Alhijama centre

Alhijama centre

Share

حجامہ ایک قدیم ترین اور کامیاب ترین طریقہءعلاج ہے. جسکو کرنے کا حکم ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دیا ہے اس میں ہر مرض کا علاج ہے

hijama is the best remedy in the world . we serve people with sincerity
and honesty

22/12/2021

حجامہ کی مسنون تاریخیں شروع ہے

06/07/2021

الحمدللہ

01/07/2021

Hijama Therapist Shahzad Shafiq. 1.7.21

Photos from Alhijama centre's post 01/03/2021
28/02/2021
28/09/2020

جگر حیاتی عضو ہے,
جاننا چائیے کہ جس طرح بدن انسان میں دماغ اور دل زندگی کیلئے ضروری اعضاء ہیں اور حیاتی مفرد اعضاء کےنام سے مشہور ہیں بلکل اسی طرح جگر بھی بدن انسانی کی بقاءکیلئے ضروری عضو ہے یعنی جگر بھی حیاتی مفرد عضو ہے اسکے افعال چند منٹ رک جائیں تو موت واقع ہوجاتی ہے,

جگر کے حقیقی افعال
جس طرح دماغ احساس اور دل حرکت کے اعضاء ہیں اسی طرح جگر کو تحلیل یا ہضم و جزب کا مفرد عضو تسلیم کیا جاتا ہے,
جس طرح دماغ کو کام کرنے کےلئے اللہ تعالی نے خبر رساں اور حکم رساں دو خدام عطا کئیےہیں جو دماغ کے کیمیائی اور مشینی افعال انجام دیتےہیں اسی طرح اللہ احکم الحاکمین نے دل کو کام کرنے کیلئے ارادی اور غیر ارادی عضلات ودیعت کئےہیں جو دل کیلئے کیمیائی اور مشینی افعال سر انجام دیتےہیں
بلکل اسی طرح قدرت کاملہ نےجگر کو اپنے افعال سر انجام دینے کیلئے دو خدام غدد ناقلہ و غدد جازبہ عطا کئیےہیں,
غدد جازبہ باہر سے جسم کےاندر داخل ہونےوالی ہر غذا اول ہضم و تحلیل کرتےہیں پھر اسکے جوس و خلاصہ کو جزب کرکے خون میں داخل کرتےہیں یہ جگر کے کیمیائی افعال کہلاتےہیں غدد ناقلہ اس کےبرعکس کام کرتےہیں یعنی جو خلاصہ غذا غدد جازبہ نے خون میں داخل کیا ہوتا ہے جب وہ خون میں گردش کرتے کرتے اعضاء کی غذا بننے سے بچ جاتا ہے اب وہ خون اور اعضاء کیلئے فاضل مواد یا فضلہ کی صورت اختیار کرلیتا ہے لہذہ اب غدد ناقلہ اپنی نالیوں کے ذریعے خون سے ان فاضل امواد کو بصورت ( پسینہ, پیشاب ) خارج کرتےہیں اسی طرح ایک طرف بدن کو غدد جازبہ کے ذریعے غذا ملتی رہتی ہے تو دوسری طرف غدد ناقلہ کے ذریعے فضلات کا اخراج ہوکر خون و اعضاء کی صفائی ہوتی رہتی ہے اسطرح انسانی صحت کی گاڑی کا پہیہ چلتا رہتا ہے یہ جگر کے مشینی افعال کہلاتےہیں ,
یہ ہے بالمفرد اعضاء جگر کی تشریح ( اناٹومی)

