Shiekh Nimat Ullah Sarwar Sahib

Shiekh Nimat Ullah Sarwar Sahib

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Shiekh Nimat Ullah Sarwar Sahib, Health/Beauty, karak, Karak.

26/09/2026

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الحمدُ للهِ ربِّ العالمين، والصلاةُ والسلامُ على سيدِ الأنبياءِ والمرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين.

((( بدانا الامتحان النصفِ سنوية ))))

بحمدِ اللهِ وتوفيقِه، بدأ اليومَ الامتحانُ النصفُ سنوي في جامعة دار العلوم الرحيمية، رحيم آباد، ألگڈی، كَرَك.

وهي أيامٌ مباركةٌ يقف فيها الطلابُ مع حصيلةِ ما تلقَّوه من العلمِ

خلال الفترةِ الماضية، فيبذلونَ وسعَهم في المذاكرةِ والمراجعةِ،

مستعينينَ باللهِ تعالى، سائلينَه التوفيقَ والسدادَ والنجاح.

نسألُ اللهَ تعالى أن يوفِّقَ جميعَ طلابِ الجامعة، وأن يفتحَ عليهم

أبوابَ العلمِ والفهمِ والحفظ، وأن يباركَ في جهودِ أساتذتِهم

ومعلِّميهم، وأن يجعلَ هذا العلمَ نافعًا مباركًا، وأن ينفعَ بهم الإسلامَ والمسلمين.

اللهم وفِّق طلابَنا، ويسِّر أمورَهم، واشرح صدورَهم، وزدهم علمًا

وفهمًا، وارزقهم الإخلاصَ والنجاحَ في الدنيا والآخرة. آمين يا ربَّ العالمين.

العلمُ أمانة، والامتحانُ محطةٌ للمراجعةِ والمحاسبةِ وبذلِ الجهد.

26/09/2026

عالمِ دین کی سوچ کتنی وسیع ہونی چاہیے؟

ہم علماء سے محبت بھی کرتے ہیں، ان کا احترام بھی کرتے ہیں، ان سے دین سیکھتے بھی ہیں؛ لیکن ایک اہم سوال ہے کہ کیا عالمِ دین کی ذمہ داری صرف مسجد کی چار دیواری اور مدرسے کی حدود تک ہے؟

یقیناً نہیں.

عالم صرف مسجد کا امام نہیں، وہ امت کا رہنما، معاشرے کا مربی، نسلوں کا معلم اور حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرنے والا چراغ ہے۔ مسجد اس کا مرکز ضرور ہے، مگر اس کی فکر کا دائرہ مسجد کی چار دیواری سے کہیں زیادہ وسیع ہونا چاہیے۔

اگر عالم کی سوچ صرف یہ ہو کہ مسجد میں نماز پڑھانی ہے، مدرسے میں سبق پڑھانا ہے، چند کتابیں پڑھانی ہیں اور پھر اپنی ذمہ داری ختم سمجھ لینی ہے، تو یہ علم کے حقیقی مقصد کو محدود کر دینا ہے۔

عالم کا تعلق صرف نمازیوں سے نہیں، پوری انسانیت سے ہے۔

اسے نوجوان کی پریشانی بھی نظر آنی چاہیے،
اسے بچوں کی تربیت کی فکر بھی ہونی چاہیے،
اسے خاندانوں کے بکھرنے کا درد بھی ہونا چاہیے،
اسے معاشرے میں پھیلتی برائیوں کا احساس بھی ہونا چاہیے،
اسے جہالت، بے دینی، اخلاقی زوال، تعلیمی کمزوری اور فکری انتشار کا ادراک بھی ہونا چاہیے۔

عالم کی نظر صرف اپنے مدرسے کے طلبہ تک نہ ہو، بلکہ پورے معاشرے کے طلبہ، نوجوانوں، والدین، تاجروں، مزدوروں، اساتذہ اور عام مسلمانوں تک پہنچنی چاہیے۔

آج دنیا بدل رہی ہے۔ معلومات کے ذرائع بدل گئے ہیں، نوجوانوں کے سوالات بدل گئے ہیں، معاشرتی مسائل کی نوعیت بدل گئی ہے۔ ایسے دور میں عالمِ دین کو اپنے علم کے ساتھ حکمت، بصیرت، زمانے کی سمجھ اور وسیع النظری بھی پیدا کرنی چاہیے۔

