kachy Paky Dost
ENJOY MANY POETRIES AND DEEP WORDS WITH PEACE 💗💯
13/02/2026
بھارت کے سابق کپتان سارو گنگولی کا کہناہے کہ یہ جیت کرکٹ کی ہوئی ہے پاکستان نے آخری موقع پر میچ سے بائیکاٹ کے فیصلے کو واپس لیکر کرکٹ کو بچالیا ہے پاک بھارت میچ کرکٹ کی خوبصورتی ہے اس کے بنا کرکٹ ادھوری ہے میرا اول روز سے یہی موقف ہے کہ دونوں دیشیوں کے بیچ سیریز بھی ہونی چاہئے ہم آخری بار پاکستان 2006 میں گئے میری کپتانی میں وہاں کے لوگوں کا جو پیار تھا وہ آج بھی مجھے یاد ہے وہ ایک تاریخی دورہ تھا کرکٹ سے فاصلے ختم ہوتے ہے پاک بھارت میچ دیکھنے کیلئے سری لنکا جاؤں گا
p**y Dost
12/02/2026
تم واپس کیوں آگئے ہو، یہاں تم نے کیا کرنا ہے ۔۔۔؟؟ 30 سال دبئی اور 10 سال انگلینڈ میں ملازمت کرکے کروڑوں روپے کمانے والا لاہور کا ایک بزرگ سب کچھ بیوی بچوں کو لٹا کر اولڈ ہوم میں رہنے پر مجبور ۔۔۔۔۔۔سمن آباد کے حنیف صاحب 1975 میں دبئی چلے گئے ، یہ وہاں ایک سرکاری محکمے میں آپریٹر کے طور پر کام کرتے تھے ، 30 سال اسی کمپنی میں رہے اور سپروائز بن کر ریٹائرڈ ہوئے تو انگلینڈ چلے گئے ، 10 سال وہاں ملازمت کی ، اس دوران گھر کا چکر بھی ہر سال دو سال بعد لگا لیتے ، ان سے غلطی یہ ہوئی کہ جو کمایا بیوی کے اکاؤنٹ میں بھیج دیا ، بیوی نے کچے مکان سے شاندار کوٹھی بنا لی ، 2 بیٹوں اور 2 بیٹیوں کو شاندار تعلیم دلائی گئی ، انگلینڈ میں حنیف صاحب کے روم میٹ انہیں اکثر کہتے ، سب کمائی پاکستان نہ بھیجا کرو کچھ برے دنوں کے لیے اپنے پاس محفوظ رکھو مگر حنیف صاحب کا جواب ہوتا مین نے کیا کرنے ہیں پیسے جو کچھ ہے بچوں کا ہے مر جاؤں گا تو تب بھی تو بچے ہی وارث ہونگے ، قصہ مختصر 40 سال بیرون ملک کمائیاں کرکے حنیف صاحب گھر آگئے تو ہر روز گھر میں لڑائی ہونے لگی ، بیوی کہتی تمہارے بغیر ادھر کونسا کام ہے جو نہیں ہورہا تم واپس آئے کیوں ہو ، جب یہ جھگڑا ہر دوسرے چوتھے دن ہونے لگا تو حنیف صاحب عمر رفتہ کو یاد کرکے رو پڑے اور سوچا کاش اب وہ دوبارہ واپس دبئی یا انگلینڈ جا سکتے ، تو کبھی مر کر بھی واپس نہ آتے مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا اب انکی واپسی ناممکن تھی چنانچہ ایک روز حنیف صاحب نے فیصلہ کیا اور لاہور میں ہی ایک اولڈ ہوم میں شفٹ ہو گئے ، چند روز بعد ہی اے آر وائی ٹی وی چینل کے لیے انکا انٹرویو ہوا ، یہ انٹرویو نشر ہوا تو انگلینڈ والے ان کے روم میٹ دوستوں نے کسی نہ کسی طرح پتہ کرکے اولڈ ہوم فون کیا اور کہا : حنیف صاحب: کیا ہو گیا ، آپ کہاں پہنچ گئے ، آپ کے گھر والے خیریت سے ہیں ؟ اب حنیف صاحب انہیں کیا بتاتے کہ انکی کمائی سے بیٹے موجیں کررہے ہیں نئے نئے ماڈل کی گاڑیوں میں پھرتے ہیں اور انکے لیے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں جو ان کے خون پسینے کی کمائی سے بنا ہے ۔۔۔ ان دوستوں نے یہ بھی پیشکش کی کہ آپ گوجرانوالہ ہمارے گھر چلے جائیں ، وہاں ٹھاٹ سے رہیں ، نوکر چاکر آپ کی دن رات خدمت کریں گے ۔۔۔۔۔۔ مگر حنیف صاحب نے یہیں اولڈ ہوم میں رہنا مناسب سمجھا ، یہاں عزت بھی ہے ، پیار بھی ، اور خیال بھی رکھا جاتا ہے ۔۔۔۔ یہ اولڈ ہوم انکے گھر سے بہتر ہے جہاں انکی لالچی بیوی اور ڈالروں سے پالے ہوئے بیٹے اور بیٹیاں رہتے ہیں ۔۔۔۔۔ حنیف صاحب کے بقول کاش میں اپنی کمائی کا آدھا حصہ اپنے پاس رکھتا تو آج یہی گھر والے جو ڈیڑھ سال ہو گیا ایک بار مجھے یہاں اولڈ ہوم میں دیکھنے تک نہیں آئے ، سب کے سب میری اجازت کے بغیر کوئی قدم بھی نہ اٹھاتے ۔۔۔ سچ کہتے ہیں دنیا مطلب دی او یاد دنیا مطلب دی ۔۔۔۔ P**y dost #
