Haji Sahib
ایمان اور عشق کا ایک ہی کلمہ ہے
وَحَدَہؙ لاَ شَریکَ لَہؙ
شرک دونوں میں ہی حرام ہے
21/05/2025
فلسطین کے بارے میں آواز بلند کرتے رہو، خواہ تم اکیلے ہی کیوں نہ ہو
20/05/2025
سُستی کی اکیس 21 وجوہات
اور اکیس 21 دن میں ختم کرنے کا منصوبہ .!
مجھ سمیت دنیا بھر میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں
جن کے دماغوں میں روزانہ درجنوں آئیڈیاز آتے ہیں، بڑے خواب پلتے ہیں، بڑے منصوبے بنتے ہیں، لیکن وہ ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے بجائے بس سوچتے رہ جاتے ہیں۔
اصل میں مسئلہ سوچنے میں نہیں، کرنے میں ہے
اور اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے سُستی۔ یہ وہ خاموش دشمن ہے جو انسان کو اُس کو کے خزانوں میں سے تک نہیں پہنچنے دیتا ۔
سُستی آخر ہوتی کیوں ہے؟
آئیے ذرا دل سے غور کریں۔ نیند پوری نہ ہونا،
پانی کی کمی، پیٹ کا صاف نہ ہونا، آنتوں میں بُرے جراثیموں کا بڑھ جانا، وٹامن بی 12، آئرن اور میگنیشیم کی کمی، کیلشیئم کی کمی، خون کی کمی، دماغی تھکن، ڈیپریشن، ذہنی الجھنیں، موبائل اور اسکرین کا زیادہ استعمال، زندگی میں بے مقصدیت، وقت کا کوئی شیڈول نہ ہونا، ورزش نہ کرنا، آکسیجن کی کمی، چینی اور جنک فوڈ کا زیادہ استعمال، منفی سوچوں کا قبضہ، بوجھل ماحول، اور تنقید اور مایوسی سے بھرے لوگ—یہ سب وہ چیزیں ہیں جو کسی نہ کسی طرح سُستی پیدا کرتی ہیں۔ ان میں سے ہو سکتا ہے کہ آپ کو صرف ایک ہی مسئلہ ہو، اور اگر صرف ایک ہی مسئلہ ہو، تو سمجھیں کامیابی کے دروازے کے سامنے بس ایک ہی کنڈی لگی ہے، وہ کھولیں اور آگے بڑھیں۔
اب طریقہ یہ ہے کہ
ان بیس میں سے ایک ایک وجہ کو دیکھیں،
خود سے پوچھیں: کیا یہ میرے ساتھ ہے؟ اگر ہاں،
تو پھر شُکر کریں کہ آپ کو اپنے مسئلے کی شناخت ہو گئی۔ پھر سب سے آسان اور چھوٹی سُستی والی عادت کو چُنیں، اس پر کام کریں۔ جیسے اگر پانی کم پیتے ہیں تو آج سے زیادہ پینا شروع کر دیں، اگر نیند خراب ہے تو اسے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ ایک چھوٹا قدم، ایک چھوٹی فتح—یہی وہ آغاز ہے جو بڑی کامیابیوں کا سبب بنتا ہے۔
یہ یاد رکھیں کہ یہ سُستی
صرف ایک ذاتی مسئلہ نہیں، یہ آپ کے خوابوں،
آپ کے بچوں، آپ کے خاندان، آپ کے مستقبل اور آپ کی پوری قوم کے ساتھ بھی جُڑی ہوئی ہے۔ جب آپ سُستی پر قابو پاتے ہیں تو صرف خود کو نہیں، دوسروں کے لیے بھی ایک مثال بن جاتے ہیں۔ لوگ آپ سے سیکھتے اور آپ کی طرف دیکھتے ہیں، اور کہتے ہیں اگر یہ کر سکتا ہے تو میں بھی کر سکتا ہوں۔
اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے
آئیے آج ہی ایک فیصلہ کریں۔
اکیس دن کا ایک سادہ سا چیلنج، ہر دن
ایک بری عادت، ہر دن ایک چھوٹی سُستی پر قابو پانا ہے ۔ پھر دیکھئے کیسے کامیابی آپ کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ اور ہاں، میں بھی آپ جیسا ہی ہوں
یوں سمجھیں یہ تحریر دراصل میرے لئیے ہے
آئیے مل کر اس پر قابو پاتے ہیں
20/05/2025
"تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن"
🔹تبدیلی سرکار کا خیبر پختونخوا کے قومی خزانے پر اربوں کا ڈاکہ
20/05/2025
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری، وفاقی کابینہ کا فیصلہ !
