The Elite Persona

The Elite Persona

Share

We refine skills, enhance abilities, and build impactful personas, empowering you to shine

01/10/2025

"Ever been in a situation where poor communication killed the vibe — at work, in relationships, or even in friendships? 🤯
A leader who can’t communicate leaves everyone stuck in survival mode.
👉 Do you agree? What’s the worst example of poor leadership you’ve faced?"

26/09/2025

**"اپنی چمک خود بنو"**

سارہ کا درد وہی تھا جو ہر تخلیق کار کے دل میں ہوتا ہے: اس کے بنائے ہوئے خوبصورت زیورات کے ڈیزائن صرف اس کی ڈائری کی قید میں تھے۔ ہر تقریب میں جب لوگ اس کے ہاتھ سے بنے ہار کی تعریف کرتے، تو ایک آواز اسے کہتی، "تمہارا کام بازار کے بڑے برانڈز سے کم نہیں۔" لیکن خوف اور "کیا لوگ پسند کریں گے؟" جیسے سوال اسے روکے رکھتے۔

پھر ایک دن اس کی بہن کی شادی نے اسے ہُک دیا۔ ایک مہمان نے نہ صرف ہار کی تعریف کی، بلکہ یہ کہہ کر حل بھی بتا دیا: "بیٹی، تمہیں ایک چھوٹی سی نمائش لگانی چاہیے۔ لوگوں کو اپنے ہنر کو دیکھنے دو۔"

سارہ نے فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی چھوٹی سی بچت سے ایک لوکل کرافٹ میلے میں ایک چھوٹا سا اسٹال لیا۔

جدوجہد کا دور شروع ہوا۔ پہلے دو میلوں میں لوگ صرف دیکھتے اور چلے جاتے۔ گھر والوں نے کہا، "وقت ضائع ہو رہا ہے۔" ایک دوست نے مشورہ دیا، "کسی انفلوئنسر کو پیسے دے کر ویڈیو بنوا لو۔" لیکن سارہ نے مستقل مزاجی دکھائی۔ اس نے کہا، "نہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ لوگ میرے کام کی وجہ سے خریدیں، کسی کی تعریف کی وجہ سے نہیں۔"

اس نے اپنی حکمتِ عملی بدلی۔ وہ میلے میں آنے والی ہر خاتون سے بات کرتی، ان کی پسند جاننے کی کوشش کرتی، اور انہیں یہ بتاتی کہ ہر زیورات کے ڈیزائن کے پیچھے کیا خیالات ہیں۔ اس نے چھوٹے چھوٹے،قیمتی نمونے بنائے تاکہ لوگ آزمائیں سکیں۔ اس کی سمجھداری، نرم گفتاری، خوش اخلاقی اور خوش مزاجی کام آئی۔

ایک گاہک نے دوسرے کو بتایا، پھر اس نے کسی اور کو۔ نتائج آنے لگے۔ آرڈرز ملنے لگے۔ سارہ کا اعتماد بڑھا۔ اس نے اپنی ایک چھوٹی سی ویب سائٹ بنائی اور اپنے گاہکوں کی بنائی ہوئی تصاویر شیئر کرنا شروع کیں۔

آج، سارہ کا **"آئینہ آرٹیزن"** کا چھوٹا سا کاروبار ایک معروف نام ہے۔ یہ نام اس لیے منتخب کیا کیونکہ ہر زیورات گاہک کی شخصیت اور خوبصورتی کو ایسے ہی ظاہر کرتا ہے جیسے ایک آئینہ۔ وہ دوسری لڑکیوں کو سکھاتی ہے: **"کامیابی کا رستہ کسی ایک لمحے یا کسی ایک شخص پر منحصر نہیں ہوتا۔ یہ تو روزانہ کی ایمانداری، محنت، اور اپنے کام پر یقین کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب آپ کا کام مضبوط ہوگا، تو آپ کی کامیابی کی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔"**

---

**سبق:** کامیابی کی سیڑھی کی پہلی سیڑھی آپ خود ہی ہو۔ دوسرے لوگ یا مواقع صرف اس سیڑھی پر چڑھنے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں، لیکن اگر سیڑھی مضبوط نہیں ہوگی (یعنی آپ کا کام، آپ کی محنت)، تو چڑھنا ممکن نہیں ہوگا۔ اپنی محنت اور ہنر پر بھروسہ کریں۔

