Islamabad Jinnah Super Market
Marketing,Glamourous, Fashion,Design
27/06/2024
26/05/2024
khushyar rahy ye fraud he
Looking for a Professional Architecture/Interior Design/ Site Supervisor for Our Multiple Project.
should be having Good Experience.
interested Person Contact
Salary depends on Skills .
Contact Person : Asim Shah 03325128767, Office Address: Office No.101, Aria Tower E-11/2 Islamabad
looking for a Professional Architecture/Interior Design/ Site Supervisor for Our Multiple Project.
should be having Good Experience.
interested Person Contact
Salary depends on Skills .
Contact Person : Asim Shah 03325128767, Office Address: Office No.101, Aria Tower E-11/2 Islamabad
01/09/2022
31/08/2022
کالاباغ ڈیم ۔۔۔ اب نہیں تو کب۔۔۔( تاریخ جغرافیہ افادیت اور اعتراضات)
ایک عالمی رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان اگلے دس سال میں پانچ ڈیم نہیں بناتا تو آگے ہونے والی گلوبل وارمنگ اور گلیشیر پگھلنے (یاد رہے دنیا کہ پانچ بڑے گلیشئیرز میں سے چار پاکستان میں ہیں) کی وجہ ملک ڈوب جائے گا۔۔۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس پانی سٹوریج کپیسٹی صرف تیس دن جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی سٹوریج کپیسٹی 480 دن ہے... یعنی کے اگر آبی قلت پیدا ہو جاتی ہے تو بھارت 480 دن تک پانی کی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔۔۔ جبکہ پاکستان صرف 30 دن.. بھارت نے 70سال میں 54 چھوٹے بڑے ڈیم بنائے۔۔۔ جبکہ پاکستان میں 1960 کے بعد کوئی نیا ڈیم نہیں بنایا گیا۔۔۔
اچھا مان لیجیئے اگر آج کالاباغ ڈیم موجود ہوتا تو خبریں کچھ اس طرح ہوتیں تربیلا ڈیم مکمل بھر چکا ہے۔۔۔ جبکہ کالاباغ ڈیم میں ابھی 23 فٹ پانی کی گنجائش باقی ہے۔۔۔
جی میرے بھائی کالاباغ ڈیم کی کپیسٹی ستائیس لاکھ کیوسک تک ہے۔۔۔ ایک قومی منصوبہ جو اناؤں کی نظر ہوگیا۔۔۔ چلیں پہل سے شروع کرتے ہیں۔۔۔۔
کالاباغ ڈیم کا نام تو آپ نے اکثر سنا ہو گا.... لیکن میں یقین سے کہتا ہوں کہ آپ میں سے اکثریت نے اس کے اتنا قریب سے کبھی دیکھا نہیں ہوگا.... اور نہ کبھی تفصیل سے پڑھا ہوگا۔۔۔
جغرافیہ کی بات کی جائے تو دریائے سوات جوکہ کالام سے نکلتا ہے۔۔۔ جب کہ دریائے کابل افغانستان سے۔۔۔ یہ دونوں دریا سارا سال بہتے ہیں۔۔۔ اٹک کے قریب پہنچ کر دونوں دریا ، دریائے سندھ میں مل جاتے ہیں ۔۔۔ اٹک سے کالاباغ تک پانی کو ذخیرہ کرنے کی کوئی جگہ موجود نہیں۔۔۔ کالاباغ ڈیم سائٹ ایک قدرتی بنا بنایا ڈیم ہے۔۔۔۔ اس کے دونوں اطراف بلند و بالا پہاڑ ہیں۔۔۔ اسی لیے اس پر لاگت کم آنی ہے۔۔۔ محض چار سال کی مدت میں مکمل ہو سکتا ہے۔۔۔ یہ ڈیم کالاباغ ضلع میانوالی سے چند کلومیٹر اوپر پیر پکائی کے مقام پر بننا تھا۔۔۔
1953 پہلی بار اس پر غور کیا گیا... 1953 میں ماہرین کی ایک ٹیم پاکستان میں ڈیم بنانے کے حوالے سے آئی ۔۔۔ جس نے تربیلا اور کالاباغ کی فزیبلٹی رپورٹ حکومت کو دی۔۔۔ انہوں نے ڈیم کے لئے سب سے موزوں مقام کالاباغ ڈیم کی موجودہ سائٹ بتائی ۔۔۔ اسکے بعد واپڈا نے پاکستانی اور بیرونی ممالک کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنائی جس نے کالا باغ ڈیم کی فیزیبلیٹی رپورٹ مرتب کر کے صوبوں کو پیش کی۔ جس پر صوبوں کی طرف سے کوئی اعتراض نہ اٹھا۔۔۔ مگر ایوب خان کے دور میں کالا باغ پر تربیلا ڈیم کو فوقیت دی گئی۔۔۔ اور یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔۔۔ اور ایوب خان کی حکومت ختم ہوگئی ۔۔۔