فیلڈ مارشل کا اعزاز ملنے پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں - فیلڈ مارشل عاصم منیر
یہ اعزاز پوری قوم، افواجِ پاکستان، خاص کر سول اور ملٹری شہداء اور غازیوں کے نام وقف کرتا ہوں - فیلڈ مارشل عاصم منیر
صدر پاکستان، وزیرِ اعظم اور کابینہ کے اعتماد کا شکر گزار ہوں۔ یہ اعزاز قوم کی امانت ہے جس کو نبھانے کے لیے لاکھوں عاصم بھی قربان - فیلڈ مارشل عاصم منیر
یہ انفرادی نہیں بلکہ افواجِ پاکستان اور پوری قوم کے لئے اعزاز ہے - فیلڈ مارشل عاصم منیر
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا قوم کا شکریہ ❤️ 🇵🇰
نوجوان عبدالستار کراچی میں کپڑے کا کاروبار کرتا تھا۔ ایک دن وہ کپڑا خریدنے مارکیٹ گیا وہاں کسی نے ایک شخص کو چاقو مار دیا زخمی زمین پر گر کر تڑپنے لگا لوگ زخمی کے گرد گھیرا ڈال کر تماشا دیکھتے رہے وہ شخص تڑپ تڑپ کر مر گیا.
نوجوان عبدالستار کے دل پر داغ پڑ گیا , سوچا معاشرے میں تین قسم کے لوگ ہیں دوسروں کو مارنے والے مرنے والوں کا تماشا دیکھنے والے اور زخمیوں کی مدد کرنے والے .. نوجوان عبدالستار نے فیصلہ کیا وہ مدد کرنے والوں میں شامل ہو گا اور پھر کپڑے کا کاروبار چھوڑکر ایک ایمبولینس خریدی اس پر اپنا نام لکھا، نیچے ٹیلی فون نمبر لکھا اور کراچی شہر میں زخمیوں اور بیماروں کی مدد شروع کر دی.
وہ اپنے ادارے کے ڈرائیور بھی تھے، آفس بوائے بھی ٹیلی فون آپریٹر بھی سویپر بھی اور مالک بھی ،وہ ٹیلی فون سرہانے رکھ کر سوتے فون کی گھنٹی بجتی یہ ایڈریس لکھتے اور ایمبولینس لے کر چل پڑتے زخمیوں اور مریضوں کو ہسپتال پہنچاتے سلام کرتے اور واپس آ جاتے .. عبدالستار نے سینٹر کے سامنے لوہے کا غلہ رکھ دیا لوگ گزرتے وقت اپنی فالتو ریزگاری اس میں ڈال دیتے تھے یہ سینکڑوں سکے اور چند نوٹ اس ادارے کا کل اثاثہ تھے .. یہ فجر کی نماز پڑھنے مسجد گئے وہاں مسجد کی دہلیز پر کوئی نوزائیدہ بچہ چھوڑ گیا تھا ،ایک شخص نےاس بچے کو ناجائز قرار دے کر لوگوں سےقتل کرنے کاکہا،لوگ جیسے ہی مارنے کے لیے آئے توعبدالستار ایدھی پتھر اٹھا کر ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اوران سے بچہ لیا۔ بچے کی پرورش کی آج وہ بچہ بنک میں بڑا افسر ہے ..
