Syed Nisar Ahmed Haqyar
روزانہ کی بنیاد پر حدیث مبارکہ اور شرعی مسائل دیکھنے کے لیے پیج فالو کریں
*جہیز کا حکم / مہر کی مقدار / ازواجِ مطہرات اور بناتِ طاہرہ کے مہر کی مقدار*
📝 سوال : ہمارے علاقے میں جہیز دینے کی ایک وباء پھیلی ہوئی ہے، والدین اپنی بیٹی کی شادی کے لیے بہت پریشان ہوتے ہیں، ہمارے علاقے میں بیٹی کو جہیز دینے کا جو رواج ہے وہ بہت زیادہ جہیز دیتے ہیں، سونا، فرنیچر، گھریلو سامان، ساٹھ سے ستر تک جوڑے، ایک جوڑے کی قیمت پانچ ہزار سے سات ہزار تک ہوتی ہے، بعض والدین غریب ہوتے ہیں تو وہ کئی مرتبہ اپنی زمینوں تک کو فروخت کردیتے ہیں، اور اس کے لیے قرضے لیتے ہیں، اس وباء میں وہاں کے علماء اور تبلیغی حضرات بھی مبتلا ہیں، دوسری طرف لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کو جو مہر دیا جاتا ہے وہ صرف پانچ ہزار تک ہوتا ہے، اس سے زیادہ مہر کا رواج نہیں ہے۔
دریافت یہ کرنا ہے کہ:
شریعت میں جہیز کی کیا حد ہے؟
ہمارے علاقے کی جو صورت ہے، اس صورت میں وہاں کے علماء کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
شریعت میں مہر کی زیادتی کی کیا حد ہے؟
نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو کتنا مہر دیا تھا اور آپ ﷺ کی بیٹیوں کا کتنا مہر مقرر کیا گیا تھا؟
✒️ جواب : واضح رہے کہ شریعت میں جہیز نکاح کا کوئی لازمی جز نہیں ہے، نبی کریم ﷺ کے مبارک زمانہ میں نکاح کے وقت لڑکی کو جہیز دینے کا عمومی رواج نہیں تھا، صرف آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی میں جہیز کا ذکر ملتا ہے لیکن اس کے بارے میں بھی علماء کی دو آراء ہیں۔
1- بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ یہ جہیز نبی کریم ﷺ نے اپنی طرف سے اپنی صاحبزادی کو عطا فرمایا تھا جب کہ دوسرے بعض کی علماء کی رائے یہ ہے کہ جہیز کا سامان نبی کریم ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مال سے اور ان کے پیسوں سے خریدا تھا، اور چونکہ نبی کریم ﷺ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سرپرست بھی تھے، اس لیے آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مال سے جہیز کا سامان خرید کر ان کے گھر میں ضرورت کے سامان کا انتظام فرمایا تھا۔
اگر نبی کریم ﷺ نے اپنی طرف سے بھی جہیز کا سامان خرید کر اپنی صاحبزادی کو عطا فرمایا ہو تو روایات میں جہیز کی جن چیزوں کا ذکر ملتا ہے وہ صرف گھریلو ضرورت کی وہ چیزیں تھیں جو روز مرہ کے استعمال کی تھی، نسائی کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں ایک پلو دار چادر، ایک مشکیزہ اور ایک تکیہ دیا تھا جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی، مسند احمد کی روایت میں ہے کہ ایک لحاف، ایک گدّا، دو چکیاں، ایک مشکیزہ اور دو مٹی کے گھڑے جہیز میں عطا فرمائے تھے، مواہبِ لدنیہ کی روایت میں ایک چارپائی کا بھی ذکر ملتا ہے۔
ان تمام روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جہیز میں جو سامان عطا فرمایا تھا، وہ انتہائی مختصر اور گھریلو ضرورت کا سامان تھا، اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ باپ اپنی خوشی سے بیٹی کو رخصتی کے وقت اپنی حیثیت کے مطابق اگر کچھ ضرورت کا سامان دینا چاہے تو شرعاً جائز ہے۔
