Natural Health Corner

Natural Health Corner

Share

۔ غزا اور دیسی ادویات کے استعمال سےقدرتی طریقے سے بیما?

29/12/2020

فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے)

قدرت نے انسان کو بے شمار خشک میوہ جات کی نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سے کھجور ایک ایسا میوہ ہے جسے اس کے منفرد ذائقے کی بدولت بے انتہا پسند کیا جاتا ہے جب کہ رمضان المبارک میں کھجور کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ ویسے تو قدرت نے ہر میوے میں کچھ نہ کچھ فوائد پوشیدہ کررکھے ہیں لیکن سائنسدانوں نے کھجور کو ایسا میوہ قرار دیا ہے جس میں سب سے زیادہ فوائد ہیں۔

کھجورقوت اور توانائی میں اضافہ کرتی ہے جسم میں تازہ خون بناتی ہے کام کی زیادتی سے پیدا شدہ تھکاوٹ کمردرد، پٹھوںکے کھنچائوکیلیے بھی مفید غذا ہے۔

عجوہ کھجور قوت مدافعت پیداکرکے جسم کو مختلف بیماریوں سے نجات دلاتی ہے،ماہرین طب نے کھجورکو افادیت کے حوالے سے جدید ایلوپیتھک سائنس میں بہترین غذائی پھل قرار دیا ہے، کھجورکی تاریخی افادیت پر ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کھجورگلوکوزاورفرکٹوزکی شکل میں قدرتی شکر پیداکرتی ہے جو فوراً جزوبدن بن جاتی ہے کھجورکے 100گرام خوردنی حصے میں15.3فیصد پانی پروٹین 2.5فیصد چکنائی 0.4 فیصد معدنی اجزا 2.1 فیصد ریشے3.9 فیصد اورکاربو ہائیڈریٹس 75.8فیصد پائے جاتے ہیں۔

کجھورکے معدنی اور حیاتی اجزا میں120ملی گرام کیلشیم 50 ملی گرام فاسفورس7.3 ملی گرام فولاد 3 ملی گرام وٹامن سی اور تھوڑی سی مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس کی خصوصیات پائی جاتی ہیںکھجورکی 100گرام مقدار میں 315کیلوریز ہوتی ہیں جو صحت مند زندگی گزارنے کیلیے ایک انسان کیلیے روزمرہ کی بہترین غذا ہے ، کھجور کا شمار خشک اور تازہ پھلوں میں ہوتا ہے درخت پر پکی ہوئی کھجور بے حد لذیز ہوتی ہے۔

01/12/2020

روزانہ کی بنیاد پر۔ پستہ کھانے سے جلد کی ساخت نرم اور پرکشش ہوجاتی ہے۔پستہ جلد پر ڈھلتی عمر کی علامات ظاہر ہونے کو روکتا ہے لہٰذا روزانہ پستہ کھانے سے آپ اپنی عمر سے کم نظر آئیں گے۔۔۔
اسی طرح روزانہ باقاعدگی کے ساتھ ایک مٹھی پستے کھانے سے سورج کی شعاؤں کے نقصان دہ اثرات سے جلد کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پستہ میں بھرپور طور پر بائیوٹن پایا جاتا ہے۔ بائیوٹن ایسا وٹامن ہوتا ہے کہ اس کے استعمال سے بال صحت مند رہتے ہیں۔۔ لہذا روزانہ درمیانی مقدار میں پستے کھانا بالوں کے گرنے کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔

26/11/2020
20/11/2020

#جنات کا اثر اور اصل حقیقت اور گھر بیٹھے علاج #

*السلام علیکم ورحمةاللہ برکاتہ*

اس دھرتی پر قدرت کاملہ نے بہت ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے انسان کے علاوہ جنات بھی اسی دنیا کا حصہ ہیں
بڑے بڑے قوی ہیکل دیو بھی اسی کائنات میں موجود ہیں

لیکن قدرت نے انسان کو ان سب پر فوقیت بخشی اور اسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا اور اس دنیا میں سب سے طاقتور ترین مخلوق انسان کو بنایا ہے یہ جنات سے کئ گنا زیادہ طاقتور ہے اسکا علم اسکی قوت اتنی زیادہ ہےکہ وہ کام جو جنات نہیں کرسکتے وہ کام یہ حضرت انسان پلک جھپکنے میں کر دکھاتا ہے

*واقعہ*
حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں جب ملکہ بلقیس کا تخت لانے کو کہا گیا تو ایک بہت طاقتور جن نے کہا کہ میں دربار کے برخاست ہونے تک وہ لےکر آجاؤنگا.
وہیں پر ایک شخص جنکا نام آصف بن برخیا بتایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ میں پلک جھپکنے سے قبل ملکہ بلقیس کا تخت یہاں لے آؤنگا
اور دیکھتے ہی دیکھتے پلک جھپکنے سے پہلے وہ تخت وہاں موجود تھا
ان کے بارے قرآن کہتا ہےکہ وہ کتاب کا علم جانتا تھا
اللہ کے اسماء مبارکہ جو اسم اعظم میں سے ہیں ان کا عامل تھا اور اسنے انہی ناموں سے اللہ کو پکارا اور وہ تخت وہاں حاضر ہوگیا
یہ ہے حضرت انسان کی وہ چھپی ہوئی صلاحیت جس سے نہ آشنا ہیں
یقین کامل تو ایمان کامل کی یہ کھلی مثال ہے
دوسری طرف میں ایک بات سوچتا ہوں کہ یہ انسان جنات کو تسخیر کے اعمال کرتا دکھائی دیتا ہے کچھ دعوی بھی کردیتے ہیں کہ میرے قبضے میں جنات و مؤکلات ہیں
اور کچھ انسان اسی دوڑ دھوپ میں لگے نظر آتے ہیں کچھ جنات کو قابو کرنے کے وظائف میں مشغول ہیں
کیا ایک طاقتور ترین تیز تر مخلوق کا کسی اپنے سے کمزور کا سہارا تلاش کرنا اور اسکے لئے اپنا وقت ضائع کرنا مناسب عمل ہے?
جنات و شیاطین کی اوقات یہیں سے ظاہر ہوجاتی ہےکہ جب مسلمان کچھ کھانے یا پینے لگتا ہے اور بسم اللہ پڑھتا ہے تو جنات یا شیاطین اس کھانے کے قریب نہیں آسکتے تو کیا ہم اس بات کے پھر بھی اسیر ہوکر رہیں کہ جنات ہم سے طاقتور ہیں?

