HAFIZ NOOR UL ISLAM
follow my page
20/10/2025
04/10/2025
اللہ کریم نے بھی قرآن میں اپنے حق کے بعدوالدین کاحق ذکرکیاہے۔
27/09/2025
"ولا تحسبن الفراق هين .."
کسی کو ہمیشہ کے لیے کھودینا کوئ معمولی چیز نہیں ہے ۔
02/09/2025
اُخوّت✅
اَخوّت❎
29/08/2025
مُحسن غریب لوگ بھی , تِنکوں کا ڈھیر ھیں
مَلبے میں دَب گئے ، کبھی پانی میں بہہ گئے
28/08/2025
جذبات نہیں حقائق
تعصب نہیں محبت
28/08/2025
جشنِ عید میلاد النبی ﷺ
نہ منانے والوں سے چند سوالات
پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق ساجد
سوال نمبر 1:
وہابی لوگ عقیدہ میلاد کے منکر کیوں ہیں؟
جواب:
(1) یہ دعویٰ کہ وہابی میلاد کے منکر ہیں سراسر جھوٹ اور بدگمانی اور حقیقت سے نا اشنا ہونے کی علامت ہے وگرنہ اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو پیدائش جنم ولادت باسعادت اور میلاد صرف اہل الحدیث کا عقیدہ ہے کیونکہ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر مانتے ہیں اور حضور علیہ السلام کے والد محترم جناب عبداللہ ابن عبدالمطلب اور والدہ ماجدہ سیدہ امنہ کے گھر ان کی ولادت باسعادت ان کی پیدائش اور ان کے جنم مبارک کے عقیدے کو اپنا ایمان مانتے ہیں۔
(2) یہ سوال اور اعتراض تو ان لوگوں سے بنتا ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے انکاری ہیں، جو 11 مہینے عقیدہ ولادت عقیدہ پیدائش عقیدہ جنم اور عقیدہ میلاد کے خلاف اپ کو نور من نور اللہ بیان کرتے ہیں۔۔۔ کتنی واضح بات ہے کہ رب کا نور کسی سے پیدا نہیں ہوتا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوتا ہے جیسا کہ سورۃ الاخلاص میں واضح پیغام ہے" لم یلد ولم یولد"
(3) لھذا منکر ولادت و میلاد تو وہ ہے جو آپ کو نور کہے یا مانے۔
(4) آپ کو بشر کہنے والے ہی تو میلاد و ولادت کے عقیدے کے اصل جانشیں اور حقیقی وارث ہیں۔ اور انہی کو طعنہ دینا کہ وہ ولادتِ باسعادت اور میلاد کی منکر ہیں، سوائے بہتان کے اور کچھ نہیں۔
سوال نمبر 2:
وہابی رسول اکرم ﷺ کی ولادت با سعادت کی خوشی کیوں نہیں مناتے؟
جواب:
(1) یہ کہنا کہ اہل الحدیث کو رسول اکرم ﷺ کی ولادت با سعادت کی خوشی نہیں یہ بات سراسر جھوٹا پروپیگنڈا اور محض الزام کے سوا کچھ نہیں اور اس بیانیے کی قطعاً کوئی حقیقت نہیں۔
(2) روئے زمین پہ ایک بھی کلمہ گو ایسا نہیں کہ جسے رسول اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت اور آمد کی خوشی نہ ہو، یا وہ اس بات پر پریشان ہو کہ آپ دنیا میں کیوں تشریف لائے؟
(3) بلکہ ہر کلمہ گو آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد پر نازاں و فرحاں پایا جاتا ہے۔ اور یہ خوشی اس کیلئے کل کائنات کی سب خوشیوں سے زیادہ ہے۔
سوال نمبر 3:
اگر وہابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر خوش ہیں تو پھر وہ میلاد کیوں نہیں مناتے؟
جواب:
رہا یہ کہ یہ خوشی منائی کیسے جائے؟ اس کا اظہار کیسے کیا جائے؟ اور کون سا طریقہ کار اپنایا جائے؟ اس میں فرق ہے.
اولاً: کچھ لوگ اس خوشی کا اظہار سال کے بعد ایک دن مقرر کرکے جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے عنوان سے مناتے ہیں۔
جب کہ اہل حدیث اس خوشی کو سعادت سمجھ کر آپ علیہ الصلوۃ والسلام پہ نازل شدہ وحی قران مجید، احادیث رسول ﷺ، سنت مطہرہ، سیرت طیبہ، پڑھتے، پڑھاتے، سیکھتے، سکھاتے، عمل کرتے اور اس کی دعوت دیتے ہوئے پورا سال مساجد مدارس مکاتب محافل مجالس گھر بار دوست احباب میں قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی فضاؤں میں خوشی مناتے ہیں۔ انداز اپنا اپنا
سوال نمبر 4:
وہابی سیرت کانفرنسز تو کرتے ہیں میلاد نہیں مناتے، کیا یہ بدعت نہیں؟
جواب:
(1) میلاد اور ولادت، سیرت طیبہ کا صرف ایک جزء ہے۔۔۔ جبکہ سیرت ۔۔۔ کُل ہے۔۔۔۔ لھذا ہم ولادتِ باجمال سے وصالِ باکمال تک پوری حیاتِ رسالتِ مآب ﷺ کو مانتے، مناتے اور لیتے اپناتے ہیں۔
(2) رہا یہ کہ اگر میلاد منانا بدعت ہے تو سیرت کانفرنسز بدعت کیوں نہیں؟ تو سنیے ۔۔۔ میلاد کیلئے ایک زمان، مکان، دوام ، دعوت اور نہ منانے والے کو منکر میلاد کہنا یہ پانچ امور ہیں جو اسے بدعت کے زمرے میں داخل کرتے ہیں۔
(3) سیرت کانفرنسز کروانے والے زمان ، مکان ، دوام، دعوت اور منکر سیرت کے طعنے یا الزام نہیں دیتے۔ تاریخیں چینج ہوتی رہتی ہیں، جگہیں بدلتی رہتی ہیں ، کبھی کرلی کبھی رہ گئی، اس کی طرف بلاکر سب کی شمولیت ضروری قرار نہیں دی جاتی، یا شرکت نہ کرنے والے اور کانفرنس نہ کروانے والوں کو منکر رسول، منکر سیرت نہیں کہا جاتا۔ اس لیے یہ قطعاً بدعت نہیں۔
سوال نمبر 5 :
دین میں کون سی چیز بدعت شمار ہوگی؟
جواب:
(1) ھر وہ کام جو آپ ﷺ کے دور مبارک میں مطلوب تھا۔
(2) اس کی طلب اور ڈیمانڈ بھی تھی۔
(3) آپ ﷺ اسے کرنا چاھتے تو کر بھی سکتے تھے
(4) کوئی امر مانع یا رکاوٹ بھی نہیں تھی
(5) اس کے باوجود آپﷺ نے وہ کام نہیں کیا۔
(6) اب اگر کوئی ۔۔۔ اس کام کو کرےگا تو وہ بدعت شمار ھوگی۔
مثال:
جیسے میت کی وفات کے بعد ایصال ثواب کیلئے قل تیجا ساتا دسواں، چالیسواں، برسی، عید میلاد وغیرہ۔
آپ کے اہل بیت کے 8 افراد آپ کی زندگی میں وفات پاتے ہیں۔ سیدہ خدیجہ، سیدہ زینب بنت خزیمہ، تین بیٹے اور تین بیٹیاں، مگر کسی کے ایصال ثواب کیلئے آپ نے کسی کا بھی قل، ساتا دسواں چالیسواں یا برسی نہیں کی۔
آپ چاہتے تو کر سکتے تھے،
مانع بھی کوئی نہیں تھا،
مگر پھر بھی آپ نے اسے نہیں کیا۔۔۔
