Kasuri Online Hub
Kasur
Original Leather Mens Wallet
بہترین کوالٹی میں اصلی لیدر کے پرس دستیاب ہیں
17/12/2024
Premium Leather Wallet for Men and Women
Luxury Men's/Women's Leather Wallet
Elevate your everyday carry with our premium men's wallet, crafted from genuine leather and featuring a sophisticated stitching design.
Features:
- Upper with Stitching Design: Adds a touch of elegance and sophistication
- Hidden Pocket: Discreetly store valuable items on the upper part of the wallet
- 2 Note Compartments: Keep your cash and receipts organized
- 10 Credit Card Slots: Store multiple cards with ease
- Coin Pocket: Keep your loose change tidy
- ID Window: Easily display your identification
Premium Quality:
Made from high-quality, genuine leather, this wallet is built to last. Its classic design and luxurious feel make it perfect for business professionals, travelers, and anyone who appreciates fine craftsmanship.
Invest in Quality:
Treat yourself to a premium wallet that combines style, functionality, and durability. Order now and experience the luxury for yourself!
محبت کیا ہے؟
"محبت دراصل محبت کرنے والے کے دل کا محبوب کے ساتھ اس حد تک مشغول ہو جانا ہے جو اسے محبوب کے سوا دوسروں کی طرف توجہ کرنے سے باز رکھے اور اسے محبوب کی طرف ہمیشہ توجہ اور التفات رکھنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو۔ صوفیا کے اس قول کا بھی یہی مطلب ہے " عشق وہ آگ ہے جو محبوب کے سوا ہر چیز کو فنا کر دیتی ہے"
چنانچہ محبت ' محِب ' کی توجہ غیر سے اس طرح منقطع کر دیتی ہے گویا وہ نسیاً منسیاً ہو جاتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ محبوب کے سوا کسی کا وجود ہی باقی نہیں رہا ، یہاں تک کہ خود 'محِب' کا اپنا وجود اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور وہ ہر طرف محبوب ہی کو جلوہ نما دیکھتا ہے" ۔
اللہ تعالی کی ذاتِ اقدس سے مومن کی محبت جملہ محبتوں سے برتر و اعلی اور شدید و قوی ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں ارشاد باری تعالی ہے:
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ
"اور ایمان والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔"
اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔
محبتِ الہٰی میں جینا اورمحبتِ الہٰی میں مرنا ان کی حقیقی زندگی ہوتا ہے۔
انسان کی خواہشات کا پیالہ اس لئے نہیں بھرتا کہ اس میں ناشکری کے سوراخ ہوتے ہیں
دے تبسم کی خیرات ماحول کو
ہم کو درکار ہے روشنی یا نبی
حفیظ تائب
حکیم لُقمان سے پُوچھا گیا کہ کِسی اِنسان کی زِندگی میں کبھی موت سے تَلخ بھی کوئی لَمحَہ آ سکتا ہے؟
جواب دیا گیا کہ “ہاں”!
وہ لمحہ موت سے بھی زیادہ تلخ ہوتا ہے۔ جب کوئی صاحبِ ظرف، کِسی کم ظرف کا محتاج ہو جائے..
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا
اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں
ہم غریبوں کی آن بان میں کیا
خود کو جانا جدا زمانے سے
آ گیا تھا مرے گمان میں کیا
شام ہی سے دکان دید ہے بند
نہیں نقصان تک دکان میں کیا
اے مرے صبح و شام دل کی شفق
تو نہاتی ہے اب بھی بان میں کیا
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا
خامشی کہہ رہی ہے کان میں کیا
آ رہا ہے مرے گمان میں کیا
دل کہ آتے ہیں جس کو دھیان بہت
خود بھی آتا ہے اپنے دھیان میں کیا
وہ ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے
اب بھی ہوں میں تری امان میں کیا
یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا
ہے نسیم بہار گرد آلود
خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
جون ایلیا
*مفت میں حاصل ہونے والی اشیاء اپنی قیمت اس طرح وصول کرتی ہیں:* 🙏😔🙄
جب کوئی چیز مفت ملے تو سمجھ لیں کہ آپ کو اس کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی-
*نوبل انعام یافتہ (برائے امن سنہ 1984) ڈیسمنڈ ٹو ٹو* نے ایک بار کہا تھا کہ *"جب عیسائی مشنری افریقہ آئے تو ان کے پاس بائیبل تھی اور ہمارے پاس زمین تھی-*
*کہنے لگے کہ ہم آپ کے لیے دعا کرنے آئے ہیں- ہم نے آنکھیں بند کر لیں- جب آنکھ کھلی تو ہمارے ہاتھ میں بائبل تھی اور ان کے پاس ہماری زمین تھی-"*
اسی طرح جب سوشل نیٹ ورک سائنس آئی، تو ان کے پاس *فیس بک* اور *واٹس ایپ* تھے اور ہمارے پاس آزادی اور رازداری تھی-
انہوں نے کہا یہ مفت ہے- ہم نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور جب آنکھ کھلی تو ہمارے پاس *فیس بک* اور *واٹس ایپ* تھے اور ان کے پاس ہماری آزادی اور ذاتی معلومات تھیں-
جب بھی کوئی چیز مفت ہوتی ہے تو ہمیں اپنی آزادی دے کر اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے...!!!!
منقول👉🙏😔
جو شخص علم ہونے کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتا وہ شیطان کا قیدی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسے خواہشِ نفس نے ہلاک کر دیا اور اس کی بدبختی اس پر غالب آ گئی۔
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ! علم فرائض سیکھو اور سکھاؤ، اس لیے کہ وہ علم کا آدھا حصہ ہے، وہ بھلا دیا جائے گا، اور سب سے پہلے یہی علم میری امت سے اٹھایا جائے گا“۔(سنن ابن ماجہ۔باب نمبر24۔حدیث نمبر2719)
Click here to claim your Sponsored Listing.