معاذاللہ بہت سے افراد نماز وظائف کے پابند ہونے کے باوجود کہتے ہیں ہمارے اوپر جنات کا سایہ ہے اور کچھ بابوں کے پیچھے بھاگتے ہیں کہ ہمیں بچالو
ایسا صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہمارے دماغ و اعصاب میں خوف موجود ہوتا ہے
اور ہم جنات کی بجاۓ خود اپنے خوف کے اسیر بنے رہتے ہیں ایسے لوگ زندگی بھر اس کا شکار رہتے ہیں اور جب مرجاتےہیں تو گھر والے اور محلے والے بھی کہہ دیتے ہیں کہ اسے جنات نے توڑ کر رکھ دیا

جنات قدرت کی ایک مخلوق ہے اور یہ انسان سے ڈرتے ہیں لیکن ہم اسے خود اپنے خواس پر حاوی کرلیتے ہیں
اسکا حل کیا ہوسکتا ہے کچھ طبی نقطہ نگاہ سے Psychology پہلو تلاش کریں?
اور کچھ دماغ و اعصاب کے دریچے کھولیں تاکہ یہ بات کھل کر سامنے آۓ
دماغ کی فزیالوجی کو کھولو اور دیکھو کہ اس خوف کا تعلق کس حصے سے ہے اگر اس پر کام کیاجاۓ تو کئ رازوں کی پنڈوکلی کھل جاۓگی

تصور بھی ایک طاقت ہے اسکا انکار بھی ممکن نہیں
فرض کریں ایک شخص کو میں کچھ وظائف بتاتا ھوں چاہے وہ میرے بطور آمائش خود ساختہ ہی کیوں نہ ہوں جیسے👇

کالی بلی کالا دیش کالی گھنٹی باجے مندر,
مندر کےاندر دو چار بندر

ہیں تو یہ میری خود ساختہ بکواسات 😂
لیکن کوئی مجھ جیسے بابے کو پکڑ کر کہتا ہے بابا جی کچھ اپنی بساط سے ہمیں سکھا دو
میں اسے یہی الفاظ سکھاتا ہوں اور ساتھ کہہ دیتا ہوں خیال کرنا دوران پڑھائی بہت ڈراؤنی شکلیں نظر آتی ہیں بعض اوقات یہ مارتی بھی ہیں اور بندہ ڈر جاۓ تو یا پاگل ہوجاتا ہے یا مر جاتا ہے 😩

اگر وہ اتفاق سے پڑھائی شروع کردیتا ہے اور دوچار دن بعد دوران پڑھائی اسے کوئی ویسے ہی جھٹکا لگ گیا تو بندہ گیا 😂

گویا خوف میں نے پہلےہی اسکے ذہن میں ٹپکادیا
آج ان شاءاللہ دماغ کے اس حصےکو کھولتے ہیں جہاں یہ خوف اپنی پناہ گاہ بناتا ہے
جنات کی تخلیق خالق کائنات نے آگ اور انسان کی تخلیق خاک سے فرمائی
اس کائنات میں آگ جتنی بھی چیزوں کو جلا سکتی جلا کر راکھ بھسم کی صورت میں خاک ہی بنا دیتی ہے مگر ہزاروں سال سال تپتی دوھوپ نے زمین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکی
اسی طرح روز مرہ ہم اپنے آس پاس مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ جلتی آگ کبھی زمین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی سوائے معمولی رنگی تغیر کے
بلکہ جلتے آگ پر مٹی ڈالی جائے تو آگ اپنے وجود کو بھی برقرار نہیں رکھ سکتی
آگے آپ خود سوچیں کہ جنات انسان پر کیسے حاوی ہو سکتے ہیں ۔
بلکہ یہ عامل حضرات اصل میں جنات کو قابو نہیں کرتے بلکہ ازخود اپنے آپ کو جنات کے حوالے کر دیتے ہیں

یہ صرف ایک خوف ہے جو بچپن سے ہمارے ذہنوں میں ودیعت ھوا
جیسے ہم نے اپنے گھروں میں دادا ,دادی یا نانی نانا سے جناتی کہانیاں سن رکھی ہیں یا ہمارا معاشرہ ہی اسکا شکار ہے
جیسے ایک بچہ گھر میں بہت شرارتی ہے ہم ڈرانے یا شرارتوں سے بعض رکھنے کیلئے اسے ڈراتے ہیں بھوت آیا
یا جیسے بچہ روتا ہو اور ہم کہیں چپ ہوجا ورنہجن اٹھا کر لےجاۓگا