10/02/2026
اپنا سرکل چھوٹا رکھیں ,اپنی زندگی سے منفی لوگوں کو نکال دیں ۔ آپ اکیلے ہیں تو اکیلے ہونے سے آپ مر نہیں جائیں گے زندہ رہیں گے۔ اگر آج آپ مر جائں تو چار دن بعد آپ بھلا دیے جاؤ گے۔
آج کے دور میں سب سے مشکل کام یہ نہیں ہوتا کہ لوگ مل جائیں دوست مل جائں کوئی اچھا ساتھی مل جاۓ، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ صحیح دوست سہی ساتھی ملیے۔
ہر کوئی مسکراتا ہے، ہر کوئی اپنا سا لگتا ہے، لیکن ہر کوئی آپ کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔
اس لیے یاد رکھیں، اپنا دائرہ چھوٹا رکھیں۔
زیادہ لوگ ہونا کامیابی کی نشانی نہیں ہوتی، اصل کامیابی یہ ہوتی ہے کہ آپ کے اردگرد جو لوگ ہیں، وہ آپ کے لیے دعا بن کر کھڑے ہوں، بوجھ بن کر نہیں۔
کچھ لوگ صرف سننے کے لیے ہوتے ہیں، سمجھنے کے لیے نہیں۔ کچھ لوگ صرف فائدہ اٹھانا جانتے ہیں، ساتھ دینا نہیں۔
ایسے لوگوں کو زندگی سے نکالنا بے رحمی نہیں ہوتی، یہ خود سے محبت ہوتی ہے۔
منفی لوگ آپ کی سوچ کو آہستہ آہستہ زہر کر دیتے ہیں۔ آپ کو شک میں ڈال دیتے ہیں، آپ کے خواب چھوٹے کر دیتے ہیں، اور پھر کہتے ہیں، “ہم تو صرف سچ بول رہے ہیں۔”
نہیں۔ ہر سچ مشورہ نہیں ہوتا، اور ہر بولنے والا خیر خواہ بھی نہیں ہوتا۔
اس لیے معیار پر توجہ رکھیں، تعداد پر نہیں۔ اگر آپ کے پاس صرف دو ایسے لوگ ہیں جو آپ کے درد کو سمجھتے ہیں، آپ کی کامیابی پر جلتے نہیں، اور آپ کے گرنے پر مذاق نہیں بناتے، تو سمجھ لیں آپ بہت امیر ہیں۔
زندگی میں سکون بھیڑ سے نہیں ملتا، سکون ملتا ہے صحیح لوگوں کے ساتھ رہ کر۔
اپنا دائرہ چھوٹا رکھیں، لیکن دل سے رکھیں۔ کیونکہ کم لوگ، مگر صحیح لوگ… پوری دنیا کے برابر ہوتے ہی P**y dost #
10/02/2026
سالی آدھے گھر والی کو پورے گھر والی بنانے کا جنون: ظالم رکشہ ڈرائیور کا کالا کرتوت بے نقاب ۔۔ لاہور کے نواحی قصبہ ہیر میں چند سال قبل پیش آیا عبرتناک واقعہ ۔۔۔۔ دلاور اپنا ذاتی رکشہ چلاتا تھا ۔ اسکی شادی کو 10 سال ہو چکے تھے اور چار بچے تھے ، اسکی بیوی بہت خوبصورت تھی مگر ہر بار بچے کی پیدائش پر اسکی چھوٹی بہن اسکے گھر آجاتی تھی ، اس دوران دلاور کے اپنی سالی کے ساتھ تعلقات بن گئے ، ایک بار اسکی بیوی نے اسے نازیبا حالت میں پکڑ لیا اور بہت روئی پیٹی ، غیر شادی شدہ بہن واپس گھر چلی گئی اور دلاور کی بیوی ایک سال تک نہ خود اپنے میکے گئی نہ شوہر کو جانے دیا ، وہ اسکی غلطی معاف کر چکی تھی اور اپنا گھر محفوظ رکھنا چاہتی تھی لیکن اسکے شوہر نےسالی سے تعلقات گھر کے باہر چوری چھپے قائم رکھے ، اسکی سالی اکثر اپنے گھر سے اکیلی آجاتی اور یہ لاہور میں کہیں نہ کہیں مل لیتے ، اس دوران دلاور نے اپنے ایک بھتیجے کو 50 ہزار روپے کا لالچ دیا اور پلان بنایا کہ وہ ڈا۔