تو آج کوئی اسے کرے، زمان و تاریخ متعین کرے، مکان میت والے گھر پر لازم قرار دے، اس پر ہمیشگی و دوام کرے، اور ایسا کرنے پر لوگوں کو مجبور کرے، اور نہ کرنے والوں کو ایصال ثواب کے منکر کہے تو اس کے یہ اعمال سراسر بدعت اور دین میں اضافہ ہوں گے۔ اور آپ رسالت مآب ﷺ پر الزام ہوگا۔
سوال نمبر 6:
دین میں کس اضافے کا نام بدعت ہے؟
جواب:
اگر کسی کام کا جواز اصلاً کتاب و سنت سے ثابت ہو اور اس میں کوئی شخص مذکورہ بالا پانچ امور کا اضافہ کردے تو وہ کام جو اصلا ثابت تھا ان اضافوں کی بنیاد پر بدعت قرار پائے گا۔
(1) زمان کی پابندی یعنی فلاں خاص وقت
(2) مکان کی پابندی یعنی ملاں خاص جگہ پر
(3) دوام کی پابندی یعنی اس پر ہمیشگی ہوگی
(4) دعوت کا اہتمام یعنی دوسروں کو اس کی طرف بلایا جائے، دعوت دی جائے
(5) اور ان خود ساختہ اضافوں کو نہ ماننے والے کو کافر، منکر یا ابلیس و لعین قرار دیا جائے
تو وہ جائز کام بھی ان اضافوں کی وجہ سے بدعت کے زمرے میں شمار ھوگا۔
سوال نمبر 7 :
دین میں کیا چیز بدعت شمار نہیں ہوگی؟
جواب:
(1) ھر وہ کام جو دور نبوت میں مطلوب تھا۔ (2) اس کا تقاضا اور ڈیمانڈ تھی
(3) آپ اُسے کرنا بھی چاہتے تھے۔۔۔
(4) مگر کسی مانع کی وجہ سے آپ نے وہ کام نہیں کیا۔۔۔
(5) مانع ختم ہونے پر اگر وہ کام کوئی کرے گا تو وہ بدعت شمار نہیں ہوگا۔
مثال:
جیسا کہ آپ بیت اللہ کو بنیاد ابراہیمی پر تعمیر کرنا چاہتے تھے مگر مانع کی وجہ سے نہ کیا بعد میں سیدنا عبداللہ بن زبیر نے اسے ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر فرمادیا۔ تو یہ بدعت نہیں ہوگی۔
قالَ لي رَسولُ اللَّهِ ﷺ: لَوْلا حَداثَةُ قَوْمِكِ بالكُفْرِ لَنَقَضْتُ البَيْتَ، ثُمَّ لَبَنَيْتُهُ على أَساسِ إبْراهِيمَ عليه السَّلامُ -فإنَّ قُرَيْشًا اسْتَقْصَرَتْ بِناءَهُ- وجَعَلْتُ له خَلْفًا.
الراويه: عائشة أم المؤمنين • البخاري، صحيح البخاري (1585) • [صحيح] • ومسلم (1333)
سوال نمبر 8:
بدعت اور جدت میں کیا فرق ہے؟
جواب:
(1) جدت:
اس کا تعلق دنیاوی امور کے ساتھ ہے،
دنیاوی امور میں کچھ نیا لانا کرنا اپنانا جدت ہے اور جدت مطلوب و محمود ہے، اسی لیے نت نئی ایجادات کا سلسلہ جاری و ساری ہے، اور یہی سائنس و ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کا عروج ہے۔
جیسے مشروبات اور ان کے فلیور میں جدت
ماکولات اور پکوانوں کی انواع میں جدت
مکانوں، رہائشوں کے جدید سٹائل
گاڑیوں اور ٹرانسپورٹیشن میں جدت
بحری، بری اور ہوائی سفروں میں جدت
فزکس، کیمسٹری، بائیو، میتھ اور موضوعات حیات میں جدت
(2) بدعت:
دین میں اصل قدامت ہے، اور یہی مطلوب و مقصود ہے، دین میں اپنی مرضی سے بغیر دلیل سابق کے کچھ نیا کرنا، لانا یا اپنانا جدت نہیں ، بلکہ بدعت ہے اور بدعت مردود ہے۔
ارشادِ رسالت مآب ﷺ ہے:
مَن أَحْدَثَ في أَمْرِنا هذا ما ليسَ فِيهِ، فَهو رَدٌّ
الراوي: عائشة أم المؤمنين • البخاري، صحيح البخاري (٢٦٩٧) • [صحيح] • أخرجه البخاري (٢٦٩٧)، ومسلم (١٧١٨)
مَن عَمِلَ عَمَلًا ليسَ عليه أمْرُنا فَهو رَدٌّ.
الراوي: عائشة أم المؤمنين • مسلم، صحيح مسلم (١٧١٨) • [صحيح] • أخرجه البخاري (٢٦٩٧) بنحوه، ومسلم (١٧١٨).
(3) جس کام پر نبی مکرم ﷺ کے قول فعل یا سیرت و اسوہ و قدوہ کی مہر نہیں وہ وہ دنیا کی نظر میں کتنا ہی حسین اور بہترین کیوں نہ ہو، بزبان نبوت وہ مردود ہے.
(4) زبان نبوت کا فیصلہ ہے:
"ان شر الامور محدثاتہا" سب سے بد ترین امور دین میں نئی ایجادات ہیں۔
"و کل محدثۃ بدعۃ"۔ دین میں جدت بدعت ہے۔
"و کل بدعۃ ضلالۃ"۔ ہر بدعت گمراہی ہے۔
"و کل ضلالۃ فی النار"۔ اور ھر گمراہی کا انجام جہنم ہے۔ فالعیاذ باللہ
سوال نمبر 9:
میلاد منانے میں کیا حرج ہے؟
جواب:
ماکولات و مشروبات، خرید و فروخت اور معاملات میں اصل اباحت ہے، جب تک ان کی حرمت کی کوئی دلیل وحی سے نہ مل جائے۔
"ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا"
"الاصل فی لماکولات و المشروبات و البیوع و المعاملات الاباحۃ"
لھذا اگر میلاد کا تعلق عام معاملات کے ساتھ ہوتا تو کوئی حرج نہیں تھا مگر اس کا تعلق دین و عبادت کے ساتھ ہے اس لیے بنا دلیل حرج ہی حرج ہے۔
سوال نمبر 10:
عید میلاد النبی منانے کی ممانعت کہاں ہے؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے: "وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا" [ الحشر: 7 ] کہ رسالت مآب ﷺ جس چیز سے روکیں اسے اے باز آجاؤ. تو کیا قرآن و حدیث میں کسی جگہ آمد و ولادتِ مصطفیٰ ﷺ اور بعثتِ رسول اکرم ﷺ پر جشن منانے سے منع کیا گیا ہے؟
جواب:
(1) کیونکہ میلاد مصطفیٰ ﷺ کو عید Claim کیا جاتا ہے اور "عید " عبادت ہے، اور عبادت کو بغیر دلیل کے کرنا منع ہے۔
عبادات کی اصل حرمت اور ممانعت ہے ان کی جب تک کوئی صحیح دلیل نہ ہو اسے عبادت قرار دے کر نہیں کیا جائے گا۔
"والاصل فی العبادات المنع"
مثال:
جیسے پانچ نمازیں دلیل سے فرض ہیں چھٹی نماز کو فرض قرار دینے کیلئے جب تک دلیل نہ مل جائے اس کا اثبات حرام ہے منع ہے۔
جیسے عید الفطر اور عید الاضحی دلیل سے ثابت ہیں ایسے ہی عید میلاد النبی کی تاریخ، احکام اور مسائل زبان نبوت سے ملے ہوتے تو یہ بھی ثابت ہوتی۔ نہیں تو اس کی اصل ہی منع ہے۔
(2) پھر بھی کوئی کہے کہ منع دکھا دیں تو یہ اس کی لاعلمی کی علامت ہے وگرنہ عبادت کی اصل ہی منع ہے۔ کیونکہ عبادت کرنے کی دلیل چاہیے ۔
(3) رہا یہ اسلوب کہ نہ کرنے کی یا منع کی دلیل طلب کرنا تو یہ سراسر ضد، انا، تعصب، ھٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں اور اصول دین، اصول تفسیر، اصول حدیث اور اصول فقہ سے نا آشنائی اور عدم واقفیت کی نشانی ہے۔
سوال نمبر 11:
کیا میلاد کا منکر کافر ہے؟ کیونکہ ہم نے قپنے میلادی مولویوں سے یہ فتوی بارہا سنا ہے.