یہ وہ چیزیں ہیں جن سے ہمارے دماغ پیدائشی طور پر متاثر ہوجاتے ہیں
یہی چیز دماغ میں اپنا بسیرا کرلیتی ہے پھر انکو قبض سے دماغ بھاری ہوگا تو یہ کہینگے کہ جن چڑھ گیاہے
خوف انسانوں کے علاوہ پرندوں اور حیوانوں میں بھی پایا جاتاہے یہ قدرتی چیز ہے جیسے ہم کسی پرندے کو پکڑنے بھاگیں تو اپنی جگہ سے اڑ کر بھاگتا ہے اور ہاتھ نہیں آتا
گویا اسے دماغی طور پر ایک خوف ہے جیسے یہ مجھے پکڑےگا تو مار ڈالےگا
جبکہ ہمارے پالتو جانور یا پرندے جیسے طوطا, کبوتر ,باز اور اسی طرح دیگر جانور اب چونکہ انکی پرورش اور رہن سہن ہمارے ساتھ ہی ہوتا ہے اسلئے وہ بےخوف ہوتےہیں طوطا ہمارے ہاتھ پر آکر بیٹھ جاتا ہے جب ہم اسے اشارہ کرتے ہیں یا انگلی اسکی طرف کرتے ہیں جبکہ ایک جنگل میں رہنےوالا طوطا آپ کو اسطرح کرتے دیکھ کر فوری طور پر اڑ جاۓگا
ایک بات اور بیان کردوں کہ جناتی اثرات کا ہونا یا جادو کا اثر انداز ہونا ہم اسکا انکار نہیں کرسکتے شریعت ہمیں اسکا واضح ثبوت دےرہی ہے

لیکن شریعت مطاہرہ ہمیں اسکے بارے بھی آگاہ کر رہی ہے کہ جنات انسان سے ڈرتے تھے جہاں انسان کا بسیرا ہوجاتا وہاں سے یہ لوگ بھاگ جایا کرتے تھے

پھر یہ ہم پر حاوی کس طرح ہونے لگے?
اسکا ثبوت بھی شریعت سے ملتا ہے کہ جب انسان نے جنگلات میں سوتے وقت جنات کو پکارا کہ اس مقام کے سردار جناتو ہماری رات کو حفاظت کرنا
یہی وہ پہلو ہے جس سے جنات نے ہماری کمزوری کو پکڑا اور حاوی ہوگیا
دراصل جنات انسانوں سے ڈرا کرتے تھے جیسے کہ انسان جنوں سے بلکہ اس سے بھی زیادہ یہاں تک کہ جس جنگل بیابان میں انسان جا پہنچتا تھا وہاں سے جنات بھاگ کھڑے ہوتے تھے لیکن جب سے اہل شرک نے خود ان سے پناہ مانگنی شروع کی اور کہنے لگے کہ اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اس سے کہ ہمیں ہماری اولاد و مال کو کوئی ضرر نہ پہنچے، اب جنوں نے سمجھا کہ یہ تو خود ہم سے ڈرتے ہیں تو ان کی جرات بڑھ گئی اور اب طرح طرح سے ڈرانا ستانا اور چھیڑنا انہوں نے شروع کیا، وہ گناہ، خوف، طغیانی اور سرکشی میں اور بڑھ گئے۔

کردم بن ابوسائب انصاری کہتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ مدینہ سے کسی کام کے لیے باہر نکلا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہو چکی تھی اور مکہ شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت پیغمبر ظاہر ہو چکے تھے رات کے وقت ہم ایک چرواہے کے پاس جنگل میں ٹھہر گئے آدھی رات کے وقت ایک بھیڑیا آیا اور بکری اٹھا کر لے بھاگا، چرواہا اس کے پیچھے دوڑا اور پکار کر کہنے لگا ”اے اس جنگل کے آباد رکھنے والے تیری پناہ میں آیا ہوا ایک شخص لٹ گیا“، ساتھ ہی ایک آواز آئی حالانکہ کوئی شخص نظر نہ آتا تھا کہ اے بھیڑیئے اس بکری کو چھوڑ دے، تھوڑی دیر میں ہم نے دیکھا کہ وہی بکری بھاگی بھاگی آئی اور ریوڑ میں مل گئی اسے زخم بھی نہیں لگا تھا یہی بیان اس آیت میں ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں اتری کہ ” بعض لوگ جنات کی پناہ مانگا کرتے تھے “۔ [طبرانی کبیر:191/19،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف] ‏‏‏‏

ممکن ہے کہ یہ بھیڑیا بن کر آنے والا بھی جن ہی ہو اور بکری کے بچے کو پکڑ کر لے گیا ہو اور چرواہے کی اس دہائی پر چھوڑ دیا ہو تاکہ چرواہے کو اور پھر اس کی بات سن کر اوروں کو اس بات کا یقین کامل ہو جائے کہ جنات کی پناہ میں آ جانے سے نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں اور پھر اس عقیدے کے باعث وہ اور گمراہ ہوں اور اللہ کے دین سے خارج ہو جائیں۔
شیطان کو شر یہاں تک کام کرتا ہے کہ جب نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم جماعت سے نماز کیلئے سب کو صف بندی کا حکم دیتے تو فرماتے کہ کندھےسے کندھا جوڑکر کھڑےہوں اگر درمیان میں خلا رہا تو شیطان داخل ہوکر وسوسے ڈالےگا
ہم اسکا انکار نہیں کرینگے کہ جنات و شیاطین کا شر کام نہیں کرتاورنہ
اعوذ بااللہ من الشیطان الرجیم
پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کی شیطان مردود کے شر سے

گویا اس بات کا ثبوت ہےکہ شیطان کا شر بہت خطرناک ہے
اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شیطان کا شر اتنا طاقتور ہےکہ اسکےشر سے پناہ صرف کی مدد طلب کرنے میں ہے