جہیز نہ تو شادی کا لازمی جز ہے اور نہ ہی ہر باپ کے لیے بیٹی کو جہیز دینا ضروری ہے، بلکہ اگر کوئی باپ نمود و نمائش کے لیے ضرورت سے زیادہ سامان جہیز میں دے تو شرعاً ناجائز ہے، اسی طرح لڑکے والوں کے لیے زبان سے یا عمل سے لڑکی والوں سے جہیز کا مطالبہ کرنا اور جہیز نہ دینے پر یا کم دینے پر لڑکی کو طعنہ دیتے رہنا بھی شرعاً ناجائز ہے۔
جس علاقے میں جہیز کو ضروری سمجھاجانے لگا ہو اور اس کا اتنا رواج ہوگیا ہو کہ لڑکے والوں کی جانب سے صراحتاً یا عملاً اس کا مطالبہ ہوتا ہو، جہیز نہ دینے پر یا کم دینے پر لڑکی کو طعنے دیے جاتے ہوں، جس کی وجہ سے اس علاقے میں بیٹی کی شادی کرنا والدین کے لیے ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہو تو ایسے علاقے کے علماء کی ذمہ داری ہے کہ جہیز کی شرعی حیثیت کے حوالے سے لوگوں میں آگاہی پیدا کریں، اپنی اور اپنے اقرباء کی شادیوں میں جہیز کو بالکل ترک کریں یا صرف ضرورت کے سامان تک محدود کریں تاکہ لوگ ان کے عمل کو ان کے قول کے موافق پا کر شرعی حدود سے تجاوز کرنے سے بچنے لگیں۔
*🎯 مہر کی مقدار*
مہر کی کم از کم مقدار تو شریعت میں متعین ہے اور دس درہم (یعنی 30.618 گرام چاندی) کی مقدار ہے لیکن زیادہ سے زیادہ مہر کی شریعت نے متعین نہیں کی، شوہر اپنی حیثیت کے مطابق زیادہ سے زیادہ جتنا مہر دینا چاہے، دے سکتا ہے تاہم شریعت نے مہر میں بہت زیادہ زیادتی کو پسند نہیں فرمایابلکہ مہر کے بارے میں یہ ہدایت دی ہے کہ وہ اتنا ہو کہ جس کی ادائیگی آسانی سے ہوسکے، چناچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وہ نکاح بہت بابرکت ہے جس کا بوجھ کم سے کم پڑے، ایک دوسری روایت میں فرمایا: وہ عورت زیادہ بابرکت ہے جس کا مہر کم ہو، ایک روایت میں فرمایا: بہترین مہر وہ ہے جس کی ادائیگی آسان ہو۔
زیادہ مہر کو ناپسند قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ شریعت مطہرہ نہیں چاہتی کہ نوجوانوں کے لیے نکاح کو مشکل بنایا جائے کہ جس کے نتیجے میں بے حیائی اور فحاشی کا دروازہ کھلے، بلکہ شریعت یہ چاہتی ہے کہ نکاح کو زیادہ سے زیادہ آسان بنایا جائے تاکہ حلال راستہ ہر ایک کے لیے کھلا ہو اور معاشرہ فحاشی اور گندگی سے محفوظ رہ سکے۔
نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات اور آپ ﷺ کی بیٹیوں کا جو مہر تھا، اس کی مقدار ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی منقول ہے، ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے تو اس حساب سے پانچ سو درہم بنتے ہیں۔
موجودہ اعشاری نظام میں پانچ سو درہم کی مقدار ایک کلو پانچ سو تیس گرام نو ملی گرام چاندی بنتی ہے، نبی کریم ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ حضرت امِ حبیبہ رضی اللہ عنہا کا مہر زیادہ تھا، کیوں کہ ان کا مہر نجاشی نے مقرر کیا تھا اور ادائیگی بھی نجاشی بادشاہ نے ہی کی تھی تو اس نے اِن کا مہر ایک روایت کے مطابق چار ہزار درہم اور دوسری روایت کے مطابق چار ہزار دینار مقرر کیا تھا۔
سنن النسائی میں ہے:
"عن علي، رضي الله عنه قال: جهز رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة في خميل وقربة ووسادة حشوها إذخر۔"
(سنن النسائی، ج: 6، کتاب النکاح، جہاز الرجل ابنتہ، ص: 135، ط: مکتب المطبوعات الاسلامیہ)
امداد الاحکام میں ہے:
باپ کا اپنی لڑکی کو نکاح کے وقت جہیز دینا سنتِ نبویہ سے ثابت ہے، رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کو شادی کے وقت جہیز دیا ہے۔
