Family Entertainment Center
Complete Family channel
آپ سب دوستوں کا بہت شکریہ جو پوسٹس کو لائک اور کمنٹ کر کے حوصلہ بڑھاتے ہیں - آپ سب دوستوں کو بھی ضرور اس پیج پہ انوائٹ کریں یا کم سے کم ایک بار اپنی وال پہ پیج کو ضرور شئیر کر دیں -
بہت شکریہ آپ سب دوستوں کا - سلامت رہیں ، مسکراتے رہیں اور مسکراہٹیں بانٹتے رہیں
Thank you very much
ایڈمن :
15/06/2026
کبھی کبھی ایک معاشرے کی اصل تصویر بڑے واقعات نہیں، بلکہ ایسے چھوٹے واقعات دکھا دیتے ہیں جو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
مری میں ایک نوجوان اپنے مرحوم بھائی کے لیے کفن لینے گھر سے نکلا تھا۔ ایک گھر میں موت کا غم تھا، آنکھوں میں آنسو تھے، اور دل اپنے پیارے کی جدائی سے بوجھل تھا۔ لیکن شاید قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔
راستے میں نوجوان نے جلدی گزرنے کے لیے راستہ مانگا، مگر چند لمحوں کی تلخ کلامی نے ایسا رخ اختیار کیا کہ انسانیت شرما گئی۔ مبینہ طور پر ویگو ڈالے میں سوار افراد گاڑی سے اترے، نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی موٹرسائیکل بھی تباہ کر دی۔
ذرا سوچئے...
ایک شخص اپنے بھائی کے کفن کے لیے جا رہا ہو، اس کے گھر میں صفِ ماتم بچھی ہو، اور اسے راستے میں مارا پیٹا جائے۔ یہ صرف ایک نوجوان پر تشدد نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی حساسیت، برداشت اور اخلاقیات پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
آخر ہم کس معاشرے کی طرف جا رہے ہیں؟
جہاں طاقتور ہونا انسان ہونے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے؟ جہاں غصہ، صبر پر غالب آ چکا ہے؟ جہاں چند لمحوں کی انا انسانیت کو روند دیتی ہے؟
خوش آئند بات یہ ہے کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کر لیا، مگر اصل ضرورت صرف گرفتاریوں کی نہیں، بلکہ اس سوچ کو بدلنے کی ہے جو خود کو قانون اور اخلاق سے بالاتر سمجھتی ہے۔
یاد رکھیں، سڑک پر ملنے والا ہر شخص کسی نہ کسی آزمائش سے گزر رہا ہوتا ہے۔ کسی کے گھر خوشی ہوتی ہے، کسی کے گھر جنازہ۔ اس لیے انسان بنیں، طاقت کا نہیں، انسانیت کا مظاہرہ کریں۔ 💔🇵🇰
📌 ڈسکلیمر: یہ معلومات ابتدائی میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر شیئر کی گئی ہیں۔ واقعے سے متعلق حتمی حقائق اور ذمہ داریوں کا تعین متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہے۔
14/06/2026
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل ہے جس میں یہ شخص لڑکی پہ
ت۔۔۔۔دد کرر رہا ہے
خدا جانے یہ اس کا شوہر ہے، بھائی ہے یا کون ہے۔۔۔۔۔۔
لیکن یہاں ایک شعر یاد آتا ہے کہ
یتیمئ تہذیب پر ترس آتا ہے مجھے
خدا کمینوں کو کبھی عروج نہ بخشے
ویڈیو کا لنک اس پوسٹ کے پہلے کمنٹ میں موجود ہے
