Saif Balouch
public awareness
#اقواممتحدہ
جب پہلی عالمی جنگ ختم ہوئی تو فتح یاب اتحادیوں نے لیگ آف نیشن بنائی اس مقصد کے لئے کہ آئندہ کوئی جنگ کریگا تو اس پر بھاری جرمانے عائد ہونگے عالمی امن اور سیکیورٹی کا خیال رکھا جائیگا وغیرہ وغیرہ ،
اس جنگ کا ذمیوار جرمنی کو ٹھرایا گیا اور سارا نقصان اسکو بھرنے پر زور دیا گیا کافی علاقے جو انہوں نے فتح کیئے تھے وہ بشمول جرمنی کے اپنے حدود بھی ساتھ والے ممالک کو دیئے گئے، آسٹریا ھنگری جرمن کے ساتھ تھا ہٹلر اس کا فوجی تھا جو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا،
انٹر وار پیریڈ کے دوران سب نے اسلحہ بنانا شروع کیا اور ہٹلر نے جیل میں کتاب لکھی "میری جدوجھد" وہ شایع ہوگیا جس میں اکثر اس بات پہ زور تھا کے یہ سب فیصلے یکطرفہ کیئے گئے ہیں اور چند اتحادیوں نے اپنے مقصد کے لئے لیگ بنائی ہے ،جس وجہ سے لوگوں میں غصہ پھیل گیا،
نتیجہ یہ نکلا کہ لیگ آف نیشن ناکام ہوگئی ہٹلر آزاد ہوا تو اس نے پارٹی بنا کے ان اتحادیوں جن میں آمریکا، برطانیہ فرانس وغیرہ تھے کے خلاف تحریک چلا کر دوسری جنگ عظیم کا آغاز کر دیا جس کے اختتام پر یونائٹیڈ نیشن بنی اس کا چارٹر بھی لیگ آف نیشن سے ملتا جلتا بنایا اور وہ بھی دور حاضر میں ہر جگہ ناکام نظر آرہی ہے اب دنیا کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کیوں کہ اسے ناکام کرنے والا یونی پولر دنیا کا مالک ہے جو جہاں چاہتا ہے جنگ چھیڑ دیتا ہے لوگوں کی نسل کشی کرتا ہے جو خودمختار ریاستیں دنیا میں اسکے کہنے پر نہیں چلتیں اسکو تباہ کر دیتا ہے سارے جنگی جرائم کا ذمیوار بھی وہی ہے اب جو عالمی جنگ کا خطرہ ہے اسکے نتیجے بہت ہی بھیانک نظر آرہے ہیں اقوام متحدہ کو اسکا قلعہ قمع کرنا چاہئے نہیں تو پہلے تجربات سب کے سامنے ہیں اسکا مطلب یے سارے کاموں میں یو این ملی ہوئی ہے یا بے بس ہے۔۔۔
have take action immediately
ڪالھ مان به ٻٻرلو ڌرڻي تي ويو ھيم پر سيلفيون ڪو نه ورتم ھاڻي منھنجي بخشش ٿيندي ؟؟؟
دیسی ٹوٹکے اپنائیں اپنی صحت بچائیں
معدے کے علاوہ پیٹ کے اکثر مسائل کا حل پھکی موجود ہے رابطہ کریں۔۔
نسخہ آزمودہ ہے
18/03/2025
شیخ سعدی سفر کر رہے تھے۔ ساتھ ان کا گدھا تھا۔ ایک گاؤں میں پہنچے تو رات پڑگئی ۔ سردی کے دن تھے۔ رات بسر کرنے کا ٹھکا نہ تلاش کرنے لگے۔ گاؤں والوں میں سے کوئی ٹھکا نہ دینے پر رضامند نہ ہوا۔ آخر ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ گھر والے نے کہا: میری بیوی دروزہ میں تڑپ رہی ہے، بچہ نہیں ہوتا۔ اگر تو دعا کرے تو جگہ دے دوں گا۔ شیخ سعدی مان گئے ۔ انہیں کمرہ مل گیا۔ پھر انہوں نے کاغذ کے ایک پرزے پر ایک تعویز لکھا اور گھر والے سے کہا ” اسے مریضہ کی ناف پر باندھ دے۔ تعویز باندھتے ہی بچہ ہو گیا۔
اگلی صبح شیخ سعدی تو چلے گئے لیکن گاؤں والوں نے تعویز سنبھال کر رکھ لیا۔ جب بھی کسی گاؤں والی کو زچگی کی تکلیف ہوتی تو وہ وہی تعویز لے جا کر باندھ دیتے ۔ تکلیف رفع ہو جاتی ۔
گاؤں کے مولوی کو اس بات پر بڑا غصہ آیا۔ اس نے سوچا کہ اگر تعویز پر کھی ہوئی آیت کا پتہ چل جائے تو اسے بڑا فائدہ ہوگا۔ مولوی نے جھوٹ موٹ کا بہانہ تراشا اور تعویز مانگ کر لے گیا۔ اسے کھولا تو لکھا تھا:
یا اللہ ! میں اور میرا گدھا اب آرام سے ہیں۔
سبحان اللّٰہ، اللّٰہ کے ولی وہ الفاظ فارسی زبان میں تھے وہ اب بھی عامل حضرات زچگی کے تعویذ میں استعمال کرتے آرہے ہیں اور انکی برکت سے آسانی ہوتی ہے،
ٹھکانہ مل گیا ہے باقی تو جانے اور تیرا کام جانے۔
ڪجھ ڏينھن پهريان ھڪڙي خيرپور جي دوست ٿر جي ڪوئلي سان لڏيل پنجاب ويندڙ مال گاڏي جو وڊيو رکيو ھاڻي ڏسون پيا روز پنجاھ کان ستر گاڏن واري مال گاڏي ڪوئلو کڻي پئي پنجاب
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Khairpur
SAIF