(امداد الاحکام، ج: 2، کتاب النکاح، ص: 371، ط: مکتبہ دار العلوم، کراچی)
معارف الحدیث میں ہے:
"ہمارے ملک میں اکثر اہلِ علم اس حدیث کا مطلب یہی سمجھتے اور بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ چیزیں (چادر، مشکیزہ، تکیہ) اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر جہیز کے طور پر دی تھیں، لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس زمانہ مین عرب میں نکاح شادی کے موقع پر لڑکی کو جہیز کے طور پر کچھ سامان دینے کا رواج بلکہ تصور بھی نہیں تھا اور جہیز کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوتا تھا، اس زمانہ کی شادیوں کے سلسلے میں کہیں اس کا ذکر نہیں آتا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ حضور ﷺ کی دوسری صاحبزادیوں کے نکاح کے سلسلے میں بھی کہیں کسی قسم کے جہیز کا ذکر نہیں آیا، حدیث کے لفظ "جھز" کے معنی اصطلاحی جہیز دینے کے نہیں، بلکہ ضرورت کا انتظام اور بندوبست کرنے کے ہیں، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے حضور ﷺ نے ان چیزوں کا انتظام حضرت علی رضی اللہ کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے ان ہی کی طرف سے اور ان ہی کے پیسوں سے کیا تھا؛ کیونکہ یہ ضروری چیزیں ان کے گھر میں نہیں تھیں، روایات سے اس کی پوری تفصیل معلوم ہوجاتی ہے، بہر حال یہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا۔"
(معارف الحدیث، ج: 7، نکاح و ازدواج اور اس کے تعلقات، ص: 461، ط: دار الاشاعت)
الترغیب و الترہیب میں ہے:
"عن علي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما زوجة فاطمة بعث معها بخميلة، ووسادة من أدم حشوها ليف، ورحيين، وسقاء، وجرتين ...رواه أحمد واللفظ له."
(الترغیب و الترہیب، ج: 2، کتاب الذکر و الدعا، الترغیب فی آیات و اذکار بعد الصلوات المکتوبات، ص: 452، ط: دار احیاء التراث العربی)
مواہبِ لدنیہ میں ہے:
"عن أنس قال: جاء أبو بكر ثم عمر يخطبان فاطمة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فسكت ولم يرجع إليهما شيئا فانطلقا إلى علي رضي الله عنه يأمرانه بطلب ذلك. قال علي: فنبهاني لأمر، فقمت أجر ردائي حتى أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: تزوجني فاطمة؟ قال: "وعندك شيء"؟ فقلت: فرسي وبدني، قال: "أما فرسك فلا بد لك منها وأما بدنك فبعها"، فبعتها بأربعمائة وثمانين، فجئته بها، فوضعتها في حجره، فقبض منها قبضة فقال: "أي بلال: ابتع بها لنا طيبا وأمرهم أن يجهزوها، فجعل لها سرير مشروط، ووسادة من أدم حشوها ليف."
(المواهب اللدنية مع شرح الزرقاني، ج: 2، کتاب المغازی، ص: 360، ط: دار الکتب العلمیہ)
کفایت المفتی میں ہے:
"سوال: جہیز بقدرِ حیثیت دینا چاہیئے، (الف) حیثیت سے زیادہ نام کے لیے دینا، (ب) جہیز کا بازار میں گشت کرانا۔۔۔الخ
جواب: بقدرِ حیثیت جہیز دینا چاہیے، (الف) حیثیت سے زیادہ دینا ناجائز ہے، (ب) شہرت و نمود کے لیے کیا جاتا ہے، اس لیے ناجائز ہے۔"
(کفایت المفتی، ج: 9، کتاب الحظر و الاباحۃ، ص: 89، ط: دار الاشاعت)
سنن دار قطني ميں یے:
"عن أنس بن مالك ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه۔"
(سنن الدارقطني، ج: 3، كتاب البيوع، ص: 424، ط: مؤسسة الرساله)
الفقه الإسلامي و أدلتهميں هے:
"أما الحد الأدنى للمهر قال الحنفية : أقل المهر عشرة دراهم، لحديث: لا مهر أقل من عشرة دراهم."
