Umme hasan
Self-improvement motivation . . and personal growth
05/02/2026
ایک منفی سوچ
ساری مثبت سوچوں کو
خاک میں ملا سکتی ہے۔
*اس لیے اپنے خیالوں کی حفاظت کرے۔ 🌿✨*
* *
05/02/2026
آج کی بات 📝
انسان جس قدر اللہ کی نعمتوں پر غور کرتا ہے، اسی قدر اس کا دل اپنے گناہوں پر چُور چُور ہو جاتا ہے!
31/01/2026
تم سے کُھلا بابِ جُود، تم سے ہے سب کا وُجُود
تم سے ہے سب کی بَقا، تم پہ کروڑوں درود 🌹
ہم دین کے محتاج
اللّٰہ اور اس کے رسول ،ان کا دین ہمارے محتاج نہیں بلکہ ہم ان کے محتاج ہیں،دین کی خدمت اگر ہم نہ کریں گے تو کوئی اور قوم اس کے لئے پیدا کردی جائے گی،سرداران قریش نے خدمت دین سے انکار کیا تو مدینہ منورہ کے مساکین غرباء سے خدمت لی گئی،ہمیشہ اپنے آپ کو اللہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور دین کا محتاج سمجھو۔
(تفسیر نعیمی 556/5)
اگر عورتوں کو لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے مرد برے ہیں، تو انھیں چاہیے کہ وہ بطورِ ماں اپنے بیٹوں کی اچھی تربیت کریں،
اور اگر مردوں کو لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے کی عورتیں بری ہیں، تو انھیں چاہیے کہ وہ بطورِ باپ اپنی بیٹیوں کی اچھی تربیت کریں
*جب تک آپ کے ہاتھ سے خیر نکل رہا ہے*
*آپ پر زوال نہیں آ سکتا!*
*خیر کا مطلب:*
ایک پلیٹ کھانا، کچھ پیسے اُدھار، اچھا مشورہ، دلاسہ دینا،
خوشی میں بلا حسد مبارکباد اور وہ چھوٹی چھوٹی باتیں
جن سے خوشیاں بانٹی جائیں۔
جمعہ مبارک
29/01/2026
محبت کی بہترین شکل، شکرگزاری
(قاسم علی شاہ)
ہال کی سیڑھیوں پر ایک نابینا لڑکا بیٹھا تھا۔ اس نے ٹانگوں کے درمیان اپنا ہیٹ رکھ اہوا تھا اور قریب ایک چھوٹے سے بورڈ پرلکھ کہ لگایا تھا،’’میں بصارت سے محروم ہوں۔‘‘لوگ اس کی معذوری پر ترس کھا کر اس کے ہیٹ میں سکے ڈال رہے تھے۔ کچھ فاصلے پر کھڑا ایک شخص یہ منظر دیکھ رہا تھا، وہ نابینا لڑکے کے قریب آیا اور اس کے بورڈ پر ایک کاغذ چسپاں کرکے چلا گیا۔ کچھ ہی دیر گزری، لڑکے کو محسوس ہواکہ اب ہیٹ میں رقم زیادہ آرہی ہے اور تقریباً ہر گزرنے والا شخص اس کے ہیٹ میں سکے ڈال رہا ہے۔ اسے بڑی حیرت ہوئی۔ شام کے قریب وہ شخص دوبارہ لڑکے کے پاس گیا، لڑکے نے قدموں کی چاپ سے اسے پہچان لیا اور ا س سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیا کیا جس کی وجہ سے ہر شخص مجھے پیسے دینے لگا، آدمی کہنے لگا، ’’میں نے تمھاری تحریر کے اوپر اپنا جملہ لگایا۔ میں نے لکھا کہ آج کا دن کس قدر خوب صورت ہے لیکن میں اسے دیکھ نہیں سکتا۔‘‘یہ جملہ لوگوں کے دل پر لگا اور انھیں اپنی بصارت والی نعمت کا احساس ہوا، شکرگزاری کے طورپر وہ تمھارے ہیٹ میں زیادہ رقم ڈالنے لگے۔
ہمیں اللہ تعالیٰ روز بے شمار نعمتوں سے نوازتا ہے لیکن ہم میں سے اکثر لوگ اسے محسوس نہیں کرتے، البتہ جب ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں توپھر راحت کی قدر آتی ہے۔شکرگزاری انسانی کیفیات کی بہترین حالت ہے۔یہ اس بات کا اظہار ہے کہ دنیا میں اچھی چیزیں موجود ہیں جو ہماری زندگی کو خوش گوار بنارہی ہیں۔یہ اس چیز کا بھی اظہار ہے کہ ایک ذات پاک ایسی ہے جو ہماری طرف مختلف طرح کے تحائف بھیج رہی ہے اوران کی بدولت ہمیں خوشی، سکون اور اطمینان مل رہا ہے۔ شکرگزاری ایسی صفت ہے جس کے ذریعے رب کی رضاحاصل کی جاسکتی ہے اور جب وہ راضی ہوجائے تواپنے شکرگزار بندے کی طرف مزید نعمتیں بھیجناشروع کردیتاہے کیوں کہ اس کا وعدہ ہے کہ ’’اگر تم شکر کروگے تو میں تمھیں اور دوں گا۔‘‘(سورۃ ابراہیم، آیت نمبر:7)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ
