Pakistani niws

Pakistani niws

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pakistani niws, کراچی, Karachi.

23/04/2026

@ᴳᴿ🦅᭄Ⓜ️💫جانی♥️:ویڈیو میں نظر انے والے تمام بھائیوں کو دوستوں کو اور بزرگوں کو پاکستان کراچی کی طرف سے سلام۔۔۔۔۔۔❤️پختون دوست اپنی مثبت سرگرمیوں کی ویڈیوز ضرور اپلوڈ کیا کریں ۔۔۔۔
کیونکہ اس وقت سوشل میڈیا پر پختون کلچر کے بارے میں ڈانس اور چھوکرا بازی کو لیکر جو منفی رجحان سامنے آیا ہے اس سے پختونوں کا تشخص ان کا امیج اچھا نہیں بن رہا ۔۔۔۔
آپ تمام پڑھے لکھے پختون دوستوں سے میری گزارش ہے کہ برائے کرم ہلکے پھلکے انداز میں ہلکے پھلکے مذاق کے ساتھ اپنے کلچر اپنی ثقافت اپنے مہمان نوازی اپنے علاقوں کی خوبصورتی سے متعلق اچھی ویڈیوز بنائیں۔۔
اپنے علاقے کے تاریخی مقامات پر جا کر ویلوگ بنائیں ۔۔۔۔
وہاں پر کوئی کھانے پینے کی محفلیں جمائیں۔۔۔۔۔ ساز بجائیں جن کو موسیقی سے لگاؤ ہے وہ گلوکاری کریں۔۔۔۔
اپنے علاقائی کھیلوں کا تعارف کروائیں۔۔۔۔۔۔خواتین کا اور لوگوں کی پرائویسی کا احترام کرتے ہوئے تاریخی اور سیاحتی مقامات کا تعارف کروائیں۔۔

21/04/2026

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے عوام کے لیے بڑے ریلیف کی خبر سامنے آئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے تناظر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

20/04/2026

شناختی کارڈ اور ذاتی معلومات (NADRA)
8000: شناختی کارڈ کی تصدیق (CNIC Verification)
668: نام پر رجسٹرڈ سموں کی تعداد جاننا
8300: ووٹ کی معلومات اور پولنگ اسٹیشن
8001: فیملی شجرہ کی تصدیق (Family Tree)
8008: شناختی کارڈ کی ایکسپائری ڈیٹ چیک کرنا
8005: قریبی نادرا سینٹر کا پتہ معلوم کرنا

گاڑی کی تصدیق (Excise / Vehicle Verification)

8149: پنجاب گاڑی کی رجسٹریشن چیک کریں
8521: اسلام آباد گاڑی کی رجسٹریشن

ڈراہوینگ لاسنس کی تصدیق ( Driving Licence Verification)

8147: پنجاب ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق
6040: سندھ ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق

پاسپورٹ کی تصدیق ( Passport Verification)

9988: پاسپورٹ بننے کی صورتحال (Passport Status)

مالی امداد اور صحت (Govt Schemes)

8171: بے نظیر انکم سپورٹ / احساس پروگرام میں اہلیت
8500: صحت کارڈ کی اہلیت اور ہسپتال کی معلومات
8123: مفت راشن پروگرام میں رجسٹریشن
8900: وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کی اہلیت

موبائل اور انٹرنیٹ (PTA)

8484: موبائل فون کی پی ٹی اے (PTA) سے تصدیق
* #06 #: اپنے موبائل کا IMEI نمبر معلوم کرنا
667: سم کس کے نام پر ہے؟ (سم سے 'MNP' لکھ کر بھیجیں)

ہنگامی حالات اور شکایات (Emergency)

15: پولیس مدد (Police Help)
1122: ایمبولینس اور فائر بریگیڈ
130: موٹروے پولیس ہیلپ لائن
1991: سائبر کرائم (آن لائن فراڈ) کی شکایت (FIA)
1033: اینٹی کرپشن ہیلپ لائن
ھرل فاؤنڈیشن انٹرنیشنل