جواب:
اگر میلاد کا منکر۔۔۔۔ کافر ہے اور یہ فتویٰ درست مان لیا جائے تو پھر خود رسول اکرم ﷺ ، اہل بیت اطھار، اصحاب رسول ، تابعین، تبع تابعین، مفسرین، محدثین اور فقھاء کرام سب اس فتوے کی زد میں آتے ہیں۔
اگر یہ کسی کا فتویٰ ہے تو اس انسان کو اس بدترین گستاخی پر فوری توبہ تائب ہونا چاہیے۔
سوال نمبر 12:
سنا ہے کہ جو عید میلاد النبی مناتے ہیں وہ نورانی ہیں اور جو نہیں مناتے وہ ابلیسی و شیطانی ہیں۔۔۔ اس کی حقیقت کیا ہے؟
جواب:
یہ فتویٰ بھی سراسر لاعلمی، جہالت اور بدترین گستاخی پر مبنی ہے، جس سے فی الفور توبہ اور رجوع لازمی ہے۔
کیونکہ اگر اس فتوے کو درست مان لیا جائے تو پھر خود رسول اکرم ﷺ ، اہل بیت اطھار، اصحاب رسول ، تابعین، تبع تابعین، مفسرین، محدثین اور فقھاء کرام سب اس فتوے کی زد میں آتے ہیں۔ فالعیاذ باللہ
سوال نمبر 13:
اس شعر کی کیا حقیقت ہے؟
نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں۔۔۔
جواب:
یہ شعر کسی متعصب، غالی انسان کی بدترین گستاخی ہے جس کی زد میں ہر وہ عظیم ہستی آتی ہے جس نے موجودہ مروجہ خود ساختہ انداز و اطوار میں اس تہوار کو نہیں منایا، پھر تو خود رسول اکرم ﷺ ، آپ کے ددھیال، ننھیال، سسرال، اہل بیت اطھار، اصحاب رسول ، تابعین، تبع تابعین، مفسرین، محدثین اور فقھاء و اولیاء کرام سب اس فتوے کی زد میں آتے ہیں۔ اور یقیناً ان کے ہاں اس عید کا نام و نشان اور تذکرہ تک نہیں ملتا۔
سوال نمبر 14:
کیا قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم السلام کے پانچ ولادت ناموں کا تذکرہ ہے؟
جواب:
قرآن مجید میں انبیائے کرام کے ولادت نامے بیان کرنا اور ان سے عید میلاد النبی پر استدلال قرآن مجید کی آیات بینات کے ساتھ بد ترین تحریف ہے۔
سوال نمبر 15:
سیدنا آدم علیہ السلام کے ولادت نامے کی کیا حقیقت ہے؟
جواب:
ولادت نامہ آدم علیہ السلام کی تفصیل سادہ لوح مسلمانوں میں یوں بیان کی جاتی ہے:
سورت الحجر میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ فَإِذَا سَوَّیۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِیهِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا۟ لَهُۥ سَـٰجِدِینَ ﴾ [الحجر 29]
ترجمہ: پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدہ میں گر پڑنا۔
سورت الکھف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰۤىِٕكَةِ ٱسۡجُدُوا۟ لِـَٔادَمَ فَسَجَدُوۤا۟ إِلَّاۤ إِبۡلِیسَ كَانَ مِنَ ٱلۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِۦۤۗ أَفَتَتَّخِذُونَهُۥ وَذُرِّیَّتَهُۥۤ أَوۡلِیَاۤءَ مِن دُونِی وَهُمۡ لَكُمۡ عَدُوُّۢۚ بِئۡسَ لِلظَّـٰلِمِینَ بَدَلࣰا ﴾ [الكهف ٥٠]
ترجمہ:
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا، وہ جنوں میں سے تھا سو اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی، پھر کیا تم مجھے چھوڑ کر اسے اور اس کی اولاد کو کارساز بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں، بے انصافوں کو برا بدل ملا۔
﴿ فَسَجَدَ ٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةُ كُلُّهُمۡ أَجۡمَعُونَ ﴾ [الحجر: 30]
تو سب نورانی فرشتوں نے آدم علیہ السلام کی میلاد اور ولادت نامے کو مان لیا، اور سجدہ ریز ہوگئے۔
إِلَّاۤ إِبۡلِیسَ أَبَىٰۤ أَن یَكُونَ مَعَ ٱلسَّـٰجِدِینَ [الحجر: 31 ]
مگر ابلیس ولادت کو ماننے سے انکاری بن گیا اور سجدہ نہ کیا۔
استدلال:
جو میلادِ انبیاء کو مانے وہ نورانی،
جو نہ مانے وہ ابلیسی و شیطانی۔۔۔۔۔
قَالَ یَـٰۤإِبۡلِیسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ ٱلسَّـٰجِدِینَ
[ الحجر: 32 ]
اللہ نے شیطان مردود سے استفسار کیا کہ تو نے میلاد مناتے ہوئے سر تسلیم خم کیوں نہیں کیا؟
قَالَ لَمۡ أَكُن لِّأَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهُۥ مِن صَلۡصَـٰلࣲ مِّنۡ حَمَإࣲ مَّسۡنُونࣲ [ الحجر: 33 ]
تو شیطان نے جواب دیا، میں اس بشر کی خلقت و ولادت کو تسلیم کرنے والا نہیں جسے تو نے سڑےبہوئے گارے کی کھنکتی مٹی سے بنایا ہے۔
قَالَ فَٱخۡرُجۡ مِنۡهَا فَإِنَّكَ رَجِیمࣱ
[ الحجر: 34 ]
تو اللہ نے فرمایا تو ابلیس و شیطان اور مردود ہے ، یہاں سے دفع دور ہو جا۔
تبصرہ و استفسار:
(1) ان آیات میں آدم علیہ السلام کی ولادت کا ذکر ہے۔ میلاد منانے کا نہیں۔
(2) اللہ تعالیٰ نے سجدے کا حکم دیا تھا، میلاد منانے کا نہیں۔
(3) شیطان نے اللہ کے حکم سجدہ کا انکار کیا تھا، حکم عید میلاد آدم منانے کا نہیں.