کو کے روپ میں اسکی بیوی کو گو۔لی مار دے گا ، اس واردات کو ڈ۔کیتی کا رنگ دیا جائے گا اور پھر کچھ عرصے بعد اسکی بیوی کے ماں باپ بچوں کی وجہ سے اسکی سالی کے ساتھ اسکی شادی کردیں گے ، افسوس کہ کچھ روز بعد جب کہ دلاور کی بیوی بچوں کو لے کر کافی مہینوں بعد اپنے میکے گئی تو چند روز بعد دلاور انہیں لینے پہنچ گیا وہ بیوی اور 4 بچوں کو اپنے رکشے میں قصور سے واپس اپنے گاؤں ہیر روانہ ہوا تو راستے میں اسکے بھتیجا جس نے منہ لپیٹا ہوا تھا موٹرسائیکل پر آیا ، رکشے کو رکنے کا اشارہ کیا اور آکر دلاور کی بیوی سے پرس اور زیورات چھینے ، اس غریب نے ڈر سے سب کچھ دے دیا مگر اپنے ہی رشتہ دار ڈا۔کو نے بدقسمت خاتون کو گو۔لی مار دی ، یہ گو۔لی اسکے سر کو پھا۔ڑ کر ساتھ بیٹھی بچی کے سر میں جا لگی ، بیوی کے ساتھ ساتھ معصوم چند سالہ ماہین بھی خون میں لت ۔پت ہو گئی ، مگر اسکی بیٹی کے سانس چل رہے تھے چنانچہ اسے 1122 میں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ بھی دم توڑ گئی ، اسکے بعد دلاور نے ایک اور ڈرامہ رچایا اس نے سڑک پر شور شرابہ کیا رونا دھونا شروع کیا لوگ اکٹھے ہو گئے اس نے ایسے ایسے بین کیے کہ ہجوم مشتعل ہو گیا اور سڑک کو ٹائر جلا کر بند کردیا گیا ، اعلیٰ پولیس افسران وہاں آگئے انہوں نے دلاور کو انصاف کی یقین دہانی کروائی اور مجرم پکڑنے کا وعدہ کیا تو دلاور بیوی اور بچی کی لا۔شیں لے کر گھر آگیا ، مگر پولیس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور 24 گھنٹے میں ملزم پکڑ دکھائے وہ ایسے کہ دلاور کاکال ریکارڈ چیک کیا گیا اسکے بھتیجے کے ساتھ اسکے بار بار رابطے مشکوک نکلے ، پہلے بھتیجے کو پکڑ کر ساری کہانی معلوم کر لی گئی اور پھر سالی سے شادی کے خواب دیکھنے والے اصل مجرم کو گرفتار کرکےحوالات میں ڈال دیا گیا ۔۔۔۔ P**y dost #
09/02/2026
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین السلام بلبل نے لاہور میں ایسی بات کہہ ڈالی جس نے پاکستانیوں کا دل پھر سے جیت لیاامین السلام نے لاہور بسنت میلے میں شرکت کی اور پتنگ بھی اڑایا میڈیا کے نمائندہ نے سوال کیا کہ آپ تو بہت اچھی پتنگ بازی کرلیتے ہے کیسے محسوس کررہے ہے پاکستان آکرجس ہر امین السلام نے کہا کہ اب تو آنا جانا لگا رہے گا پاکستان آ کر پرانے یادیں تازہ ہوگئی یہاں اپنوں میں آکر جو سکون محسوس ہوا شاید اس کا ہمیں سالوں سے انتظار تھا اور اللہ کو یہ منظور تھا یہ محبت بھرا سفر اب شروع ہوا ہے یہ اب جاری رہے گا دل کررہاہے اگر وقت کی کمی نہ ہوئی تو پاکستان میں گھومنے کا بہت خواہش ہے یہاں پر جس طرح میرا استقبال کیا گیا ہے یہ صرف اپنے ہی کرتے ہے کیونکہ بطور بنگلہ دیش کرکٹ صدر کے میں دنیا بھر میں جاتا ہوں لیکن ایسا کدہر بھی نہیں دیکھا ہے آپ سب کے پیار کا ب pakay dost worldcup2026 #
07/02/2026
یہ بیان وہ کھوتی کا بچہ دے رہا ھے جس نے ہم سے کرکٹ کھیلنا سکھایا، جس کے پاس افغانستان سے پاکستان آنے کے لئے کرایہ تک نہیں ہوتا تھا۔
ان نمک حراموں بارے ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ کتوں سے بدتر قوم ھے، وفاداری تو دور یہ الٹا اپنے محسنوں کو ڈنگ مارتے ہیں۔