’’جو انسان شکر گزاری اپناتاہے ا س کی نعمتیں کبھی کم نہیں ہوتیں۔‘‘
نک وائے چچ کہتاہے کہ
’’میں نے کسی شکرگزار کو پریشان نہیں دیکھا اور کسی پریشان کو شکرگزار نہیں دیکھا۔‘‘
رائے ٹی بینیٹ کہتاہے کہ
’’عظیم چیزیں ان لوگوں کی طرف بڑھتی ہیں جو یقین کرنا، کوشش کرنا، سیکھنا اور شکر گزارہونا نہیں چھوڑتے۔‘‘
محبت کی بہترین شکل ’’شکرگزاری‘‘ہے۔اس میں آپ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ میرے محبوب نے مجھ پر احسان کیا ہے اور میں اس احسان کو دل و جان سے تسلیم کرتاہوں۔جب آپ محبت کے بھرپور مظاہرے کے ساتھ کوئی عمل کرتے ہیں تو اسے شکرگزاری کہاجاتاہے جو کہ قانون کشش(Law of Attraction) کو فعال(Active) بناتی ہے اوراس کی بدولت انسان کی زندگی نعمتوں سے بھر جاتی ہے۔ہم یہ بات بتاچکے ہیں کہ ہر چیز ایک مخصوص فریکوئنسی پر کام کرتی ہے اورجب دوچیزوں کی فریکوئنسی ایک ہوجاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی جانب بڑھنا شروع ہوجاتی ہیں۔آپ زندگی میں کوئی چیز شامل کرناچاہتے ہیں تو اس کے لیے اپنے اندرارتعاش (طلب)پیداکرنا ضروری ہے اور اس کی اعلیٰ ترین صورت شکر گزاری ہے۔جب ہم شکرگزار ی کامظاہرہ کرتے ہیں تو کائنات میں انتہائی مثبت اورطاقت ور لہریں بھیجتے ہیںجس کی بدولت مزید شان دارچیزوں کو اپنی زندگی میں لے آتے ہیں۔
ہماری زندگی کے ایک ایک سیکنڈ کو اللہ کی بے شمار نعمتوں نے گھیراہوا ہے۔اللہ کی رحمت ہمارے ساتھ ہے جو ہر ہر قدم پر ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرتی ہیں۔رات اپنے پر پھیلاتی ہے تو ہم پر نیند طاری ہونے لگتی ہے جو دنیا کی عظیم نعمت ہے۔یہ نیند جہاں ہماری تھکاوٹ دورکرتی ہے وہیں ہمیں ذہنی او ر جسمانی طورپرہشاش بشاش بھی کردیتی ہے اور جب اگلے دن ہم اٹھتے ہیں تو بہت کم لوگوں کو اس بات کا احساس ہوتاہے کہ رات ہم نے موت کی طرح بسر کی ہے اور اب اللہ نے نئی زندگی عطاکردی ہے۔اس کے علاوہ کھانے پینے، بیوی بچوں او ر پرسکون گھر کی صورت میں بھی اللہ نے ہم پر ہماری حیثیت سے بڑھ کر کرم کیاہے لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ شکرگزاری کے جذبے سے سرشار ہیں اور دل سے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں۔
ہماراالمیہ یہ ہے کہ اکثرلوگ شکرگزارہیں لیکن صرف الفاظ کی حد تک۔حال آنکہ شکرگزاری میں الفاظ کاکردار صرف ایک فی صدہے، 99فی صد کردار احساس کا ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ شکرگزاری کامظاہرہ تو کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود انھیں نتائج نہیں ملتے،کیوں کہ ان کادل شکر گزاری سے خالی ہوتاہے۔ایسے لوگ جب حالات کا روناروتے ہیں اور کوئی شخص ان کی اصلاح کرتے ہوئے کہتاہے کہ آپ دل سے شکرگزار بنیں تو وہ اپنی یہ خامی تسلیم نہیں کرتے۔ کیوں کہ ان کا نفس انھیں یہ یقین دلاتاہے کہ تمھارے اندرکوئی خامی نہیں ہے۔نفس انتہائی چال باز ہے۔ایک صوفی کا قول ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان فاصلے کی پیمائش اگرگزسے کی جائے توجتنے گز بنیں گے،نفس کی چالاکیاں ان سے زیادہ ہیں۔