اس کے بعد کوئی اتنی پائیدار حکومت ناں آسکی۔۔۔ یحیی خان ملک ٹوٹنے جوڑنے میں مصروف رہے۔۔۔ اور بھٹو اندرونی معاملات میں الجھ پڑے۔۔۔ پھر ضیاء کا دور شروع ہو۔۔۔ یاد رہے اس سے پہلے کہیں سے بھی مخالفت کی آوازیں نہیں اٹھیں۔۔۔
1980 میں حکومت پاکستان کی درخواست پر ورلڈ بینک کے ماہرین کی ٹیم پھر سے پاکستان آئی انہوں نے فزیبلٹی رپورٹ پیش کی ۔۔۔ 1984 میں ضیإالحق نے کالا باغ ڈیم کا کام شروع کر دیا۔۔۔ ڈیم کا کام ایک برطانوی کمپنی کو دیا گیا ۔۔۔۔ کمپنی کے علم میں یہ بات آئی کہ 1929 میں ایک سیلاب آیا تھا ۔۔۔۔ جس کی وجہ سے نوشہرہ اور مردان ڈوب گۓ تھے۔۔ برطاغ کمپنی نے نوشہرہ اور مردان کا کئی روز تک جائزہ لیا۔۔۔ اور سیلاب کی نوعیت جاننے کے لیے نوشہرہ شہر کے گھروں پر نشان لگانا شروع کیئے۔۔۔۔
اس وقت افغان جنگ کی وجہ سے اے این پی ضیإالحق کی شدید مخالفت کررہی تھی۔۔۔۔ انہوں نے یہ افواہ پھیلا دی اگر کالاباغ ڈیم بن گیا تو نوشہرہ شہر پانی میں ڈوب جاۓ گیا۔۔۔ اور یہ گورے اسی سلسلہ میں نشان لگارہے ہیں اتنے تک ڈوبے گا۔۔۔ مخالفت یہاں سے شروع ہوگئی۔۔۔ یوں کالا باغ ڈیم کی تعمیر پھر سے التواء میں پڑ گٸ ۔۔۔۔
1991 میں پھر پانی کی تقسیم کے ایک معاہدہ میں تمام وزرائے کو اپنی صوابدید پر نمائندہ وزیر کا انتخاب کرنے کا موقع دیا گیا۔۔۔ جس کے لئے پنجاب کی طرف سے وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں کے ساتھ انکے وزیر خزانہ شاہ محمود قریشی، سندھ کی طرف سے وزیر اعلیٰ جام صادق علی کے ساتھ ان کے وزیر قانون سید مظفر شاہ، سرحد کی طرف سے وزیر اعلیٰ میر افضل خان کے ساتھ انکے وزیر خزانہ محسن علی خان اور بلوچستان کے طرف سے وزیر اعلیٰ میر تاج محمد جمالی کے ساتھ انکے ہوم منسٹر ذوالفقار مگسی نے نمائندگی دی گئی۔۔۔
پانی کی تقسیم کے اس معاہدہ کو مشترکہ مفادات کونسل نے اپنے 21مارچ 1991 کے اجلاس میں باقاعدہ منظور کیا۔۔۔ اور پانی کے اس تاریخ ساز معاہدے میں چاروں صوبوں کے درمیان اعتماد کی بہترین فضا قائم ہوئی۔۔۔ یہ طے پایا گیا کہ دریائے سندھ اور دیگر دریاﺅں پر جتنے بھی ممکنہ ڈیم اور واٹر سٹوریج بنائے جا سکتے ہیں اس کی اجازت دی جاتی ہے۔۔۔
مشترکہ مفادات کونسل نے 8ممبران کی کمیٹی بنائی جس میں سے7 ممبران نے ڈیم کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اس کو پاکستان کے لئے نہایت مفید قرار دیا۔۔۔ پانی کی تقسیم اور کالاباغ ڈیم منصوبے کی منظوری کے بعد میر افضل خان وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد نے کہا پہلے صوبہ سرحد کی 18 لاکھ ایکڑ اراضی آبپاشی کے ذریعے کاشت ہوتی تھی۔۔۔ اب اس معاہدہ کی بدولت ہماری مزید 9لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی جس سے گندم اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں زبردست اضافہ ہوگا۔۔۔
اے این پی کے قائد خان عبد الولی خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔۔ میں پانی کے معاہدے سے مکمل مطمئن ہوں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ صوبوں نے اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا ہے۔۔۔صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ جام صادق علی کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی بدولت ہمیں 4.5ملین ایکڑ پانی مزید ملے گا۔۔۔ صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔۔ ہم پہلے تربیلا اور منگلا ڈیم کی وجہ سے صرف 6 لاکھ ایکڑا راضی سیراب کر رہے تھے۔۔۔ لیکن اب اس ڈیم کی بدولت ہماری 16لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔۔۔