اس پر لعنت بھیجنا آپ سب پر فرض ھے۔ kachy P**y Dost
05/02/2026
یہ ہے قیامت کی ٹیکنالوجی !!
سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے
کیا ہم غلط عضو (Organ) سے سوچ رہے ہیں؟
بات صرف دماغ (Brain) تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو
کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔
ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں
یعنی دماغ کے سیلز
سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔
اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو
قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا
"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"
(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔)
(القرآن، الاعراف: 179)
ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہے
آج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہے
جب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔
یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں
اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہوتی ہے۔
اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں۔
اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔
اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی دم کیوں کرتے ہیں؟
یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟
انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔
حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔
اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا رہا ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔
نا جی
غلط! سراسر غلط!
میرے فیورٹ سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں اور انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہی ہیں، جبکہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکینکر کے آپ کے خیالات کو اسکرین پر دکھا دے گا
آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے استھوٹ ٹیکنالوجیکے بارے میں کیا کہا تھا
رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)
(صحیح بخاری: 1)
ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھا
لیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔
عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔
نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔
ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔
جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔
اگر آپ کا عمل بہت بڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک الیکٹریکل دستخط چھوڑ رہی ہیں۔
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔
خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں
قرآن کہتا ہے:
"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔)
(القرآن، ق: 50:18)
اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:
"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"