20/04/2026

وارن بفیٹ کے اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں جب سب لوگ کسی چیز کو صرف اس لیے خرید رہے ہوں کہ دوسرے بھی خرید رہے ہیں، تو وہاں احتیاط ضروری ہوتی ہے کیونکہ اکثر ایسی صورتحال میں قیمتیں اصل حقیقت سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔

آج کل کچھ لوگ ایرانی کرنسی اس امید پر خرید رہے ہیں کہ مستقبل میں اس کی ویلیو بہت بڑھ جائے گی، جیسے 1 ایرانی ریال 1 پاکستانی روپے کے برابر ہو سکتا ہے، مگر یہ ایک سوشل اور اسپیکولیٹو رجحان بھی ہو سکتا ہے۔

اسی طرح ماضی میں چاندی کے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا کہ جب سب نے خریدنا شروع کیا تو قیمت اوپر گئی، لیکن جیسے ہی خوف پھیلا اور لوگوں نے جلدی بیچنا شروع کیا تو قیمت تیزی سے گر گئی اور اصل ویلیو سے بھی نیچے چلی گئی۔

اگر یہی صورتحال کسی کرنسی یا اثاثے کے ساتھ ہو اور وہ صرف “ہائپ” پر چل رہا ہو، تو اسے مالی دنیا میں اکثر bubble کہا جاتا ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

اس لیے اس اصول کا بنیادی سبق یہی ہے کہ جذبات کے پیچھے چلنے کے بجائے حقیقی ویلیو اور خطرے کو سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے، کیونکہ مارکیٹ میں بھیڑ ہمیشہ درست نہیں ہوتی۔

16/04/2026

ایرانی ریال خریدنے والوں کے لیے ایک ضروری تحریر
حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں

آج کل پاکستان میں ایک عجیب لہر چل رہی ہے۔ لوگ دیوانوں کی طرح ایرانی ریال خرید رہے ہیں۔
ان کی سوچ یہ ہے کہ ابھی ایک کروڑ ایرانی ریال دس سے بارہ ہزار پاکستانی روپے میں مل رہا ہے، اگر کل کو ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے برابر ہو جائے تو ان کے دس ہزار روپے ایک کروڑ روپے بن جائیں گے۔ یہ خواب بہت خوبصورت ہے لیکن کیا یہ حقیقت بن سکتا ہے؟
آئیے تفصیل سے جانتے ہیں۔

آج کی تاریخ میں ایک پاکستانی روپیہ تقریباً پانچ ہزار پانچ سو چالیس ایرانی ریال کے برابر ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں ایک ایرانی ریال کی قیمت صرف صفر اعشاریہ صفر صفر صفر دو ایک پاکستانی روپے ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے ایک کروڑ ایرانی ریال خریدے ہیں تو بین الاقوامی شرح تبادلہ کے مطابق ان کی اصل قیمت صرف دو ہزار ایک سو روپے ہے۔ پاکستان کی مقامی منڈی میں یہی ایک کروڑ ریال دس سے بارہ ہزار میں فروخت ہو رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ خریدتے وقت ہی بین الاقوامی شرح سے پانچ گنا زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے برابر ہونے کے لیے کیا ہونا چاہیے؟
اس کے لیے ایرانی ریال کو اپنی موجودہ قیمت سے پانچ ہزار پانچ سو چالیس گنا بڑھنا ہوگا۔ دنیا کی تاریخ میں کسی بھی کرنسی کے ساتھ اتنی بڑی قدر میں اضافہ کبھی نہیں ہوا۔ کویتی دینار دنیا کی سب سے مضبوط کرنسی ہے اور ایک کویتی دینار تقریباً نو سو پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ اگر ایران کویت جیسا بھی بن جائے جو کہ خود ایک خیالی بات ہے تو بھی ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۔