(الفقه الاسلامي و ادلته، ج: 9، القسم السادس: الاحوال الشخصيه، الباب الاول: الزواج و آثاره، الفصل السادس: آثار الزواج، ص: 6764، ط: دار الفكر)
و فیہ ایضاً:
"ليس للمهر حد أقصى بالاتفاق ؛ لأنه لم يرد في الشرع ما يدل على تحديده بحد أعلى، لقوله تعالى: { … وآتيتم إحداهن قنطارا، فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء:20/ 4]۔۔۔ولكن يسن تخفيف الصداق وعدم المغالاة في المهور، لقوله صلى الله عليه وسلم: إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤونة، وفي رواية إن أعظم النساء بركة أيسرهن صداقا وروى أبو داود وصححه الحاكم عن عقبة بن عامر حديث: خير الصداق أيسره والحكمة من منع المغالاة في المهور واضحة وهي تيسير الزواج للشباب، حتى لا ينصرفوا عنه، فتقع مفاسد خلقية واجتماعية متعددة."
(الفقه الاسلامي و ادلته، ج: 9، القسم السادس: الاحوال الشخصيه، الباب الاول: الزواج و آثاره، الفصل السادس: آثار الزواج، ص: 6763، ط: دار الفكر)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن أبي سلمة قال: سألت عائشة: كم كان صداق النبي صلى الله عليه وسلم قالت: كان صداقه لأزواجه اثنتي عشرة أوقية ونش قالت: أتدري ما النش؟ قلت: لا قالت: نصف أوقية فتلك خمسمائة درهم. رواه مسلم."
(مشکاۃ المصابیح، ج: 2، کتاب النکاح، باب الصداق، الفصل الاول، ص: 957، ط: المکتب الاسلامی)
وفیہ ایضاً:
"عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: ألا لا تغالوا صدقة النساء فإنها لو كانت مكرمة في الدنيا وتقوى عند الله لكان أولاكم بها نبي الله صلى الله عليه وسلم ما علمت رسول الله صلى الله عليه وسلم نكح شيئا من نسائه ولا أنكح شيئا من بناته على أكثر من اثنتي عشرة أوقية. رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي."
(مشکاۃ المصابیح، ج: 2، کتاب النکاح، باب الصداق، الفصل الثانی، ص: 958، ط: المکتب الاسلامی)
سنن ابی داؤد میں ہے:
"عن الزهري، أن النجاشي، زوج أم حبيبة بنت أبي سفيان من رسول الله صلى الله عليه وسلم على صداق أربعة آلاف درهم وكتب بذلك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقبل۔"
(سنن ابی داؤد، ج: 2، کتاب النکاح، باب الصداق، ص: 235، ط: المکتب العصریہ)
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ میں ہے:
"روي أنه صلى الله عليه وسلم بعث عمرو بن أمية الضمري إلى النجاشي ليخطبها عليه، فزوجها إياه، وأصدقها عنه أربعمائة دينار، وبعث بها إليه مع شرحيبل بن حسنة۔"
(زرقانی، ج: 4، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات، ص: 405، ط: دار الکتب العلمیہ)
فقط و اللہ اعلم
فتوی نمبر : 144306100821
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی
06/09/2026
*حمل ضائع ہوجائے تو عدت کا حکم*
سوال
کیا حمل ضائع ہو جانے سے متوفی عنہا کی عدت پوری ہو جائے گی یا ازسر نو شمار کرنا ہوگی؟ مطلقہ کی عدت کی بھی وضاحت فرما دیں!