(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Dataبیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)
(القرآن، الجاثیہ: 45:29)
یہ نَستنسِخ کا لفظ بہت اہم ہے۔
اگر انسان (ٹیسلا اور آج کی AI) ایسی مشین بنا سکتا ہے جو دماغ کی لہروں کو تصویر میں بدل دے، تو کیا اللہ کا نظام آپ کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ نہیں کر رہا؟ قیامت کے دن جب اعمال نامہ پیش ہوگا، تو وہ 4K Video کی طرح آپ کے سامنے چلے گا
"فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ"
(پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔)
(القرآن، الزلزال)
یہاں پڑھنے کا نہیں، دیکھنے (Visualizing) کا ذکر ہے۔ ٹیسلا کی تھوٹ فوٹوگرافی دراصل قیامت کے دن کی ٹیکنالوجی کا ایک ادنیٰ سا ٹریلر ہے۔
کیوں سسٹم چاہتا ہے کہ یہ طاقت صرف ان کے پاس ہو۔
آج ایلون مسک کا Neuralink کیا کر رہا ہے؟
وہ آپ کے دماغ میں چپ لگا کر آپ کی سوچ کو پڑھنا چاہتا ہے۔
یہ دجال کا سب سے بڑا ہتھیار ہوگا
اگر وہ آپ کی سوچ پڑھ سکتے ہیں، تو وہ آپ کی سوچ بدل بھی سکتے ہیں
وہ آپ کو مجرم قرار دے دیں گے اس سے پہلے کہ آپ کوئی جرم کریں جیسا کہ مغرب کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔
یہ ہے وہ فتنہ جس کے لیے ہمیں تیار ہونا تھا۔ لیکن ہمارا نوجوان کیا کر رہا ہے؟
وہ ٹک ٹاک پر ناچ رہا ہے
یہاں میں پھر اپنے گلے سڑے تعلیمی نظام پر لعنت بھیجتا ہوں
ہمیں اسکولوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؟
رٹہ سسٹم
ڈارون کا بندر
انگریز کی تاریخ
ہمیں یہ کیوں نہیں پڑھایا جاتا کہ انسان ایک ٹرانسمیٹر ہے؟
ہمیں تزکیہ نفس کی سائنس کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟
کیونکہ اگر مسلمان کو پتہ چل گیا کہ اس کی پاکیزہ سوچ لیزر بیم کی طرح طاقتور ہے، تو وہ ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہو جائے گا
صحابہ کرامؓ کی سوچ میں اتنی طاقت تھی کہ حضرت عمرؓ مدینہ میں ممبر پر کھڑے ہو کر میلوں دور ساریہؓ کو فرماتے ہیں
"یا ساریہ الجبل"
(اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہو جاؤ!)
اور ان کی آواز وہاں سنی جاتی ہے۔
یہ ٹیلی پیتھی یا تھوٹ ٹرانسفر تھا جو ایمان کی طاقت سے پیدا ہوتا تھا۔ ہم نے وہ سائنس کھو دی اور آج ہم سمارٹ فون کے غلام بن گئے
میرے مسلمان ساتھیو
آپ کا دماغ کوڑے دان نہیں ہے۔ اس میں جو خیال آتا ہے، وہ ریکارڈ ہو رہا ہے اور اس کا اثر کائنات پر پڑ رہا ہے۔
ٹیسلا کی تھیوری ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ غیب کی دنیا حق ہے۔
اپنی سوچوں کی حفاظت کرو۔
اپنے خیالات کو دجالی میڈیا کے حوالے مت کرو۔
قرآن کو سائنس کی کتاب سمجھ کر پڑھو، تاکہ تم اس آنے والے ذہنی غلامی کے دور میں آزاد رہ سکو۔
اُٹھو! اور اپنی روحانی فریکوئنسی کو اتنا مضبوط کرو کہ کوئی دجالی مشین اسے ہیک نہ کر سکے
اگر آپ کو ہماری پوسٹ/کہانیاں پسند آتی ہیں تو لائک اور شئیر ضرور کریں اور پیج کو بھی ضرور فالو کریں۔
04/02/2026
مجھے دینے والوں کی قطار میں رکھنا میرے مالک، تیرے در کے سوا کہیں سر جھکانا اچھا نہیں لگتا۔
03/02/2026
