۔۔۔ دسمبر جنوری فروری۔
8۔ موتیا۔۔۔ اگست سے مارچ تک۔
9۔ پاپولر۔۔۔ جنوری فروری۔
10۔ امرود۔۔۔ جنوری فروری۔
11۔ شیشم (ٹاہلی)۔۔۔ جنوری فروری۔
12۔ سوہانجنا (مورنگا)۔۔۔ اکتوبر سے مارچ تک۔
13۔ انجیر۔۔۔ اگست سے مارچ تک۔
14۔ بوگن ویلیا۔۔۔ نومبر سے جنوری تک
15۔ جھمکا بیل۔۔۔ اکتوبر سے فروری تک۔
16۔ املوک (جاپانی پھل)۔۔۔ جنوری فروری
17۔ فالسہ۔۔۔ اکتوبر سے فروری تک۔
18۔ شہتوت۔۔۔ جنوری فروری۔
19۔ بیری۔۔۔ دسمبر جنوری فروری۔
20۔ چونگاں۔۔۔ سارا سال۔
21۔ پلکن۔۔۔ اکتوبر سے فروری تک۔
22۔ بوہڑ۔۔۔ موسم برسات اور بہار میں۔
23۔ لاجرسٹرومیا۔۔۔ نومبر دسمبر جنوری۔
24۔ یوفوربیا۔۔۔ اکتوبر سے فروری تک۔
25۔ گلو وائن۔۔۔ سارا سال۔
26۔ چاندنی، چاننا۔۔۔ نومبر دسمبر جنوری۔
27۔ کنیر۔۔۔ اکتوبر سے فروری تک۔
28۔ مروا۔۔۔ نومبر دسمبر جنوری میں۔
29۔ جٹروپھا۔۔۔ اکتوبر سے فروری تک۔
30۔ گل چین/چمپا۔۔۔ نومبر دسمبر میں۔

مزید آپ بھی بتا سکتے ہیں۔

08/10/2021

"پاکستان میں شہد کی مکھیوں کا قتلِ عام" ==============================

ہم 1993 سے شہد کے حوالے سے پروڈکشن، سپلائی، مینجمنٹ اور ریسرچ سے منسلک ہیں ۔ 2008 میں جن دنوں اسلامی اکیڈمی آف کمیونیکیشن آرٹس کی بنیاد رکھی گئی تھی انہی دنوں بازار میں عام فروخت ہونے والے شہد اور اصل خام شہد کے متعلق ہمارے تحقیقات مکمل ہوئی تھیں جس کی بنیاد پر علمائے کرام سے مشاورت کے بعد ہم نے شہد کی عام فروخت کو محدود کر دیا اور 2010 تک تمام سیل پوائنٹس بند کرکے شہد کے کام کو صرف اپنے عزیزوں، رشتہ داروں، دوستوں اور اُن خریداروں تک محدود رہنے دیا جو کہ شہد کے متعلق مکمل معلومات رکھتے اور خام اور پروسیس شہد میں فرق جانتے تھے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جیسے ہمارے ملک میں ہردوسرا شخص مفتی اور ہر تیسرا شخص ڈاکٹر ہے اسی طرح شہد کے متعلق بھی ہر شخص اپنے آپ کو ماہر سمجھتا ہے اگرچہ اس کے متعلق کچھ بھی نہ جانتا ہو۔

اب وہ تحقیقات کیا تھیں جن کی بنیاد پر ہمیں اپنے کاروبار کو محدود کرنا پڑا اس کی تفصیل میں ابھی یہاں نہیں جائیں گے۔

ہم کیونکہ عام لوگوں کے بجائے صرف شہد کے متعلق معلومات رکھنے والوں کو ہی شہد اور شہد کے کاروبار کے متعلق رہنمائی فراہم کرتے ہیں اس لئے کبھی اس کی تشہیر بھی نہیں کی۔
لیکن یہاں شہد سے متعلق اپنے کاروبار اور تربیتی ترتیب کی تشہیر کرنا مقصود نہیں ہے موضوع ہے "پاکستان میں شہد کی مکھیوں کا قتلِ عام"

اوپر یہ تذکرہ صرف اس لئے کیا تاکہ پڑھنے والوں کو اندازہ ہوجائے کہ شہد کی پروڈکشن، سپلائی، مینجمنٹ اور ریسرچ کے ستائیس سالہ تجربے کی بنیاد پر جو بات کی جارہی ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے۔

-
-
-
پچھلے چند سالوں میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے سے شہد فروخت کرنے والوں کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔

ان میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو شہد اور شہد کی مکھی کے متعلق معلومات نہیں رکھتے صرف ان کو شہد کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والے منافع سےغرض ہے۔

یہ سوشل میڈیا پر شہد کی مکھی کے پورے پورے چھتے دکھا کر شہد کو خالص ثابت کرتے ہیں اور پھر اس کو زیادہ سے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔

ان کو اس بات کا بالکل اندازہ نہیں کہ شہد کی مکھی کے مکمل چھے کو اتارنا کتنا بڑا ظلم ہے۔