اب آگے چلتے ہیں
جگر کے مزید افعال :
جگر کے کیمیائی اور مشینی افعال جگر و غدد کے حقیقی افعال کہلاتےہیں لیکن ان کےعلاوہ اور بھی کئ افعال جگر کی طرف منسوب ہیں مثال کےطور پر
(1) جگر خون بناتا ہے ( یہ وباء آجکل عام ہے )
(2) جگر میں چاروں اخلاط صفراء, سودا, بلغم اور خون بنتےہیں
(3) جگر یوریا بناتا ہے
(4) جگر گلائی کوجن بناتا ہے یعنی حیوانی نشاستہ سادہ زبان میں عرض کر رہاہوں
(5) جگر صفراء بناتا ہے
اب اس حقیقت کو الگ الگ تفصیل کیساتھ ذہن نشین کرنا ہے کہ کیا واقعی جگر خون بھی بناتا ہے?
یوریا ,صفرا ,سودا ,بلغم ,گلائی کوجن چاروں اخلاط بناتا ہے ?
یا اللہ خیر کجھ نئ چھڈیاi

جگر خون بناتا ہے?

حکما اطباء ڈاکٹروں سے سوال پوچھا جاتا ہے کہ بدن میں خون کہاں تیار ہوتا ہے?

عام طور پر اس سوال کا جواب دیا جاتا ہے کہ جگر خون بناتا ہے لیکن دلیل کےطور پر کوئی مؤثر جواب نہیں دیا جاتا
اگر خون بلغم, صفراء, سودا کے مزاج کا حامل ہوتا تو جگر کے تولیدی خون کا مرکب تسلیم کیا جاسکتاتھا لیکن چونکہ جگر میں تینوں اخلاط کے مزاج ( تر, خشک, گرم ) نہیں پاۓ جاتے اسلئے جگر کو خون بنانے ولا عضو تسلیم نہیں کیا جاسکتا حقیقت یہ ہے کہ جگر کا مزاج گرم ہے جو خلط صفراء کا مزاج ہے
لہذہ جگر صفراء کو جدا کرنے والا عضو تو تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن خون بنانے والا عضو تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی جگر خون بناتا ہے
اب پھر مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ جگر میں خون نہیں بنتا تو پھر کہاں بنتا ہے?

خون معدے میں تیار ہوتا ہے_
ہاۓ اوۓ میں صدقے قانون مفرد اعضاء کے کیا بات ہے نکھار دیا ہے فطرت کے اصول کو زندہ باد زندہ باد
یاد رکھیں کھائی جانے والی غذا میں تر, خشک, گرم, سرد ہر قسم کے اجزاء پاۓ جاتےہیں جنہیں معدہ و امعاء ہضم و تحلیل کرکے خلاصہ غذا جدا کرتےہیں یعنی اس خلاصہ غذا میں تینوں اخلاط کے اجزاء ہوتےہیں جو عروق ماساریقا کے ذریعے جگر و خون میں داخل ہوتے ہیں لہذہ خون بنانے کا کام معدہ و امعاء ادا کرتےہیں یعنی معدہ و امعاء میں تیار ہونے والا خلاصہ غذا ہی خون ہوا کرتا ہے

نمبر (2) جگر میں چاروں اخلاط بنتےہیں ?

اس سوال کا جواب اوپر مذکور ہوا کہ جگر مفرد عضو ہے اسکا مزاج تر, خشک, گرم, سرد نہیں صرف گرم ہے جو کہ صفراء کا مزاج ہے جگر صرف اپنے مزاج کی خلط کو جدا کرسکتا ہے دوسرے اخلاط کو جدا کرنا اسکے بس کا روگ نہیں دوسرے اخلاط کو دوسرے مفرد اعضاء جو انکا مزاج رکھتےہیں جدا کرسکتےہیں جیسے دماغ تر مزاج ہونے کی وجہ سے بلغمی رطوبات جدا کرتےہیں , قلب و عضلات خشک مزاج کا حامل ہونے کی وجہ سے خلط سودا کو جدا کرسکتےہیں بلکل اسی طرح جگر و غدد گرم مزاج ہونے کی وجہ سے گرم مزاج کی خلط صفراء کو جدا کیا کرتا ہے
کیوں بھائی بلغم , سودا , صفراء سب کو جدا کرکے دینا جگر نے ٹھیکے پر لیا ہوا ہے ?