بیماری اور جنات کی حقیقت

*تبخیر*
یعنی وہ بیماری جو کھانا کھانے کے بعد جب معدے میں حرارت کی کیفیت ہوتی ہے تو خلوۓ معدہ سے بخارات دماغ کی جانب چڑھتے ہیں اسے تبخیر معدہ کہا جاتا ہے جسکا دائرہ امعاء تک جاتا ہےیہی تبخیر معدہ سے بننےوالی گیسز (کاربن) جب دماغی پردوں سے ٹکراتی ہے تو انہیں شدید متاثر کرتی ہے یہی تبخیر اگر اعصابی تحریک میں ہوگی تو ایسا تبخیری بہت جلد موت, جادو, جنات کے خوف میں مبتلہ ہوجاتا ہے
اور جب رطوبات متعفن ہوکر یہ عضلاتی ہوجائیں تو پھر اللہ کی پناہ
یہاں ایک کلیہ یاد رکھیں کہ جب بلغم جلتی ہے تو سودا میں تبدیل ہوجاتی ہے
تبحیری کی یہ تبدیلی وسوسے, تہمات ,وہم, جنات سوتے میں ڈر جانا, اچانک ہڑ بڑا کر اٹھ جانا ایسے مریض سےاللہ کی پناہ

گھر بھر کو گالیاں, معالج کی ماں بہن ایک کرے گا پھر جادو کے چکر میں پڑ کر یا جناتی اثر مان کر بابوں سے رجوع کرےگا آخر ان بابوں کی بھی ایسی تیسی پھیر دیتا ہے

اور یہ بابے بھی کم نہیں یہ خود زبردست تبخیری ہوتےہیں انکے پیٹ بڑھ جاتے ہیں کاربن دماغ پر چڑھتا ہے تو اپنے آپ کو ھوا میں آڑتا محسوس کرتے ہیں
بھونڈی بھونڈی اشکال انکو دکھائی دیتی ہیں أنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے یہ خود شکل سے خوفناک دکھائی دیتے ہیں کمزور عقائد والے سمجھتے ہیں شاید بابا جلالی جی سرکار ہیں اس لئے شکل ہی بھیڑی ہے🤣
جنات کو قدرت نے آگ سے بنایا ہے اور دیکھیں یہ آگ سے ہی ڈرتا ہے جیسے انسان ماٹی کا ایک پتلا ہے لیکن اسے کسی کچی مٹی کا ڈھیلا اٹھا کر ڈرایا جاۓ تو یہ اس سے بھی ڈر کر دوڑ لگادےگا کہ کہیں میرا سر ہی نہ پھٹ جاۓ
اسی طرح جنات کا وجود آگ سے تمیر ضرور ہوا ہے لیکن آگ سے ہی ڈرتا ہے
جنات اپنا مسکن ہمیشہ ٹھنڈ میں بناتے ہیں جیسے پانی والی جگہیں یا ٹھنڈ والی جگہیں
لیٹرین میں شیطان قسم کے جنات جو گندی جگہوں میں رہتے ہیں یہ بھی ٹھنڈ میں ہی رہائش پزیر ہوتےہیں
یاد رکھیں جب بندے کے معدے میں بننے والا تعفن رطوبات یا سودا جوکہ تاثیر کے اعتبار سے ٹھنڈ ہی ہے ایسی ٹھنڈک بھرے جسم و معدہ و امعاء جہاں قبض سے بدبو پھیلی ہو وہاں یہ اپنا شر مچادیتے ہیں جسکی وجہ سے دماغ میں ہلچل پیدا ہوجاتی ہے
ایسے میں ہمارےعضلاتی غدی, غدی عضلاتی مرکبات اس جادو و جنات کے اخراج میں زبردست ثابت ہوتے ہیں

14/11/2020

Augmentin vs Qast e Shireen
اگمنٹن / قسط شیریں

موسم سرما میں بچوں بڑوں بوڑھوں کے تمام مسائل کا ایک آسان اور موثر ترین حل!

لیکن ہم نے پنساری کے پاس سے 200 گرام قسط شیریں نہیں لانی مگر خراب گلے کھانسی نزلہ اور بخار کے لئے ڈاکٹروں کے مطب میں لائن لگا کر ضرور بیٹھنا ہے-!

اب تو آنلائن پنسار اور ھربل اسٹورز کھل چکے ہیں جہاں بہترین جڑی بوٹیاں آپ گھر بیٹھے منگواسکتے ہیں-

اگمینٹن ایک انگلش دوا ہے اور بطور اینٹی بائیوٹک استعمال ہوتی ہے غالبا پچیس روپے کی گولی ہے معدے کا ستیاناس کر دیتی ہے اسکے متبادل قسط شریں ہے خوراک استعمال تین ماشہ ہمراہ پانی یا دودھ قسط شریں سے بڑھ کے شاید ہی کوئی اینٹی بائیوٹک ہو اور یہ سستی ترین بھی ہے جو زخم کسی دوا سے ٹھیک نہ ہو وہ قسط شریں کے استعمال سے ٹھیک ہو جاتا ہے گلے کے ٹانسلز میں ہمراہ شہد استعمال کریں چینی لوگ اسے مردانہ طاقت اور سفید بال سیاہ کرنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔انتوں کی سوزش اور پرانی پیچش کے لئے قسط شریں اور کلونجی ہموزن کا چار گرام سفوف چند خوراکیں کافی ہیں ٹائیفائیڈ کے جراثیم کسی چیز سے نہیں مرتے قسط شریں شہد کے ہمراہ کھانے سے یہ جراثیم مر جاتے ہیں-