ایران کی معیشت اس وقت کس حال میں ہے یہ جاننا بھی ضروری ہے۔ سنہ انیس سو اناسی کے انقلاب کے وقت ایک امریکی ڈالر ستر ایرانی ریال کے برابر تھا۔ آج سنہ دو ہزار چھبیس میں ایک ڈالر پندرہ لاکھ سے سترہ لاکھ ریال تک پہنچ چکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایرانی ریال نے پچھلے پینتالیس سالوں میں اپنی قیمت کا بیس ہزار گنا کھو دیا ہے۔ مارچ دو ہزار پچیس میں ایرانی ریال دنیا کی سب سے کم قیمت کرنسی بن گئی جب شرح ایک ڈالر کے مقابلے میں دس لاکھ ریال سے تجاوز کر گئی۔ صرف سنہ دو ہزار پچیس میں ریال نے اپنی پینتالیس فیصد قیمت کھو دی۔

ایران کی مہنگائی اس وقت چوالیس اعشاریہ چھ فیصد سالانہ ہے جبکہ خوراک کی مہنگائی اٹھاون فیصد سے اوپر ہے۔ پھلوں کی قیمتیں پچھترفیصد بڑھ چکی ہیں اور روٹی اور اناج کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں۔ ایران کی ستاون فیصد آبادی غذائی کمی کا شکار ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ایران کی معیشت سنہ دو ہزار پچیس میں ایک اعشاریہ سات فیصد اور سنہ دو ہزار چھبیس میں مزید دو اعشاریہ آٹھ فیصد سکڑے گی۔ بائیس سے پچاس فیصد ایرانی عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں ری ڈینامینیشن کی جو سب سے بڑی غلط فہمی کی وجہ ہے۔ ایران نے منصوبہ بنایا ہے کہ ریال سے چار صفر ہٹا کر نئی کرنسی متعارف کرائی جائے جس میں ایک نئی اکائی دس ہزار پرانے ریال کے برابر ہوگی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ صفر ہٹانے سے کرنسی مضبوط ہو جائے گی لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ ری ڈینامینیشن صرف ایک حسابی تبدیلی ہے۔ یہ نہ مہنگائی کم کرتی ہے، نہ بجٹ خسارہ، نہ کرنسی کی اصل خریداری طاقت میں کوئی فرق آتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ایک کروڑ پرانے ریال ہیں اور چار صفر ہٹا دیے جائیں تو آپ کے پاس صرف ایک ہزار نئی اکائیاں ہوں گی اور ان کی قیمت بالکل وہی رہے گی جو پہلے تھی۔ آپ کے ایک کروڑ ریال ایک کروڑ نئی اکائیاں نہیں بنیں گے۔

اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر اسلام آباد میں جاری امن مذاکرات میں ایران اپنی بات منوا لے اور جنگ جیت جائے تو کیا کرنسی اوپر نہیں جائے گی؟
یہ سوال بالکل درست ہے اور اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں ریال کسی حد تک اوپر جائے گا لیکن کتنا؟
اس کے لیے تاریخ دیکھتے ہیں۔ سنہ دو ہزار پندرہ میں ایران نے اپنا سب سے بڑا سفارتی معاہدہ کیا جسے جے سی پی او اے کہتے ہیں۔ اس وقت ایران کی معیشت آج سے بہت بہتر تھی اور پابندیاں ہٹنے کے بعد ریال میں صرف بیس سے پچیس فیصد بہتری آئی تھی۔ آج صورتحال اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔

اسلام آباد میں ابھی جو مذاکرات ہو رہے ہیں ان میں ایران کی دس نکاتی تجویز میں منجمد اثاثوں کی واپسی، تمام پابندیوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کا حق، یورینیم افزودگی کا حق اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کا خاتمہ شامل ہے۔ دوسری طرف امریکہ کی پندرہ نکاتی تجویز میں ایران کے جوہری پروگرام پر پابندی اور آبنائے ہرمز کھولنا شامل ہے۔ دونوں فریقوں میں سنگین اختلافات ہیں۔ جنگ میں ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار مارے جا چکے ہیں، بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور تین ہزار سے زائد ایرانی شہری جان سے گئے ہیں۔