نفس کاسب سے خطرناک وار’انا‘ ہے۔اناکی قید میں مبتلاانسان کو صرف اپنی ذات نظرآتی ہے۔وہ خود کو بلند اور دوسروں کو حقیر سمجھتاہے۔وہ سمجھتاہے کہ میرابولاہوا، لکھاہوا اور سمجھاہواہر لفظ ٹھیک ہے، اس میں غلطی کی گنجائش نہیں۔انا،شکرگزاری کی ضد ہے۔اناپرست انسان دوسروں کی محنت پر اپنانام چپکاتاہے جب کہ شکرگزار بندہ خود سے زیادہ دوسروں کو اعزاز دیتاہے۔اس کی بہترین مثال الحمدللہ کہنا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ میرا کوئی کمال نہیں، تمام تعریفیں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ یادرکھیں قانون کشش استعمال کرنے کا بنیادی فارمولا’’شکرگزاری‘‘ہے اور ’انا‘ اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ہر وہ شخص جو اناکی قید میں ہے وہ کبھی بھی اس قانون سے مستفید نہیں ہوسکتا۔
لیکن ہم کس چیز کے لیے شکرگزار بنیں؟
اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آتاہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ صبح و شام وہ جو خبریں سنتے ہیں ان سے ظاہرہوتاہے کہ معاشرے میں اچھائی ہے ہی نہیں۔بجلی، گیس کے بل، آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی اورلوگوں کے منفی رویے انھیں دل برداشتہ کردیتے ہیں۔ان کے حوصلے جواب دے جاتے ہیں اوروہ ہروقت مایوس، پریشان اورشکایت سے بھرپور نظر آتے ہیں۔
یہ بات سچ ہے کہ ہم میں سے اکثرلوگوں کی زندگی ایسی ہے اور ہمیں روزایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتاہے لیکن سوال یہ ہے کہ صرف یہی مکمل زندگی ہے؟
نہیں!!
آپ اگر صبح سلامتی کے ساتھ اٹھتے ہیں، آپ کے جسمانی نظام بہترین انداز میں کام کرتاہے، آپ کی آنکھیں درست ہیںجن کی بدولت طلوع ہوتے سورج کو دیکھ سکتے ہیں، آپ کے پاس بچوں کی صورت میں خدا کی ایک بڑی نعمت موجود ہے جوآپ سے پیار کرتے ہیں اور آپ کی گھر واپسی کے منتظرہوتے ہیں۔آپ برسرروزگار ہیں اور تھوڑابہت ہی سہی، لیکن کمارہے ہیں اور اس کمائی سے دووقت کاکھانا، سرچھپانے کے لیے چھت اور جسم چھپانے کے لیے لباس موجود ہے توکیا یہ نعمتیں کم ہیں؟
لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو رات کو سوتے ہیں لیکن صبح کی روشنی نہیں دیکھ پاتے۔ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو کچرے سے اپنے لیے خوراک اٹھاتے ہیں، جن کے پاس سرچھپانے کے لیے کوئی چھت نہیں اور وہ سردی کی یخ بستہ راتیں فٹ پاتھ پر گزارتے ہیں۔کروڑوں لوگ ہاتھ پائوں سے معذور اور دیکھنے،سننے سے محروم ہیں اور ان کی زندگی کی سب سے بڑی تمنا یہی ہے کہ کاش ہم ایک بار اپنی آنکھوں سے یہ کائنات دیکھنے کے قابل ہوجائیں۔
کچھ عرصہ پہلے بھارت کے سب سے امیرترین آدمی مکیش امبانی کے بیٹے اننت امبانی کی قبل ازشادی کی تقریب تھی جس میں دنیا بھر سے معروف شخصیات کو بلایا گیا تھا اوراربوں روپے لگاکرپورے شہر کوسجایاگیاتھا۔اس کے بیٹے نے ہزاروں مہمانوں کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ میری زندگی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں سے بھری ہے۔بیٹے کے ان الفاظ پر باپ کا چہرہ آنسوئوں سے ترتھا۔اننت امبانی ایسی بیماری کاشکا رہے جس میں جسم کا وزن بے تحاشا بڑھ جاتاہے۔اس کے ساتھ وہ دمے کے ماریض بھی ہے اور اس کا باپ ایشیا کا امیرترین آدمی ہوکر بھی اپنے بیٹے کو صحت مند زندگی نہیں دے سکتا۔