سال کے کسی بھی حصے میں اگر شہد کا مکمل چھتا اتار لیا جائے تو شہد کی تمام مکھیاں مر جاتی ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شہد کے چھتے میں ایک ملکہ مکھی ہوتی ہے جو انڈے دیتی ہے اور اس ملکہ کے کسی وجہ سے مر جانے کی صورت میں مکھیاں شہد کے چھتے میں موجود بچوں میں سے نئی ملکہ کو منتخب کرتی ہیں جس سے شہد کی کالونی کا نظام چلتا رہتا ہے۔ مگر پورا چھتہ اتارنے کی صورت میں ملکہ مکھی مرجاتی ہے اور تمام بچے بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ بقایا مکھیاں ناصرف کے بے گھر ہو جاتی ہیں بلکہ ان کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں رہتا اس لیے چھتے کی تمام مکھیاں بھوک اور پیاس سے مرتی ہیں۔

مکھی نے شہد کو سردیوں میں استعمال کی خوراک کے طور پر محفوظ کیا ہوتا ہے۔
جب ان سے مکمل شہد لے لیا جاتا ہے اور ان کے چھتے بھی اتار لیے جاتے ہیں تو نہ ان کے پاس رہنے کی جگہ ہوتی ہے اور نہ ہی سردیاں گزارنے کے لیے کوئی خوراک۔ چھتے میں موجود ملکہ مکھی جو کہ سائیز میں بڑی ہونے کی وجہ سے اُڑ بھی نہیں سکتی وہ بھی ضائع ہو جاتی ہے۔

یہ بیچاری مکھیاں بھوک، پیاس اور سردی کی شدت سے مرتی ہیں اسی وجہ سے اب دیہی علاقوں میں بھی شہد کی مکھیوں کی تعداد تیزی سے کم ہورہی ہے
-
-
-
-
پاکستان میں شہد کی مکھیوں کی چار اقسام پائی جاتی ہیں ان میں سب سے بڑی ڈورساٹا ہے اس کے بعد میلیفیریا اور پھرفلوریا اور اس کے بعد سرانا۔
پاکستان میں نا تو شہد کی سب سے بڑی مکھی پائی جاتی ہے جس کا نام "لیبریوسا" ہے اور نہ ہی سب سے چھوٹی مکھی جس کا نام "انڈرينيفورميس" ہے۔

جبکہ عمومی طور پر لوگ ابھی بھی صرف چھوٹی مکھی اور بڑی مکھی پر ہی بحث میں مصروف ہیں۔

یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ پوری دنیا میں شہد پر تحقیق کے حوالے سے مکھیوں سے زیادہ اِن پھولوں کی اہمیت رہی ہے جن سے شہد حاصل کیا گیا ہو۔

پوری دنیا میں شہد پرتحقیق کا بہت کام ہو چکا ہے، نا صرف کے شہد بلکہ شہد کی مکھی کے حوالے سے بھی بہت سے حقائق سامنے آئے ہیں جو کہ عام لوگوں کے لیے ناصر کے حیران کن ہیں بلکہ اس بات کو بھی واضح کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں ایک پوری سورت شہد کی مکھی کے نام پر کیوں ہے اور اس کو اتنا تفصیل سے کیوں بیان کیا گیا ہے۔

قرآن کریم میں شہد سے متعلق آیات میں مختصر مگر انتہائی جامع طور پرشہد کی مکھی اور شہد کے متعلق معلومات دی گئی ہیں، جن کو مکمل طور پر سمجھنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں اس کو شہد کے ماہرین ہی سمجھ سکتےہیں لیکن یہ ایک الگ موضوع ہے اس کو یہاں طوالت کے ڈر سے ذکر نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن شہد کی مکھی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تحقیق کے مطابق 60 سے 80 فیصد انسانی خوراک کی پیداوار شہد کی مکھی کی مرہونِ منت ہے کیونکہ یہ پودوں میں پولینیشن کا کام کرتی ہے جس کی وجہ سے ہی پھل اور سبزیاں پیدا ہوتے ہیں۔

اسی حوالے سے معروف سائنسدان البرٹ آئن سٹائن کا قول ہے کہ:
"If the bee disappeared off the surface of the globe then man would only have four years of life left. No more bees, no more pollination, no more plants, no more animals, no more man."
--Albert Einstein --
ترجمہ:
"اگر مکھی دنیا کی سطح سے ختم ہو جاتی ہے تو پھر "انسان کے پاس زندگی کے صرف چار سال باقی رہ جاتے ہیں"۔ اگرمکھیاں نہیں ہوں گی تو پولینیشن نہیں ہوگی اور پولینیشن نہ ہونے کی وجہ سے پودے نہیں ہوں گے، جس کی وجہ سے جانور ختم ہو جائیں گے اور پھر انسان بھی ختم ہوجائیں گے۔
--البرٹ آئن سٹائین--
-
-
-
-
آپ کو اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ قدرت کے اس نظام میں شہد کی مکھی کس قدر اہم ہے۔
جیسے ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے لیے ماہرین کی سرپرستی ضروری ہے اسی طرح شہد کے کام سے متعلق لوگوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ اس شعبے کے ماہرین سے تربیت حاصل کریں اور پھر شہد کے کاروبار سے منسلک ہوں۔