اگر آپ موسم سرما کے دوران دوسو گرام قسط شیریں کا پاؤڈر اور دو سو گرام خالص شہد ملا کر معجون بنا کر شیشے کے جار میں گھر میں رکھیں اور صبح شام ایک چائے کی چمچی دودھ، چائے یا قہوے کے ساتھ لینے کی عادت بنا لیں تو یقین مانئے آپ نزلہ زکام کھانسی گلے کی خرابی اور ٹانسلز کے مسائل سے محفوظ رہیں گے-

قسط شیریں کے فواید طب نبوی کی روشنی میں

حضرت جابر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اے عورتو! تمہارے لیے مقام تاسف ہے کہ تم اپنی اولاد کو خود قتل کرتی ہو‘ اگر کسی کے گلے میں سوزش ہوجائے یا سر میں درد ہو تو وہ قسط ہندی کو لیکر پانی میں رگڑ کر اسے چٹا دے۔ اس طرح کی بے شمار روایات ہیں۔ قسط شیریں کو استعمال کرنے کے بعد مجھے اس کے جو فوائد پتہ چلے وہ بے حساب ہیں۔ حدیث شریف میں اس کے سات فائدے بیان کیے گئے ہیں:۔
1۔ سر کے درد میں مفید ہے‘ جب بھی استعمال کریں چائے والا چمچ کا چوتھا حصہ ایک گلاس پانی کے ساتھ استعمال کریں۔
2۔جگر کیلئے مفید ہے‘ یرقان میں اس کا استعمال دن میں چار سے پانچ مرتبہ انتہائی فائدہ مند ہے‘ جگر کی پرانی کمزوریوں کو رفع کرتی ہے‘ بھوک لگاتی ہے۔ 3۔انتڑیوں کے امراض دور کرتی ہے‘ ٹائیفائیڈ بخار کے جراثیم انتڑیوں میں موجود ہوتے ہیں۔ قسط ان جراثیم کو صرف دس سیکنڈ میں ہلاک کردیتی ہے۔جن لوگوں کا ہاضمہ اکثر خراب رہتا ہے ان کیلئے یہ بہترین دوا ہے۔ جتنے بھی شدید موشن آرہے ہوں اس کی گھنٹے گھنٹے بعد چار خوراکیں کافی ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ پیٹ کے پرانے مریضوں کیلئے انتہائی مفید دوا ہے۔
4۔ امراض سینہ کیلئے: پرانی کھانسی کیلئے اس کو ملٹھی کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا مفید ہے۔ یہ تپ دق کا انتہائی کم خرچ اور پکا علاج ہے‘ طب نبوی ﷺ میں اس کو زیتون کے تیل کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا تپ دق کا علاج بتایا گیا ہے اور یہ واقعی مفید ہے۔ قسط شیریں‘ زیتون کا تیل اور شہد ہموزن ملالیں‘ یہ معجون جسمانی کمزوریوں کیلئے انتہائی مفید ہے۔ یہ پلورسی (جو کہ پھیپھڑوں میں پانی پڑجانا) کیلئے بھی بہت مفید ہے۔ 5۔یہ انسان کے جسم میں قوت مدافعت بڑھاتی ہے‘ بیماریوں کے خلاف ڈھال ہے۔یہ وائرس کے حملے کا دورانیہ کم کردیتی ہے۔مثلاً زکام تین دن لازمی رہتا ہے۔ یہ اس کا دورانیہ کم کرکے ایک دن کردیتی ہے۔حفاظتی اقدامات کے طور پر صبح وشام اس کا استعمال آپ کو وائرس کے حملوں سے محفوظ رکھے گا۔ اس کو کلونجی کے ساتھ ملا کر پیٹ کے ہر مرض کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔6۔ اگر کوئی زخم‘ پھوڑا‘ پھنسی‘ ٹھیک نہ ہورہا ہو یہ وہاں بھی کام کرتی ہے‘ صبح‘ دوپہر‘ شام پانی کے ساتھ پونا(3/4) چائے والا چمچ استعمال کریں۔ پھر قدرت کا کرشمہ دیکھیں۔ زخم بھرنے تک یقین سے استعمال کریں۔ زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ میں زخم بھرجائے گا۔ ورنہ ایک ہفتہ مزید استعمال کریں۔7۔گردوں کی سوزش میں اس سے بہتردوائی شاید ہی کوئی ہو‘ گردوں میں سوزش کے جراثیم منہ کے ذریعے ہی جاتے ہیں۔ گلا خراب ہو‘ ٹانسلز ہوں یا دانتوں میں انفیکشن ہو‘ آپ کے گردے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس کیلئے آپ قسط شیریں پانی کے ساتھ چھوٹا چمچ استعمال کریں۔ انشاء اللہ اس مرض سے محفوظ رہیں گے۔ یہ پٹھوں کے درد کیلئے بھی مفید ہے۔ اعصاب مضبوط بناتی ہے‘ چھوٹے بچوں کو سردیوں میں ٹھنڈ لگنے سے محفوظ رکھنے کیلئے اس کو شہد میں ملا کر معجون بنا کر رکھ لیں۔ ذرا نزلہ زکام محسوس کریں فوراً چٹا دیں۔ انشاء اللہ سردیاں آرام سے گزریں گی۔ اوپر دئیے گئے تمام نسخہ جات کو بلاخوف و خطر استعمال کرسکتے ہیں۔خواتین کے امراض میں بھی مفید ہے۔ لیکوریا دور بھگاتی ہے۔