جگر میں چاروں اخلاط بنتےہیں ?
اسکا جواب اوپر مل چکا ہے

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ جگر کو صفراء پیدا کرنےوالا عضو اور دماغ کو بلغمی رطوبت پیدا کرنےوالا عضو کیوں نہیں لکھتے جدا کرنےولا عضو کیوں لکھتےہیں جدا کرنےوالا اعضاء کیوں لکھتےہیں ?
کسی بھی عضو کے متعلق یہ کہنا کہ وہ فلاں خلط کو پیدا کرتا ہے درست نہیں کیونکہ کسی بھی شئے کو پیدا کرنا یا خلق کرنا صرف اللہ واحدہ لاشریک کا کام ہے البتہ کوئی عضو اللہ کی پیدا کردہ کسی شۓ ( غذا, دوا) میں سے جدا تو کرسکتا ہے مگر پیدا نہیں کرسکتا مندرجہ بالا حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ جگر میں چاروں اخلاط نہیں بنتے جگر تو صرف اور صرف اپنے مزاج کی خلط کو جدا کرسکتا ہے

نمبر (3) جگر یوریا بناتا ہے ?

جگر صفراء نہیں بناتا جیسا کہ بتایا گیا ہے بلکہ معدہ و امعاء سے آۓ ہوۓ غذائی جوس سے اپنے مزاج کی خلط کو جدا کرتا ہے اسی عمل کو اکثر حکماء جگر کو صفراء پیدا کرنےوالا لکھ دیتےہیں
لیکن
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ کیا یوریا کا مزاج بھی صفراء والا ہے?
کیونکہ اطباء اور ڈاکٹر صاحبان کہتےہیں کہ جگر یوریا بناتا ہے حقیقیت یہ ہےکہ یوریا اجزاۓ لحمیہ یعنی عضلات کا فضلہ ہے جبکہ صفراء جگر و غدد کا جدا کردہ مادہ یا فضلہ ہے
یوریا جیسا کہ مزکور ہوا اجزاۓ لحمیہ کا فضلہ ہے جسے متقدمین اطباء سودا سمجھتےہیں
حقیقت یہی ہے کہ جب تیزابیت یا تیزابی مادہ خون میں بژھ جاۓ تو پیشاب میں یوریا آنےلگتاہے جسے اطباء متقدمین سوداوی مادہ کہتےہیں
اس بارے میں ڈاکٹر غلام جیلانی صاحب بار بار لکھتےہیں کہ خود جسمانی بافتوں یا ساختوں ( ٹشوز کے پروٹین ) سےبھی کسی قدر یوریا بنتا ہے کیونکہ عضلات اور جسم کی دیگر ساختیں ہمیشہ کچھ نہ کچھ صرف و تحلیل کرتی رہتی ہیں پس ان کےفضلات بھی امینو ایسڈ میں تبدیل ہوکر اور جگر میں پہنچ کر یوریا میں تبدیل ہوجاتےہیں
اجزاۓ لحمیہ کےفضلات امینو ایسڈ خون کے ذریعے جگر میں پہنچتےہیں پھر جگر انکو خون میں تبدیل کرکے یوریا میں تبدیل کردیتا ہے
محترم دوستو مندرجہ بالاحقائق کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں کیونکہ جگر میں خون سے سواۓ صفراء کے کوئی بھی مادہ جدا نہیں ہوتا البتہ جب جگر خون سے فاضل صفراء علحیدہ کرکے پتہ میں داخل کردیتا ہے تو خون میں اب یوریا زیادہ رہ جاتا ہے جو گردوں کے ذریعے پیشاب میں خارج ہوجاتاہے متعدد جگہ پر خود ہمارے ہی دوست لکھ دیتےہیں یا دیگر حکماء نے لکھا ہے کہ کریٹی نن یوریا کا بڑھنا غدی عضلاتی تحریک ہے حیرت ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکےگا
جبکہ اب تک کے پریکٹیکل میں کوئی بھی مریض کریٹی نن اور یوریا کی زیادتی میں آئے انکی تحریک عضلاتی اعصابی ملی ہے
اور بطور علاج غدی اعصابی کا سہارا لیا گیا جس سے الحمدللہ کامیاب علاج ہوا ہے
تریاق یوریا
ملین 5
سوسی تریاق یوریا سے مراد تریاق گردہ ہے
اس میں بلابخل یہ بتادوں کہ جہاں تریاق گردہ میں سنگ یہود ڈلتا ہے اسکےساتھ سنگ سرماہی شامل ضرور کیا جاۓ
اور ان شاءاللہ 15 دن میں رپورٹ کرالیں کرامات قانون مفرد اعضاء سامنے ہے