شہد کی مکھیوں کے قتل عام کے حوالے سے محکمہ زراعت اور محکمہ جنگلات پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کی روک تھام کے لیے بھرپور اقدامات کریں ورنہ آنے والے سالوں میں شہد کی مکھیوں کے کم ہو جانے کی صورت میں ہماری تمام فصلیں اور باغات پیداوار کی شدید کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
-
-
-
-
فوری کرنے کے کام درج ذیل ہیں:-

1-
شہد کی مکھی کے مکمل چھے اتارنے پر مکمل پابندی اور جرمانہ عائد کیا جائے ۔

2-
سرانا مکھی کے چھتے اتارنے پر مکمل پابندی لگائی جائے کیونکہ اس میں شہد بھی بہت کم ہوتا ہے اور یہ مکھی بھی ناپید ہوتی جا رہی ہے۔

3-
ڈورساٹا اور فلوریا مکھی کے مکمل چھتے نہ اتارے جائیں بلکہ صرف شہد والا حصہ اتارا جائےاور کچھ شہد مکھی اور اس کے بچوں کے لیے چھوڑ دیا جائے۔

4-
زراعت کے شعبے میں شہد کی مکھی کی اہمیت کے پیش نظر محکمہ زراعت اور محکمہ جنگلات شہد کی مکھی کی حفاظت کے لئے حکومتی سطح پر قانون سازی کے لئے موثر اقدامات کریں۔

5-
ان تمام معاملات کو طے کرنے کےلیے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز (NARC) کے شعبہ مگس بانی سے رہنمائی حاصل کی جائے .

6-
شہد کی کوالٹی سے متعلق عوام کے خدشات کو دور کرنے کے لیے لیبارٹریوں کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ شہد کے خالص ہونے کی یقین دہانی کرنے کے لئے چھتوں میں شہد حاصل کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

-----------------------------

08/10/2021

جاپانی پھل کے ایسے فوائد جو آپ کو حیران کر دینگے

املوک کو جاپانی پھل بھی کہا جاتا ہے جس کے چھلکے میں قدرتی طور پر بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات سے بچانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

اس میں فاسفورس اور کیلشیم جیسے منرلز اور وٹامنز اے اور سی شامل ہوتے ہیں۔

یہ پھل وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کیلئے مفید ہوتا ہے، کیونکہ 128گرام کے اس جاپانی پھل میں 31گرام کاربوہائیڈریٹ موجود ہوتے ہیں۔جبکہ اس میں فیٹس کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

اس کے چھلکے میں موجود فائٹو کیمیکل جلد پر ہونے والےبڑھتی عمر کے اثرات سے بچاتا ہے۔ جبکہ اس میں موجود فائبر زہاضمہ بہتر بناتے ہیں۔

قبض کشا خصوصیات کی وجہ سے یہ ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو قبض میں مبتلا رہتے ہیں یا جگر کے مسائل کا شکار ہیں۔ دوسری جانب یہ پیشاب آور ہونے کی وجہ سے یہ پانی کی شکایت دور کرتا ہے اور پیشاب کی مقدار کو بڑھاتا ہے اس میں پوٹاشیم کی موجودگی پیشاب کے ذریعے اہم معدنیات کو ضائع نہیں ہونے دیتی۔

پرسیمن یعنی املوک میں موجود شکر اور فرکٹوس کی وافر مقدار جسم کو توانائی فراہم کر کے ذہنی دباﺅ اور سستی کے اثرات کو بھی ختم کرتی ہے۔

کھیل کود یا جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے لوگوں اور بچوں کے لیے بہترین ہے۔

جاپانی پھل معدے اور نظام ا نہضام کی خرابیوں کو بھی ٹھیک کرتاہے۔ جاپانی پھل اینڈکس کے مرض میں بھی مفید ہے۔ بڑی آنتوں اور چھو ٹی آنتوں کے ورم میں نہایت ہی کارآمد پھل جاپانی پاکستان میں کئی علاقوں میں اگایا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایسا پھل ہے کہ جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے پھل کا پکا ہوا ہونا ضروری ہے کچا املوک نہ کھایاجائے۔

ایک تحقیق کے مطابق املوک میں وٹامن اے، وٹامن بی اور سی، پروٹین، کیلشیم، فاسفورس، فولاد اور پوٹاشیم پایا جاتا ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ سو گرام پھل میں صرف 80 کیلوریز ہوتی ہیں۔