یہ نعشیں اٹھانے بھی جاتے تھے پتا چلا گندے نالے میں نعش پڑی ہے یہ وہاں پہنچے دیکھا لواحقین بھی نالے میں اتر کر نعش نکالنے کے لیے تیار نہیں عبدالستار ایدھی نالے میں اتر گیا, نعش نکالی گھر لائے غسل دیا کفن پہنایا جنازہ پڑھایا اور اپنے ہاتھوں سے قبر کھود کر نعش دفن کر دی .. بازاروں میں نکلے تو بے بس بوڑھے دیکھے پاگلوں کو کاغذ چنتے دیکھا آوارہ بچوں کو فٹ پاتھوں پر کتوں کے ساتھ سوتے دیکھا تو اولڈ پیپل ہوم بنا دیا پاگل خانے بنا لیے چلڈرن ہوم بنا دیا دستر خوان بنا دیئے عورتوں کو مشکل میں دیکھا تو میٹرنٹی ہوم بنا دیا .. لوگ ان کے جنون کو دیکھتے رہے ان کی مدد کرتے رہے یہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ ایدھی فاؤنڈیشن ملک میں ویلفیئر کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا یہ ادارہ 2000 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی آ گیا .. ایدھی صاحب نے دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس بنا دی .. عبدالستار ایدھی ملک میں بلا خوف پھرتے تھے یہ وہاں بھی جاتے جہاں پولیس مقابلہ ہوتا تھا یا فسادات ہو رہے ہوتے تھے پولیس ڈاکو اور متحارب گروپ انہیں دیکھ کر فائرنگ بند کر دیا کرتے تھے ملک کا بچہ بچہ قائداعظم اور علامہ اقبال کے بعد عبدالستار ایدھی کو جانتا ہے ..
ایدھی صاحب نے 2003 تک گندے نالوں سے 8 ہزار نعشیں نکالی 16 ہزار نوزائیدہ بچے پالے.. انہوں نے ہزاروں بچیوں کی شادیاں کرائی یہ اس وقت تک ویلفیئر کے درجنوں ادارے چلا رہے تھے لوگ ان کے ہاتھ چومتے تھے عورتیں زیورات اتار کر ان کی جھولی میں ڈال دیتی تھیی نوجوان اپنی موٹر سائیکلیں سڑکوں پر انہیں دے کر خود وین میں بیٹھ جاتے تھے .. عبدالستار ایدھی آج اس دنیا میں نہیں ھیں مگر ان کے بنائے ھوئے فلاحی ادارے دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ھیں..
اللہ پاک ایدھی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماے. آمین
20/05/2025
!