میری تمام حکام بالا سے گزارش ہے کہ اس شخص کو ٹریس کرکے اس کی فرع۔۔۔و۔۔نیت نکالی جائے
بھلا وہ بھی کوئی مرد ہے جو عورت پہ ہاتھ اٹھائے؟؟؟؟؟
06/06/2026
یخو پورہ کی رہائشی 18سالہ نوجوان لڑکی صبا نے گھر سی بھاگ کر محلے کے ہی ایک لڑکے سے کورٹ میرج کر لی،لڑکی کے گھر والوں نے بہت کوشش کی کہ صبا کو واپس لایا جائے،لیکن صبا نے واپس والدین کے پاس آنے سے صاف انکار کر دیا،والدین تھک ہار کر تمام قانونی کاروائی ختم کر کے گھر بیٹھ گئے اور بیٹی کو اس کے حال پر جھوٹ دیا،شادی کے شروع کے 6 ماہ صبا اور اس کے شوہر کے ہنسی خوشی گزر گئے،لیکن پھر صبا کے شوہر کو صبا پر شک ہونے لگا کہ وہ شاید کسی اور سے بھی بات کرتی ہے،لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہ تھا،اسی طرح اس بات کو لے کر صبا اور اس کے شوہر کے درمیان روانہ لڑائی جھگڑے ہونے لگے،اور آخرکار ایک دن اس شکی القلب شخص نے صبا کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا،اور صبا کے ہاتھ باندھ کر یہ کہتے ہوئے،کہ اگر تم میرے ساتھ والدین کو چھوڑ کر گھر سے بھاگ سکتی ہو،تو کل مجھ سے کسی خوبصورت لڑکے کے ساتھ مجھے چھوڑ کر بھاگ سکتی کو،صبا چیختی چلاتی رہی کہ ایسا ظلم نہ کرو میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے اور نہ ہی کچھ کرنے کا ارادہ ہے لیکن اس ظالم شخص نے یہ کہتے ہوئے تیزاب سے بھری بوتل صبا کے چہرے پر انڈیل دی کہ اب اگر تم مجھے پسند نہیں ہو تو اب کسی دوسرے کی پسند
میری عمر 48 سال ہے اور میری شادی 2009 میں ہوئی تھی۔ میرا ایک بیٹا ہے جس کی عمر اب 16 سال ہے۔ میں نے اپنی اہلیہ کو بی اے کروایا، جس میں وہ چار بار فیل ہوئیں، پھر انہیں ماسٹرز بھی کروایا۔ اس وقت میں 17 ویں گریڈ کا افسر تھا، اپنا گھر نہیں تھا اور میں رشوت نہیں لیتا تھا۔ انہی حالات کی وجہ سے میں نے استعفیٰ دیا اور انگلینڈ چلا گیا۔ انگلینڈ جانے سے پہلے میری بیوی نے مجھ سے عہد لیا کہ میں واپس آؤں گا اور وہاں دوسری شادی نہیں کروں گا؛ میں نے اپنا وعدہ نبھایا۔
میں نے انگلینڈ میں دس سال گزارے اور دن رات محنت کی۔ پہلے تین سال تو میں نے ایک دن کی چھٹی بھی نہیں کی۔ 2022 میں میں نے واپسی کا پروگرام بنایا کیونکہ میری نیشنلٹی کا کیس ریفیوز ہو گیا تھا اور پاکستان میں میرا بیٹا (جو اس وقت چھٹی جماعت میں تھا) پڑھائی میں بالکل نالائق ہوتا جا رہا تھا۔ میں اپنی چھوٹی سی فیملی کے ساتھ بہت مخلص تھا اور صرف ان کی خاطر ہی واپس آیا، ورنہ میں وہاں غیر قانونی طور پر بھی رہ سکتا تھا۔