یوں تو املوک کے کئی فائدے ہیں لیکن ذیل میں اس کے چند طبعی فوائد بیان کئے جاتے

املوک کو کمر درد میں کھانا انتہائی فائدہ مند ہے۔

گلے کی سوزش اور خراش میں بھی یہ فائدہ مند پھل ہے۔

یہ نظام انہضام کو درست رکھتا ہے۔

دل کی بیماریوں میں کھانا بھی فائدہ مند ہے۔

یہ شوگر کو کنٹرول کرتا ہے۔

قوت معدافعت میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔

معدے کی جملہ خرابیوں کو دور کرتا ہے۔

سخت جسمانی مشقت سے پٹھوں کی اکڑن اور درد میں مفید ہے۔

بڑی آنت میں خرابیوں کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔

وزن کی کمی کا سبب ہے۔

یہ پھل آنت کے زخم ٹھیک کرتا ہے۔

بڑی آنت کے ورم کو کم کرتا ہے۔

قبض کو دور کرتا ہے۔

اپینڈکس کے مرض میں بھی کھانا مفید ہے۔

22/09/2021

. 🥭🥭🥭 آم کی گٹھلی کا مکھن/ کوکا بٹر

پاکستان میں اوسطاً سالانہ پندرہ لاکھ ٹن آم پیدا ہوتے ہیں . ان میں سے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ ٹن آم برآمد کیے جاتے . باقی ہم وطن عزیز میں استعمال کرتے ہیں . آم میں ،اس کی قسم کے مطابق، بحساب وزن بیس سے چالیس فیصد تک گٹھلی ہوتی ہے. اگر اوسطاً پچیس فیصد بھی گٹھلی ہو تو تیرہ لاکھ ٹن آموں سے تین لاکھ ٹن سے زائد گٹھلیاں نکلتی ہیں جنہیں ہم کچرے میں پھینک دیتے ہیں.

جب ہم کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے ارد گرد ہر شے پر غور کرنا چاہیے، تو اس کا یہی مطلب ہوتا ہے اپنے ارد گرد چھوٹی سے چھوٹی شے پر اس کی ساخت پر ، اس کے اجزاء ترکیبی پر ، اس کے ممکنہ استعمال اور بنی نوع کے لیے اس کی افادیت پرغور و تحقیق کرنا چاہیے.

اب دیکھیں ہم دہائیوں سے آم کھا رہے ہیں اور گٹھلیاں کچرے میں پھینک رہے ہیں. آج تک ہمارے کسی دانا، کسی حکیم یا کسی خوراک سے متعلقہ سائنسدان یا پروفیسر نے اس پر سوال نہیں اٹھایا کہ اس گٹھلی یا اس کے اندر موجود گری کی کیا کمپوزیشن ہے یا اس سے انسانوں کو کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں. اور آخر کار ہمیں ہمارے آم سے نکلنے والی گٹھلی میں موجود گری کی کیمیائی ساخت اور افادیت و اہمیت کی بابت بھی گوروں نے ہی آگاہ کیا.

آم کی گٹھلی سے نکلنے والی گری میں دس سے بارہ فیصد ایک طرح کا مکھن ہوتا ہی جس کی کیمیائی ساخت کوکا بٹر کے قریب ہے. کوکا بٹر کوکا پھلیوں سے نکلنے والے اس مکھن کو کہتے ہیں جسے بہترین چاکلیٹ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے. کوکا مکھن کی تھوک میں عالمی منڈی میں قیمت پاکستانی روپوں میں گیارہ سو روپ فی کلو گرام ہے.جب کہ واقفان حال کا کہنا ہے کہ آم کی گٹھلی سے نکلنے والے مکھن کی خوشبو کوکا بٹر سے بھی بہتر ہوتی ہے.

اس کے علاوہ آم کی گٹھلی سے نکلنے والے مکھن میں موجود مختلف اقسام کے تیل اور مائکرونیوٹرینٹس انسانی جلد اور بالوں کے لیے انتہائی مفید ہیں. اس مکھن میں سے عمل تخلیص کے ذریعے ایک تیل بھی نکالا جاتا ہے. یہ تیل کھانوں اور ادویات میں استعمال ہوتا ہے. اسے مینگو سیڈ آئل کہتے ہیں. اس کی قیمت قریب پانچ ہزار روپے پاکستانی فی کلو گرام ہوتی یے. جبکہ تیل کے بعد بچ رہا پھوک بہترین گلوٹن فری آٹا ہے. جسےہم گندم کے آٹے مکس کرکے بھی کھا سکتے ہیں. اگر کسی وجہ سے انسانی خوراک میں نہ بھی شامل کرنا چاہیں تو مرغیوں یا گائے بھینسوں کی خوراک میں مکئی کے بہترین نعم البدل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے.

اندازہ لگائیں کہ اگر تیرہ لاکھ ٹن آم سالانہ جو ہم کھاتے ہیں اس کی گٹھلیاں ہم گھروں کی چھت ہر اکٹھا کرتے جائیں اور کسی گٹھلیاں جمع کرنے والے دے دیں تو سالانہ سوا تین لاکھ ٹن گٹھلی جمع ہوسکتی ہے. گٹھلی میں گری کی مقدار اوسطاً آدھی ہوتی ہے. اس حساب سے ہم سالانہ ڈیڑھ لاکھ ٹن سے زائد گری جمع کرسکتے ہیں. اس ڈیڑھ لاکھ ٹن گری سے بحساب دس فیصد پندرہ ہزار ٹن آم کی گری کا مکھن حاصل ہوگا.