(4) اگر اس کا یہی معنی و مفھوم ہے جو آج کل کے فاضل علماءِ دستار فضیلت اور اصحابِ جبہ و قبہ بڑے شد و مد کے ساتھ نیشنل چینلز پر بیٹھ کر پوری ڈھٹائی اور سینہ زوری کے ساتھ بیان کر کے جہلاء کی داد اور واہ واہ سمیٹ رہے ہوتے ہیں تو ذرا وضاحت فرما دیجئے:
(1) کیا ان آیات کا یہی معنی و مفھوم رسول اکرم ﷺ نے مراد لیا؟ یا کبھی بیان کیا؟
(2) یا پھر اس ہستی کو معلوم نہ تھا جس پر یہ آیات نازل ہوئی تھیں کہ اگر عید میلاد النبی نہ منائی گئی تو ابلیسیت اور شیطانیت کا فتوی لگے گا؟
(3) کیا اھل بیت اطھار، ازواج مطھرات، کاتبین وحی ، خلفائے اربعہ عشرہ مبشرہ، اور جملہ اصحاب رسول ﷺ کو ان آیات کے مفھوم کا علم نہ تھا؟
(4) تابعین، تبع تابعین، مفسرین، محدثین، فقھاء و اولیاء کسی نے یہ معنی و مفہوم مراد لیا؟
(5) بارہ آئمہ اھل بیت، چاروں آئمہ مسالک اربعہ کو ان آیات کا علم تھا کہ نہیں؟ کیا انہوں نے یہی مفھوم کبھی بیان کیا؟
(6) کیا ان مذکورہ بالا ہستیوں نے اپنی پوری زندگی عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مناکر نورانی ہونے کا ثبوت دیا؟ یا پھر ان میلادی گستاخان کی نظر میں وہ ابلیسیت و شیطانیت کا ارتکاب کر بیٹھے۔
فالعیاذ باللہ علی ھذا التحریف والتدلیس والھذیان و الخذلان
سوال نمبر 16:
میلاد نامہ موسیٰ علیہ السلام کی کیا حقیقت ہے؟
جواب:
میلادی مولوی کہتے ہیں کہ سورت القصص کی ابتدائی 28 آیات میں اللہ تعالیٰ نے میلاد نامہ موسیٰ علیہ السلام کو بیان فرما کر عید میلاد النبی ﷺ ثابت کردی ہے۔
دلیل:
سورت القصص ایت نمبر 1 تا 28
﴿ وَأَوۡحَیۡنَاۤ إِلَىٰۤ أُمِّ مُوسَىٰۤ أَنۡ أَرۡضِعِیهِۖ فَإِذَا خِفۡتِ عَلَیۡهِ فَأَلۡقِیهِ فِی ٱلۡیَمِّ وَلَا تَخَافِی وَلَا تَحۡزَنِیۤۖ إِنَّا رَاۤدُّوهُ إِلَیۡكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِینَ ﴾ [ القصص: 7 ]
وجہ استدلال:
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے واقعے کو قرآن مجید میں بالتفصیل بیان کر کے واضح کردیا کہ جو انبیاء کے ولادت نامے کو مانے وہ مومن جو نہ مانے وہ فرعونی۔
تبصرہ و استفسار:
اگر اس کا یہی معنی و مفھوم ہے جو آج کل کے فاضل علماءِ دستار فضیلت اور اصحابِ جبہ و قبہ بڑے شد و مد کے ساتھ نیشنل چینلز پر بیٹھ کر پوری ڈھٹائی اور سینہ زوری کے ساتھ بیان کر کے جہلاء کی داد اور واہ واہ سمیٹ رہے ہوتے ہیں تو ذرا وضاحت فرما دیں:
(1) کیا ان آیات کا یہی معنی و مفھوم رسول اکرم ﷺ نے مراد لیا؟ یا کبھی بیان کیا؟
(2) یا پھر اس ہستی کو معلوم نہ تھا جس پر یہ آیات نازل ہوئی تھیں کہ اگر عید میلاد النبی نہ منائی گئی تو فرعونیت کا فتوی لگے گا؟
(3) کیا اھل بیت اطھار، ازواج مطھرات، کاتبین وحی ، خلفائے اربعہ عشرہ مبشرہ، اور جملہ اصحاب رسول ﷺ کو ان آیات کے مفھوم کا علم نہ تھا؟
(4) تابعین، تبع تابعین، مفسرین، محدثین، فقھاء و اولیاء کسی نے یہ معنی و مفہوم مراد لیا؟
(5) بارہ آئمہ اھل بیت، چاروں آئمہ مسالک اربعہ کو ان آیات کا علم تھا کہ نہیں؟ کیا انہوں نے یہی مفھوم کبھی بیان کیا؟
(6) کیا ان مذکورہ بالا ہستیوں نے اپنی پوری زندگی عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منا کر مومن ہونے کا ثبوت دیا؟ یا پھر ان میلادی گستاخان کی نظر میں وہ فرعونیت کا ارتکاب کر بیٹھے تھے۔
فالعیاذ باللہ علی ھذا التحریف والتدلیس والھذیان و الخذلان
سوال نمبر 17:
میلاد نامۂ یحییٰ علیہ السلام کی کیا حقیقت ہے؟
جواب:
میلادی مولوی تیسرا میلاد نامہ قرآن مجید سے یحییٰ علیہ السلام کا پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آیت نمبر 1 تا ایت نمبر 15 سیدنا یحییٰ علیہ السلام کا میلاد نامہ بیان فرماتے ہوئے کہا:
﴿ وَسَلَـٰمٌ عَلَیۡهِ یَوۡمَ وُلِدَ وَیَوۡمَ یَمُوتُ وَیَوۡمَ یُبۡعَثُ حَیࣰّا ﴾ [ مريم :15]
ترجمہ از امام احمد رضا خان فاضل بریلوی:
اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا
اور جس دن مرے گا
اورجس دن مردہ اٹھایا جائے گا۔
ترجمہ از علامہ طاہر القادری:
اور یحیٰی پر سلام ہو
ان کے میلاد کے دن
اور ان کی وفات کے دن
اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گے،
استدلال:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یحیٰی علیہ السلام کا میلاد نامہ بیان کر کے ثابت کردیا ہے کہ جو انبیاء کرام کے میلاد کو منائے وہ رحمان والا۔۔۔
اور جو نہ منائے وہ شیطان والا۔
تبصرہ و استفسار:
(1) اللہ تعالیٰ نے یہاں بزرگی و بڑھاپے میں سیدنا زکریا علیہ السلام کو جناب یحییٰ علیہ السلام کی خوش خبری کا بیان ہے عید میلاد النبی کا نہیں۔
(2) یہاں یہ بیان ہوا کہ اللہ کے ہاں کچھ بھی ناممکن نہیں۔
(3) یہاں ان کی ولادت کا معجزہ بیان ہوا ہے۔ میلاد نامہ اور عید میلاد نہیں
(4) یہاں بھی میلادی مولوی بد ترین تحریف، اور کتمان حق کا مظاھرہ کرتے ہیں کہ ایت کا اہک ٹکڑا بیان کرتے ہیں۔۔۔ [ و سلام علیہ یوم ولد ] اور اس سے ولادت و میلاد ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں
(5) لیکن اس کے متصل بعد آیت کریمہ کا اگلا جملہ [ ویوم یموت] کو چھوڑ دیتے ہیں بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتے کیونکہ یہ جملہ ان کے مسلک کے خلاف ہے اور اس میں واضح طور پر یحیی علیہ السلام کی وفات اور وفاتِ انبیاء کا عقیدہ ہے، اس لیے ڈنڈی مارتے ہوئے اسے چھوڑ کر تحریف کی بدنما مثال پیش کرتے ہیں کاش کہ ضمیر کی عدالت ہوتی، ضمیر زندہ ہوتا، اور وہاں یہ فیصلہ رکھا جاتا، اور ضمیر کا بحران نہ ہوتا تو شاید اس طرح کی بددیانتی اور علمی خیانت کا رجحان نہ ہوتا۔
استفسار:
کیا رسول اکرم ﷺ ، آپ کے ددھیال، ننھیال، سسرال، اہل بیت اطھار، اصحاب رسول ، تابعین، تبع تابعین، مفسرین، محدثین اور فقھاء و اولیاء کرام سے کسی ایک صحیح و صریح روایت سے ثابت کیا جس سکتا ہے کہ:
(1) ان ہستیوں نے ان آیات سے عید میلاد النبی پر استدلال کیا ہو؟
(2) پھر عید میلاد النبی منائی ہو؟