فرض کریں سب سے بہتر صورتحال پیش آئے، تمام پابندیاں اٹھ جائیں، منجمد اثاثے واپس ملیں اور تیل کی برآمدات معمول پر آ جائیں تو بھی بہترین صورت میں ریال شاید دو سے تین گنا بہتر ہو یعنی ایک ڈالر کی قیمت پندرہ لاکھ سے گر کر پانچ سے سات لاکھ ریال ہو جائے۔ اس صورت میں آپ کے ایک کروڑ ریال کی قیمت بین الاقوامی منڈی میں دو ہزار سے بڑھ کر چار سے چھ ہزار روپے بنے گی۔ اور اگر ناممکن حد تک خوابوں کی دنیا میں ریال سنہ دو ہزار پندرہ کی سطح پر واپس آ جائے تو بھی آپ کے ایک کروڑ ریال صرف بارہ سے پندرہ ہزار روپے کے ہوں گے جو تقریباً وہی رقم ہے جو آپ نے ادا کی تھی۔ ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے برابر ہونے کے لیے تو ریال کو سنہ دو ہزار پندرہ کی سطح سے بھی اٹھائیس ہزار گنا مزید بڑھنا ہوگا جو ہر طرح سے ناممکن ہے۔

یہ کہانی بالکل نئی نہیں ہے۔ یہی کہانی عراقی دینار کے ساتھ بیس سال پہلے ہوئی تھی۔ سنہ دو ہزار تین کے بعد لوگوں نے سستا عراقی دینار اس امید پر خریدا کہ ایک دن اس کی قیمت اس کی پرانی سطح یعنی تین ڈالر فی دینار پر واپس آ جائے گی۔ بیس سال سے زیادہ گزر چکے ہیں اور ایک بھی پیشگوئی سچ نہیں ہوئی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے بار بار خبردار کیا ہے کہ اتنی بڑی ری ویلیوایشن معاشی طور پر ناممکن ہے۔ ہارورڈ اور لندن سکول آف اکنامکس کے ماہرین نے اسے مالیاتی فریب اور شکار کرنے والا جال قرار دیا ہے۔ امریکی عدالتوں نے عراقی دینار بیچنے والوں کو دھوکہ دہی کے جرم میں سزائیں دی ہیں۔ ایرانی ریال کے ساتھ بھی بالکل یہی ہو رہا ہے۔

تحریر: عمیر ابوبکر

اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب سچ ہے تو پاکستان میں اتنے لوگ کیوں خرید رہے ہیں؟ اس کی دو الگ الگ وجوہات ہیں اور لوگوں نے دونوں کو ملا دیا ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے ایران کے راستے تجارت آسان بنا دی ہے۔ مارچ سے جون تک ایک عارضی چھوٹ دی گئی ہے جس سے ایران کے ذریعے وسطی ایشیا کو برآمدات ہو سکتی ہیں۔ اس وجہ سے کراچی اور لاہور کے تاجروں کو تجارت کے لیے ریال چاہیے اور اصل طلب بڑھی ہے۔ بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں ایرانی تیل آسانی سے دستیاب ہے اور ایران اپنے تیل کی ادائیگی اپنی کرنسی میں مانگ رہا ہے۔ یہ حقیقی تجارتی طلب ہے اور اس سے ریال کی مقامی قیمت بڑھی ہے۔

