Past Port Stories

Past Port Stories

Share

Attitude Story

06/03/2026

Please subscribe 🙏

https://youtube.com/-t2v?si=5OKNTLziV5dCu7-d

14/02/2026

ایک مرتبہ سید الانبیاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف فرما رہے تھےکہ آپؐ نے ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر یاکریم یاکریم کی صدا تھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا وہ اعرابی رکن یمانی کیطرف جاتا تو پڑھتا یاکریم سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور یہی یاکریم سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس کی آواز سے آواز ملاتےہوئے یاکریم پڑھتے اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کیطرف دیکھا اور کہا اے روشن چہرے والے اے حسین قد والے اللہ کی قسم اگر آپؐ کا چہرہ اتنا روشن اورعمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ضرورکرتا کہ آپ مذاق اڑاتے ہیں.

سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے تبسم فرمایا یعنی مسکرائےاور فرمایا کیا تو اپنے نبیؐ کو پہچانتا ہے؟ اعرابی نے عرض کیا جی نہیں پہچانتا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے اعرابی نے عرض کیا بن دیکھے ان کی نبوت و رسالتؐ کو تسلیم کیا مانااور بغیر ملاقات کے میں نے انکی رسالتؐ کی تصدیق کی آپؐ نے فرمایا مبارک ہو میں دنیا میں تیرا نبیؐ ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کرونگا
وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا
آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھےبشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے
راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبریل علیہ السلام
آئےاور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپؐ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اسکا حساب لیں گے اعرابی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا اللہ میرا حساب لے گا فرمایا ہاں اگر وہ چاہے تو حساب لیگا
اعرابی نے عرض کیا کہ اگر وہ اللہ میرا حساب لیگا تو میں اسکا حساب لونگا آپؐ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لیگا اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لیگا تومیں اسکی بخشش کا حساب لونگا میرے گناہ زیادہ ہیں کہ تیری بخشش اگر میری نافرنیوں کا حساب لیگا تو میں اسکی معافی کا حساب لونگا اگر اس نےمیرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لونگا
حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش
مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی پھر جبریل علیہ السلام آئےعرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ آپؐ کو سلام کہتا ہےاور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں آپؐ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تحلیل بھلادی ہےاپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اسکا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا

کیا عقل نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ان خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے

کتاب.مسند احمد بن

13/02/2026

سامری جادوگر کون تھا؟ ایک عبرت ناک داستان
فرعون کے دریائے نیل میں غرق ہو جانے کے بعد حضرت سیّدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے اور انہیں ظلم و غلامی سے نجات دلائی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک تھی۔ اس کے بعد اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے وعدہ فرمایا کہ انہیں آسمانی کتاب "تورات" عطا کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے آپ علیہ السلام کو چالیس دن کے لیے کوہِ طور پر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب مقرر کر کے کوہِ طور تشریف لے گئے تاکہ اللہ تعالیٰ سے کلام کریں اور تورات حاصل کریں۔
سامری کون تھا؟
بنی اسرائیل ہی میں ایک شخص تھا جسے "سامری" کہا جاتا تھا۔ روایات کے مطابق اس کی پیدائش کے وقت اس کی ماں نے کسی خوف یا مجبوری کے باعث اسے ایک غار میں چھوڑ دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ بچپن میں حضرت جبریل علیہ السلام اسے اپنی انگلی سے دودھ پلاتے تھے، اسی وجہ سے وہ انہیں پہچانتا تھا۔ اگرچہ وہ بنی اسرائیل میں شامل تھا، مگر دل سے منافق اور نہایت گمراہ شخص تھا۔ وہ نہ صرف خود گمراہ تھا بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
سامری کو سونا چاندی پگھلا کر ڈھالنے کا ہنر آتا تھا۔ وہ ایک ماہر کاریگر تھا اور لوگ اس کی باتوں کو اہمیت دیتے تھے۔ اس کا اثر و رسوخ قوم میں کافی تھا، جس سے اس نے بعد میں فائدہ اٹھایا۔
سونے کا بچھڑا کیسے بنا؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور جانے کے تقریباً تیس دن بعد سامری نے اپنا فتنہ برپا کیا۔ اس نے بنی اسرائیل کو بہکانا شروع کیا اور کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ اس نے لوگوں سے ان کے زیورات جمع کروائے۔ یہ زیورات وہی تھے جو بنی اسرائیل مصر سے نکلتے وقت ساتھ لائے تھے۔
سامری نے ان زیورات کو پگھلا کر ایک بچھڑے کا مجسمہ تیار کیا۔ روایات میں آتا ہے کہ اس کے پاس اس جگہ کی مٹی موجود تھی جہاں حضرت جبریل علیہ السلام کے گھوڑے نے قدم رکھا تھا جب وہ فرعون کی غرقابی کے وقت موجود تھے۔ سامری نے وہ مٹی اس سونے کے بچھڑے میں ڈال دی۔ اللہ کی قدرت سے یا بطور آزمائش، وہ بچھڑا گائے کی سی آواز نکالنے لگا۔
جب لوگوں نے دیکھا کہ بچھڑا آواز نکال رہا ہے تو وہ حیران رہ گئے۔ سامری نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا: "یہ تمہارا اور موسیٰ کا خدا ہے، مگر موسیٰ اسے بھول گئے ہیں!" اس جھوٹ اور فریب نے بنی اسرائیل کے دلوں میں شک پیدا کیا، اور سوائے بارہ ہزار افراد کے باقی سب اس فتنے میں مبتلا ہو گئے اور بچھڑے کی پوجا شروع کر دی۔
حضرت ہارون علیہ السلام کی کوشش
حضرت ہارون علیہ السلام نے قوم کو بہت سمجھایا کہ یہ کھلا فتنہ ہے اور اللہ ہی تمہارا معبودِ برحق ہے، مگر اکثر لوگوں نے ان کی بات نہ مانی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک موسیٰ واپس نہیں آتے ہم اسی کی عبادت کرتے رہیں گے۔ یوں قوم ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہو گئی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی
چالیس دن پورے ہونے کے بعد جب حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات لے کر واپس آئے تو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوم کی اس گمراہی کی خبر مل چکی تھی۔ آپ علیہ السلام شدید رنج و غصے کی حالت میں واپس آئے۔ قوم کو بچھڑے کی عبادت کرتے دیکھا تو سخت ناراض ہوئے اور انہیں سرزنش کی۔ تورات کی تختیاں رکھ دیں اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام سے بازپرس کی، مگر جب حقیقت معلوم ہوئی تو انہیں احساس ہوا کہ ہارون علیہ السلام نے پوری کوشش کی تھی۔
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری کو بلایا اور پوچھا: "تیرا کیا معاملہ ہے؟ تو نے ایسا کیوں کیا؟"
سامری نے بے حیائی سے جواب دیا: "میرا دل چاہا، سو میں نے ایسا کر لیا۔"
یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: "دفع ہو جا! دنیا میں تیری سزا یہ ہے کہ تو کہتا پھرے گا: ’کوئی مجھے نہ چھوئے‘، اور تیرے لیے آخرت میں بھی سخت عذاب ہے۔"
سامری کی سزا
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بددعا اور حکم کے بعد سامری کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ لوگوں سے الگ تھلگ رہنے لگا۔ اگر کوئی شخص اس کے قریب آتا یا اتفاقاً اس کا جسم کسی سے چھو جاتا تو دونوں کو شدید بخار ہو جاتا۔ وہ جنگلوں میں چیختا پھرتا تھا: "کوئی مجھے نہ چھوئے!" یوں وہ دنیا میں ذلت اور تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا۔
بچھڑے کا انجام
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سونے کے بچھڑے کو توڑ ڈالا، اسے جلا کر ریزہ ریزہ کیا اور پھر اس کی راکھ دریا میں بہا دی تاکہ قوم کو واضح ہو جائے کہ وہ نہ کوئی خدا تھا اور نہ ہی کوئی طاقت رکھتا تھا۔
قوم کی سزا اور توبہ
جن لوگوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی ان میں سے بعض کو سخت سزا دی گئی۔ روایات کے مطابق ان میں سے کچھ کو توبہ کے طور پر قتل ہونے کا حکم دیا گیا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے باقی لوگوں کے لیے معافی کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور باقی افراد کو معاف کر دیا۔
اس واقعے سے حاصل ہونے والا سبق
سامری کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب قوم اپنے نبی کی ہدایات سے دور ہو جائے اور جذبات یا فریب کاروں کے پیچھے چل پڑے تو گمراہی میں مبتلا ہو سکتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری کرشمے یا عجیب و غریب مظاہر کسی کے حق ہونے کی دلیل نہیں ہوتے۔ اصل معیار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے۔
سامری تاریخ میں ایک ایسے شخص کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے اپنی چالاکی اور فریب سے پوری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا، مگر انجام کار ذلت، تنہائی اور رسوائی اس کا مقدر بنی۔ یہ واقعہ قرآنِ کریم میں سورۂ طٰہٰ اور دیگر مقامات پر بیان ہوا ہے اور رہتی دنیا تک انسانوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔

12/02/2026

1936ء میں بغداد کے قریب ریلوے لائن پر کام کرتے ہوئے مزدوروں کو مٹی کے چند برتن ملے، جنہوں نے آثارِ قدیمہ کی دنیا میں ایک دلچسپ بحث کو جنم دیا۔ ہر برتن کے اندر تانبے کا ایک سلنڈر تھا جس کے گرد لوہے کی ایک سلاخ رکھی گئی تھی، اور اسے اسفالٹ (تارکول) سے بند کیا گیا تھا۔ جب جدید محققین نے ان برتنوں میں تیزابی مائع—جیسے سرکہ یا لیموں کا رس—ڈالا تو اس ترتیب سے معمولی مگر قابلِ پیمائش برقی رو پیدا ہوئی۔ ہر برتن تقریباً آدھا وولٹ بجلی پیدا کرتا تھا، جو ایک عام AA بیٹری کے قریب ہے۔ یہ نوادرات “بغداد بیٹریاں” کہلائے، اور اس خیال کو تقویت ملی کہ اس خطے کے لوگ جدید بیٹریوں کی ایجاد سے تقریباً دو ہزار سال پہلے بجلی کے ساتھ تجربات کر رہے تھے۔

یہ برتن غالباً پارتھی یا ابتدائی ساسانی دور سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی اس زمانے سے بہت پہلے جب بجلی کو صنعتی پیمانے پر استعمال کرنے کا تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔ ان کا اصل مقصد اب تک ایک معمہ ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ انہیں الیکٹروپلیٹنگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، یعنی دھاتی اشیاء پر سونے یا چاندی کی باریک تہہ چڑھانے کے عمل میں۔ دوسرے مؤرخین سمجھتے ہیں کہ شاید انہیں مذہبی یا طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہو، جہاں ہلکی برقی کیفیت کسی خاص اثر کے لیے دی جاتی ہو۔ یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ محض ذخیرہ کرنے کے برتن تھے جنہیں کسی اور طریقے سے استعمال کیا گیا، جو وقت کے ساتھ فراموش ہو گیا۔

ان کا مقصد کچھ بھی ہو، یہ برتن حیرت انگیز تکنیکی بصیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ تانبے، لوہے اور تیزابی مائع کا امتزاج—چاہے حادثاتی ہو یا دانستہ—مواد اور کیمیائی ردِ عمل کی ایسی سمجھ کو ظاہر کرتا ہے جو عام مٹی کے برتن سازی یا دھات کاری سے آگے بڑھتی ہے۔ اگرچہ قدیم لوگ شاید اس سائنسی اصول کو مکمل طور پر نہ سمجھتے ہوں، لیکن ممکن ہے انہوں نے اس کے عملی نتائج کو پہچان لیا ہو اور اپنی ثقافت اور ہنر کے مطابق اسے استعمال کیا ہو۔