قرآن ہمیں دعوت دیتا ہے:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا﴾

نبی کریم ﷺ کی تعلیم کسی ایک مسجد، ایک بستی یا ایک طبقے تک محدود نہیں تھی۔ آپ ﷺ کی دعوت انسانیت کے لیے تھی۔ آپ ﷺ نے مسجد میں بھی تربیت فرمائی، بازار کے مسائل بھی حل کیے، خاندانوں کی اصلاح بھی کی، نوجوانوں کی رہنمائی بھی کی اور معاشرے کی تعمیر بھی فرمائی۔

اسی لیے عالمِ دین کو مسجد کا امام ہونے کے ساتھ معاشرے کا رہبر بھی بننا چاہیے۔

اس کا مطالعہ وسیع ہو،
اس کی نظر گہری ہو،
اس کا دل امت کے درد سے بھرا ہو،
اس کی زبان حکمت والی ہو،
اس کی مجلس اصلاح کا ذریعہ ہو،
اور اس کی زندگی علم، عمل اور دعوت کا نمونہ ہو۔

ہمیں ایسے علماء کی ضرورت ہے جو صرف یہ نہ سوچیں کہ:

"میرے مدرسے میں کتنے طلبہ ہیں؟"

بلکہ یہ بھی سوچیں:

"میرے علاقے کے کتنے نوجوان دین سے جڑے ہوئے ہیں؟"

صرف یہ نہ دیکھیں کہ مسجد میں کتنے نمازی آتے ہیں، بلکہ یہ بھی سوچیں:

"جو لوگ مسجد سے دور ہیں، انہیں اللہ کے گھر تک کیسے لایا جائے؟"

صرف کتاب پڑھانے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ یہ بھی سوچیں:

"اس کتاب کا پیغام معاشرے کی زندگی میں کیسے آئے؟"

عالم کی فکر اپنے گھر سے شروع ہو، اپنے مدرسے تک پہنچے، مسجد تک پھیلے، محلے تک جائے، شہر تک پہنچے، ملک تک وسیع ہو اور پھر پوری امتِ مسلمہ کے درد کو اپنے دل میں جگہ دے۔

یہ وسیع سوچ ہی عالم کو حقیقی معنوں میں وارثِ انبیاء بناتی ہے۔

البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عالم اپنی بنیادی ذمہ داریاں چھوڑ دے۔ مسجد، مدرسہ، تعلیم اور عبادت اس کی بنیاد ہیں؛ بلکہ انہی بنیادوں پر کھڑے ہو کر اسے معاشرے کی اصلاح اور امت کی رہنمائی کرنی چاہیے۔

مسجد اس کا مرکز ہو، مگر اس کی فکر پوری دنیا ہو۔
مدرسہ اس کی تربیت گاہ ہو، مگر اس کا مقصد پوری امت کی اصلاح ہو۔
کتاب اس کے ہاتھ میں ہو، مگر امت کا درد اس کے دل میں ہو۔

آج ہمیں ایسے علماء کی ضرورت ہے جو صرف سوال کا جواب نہ دیں بلکہ سوال پیدا ہونے سے پہلے اس کی حقیقت کو سمجھیں۔

ایسے علماء جو صرف ماضی کو نہ جانیں بلکہ حال کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے امت کی رہنمائی کریں۔

کیونکہ عالم کا علم اگر صرف چار دیواری میں بند ہو جائے تو اس کا دائرۂ اثر محدود رہ جاتا ہے؛ لیکن جب علم کے ساتھ حکمت، اخلاص اور امت کا درد پیدا ہو جائے تو ایک عالم پوری نسل کی سمت بدل سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے علماء کو وسیع نظر، گہری بصیرت، اخلاص، حکمت اور امت کا حقیقی درد عطا فرمائے، اور ہمیں ایسے علماء کی قدر کرنے اور ان سے صحیح رہنمائی لینے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔
جامعہ دارالعلوم رحیمیہ رحیم آباد الگڈی کرک

22/09/2026

عالم، دعا اور آنسو

علم انسان کو اللہ تک پہنچانے کا راستہ دکھاتا ہے، لیکن صرف کتابوں کا علم کافی نہیں؛ علم کے ساتھ دعا، عاجزی، خشوع اور اللہ کے سامنے گڑگڑانا بھی ضروری ہے۔