ڈیم سائیٹ پر 1984 میں کافی زیادہ کام ہوچکا تھا۔۔ ابھی بھی سائیٹ پر جاکر دیکھیں تو رہائشی کالونیاں بنی ہوئی ہیں ۔۔۔ مشینری لگی ہوئی ہے۔۔۔ کروڑوں روپے کے پائپ پہنچ چکے تھے۔۔۔۔ اس کے علاؤہ ڈیم سائٹ پر موجود پہاڑ کے دونوں اطراف بڑے بڑے پلر تک کھڑے کر دیئے گئے تھے ۔۔۔۔ اس افواہ کی وجہ سے کروڑوں روپوں کا قیمتی سامان زنگ آلود ہوکر آج بھی ناکارہ پڑا ہے۔۔۔
ڈیم کے مجوزہ ڈیزائن کے مطابق اسکی اونچائی تقریباً 80 میٹر، لمبائی 3350 میٹر جبکہ بجلی کی پیداوار 3600 سے 5200 سو میگاواٹ ہوتی....اسکا تخمینہ لاگت 1984 میں 5 ارب ڈالر تھا۔۔۔ جو اب بڑھ کر 20 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔۔۔۔ ہر سال اس سے زیادہ نقصان پنجاب سندھ اور کے پی میں مون سون کی بارشوں سے ہوجاتا ہے۔۔۔ ایک اندازے کے مطابق 2010 کے سیلاب میں نقصان کا تخمینہ 43 ارب ڈالر تک تھا۔۔۔ مطلب اس نقصان کے آدھے میں ہم ڈیم بنا سکتے ہیں۔۔۔۔
اس ڈیم سے کے پی کے کی 7 لاکھ سے 10لاکھ سے ایکڑ اراضی سیراب ہو گی۔۔۔۔ جبکہ سندھ کی 10 لاکھ سے 12 لاکھ ایکڑ اراضی اس سے سیراب ہو سکے گی۔۔۔
یہ تو تھی تاریخ، افادیت اور جغرافیہ اب بات کرتے ہیں اعتراضات پر ۔۔۔پختون قوم پرستوں کا اعتراض صرف ایک ہی ہے کہ اس سے نوشہرہ، صوابی ، پبی اور جہانگیرہ کا علاقہ ڈوب جائے گا۔۔۔۔ جس کے دلیل میں انکے پاس وہی ضیاء الحق کے دور میں مکانات پر لگائے گئے نشانات کا پروپیگنڈہ ہی ہے۔۔۔یہ جھوٹ اس شدت سے پھیلایا گیا ہے کہ کوئی دوسری بات سننے کو تیار نہیں۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم نوشہرہ سے 130 کلومیٹر دور ہے اور نشیب میں ہے ۔۔۔ اگر یہ ڈیم بھر بھی جائے تب بھی نوشہرہ اس سے 60 فٹ اونچائی پر ہو گا۔۔۔ ڈاکٹر شمس ملک جوکہ سابق چیئرمین واپڈا اور جی ایم تربیلا ڈیم رہے ہیں۔۔۔ انہوں نے پختون قوم پرستوں کو کالاباغ ڈیم پر مناظرے کا چیلنج دے رکھا ہے۔۔۔ آج تک کسی ایک پختون قوم پرست نے چیلنج ایکسپٹ نہیں کیا۔۔۔
سندھی قوم پرستوں کا پروپیگنڈہ بھی ملاحظہ کیجیے ۔۔۔ عوام کو خوف دلایا گیا ہے کہ اگر ڈیم بن گیا تو سمندر میں گرنے والا پانی کم ہو جائے گا۔۔۔ اور سندھ کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی۔۔۔ اور پانی پر پنجاب کی اجارہ داری قائم ہوجائے گی۔۔۔۔ حالانکہ دریائے سندھ کا 90 فیصد پانی سمندر میں ضائع ہوتا ہے۔۔۔ سمندر میں گرنے والا پانی اگر پچاس فیصد کم بھی ہو جائے تو یہ عالمی معیار کے مطابق ہو گا اور کالاباغ ڈیم نے سارا پانی تو نہیں روک لینا۔۔۔سمندر میں ایک معقول حد تک تو پانی بھر بھی گرتا رہے گا۔۔۔ ڈیم بن جانے پر گریٹر تھل کا دائرہ کار وسیع کر کے اسے سندھ کو سیراب کیا جائے گا۔۔۔
سندھ قوم پرستوں کا ایک اور اعتراض بھی ہے۔۔۔ کہ ڈیم پر جو بجلی پیدا ہوگئی اس سے پانی کی طاقت کم ہو جائے گی اور پانی میں موجود طاقتور ایلیمنٹ نکل جائیں ۔۔۔ اور یہی پانی سندھ تک پہنچے گا۔۔۔ اور اس پانی سے فصلیں پیدا نہیں ہوسکتی۔۔۔ لو کر لو گل جہاں بھٹو آج تک زندہ ہو ۔۔۔ وہاں ایسی ہی دلیلیں وجود میں آتی ہیں۔۔۔