آج بغداد بیٹریاں ایک طرف آثارِ قدیمہ کی دلچسپ پہیلی ہیں اور دوسری طرف انسانی ذہانت کی یاد دہانی بھی۔ وہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ہمارے آباء و اجداد نہ صرف ماہر معمار اور ہنرمند تھے بلکہ ایسے تجربہ کار بھی تھے جنہوں نے ان اصولوں کو دریافت کیا جنہیں جدید سائنس نے بعد میں باقاعدہ شکل دی۔ چاہے انہوں نے ابتدائی الیکٹروپلیٹنگ کی ورکشاپس کو توانائی فراہم کی ہو یا محض علامتی مقاصد پورے کیے ہوں، یہ مٹی کے برتن قدیم جدت کی ایک حقیقی اور استعاراتی چنگاری کو محفوظ کیے ہوئے ہیں۔

12/02/2026

کہا جاتا ہے کہ 1368 میں اسپین نے پرتگال کے ایک قلعے کا محاصرہ کیا۔
محصور فوجیوں کے پاس خوراک کا ذخیرہ ختم ہو چکا تھا۔صرف ایک وقت کا آٹا بچا تھا۔
انہوں نے ایک ذہین چال چلی؛

اس آٹے سے ان نے روٹیاں پکائیں
دشمن کے سامنے جان بوجھ کروہ روٹیاں پھینکیں
اور طنزیہ نوٹ بھیجا کہ
“اگر چاہو تو اور بھی بھیج سکتے ہیں”

دشمن نے سمجھا کہ قلعے کے اندر خوراک کی ابھی بڑی مقدار موجود ہے،
اس لیے لمبا محاصرہ بے فائدہ ہوگا۔
اسپینی فوج نے بغیر حملہ کیے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔

جنگ صرف تلوار سے نہیں، ذہن اور حوصلہ سے جیتی جاتی ہے
👍

10/02/2026

مصحفِ سیدنا عثمان بن عفانؓ
تیسرے خلیفۂ راشد کا عظیم تاریخی و دینی ورثہ

خلافتِ راشدہ کے تیسرے خلیفہ امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (خلافت: 644ء — 656ء) کو قرآنِ مجید کی تدوین و توحیدِ قراءت کا عظیم شرف حاصل ہے۔ آپؓ ہی کے دور میں قرآنِ کریم کو سرکاری سطح پر ایک ہی رسم الخط اور لہجے پر جمع کر کے مختلف اسلامی علاقوں میں بھیجا گیا، تاکہ امت میں اختلاف پیدا نہ ہو۔

انہی تاریخی مصاحف میں سے ایک مبارک نسخہ وہ ہے جسے عموماً “مصحفِ عثمانی” کہا جاتا ہے۔ روایات کے مطابق یہ انہی مستند نقول میں شمار ہوتا ہے جو خلافتِ عثمانی میں تیار ہوئیں۔

آج یہ مقدس مصحف ترکی کے شہر استنبول میں واقع
توپ قاپی محل (Topkapi Palace Museum) میں نہایت حفاظت اور عقیدت کے ساتھ محفوظ ہے، جہاں اسے اسلامی تاریخ کے عظیم ترین نوادرات میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ مصحف نہ صرف قرآن کی حفاظتِ الٰہی کی عملی شہادت ہے بلکہ خلافتِ راشدہ کے علمی و دینی نظم کا بھی روشن ثبوت ہے۔

21/03/2025

Pakistan Amazing batting

15/07/2024

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉 Jam Imtiaz, AShraf Brohi, Najeeb Ullah

12/07/2024

Pakistan vs Sri Lanka

11/07/2024

Amazing video... please follow me

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Kasur?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Kasur Punjab
Kasur
049