اس مکھن کی کم سے کم قیمت (ایمزون پر 200 گرام کا پیک 20 ڈالر کا فروخت ہورہا ہے.). کوکا بٹر سے آدھی بھی لگائیں تو یہ قریب آٹھ ارب روپے بنتے ہیں. جبکہ تیل نکالنے کے بعد کا آٹا بحساب تیس روپے بھی لگائیں تو چار ارب کا ہوگا. اسی طرح صرف ایک بیکار ترین نظر آنے والی شے سے ہم سالانہ بارہ ارب روپے کے وسائل مہیا کرسکتے ہیں. اور بارہ ارب روپے کا مطلب ہے چالیس ہزار خاندانوں کی سال بھر پچیس ہزار ماہانہ آمدن.

یہاں یہ بتانا بھی دلچسپی سے خالینہ ہوگا کہ بھارت میں بڑے پیمانے پر ام کی گٹھلی سے تیل نکالنے کا کام ہورہا ہے اور وہ اسے دنیا بھر میں برآمد بھی کررہا ہے. حال ہی میں ان کی سرکار نے تیس ہزار ٹن سالانہ مکھن حاصل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے جو ان کی کل ممکنہ پیداوار کا تیس فیصد ہے.


آم کی گٹھلی کی گری سے مکھن نکالنے کے لیے ہائیڈرالک پریس کی تکنیک سب سے کارآمد ہوتی ہے. ہائیڈرالک پریس سے مکھن نکالنے سے پہلے گری کو خشک کیا جانا چاہیے. ایک چھوٹا سا سولر ڈی ہائیڈریٹر اور کم استطاعت کا ایک ہائیڈرالک آئل ایکسٹریکٹر زیادہ سے زیادہ پانچ سے چھ لاکھ میں بن جائے گا. اس طرح کے ایک سیٹ سے تیس سے ساٹھ کلو روزانہ مکھن حاصل کیا جاسکتا ہے. مطلب ایک ماہ کی پیداوار کی مالیت اس سارے سسٹم کی مالیت سے زیادہ ہوگی.

پھر کہتا ہوں قدرت نے فیاضی میں کمی نہیں کی. ہم نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں. اگر ہم خدا کی تفویض کردہ نعمتوں کا درست استعمال شروع کردیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم خوشحال نہ ہوجائیں.

19/07/2021

*میں درخت لگانا چاہتا ہوں مگر کونسا درخت لگاؤں........؟*

پاکستان میں حالیہ گرمی کی شدت کی وجہ سے پاکستان کا ایک بڑے طبقے نے درختوں کی اہمیت کو محسوس کرنا شروع کر دیا ہے.
یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی درخت لگانے کے حوالے سے ایک تحریک سی چل نکلی ہے. اور درخت لگانے کے حوالے سے طرح طرح کے نعروں سے فیس بک کی دیواریں سجی ہوئی ہیں.
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
*اگر کوئی شخص درخت لگانا چاہتا ہے تو وہ کونسا درخت لگائے؟* سفیدے کے بارے میں بھی لوگوں کے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں.

پاکستان کی آب وہوا کے لئے موزوں درخت کون کون سے ہیں پاکستان کے مختلف خطوں کے لئے موزوں درختوں کی الگ الگ تفصیل بیان کی گئی ہے.

*جنوبی پنجاب کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں.....؟*

جنوبی پنجاب کی آب و ہوا زیادہ تر خشک ہے اس لئے یہاں خشک آب و ہوا کو برداشت کرنے والے درخت لگائے جانے چاہئیں۔ خشکی پسند اور خشک سالی برداشت کرنے والے درختوں میں‌ *بیری، شریں، سوہانجنا، کیکر، پھلائی، کھجور، ون، جنڈ اور فراش کے درخت قابل ذکر ہیں*
۔اسکےساتھ *آم* کا درخت بھی جنوبی پنجاب کی آب وہوا کےلئےبہت موزوں ہے۔

*وسطی پنجاب کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں.....؟*

وسطی پنجاب میں نہری علاقے زیادہ ہیں اس میں
*املتاس، شیشم، جامن، توت، سمبل، پیپل، بکاین، ارجن اور لسوڑا لگایاجانا چاہئے۔*

*شمالی پنجاب کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں.........؟*

شمالی پنجاب میں
*کچنار، پھلائی، کیل، اخروٹ، بادام، دیودار، اوک کے درخت لگائے جائیں ۔*
کھیت میں کم سایہ دار درخت لگائیں انکی جڑیں بڑی نہ ہوں اور وہ زیادہ پانی استعمال نہ کرتے ہوں ۔
سفیدہ صرف وہاں لگائیں جہاں زمین خراب ہو یہ سیم و تھور ختم کرسکتاہے سفیدہ ایک دن میں 25 لیٹرپانی پیتا ہے۔لہذا جہاں زیرزمین پانی کم ہو اور فصلیں ہوں وہاں سفیدہ نہ لگائیں ۔

*اسلام آباد اور سطح مرتفع پوٹھوہار کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں.........؟*