جگر میں چاروں اخلاط بنتےہیں ?
اسکا جواب اوپر مل چکا ہے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ جگر کو صفراء پیدا کرنےوالا عضو اور دماغ کو بلغمی رطوبت پیدا کرنےوالا عضو کیوں نہیں لکھتے جدا کرنےولا عضو کیوں لکھتےہیں جدا کرنےوالا اعضاء کیوں لکھتےہیں ?
کسی بھی عضو کے متعلق یہ کہنا کہ وہ فلاں خلط کو پیدا کرتا ہے درست نہیں کیونکہ کسی بھی شئے کو پیدا کرنا یا خلق کرنا صرف اللہ واحدہ لاشریک کا کام ہے البتہ کوئی عضو اللہ کی پیدا کردہ کسی شۓ ( غذا, دوا) میں سے جدا تو کرسکتا ہے مگر پیدا نہیں کرسکتا مندرجہ بالا حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ جگر میں چاروں اخلاط نہیں بنتے جگر تو صرف اور صرف اپنے مزاج کی خلط کو جدا کرسکتا ہے

نمبر (3) جگر یوریا بناتا ہے ?
جگر صفراء نہیں بناتا جیسا کہ بتایا گیا ہے بلکہ معدہ و امعاء سے آۓ ہوۓ غذائی جوس سے اپنے مزاج کی خلط کو جدا کرتا ہے اسی عمل کو اکثر حکماء جگر کو صفراء پیدا کرنےوالا لکھ دیتےہیں
لیکن
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ کیا یوریا کا مزاج بھی صفراء والا ہے?
کیونکہ اطباء اور ڈاکٹر صاحبان کہتےہیں کہ جگر یوریا بناتا ہے حقیقیت یہ ہےکہ یوریا اجزاۓ لحمیہ یعنی عضلات کا فضلہ ہے جبکہ صفراء جگر و غدد کا جدا کردہ مادہ یا فضلہ ہے
یوریا جیسا کہ مزکور ہوا اجزاۓ لحمیہ کا فضلہ ہے جس متقدمین اطباء سودا سمجھتےہیں
حقیقت یہی ہے کہ جب تیزابیت یا تیزابی مادہ خون میں بژھ جاۓ تو پیشاب میں یوریا آنےلگتاہے جسے اطباء متقدمین سوداوی مادہ کہتےہیں
اس بارے میں ڈاکٹر غلام جیلانی صاحب بار بار لکھتےہیں کہ خود جسمانی بافتوں یا ساختوں ( ٹشوز کے پروٹین ) سےبھی کسی قدر یوریا بنتا ہے کیونکہ عضلات اور جسم کی دیگر ساختیں ہمیشہ کچھ نہ کچھ صرف و تحلیل کرتی رہتی ہیں پس ان کےفضلات بھی امینو ایسڈ میں تبدیل ہوکر اور جگر میں پہنچ کر یوریا میں تبدیل ہوجاتےہیں
اجزاۓ لحمیہ کےفضلات امینو ایسڈ خون کے ذریعے جگر میں پہنچتےہیں پھر جگر انکو خون میں تبدیل کرکے یوریا میں تبدیل کردیتا ہے
محترم دوستو مندرجہ بالاحقائق کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں کیونکہ جگر میں خون سے سواۓ صفراء کے کوئی بھی مادہ جدا نہیں ہوتا البتہ جب جگر خون سے فاضل صفراء علحیدہ کرکے پتہ میں داخل کردیتا ہے تو خون میں اب یوریا زیادہ رہ جاتا ہے جو گردوں کے ذریعے پیشاب میں خارج ہوجاتاہے