جواب
معتدہ کا حمل اگر چار ماہ سے پہلے ضائع ہوجائے تو حمل ضائع ہونے سے اس کی عدت ختم نہیں ہوگی بلکہ اسے اپنی عدت پوری کرنی ہوگی یعنی عدتِ طلاق ہو تو تین ماہواری اور عدتِ وفات ہو تو چار مہینے اور دس دن۔ اور اگر معتدہ کا حمل چار ماہ کے بعد ضائع ہو تو ایسی صورت میں اس کی عدت ختم ہوجائے گی چاہے عدتِ طلاق ہو یا عدتِ وفات۔
فتاوی مفتی محمود میں ہے :
اگر اس بچے کے بچھ اعضاء ظاہر ہوچکے ہیں اور اس کے بعد ساقط کیا گیا پھر تو عدت گزر جاتی ہے ورنہ نہیں۔
(ج۷ / ص۳۷۱)
الدرالمختار مع الشامية، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیره، ، کراچی ۶/ ۴۲۹:
"العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه کالشعر والظفر ونحوهما لایجوز، وإن کان غیر مستبین الخلق یجوز … امرأة مرضعة ظهربها حبل وانقطع لبنها، وتخاف علی ولدها الهلاک، ولیس لأبي هذا الولد سعة حتی یستأجر الظئر یباح لها أن تعالج في استنزال الدم مادام نطفة أو مضغة أو علقة لم یخلق له عضو وخلقه لایستبین إلا بعد مائة وعشرین یوماً أربعون نطفةً وأربعون علقةً وأربعون مضغةً، کذا في خزانة المفتیین، وهکذا في فتاوی قاضي خان". (الهندیة، کتاب الکراهیة، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات وفیه العزل وإسقاط الولد، قدیم زکریا دیوبند ۵/ ۳۵۶، جدید زکریا دیوبند ۵/ ۴۱۱-۴۱۲)
فتویٰ نمبر : 144109200952
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی
*جاز کیش اکاؤنٹ سے کسی کو لوڈ کرنے پر کمپنی کی طرف سے ملنے والی سہولیات کا حکم*
سوال
اگر بندے کا جیز کیش اکاؤنٹ ہے تو اس اکاؤنٹ کے اندر پیسے رکھنے پر کمپنی والے جو پرافٹ دیتے ہیں وہ تو سود کے زمرے میں آتا ہے، لیکن اگر بندہ اپنے جائز کیش اکاؤنٹ سے کسی کو لوڈ کرتا ہے مثلًا پچاس روپیہ لوڈ کرنے پر کمپنی والے کچھ ایم بی اور کچھ ایس ایم ایس اور منٹ وغیرہ دیتے ہیں، ان کو استعمال کرنا کیسا ہے؟
جواب
ہماری معلومات کے مطابق جاز کمپنی اپنے صارف کو مختلف قسم کی سہولیات صرف اس وقت دیتی ہے جب صارف اپنے اکاؤنٹ میں مخصوص رقم جمع کرائے، جس میں صارف کی شرعی حیثیت قرض دینے والے کی ہوتی ہے، جب کہ کمپنی کی شرعی حیثیت مقروض کی ہوتی ہے، لہذا اس رقم کے کسی بھی طرح کے تصرف پر ملنے والی سہولیات کی شرعی حیثیت قرض پر منافع کی ہے جو کہ سود ہے ؛ لہذا مذکورہ کمپنی کی طرف سے ملنے والی کسی بھی قسم کی سہولت سے فائدہ اٹھا نا سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاًحرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن".
(مطلب کل قرض جر نفعا، ج:5، ص:166، ط:ایج ایم سعید)
"اعلاء السنن"میں ہے:
" قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادة أو هدیة فأسلف علی ذلک، إن أخذ الزیادة علی ذلک ربا".