08/11/2020

*ڈرامہ ارطغرل دیکھنے اور نہ دیکھنےوالوں کو اس کا بھی علم ہونا چاھئے*
👈جب مصطفی کمال پاشا نے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا تو آل عثمان كو راتوں رات گھریلو لباس ہی میں یورپ بھیج دیا گیا۔
👈شاہی خاندان (ملکہ اور شہزادوں) نے التجا کی کہ یورپ کیوں؟ ہمیں اردن، مصر یا شام کسى عرب علاقے ہی ميں بھیج دیا جائے لیکن صہیونی آقاؤں کے احکامات واضح تھے۔

👈اپنی آتش انتقام کو ٹھنڈا کرنا اور ان کو آخری درجے ذلیل کرنا مقصود تھا۔

👈چنانچہ کسی کو یونان میں یہودیوں کے مسکن سالونیک اور کسی کو یورپ روانہ کیا گیا، اور آخری عثمانی بادشاہ سلطان وحید الدین اور ان کی اہلیہ کو راتوں رات فرانس بھیج دیا گیا-

👈ان کی تمام جائیدادیں ضبط کرلی گئیں یہاں تک کہ گھریلو لباس میں خالی جیب اس حال میں انھیں رخصت کیا گیا کہ ایک پائی تک ان کے پاس نہ تھی-

👈کہا جاتا ہے کہ سلطان وحید الدین کے شہزادے منھ چھپا کر پیرس کی گلیوں میں کاسۂ گدائی لیے پھرتے تھے کہ کوئی انھیں پہچان نہ پائے-

👈پھر جب سلطان کی وفات ہوئی تو کلیسا ان کی میت کو کسی کے حوالے کرنے پر آمادہ نہ ہوا کیونکہ دکانداروں کا قرض ان پر چڑھا ہوا تھا-

👈بالآخر مسلمانوں نے چندہ کرکے سلطان کا قرض ادا کیا اور ان کی میت کو شام روانہ کیا اور وہاں وہ سپرد خاک ہوئے۔

👈بیس سال بعد جنہوں نے سب سے پہلے ان کے بارے میں دریافت کیا اور ان کی خبرگیری کی وہ تركى كے پہلے منتخب وزیر اعظم عدنان مندریس تھے-

👈شاہی خاندان کی تلاش کے لیے وہ فرانس گئے اور وہاں جاکر ان کے احوال وکوائف انھوں نے معلوم کیے۔ پیرس کے سفر ميں وہ کہتے تھے کہ مجھے
میرے آباء کا پتہ بتاؤ مجھے میری ماؤں سے ملاؤ، بالآخر وہ پیرس کے ایک چھوٹے سے گاؤں پہنچ کر ایک کارخانے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ

👈سلطان عبد الحمید کی زوجہ پچاسی سالہ ملکہ شفیقہ اور ان کی بیٹی ساٹھ سالہ شہزادی عائشہ ایک کارخانے میں نہایت معمولی اجرت پر برتن مانجھ رہی ہیں-

👈یہ دیکھ کر مندریس اپنے آنسو روک نہ سکے اور زار وقطار رو پڑے، پھر ان کا ہاتھ چوم کر کہنے لگے: مجھے معاف کیجیے مجھے معاف کیجیے! شہزادی عائشہ نے پوچھا :آپ کون ہیں؟

کہا: میں ترک وزیر اعظم عدنان مندریس ہوں،اتنا سننا تھا کہ وہ بول اٹھیں: اب تک کہاں تھے؟ اور خوشی کے مارے بے ہوش ہوکر گر پڑیں-

👈عدنان مندریس جب انقرہ واپس گئے تو انہوں نے کمال اتا ترک کے دوست اور اس وقت کے ترکی کے صدر جلال بیار سے کہا کہ ميں آل عثمان کے لیے معافی نامہ جاری کرنا چاہتا ہوں، اور اپنی ماؤں کو واپس لانا چاہتا ہوں، بیار نے شروع میں تو اعتراض کیا-

👈مگر مندریس کے مسلسل اصرار پر صرف عورتوں کو واپس لانے کی اجازت دی، پھر عدنان مندریس خود فرانس گئے اور ملکہ شفیقہ اور شہزادی عائشہ دونوں کو فرانس سے ترکی لے آئے-

👈مگر شہزادوں کے لیے معافی نامہ جاری کرکے ان کو اپنے وطن عزیز ترکی لانے کا سہرا مرحوم اربکان کے سر جاتا ہے جب وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے۔

👈پھر جب مندریس پر جھوٹا مقدمہ چلا کر ان کو تختہ دار پر لٹکایا گیا تو منجملہ الزامات کے ساتھ ساتھ دو الزام یہ بھی تھے کہ
👈انہوں نے 30 سال بعد ترکی میں عربی زبان میں اذان دینے کی اجازت دی جسے کمال اتا ترک اور اسکے ساتھیوں نے ترکی میں بند کر دیا تھا۔

👈انھوں نے حکومت کے خزانے سے چوری کرکے سلطان کی اہلیہ اور بیٹی پر خرچ کیا ہے، اس لیے کہ وہ ہر عید کے موقع پر ملکہ اور شہزادی سے ملاقات کے لیے جاتے، ان کے ہاتھ چومتے، اور اپنی جیب خاص اور اپنے ذاتی صرفے سے ۱۰ ہزار لیرہ سالانہ شہزادی عائشه اور ملکہ شفیقہ کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔

جب 17 ستمبر 1961 کو عدنان مندریس اور ان کے 4 ساتھیوں کو ملٹری کورٹ نے شہید کیا تو دوسرے ہی دن دونوں (ملکہ اور شہزادی) کی بھی بحالت سجود وفات ہوئی۔

یہ سلوک ہے ھمارے نام نہاد سیکولرزم کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ، نہ کوئی مروت نہ شرافت، نہ صلہ رحمی، نہ قرابت داری، نہ اخلاق کا پاس، نہ قدروں کا لحاظ!