(3) اور نہ منانے والوں پر یہ فتوے صادر فرمائے ہوں؟
سوال نمبر 18:
میلاد نامۂ عیسیٰ علیہ السلام کی کیا حقیقت ہے؟
جواب:
میلادی مولویوں کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورت مریم میں ایت نمبر 16 تا 40 عیسیٰ علیہ السلام کا میلاد نامہ بیان کرکے عید میلاد النبی کو ثابت کردیا ہے۔
﴿ وَٱلسَّلَـٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدتُّ وَیَوۡمَ أَمُوتُ وَیَوۡمَ أُبۡعَثُ حَیࣰّا ﴾ [ مريم 33 ]
ترجمہ:
امام احمد رضا خان
اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں
اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں
علامہ طاہر القادری
اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن،
اور میری وفات کے دن،
اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا،
تبصرہ:
(1) یہاں عیسی علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ بیان ہوا ہے میلاد منانے کا یا جشن منانے کا یا اسے عید بنانے کا قطعا کوئی تذکرہ نہیں۔
(2) اس آیتِ کے پہلے جملے [ والسلام علی یوم ولدت ] میں عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور میلاد کو پورے زور شور اور شد مد سے بیان کیا گیا ۔
(3) حق تو یہ تھا کہ پوری آیت کو بیان کیا جاتا اور اس کا ترجمہ کسی اور عالم کا نہیں تو کم از کم اپنے مسلک کے علماء کا ترجمہ بیان کر دیا جاتا، لیکن صد افسوس کہ سرے سے اس جملے [ و یوم اموت ] کا تذکرہ ہی نہیں کیا گیا اور وہ لفظ بیان سے بالکل حذف کر دیے گئے، کیونکہ اس سے مسلک پہ چوٹ لگنی تھی اور وہ الفاظ عیسی علیہ السلام کی وفات اور وفات انبیاء علیہم السلام پر دلالت کر رہے تھے۔
اللہ تعالیٰ پر بہتان کی بدترین جرأت
اور تحریف قرآن کا ارتکاب:
میلاد نامۂ عیسیٰ علیہ السلام بیان کرتے ہوئے میلادی مولوی نے اللہ پر بہتان عظیم باندھا، کہ عیسیٰ علیہ السلام کے میلاد کی خوشی اللہ تعالی نے کھجوروں سے فرمائی۔
﴿وَهُزِّیۤ إِلَیۡكِ بِجِذۡعِ ٱلنَّخۡلَةِ تُسَـٰقِطۡ عَلَیۡكِ رُطَبࣰا جَنِیࣰّا﴾ [ مريم: 25 ]
ترجمہ:
امام احمد رضا خان
اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی.
علامہ طاہر القادری
اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ وہ تم پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرا دے گا.
تبصرہ:
ان میلادی مولویوں پر مرتے دم تک قرض ہے کہ اس استدلال کو رسول اکرم ﷺ ، آپ کے ددھیال، ننھیال، سسرال، اہل بیت اطھار، اصحاب رسول ، تابعین، تبع تابعین، مفسرین، محدثین اور فقھاء و اولیاء کرام سے کسی ایک صحیح و صریح روایت سے پیش کردیں۔
سوال نمبر 19:
کیا قرآن مجید میں میلاد نامۂ مصطفیٰ ﷺ بیان ہوا ہے؟
جواب:
میلادی مولوی سورت البلد کی آیت نمبر 3 سے میلاد نامۂ مصطفیٰ ﷺ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھا کر مرشدِ کامل، رحمت دوعالم رسول اکرم ﷺ کا میلاد نامہ بیان کرکے عید میلاد النبی کو ثابت کردیا ہے:
﴿ وَوَالِدࣲ وَمَا وَلَدَ ﴾ [ البلد: 3 ]
ترجمہ:
امام احمد رضا خان
اور تمہارے باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو
علامہ طاہر القادری
(اے حبیبِ مکرّم! آپ کے) والد (آدم یا ابراہیم علیہما السلام) کی قَسم اور (ان کی) قَسم جن کی ولادت ہوئی یعنی آدم علیہ السلام کی ذریّتِ صالحہ یا آپ ہی کی ذات گرامی جن کے باعث یہ شہرِ مکہ بھی لائقِ قَسم ٹھہرا ہے۔
تبصرہ:
اس آیت کا معنی و مفھوم کیا ھے؟
تفسير الطبري میں علامہ ابن جرير الطبري (٣١٠ هـ) رقمطراز ہیں:
﴿ لَاۤ أُقۡسِمُ بِهَـٰذَا ٱلۡبَلَدِ ١ وَأَنتَ حِلُّۢ بِهَـٰذَا ٱلۡبَلَدِ ٢ وَوَالِدࣲ وَمَا وَلَدَ ٣ لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَـٰنَ فِی كَبَدٍ ٤ أَیَحۡسَبُ أَن لَّن یَقۡدِرَ عَلَیۡهِ أَحَدࣱ ٥ یَقُولُ أَهۡلَكۡتُ مَالࣰا لُّبَدًا ٦ أَیَحۡسَبُ أَن لَّمۡ یَرَهُۥۤ أَحَدٌ ٧ ﴾
[ البلد : 1 تا 7 ]
مفسرین نے چار اقوال بیان کیے ھیں:
1۔ آدم اور ان کی اولاد کی قسم
2۔ ابراھیم اور ان کی اولاد کی قسم
3۔ کسی بھی والد اور اس کی اولاد کی قسم
4۔ والد سے مراد جنم دینے والے صاحب اولاد کی قسم جبکہ "وما ولد" سے مراد عاقر، بانجھ اور بے اولاد انسان کی قسم مراد ہے۔
استفسارات:
(1) میلادی مولویوں نے سورت البلد کی ان آیات سے جشن عید میلاد النبی ﷺ پر جو استدلال کیا ہے کیا اس کا علم صاحب قرآن ، صاحب کتاب، صاحب وحی ، نبی مکرم، رسول معظم ﷺ، آپ کی 11 بیویوں، 4 بیٹیوں، 3 دامادوں، 10 نواسوں نواسیوں، 4 خلفاء راشدین، 10 عشرہ مبشرہ بالجنۃ، سوا لاکھ صحابہ، تابعین تبع تابعین، مفسرین، محدثین، فقھائے امت ، آئمہ اربعہ کو نہ ہو سکا؟
(2) تفسير الطبري، تفسير ابن كثير، تفسير القرطبي، تفسير البغوي، تفسير ابن الجوزي، تفسير الماوردي، تفسير ابن القيم، تفسير ابن تيمية، تفسير السمعاني، تفسير مكّي، محاسن التأويل للقاسمي، تفسير الثعالبي، تفسير السمرقندي، تفسير الثعلبي، فتح البيان للقنوجي، فتح القدير للشوكاني، تفسير ابن جزی، تفسير الآلوسي، تفسير الرازي، أضواء البيان للشنقیطی، نظم الدرر للبقاعي، التحرير والتنوير، المحرر الوجيز لابن عطية، البحر المحيط لأبي حيان، البسيط للواحدي، تفسير أبي السعود، الكشاف للزمخشري، التفسیر الميسر، المختصر في التفسير
تفسير السعدي، أيسر التفاسير، تفسير ابن عثيمين، تفسير الجلالين، جامع البيان للإيجي
تفسير البيضاوي، تفسير النسفي، الوجيز للواحدي، تفسير ابن أبي زمنين، موسوعة التفسير المأثور، الدر المنثور للسیوطی، تفسير ابن أبي حاتم وغیرھم ان چالیس 40 سے زیادہ مفسرین میں سے کسی ایک مفسر کو بھی سورت البلد کی ان آیات میں عید میلاد النبی نظر نہ آئی؟ مگر پندرہویں صدی کے ان میلادی مولویوں کو نظر آگئی۔۔۔۔
رات کو دن تو دن کو رات کرے
جو آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
خود بدلتے نہیں، قُرآں کو بدل دیتے ہیں
ہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!
