AK Group & Co.

AK Group & Co.

Share

Lunching Soon⌛⌚
Define your style with AK Group & Co. Life’s moments deserve luxury. Explore our latest collections and step into elegance.

Official.We bring you the finest collection of Watches and exclusive, long-lasting Perfumes right here in Pakistan.

01/07/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Muhammad Ishaq Yaseen, Jahan Zaib, Ali Raza Mughal Mughal, Zidi Rajput

23/06/2026

رُستمِ زماں گاما پہلوان – اپنی زوجہ وزیر بیگم کے ساتھ

گاما پہلوان، جن کا اصل نام غلام محمد بخش تھا، 22 مئی 1878 کو امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ وہ برصغیر کے عظیم ترین پہلوانوں میں شمار کیے جاتے ہیں اور عالمی سطح پر پہلوانی کی تاریخ کے ناقابلِ شکست چیمپئن مانے جاتے ہیں۔ ان کا لقب "رستمِ زماں" (دنیا کا چیمپئن) تھا، جو ان کی غیرمعمولی فتوحات اور ناقابلِ تسخیر ریکارڈ کا اعتراف تھا۔

ناقابلِ شکست کیریئر

گاما پہلوان کا پہلوانی کی دنیا میں ایسا دبدبہ تھا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ایک بھی کشتی نہیں ہاری۔ انہوں نے 5000 سے زائد دنگلوں میں فتح حاصل کی، جن میں برصغیر کے ساتھ ساتھ یورپ کے مشہور پہلوانوں کے خلاف بھی شاندار کامیابیاں شامل تھیں۔ 1910 میں انہوں نے لندن ورلڈ چیمپئن شپ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے ناقابلِ یقین داؤ پیچ اور غیرمعمولی طاقت سے عالمی سطح کے پہلوانوں کو شکست دی، اور دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

مشہور مقابلے

1. 1888 میں پہلی بڑی کامیابی – جب وہ صرف 10 سال کے تھے، تو ایک دنگل مقابلے میں 400 پہلوانوں کو شکست دے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

2. 1910 میں یورپی پہلوانوں کو چیلنج – لندن میں گاما نے عالمی چیمپئن بینجامن رولر جیسے مضبوط پہلوانوں کو شکست دی اور پہلوانی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔

3. 1911 میں عالمی چیمپئن اسٹینسلاس زبِشکو کو شکست – زبِشکو کے ساتھ ان کی کشتی برصغیر کے پہلوانی حلقوں میں ایک یادگار مقابلہ بنی۔

ناقابلِ یقین فٹنس اور ورزش

گاما پہلوان کی غیرمعمولی طاقت اور برداشت کا راز ان کی سخت ٹریننگ تھی۔ روزانہ وہ:

5000 بیٹھکیں (squats) اور 3000 ڈنڈ (push-ups) لگاتے تھے۔

ان کی خوراک میں 2 گیلن دودھ، 1.5 کلو بادام، اور دیسی گھی سے بنی خوراک شامل تھی۔

وہ روزانہ بھاری پتھروں کو اٹھانے اور مٹی کے اکھاڑے میں کشتی لڑنے کی مشق کرتے تھے۔

قیامِ پاکستان اور آخری ایام

1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد گاما پہلوان پاکستان منتقل ہو گئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی۔ تاہم، قیامِ پاکستان کے بعد کے حالات اور مالی مشکلات کے باعث وہ مشکلات کا شکار ہو گئے۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی مدد کی، لیکن زندگی کے آخری ایام میں وہ گمنامی میں چلے گئے۔

23 مئی 1960 کو لاہور میں 82 سال کی عمر میں گاما پہلوان کا انتقال ہو گیا۔

وراثت اور پہلوانی کی دنیا پر اثر

گاما پہلوان صرف ایک فرد نہیں، بلکہ ایک عہد کا نام تھا۔ آج بھی ان کے داؤ پیچ، فٹنس اور محنت کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ ان کا نام ہمیشہ پہلوانی کی دنیا کے سب سے بڑے لیجنڈز میں شمار کیا جائے گا۔

رُستمِ زماں گاما پہلوان آج بھی ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو محنت، لگن، اور ناقابلِ شکست عزم کے ساتھ اپنی منزل حاصل کرنا چاہتا ہے۔

25/05/2026

*_لَبَّيْكَ اللهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ!🪻🤍_*
#11.8m

22/05/2026

اگر عورت مرد کی ماں بہن بیٹی یا بیوی نہیں ہےتو اس سےتحفےلینا بنتا ہی نہیں
جب وہ شخص ناقابل قبول ہوگیا تو اس کی دی چیزیں کیسےقبول ہیں؟
مردکو بھی دی چیز واپس مانگنا نہیں جچتا لیکن اس میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں ہے،ہمارےمعاشرے میں طلاق دیتےوقت بھی کیئ لوگ گھر سےجاتی عورت سے اپنا دیا کپڑا جوتا تک اتروا لیتے ہیں،اتنا تنگ کرتےہیں کہ عورت خود خلع مانگ لےتا کہ مہر اور خرچ نہ دینا پڑے
ہر نئےدن ہمارےمعاشرے کےاخلاقی دیوالیہ پن کی کوئی نہ کوئی قلعی کھل رہی ہے
شاید اسی طرح ہم سب اپنےآپ کا محاسبہ کر پائیں ✍️