17/09/2025

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

وہ پرانی سی دو منزلہ عمارت تھی جس کے دروازے پر ایک تختی پر لکھا تھا: "شفا فارمیسی"۔ اندر ایک نوجوان، عرفان، فارماسسٹ تھا۔ وہ اپنے کام میں ماہر تھا۔ دوائیوں کے نام، ان کے اجزاء، متبادل ادویات سب اسے زبانی یاد تھیں۔ لیکن اس کی شخصیت میں ایک خامی تھی: وہ نرم گوشہ رکھنے والا نہ تھا۔

ایک دن ایک بزرگ خاتون، اماں جہاں آرا، دوائی لینے آئیں۔ عرفان نے بڑی بے دلی سے ان کا نسخہ لیا، دوائی دی اور کہا، "پچاس روپے ہوئے۔" اماں جہاں آرا نے پیسے دئیے اور ایک گولے کی طرح دوائی لے کر چلی گئیں۔

تھوڑی دیر بعد وہ لوٹیں۔ ان کے ہاتھوں میں وہی دوائی تھی اور چہرے پر تشویش تھی۔

"بیٹا، ڈاکٹر صاحب نے یہ دوائی دن میں ایک بار کھانے کو کہا تھا لیکن یہاں پر دن میں تین بار لکھا ہے۔ میں سمجھی نہیں۔"

عرفان نے نسخہ دوبارہ دیکھا بھی نہیں۔ اپنے کام میں مصروف ہوتے ہوئے بولا، "ڈاکٹر غلطی کر سکتے ہیں، ہم نہیں۔ ہماری دوائی کے ڈبے پر جو لکھا ہے وہی درست ہے۔"

اماں جہاں آرا کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ وہ بغیر کچھ کہے واپس چلی گئیں۔

یہ منظر فارمیسی کے مالک، جناب طارق محمود نے اپنے کمرے سے دیکھ لیا تھا۔ شام کو جب عرفان ان کے پاس تنخواہ لینے گیا تو طارق صاحب نے نرمی سے کہا، "عرفان، تمہیں معلوم ہے کہ یہ فارمیسی تمہارے والد صاحب نے قائم کی تھی؟"

عرفان نے حیرت سے کہا، "جی۔"

"کیا تم نے کبھی سوچا کہ یہ اتنی سالوں سے کیسے چل رہی ہے؟ صرف دوائیں بیچ کر؟ نہیں بیٹا۔ اس کی وجہ تمہارے والد کا لوگوں سے پیار تھا۔ وہ مریض کو صرف دوائی نہیں دیتے تھے، ایک مسکراہٹ، ایک دلاسا، ایک خیریت دریافت کرنے والا جملہ بھی دیتے تھے۔ دوائیں جسم کا علاج کرتی ہیں، لیکن نرم آواز، ہمدردی اور عزت دل کا علاج کرتی ہے۔ آج اماں جہاں آرا دل ٹوٹ کر گئی ہیں۔"

طارق صاحب نے ایک چھوٹی سی ڈائری نکالی۔ "یہ لو، یہ تمہارے والد کی ڈائری ہے۔ اسے پڑھو۔"

رات بھر عرفان نے وہ ڈائری پڑھی۔ ہر صفحے پر صرف دوائیوں کے نام نہیں تھے، بلکہ مریضوں کے نام، ان کی پسند ناپسند، ان کے مسائل کے چھوٹے چھوٹے نوٹس تھے۔

"آج حاجی صاحب کی بیٹی کی شادی ہے، انہیں مبارکباد دینی ہے۔"
"فلاں صاحب کا بیٹا امتحان میں فیل ہو گیا ہے، ان سے مل کر حوصلہ بڑھانا ہے۔"
"اماں جہاں آرا کو شوگر ہے، انہیں میٹھی دوائیوں کے بارے میں آگاہ رکھنا ہے۔"

عرفان کی آنکھیں کھل گئیں۔ اسے احساس ہوا کہ یہ فارمیسی صرف دوائیں بیچنے کی جگہ نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت کا ایک مرکز تھی اور اس نے اس کی روح کو کھو دیا تھا۔

اگلے دن سے عرفان بدل گیا۔

جب اماں جہاں آرا اگلی بار آئیں تو عرفان نے دروازے تک جا کر ان کا استقبال کیا۔ مسکراتے ہوئے کہا، "اماں جی، آئیے۔ میں نے آپ کا نسخہ دوبارہ ڈاکٹر صاحب سے چیک کروایا تھا۔ واقعی آپ کی بات درست تھی۔ میں معافی چاہتا ہوں۔"

اس نے نہ صرف درست دوائی دی بلک انہیں بیٹھنے کے لیے کرسی دی، ان کی تھکاوٹ دریافت کی۔