( باب کل قرض جر منفعة، کتاب الحوالة، ج:14، ص:513، ط: إدارة القرآن)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144212200540
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی
*جی پی فنڈ کا حکم*
سوال
میں سرکاری ملازم ہوں، ہم سرکاری ملازمین سے جو جی پی فنڈ کی کٹوتی کی جاتی ہے ہر مہینے ، پھر بعد میں ریٹائرمنٹ کے وقت یہ جی پی فنڈ مثلاً آپ کی اپنی 15 لاکھ جمع ہوگئی ہو، تو حکومتِ پاکستان آپ کو دوگنا 30 لاکھ لگ بھگ دیتے ہیں۔اب آپ ہمیں قرآن و سنت یا شریعت کی روشنی میں یہ رہنمائی فرمائیں کہ یہ جو دوگنا پیسے ہمیں حکومت دے رہی ہے، کیا یہ حلال ہے کہ حرام؟
جواب
سرکاری اور نجی اداروں کی طرف سے ملازمین کے لیے پراویڈنٹ فنڈ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، اور اس فنڈ میں شمولیت کے لیے ملازمین کی تنخواہ میں سے کچھ فیصد کٹوتی کرکے ہر ماہ اس فنڈ میں جمع کرلی جاتی ہے اور ادارہ بھی اس میں اپنی طرف سے اتنی رقم شامل کرتاہے، پھر ان دونوں رقموں کی کہیں تمویل (انویسٹمنٹ) کرتاہے، اور ریٹائرمنٹ کے وقت جمع شدہ رقم اضافہ کے ساتھ ملازم کو دے دیتا ہے، اس کی چند صورتیں ہیں:
پراویڈنٹ فنڈ کی رائج صورتیں:
1۔ بعض ادارے اپنے ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بناتے ہیں اور ملازم کو عدمِ شمولیت کا اختیار نہیں دیتے، ہر ماہ تنخواہ دینے سے پہلے ہی طے شدہ شرح کے مطابق جبری کٹوتی کرلی جاتی ہے اور بقیہ تنخواہ ملازم کو دے دی جاتی ہے۔
2۔ بعض اداروں کی طرف سے ہر ملازم کے لیے اس فنڈ کا حصہ بننا لازمی نہیں ہوتا ، بلکہ ملازمین کو اختیار ہوتاہے کہ اپنی مرضی سے جو ملازم اس فنڈ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے وہ اس فنڈ کا حصہ بن سکتا ہے اور ملازمین کی اجازت سے ہر ماہ طے شدہ شرح کے مطابق ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کرکے مذکورہ فنڈ میں جمع کی جاتی رہتی ہے۔
3۔ بعض ادارے ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ ملازمین کو اختیار دیتے ہیں کہ اگر کوئی ملازم اس فنڈ میں مقررہ شرح سے زیادہ رقم جمع کرانا چاہے تو کرا سکتا ہے؛ اس قسم کی کٹوتی کو جبری و اختیاری کٹوتی کہا جاتا ہے ۔
مذکورہ صورتوں میں ملنے والے اضافے کا حکم:
1۔ پہلی صورت( جبری کٹوتی) کا حکم یہ ہے کہ یہ فنڈ کمپنی کی طرف سے ملازمین کے لیے تبرع و انعام ہوتا ہے اور ملازمین کے لیے یہ لینا شرعاً جائز ہوتا ہے ۔ اس لیے ملازم نے اپنی رضامندی سے رقم جمع نہیں کروائی، ادارہ اس سے جس طرح بھی نفع کمائے ملازم اس کا ذمہ دار نہیں ہوتا، اور قانوناً وشرعاً ابھی تک مذکورہ رقم اس کی ملکیت میں بھی نہیں ہوتی ؛ لہٰذا اس کے لیے اضافی رقم لینا جائز ہوگا۔ البتہ اگر کوئی احتیاطاً یہ رقم استعمال نہ کرے تو یہ تقوے کی بات ہے۔
2۔ دوسری قسم (اختیاری کٹوتی) کا حکم یہ ہے کہ ملازمین نے اپنی تنخواہوں سے جتنی کٹوتی کرائی ہے اور ادارے نے اس میں اپنی طرف سے جتنی رقم جمع کرائی ہے، اتنی ہی جمع شدہ رقم وہ لے سکتے ہیں، ان دونوں رقموں سے زائد رقم لینا شرعاًجائز نہیں ہوتا ؛ کیوں کہ اس صورت میں ملازم اپنے اختیار سے کٹوتی کرواتاہے، گویا وہ اپنی جمع شدہ رقم کو سودی انویسٹمنٹ میں صرف کرنے پر راضی ہوتاہے، لہٰذا یہ اضافہ لینا جائز نہیں ہوگا؛ کیوں کہ سودی معاملے پر رضامندی بھی ناجائز ہے۔