کبھی کبھی اللہ تعالی تمام دروازے اور کھڑکیاں بند کر دیتا ہے کیونکہ باہر طوفان ہو تا ہے کبھی کبھی اللہ آپ کو دریا میں ڈال دیتا ہے کیونکہ آپ کا دشمن تیر نا نہیں جانتا کبھی اللہ آپ کو کسی مرحلے میں روک دیتا ہے تا کہ خطرہ آپ سے آگے نکل جائے اور آپ تک نہ پہنچ سکے اپنی سوچ کو بد لیے آپ بلکل وہی ہے جہاں آپ کو ہونا چاہیے نہ تیز نہ ست اللہ کا وقت بہترین ہے اللہ پر بھروسہ تو کل رکھیں اور اللہ سے آسانی کی دعا مانگتے رہیں "
03/02/2026
سری لنکا نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کتنی محبت رکھتی ہے 💞۔
سری لنکا میں اترنے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کا پرجوش استقبال کیا گیا ۔ کھلاڑیوں کو گلدستے پیش کی گئی اور ان کی خوب مہمان نوازی کی گئی ۔ ہم پاکستانی قوم سری لنکا کا بے حد مشکور ہیں 🤗
02/02/2026
حامد میر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ نواب اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی اپنی قیمتی گاڑی لے کر بلوچستان کے ایک چھوٹے سے شہر کی ورکشاپ پر پہنچے۔ وہ ورکشاپ بظاہر عام سی تھی، مٹی سے اٹی ہوئی، پرانے اوزار، اور ایک سادہ سا مکینک جو برسوں سے ایمانداری سے محنت کر کے اپنا گھر چلا رہا تھا۔
طلال بگٹی نے گاڑی مکینک کے سامنے کھڑی کی اور کہا: “گاڑی چیک کرو، ابھی ٹھیک کرنی ہے۔”
مکینک نے گاڑی کا بونٹ کھولا، غور سے دیکھا، پھر احترام سے بولا: “کام کافی زیادہ ہے صاحب، آج میرے پاس ٹائم نہیں، کل آ جائیں تو بہتر ہوگا۔”
یہ سن کر طلال بگٹی کا لہجہ بدل گیا۔ انہیں یہ بات ناگوار گزری کہ کوئی عام مکینک انہیں “کل آنے” کا کہہ دے۔ غصے میں آ کر انہوں نے مکینک کو برا بھلا کہا، اور پھر بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ روایت کے مطابق طلال بگٹی نے مکینک کو دو تین تھپڑ مار دیے۔
ورکشاپ میں موجود لوگ فوراً بیچ بچاؤ کے لیے آگے بڑھے۔ کسی نے مکینک کو پیچھے کیا، کسی نے طلال بگٹی کو روکا۔ ماحول کشیدہ ہو گیا۔ مکینک خاموش تھا، آنکھوں میں آنسو تھے مگر زبان بند تھی۔ طلال بگٹی غصے میں گاڑی اسٹارٹ کر کے وہاں سے چلے گئے۔
لوگوں نے مکینک سے کہا: “بھائی، یہ بڑے لوگ ہیں، ان سے الجھنا ٹھیک نہیں۔” مکینک نے صرف اتنا کہا: “میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی تھی، بس سچ کہا تھا۔”
یہ بات شہر میں پھیل گئی۔ شام تک یہ خبر کسی نہ کسی ذریعے سے نواب اکبر بگٹی تک پہنچ گئی۔
نواب اکبر بگٹی کا شمار بلوچستان کے باوقار، اصول پسند اور سخت مزاج سرداروں میں ہوتا تھا۔ جب انہوں نے سنا کہ ان کے بیٹے نے ایک غریب مکینک پر ہاتھ اٹھایا ہے تو وہ خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر سوچتے رہے، پھر مختصر سا حکم دیا: “کل صبح اس مکینک کو میرے پاس لایا جائے۔”
اگلے دن صبح مکینک کے گھر سرکاری گاڑی پہنچی۔ وہ گھبرا گیا۔ اس کی بیوی نے روتے ہوئے کہا: “میں نے کہا تھا نا، بڑے لوگوں سے الجھنے کا انجام برا ہوتا ہے۔”
مکینک نے کپکپاتے ہاتھوں سے چپل پہنی اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس کے ذہن میں ہزار خدشات تھے:
“پتہ نہیں اب کیا ہوگا؟ کہیں جیل نہ ہو جائے؟ یا مزید ذلت؟”