وقت گزرتا گیا۔ عرفان اب نہ صرف ایک ماہر فارماسسٹ تھا بلکہ ایک ہمدرد انسان بن گیا تھا۔ وہ مریضوں کے نام یاد رکھتا، ان کے خاندان کے حالات دریافت کرتا، انہیں صبر اور حوصلے کی باتے کرتا۔

ایک سال بعد طارق صاحب ریٹائر ہونے لگے۔ انہوں نے عرفان کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ تقریب میں انہوں نے کہا، "عرفان، تمہارے پاس علم تو پہلے بھی تھا، لیکن اب تمہارے پاس وہ نرمی، ہمدردی اور خلوص ہے جو اس علم کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ تم نے سیکھ لیا کہ کامیابی صرف ڈگریوں اور مہارت سے نہیں ملتی، بلکہ دلوں کو جیتنے سے ملتی ہے۔"

آج "شفا فارمیسی" نہ صرف ایک فارمیسی ہے، بلکہ محلے کے لیے ایک ایسا مرکز ہے جہاں لوگ دوائیں لینے کے ساتھ ساتھ اپنے دلوں کا بوجھ ہلکا کرنے بھی آتے ہیں۔

سبق:
علم اور مہارت ہمیں روزگار دلا سکتی ہے، لیکن نرم خوئی، ہمدردی، اور اچھے اخلاق ہمیں وہ مقام دیتے ہیں جہاں لوگ ہمارا احترام کرتے ہیں اور ہمارے پاس صرف ضرورت ہی نہیں، اعتماد کے ساتھ آتے ہیں۔ یہ نرم مہارتیں ہی ہیں جو ہمارے پیشہ ورانہ سفر کو محض ایک نوکری سے ایک مقصد میں بدل دیتی ہیں۔

27/06/2025

اللّهم أَدْخِلْهُ عَلينا بِالأمْنِ وَالإيمان، وَالسَّلامَةِ وَالإسْلام، وِجوارٍ مِّنَ الشَّيْطان، وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمن

اے اللہ! اس (نئے سال) کو ہمارے لیے امن، ایمان، سلامتی، اسلام، شیطان سے پناہ، اور رحمان کی رضا کے ساتھ داخل فرما۔

O Allah, bring this (new year) upon us with security, faith, safety, Islam, protection from Satan, and Your mercy and pleasure.

@

06/06/2025

As you offer your prayers and sacrifices, may your faith grow deeper 🙏 and your dreams soar higher dreams come true! 🚀

Photos from The Elite Persona's post 05/06/2025

Huge thanks to Ali Raza Khan and the Pakistan Peace Club for the incredible Peace Conference 2025! 🕊️ Held on Saturday, May 31st at the Russian Centre for Science & Culture Karachi, in collaboration with the Youth Affairs Department, Government of Sindh, it was a truly impactful event. Special appreciation to Mr. Muhammad Rehan Hashmi (Chief Guest) and Mr. Ruslan M. Prokhorov (Guest of Honour) for gracing the occasion. The panel discussion with Mr. Ali Suhag, Mr. Rabi ur Rahman, Mr. Shahzaib Raees, and Ms. Anosha Omar offered such valuable insights on peace and community engagement. 🙌

01/06/2025

Proud moments when your kids get achievement

Photos from Bint E Ahan's post 27/04/2025

A wonderful mettup at Skill Development Council and nice meeting with Bint E Ahan and Khud Muhafiz team.

22/04/2025

Inn Lillahi Wa Inna Elyhi Rajioon

Famous Pakistani chef, Chef Zakir, has passed away. His cooking, warmth, and presence on TV made him a part of every home.

He brought new life to traditional recipes and inspired many to cook with love. His legacy will always be remembered.

Every keep him in your prayers for his maghfirat.