ایک عالم جب رات کی تنہائی میں اپنے رب کے سامنے ہاتھ اٹھاتا ہے، اپنی کمزوری کا اعتراف کرتا ہے، اپنی حاجت بیان کرتا ہے، اپنی کوتاہیوں پر نادم ہوتا ہے اور آنکھوں سے آنسو بہاتا ہے، تو وہ اپنے علم کو عمل اور بندگی کی روح عطا کرتا ہے۔

اللہ کے سامنے رونا کمزوری نہیں، بلکہ بندگی کی علامت ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا﴾
"اور وہ ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے گر پڑتے ہیں، اور یہ قرآن ان کے خشوع میں اضافہ کرتا ہے۔"
(الإسراء: 109)

اور نبی کریم ﷺ نے دعا کو عبادت قرار دیا:

«الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ»
"دعا ہی عبادت ہے۔"

اس لیے عالم ہو یا طالب علم، شیخ ہو یا عام مسلمان، کسی کو بھی اللہ کے سامنے اپنی حاجت رکھنے سے بے نیاز نہیں ہونا چاہیے۔

کبھی انسان علم کے غرور میں یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اسے سب کچھ معلوم ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جتنا انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے، اتنا ہی اپنی محتاجی کو محسوس کرتا ہے۔

دعا میں ہاتھ اٹھانا اس بات کا اعلان ہے کہ:

یا اللہ! میں کمزور ہوں، تو طاقتور ہے۔
میں محتاج ہوں، تو بے نیاز ہے۔
میں عاجز ہوں، تو ہر چیز پر قادر ہے۔
میرے پاس کوئی حقیقی سہارا نہیں، تو ہی میرا سہارا ہے۔

اور جب بندہ اسی کیفیت کے ساتھ دعا کرتا ہے تو اسے دعا کی ایک ایسی لذت نصیب ہوتی ہے جو صرف الفاظ پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتی۔

کبھی دعا فوراً قبول ہوتی ہے، کبھی اس کا وقت مقرر ہوتا ہے، کبھی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے کوئی مصیبت دور فرما دیتے ہیں، اور کبھی اس دعا کا اجر آخرت کے لیے محفوظ کر دیتے ہیں۔ اس لیے مومن کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ قبولیت کا نتیجہ دیکھے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے دعا کی کیفیت اور بندگی کی لذت محسوس کرے۔

بعض اوقات آنکھ سے آنسو نہیں نکلتے، دل بھی سخت محسوس ہوتا ہے؛ تب بھی بندہ دعا چھوڑے نہیں۔ اللہ کے دروازے پر بار بار دستک دیتا رہے۔ آنسو نہ بھی آئیں تو دل سے دعا کرے، عاجزی اختیار کرے، اپنی حاجت پیش کرے اور اللہ سے تعلق مضبوط کرے۔

یاد رکھیں!

علم اگر انسان کو اللہ کے سامنے جھکانا نہ سکھائے تو علم کی روح کمزور ہو جاتی ہے۔

اصل عالم وہ ہے جس کے علم سے اس کے دل میں اللہ کی عظمت بڑھے، جس کی زبان دعا سے تر رہے، جو اپنی کمزوری کو پہچانے، جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے اور خود بھی ہر حال میں اللہ کا محتاج بن کر رہے۔

کتابیں پڑھنا عظیم نعمت ہے، مگر کتاب بند کرکے اپنے رب کے سامنے بیٹھنا، ہاتھ اٹھانا، دل کی بات کہنا اور خاموشی میں اللہ کو پکارنا بھی بندگی کا عظیم مقام ہے۔

لہٰذا اپنے علم کو دعا سے جوڑیں، اپنے مطالعے کو خشوع سے جوڑیں، اپنی زبان کو ذکر سے جوڑیں اور اپنے دل کو اللہ کے سامنے جھکائیں۔

کیونکہ جس دل نے اللہ کے سامنے گڑگڑانا سیکھ لیا، وہ دنیا کے سامنے ذلت سے بچ جاتا ہے۔

🤲 یا اللہ! ہمیں ایسا علم عطا فرما جو ہمارے دلوں میں خشیت پیدا کرے، ایسی دعا عطا فرما جس میں اخلاص ہو، ایسی آنکھیں عطا فرما جو تیرے خوف اور محبت میں نم ہوں، اور ہمیں اپنی رحمت و قرب کی لذت نصیب فرما۔ آمین۔