22/05/2026

‏اسلام آباد کے فیصل مسجد کے باہر ہر صبح ایک 14 سال کا لڑکا بیٹھا ہوتا تھا۔ نام تھا *سلیم*۔ ہاتھ میں پرانا ڈبہ، برش، اور کالے رنگ کی پالش۔

دن بھر وہ لوگوں کے جوتے چمکاتا۔ ایک جوتے کے 20 روپے۔ دن میں 15-20 جوتے پالش ہو جاتے تو 300-400 بن جاتے۔ اتنے میں گھر کا چولہا جلتا تھا۔ گھر میں امی اور چھوٹی بہن *ماریہ* تھی۔ ابا ایک حادثے میں چلے گئے تھے، جب سلیم 10 سال کا تھا۔

لوگ آتے، جوتے دیتے، اور کہتے "جلدی کر بچے، وقت نہیں ہے۔" کوئی حال نہ پوچھتا۔ سلیم چپ چاپ کام کرتا رہتا۔

رات کو جب مسجد کے باہر لائٹیں بند ہو جاتیں، تو وہ پارک کی بینچ پر بیٹھ کر پرانی کتابیں کھولتا۔ وہ کتابیں اسے ایک استاد دے گیا تھا، جو روز اس سے جوتے پالش کرواتا تھا۔ استاد کہتا تھا، "سلیم، ہاتھ داغی ہیں تو کیا ہوا، دماغ صاف رکھو۔"

سلیم پڑھتا تھا۔ میٹرک، ایف ایس سی، سب رات کو ہی کیا۔ دن میں جوتے، رات میں فارمولے۔ لوگ ہنستے تھے، "جوتے پالش کرنے والا ڈاکٹر بنے گا؟"

سلیم کچھ نہ کہتا۔ بس ماریہ کی کاپی پر لکھے نام کو دیکھتا رہتا۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ ماریہ کو ڈاکٹر بنائے گا۔

18 سال کی عمر میں سلیم نے ایف ایس سی میں 98% لیے۔ اسکالرشپ ملی، NUST اسلام آباد میں داخلہ ہو گیا۔ داخلے کی فیس کے لیے اس نے 2 سال کی کمائی اکٹھی کی تھی — 1 لاکھ 80 ہزار۔ امی روتی رہی، "بیٹا یہ پیسے خرچ نہ کر، گھر مشکل سے چل رہا ہے۔"

سلیم نے کہا، "امی، اگر میں نہ پڑھا تو ماریہ بھی میری طرح جوتے پالش کرے گی۔"

یونیورسٹی میں بھی سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ دن کو لیب میں کام، رات کو پڑھائی، اور ہفتے میں 2 دن پرانے کام والے دوستوں کے ساتھ جا کر انہیں اکاؤنٹنگ سکھاتا۔

گریجویشن کے بعد اس نے ایک چھوٹی سی IT کمپنی شروع کی — صرف 3 لیپ ٹاپ اور ایک کرائے کا کمرہ۔ پہلا سال ناکامی کا تھا۔ پیسے ختم، قرض چڑھ گیا۔

لیکن سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ وہی بات یاد تھی جو استاد نے کہی تھی، "سلیم، دھول میں بیٹھ کر بھی اگر خواب دیکھو تو وہ سچ ہوتے ہیں۔"

5 سال بعد اس کی کمپنی نے ایک ایپ بنائی جو پاکستان بھر میں چل پڑی۔ آج سلیم کی عمر 29 سال ہے۔ اسلام آباد کے G-6 میں اس کا اپنا دفتر ہے، 200 سے زیادہ لوگ اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

اور ماریہ؟ وہ اب ڈاکٹر ہے۔ پمز ہسپتال میں۔

آج بھی جب سلیم فیصل مسجد کے باہر سے گزرتا ہے، تو رکتا ہے۔ وہاں اب بھی ایک بچہ بیٹھا ہوتا ہے، ہاتھ میں پالش کا ڈبہ لیے۔

سلیم اتر کر اس کے پاس بیٹھتا ہے، اپنا کارڈ دیتا ہے، اور کہتا ہے، "بیٹا، جوتے چمکانے سے زیادہ ضروری ہے خواب چمکانا۔ جب کبھی ضرورت ہو، میرے پاس آ جانا۔"

لوگ کہتے ہیں سلیم اب بلینئر ہے۔
سلیم کہتا ہے، "نہیں، میں اب بھی وہی لڑکا ہوں۔ بس فرق یہ ہے کہ اب میرے خواب بھی میرے ساتھ بیٹھ کر چمکتے ہیں

09/11/2025
Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address

Lahore
54000