خطہ پوٹھوہار کے لئے موزوں درخت
*دلو؛ پاپولر، کچنار، بیری اور چنار ہیں ۔*
اسلام آباد میں لگا پیپر ملبری الرجیکا سبب ہے اس کو ختم کرنا چاہیے۔خطے میں اس جگہ کے مقامی درخت لگائے جائیں تو زیادہ بہتر ہے ۔ *زیتون* کا درخت بھی یہاں لگایا جا سکتا ہے۔

*سندھ کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں..........؟*

*سندھ کے ساحلی علاقوں میں پام ٹری اور کھجور لگانا چاہیے۔*

*کراچی میں املتاس، برنا، نیم، گلمہور،جامن، پیپل، بینیان، ناریل اور اشوکا لگایا جائے* ۔

*اندرون سندھ میں کیکر، بیری، پھلائی، ون، فراش، سہانجنا اور آسٹریلین کیکر لگاناچاہیے۔*

کراچی میں ایک بڑے پیمانے پر کونو کارپس کے درخت لگائے گئے ہیں۔ یہ درخت کراچی کی آب و ہوا سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتے۔
یہ درخت شہر میں پولن الرجی کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ دوسرے درختوں کی افزائش پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں جبکہ پرندے بھی ان درختوں کو اپنی رہائش اور افزائش نسل کے لیے استعمال نہیں کرتے۔

*بلوچستان کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں........؟*

*زیارت میں صنوبر کے درخت لگائے جانے چاہئیں ۔*

زیارت میں صنوبر کا قدیم جنگل بھی موجود ہے۔زیارت کے علاوہ دیگر بلوچستان خش *پہاڑی علاقہ ہے اس میں ون، کرک ،پھلائی، کیر، بڑ، چلغوزہ، پائن، اولیو اور ایکیکا لگایا جانا چاہئیے۔*

*کے پی کے(KPK) اور شمالی علاقہ جات کے لئے کون کون سے درخت موزوں ہیں.................؟*

*کے پی کے میں شیشم،دیودار، پاپولر،کیکر،ملبری،چنار اور پائن ٹری لگایا جائے.*

*درخت لگانے کا بہترین وقت کونسا ہے..........................؟*

پاکستان میں درخت لگانے کا بہترین وقت
*فروری مارچ اور اگست ستمبر کے مہینے ہیں.*

*درخت کیسے لگائیں اور ان کی حفاظت کیسے کری..............؟*

اگر آپ سکول کالج یا پارک میں درخت لگا رہے ہیں تو
*درخت ایک قطار میں لگے* گئیں اور *_ان کا فاصلہ دس سے پندرہ فٹ ہونا چاہیے* ۔_ گھر میں لگاتے وقت
*دیوار سے دور لگائیں* ۔آپ بنا مالی کے بھی درخت لگا سکتے ہیں. نرسری سے پودا لائیں
*زمین میں ڈیڑھ فٹ گہرا گڑھا کھودیں۔* نرسری سے بھل ( اورگینک ریت مٹی سے بنی) لائیں گڑھے میں ڈالیں، پودا اگر کمزور ہے تو اس کے ساتھ ایک چھڑی باندھ دیں ۔پودا ہمیشہ *صبح یا شام کے وقت لگائیں۔* *دوپہرمیں نہ لگائیں* اس سے پودا سوکھ جاتا ہے۔پودا لگانے کے بعد اس کو پانی دیں ۔گڑھا نیچا رکھیں تاکہ وہ پانی سے بھر جائے ۔
*گرمیوں میں ایک دن چھوڑ کر جبکہ سردیوں میں ہفتے میں دو بار پانی دیتے جائیں۔*
پودے کے گرد کوئی جڑی بوٹی نظر آئے تو اسکو کھرپے سے نکال دیں۔اگر پودا مرجھانے لگے تو گھر کی بنی ہوئی کھاد یا یوریا فاسفورس والی کھاد اس میں ڈالیں لیکن بہت زیادہ نہیں ڈالنی. زیادہ کھاد سے بھی پودا سڑ سکتا ہے ۔بہت سے درخت جلد بڑے ہوجاتے ہیں کچھ کو بہت وقت لگتا ہے۔سفیدہ پاپولر سنبل شیشم جلدی بڑے ہوجاتے ہیں جبکہ دیودار اور دیگر پہاڑی درخت دیر سے بڑے ہوتے ہیں۔ *گھروں میں کوشش کریں شہتوت،جامن، سہانجنا،املتاس، بکائن یا نیم لگائیں

Photos from Agricultural Solutions in Pakistan's post 02/05/2021

NARC G 1 Garlic
نارک جی1 لہسن میں عموما'' اپریل کے پہلے ھفتے میں پھول بننے کا عمل شروع ھوجاتا ھے جو کہ فصل کی تیاری کی پہلی نشانی ھے۔ اس پھول کو سکیپ کہا جاتا ھے۔جس کو اگر کاٹ دیا جائے تو پودے میں تیاری کا دوسرا سگنل چلا جاتا ھے جس کے بعد بلب بننے کا عمل شروع ھو جاتا ھے۔لیکن سکیپ کو توڑنے سے پہلے کچھ احتیاط جو عام تور پر ھمارےکسانوں معلوم نہی آج ان کا ذکر کیا جا رھا ھے لحاظہ اس کو بغور پڑھ لیں۔

