Magsi

Magsi

Share

On this page, you will find useful information, helpful guidance, and valuable content to support learning and personal growth.”

28/12/2025

゚viralシfypシ゚ .

27/12/2025

Tanhai ke DiN

26/12/2025
25/12/2025

*`کالم`: آئینے میں عکس: سب سے بڑی جنگ خود سے ہے، دنیا سے نہیں*

`تحریر/ذیشان حیدر ابڑو`

آج ہم ایک ایسے عجیب دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہر شخص دوسرے کو سدھارنے کی فکر میں دبلا ہو رہا ہے۔ چائے کے ہوٹلوں سے لے کر سوشل میڈیا کے کمنٹس سیکشن تک، ہر جگہ ایک عدالت لگی ہوئی ہے جہاں ہم دوسروں کے کردار، نیت اور اعمال کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔ ہم حکمرانوں کی کرپشن پر گھنٹوں بحث کرتے ہیں، نظام کی خرابیوں پر خون کے آنسو روتے ہیں، اور اپنے پڑوسی سے لے کر عالمی لیڈروں تک، سب کی غلطیوں کی فہرست اپنی جیب میں لیے پھرتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر فلاں شخص سدھر جائے، اگر فلاں افسر ایماندار ہو جائے، یا اگر فلاں لیڈر بدل جائے تو یہ دنیا جنت کا نمونہ بن جائے گی۔ لیکن اس سارے شور و غوغا اور دوسروں پر انگلی اٹھانے کی دوڑ میں، ہم اس ایک شخص کو مکمل طور پر فراموش کر دیتے ہیں جسے بدلنا سب سے زیادہ ضروری ہے، سب سے زیادہ مشکل ہے، اور جو مکمل طور پر ہمارے اختیار میں ہے—یعنی "ہم خود"۔ شاعر کا یہ مصرعہ کہ "آئی ہے میری قوم پہ یہ کیسی تباہی..." دراصل ہماری اپنی انفرادی اخلاقی تباہی کا اجتماعی عکس ہے۔ ہم سب درخت کی ٹہنیاں کاٹ رہے ہیں جبکہ کیڑا جڑ میں لگا ہوا ہے۔

ہماری نفسیات کچھ ایسی بن چکی ہے کہ ہم دوسروں کے معاملے میں تو سخت ترین "جج" بن جاتے ہیں اور بغیر دلیل سنے فیصلہ سنا دیتے ہیں، لیکن اپنے معاملے میں بہترین "وکیل" بن کر سو تاویلیں اور بہانے پیش کرتے ہیں۔ اگر دوسرا جھوٹ بولے تو وہ "مکار" ہے، اگر ہم بولیں تو وہ "مصلحت" ہے۔ اگر دوسرا رشوت لے تو "حرام خور"، اگر ہم لیں تو "مجبوری"۔ ہم اپنی "انا" اور "ذات" کے ایسے بتوں کی پوجا کر رہے ہیں جنہیں ہم خود بھی نہیں توڑنا چاہتے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا فرقہ، ہماری سوچ، ہماری سیاسی وابستگی—سب حقِ مطلق ہیں اور باقی سب گمراہی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ یاد رکھیں، اصلاح کا سفر کبھی بھی "تم" سے شروع نہیں ہوتا، یہ ہمیشہ "میں" سے شروع ہوتا ہے۔ جب ہم دوسروں پر ایک انگلی اٹھاتے ہیں تو تین انگلیاں ہماری اپنی طرف اشارہ کر رہی ہوتی ہیں کہ پہلے خود کو دیکھو۔ یہ تین انگلیاں سوال کرتی ہیں: کیا تم سچے ہو؟ کیا تم دیانتدار ہو؟ کیا تم انصاف پسند ہو؟

ذرا ٹھنڈے دل سے تنہائی میں سوچیں، جب تک میں اپنی زبان کی کڑواہٹ ختم نہیں کروں گا، جب تک میں اپنے دل کے نہان خانوں سے حسد، بغض اور کینے کا کچرا صاف نہیں کروں گا، تب تک یہ معاشرہ کیسے سدھرے گا؟ معاشرہ کوئی آسمان سے اتری ہوئی اجنبی مخلوق نہیں، یہ مجھ سے اور آپ سے مل کر بنتا ہے۔ اگر ہر اینٹ ٹیڑھی ہو تو دیوار سیدھی کیسے ہو سکتی ہے؟ اگر ہر قطرہ گندا ہو تو دریا صاف کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم معاشرے کو ایک باغ کی طرح دیکھتے ہیں جس میں سے ہم کانٹے چننا چاہتے ہیں، لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارا اپنا دل بھی اسی باغ کا ایک پودا ہے۔ اگر ہم خود کانٹے دار جھاڑی بنے رہیں گے تو باغ کبھی صاف نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی عادت ڈالنی ہوگی، چاہے وہاں کتنا ہی اندھیرا کیوں نہ ہو۔ اپنی غلطی مان لینا کمزوری نہیں، بلکہ اعلیٰ ظرفی اور بہادری کی نشانی ہے۔ نفس کے خلاف جہاد کو اسی لیے "جہادِ اکبر" کہا گیا ہے کیونکہ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹنا تلوار چلانے سے زیادہ مشکل ہے۔ ایک سچا مسلمان اور عظیم انسان وہ ہے جو دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالے اور اپنے عیبوں کو مائیکروسکوپ سے تلاش کر کے ان کی اصلاح کرے۔ جس دن ہم نے دوسروں کا احتساب چھوڑ کر اپنا احتساب شروع کر دیا، یقین جانیں اسی دن سے ہمارے گھر، ہمارا محلہ اور ہمارا ملک بدلنا شروع ہو جائے گا۔ دنیا کو بدلنے کی کوشش کرنے والے بہت ہیں، خود کو بدلنے والے بہت کم، اور یہی کم لوگ اصل ہیرو ہیں۔

25/12/2025

زیبیسٹ انسٹیٹوٹ کی جانب سے نواب شاہ کے شہریوں کیلئے فری کورسز کروائے جارہے ہیں۔ خواہشمند امیدوار ضرور حصہ لیں۔

25/12/2025

Magsi ゚viralシfypシ゚

25/12/2025

゚viralシfypシ゚

22/12/2023

H... 😘

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address

Karachi