07/09/2020

محرم الحرام میں حجامہ کی مسنون تاریخیں

05/09/2020

For contact..
03317863313
03122001310
Hijama centre shahzad shafiq

10/05/2020

چاند کی 17 تاریخ آج بعد مغرب شروع ہوگی

10/05/2020

چاند کی مسنون تاریخیں

06/03/2020

Corona Virus کورونا وائرس

دنیا بھر میں تھرتھلی مچاد دینےوالا ایک وائرس جسکا آغاز چائنا سے ھوا ایک قیاس کیا گیا تھا کہ یہ حرام جانور اور حرام گوشت کھانے سے پھیلتا ہوا ایک وائرس ہے جیسے چمگادڑ کا سوپ, سور کا گوشت, کتے,بلی,چوہا و دیگر حرام جانوروں کے کھانے سے پھیلتا ہے,
شروعات ابھی چند دن قبل چائنا سے ہوئی اور اس نے پوری دنیا میں خوف و ہراس پھیلا دیا اس پر مختلف آراء پیش ہوئیں جو کہ مذہبی اعتبار سے بھی سامنے آئیں اور دیگر وجوہات بھی سامنے آتی نظر آئیں,
اسی وجہ سے چائنا پر مختلف قسم کی پابندیاں لگادی گئیں تاکہ اسکا وائرس دوسرے ممالک میں منتقل نہ ہوسکے
لیکن ایسا کرنے کے باوجود بھی اب یہ وائرس اٹلی, انڈیا اور افغانستان و ایران کی جانب بھی بڑھ چکا ہے اور اسکی تصدیق پاکستان میں بھی ہوچکی ہے یعنی مسلم ممالک بھی اسکی لپیٹ میں آچکے ہیں اب سوچنا چاہئے کہ افغانستان و ایران میں حرام جانور ہرگز نہیں کھایا جاتا ہم اپنے دین اسلام کے مطابق یہ بات تو کہہ سکتے ہیں کہ قدرت نے حلال میں شفاء اور حرام میں بیماری ہی بیماری رکھی ہے,
یہاں تک مذہبی اعتبار سے درست ہے کہ حرام کھانے کی اسلام میں قطعی کوئی گنجائش نہیں ہے پھر بھی اسکا رخ اسلامی ممالک کی جانب ہوجانا باعث تشویش ہے
یہ ایک سوالیہ نشان ہے?
اس بارے میں ہم نے فیس بک پر بھی حکماء کی مختلف آراء کو دیکھا اور بہت سے حکماء نے اسکے علاج کو پیش کرنے میں بہت جلدی کی ہے جبکہ ہم جیسوں پر ابھی تک اسے سمجھنے کیلئے خاموشی کا سکوت طاری ہے تو اسکی وجہ یہ ہےکہ بلاسوچے سمجھے یا بلا تحقیق کچھ لکھنا مناسب نہیں ہوتا جہاں تک میری کم علمی کا تعلق ہے میں اپنی طرف سے اس بارےمیں ایک وضاحت پیش کرتا ہوں اور کوشش کرونگا کہ اپنی ناقص علمی آپکے سامنے رکھوں تاکہ میری اپنی بھی اصلاح ہوسکے,
اس سلسلے میں سب سے پہلے کورونا وائرس کی چند علامات پیش کرتا ہوں جوکہ ظاہری طور پر نظر آنےوالی ہیں_
اس انفیکشن کی عام علامات میں سانس کی علامات ، بخار ، کھانسی ، سانس کی قلت اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ زیادہ سنگین صورتوں میں ، انفیکشن نمونیہ ، شدید سانس لینے میں دشواری ، گردوں کا ناکارہ ہونا اور یہاں تک کہ موت کا سبب بن جاتا ہے, بعض مریضوں کی ناک اور منہ سے خون آنے لگتا ہے,