21/09/2026

اللہ کے سامنے رونا اور دعا کرنا — بندگی کی علامت

اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے دل کی کیفیت بیان کرنا، اپنی بے بسی کا اعتراف کرنا، گڑگڑا کر دعا مانگنا اور آنکھوں سے آنسو بہانا مومن کی عظیم صفات میں سے ہے۔ انسان جب دنیا کے سہاروں سے بے نیاز ہو کر اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے اور کہتا ہے: یا اللہ! میں کمزور ہوں، تو طاقتور ہے؛ میں محتاج ہوں، تو بے نیاز ہے؛ میری پریشانی کو دور فرما، میری حاجت پوری فرما—تو یہ کیفیت بندے کو اپنے رب کے بہت قریب کر دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ﴾
یعنی: وہ ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾
اپنے رب کو گڑگڑا کر اور پوشیدہ طور پر پکارو۔

یہی تفویض إلی اللہ کی روح ہے کہ بندہ اپنی تدبیر اختیار کرنے کے بعد معاملہ اللہ کے سپرد کر دے، اس پر بھروسہ رکھے اور اپنی حاجات اسی کے سامنے پیش کرے۔

خصوصاً علماء، طلبۂ علم اور اہلِ دین کے لیے یہ کیفیت نہایت اہم ہے۔ عالم کا مقام صرف کتابیں پڑھنے، مسائل بیان کرنے اور لوگوں کو نصیحت کرنے سے مکمل نہیں ہوتا؛ بلکہ علم کے ساتھ خشیت، تواضع، دعا، اخلاص اور اللہ کے سامنے گریہ و زاری بھی مطلوب ہے۔

اگر عالم دوسروں کو صبر، توکل اور دعا کی تلقین کرے، مگر خود اللہ کے سامنے ہاتھ اٹھانے، اپنے گناہوں پر رونے اور اپنی حاجات کے لیے رب کو پکارنے سے غافل ہو جائے تو یہ ایک بڑی روحانی محرومی ہے۔

علم آنکھوں میں آنسو پیدا کرے، دل میں خشیت پیدا کرے اور انسان کو اپنے رب کے سامنے جھکا دے—تو یہی علم نافع کی علامت ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ﴾
اللہ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔

لہٰذا عالم کی شان صرف یہ نہیں کہ وہ منبر پر کھڑا ہو کر لوگوں کو رلائے؛ بلکہ کبھی وہ خود بھی تنہائی میں اپنے رب کے سامنے روئے۔ کبھی رات کی خاموشی میں سجدے میں گرے، کبھی اپنے گناہوں کو یاد کرے، کبھی امت کی حالت پر دعا کرے، کبھی اپنے طلبہ کے لیے خیر مانگے اور کبھی اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہے:

یا اللہ! مجھے علم دیا، مگر عمل کی توفیق بھی عطا فرما۔
یا اللہ! مجھے لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنا، مگر پہلے میری اصلاح فرما۔
یا اللہ! میرے دل کو اپنی محبت اور خشیت سے بھر دے۔
یا اللہ! مجھے اپنے در سے کبھی محروم نہ کرنا۔

یاد رکھیں! اللہ کے سامنے رونا کمزوری نہیں، بلکہ بندگی ہے؛ گڑگڑانا ذلت نہیں، بلکہ عزت ہے؛ اور اپنی حاجت اللہ کے سامنے رکھنا بے بسی نہیں، بلکہ توحید اور توکل کی علامت ہے۔

دنیا کے سامنے انسان اپنی عزت بچاتا ہے، مگر اللہ کے سامنے اپنی حقیقت ظاہر کرتا ہے۔
لوگوں کے سامنے انسان مضبوط بننے کی کوشش کرتا ہے، مگر اپنے رب کے سامنے آنسو بہاتا ہے۔

خوش نصیب ہے وہ عالم، طالب علم اور عام مسلمان جس کا علم اسے اللہ کے سامنے جھکا دے، جس کی دعا میں عاجزی ہو، جس کی تنہائی میں آنسو ہوں اور جس کا دل ہر حال میں اپنے رب پر اعتماد رکھتا ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا علم عطا فرمائے جو دل کو نرم کرے، آنکھوں کو اشک بار کرے، عمل کو درست کرے اور ہمیں ہر حال میں اپنے رب کے سامنے جھکنے والا بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔

18/09/2026

جامعہ دارالعلوم رحیمیہ رحیم آباد الگڈی کرک

(((استاد کی قدر کیجیے، استاد آپ کے ہو جائیں گے )))

جو طالبِ علم اپنے استاد کی قدر، عزت اور ادب کرتا ہے، استاد کے دل میں بھی اس کے لیے محبت پیدا ہوتی ہے۔ جب شاگرد استاد کا ادب کرتا ہے تو استاد کی شفقت، توجہ اور دعائیں اس کے لیے مزید بڑھ جاتی ہیں۔

یاد رکھیں! استاد صرف کتاب پڑھانے والا نہیں، بلکہ شخصیت بنانے والا ہوتا ہے۔
اس کی نصیحت، تجربہ اور شفقت طالبِ علم کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

اور عالم ہونا صرف یہ نہیں کہ انسان بہت سی کتابیں پڑھ لے، مسائل یاد کر لے اور علمی عبارتیں بیان کرنے لگے؛ بلکہ حقیقی علم کے ساتھ حکمت، بصیرت، اخلاق، حلم اور موقع و محل کی پہچان بھی ضروری ہے۔

علم اگر حکمت کے ساتھ ہو تو انسان کے لیے بھی نفع بخش ہوتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی۔
لہٰذا استاد کا ادب، علم کی قدر، اور حکمت کے ساتھ عمل—یہی ایک کامیاب طالبِ علم اور باوقار عالم کی پہچان ہے۔ 🌿

أدبُ الطالبِ مع أستاذِه عنوانُ نجاحِه، والعلمُ بلا حكمةٍ قد يكونُ ناقصَ الأثر.

16/09/2026

🌿 اللہ کے سامنے گڑگڑانا 🌿

اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کا گڑگڑا کر دعا مانگنا بہت پسند ہے۔ جب انسان اپنی بے بسی کا اقرار کرتے ہوئے اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے، آنکھوں میں آنسو اور دل میں یقین لیے اپنی حاجت پیش کرتا ہے، تو یہی بندگی کی خوبصورتی ہے۔

اپنی پریشانی لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے پہلے اپنے رب کے سامنے گڑگڑائیے، کیونکہ وہ دلوں کے حال جانتا ہے، خاموش آنسوؤں کو دیکھتا ہے اور ٹوٹے ہوئے دل کی پکار سنتا ہے۔

🤲 گڑگڑا کر دعا مانگتے رہیں؛ شاید جس دروازے کو آپ بند سمجھ رہے ہیں، وہی دروازہ اللہ کی رحمت کا دروازہ ہو۔

«إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِي خَبِيرًا بَصِيرًا»

یا اللہ! ہمیں اپنی بارگاہ میں عاجزی، خشوع اور اخلاص کے ساتھ دعا مانگنے والا بنا دے۔ آمین۔ 🤲

15/09/2026

تنقید: فائدہ کم، نقصان زیادہ

تنقید اگر اصلاح، خیرخواہی اور حکمت کے ساتھ ہو تو فائدہ مند ہو سکتی ہے، لیکن جب تنقید کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا، عیب اچھالنا یا اپنی برتری ثابت کرنا بن جائے تو یہ اصلاح نہیں رہتی بلکہ نقصان کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

بے جا تنقید انسان کے حوصلے کو توڑ دیتی ہے، دل آزاری کا سبب بنتی ہے، باہمی محبت ختم کرتی ہے، دشمنی اور بدگمانی پیدا کرتی ہے اور بعض اوقات انسان کو اپنی صلاحیتوں سے بھی مایوس کر دیتی ہے۔

خاص طور پر دوسروں کے عیوب کو مجلسوں اور سوشل میڈیا پر بیان کرنا نہ صرف رشتوں کو خراب کرتا ہے بلکہ انسان کی اپنی شخصیت اور اخلاق کو بھی کمزور کرتا ہے۔

یاد رکھیں!
ہر بات میں نقص نکالنا علم نہیں، اور ہر خامی بیان کرنا اصلاح نہیں۔

حقیقی دانائی یہ ہے کہ جہاں اصلاح ضروری ہو وہاں نرمی، حکمت، اخلاص اور مناسب انداز اختیار کیا جائے۔

دوسروں کو گرانے والی تنقید آسان ہے،
مگر دوسروں کو سنوارنے والی خیرخواہی ایک اعلیٰ اخلاق ہے۔