سوال نمبر 20:
کیا جشن عید میلاد النبی ﷺ آیتِ دستر خوان سے ثابت ہوتی ہے؟
جواب:
میلادی مولویوں کا کہنا ہے کہ قران پاک میں دعائے عیسیٰ علیہ السلام کہ اے اللہ ہمیں
دستر خوان برائے عید عطا فرما اے عید میلاد النبی ﷺ ثابت ہوتی ہے۔
﴿ قَالَ عِیسَى ٱبۡنُ مَرۡیَمَ
ٱللَّهُمَّ رَبَّنَاۤ أَنزِلۡ عَلَیۡنَا مَاۤىِٕدَةࣰ مِّنَ ٱلسَّمَاۤءِ
تَكُونُ لَنَا عِیدࣰا
لِّأَوَّلِنَا
وَءَاخِرِنَا
وَءَایَةࣰ مِّنكَۖ
وَٱرۡزُقۡنَا وَأَنتَ خَیۡرُ ٱلرَّ ٰزِقِینَ ﴾
[ المائدة : 114 ]
ترجمہ:
امام احمد رضا خان
عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے الله! اے رب ہمارے! ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔
علامہ طاہر القادری
عیسٰی ابن مریم ؑ نے عرض کیا: اے ﷲ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے خوانِ (نعمت) نازل فرما دے کہ (اس کے اترنے کا دن) ہمارے لئے عید ہوجائے ہمار ے اگلوں کے لئے (بھی) اور ہمارے پچھلوں کے لئے (بھی) اور (وہ خوان) تیری طرف سے نشانی ہو، اور ہمیں رزق عطا کر اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے،
توضیح المرشد:
(1) اسلام میں جس دن کو عید مقرر کیا جاتا ہے ، مرشدِ کامل ﷺ اس کا باقاعدہ نام رکھتے ہیں۔ جیسے عید الفطر، عید الاضحیٰ ۔
(2) اس کی تاریخ کا تعین خود آپ ﷺ فرماتے ہیں: جیسے عید الفطر یکم شوال اور عید الاضحیٰ دس ذو الحجہ کو۔
(3) اس کا ٹائم مقرر ہوتا ہے، جیسے سورج طلوع ہونے کے بعد۔
(4) مشارکین کا تعین ھوتا ہے کہ مرد و زن دونوں اس کی ادائیگی کیلئے کھلے میدانوں میں نکلیں گے۔
(5) حتی کہ وہ خواتین بھی اس میں شریک ھوں گی جو ایام سے ہوں۔ وہ نماز والی جگہ سے الگ بیٹھیں گی مگر خطبہ و دعا میں شریک ہوں گی۔
(6) عید کا باقاعدہ روٹ میپ دیا جاتا ہے کہ ایک راستے سے آئیں گے تو واپسی پر راستہ تبدیل کریں گے۔
(7) عید میں اذان کا حکم بیان کیا گیا کہ عیدین میں اذان نہیں ھوگی۔
(8) اسی طرح عیدین میں اقامت بھی نہیں کہی جائے گی۔
(9) نماز عید سے قبل یا بعد کوئی نفل یا سنت نماز ادا نہیں کی جائے گی۔
(10) اس نماز کی ادائیگی، خاص طریقہ کار، دو رکعات، جہری قراءت اور اضافی تکبیرات کے ساتھ ہوگی۔
(11) پھر مرد و خواتین کیلئے امام عید کا خطبہ دے گا۔
(12) افراد امت، عوام الناس، ملک و ملت اور ملت اسلامیہ کیلئے دعائے خیر ھوگی۔
(13) اس روز پوری ملت اسلامیہ اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے گی، اور اس کی تکبیرات وتحمیدات اور تمجیدات کے زمزمے بلند کرے گی۔
(14) عید الفطر میں قربانی نہیں ہوگی جبکہ عید الاضحیٰ پر حسب استطاعت جانور نحر و قربان کیے جائیں گے۔
(15) اور اگر انسان حج میں ھو تو 10 ذی الحجہ کو عید ادا نہیں کرے گا۔ جیسا کہ مرشدِ کامل ﷺ نے سوا لاکھ صحابہ کرام کے ساتھ مکہ میں منیٰ کے میدان میں عیدالاضحیٰ ادا نہیں کی۔
(16) کچھ احباب اس آیت میں لفظ عید سے جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر استدلال کرتے ہیں جو کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ سے کبھی بھی مراد نہیں لیا۔
(17) اس آیت مبارکہ سے اسلافِ امت مسلمہ ، اھل بیت اطھار، اصحاب رسول ، تابعین و تبع تابعین، فقہائے کرام، محدثین عظام، یا مفسرین کرام نے قطعاً ایسا کوئی استدلال نہیں کیا۔
(18) اور رسول کریم ﷺ سے شدید ترین قلبی لگاؤ، مودت و محبت اور ایمانی تعلق و چاہت، کے باوجود مذکورہ بالا ہستیوں نے اپنی پوری زندگیوں میں اس دن کا بطور تہوار، بطور جشن یا بطور عید قطعاً کسی قسم کا کوئی اہتمام و انصرام نہیں کیا۔
(18) اگر اس آیت سے ایسا کوئی جشن، تہوار اور عید مراد ہوتا تو خیر میں سبقت لے جانے والے یہ حضرات، اور آپ خود کبھی اس سے غفلت نہ برتتے۔ بلکہ اس کا ولادتِ باجمال سے وصالِ با کمال تک بھر پور ویسے ہی اہتمام فرماتے جیسے امت مسلمہ روز اول سے تاحال عید الفطر و عید الاضحیٰ کا اہتمام انتہائی جوش و جذبے، عقیدت و احترام اور اتقان و ایمان کے ساتھ کرتی چلی آرہی ہے۔
(19) اگر اس آیت سے مراد جشنِ عید میلاد النبی ﷺ ہوتی تو مفسرین کتب تفسیر میں ، محدثین کتب حدیث میں، جبکہ فقھاء کتب فقہ میں اس عنوان کو اپنی کتب کی زینت بناتے، مگر انہوں نے کتاب العیدین ہی کو عنوان بنایا ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ ایسی کوئی عید قرون اولیٰ ، میں نہ تھی۔ بلکہ یہ بعد کی اختراع و ابتداع ہے۔
(20) اسلامی شریعتوں میں عید کا مطلب قطعاً یہ نہیں رہا ہے کہ قومی تہوار کا ایک دن ہو جس میں تمام اخلاقی حدود و قیود اور شریعت کے ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے، بے ہنگم طریقے سے طرب ومسرت کا اظہار کیا جائے، چراغاں کیا جائے، ھلہ گُلہ ہو، مردو زن کا اختلاط ہو، انڈین میوزک ہو، رقص و سرود ہو، بے پردگی ہو، باجے گاجے ہوں، پہاڑیاں ہوں، تعلیمات نبویہ کی کھلے عام مخالفت ہو، آوارگی، بیہودگی، سیٹیاں، ھُو ھا ھو، سلنسر نکال کر موٹر سائیکلوں کا شور، طوفانِ بد تمیزی بپا کرکے جشن منایا جائے، جیسا کہ آج کل اس کا یہی مفہوم سمجھ لیا گیا ہے اور اسی کے مطابق یہ خود ساختہ تہوار منایا جاتا ہے۔
(21) تاریخ شاہد ہے کہ اس تہوار کا آغاز کسی صاحبِ دین، صاحبِ علم و حلم، کسی عالم و فاضل نے نہیں بلکہ ایک غالی و بدعتی اور رافضی حکمران نے کیا اور وہاں سے ہوتے ہوئے آہستہ آہستہ امت محمدیہ کے سنی طبقات میں اسے پزیرائی ملی، اور یوں اہل بدعت نے "عید مائدہ" سے "عید میلاد" کا جواز ثابت کرنا شروع کیا، جو ان کے اپنے آئمہ و اسلاف اور فقھاء و محدثین و مفسرین و تابعین و اصحاب و اھل بیت اطہار سے ثابت نہیں۔
(22) مزید برآں یہ ہماری شریعت سے پہلے کی شریعت کا واقعہ ہے، اور وہ بھی عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت پر نہیں، بلکہ اس کا تذکرہ نزولِ دستر خوان کی استدعا اور علت و حکمت کے طور پر کیا گیا ہے۔ اور خود قوم عیسیٰ علیہ السلام نے اسے بطور "عید مائدہ" اختیار نہیں کیا۔