١.سکیپ کو فورا نہ کاٹا جائے۔
٢. جب تمام فصل میں سکیپ نظر آہیں تب کٹائی کی جائے۔
٣.سکیپ کی مناسب لمبائی ١ فٹ تک ھو سکتے ھے۔
٤. سکیپ کی نالی میں بہت سی خوراک ھوتی ھے جو کے پودے کو بلب بنانے کے لیے چائیے اس لیے سکیپ کو پھول سے ایک انچ سے زیادہ نہ کاٹیں اور شاخ کو پودے کے ساتھ رھنے دیں۔
٥. جب تمام فصل کے پھول آجائیں تب ھی کٹائی شروع کریں ورنہ بار بار فصل میں چلنے سے پودوں کا نقصان ھوگا۔
٦.سکیپ کاٹنے کے بعد فصل کو پانی دیں اور آخری کھاد کے طور پر پوٹاش دی جا سکتی ھے۔

11/03/2021

plants are our only survival

06/03/2021

کجھورکی افزائش
کجھور میں نر اور مادہ کے الگ الگ پودے ہوتے ہیں۔ اگر نر اور مادہ پھولوں کا ملاپ "عمل زیرگی- Pollination" نہ کروایا جائے تو پھل بغیر گٹھلی کے پیدا ہوتا ہے جو یا تو گر جاتا ہے، یا دیر سے پکتا ہے اور کھانے کے قابل بھی کم ہی ہوتا ہے۔ کجھور صرف مادہ پودوں پر لگتی ہے۔
نر اور مادہ پھولوں کی پہچان تصویروں میں دی گئی ہے اور نیچے لکھی ہوئی تحریر بھی پڑھ لیں۔
نر پھولوں کی سپیاں موٹی، چوڑی اور چھوٹی ہوتی ہیں
نر گچھوں کے آخر میں "سفید" رنگ کے بہت زیادہ خوشبودار پھول ہوتے ہیں اور نر کے پھول میں پتیوں کی تعداد 6 ہوتی ہے جو کہ مادہ پھولوں کی نسبت واضح اور بڑی ہوتی ہیں۔
مادہ پھولوں کی سیپیاں پتلی، کم چوڑی اور لمبی ہوتی ہیں۔ مادہ کے گھچوں کے آخر میں پھول کم تعداد اور "ہلکی زردی مائل" اور بغیر خوشبو کے ہوتے ہیں۔

نر سیپیوں کو خود نہ کھولیں، جب نر کی سیپی قدرتی طور پر کھل جائے تو اس کو ایک دو دن میں ضرور کاٹ لیں۔
کھجور میں نر اور مادہ کا عمل زیرگی قدرتی طور پر بہت کم ہوتا ہے، ان کا ملاپ کروانا پڑتا ہے۔
پوسٹ کو شئیر کریں ہوسکتا ہے شوقیہ گھر میں کجھور لگانے والے شاید آپ کی وجہ سے اس سال اچھی تعداد میں پھل حاصل کر لیں۔
کجھور کے درخت سے یا پتوں کی ساخت سے نر اور مادہ کا اندازہ لگانا عام لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے، کجھور کے پھولوں کے موسم میں آپ نر اور مادہ درخت میں فرق کر سکتے ہیں۔
کمرشل بنیادوں پر عمل زیرگی کے بہت سے طریقے ہیں، آپ محکمہ زراعت کے بتائے گئے طریقے پر عمل کر سکتے ہیں
دعاؤں کی درخواست ہے

Growing palms
There are separate male and female plants in the date palm. If male and female flowers are not mated to "pollination", the fruit is produced without the kernel, which either falls off, or ripens late and is less edible. Dates are only found on female plants.
Male and female flowers are identified in the pictures and also read the text below.
Male flower stalks are thick, broad and small
The male clusters have very fragrant "white" flowers at the end and the male flower has 6 leaves which are clearer and larger than the female flowers.
The female oysters are thin, narrow and long. The flowers at the end of the female clusters are small in number and "light yellowish" and odorless.

Do not open the male oysters yourself, when the male oysters open naturally, cut them in a day or two.
Males and females in the palm are naturally less active, they have to be matched.
Share the post Maybe amateur home palm growers will get a good number of fruits this year because of you.
It is difficult for ordinary people to tell the difference between a male and a female from a date palm or the structure of the leaves.
There are many methods of commercialization, you can follow the method prescribed by the Department of Agriculture.
Prayers are requested

06/03/2021

ان ڈور پلانٹ🍀💚🍀
ان ڈور پلانٹس کے لئے کچھ ضروری ہدایات پر عمل کیا جائے تو پودے آپ کے پاس اچھی طرح رہیں گے۔

1✴️ سب سے ضروری بات کے انڈور پلانٹس کو زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی آپ گملے کو دیکھیں اگر وہ ایک انچ سے کم گیلا ہے تو اس کو پانی دیں اس کو دیکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی انگلی گملے کی مٹی میں ڈالیں اگر مٹی گیلی ہے تو پانی کی ضرورت نہیں ہے اگر مٹی سوکھی ہے تو پانی ڈال دیں