دوسری وجہ خالص قیاس آرائی ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جنگ سے پہلے ایک کروڑ ریال ڈھائی ہزار روپے میں ملتا تھا اور اب دس ہزار روپے میں بک رہا ہے یعنی مقامی منڈی میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ اضافہ صرف پاکستان کی مقامی منڈی میں ہوا ہے جہاں سرحدی تجارت اور غیر رسمی لین دین کی وجہ سے ایک مصنوعی پریمیم بن گیا ہے۔ عالمی منڈی میں ریال اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔ پاکستان ٹوڈے نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ ریال ڈالر اور یورو کے مقابلے میں کمزور ہو سکتا ہے لیکن پاکستانی تاجروں کو اچانک زیادہ ریال چاہیے تو کراچی اور لاہور میں اس کی مقامی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ پابندیاں، بینکنگ روابط کی کمی اور غیر رسمی تصفیے کے نظام ایسے مقامی پریمیم پیدا کرتے ہیں جو بین الاقوامی شرح تبادلہ کی سکرینوں پر نظر نہیں آتے۔

اب آخری بات واضح طور پر سمجھ لیں۔ اگر آپ ایرانی ریال سرحدی تجارت کے لیے خرید رہے ہیں تو یہ ایک حقیقی تجارتی ضرورت ہے اور اس میں سمجھداری ہے۔ اگر آپ مختصر مدت کی قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ جنگ ختم ہو تو دو تین گنا فائدہ ہو سکتا ہے تو یہ خطرناک ہے لیکن اس میں منطق ہے بشرطیکہ آپ نقصان برداشت کر سکیں۔ لیکن اگر آپ یہ سوچ کر خرید رہے ہیں کہ ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے برابر ہو جائے گا اور آپ کے دس ہزار ایک کروڑ بن جائیں گے تو یہ بالکل ناممکن ہے۔ ریاضی اس کی اجازت نہیں دیتی، معاشیات اس کی اجازت نہیں دیتی اور تاریخ میں کسی کرنسی کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ عراقی دینار میں بیس سال پہلے پیسے لگانے والے آج تک انتظار کر رہے ہیں۔

اپنی محنت کی کمائی کسی خواب کی بنیاد پر مت لگائیں۔ اگر سرمایہ کاری کرنی ہے تو سونا، چاندی یا زمین جیسے حقیقی اثاثوں میں کریں جن کی قیمت پوری دنیا میں تسلیم شدہ ہے۔

Photos from Pakistani niws's post 13/04/2026

کوہاٹ، تحصیل لاچی کے پہاڑی علاقوں میں مشترکہ سرچ اینڈ اسٹرائک آپریشن

کوہاٹ: لاچی کے پہاڑی حدود سے لے کر ہنگو بارڈر تک پہاڑی سلسلوں میں سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ سرچ اینڈ اسٹرائک آپریشن کیا۔ آپریشن میں پاک فوج، سی ٹی ڈی پولیس، اور ڈسٹرکٹ پولیس نے بھرپور حصہ لیا۔

کارروائی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شہباز الٰہی ہدایت پر جرائم پیشہ عناصر اور ممکنہ دہشتگردوں کے خلاف جاری مہم کے تحت عمل میں لائی گئی۔

آپریشن میں ایس پی سی ٹی ڈی سادات خان نے مختلف ٹیموں کی نگرانی کی۔

آپریشن کے دوران دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جدید ڈرون کیمروں کے ذریعے فضائی نگرانی کی گئی، جبکہ زمینی سطح پر فورسز نے مختلف مقامات، پہاڑی راستوں اور ممکنہ ٹھکانوں کی باریک بینی سے تلاشی لی۔

علاقے کو ہر قسم کے جرائم اور دہشتگردی سے پاک بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
ڈی پی او کوہاٹ شہباز الٰہی
Pak 🆕

13/04/2026
13/04/2026

13 اپریل 2026 کو ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل کے علاقہ چھپری وزیران میں تھانہ ٹل پولیس کی پولیو مہم کے دوران ڈیوٹی پر موجود ایس ایچ او ٹل کی گاڑی پر حملہ ہوا، جس میں ایڈیشنل ایس ایچ او ٹل سمیت تین پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے، اور پولیس کی جانب سے تفتیش جاری ہے۔

11/04/2026

میرے ملک کا وزیر دفاع،اپنے ٹوئٹ کا دفاع نہ کر سکا ،🤦

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


کراچی
Karachi