دنیا کے ہر شہر، ہر گلی، ہر زاویے میں اگر کوئی چیز مرد کی آنکھ کو کھینچتی ہے، تو وہ عورت ہے۔ حسن کا خمیر ہو یا نزاکت کا مظہر، عورت ایک تماشہ نہیں، ایک تخلیق ہے, وہ تخلیق جسے ربِ کائنات نے خود اپنی کاریگری کا شاہکار کہا۔ مگر تماش بینی کے بازار میں اس شاہکار کی بولی لگنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ آدم کی نسل پھر کسی حوا کی وارث کی بے لباسی سے خود کو بے قابو کر چکی ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ مرد عورت کو دیکھتا ہے، سوال یہ ہے کہ عورت خود کو دکھاتی کیوں ہے؟
یہ جو ہمارے سوشل میڈیا کے پردوں میں چھپی "دیسی مغربیت" ہے، یہ جو دوپٹوں کی بے وزنی اور لہجوں کی مٹھاس سے سجی بات چیت ہے، یہ جو "سمائل پاس" کرنے کی بے فکری اور "سجی سجائی پروفائل پک" کا منہ بولتا اشتہار ہے, یہ سب وہ خاموش دعوتیں ہیں جنہیں مرد کبھی بھی رد نہیں کرتا۔ اس لیے نہیں کہ وہ خراب ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ مرد ہے۔ ہوس اس کی فطرت نہیں، مگر نسائی فتنہ اس کی کمزوری ہے۔
تم ایک مرد کو چائے کے ڈھابے پر بٹھاؤ، پاس سے ایک عورت گزرے، چاہے ساٹھ برس کی ہو یا سولہ کی، مرد کی نگاہ اسے اسکین کرتی ہے۔ کہیں لاشعوری طور پر، کہیں پورے ادراک سے۔
اب چاہے وہ نقاب میں ہو یا نک سک سے تیار، مرد کی نظر اُس کی موجودگی سے ایک خوشی سی محسوس کرتی ہے۔ یہ کوئی فلسفہ نہیں، یہ تجربہ ہے۔ مشاہدہ ہے۔ انسانی جبلت کا وہ زاویہ ہے جسے ہم لاکھ الفاظ میں ملفوف کریں، مگر کبھی ختم نہیں کر سکتے۔
مگر بات وہیں آکر رکتی ہے جہاں مرد کا نفس عورت کی نسوانیت کو ایک "پیکج" سمجھنے لگتا ہے۔ فری ٹرائل، یا ڈسکاؤنٹ پر دستیاب۔
عورت کی موجودگی مرد کو خوشی دیتی ہے, یہ بات درست۔ لیکن اگر وہ عورت خود اس خوشی کی "بخشش" بن کر مرد کے نفس کو مزید کھلونے فراہم کرے، تو پھر شکایت کیسی؟
نہ اُس مرد کو جو تمہیں آنکھوں میں بسائے بیٹھا ہے، اور نہ تمہیں، جو اپنی آنکھوں سے کسی کو بسنے دیتی ہو۔
اب ایک عورت کہے کہ
"ہم کیا کریں؟"
تو عرض ہے،
"وہی کرو جو اللہ نے تم سے کہا ہے"۔
اپنی زینت کو چھپاؤ۔ لہجوں میں سختی لاو۔ لبوں سے بے ضرر سمائل بھی ختم کر دو, اگر سامنے والا مرد تمہارے نام کا ولی نہیں۔ یہ زبان، یہ جسم، یہ آنکھیں، یہ خدوخال, یہ سب صدقہ نہیں، جو راہ چلتے کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو بھی مل جائے۔ یہ سب امانت ہیں، جو صرف اُس کے لیے ہیں جو تمہیں عزت دے، نان نفقہ دے، نام دے، وراثت دے۔
ایک مرد تب تک تمہارا کچھ نہیں جب تک وہ قاضی کے سامنے تمہارے نام کا اعلان نہ کرے۔ تب تک وہ تمہارا بھائی ہے، اور اگر بھائی بھی نہ ہو، تو بھی غیر محرم ہے, مکمل غیر محرم۔ اس غیر محرم کو اگر تمہارے چہرے کی ہنسی کا ذائقہ ملے، تمہارے لہجے کی مٹھاس کی عادت پڑے، تو پھر کل جب وہ تمہاری عزت کا تماشا بنائے، تو اس میں حیرت نہیں، صرف تمہاری "سستی" کا عکس ہوتا ہے۔