ایک بات اور کالاباغ ڈیم کے لئے اسلام آباد کے بڑے بڑے ائیرکنڈیشنڈ دفاتر کی بجائے کالاباغ ڈیم سائیٹ پر سیمینارز منعقد کئے جائیں ۔۔۔ میڈیا چینلز نیاز سٹوڈیو کے بجائے اسی سائیٹ پر مہمانوں کو بلاکر ڈیبیٹ کرے وہاں سے لائیو نشریات کرے .... کے پی کے اور سندھ صوبوں کے پڑھے لکھے طبقہ کو جن میں وکلاء، ڈاکٹر، انجنیئر، پروفیسرز کو بلائے ان سے سوال و جواب کرے۔۔۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ صورتحال لوگوں کے سامنے آئے گی تو لوگ سمجھیں گے ۔۔۔
The Executive Video Editor’s main responsibilities are to edit and shoot all kind of video projects. They must have excellent grip on camera work with gimbal operating, ability to fly, operate and use drone cameras, editing skills as a Non-Linear Editor (NLE) in Adobe Premiere Pro and working knowledge of Adobe After Effects to work with templates.
- Manage video editing according to assigned projects
- Have good knowledge of camera operating and video shooting in the field
- Have good knowledge of drone operating
- Completing edits of assigned projects within the timeline
- Within city traveling will be a regular feature to shoot projects.
- Ability to quickly setup for shooting and executing video work in the field.
- Knowledgeable in regards to video editing in multiple software packages
- Have good knowledge of Adobe After Effects.
- Knowledgeable for Drone Flying and all of its features
- Operate able for all kind of DSLR for Videography and Photography
- Knowledgeable for indoor studio and outdoor light balancing
- Knowledgeable in regards to the latest production related equipment
- Should be creative enough to visualize any space with contemporary essence
- Minimum 2-3 years of experience in video production
- Critical thinking and problem solving
Office Location: E-11/2 Markaz, Islamabad
Send your cv
[email protected]
Whatsapp Number
https://wa.me/+923339390314
02/04/2021
اگر آپ کامیاب جوان پروگرام سے واقعی کاروباری قرضہ لینا چاہتے ہیں تو آپ کو قرضہ ملنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ feasibility report کے ساتھ قرضے کے لیے آن لائن درخواست دیں۔ کیونکہ یہ کاروباری قرضے ہیں۔ کاروبار منافع بخش ہوگا اور آپ قسط دے سکیں گے یا نہیں یہ بنک کو ثابت کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ گورنمنٹ اور بنک دونوں کی ڈیمانڈ کے مطابق feasibility report درخواست کے ساتھ جمع کروائیں۔ ورنہ آپکی درخواست کبھی منظور نہیں ہو گی۔ اور آپ کا وقت بھی ضائع ہو گا.
10 لاکھ تک قرضہ کی قسط صرف 11730 روپے ہے۔ اس سے سستا قرضہ آپکو کبھی نہیں ملے گا۔ نئے کاروبار کے لیے قرضے میں اور بھی سہولتیں ہیں۔ بنک آپ سے ایک بہترین feasibility report کے علاوہ کچھ نہیں مانگ رہا تو آپ دیر نہ کریں۔
بنک اور گورنمنٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق ابھی ہم سے اپنے کاروبار کا feasibility report بنوانے کے لیے رابطہ کریں۔ ہم آپ کو درخواست جمع کروانے میں بھی مکمل راہنمائی کریں گے۔ اور قرضہ ملنے تک ہر قدم پر راہنمائی فراہم کریں گے۔ ہم آپکو 100٪ منی بیک گارنٹی کے ساتھ feasibility report بنا کر دیتے ہیں۔ ابھی رابطہ کریں اور ہماری سروس سے فائدہ حاصل کریں۔
Wajid Ali Shah
WhatsApp
+966591086029
Female Experienced Real Estate Professional Required in E-11 Islamabad
Female Real Estate Professional Required in E11
Click here to claim your Sponsored Listing.