جیسے ہی میں واپس آیا، بیوی نے مطالبہ کر دیا کہ میں وہ 6 مرلے کا ڈبل اسٹوری مکان اس کے نام کر دوں جو میں نے انگلینڈ میں رہتے ہوئے بنوایا تھا۔ میری سمجھ کے مطابق اس مطالبے کی بنیاد صرف لالچ اور بیوقوفی تھی۔ یہ بحث گھر میں چار پانچ ماہ تک چلتی رہی اور نوبت یہاں تک آگئی کہ اس نے کھانا پکانا چھوڑ دیا۔ 26 دن تک گھر میں کچھ نہیں پکا۔ دوسری طرف میں نے بچے کی تعلیم پر توجہ دینا شروع کی، میں رات کے ایک ایک، دو دو بجے تک جاگ کر اسے پڑھاتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو بچہ ہمیشہ صفر نمبر لیتا تھا، وہ 50 سے 60 فیصد نمبر لینے لگا۔ سکول کے اساتذہ نے بھی بچے میں یہ تبدیلی دیکھ کر مجھے بلا کر حیرانی اور خوشی کا اظہار کیا۔
گھر میں کھانا نہ بنتا اور لڑائی رہتی، اس لیے میں ناشتہ اور ڈنر باہر سے کرتا۔ پھر میں نے اپنے رشتہ داروں کو بیچ میں ڈالا۔ انہوں نے سارا معاملہ سن کر میری بیوی کو معافی مانگنے کا کہا مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔ پنچایت نے کہا کہ اگر معافی نہیں مانگنی تو کل سے کھانا پکانا شروع کرو، تو اس نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ حالات مزید دو ماہ اسی طرح چلے۔ پھر اس کے گھر والے اسے لینے آئے تو اس نے جانے سے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ وہ اسی گھر میں رہے گی اور مجھے (شوہر کو) نکال دیا جائے۔ جب یہ ممکن نہ ہوا تو اس نے طلاق کا مطالبہ کر دیا، میں نے طلاق دے دی اور اس نے خلع بھی لے لی۔
میں تین سال سے خرچہ دے رہا ہوں، مگر اب مجھے اپنے بیٹے سے بھی نفرت ہونے لگی ہے۔ اس کی ماں نے اسے سکول سے ہٹا کر مدرسے میں ڈال دیا تھا، اور اب سنا ہے کہ وہاں سے بھی ہٹ چکا ہے اور کچھ کبوتر لے کر انہیں پالنے میں وقت گزار رہا ہے۔ محلے سے خبریں آتی ہیں کہ وہ بہت بگڑ چکا ہے۔ میری سابقہ بیوی اب ایک ہسپتال میں صفائی کا کام کرتی ہے۔ میں آج بھی سوچتا ہوں کہ وہی عورت واپس آ جائے تو اچھا ہے، مگر کوئی سبیل نظر نہیں آتی کہ اسے عقل آئے گی یا وہ میرے بچے پر توجہ دے گی۔ مجھے اپنے بچے کا کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا۔
میں آج اس دوراہے پر کھڑا ہوں جہاں مجھے عورت ذات صرف لالچی، جھوٹی اور بری نظر آنے لگی ہے، حالانکہ مجھے علم ہے کہ سب عورتیں ایسی نہیں ہوتیں۔ میں اس عمر میں بالکل تنہا ہو چکا ہوں اور کبھی کبھی خودکشی کا خیال بھی آتا ہے۔
اسلام آباد میں روزانہ 300 طلاقیں! مرد کی بے صبری یا عورت کی زبان؟ اصل وجہ کیا ہے؟
25/05/2026
ثاقب چدھڑ MPA نے ادکارہ مومنہ اقبال سے ٹرانسفر کیے ہوۓ 80 لاکھ روپے، Fortuner گاڑی، ملکی و غیر ملکی دوروں پر قیام طعام, شاپنگ, گھڑی اور دیگر ہونے والے اخراجات واپس مانگ لیے
اب میں سوچ رہا ہوں کہ مومنہ اقبال نے اگر چدھڑ صاحب سے تعلقات سے پہلے والی حالت واپس مانگ لی تو؟
چدھڑ اور یدھڑ 3 سال عیاشی کرتے رہے۔ اب یدھڑ کا مال پانی بند ہوا تو کورٹ کا ڈرامہ لگا دیا
چدھڑ نے ووٹ عوام سے لۓ اور کارکردگی اس یدھڑ کو دکھاتا رہا
واہ چدھڑ واہ.