جب وہ نواب اکبر بگٹی کے ڈیرے پر پہنچا تو ماحول بالکل مختلف تھا۔ نظم و ضبط، خاموشی اور وقار ہر طرف نظر آ رہا تھا۔ اسے اندر لے جایا گیا۔
نواب اکبر بگٹی کرسی پر بیٹھے تھے۔ سفید داڑھی، گہری آنکھیں اور رعب دار شخصیت۔ مکینک نے ڈرتے ہوئے سلام کیا۔
نواب اکبر بگٹی نے نہایت سنجیدہ آواز میں پوچھا: “کیا کل میرے بیٹے نے تمہیں مارا تھا؟”
مکینک نے نظریں جھکا کر کہا: “جی سردار صاحب… مگر میری کوئی غلطی نہیں تھی۔”
نواب اکبر بگٹی نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، پھر محافظ کو آواز دی: “طلال کو بلاؤ۔”
کچھ ہی دیر میں طلال بگٹی حاضر ہو گئے۔ ان کے چہرے پر اعتماد تھا، شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ معاملہ ان کے حق میں ہوگا۔
نواب اکبر بگٹی نے سخت لہجے میں پوچھا: “کیا تم نے اس مکینک پر ہاتھ اٹھایا تھا؟”
طلال بگٹی نے کہا: “جی، اس نے بدتمیزی کی تھی، گاڑی ٹھیک کرنے سے انکار کر دیا تھا۔”
نواب اکبر بگٹی نے میز پر ہاتھ مارا: “کیا کسی کا انکار کرنا بدتمیزی ہے؟
کیا تمہارا نام بگٹی ہونا تمہیں یہ حق دیتا ہے کہ تم کسی غریب پر ہاتھ اٹھاؤ؟”
طلال بگٹی خاموش ہو گئے۔
نواب اکبر بگٹی نے محافظ کو حکم دیا: “اس مکینک کے سامنے کھڑے ہو جاؤ۔”
پھر انہوں نے مکینک کی طرف دیکھ کر کہا: “بیٹا، کل تمہیں جتنے تھپڑ لگے تھے، آج وہی تھپڑ واپس لو۔”
مکینک کانپ گیا: “نہیں سردار صاحب، میں یہ نہیں کر سکتا۔ وہ آپ کے بیٹے ہیں۔”
نواب اکبر بگٹی کی آواز مزید سخت ہو گئی: “یہ میرا بیٹا نہیں، یہ ایک ظالم ہے۔ اور ظلم کے سامنے خاموش رہنا بھی گناہ ہے۔”
لوگوں کے مطابق مکینک کے ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے ایک ہلکا سا تھپڑ مارا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا: “جتنے لگے تھے، اتنے پورے کرو۔”
مکینک نے بمشکل گنتی پوری کی۔ ہر تھپڑ طلال بگٹی کے لیے نہیں، بلکہ غرور کے منہ پر تھا۔
اس کے بعد نواب اکبر بگٹی نے مکینک کو قریب بلایا، اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا: “بیٹا، عزت نام یا طاقت سے نہیں، انصاف سے ملتی ہے۔
آج اگر میرا بیٹا غلط ہے تو وہ عام آدمی سے بھی کمتر ہے۔”
پھر انہوں نے مکینک کو کچھ رقم دی اور کہا: “یہ تمہاری تذلیل کا نہیں، تمہاری عزت کا معاوضہ ہے۔ اور یاد رکھو، سچ بولنے والا کبھی چھوٹا نہیں ہوتا۔”
مکینک روتا ہوا وہاں سے نکلا، مگر آج اس کے آنسو کمزوری کے نہیں، عزت کے تھے۔
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل سرداری طاقت میں نہیں، انصاف میں ہوتی ہے۔
اور جو باپ اپنے بیٹے کو بھی قانون کے برابر کھڑا کر دے، وہی دراصل قوم کا رہنما کہلانے کے قابل ہوتے ہیں 😳
فالوؤ اور شیئر کیجئے 👍
Copied....
01/02/2026
دل کے ارماں انسوؤں میں بھ گئے ہم وفا کر کے بھی تنہا رہ گئے دکھی مت ہونا بھائی آپ کی ہار سے تھوڑا بہت دکھ تو ہمیں بھی ہے کیونکہ آپ کی ٹیم پاکستان کے بعد ہماری فیورٹ ٹیم جو ہے لیکن اس بات کی خوشی بھی ہے کہ ہم نے اپ سے اپنا بدلہ لے لیا آپ لوگ جو پاکستانی ٹیم کو اسٹریلیا میں بلوا کر تیز پچز پر ڈانس کرواتے ہو نا ہم نے اسپن پچز پر آپ کا مجرہ کروا کے اب حساب برابر
کر دیا 🤣🤣🥴
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Karachi
75800