(23) اگر یہ اتنا ہی اہم معاملہ تھا اور اسلام اسے امت محمدیہ کیلئے بھی برقرار رکھنا چاہتا تھا تو اس کی وضاحت کردی جاتی۔ جیسے روزوں کے بارے کہا کہ " کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم" آپ پر روزے فرض کردیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے ماقبل لوگوں پر فرض تھے۔
(24) اس آیت مبارکہ میں عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے بطور دعائے پیغمبر درج ذیل خواہشات کا کا اظہار ہوا تھا :
1۔ تیار شدہ کھانوں کے دستر خوان کا نزول
( اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ )
2۔ جو ہمارے لیے اور ہم سے ما قبل و مابعد کیلئے عید اور خوشی کا باعث ہو۔
( تَكُوۡنُ لَـنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا )
3۔ اور تیری طرف سے یہ میری نبوت کی دلیل اور معجزہ و نشانی ثابت ہو۔
( وَاٰيَةً مِّنۡكَۚ )
4۔ اور تیری جناب سے ہمارے لیے رزق اور انعام و اکرام ہو۔
( وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ )
اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کی ان خواہشات میں سے تین کو اپنی حکمت کے تحت قبول فرمایا : آسمان سے دستر خوان بھی اتارا۔
اسے معجزہ و نشانی بھی بنا دیا
اور سماوی رزق سے بھی نواز دیا۔
رہی چوتھی خواہش و دعا۔۔۔۔ تو اسے اللہ نے اپنی حکمتوں سے قبول نہیں کیا۔ ورنہ اس کی بھی باقاعدہ صراحت کردی جاتی۔
(25) ذرا سوچئے۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کی دعا کے الفاظ کیا ہیں؟ ( تَكُوۡنُ لَـنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا )
کہ ہمارے لیے عید بنے۔۔۔۔ مان لیجئے وہ موجودہ لوگوں کیلئے عید بن گئی۔
(26) مگر ( لِّاَوَّلِنَا ) جو پہلے لوگ گذر گئے ان کے ہاں دستر خوان تو اترے مگر وہ دن عید کا دن نہ تھا۔ اور ان کے جانے کے بعد تو بالکل بھی وہ عید نہ رہی۔ اگر وہ عید ہوتی تو دعا میں اس کی استدعا کیوں کی جاتی؟
(27) اور رہے مابعد آنے والے لوگ ( وَاٰخِرِنَا ) تو ان میں اس کی قطعاً کوئی صراحت نہیں ملتی۔
(28) لھذا اس سے قیاس کرتے ہوئے عید میلاد النبی ﷺ مراد لینا ایسا عمل اور فعل ہے جو آپ ﷺ سے، آپ ﷺ کے اہل بیتِ اطھار، یا اصحاب و ارباب سے یا امت کے اسلاف سے قطعاً قطعاً ثابت نہیں۔
(29) تو پھر اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ اس آیت مبارکہ سے جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مراد لینا بطور دین ثابت نہیں،
(30) لھذا اس عید کے اختراع و ابتداع اور خود ساختہ و مروجہ بدعت ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں رہ جاتا۔
خلاصۂ کلام:
اسلام دلیل کا نام ہے سینہ زوری کا نہیں، اور دلائل شرعیہ سے اسلام میں صرف دو ہی عیدیں ثابت ہیں جو پیغمبرِ اسلام ﷺ نے مقرر کی ہیں، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔
واللہ اعلم بالصواب۔
سوال نمبر 21:
ارشاد باری تعالیٰ "اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠" کیا اس آیت میں جشن عید میلاد النبی ﷺ کا تذکرہ اور حکم ہے؟
جواب:
آیت مبارکہ "وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠"
[ سورت الضحیٰ: 11 ]
ترجمہ:
امام احمد رضا خان
اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو
علامہ طاہر القادری
اور اپنے رب کی نعمتوں کا (خوب) تذکرہ کریں،
تبصرہ:
(1) میلادی مولوی آیت مبارکہ "وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠" سے عید میلاد النبی ﷺ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر آیت کریمہ کے الفاظ، معانی، مفاہیم، شان نزول، سبب نزول قطعاً اس دعوے کو قوت ثبات نہیں دیتے۔
(2) یہ کیسے ممکن ہے کہ اس سے مراد عید میلاد النبی ﷺ ہو اور اس آیت کے نزول کے بعد نبی مکرم ﷺ زندگی بھر ایک دفعہ بھی اس پر عمل نہ کریں؟
(3) جو ہستی اپنے تمام اھل و عیال، اصحاب و ارباب، اور امت کو لے کر پورے تزک و اہتمام سے عید الفطر اور عید الاضحیٰ پڑھتے پڑھاتے رہے ان سے یہ عید کیسے مخفی رہ گئی؟
(4) اس آیت سے یہ استدلال کرکے اسلاف امت نے اس عید کا اہتمام و انصرام کیوں نہیں کیا؟
(5) اگر میلادی مولوی میں نہ مانوں کی روش ترک کرتے ہوئے گالی دیے بغیر، صرف ایک بار اس جشن و تہوار اور عید میلاد کا عملی ثبوت و مظاہرہ نبی اکرم ﷺ سے پیش کردیں تو ان کا امت پر احسان ہوگا۔
سوال نمبر 22:
کیا سورت ابراہیم کی آیت نمبر 5 "وذکرھم بایام اللہ" میں عید میلاد النبی ﷺ منانے کا حکم دیا گیا ہے؟
جواب:
میلادی مولوی لوگوں کو سینہ زوری سے یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ ارشاد باری تعالیٰ: " وذکرھم بایام اللہ" سے مراد عید میلاد النبی ﷺ ہے۔
پوری آیت مبارکہ مع ترجمہ ملاحظہ کیجئے:
﴿ وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔایَـٰتِنَاۤ أَنۡ أَخۡرِجۡ قَوۡمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرۡهُم بِأَیَّىٰمِ ٱللَّهِۚ إِنَّ فِی ذَ ٰلِكَ لَـَٔایَـٰتࣲ لِّكُلِّ صَبَّارࣲ شَكُورࣲ ﴾ [ إبراهيم: 5 ]
ترجمہ:
امام احمد رضا خان
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے اجالے میں لا، اور انہیں اللہ کے دن یا د دِلا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبرے والے شکر گزار کرو۔
علامہ طاہر القادری
اور بیشک ہم نے موسٰی ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ (اے موسٰی!) تم اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جاؤ اور انہیں اللہ کے دنوں کی یاد دلاؤ (جو ان پر اور پہلی امتوں پر آچکے تھے)۔ بیشک اس میں ہر زیادہ صبر کرنے والے (اور) خوب شکر بجا لانے والے کے لئے نشانیاں ہیں۔
تبصرہ:
(1) میلادی مولوی اس آیت کے اس ٹکڑے سے عید میلاد النبی ﷺ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر آیت کریمہ کے الفاظ، معانی، مفاہیم، شان نزول، سبب نزول قطعاً اس دعوے کو قوت ثبات نہیں دیتے۔ بلکہ یہ موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قوم کو غلامی و جہالت سے شریعت کی طرف نکالنے کا حکم بیان ہوا ہے کہ انہیں ان کا ماضی، بد ترین حالات، شدید ترین ابتلاءات و امتحانات، ذلت و پستی یاد دلا کر فرعونی غلامی سے نجات کی فکر دلائی جا رہی ہے۔ مگر یاران کرشمہ ساز نے اسے اٹھا کر اپنی مزعومہ اختراع و ابتداع کیلئے دلیل بنانے کی ناکام کوشش کی ہے۔
(2) یہ کیسے ممکن ہے کہ اس سے مراد عید میلاد النبی ﷺ ہو اور اس آیت کے نزول کے بعد نبی مکرم ﷺ زندگی بھر ایک دفعہ بھی اس پر عمل نہ کریں؟ اور اسے بطور استدلال پیش نہ کریں۔
(3) جو ہستی اپنے تمام اھل و عیال، اصحاب و ارباب، اور امت کو لے کر پورے تزک و اہتمام سے عید الفطر اور عید الاضحیٰ پڑھتے پڑھاتے رہے ان سے یہ عید کیسے مخفی رہ گئی؟
(4) اس آیت سے یہ استدلال کرکے اسلاف امت نے اس عید کا اہتمام و انصرام کیوں نہیں کیا؟
(5) اگر میلادی مولوی میں نہ مانوں کی روش ترک کرتے ہوئے گالی دیے بغیر، صرف ایک بار اس جشن و تہوار اور عید میلاد کا عملی ثبوت و مظاہرہ نبی اکرم ﷺ سے پیش کردیں تو ان کا امت پر احسان ہوگا۔
سوال نمبر 23:
کیا سورت یونس کی ایت نمبر 58 "قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ" عید میلاد النبی ﷺ کی دلیل ہے؟
جواب:
ارشاد باری تعالیٰ "قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ" [ یونس: 58 ]
ترجمہ:
امام احمد رضا خان
تم فرماؤ الله ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔
علامہ طاہر القادری
فرما دیجئے: (یہ سب کچھ) الله کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثتِ محمدی صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تم پر ہوا ہے) پس مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر خوشیاں منائیں، یہ اس (سارے مال و دولت) سے کہیں بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں،
تبصرہ:
(1) میلادی مولوی اس آیت سے عید میلاد النبی ﷺ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر آیت کریمہ کے الفاظ، معانی، مفاہیم، شان نزول، سبب نزول اور سیاق س سباق قطعاً اس دعوے کو تقویت نہیں بخشتے۔
(2) سیاق و سباق:
اس سے ماقبل آیت کریمہ ملاحظہ کیجئے:
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ مَّوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِى الصُّدُوۡرِۙ وَهُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞
ترجمہ:
لوگو ! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے قرآن مجید کی شکل میں نصیحت آ چکی ہے جو دلوں کے امراض کی شفا اور مومنوں کے لئے منبعِ ہدایت اور سر چشمۂ رحمت ہے.
یہاں انسانوں کو قرآنی شکل میں نصیحت، شفاء، ہدایت اور رحمت جیسی چار ربانی نعمتوں کی عطا کا تذکرہ فرما کر اگلی آیت میں کہا جا رہا ہے کہ اس کتاب قرآن مجید کا نصیحت ہونا، شفا ہونا،منبع ہدایت ہونا اور سر چشمہ رحمت ہونا یہ نعمت، یہ عطا اللہ کے خاص فضل و کرم اور رحمت و مہربانی کا نتیجہ ہے تو انہیں اس کتاب کے نزول پر دل و جاں سے خوش ہونا چاہیے، یہ قرآنی دولت ان کیلیے، دنیا وما فیھا میں جمع کیے جانے والے مال و متاع سے کہیں بہتر ہے۔
(3) یہ کیسے ممکن ہے کہ اس سے مراد عید میلاد النبی ﷺ ہو اور اس آیت کے نزول کے بعد نبی مکرم ﷺ زندگی بھر ایک دفعہ بھی اس پر عمل نہ کریں؟ اور اسے بطور استدلال پیش نہ کریں۔
(4) جو ہستی اپنے تمام اھل و عیال، اصحاب و ارباب، اور امت کو لے کر پورے تزک و اہتمام سے عید الفطر اور عید الاضحیٰ پڑھتے پڑھاتے رہے ان سے یہ عید کیسے مخفی رہ گئی؟
(5) اس آیت سے یہ استدلال کرکے اسلاف امت نے اس عید کا اہتمام و انصرام کیوں نہیں کیا؟
(5) اگر میلادی مولوی میں نہ مانوں کی روش ترک کرتے ہوئے گالی دیے بغیر، صرف ایک بار اس جشن و تہوار اور عید میلاد کا عملی ثبوت و مظاہرہ نبی اکرم ﷺ سے پیش کردیں تو ان کا امت پر احسان ہوگا۔
سوال نمبر 24:
اگر جشنِ ولادت قرآن مجید و حدیث شریف اور سیرت طیبہ اور سنت مطہرہ سے ثابت نہیں تو پھر مقصد آمد، اور مشنِ بعثت و رسالت کیا ہے؟
جواب:
ابراھیم علیہ السلام نے خود رسولِ اکرم ﷺ کو مانگا۔۔۔ مگر یہ نہیں کہا۔۔۔ کہ اے پروردگار ان میں رسولِ معظم ﷺ کو مبعوث فرما۔۔۔ کہ یہ خوشیاں، جشن اور عیدِ میلاد منا سکیں۔۔۔
بلکہ تلاوتِ آیات، تعلیمِ کتاب ، تعلیم حدیث و حکمت، کے ذریعے تزکیہ نفس کرنے کے مشن پر بات کی۔
﴿ رَبَّنَا وَٱبۡعَثۡ فِیهِمۡ رَسُولࣰا مِّنۡهُمۡ
1. یَتۡلُوا۟ عَلَیۡهِمۡ ءَایَـٰتِكَ
2۔ وَیُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَـٰبَ
3۔ وَٱلۡحِكۡمَةَ
4۔ وَیُزَكِّیهِمۡۖ
إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِیزُ ٱلۡحَكِیمُ ﴾
[ البقرة 129 ]
اسی مشن کو اللہ نے بطور احسان و امتنان بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿ لَقَدۡ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِینَ إِذۡ بَعَثَ فِیهِمۡ رَسُولࣰا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ یَتۡلُوا۟ عَلَیۡهِمۡ ءَایَـٰتِهِۦ وَیُزَكِّیهِمۡ وَیُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَـٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبۡلُ لَفِی ضَلَـٰلࣲ مُّبِینٍ ﴾ [ آل عمران : 164 ]
اور اسی مشنِ بعثت و رسالت کی حقیقت کو اللہ رب العزت نے سورت الجمعہ میں یوں اجاگر فرمایا:
﴿ هُوَ ٱلَّذِی بَعَثَ فِی ٱلۡأُمِّیِّـۧنَ رَسُولࣰا مِّنۡهُمۡ یَتۡلُوا۟ عَلَیۡهِمۡ ءَایَـٰتِهِۦ وَیُزَكِّیهِمۡ وَیُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَـٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبۡلُ لَفِی ضَلَـٰلࣲ مُّبِینࣲ ﴾
[ الجمعة: 2 ]
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Jhang Sadar
009988