یہاں ایک نقطہ اور قابل غور ہے کہ انسان کے سانس لینے کے عمل میں ناک,منہ اور پھپھڑوں کا اہم کردار ہے اور اس میں پہلے پہل پھپھڑے اور پھر پورے سینے کو یہ وائرس گھیر لیتا ہےپھپھڑے جوکہ ایک عضلہ ہیں اور قلب و عضلات کے ماتحت ہیں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جیساکہ نمونیہ کے مریض میں شدید حالتوں میں دیکھا جاسکتا ہے اسی طرح یہ وائرس بھی پھپھڑوں کے عضلات کو متاثر کرتاہے بلکل اسی طرح جس طرح کہ نمونیہ پھپھڑوں کی سانس لینےوالی نالیوں میں بلغم کو خشک کرکے جمادیتا ہے جس سےبلغم کا اخراج نہیں ہوپاتا اگر ہم اس وائرس کی تمام علامات کی جانب غور کریں تو بلکل نمونیہ کی انتہائی بگڑی ہوئی صورت کا نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے
یہ وائرس پھپھڑوں کے عضلات پر جاکر اثر انداز ہوتا ہے ایسا متاثرہ مریض بہت جلد کمزوری کا شکار ہوجاتاہے جسکی شدت سے وہ ایڑیاں رگڑنے لگتا ہے کھینچ کھینچ کر سانس لینے کی ناکام کوشش کرتا ہے جسکے نتیجے میں مزید پھپھڑوں میں خشکی آجاتی ہے عضلاتی اعصابی تحریک ہونےکی وجہ سے ناک منہ سے خون بھی آجاتا ہے کیونکہ پھپھڑوں میں خشکی کا غلبہ بڑھ جاتا ہے حرارت جو کہ دافع تعفن مانی جاتی ہے حالت تسکین میں ہوتی ہے اسی وجہ سے اس وائرس کو اپنا ماحول مل جاتا ہے جس سے اسے شدت سے حملہ آوار ہونے میں آسانی ہوجاتی ہے یاد رکھیں یہ خالص عضلاتی اعصابی تحریک ہے اسکا علاج غدی عضلاتی سے غدی اعصابی اور اعصابی غدی تک کیا جاسکتا ہے جیسے ہم ٹیوبرکلوزز بیکٹریا میں کرتے ہیں بلکل اسکی صورت بھی یہی ہوگی
دوسرا یہاں ایک بات اور کلئر کردوں کہ جب ہم اس بات کو تسلیم کر رہےہیں کہ حرام جانور کا گوشت کھانے سے اسکا وائرس انسان میں داخل ہوا تو اس بات کو ماننا پڑےگا کہ جہاں انسان اس سے متاثر ہوسکتا ہے تو وہیں حلال جانور بھی اس سےمتاثر ہوسکتا ہے اور ہم جب حلال جانور کھائینگے تب بھی ہمارے جسم پر اسکا اثر ہوسکتا ہے اب ہم غوریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم سب سے زیادہ فارمی مرغ استعمال کر رہےہیں دوسرا ایک نقطہ اور قابل غور ہے کہ یہ وائرس پھیلنے کیلئے سردی کے موسم میں ہی کیوں آیا ?
یہ بات بھی قابل غور ہے
دوسرا اس وائرس سے متاثرہ شخص کے گردوں کا ناکارہ ہوجانا بھی قابل غور ہے گردے جوکہ ہمارے نالی دار غدد ہیں جن سے فضلات کا اخراج ہوتا ہے سخت تسکین کی وجہ سے ناکارہ ہوجانا بھی قابل غور ہے
اگر ہم ہمت سے کام لیں تو اس بارے سوچا اور سمجھا جاسکتا ہے,
وماتوفیقی الاباللہ

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

24 Market Saeedabad Baldia Town
Karachi