عورت، اپنے لہجے کو لوچدار بنانے سے پہلے ایک بار ضرور سوچے کہ جس کے سامنے زبان رس گھول رہی ہے، کیا وہ اس رس کا اہل بھی ہے؟ جس کو وہ "ریپلائی" کر رہی ہے، کیا وہ کل کو نکاح نامے میں اُس کا "والی" بن سکے گا؟ اگر نہیں, تو لہجہ زہر بناؤ، تاکہ اُس کی نیت مرتی رہے۔ یہ نرم زبان، یہ ہنستی آنکھیں، یہ بے ساختہ سلام، یہ سب وہ چھوٹے چھوٹے روزمرہ کے "حرام لمحات" ہوتے ہیں جو بعد میں پوری زندگی کو برباد کر دیتے ہیں۔
دوسری طرف مرد کے لیے بھی ایک بات واضح ہے, اللہ نے تمہیں عورت کے ہر روپ سے لُطف اندوز ہونے کی اجازت دی ہے، لیکن صرف اُس کے جو تمہاری بیوی ہو۔ باقی ہر عورت تمہارے نفس کی آزمائش ہے، نہ کہ دل بہلانے کا ذریعہ۔
مگر تم تو ہر عورت کو تفریح سمجھ بیٹھے ہو۔ بازار میں، موبائل میں، سوشل میڈیا میں, نظروں کا زنا تمہاری فطرت نہیں، تمہاری لاپرواہی ہے۔ کیونکہ تم جانتے ہو، ایک لمحے کی لذت کا انجام جہنم کا شعلہ بھی ہو سکتا ہے۔
لہٰذا عورت بھی باوقار بنے اور مرد بھی باخوف۔ عورت سمائل پاس کرنا بند کرے، مرد کمنٹ کرنا بند کرے۔ عورت اپنی زینت چھپائے، مرد نگاہیں جھکائے۔ عورت بات کرے تو لہجہ فولادی ہو، مرد بات کرے تو نگاہ درویشانہ ہو۔
تب جا کر وہ معاشرہ ممکن ہے جہاں عورت "زینت" بنے گی, "تماشہ" نہیں، اور مرد "محافظ" بنے گا, "شکاری" نہیں۔
فیصلہ عورت کا بھی ہے اور مرد کا بھی۔ چاہو تو نفس کی منڈی بن جاؤ، یا غیرت و حیاء کا وہ قلعہ بن جاؤ جسے نہ نظر چھو سکے نہ نیت ڈگمگا سکے۔
اب توپیں باندھنے کی ضرورت نہیں۔ بس آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر پوچھو, تم اپنے رب کو خوش کر رہی ہو یا دنیا کے مردوں کو؟ اور اے مرد, تم عورت کو چاہ رہے ہو یا صرف اس کا جسم؟
یہی سوال تمہاری خوداحتسابی اور اخروی نجات کا پہلا دروازہ ہے۔
اگر امداد نہ پہنچی تو اگلے 48 گھنٹوں میں 14 ہزار بچے جان کی بازی ہار سکتے ہیں: اقوامِ متحدہ
THE WORLD IS SILENT
20/05/2025
گوند کتیرا (Tragacanth Gum) ایک جادوئی خزانہ
اگر آپ کی خوراک میں گوند کتیرا شامل نہیں ہے تو آپ ایک بہت ہی قیمتی اور فائدہ مند چیز سے محروم ہیں۔ یوں جانیے گرمیوں میں گوند کتیرا کھانے سے آپ کے جسم میں حیران کن تبدیلیاں واقع ہوں گی۔
اگر کھانے کے بعد آپ کو سینے میں جلن ہوتی ہے، ناگوار ڈکار آتے ہیں، گیس اور قبض رہتی ہے، پیٹ پھول جاتا ہے اور بہت سخت اور اکڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔انٹریوں میں عجیب سا کھنچاؤ رہتا ہے تو گوند کتیرا استعمال کریں۔