تنقید برائے تنقید نہیں، اصلاح برائے خیرخواہی ہونی چاہیے۔

جامعہ دارالعلوم رحیمیہ رحیم آباد الگڈی کرک

14/09/2026

علماء اور شجاعت — حق کے سپاہی

علماء صرف کتابوں کے اوراق پڑھنے والے لوگ نہیں، بلکہ وہ حق کے وہ محافظ ہیں جنہوں نے عہدِ نبوی ﷺ سے لے کر آج تک باطل کے مقابلے میں علم، دلیل، کردار اور شجاعت کے ساتھ اپنا فریضہ ادا کیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی باطل نے سر اٹھایا، اہلِ علم نے حق کی آواز بلند کی۔ کبھی قلم کو ہتھیار بنایا، کبھی منبر کو میدانِ دعوت بنایا، اور کبھی اپنی جان و مال کی قربانی دے کر دین کی حفاظت کی۔

عالم کے لیے علم ضروری ہے، مگر علم کے ساتھ شجاعت ہو تو اس کی تاثیر کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ حق بات جاننا ایک فضیلت ہے، لیکن حق بات کو حکمت، اخلاص اور جرأت کے ساتھ بیان کرنا اہلِ علم کی عظیم ذمہ داری ہے۔

حقیقی عالم وہ ہے جو حق کو حق کہنے میں مصلحتوں کا غلام نہ بنے، باطل کے سامنے جھکے نہیں، اور اپنی زبان و قلم کو دین کی سربلندی کے لیے استعمال کرے۔

یہی وہ علماء ہیں جنہوں نے امت کو اندھیروں میں راستہ دکھایا، فتنوں کے وقت حق و باطل میں فرق واضح کیا، اور ہر دور میں دین کی حفاظت کا حق ادا کیا۔

اللہ تعالیٰ ہمارے علماء کو علم کے ساتھ حکمت، اخلاص، استقامت اور شجاعت عطا فرمائے، اور ہمیں ان کی قدر و صحبت نصیب فرمائے۔ آمین۔

جامعہ دارالعلوم رحیمیہ رحیم آباد الگڈی کرک۔۔

12/09/2026

رحمان بابا وائی ۔۔۔۔ اور حقیقی عالم کون ہیں؟

مَن هو العالِمُ الحقيقي؟

ليس العالِمُ الحقيقيُّ مَن كَثُرَتْ محفوظاتُه، أو ازدانتْ كلماتُه، أو عَرَفَ أسماءَ الكتبِ والمسائل؛ وإنما العالِمُ مَن جمعَ بين العلمِ

والعمل، والخشيةِ والتواضع، والحكمةِ وحُسنِ الخُلُق.

قال الله تعالى:
﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ﴾.

فالعالِمُ الذي لا تزيدُه المعرفةُ خشيةً، ولا العلمُ تواضعًا، ولا الفقهُ

ورعًا، يحتاجُ أن يراجعَ نفسَه؛ لأن ثمرةَ العلمِ ليست كثرةَ الكلام، وإنما صلاحُ القلبِ واستقامةُ العمل ونفعُ الناس.

والعالمُ الربانيُّ يعرفُ قدرَ نفسِه، ويحفظُ لسانَه، ويتواضعُ للحق، ويوقّرُ العلماءَ، ويرحمُ الجاهلَ، ويصبرُ على المتعلّم، ولا يجعلُ العلمَ سلّمًا إلى الشهرةِ والجاه.

(((وقد كان رحمان بابا شاعرًا متميّزًا، عُرف بقوةِ التعبير وجمالِ الأسلوب، وكان شعرُه يحملُ معانيَ مؤثرةً ورسائلَ نافعةً، فالشاعرُ الحقيقيُّ ليس مَن يجمعُ الألفاظَ فحسب، بل مَن يجعلُ الكلمةَ وسيلةً إلى إيقاظِ القلوبِ وإحياءِ المعاني.)))

فليستِ العبرةُ بأن يُقال: هذا عالمٌ أو هذا شاعرٌ، وإنما العبرةُ بما تركَه علمُه وأدبُه وكلماتُه في قلوبِ الناس.

العلمُ بلا خشيةٍ حُجّةٌ على صاحبِه، والكلمةُ بلا حكمةٍ قد تكونُ وبالًا على قائلِها.

Category

Telephone

Website

Address

Karak
Karak

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shiekh Nimat Ullah Sarwar Sahib posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Karak.