پارٹیوں کو ایسے لوگوں کا احتساب کرنا چاہیے اور ان کے انتخابات لڑنے پے پابندی لگانی جاہیے۔
20/05/2026
موٹروے پر چلتی بس میں بچے کی پیدائش ،ایسا معجزہ جسے دیکھ کر سب حیران رہ گئے ،،
اسلام آباد سے کراچی جانیوالی بس موٹروے ایم فائیو پر رات تین بجے گھوٹکی کے قریب پہنچی تو
بس میں23سالہ حاملہ خاتون کی طبیعت خراب ہوگئی ، موٹروے ایمرجنسی پر کال کی گئی ،
لیکن چند لمحوں بعد بس میں ہی موجودایک بزرگ خاتون موجود تھیں جنہیں ڈیلیوری کے لیے دائی کا کام کیا ، اور چلتی بس میں ہیں بچے کی پیدائش ہوگئی ،
اتنے میں موٹروے والوں کی ایمبولینس پہنچتی ہے مگر پھر مسلہ یہ آتا ہے کہ بچے کی ناف نہیں کٹی ہوتی ، اس کے لیے بس میں مسافروں سے درخواست کی گئی کہ نزدیکی اسپتال جو 10 کلومیٹر کی دور پر تھا وہاں لے جانا پڑے گا ،
ڈرائیور ، مسافروں نے ہاں کردی ،
پوری کی پوری بس انڈس اسپتال گھوٹکی پہنچی ،
موٹروے پولیس کے آفیسر ریاض الرحمان میمن اپنی ٹیم سمیت پہلے اسپتال پہنچے،، وہاںمڈوائف ڈاکٹر کا بندو بست کیا ، بس آئی وہیں بس میں خاتون کا ناف کا چھوٹا سا آپریشن کیا گیا ۔
بچے فوری طور پر این آئی سی یو یعنی انٹنسو کئیر یونٹ میں اور خاتون کو ایمرجنسی میں شفٹ کیا گیا ،
ایک گھنٹہ بس رکی رہی ،، ایک گھنٹے کے بعد ڈاکٹرز نے صورتحال سٹیبل ہونے پر جانے کی اجازت دیدی ،، موٹروے پولیس نے بس کو دوبارہ موٹروے پر دوبارہ چھوڑا ،، یہ سارے تین سے پانچ بجے تک کا تھا ،،
اس میں مسافروں ، ڈرائیور ،،، گھوٹکی اسپتال کے عملے اور سب سے اہم موٹروے پولیس کے آفسیرز کو کریڈیٹ جاتا ہے جنہوں نے اس اہم ترین اور حساس موقع پر ہر ایک نے اپنی احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور ایک بچے کی پیدائش کے عمل کو معجزانہ طور پر مکمل کرنے میں مدد کی ،
20/05/2026
💔حافظ اباد میں فراڈ کا انوکھا واقعہ🚨
ایک خاتون نے ہفتے میں چار افراد سے شادی کر کے 15 لاکھ بٹور
لیے
پولیس میں درخواست دائر
پنڈی بھٹیاں محلہ حمزہ ٹاؤن میں شادی کے نام پر 15 لاکھ روپے مبینہ طور پر ہڑپ کرنے کا انکشاف،
متاثرہ شہری کی ایس ایچ او تھانہ سٹی کو درخواست، دے دی
ملزمہ سدرہ کا گینگ ہے جس نے ایک ہفتے میں پنڈی بھٹیاں کے علاقے میں چار لوگوں سے شادی کی ہے
ملزمہ سمیت گینگ غائب ہے
ان کے سرغنہ زمان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ۔
پنڈی بھٹیاں کے محلہ حمزہ ٹاؤن میں شادی کے نام پر مبینہ طور پر پندرہ لاکھ روپے کے فراڈ کا معاملہ سامنے آ گیا۔ حافظ آباد کے رہائشی علی حسن ولد احسان اللہ قریشی نے ایس ایچ او تھانہ سٹی پنڈی بھٹیاں کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ کوٹ نکہ کی ایک خاتون نے ان کی والدہ کو ورغلا کر ایک مبینہ پیشہ ور گروہ سے ملوایا،اور میرا رشتہ سدرہ نامی لڑکی سے کر دیا
شادی کے دو دن تک سدررا میرے ساتھ رہی دو دن بعد اس کے گھر والے ائے اور اس کو کہا کہ شادی پر جانا ہے اور سدرہ کو ساتھ لے گئے اس کے بعد سدرہ اور گروپ غائب ہے متاثرہ شہری کے مطابق صغریٰ بی بی نامی خاتون ایک ایسے گروہ کے ساتھ ملی ہوئی ہے،
جس کے پاس جعلی نکاح خواں اور جعلی امام مسجد بھی موجود ہیں۔
درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ پنڈی بھٹیاں سمیت مختلف علاقوں کے متعدد خاندانوں کو مبینہ طور پر دھوکہ دے چکا ہے۔متاثرہ شہری نے ڈی پی او حافظ آباد اور ایس ایچ او تھانہ سٹی پنڈی بھٹیاں سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ گروہ کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
15/05/2026
*بیوی: "شادی سے پہلے تو تم مجھے گھمانے پھرانے لے جاتے تھے، اب کیا ہوا؟🤨*
*"شوہر: "بیگم! کیا تم نے کبھی کسی کو الیکشن جیتنے کے بعد مہم چلاتے دیکھا ہے؟😅*🤪
Click here to claim your Sponsored Listing.