2✴️ انڈور پلانٹس کے گملے میں اگر پتے پڑے ہیں تو ان کو فوراً گملے سے ہٹا دیں ورنہ یہ فنگس پیدا کریں گے کیوں کے ان کو دھوپ نہیں لگتی۔

3⁦✴️⁩ اگر پودے میں کوئی پتہ خراب ہو رہا ہے اس کو بھی فوراً کاٹ دیں ورنہ یہ بھی باقی پودے کو نقصان دے گا۔
4⁦✴️⁩ پیلے پتے بھی جتنی جلدی ہو ہٹا دیں۔

5⁦✴️⁩جب آپ دیکھیں کے پتے میں کالاپن اور کٹ پودے کے زیادہ پتوں میں ہو تو اس میں کوئی بھی اچھا فنگس پوڈر کا اسپرے کر دیں یا دار چینی پوڈر کا اسپرے کر لیں۔

6⁦✴️⁩انڈور پلانٹس کو کبھی بھی اے سی یا ہیٹر کے سامنے نہ رکھیں اس سے بھی پودا مر سکتا ہے۔

7⁦✴️⁩انڈور پلانٹس کو ممکن ہو تو دس سے پندرہ دن میں دھوپ لگوا لیں تو اچھے رہیں گے۔

8⁦✴️⁩ جو پلانٹ پانی میں لگائے جائیں ان کا پانی ہر تین سے پانچ دن میں تبدیل کرلیں تو اچھا ہے ورنہ فنگس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

9⁦✴️⁩ گملوں میں ہر پندرہ سے بیس دن میں گوڈی ضرور کریں گوڈی کرنے سے مٹی میں الرجی کے بیکٹیریا نہیں بنتے۔

10⁦✴️⁩ اگر پودوں پر کیڑوں کا اسپرے کریں تو پودوں کو اندر سے باہر نکال کر کریں گھر کے اندر نہیں۔

Indoor plants
If you follow some important instructions for indoor plants, then the plants will stay with you well.

1✴️ The most important thing is that indoor plants do not need much water. You see the pot if it is less than an inch wet. Water it. The way to see it is if you put your finger in the soil of the pot. If the soil is wet, water is not required. If the soil is dry, add water

2✴️ If there are leaves in the pot of indoor plants, remove them from the pot immediately, otherwise they will produce fungus because they do not get sunlight.

3✴️ If any leaf in the plant is getting damaged, cut it immediately, otherwise it will also damage the rest of the plant.
4✴️ Remove the yellow leaves as soon as possible.

5 ✴️ When you see that the leaves have blackness and cut in more leaves of the plant, spray any good fungus powder or cinnamon powder in it.

6.✴️ Never put indoor plants in front of AC or heater as it can kill the plant.

7✴️ Indoor plants should be exposed to the sun in ten to fifteen days if possible.

8✴️ It is better to change the water of the plants that are planted in water every three to five days, otherwise the risk of fungus increases.

9✴️ Make sure to make pots in pots every 15 to 20 days. Pots do not cause allergic bacteria in the soil.

10✴️ If you spray insects on plants, remove the plants from the inside out and not indoors.

06/03/2021

Clean Green & Strong pakistan public services msg 🌻💐🌺🌸🌷🌹🌼saviours pakistan 🇵🇰
موسم گرما کے پھول دار پودوں کے بیج لگانے کا صحیح وقت



1) Cypress vine 🌱مارچ 🌱 اپریل🌷

2) Zinnia 🌹🌱 مارچ 🌱 اپریل

3) Sun Flower🌱 مارچ 🌱 فروری🌱اپریل 🌺🌱مئی

4) Becholar Button مارچ 🌱 اپریل 🌻

5) Amaranths - Tricolour🌱 مارچ 🌼

6) Ballon vine🌱 مارچ 🌱 اپریل 🌼🌷

7)Balsam🌱🌹 فروری 20 To مارچ

8) Celosia 🌱 مارچ 🌱 اپریل 🌺💐

9) Cockscomb🌱 مارچ 🌱 اپریل 🌹🌷

10) Four-o-clock🌱 مارچ 🌱اپریل 💐🌺

11) Gomphrena🌱 مارچ 🌱 اپریل 🌹💐

12) kochia 🌱 مارچ 🌱 اپریل 🌹🌺

13) Mina Lobata🌱 مارچ 🌱 اپریل 🥀🌸

14) Morning Glory🌱مارچ 🌱 اپریل 🥀🌷

15) Portulaca 🌱مارچ 🌱اپریل
🌻🌼
16) Vinca سدا بہار
20 فروری سے لے کر مارچ کے آخر تک🌺🌼🌷🌺🌱🌷

17( Mexican Petunia🌱مارچ🌱 اپریل 🌸🌻💐🥀

18) Colleus🌱 مارچ 🌱 اپریل 💐🌸🌻

19) Mimosa Pudica🌱مارچ 🌱اپریل 🌹🏵
. ( چھوئی موئی )
🌹🏵💮🌸

20) Holly Basil 🌱 مارچ 🌱 اپریل🌹💐🪴🌻🌺🌸🌼🌻🌷🥀🌼

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Islamabad