رات کے وقت ایک چمچ گوند کتیرا ایک گلاس پانی میں بھگو کر رکھ دیں۔ صبح میں گوند کتیرا ایک جیلی کی شکل بن چکا ہوگا۔ اب اس میں کچھ اور پانی شامل کرکے پی لیں، اسے دودھ، شربت یا سادہ پانی میں ملا کر پیا جا سکتا ہے، پیکھا پینا مشکل لگے تو روح افزا، سکنجبین یا لیموں پانی میں ملا کر بھی پی سکتے ہیں۔
گوند کتیرا میں قدرتی لعاب دار مادّے (mucilage) ہوتے ہیں جو آنتوں کو نرم کرکے قبض ختم کرتا ہے۔
گوند کتیرا کی ٹھنڈی تاثیر معدے کے اندرونی زخموں (السر) کو ٹھیک کرنے میں مدد دیتی ہے۔
گرمیوں میں جسم کا درجہ حرارت کم کرتا ہے جس سے گرمی کم لگتی ہے اور ہیٹ سٹروک نہیں ہوتا اور نہ نکسیر پھوٹیتی ہے۔
گرمی دانے، منہ کے چھالے ٹھیک کرتا ہے۔
جسم کو طاقت و توانائی فراہم کرتا ہے اور تھکن اور کمزوری دور کرتا ہے۔
معدہ کو ٹھنڈک دیتا ہے، قبض، بدہضمی، گیس، جلن کے لیے فائدہ مند ہے۔
پیشاب کی نالی کی جلن اور کمی کو دور کرتا ہے۔
یہ معدے میں پھول جاتا ہے اور پیٹ بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے، جس سے کھانے کی خواہش کم ہوتی ہے۔
پیٹ کی فالتو چربی ختم کرکے کولیسٹرول کم کرتا ہے جس سے وزن کم ہوتا ہے۔
طبیعت کا چڑچڑاپن ، جلدی غصہ کرنا ختم کرتا ہے۔
پانی میں بھگو کر پیسٹ بنا لیں اور ماسک کی صورت میں چہرے یا بالوں پر لگائیں، 15 سے 20 منٹ بعد دھو لیں۔ جلد نرم و ملائم ہو گی اور کیل مہاسے کم کرتا ہے۔
بالوں میں لگانے سے خشکی اور بالوں گرنا بند ہوجاتے ہیں۔
اس کے علاوہ گوند کتیرا مردانہ طاقت کےلیے بہترین غذا ہے، یہ اعصاب کو مضبوط کرتا ہے، جس سے ٹیسٹوسٹیرون ہارمون بہتر ہوتے ہیں۔
مردانہ Semen کو گاڑھا کرتا ہے اور مقدار بڑھاتا ہے۔
احتیاط۔
گوند کتیرا کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے اس لیے سرد مزاج افراد شہد، دار چینی کے ساتھ استعمال کریں۔
گرم اشیاء (جیسے چائے یا گرم دودھ) میں شامل نہ کریں، ورنہ فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔
لو یا ہائی بلڈپریشر، شوگر والے اور خون پتلا کرنے کی دوائی کھانے ولاے گوند کتیرا کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔
نوٹ۔ صرف چار دن کے استعمال سے مجھے یوں لگتا ہے میرا پورا جسم نرم ہوگیا ہے، پیٹ اتنا ہلکا ہوگیا ہے جیسے پتھر باندھے ہوئے تھے جو اتار دیے ہیں اور سوچ بہت مثبت اور تعمیری ہو گئی ہے۔
یوتھیا دنیا کا وہ واحد ڈیوائس ہے
جس میں غیرت کا وائرس انسٹال نہیں ہوتا
🤣
19/05/2025
میں ایک ایسے جملے کی تلاش میں ہوں
18/05/2025
کاروبار کرنے والے دکاندار حضرات سے گزارش ہے کہ اپنے دکان کے باہر ٹھنڈے پانی کا کولر بھر کر رکھیں تاکہ سخت گرمی میں عام لوگ یا کوئی مسافر پانی پی سکیں۔
اس میسج کو زیادہ سے زیادہ پھیلادیں
آج سے پندرہ بیس سال بعد دنیا کی سب سےغلیظ گالی یہ ہو گی:
تو ھے ھی کسی یوتھیے کا بچہ!
🤣
Click here to claim your Sponsored Listing.