مجھے اور آپ کو اللہ نے بہترین صحت سے نوازا ہے تواس لحاظ سے ہم مکیش امبانی سے زیادہ امیر ہیں۔صحت کے علاوہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں موجو دہیں توکیا ہمیں ان کے لیے شکرگزار نہیں ہوناچاہیے؟بالکل ہوناچاہیے کیوں کہ شکرگزاری اپنانے سے ’’قانون کشش‘‘کام کرنا شروع کردیتاہے اورہماری زندگی میں فراوانی آجاتی ہے۔ اس کے برعکس ناشکرے انسان کی زندگی سے نعمتوں کے ساتھ ساتھ برکت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ناشکراپن نہ صرف دنیاوی زندگی کاعذاب ہے بلکہ یہ آخرت میں اللہ کے فضل سے محرومی کا باعث بھی ہے۔
ایک بڑی عمارت زیر تعمیرتھی۔تیسری منزل پرسپروائز رکھڑاتھا۔اسے نیچے کام کرنے والے مزدور سے بات کرنی تھی۔اس نے متوجہ کرنے کے لیے دس روپے کا نوٹ پھینکا، مزدور نے اسے اٹھالیالیکن دیکھا نہیں کہ کس نے پھینکا ہے۔کچھ دیر بعد سپروائزر نے پچاس کا نوٹ پھینکا، مزدور نے وہ بھی اٹھالیا اور دوبارہ میں کام میں لگ گیا۔سپروائزرنے تنگ آکر ایک کنکر اٹھایا اور مزورکومارا جو اس کے سرپرلگااور تب اس نے اوپر کی طرف دیکھا۔
ہمارے ساتھ بھی اکثرایسا ہوتاہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں روز طرح طرح کی نعمتیں دیتاہے جو ہم اپنا حق سمجھ کر اٹھاتے رہتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اس کاشکر بھی اداکیاجائے، لیکن جب سر پر مصیبت آپڑتی ہے تو پھر ہم اوپردیکھتے ہیں اور اس سے التجاشروع کرتے ہیں کہ ہم سے یہ مصیبت ہٹالے۔قرآن کریم میں اس بات کی طرف یوں اشارہ کیا گیا ہے:
’’پھر جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقادسے اللہ ہی کو پکارتے ہیں، پھر جب انھیں نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتاہے تو فوراً ہی شرک(نافرمانی) کرنے لگتے ہیں۔(سورۃ عنکبوت،آیت نمبر:65)
رب کے ساتھ ساتھ ہمیں انسانوں کابھی شکرگزار بنناچاہیے۔کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ
’’جولوگوں کا شکریہ ادانہ کرے وہ اللہ کا شکریہ ادانہیں کرے گا۔‘‘(سنن الترمذی، حدیث نمبر:1954)
مجھے جب اللہ نے اپنے شعبے میں کام یابی دی تو اس کے بعد میں نے اپنے تمام اساتذہ کوڈھونڈااور ایک ایک کا شکریہ ادا کیا۔میں نے ٹی وی پر بیٹھ کر ان کے نام لیے اوریہ تسلیم کیا کہ میری کام یابی ان شخصیات کی مرہون منت ہے۔ایک دفعہ میرے ایک استاد نے کہا کہ تم یہ بھی تو کرسکتے تھے کہ ہم سے رابطہ نہ کرتے اور نہ ہی کبھی ہمارا نام لیتے!! میں نے کہا:’’سر،اللہ کومعلوم ہے کہ آپ میرے استاد ہیں او ر آپ کی بدولت میں اس مقام تک پہنچاہوں۔‘‘
جب کسی انسان کے احسان کا علم صرف آپ کو اور خدا کو ہو تو پھر اس انسان کے پاس جاکر اس کا شکریہ ضرور ادا کیجیے۔
شکرگزار بن جائیے، مان لیجیے کہ اس زندگی پر ہمارا کوئی حق نہیں تھا، یہ اللہ نے ہم پر محض اپنا کرم کیا ہے۔ ہمارے جسم میں مصروف عمل خلیے، رگیں اور حیرت انگیز نظام، یہ سب اسی کی رحمت ہے جومسلسل ہم پر برس رہی ہے۔ چنانچہ اب ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ ہم شکر گزار بن جائیں اور ناشکری والا رویہ چھوڑدیں۔
29/01/2026
یا الہی!
ہر لمحہ، ہر مقام، تیری رحمت اور عنایت کا نور ہمارے ساتھ ہو۔
29/01/2026
ہم وہ خوش قسمت ہیں ان کی یاد میں رونا ملا۔
اور صلہ میں آنکھ کو دیدار کا ہونا ملا۔
قبر ایسی ، خلد کا جیسے کوئی کونا ملا۔
خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا مِلا
جان کی اِکسیر ہے اُلفت رسول اللہ کی
ایک انتقال کے بعد زمین آپ کے نام ہوتی ہے اور ایک انتقال کے بعد آپ زمین کے نام ہوتے ہیں
بس یہ انسان کی حقیقت ہے.
25/01/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.