3۔ تیسری صورت ( جبری و اختیاری کٹوتی) کا حکم یہ ہے کہ جتنی کٹوتی جبراً ہوئی ہے اس پر ملنے والی زائد رقم ملازم کے لیے لینا شرعاً جائز ہوتا ہے اور جتنی رقم ملازم نے اپنے اختیار سے کٹوائی ہے اس پر ملنے والی زائد رقم لینا جائز نہیں ہوتا ۔ فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144206200241
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی
*میت کو بوسہ دینا*
سوال
کیا میت کو بوسہ دینا جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اولاد کے لیے اپنے مرحوم ماں باپ کو بوسہ دینا اور چومنا جائز ہے، اس میں کچھ حرج نہیں ہے، کیوں کہ ماں اپنے بچوں کے لیے محرمہ ہے،اوربچوں کو اپنی ماں کو ہاتھ لگانااورچومنا منع نہیں ہے، اسی طرح باپ اپنی بچیوں کے محرم ہیں اور بچیوں کو اپنے باپ کو ہاتھ لگانا منع نہیں ہے ۔اسی طرح ماں باپ کو اپنی اولاد کے ساتھ یہ معاملہ کرنا درست ہے ۔ اسی طرح مرد کے لیے مرد میت کو اور عورت کے لیے عورت میت کو بوسہ دینا جائز ہے۔ البتہ شوہر کے لیے اپنی مردہ بیوی کو ہاتھ لگانا اور بوسہ دینا جائز نہیں ہے۔ والدین اور اولاد کے علاوہ جن محرم رشتوں میں بوسہ دینے کی صورت میں شہوت کا امکان ہو، وہاں بوسہ دینا درست نہیں ہوگا، جہاں شہوت نہ ہو تو اجازت ہوگی، مثلًا: پھوپھی کے لیے مرحوم بھتیجے یا خالہ کے لیے مرحوم بھانجے وغیرہ کا بوسہ لینا۔
میت کو غسل دینے کے بعد محبت اور عقیدت میں میت کو بوسہ دینا جائز ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺنے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیا ، اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺکی وفات پر آپ ﷺ کی پیشانی کا بوسہ لیا ۔
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے:
"ولا بأس بتقبيل الميت" للمحبة والتبرك توديعا خالصة عن محظور .
"ولا بأس بتقبيل الميت" لما روي البخاري عن عائشة رضي الله عنها قالت أقبل أبو بكر على فرسه من مسكنه بالسنح حتى نزل فدخل المسجد فلم يكلم الناس حتى دخل على عائشة فتيمم النبي صلى الله عليه وسلم وهو مسجى ببرد حبرة فكشف عن وجهه ثم أكب عليه فقبله ثم بكى ولم يفعل ذلك إلا قدوة به صلى الله عليه وسلم لما روى أبو داود والترمذي وابن ماجه والحاكم مصححا عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على عثمان بن مظعون وهو ميت فأكب عليه وقبله ثم بكى حتى رأيت الدموع تسيل على وجنتيه وفي التمهيد لما توفي عثمان كشف النبي صلى الله عليه وسلم الثوب عن وجهه وبكى بكاء طويلا وقبل بين عينيه فلما رفع على السرير قال طوبى لك يا عثمان لم تلبسك الدنيا ولم تلبسها اهـ قوله: "والتبرك" الواو بمعنى أو فإن تقبيله صلى الله عليه وسلم عثمان للمحبة وتقبيل أبي بكر الرسول الأكرم صلى الله عليه وسلم لهما معا قوله: "خالصة عن محظور" هذا قيد في الجواز أما إذا كانت لشهوة فحرام ولو زوجة فيما يظهر لقولهم أن النكاح انقطع بموتها لذهاب محله."(1 / 573)
عمدۃ القاری میں ہے:
"ولهذا أنكر الخطابي ومن تبعه وضع الجريد اليابس وكذلك ما يفعله أكثر الناس من وضع ما فيه رطوبة من الرياحين والبقول ونحوهما على القبور ليس بشيء."