13/04/2025

ایک دانا آدمی کی گاڑی گاوں کے قریب خراب ہوگئی اس نے سوچا کہ گاوں سے کسی سے مدد لیتا ہوں
وہ جیسے ہی گاوں میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا ایک بوڑھا شخص چارپائی پر بیٹھا ہے اور اس کے قریب مرغیاں دانہ چگ رہی ہیں ان مرغیوں میں ایک باز کا بچہ بھی ہے جو مرغیوں کی طرح دانے چگ رہا ہے وہ حیران ہوا اور اپنی گاڑی کو بھول کر
اس بوڑھے شخص سے کہنے لگا کہ یہ کیسے خلاف قدرت ممکن ہوا کہ ایک باز کا بچہ زمین پر مرغیوں کے ساتھ دانے چگ رہا ہے
تو اس بوڑھےشخص نے کہا دراصل یہ باز کا بچہ صرف ایک دن کا تھا جب یہ پہاڑ پر مجھے گرا ہوا ملا میں اسے اٹھا لایا یہ زخمی تھا میں نے اس کو مرہم پٹی کرکے اس کو مرغی کے بچوں کے ساتھ رکھ دیا جب اس نےپہلی بار آنکھیں کھولیں تو اس نے خود کو مرغی کے چوزوں کے درمیان پایا یہ خود کو مرغی کا چوزہ سمجھنے لگا اور دوسرے چوزوں کے ساتھ ساتھ اس نے بھی دانہ چگنا سیکھ لیا
اس دانا شخص نے گاوں والے سے درخواست کی کہ یہ باز کا بچہ مجھے دے دیں تحفے کے طور پر یا اس کی قیمت لے لیں میں اس پر تحقیق کرنا چاہتا ہوں
اس گاوں والے نے باز کا بچہ اس دانا شخص کو تحفے کے طور پر دے دیا
یہ اپنی گاڑی ٹھیک کروا کر اپنے گھر آ گیا
وہ روزانہ باز کے بچے کو چھت سے نیچے پھینک دیا کرتا مگر باز کا بچہ مرغی کی طرح اپنے پروں کو سکیڑ کر گردن اس میں چھپا لیتا
وہ روزانہ بلاناغہ باز کے بچے کو اپنے سامنے ٹیبل پر بیٹھاتا اور اس کہتا کہہ تو باز کا بچہ ہے مرغی کا نہیں اپنی پہچان کر
اسی طرح اس نے کئی دن تک اردو پنجابی سندھی سرائیکی پشتو ہر زبان میں اس باز کے بچے کو کہا کہ تو باز کا بچہ ہے مرغی کا نہیں اپنی پہچان کر
اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرو
آخر کار وہ دانا شخص ایک دن باز کے بچے کو لے کر ایک بلند ترین پہاڑ پر چلا گیا اور اسے کہنے لگا کہہ خود کو پہچاننے کی کوشش کرو تم باز کے بچے ہو اور اس شخص نے یہ کہہ کر باز کے بچے کو پہاڑ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا
باز کا بچہ ڈر گیا اور اس نے مرغی کی طرح اپنی گردن کو جھکا کر پروں کو سکیڑ لیا اور آنکھیں بند کر لیں تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو اس نے دیکھا کہ زمین تو ابھی بہت دور ہے تو اس نے اپنے پر پھڑ پھڑائے اور اڑنے کی کوشش کرنے لگا
جیسے کوئی آپ کو دریا میں دھکا دے دے تو آپ تیرنا نہیں بھی آتا تو بھی آپ ہاتھ پاؤں ماریں گے
تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنے آپ کو بیلنس کرنے لگا کیونکہ باز میں اڑنے صلاحیت خدا نے رکھی ہوتی ہے
تھوڑی ہی دیر میں وہ اونچا اڑنے لگا
وہ خوشی سے چیخنے لگا اور اوپر اور اوپر جانے لگا
کچھ ہی دیر میں وہ اس دانا شخص سے بھی اوپر نکل گیا اور نیچے نگاہیں کرکے اس کا احسان مند ہونے لگا
تو دانا شخص نے کہا اے باز میں نے تجھے تیری شناخت دی ہے اپنے پاس سے کچھ نہیں دیا
یہ کمال صلاحیتیں تیرے اندر موجود تھیں مگر تو بے خبر تھا
یہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہے

🇵🇰ہماری ایک خاص شناخت ہے

🕋 ہم ایک خاص امت کے ارکان ہیں

ہم ایک ایٹمی ملک کے شہری ہیں

ہمارے اندر اللہ رب العزت نے بے پناہ صلاحیتیں رکھی ہیں

مگر پرابلم یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد بے شمار مرغیاں ہیں جن میں ہمارے ٹی وی چینل اور اخبارات بھی شامل ہیں

جو مسلسل ہم کو بتاتے ہیں کہ ہم باز کے بچے نہیں مرغی کے بچے ہیں

جو مسلسل بتاتے ہیں کہ تم سپر پاور نہیں ہو سپر پاور کوئی اور ہے

جو مسلسل بتاتے ہیں کہ تم بہادر اور طاقتور نہیں ہو بلکہ بزدل اور کمزور ہو

تمھاری تو قوم ہی ایسی ہے

تم دہشتگرد ہو تم لوگ آگے نہیں بڑھ سکتے

کامیابی کی شرط یہ ہے کہ ہم خود کو پہچاننے کی کوشش کریں تاکہ ہم ایک بہترین امت اور بہترین قوم بن کر اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

12/04/2025

To get excellence in Communication Contact Us

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Karachi