Sad Urdu Poetry
supporting truth PTI
13/04/2020
https://m.youtube.com/watch?v=Ii5S6tiWYz4
coronavirus ki haqiqat kya hai | reality of Corona virus coronavirus ki haqiqat kya hai Chanel ko subscribe kare More Video of islamic urdu hindi animal anfect https://m.youtube.com/watc...
09/01/2020
My youtube channel....plzzzz subscribe
I Killed Soul mortel || is it fake or real?||PUBG Mobile montage #3 || Redminote8pro ||5 finger claw enjoy the video ignore the tags
28/09/2018
تھوڑا ہنس بھی لیں😂🤭
ایک بیروزگار نوجوان چڑیا گھر نوکری کی تلاش میں گیا۔ انچارج نے پہلے تو نہ کر دی مگر پھر اسکی حالت زار دیکھتے ہوئے اسکو بندر کی نوکری کی آفر لگا دی۔
ھمارا بندر مر گیا ہے اگر تم اسکی جگہ کام کرنا چاہو تو میرے پاس یہی ایک ویکنسی خالی ہے
۔
نوجوان۔۔ بندر کی نوکری؟
ھاں ۔۔
نوجوان۔ مگر میں؟ ۔میں سمجھا نہیں
یہ کی ھے نا عقل کی بات۔ انچارج گویا ھوا ۔
۔
کل آ جانا سمجھا دوں گا
۔
۔مجبور جوان دوسرے دن حاضر ہو گیا۔
۔یہ لو کھال۔۔ پہن لو۔۔
پنجرے میں بیٹھ جاو۔۔ اور ھاں تھوڑی تھوڑی دیر بعد ادھر ادھر چل پھر لینا ۔ بچے آئیں تو ایک آدھ قلابازی بھی لگا لینا۔
۔
خیر وقت گزرنے لگا۔ جوان تنگ تو تھا مگر گھر میں روٹی ملنے سے اسکا دل لگا رہا۔
ایک دن بہت سے بچے آ گئے اور خوب چہل پہل ھو گئی۔ بچے اسکی حرکتوں سے خوش ہو کر مٹھائی پھل چپس اور ۔۔۔۔ پیسے تک پھینکنے لگے۔۔۔
مزید پیسوں کے لالچ میں جوان نے مزید اور لمبی لمبی چھلانگیں لگانا شروع کر دیا۔ ایک چھلانگ کچھ زیادہ لمبی ھو گئی اور وہ اچھل کر ساتھ والے پنجرے میں جا گرا۔
دیکھتا کیا ھے کہ یہ پنجرہ شیر کا ھے ۔خوف سے اسکی چیخ نکلتے نکلتے رکی۔ اور گھگھی بندھ گئی۔ شیر آرام سے اٹھا اور سکون سے چلتے چلتے اسکے قریب آیا ۔۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور سمجھ لیا کہ آج بس ھو گئی۔ شیر نے اسکو سونگھنے کی ایکٹنگ کرتے ھوئے منہ اسکے کان کے قریب لایا اور سرگوشی میں کہا۔۔
۔
۔ بے غیرتا۔۔۔ اپنی نوکری دے نال میری نوکری دے وی پچھے پیئاں ایں۔۔
۔۔
۔پٹھی چھال مار تے واپس دفع ھو اپنے پنجرے وچ۔😂😂
کراچی: تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عمران علی شاہ کی جانب سے شہری پرتشدد سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عزت کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا، عمران شاہ کو بھی سرعام اسی طرح 4 تھپٹرمارے جائیں گے۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں عمران علی شاہ تشدد از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس نے عمران شاہ کی سرزنش کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ نے کیا سوچ کر شہری کو تھیٹر مارا، کوئی جانور کو بھی اس طرح نہیں مارتا، یہ ناقابل معافی جرم ہے، ہم نہیں چھوڑیں گے، آپ عوام کے نمائندے ہیں تواس طرح تشدد کریں گے، میں باہرآتا ہوں، مجھے مارکردکھائیں۔ جس پرعمران علی شاہ نے اظہارندامت کرتے ہوئے کہا کہ سوری سر، میں شرمندہ ہوں۔
چیف جسٹس نے عمران شاہ سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ کیا سوری، میں نے بچپن میں ملازم کوبیلٹ سے مارا تھا، میرے والد نے بھی مجھے دو بارسبق سکھانے کے لیے مارا تھا۔
چیف جسٹس نے تشدد کا نشانہ بننے والے داؤد چوہان سے استفسار کیا کہ عزت کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا، آپ معاوضہ لے کربیٹھ گئے، آپ نے کیوں معاف کیا، جس پرداؤد چوہان نے کہا کہ نامزد گورنر میرے گھر پر چل کر آئے۔
چیف جسٹس نے عمران شاہ سے استفسار کیا کہ آپ نے کتنے تھپٹر مارے تھے، عمران شاہ نے بتایا کہ 4 تھپٹر مارے تھے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو بھی سرعام اسی طرح 4 تھپٹر مارے جائیں گے۔
29/08/2018
share
29/08/2018
محسن پاکستان، وطن کے ایک اہم سپوت سپاہی مقبول حسین اب ہم میں نہیں رہے۔ ا :: إن لله وإن إليه راجعون ::
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
ﺳﺘﻤﺒﺮ 2005 ﺀ ﮐﻮ ﻭﺍﮨﮕﮧ ﺑﺎﺭﮈﺭ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﺣﮑﺎﻡ ﻧﮯ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﭖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺣﮑﺎﻡ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﯿﺎ - ﺍﺱ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﮐﮯ ﻗﯿﺪﯼ ﺗﮭﮯ - ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﭩﮭﮍﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﮭﮯ - ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﭨﮫ ﭘﯿﻨﺴﭩﮫ ﺳﺎﻟﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﺎ - ﺟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﭩﮭﮍﯼ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ -
ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻤﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﮭﺎﻝ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ - ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﺎﻥ ﻣﮍﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ -ﺧﻮﺩﺭﻭ ﺟﮭﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮﮐﮯ ﺑﮯ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺑﺎﻝ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻃﻮﯾﻞ ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﺍﻥ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﯿﻞ ﯾﺎ ﮐﻨﮕﮭﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ - ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮫ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻗﯿﺪﯼ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮐﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﻗﯿﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﺑﮍﯼ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﯽ ﭼﻤﮏ ﺗﮭﯽ - ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺣﮑﺎﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ - ﺳﺎﺭﮮ ﻗﯿﺪﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ - ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﻗﯿﺪﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ - ﮐﺎﻧﭙﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﮦ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻟﮑﮫ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﺳﺎﺋﻞ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ - ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ 2005 ﺀ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺷﺨﺺ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺁﺭﻣﯽ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺭﺟﻤﻨﭧ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺩﻋﻮﯼ - ﮐﺮﺩﯾﺎ - ﺍﺱ ﺩﻋﻮﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﺶ ﻧﻈﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺭﺟﻤﻨﭧ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ - ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﺷﺨﺺ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺁﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻓﻮﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﻮ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ
” ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﻤﺒﺮ 335139 ﮈﯾﻮﭨﯽ ﭘﺮ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﮯ “ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﻮ ﮐﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻻﻏﺮ ، ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﺣﻮﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﮮ ﻧﮯ ﭼﮑﺮﺍ ﮐﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ - ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻓﻮﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ - ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻗﯿﺪﯼ ﮐﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺒﺮ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺟﺐ ﻓﻮﺟﯽ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﮐﯽ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﻓﺎﺋﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﺩ ﺟﮭﺎﮌﯼ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﮐﮯ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻝ ﮨﻼ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺏ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ، ﻓﯿﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﺎﺭﺯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻻﻏﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ - ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﮭﺎ 65- ﺀ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯿﭙﭩﻦ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮈﭘﻮ ﮐﻮ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﺷﻤﻦ ﺳﮯ ﺟﮭﮍﭖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ - ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺸﺖ ﭘﺮ ﻭﺍﺋﺮﻟﯿﺲ ﺳﯿﭧ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺭﺳﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﮐﮯ ﺳﺎﺗ