(عمدة القاري شرح صحيح البخاري)(5 / 4)
شامی میں ہے:
«ویمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إلیها علی الأصح، وهی لا تمنع من ذلك أی من تغسیل زوجها دخل بها أو لا»․
(شامی، کتاب الجنائز ، ۲/۱۹۸ ، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144206200284
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی
*یک طرفہ عدالتی خلع کی شرعی حیثیت*
سوال
اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے خلع لینے کے لیے کورٹ میں جائے تو کورٹ اس کے خاوند کو نوٹیفکیشن کے ذریعے سے ا سے کورٹ میں بلائے اور وہ کورٹ میں حاضر نا ہو ، تین بار بلانے پر بھی حاضر ناہو، اس کے بعد کورٹ اس عورت کو قانون کی مطابق یہ کہے کہ آپ ابھی آزاد ہو اور آپ کہیں اور شادی کر سکتی ہو ، کیا اس صورت میں عورت کہیں اور نکاح کرسکتی ہے؟
جواب
عدالت نے عورت کو کیا فیصلہ دیا اور کس بنیاد پر دیا ہے اس کی دستاویز دیکھے بغیر حتمی حکم بیان نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا دار الافتاء میں عدالتی دستاویزات مع اردو ترجمہ کے بھیج کر جواب معلوم کرلیا جائے، یا درج ذیل ای میل ایڈریس پر عدالتی دستاویز اصل مع اردو ترجمہ ارسال کردیجیے:
ای میل ایڈریس : [email protected]
اصولی جواب یہ ہے کہ:
خلع مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے جانبین ( عاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین ( میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، لہذا خلع کے لیے شوہر کی رضامندی اور اجازت ضروری ہے، نیز طلاق دینا بھی شوہر کا حق ہے، اگر شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر بیوی عدالت سے خلع یا طلاق لے لے اور عدالت اس کے حق میں یک طرفہ خلع کی ڈگری جاری کردے تو شرعاً ایسا خلع معتبر نہیں ہوتا، اس سے نکاح ختم نہیں ہوتا، اور ایسی صورت میں عورت کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔
البتہ بعض مخصوص حالات میں قاضی شرعی کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر بھی میاں بیوی میں تفریق کرسکتا ہے، اس لیے کہ نکاح کے بعض حقوق ایسے ہوتے ہیں جو نکاح کے مصالح اور مقاصد میں سے ہیں اور قضاءً اس کی ادائیگی شوہر پر لازم ہوتی ہے، اگر شوہر ان کی ادائیگی نہ کرے تو بزورِ عدالت انہیں وصول کیا جاسکتا ہے، مثلاً بیوی کا نان ونفقہ اور حقوق زوجیت ادا کرنا وغیرہ، اگر شوہر ان کی ادائیگی سے عاجز ہوتو عورت کو طلاق دے دے، ایسی صورت میں اگر وہ طلاق دینے سے انکار کرتا ہے یا شوہر طلاق دینے کے قابل نہیں ہے تو شرائط پوری ہونے کی صورت میں قاضی اس کا قائم مقام بن کر میاں بیوی میں تفریق کرسکتا ہے۔
لہذا اگر شوہر اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں لاتا اور اپنا گھر بسانے پر تیار نہیں ہوتا، نان ونفقہ دینے پر راضی نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں مذکورہ عورت کو چاہیے کہ خاندان کے معزز لوگوں کے سامنے یا محلے کی پنچایت کے سامنے اس معاملہ کو رکھے، اور ان کے تعاون سے اس مسئلہ کا حل نکالا جائے، اور اگر شوہر پھر بھی اپنی ضد پر اڑا رہے، اور اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں لائے تو عورت اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرکے کسی طرح طلاق حاصل کرلے، اور اگر وہ طلاق دینے پر رضامند نہ ہو تو باہمی رضامندی سے خلع کا معاملہ کرے، اور خلع میں شوہر کے لیے بدلِ خلع یعنی خلع کے عوض مال لینا جائز نہ ہوگا، تاہم لینے کے باوجود خلع ہوجائے گا اور نکاح ختم ہوجائے گا۔
لیکن اگر شوہر نہ طلاق دے اور نہ ہی خلع دینے پر رضامند ہو اور بیوی کے ساتھ نباہ پر اور اس کو نان ونفقہ دینے پر بھی تیار نہ ہو تو سخت مجبوری کی حالت میں عدالت سے تنسیخِ نکاح کرایا جاسکتا ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ مسلمان جج کے سامنے پیش کرے، اور متعلقہ جج شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ معاملہ کی پوری تحقیق کرے، اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہوجائے کہ اس کا شوہر باوجود وسعت کے خرچہ نہیں دیتا تو اس کے شوہر سے کہا جائے کہ عورت کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو ، ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی یا شرعاً جو اس کے قائم مقام ہو عورت پر طلاق واقع کردے۔
(ماخوذ از حیلہ ناجزہ، ص؛73،74/ ط؛ دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 200114
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی
Category
Website
Address
Karachi