یہ جو قومیت اور وطنیت کا راگ الاپتے رہے اور نعرےلگا لگا کر جن کی زبانیں نہیں تھکتی تھیں ان کا مقصد بجز اس کے اور کیا تھا کہ اسلامی اخوت سے لوگوں کا رشتہ کاٹ دیا جائے اور اس مقدس رشتے کے تانے بانے کو بکھیر کر اس کو ایسے جاہلی رشتوں میں تبدیل کیا جائے جن میں احترام ذات مفقود ہے اور حرمتوں اور انسانی رشتوں کا کوئی پاس ولحاظ نہیں۔

روئے زمین پر موجود شیطان کے چیلوں سے کبھی بے خبر نہ رہنا! اور ہاں یہ قصے بچوں کو سلانے کے لئے نہیں بلکہ سوتوں کو جگانے اور جواں مردوں کو کمربستہ کرنے کے لئے ہیں!

*اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے*
*مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے*

* عربی سے ترجمہ وتالیف *

05/11/2020

تیز بخار، کھانسی، شدید جسم درد، منہ کا کڑوا پن اور سونگھنے، ذائقے کی حس ختم ہونے جیسی علامات تقریباً پورے پاکستان میں پھیل چکی ہیں۔
خدارا اپنی حفاظت کریں۔
1- ٹھنڈے پانی سے پرہیز کریں
2- برف کا استعمال مکمل طور پر بند کردیں
3- جوشاندہ پئیں
4- بھاپ لیں
5- انڈے کھائیں
6- انجیر کھائیں
7- بادام کھائیں
8- لونگ، الاچی، دارچینی کا قہوہ پئیں
9- مٹن سوپ پئیں، کالی مرچ ادرک، ہلدی ڈال کر
10- دیسی مرغی کا سوپ پئیں، کالی مرچ، ادرک، ہلدی ڈال کر
11- کیلشیم کسی بھی صورت میں لازمی لیں
12- پانی کا استعمال زیادہ کریں
ﷲ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو اس پیغام کو نظر انداز نہ کریں.
Natural health corner.

05/11/2020

#مولی کے استعمال کے فوائد:

مولی یا سفید مولی یا سردیوں کی مولی.

ایشیاء اور افریقہ کے بیشتر علاقوں میں کاشت ہوتا ہے۔ اس کا آبائی وطن ایک اندازہ کے مطابق جاپان ہے اس لیے اسے جاپانی مولی بھی کہا جاتا ہے۔ حیاتین جیم کی اچھی مقدار کے لیے مشہور ہے۔

ﻣﻮﻟﯽ ﮐﮯ ﻃﺒﯽ ﺧﻮﺍﺹ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﺝ...

ﮔﺮﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺜﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﺘﮭﺮﯼ ﯾﺎ ﺭﯾﺖ ﺍٓﻧﮯ ﻣﯿﮟﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝﺍﮐﺴﯿﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎﻣﺘﻮﺍﺗﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺍﻥﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﺎ ﺷﺎﻓﯽ ﻋﻼﺝﮨﮯ ﺧﻮﺩ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﮨﻀﻢﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼﻏﺬﺍﻭٔﮞ ﮐﻮ ﻓﻮﺭﯼ ﮨﻀﻢ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ

بواسیر ﮐﮯ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯﻣﻮﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯﭘﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺱ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯﺟﻮ ﺟﻠﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺭﺵ ﺑﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺧﺮﺍﺑﯽﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔

ﯾﺮﻗﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﺳﺒﺰﯼ ﮨﮯ

اﺱﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔُﮍ ﮐﮭﺎﻧﮯﺳﮯ ﯾﮧ ﺟﻠﺪ ﮨﻀﻢ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔

ﺟﮕﺮ ﺍﻭﺭﺗﻠﯽ ﮐﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔

ﭘﯿﺸﺎﺏﮐﺎ ﺟﻞ ﮐﺮ ﺍٓﻧﺎ ﯾﺎ ﺭﮎ ﺭﮎ ﮐﺮ ﺍٓﻧﺎ ﻣﻮﻟﯽﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

یرﻗﺎﻥ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﻮﻟﯽ ﮐﺎ ﺭﺱ چینی ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﮐﺮ ﭘﺌﯿﮟ ﺍﻓﺎﻗﮧ ﮨﻮﮔﺎ۔


ﻣﻮﻟﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﻣﻌﺪﮦﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔

موﻟﯽ ﮐﺎ ﻧﻤﮏﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﭘﺮﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﺎﺋﯿﻮﺭﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞﮐﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻮﻟﯽ ﮐﺎ

ﺭﺱ ﺗﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﯿﻞ ﻣﯿﮟﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﭘﮑﺎﺋﯿﮟ ﺟﺐﺻﺮﻑ ﺗﯿﻞ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮﺍﺳﮯ ﺑﻮﺗﻞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﺎ ﺷﺎﮨﯽ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ۔

ﺩﺱ ﺗﻮﻟﮧ ﻣﻮﻟﯽ ﮐﺎﭘﺎﻧﯽ ﻧﻤﮏ ﻣﻼ ﮐﺮ ﭘﯿﻨﮯﺳﮯ ﺑﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻠﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔

ﻣﻮﻟﯽ ﮐﺎ ﺭﺱ ﺑﭽﮭﻮ ﭘﺮﮈﺍﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﭽﮭﻮ ﻧﮯ ﮈﻧﮓﻣﺎﺭﺍ ﮨﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﻭﺋﯽ ﺳﮯﻣﻮﻟﯽ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟﺯﮨﺮ ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﺯﺍﺋﻞﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮﻣﻞ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﭽﮭﻮ ﮈﻧﮓ ﻧﮧ ﻣﺎﺭ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ۔

گنج ﭘﺮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﻣﻮﻟﯽ ﮐﺎ ﺭﺱﺭﮔﮍﻧﮯ ﺳﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﺎﻝ ﺍُﮒ ﺍٓﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﻮﻟﯽ ﮐﮯ ﺑﯿﺠﻮﮞ ﮐﺎﺭﺱ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﮯ ﺩﻭﺩﮪﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﮐﺮ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯﺧﻨﺎﺯﯾﺮ ﮐﯽ ﮔﻠﭩﯿﺎﮞ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﺘﻮﺍﺗﺮﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﺜﺎﻧﮧ ﮐﯽﭘﺘﮭﺮﯼ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔

ﻣﻮﻟﯽ ﮐﺎ ﺍﭼﺎﺭ ﺑﮭﯽﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ۔ﻣﻮﻟﯽ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮﮐﺎﭦ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﺎﻥﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﮟﻋﻤﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﻟﺬﯾﺬ ﺍﭼﺎﺭ ﺑﻨﮯﮔﺎ۔ ﯾﮧ ﺍﭼﺎﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺗﻠﯽ ﺑﻮﺍﺳﯿﺮ ﺭﮐﺎ ﮨﻮﺍﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﯽ ﺗﮑﺎﻟﯿﻒ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﻮﻟﯽ ﮐﺎ ﺭﺱ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮﺍﺳﮯ ﺍٓﮒ ﭘﺮ ﮔﺮﻡ ﮐﺮﯾﮟﺍﻭﺭ ﮔﺎﮌﮬﺎ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮﺍﺳﮯ ﺳﮑﮭﺎﻟﯿﮟ۔ ﯾﮧﺟﻮﮨﺮ ﻣﻮﻟﯽ ﺗﯿﺎﺭﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﺳﮯ ﺳﺨﺖﺩﺭﺩ ﮔﺮﺩﮦ ﮐﻮ ﺍٓﺭﺍﻡ ﺍٓﺟﺎﺗﺎﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﮐﺎ ﮨﻮﺍ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

26/08/2020

انگور کے چند فوائد
انگور بڑا مفید اور غذائی اجزا سے بھر پور پھل ہے 50گرام انگور میں 26حرارے قوت ھوتی ھے - جو حضرات طاقت کے لئے گلوکوس کا استعمال کرتے ہیں - انہیں اس کی بجائے انگور کا شوق کرنا چاہئے ۔ کیونکہ اس میں گلوکوس کے علاوہ دیگر غذائی اجزا اور حیاتین بھی ھوتے ہیں ۔ اس میں لحمی مواد ، چکنائی اور نشاستے دار شکریلے اجزا چونا ،فاسفورس وغیرہ ہوتے ہیں ۔فولاد تو وافر مقدار میں پایا جاتا ھے - یہ ملٹی وٹامن پھل ھے - اس میں 80 فیصد پانی موجود ھوتا ھے ۔ یہ پوٹاسیم کا اچھا ذریعہ ھے - انگوری شکر یا خالص گلوکوس کی وجہ سے فوری توانائی مہیا کرتا ھے ۔ اس میں حیاتین ب ، ج اور د ھوتے ہیں ۔ یہ معدے کو طاقت دیتا ھے - جلن کو ختم کرتا ھے - خون کو بڑھاتا ھے - اس لئے خون کی کمی کی صورت میں انگور استعمال کرنے چاہئے ۔ جسمانی کمزوری و نقاہت کو دور کرتا ھے ، بدن کو موٹا کرتا ھے - اکثر حضرات وہم وسوسے پریشان خیالی - پست ہمتی اور چڑ چڑے پن کا شکار ھوتے ہیں - ان عوارض کے لئے انگور بڑا موثر ھے ۔ قبض کو دور کرتا ھے ۔ جن لوگوں کو قبض کی شکایت رہتی ھے ان کو رات کو سوتے وقت 100گرام انگور استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ھے - انگور جسم کو تندرست رکھتا ھے - گردے کی بیماری میں مفید ھے - اس کے استعمال سے گردوں کو طاقت ملتی ھے - انگور پیشاب آور ھے - پیشاب کے ذریعہ بدن کے فاسد مادوں کو خارج کرتا ھے ۔ اس لئے گردوں کی سوزش اور گردوں کی پتھری میں بھی انگور مفید ھے ۔ اس کو چھیلکوں سمیت استعمال کرنے سے سرطان کا امکان نہیں رہتا ۔ بڑھاپے کے عمل کو کم کرتا ھے ۔ انگور دل کے امراض سے بچاتا ھے - دل کے درد اور بے ترتیب دھڑکنوں میں بھی انگور فائدہ دیتا ھے - انگور کا جوس آدھے سر کا سرد ( شقیقہ ) کا موثر علاج ھے ۔آدھے سر کے درد میں انگور کا جوس صبح و شام استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ھے ۔ انگور کے پتے بھی بطور دوا استعمال کئے جاتے ہیں ۔ یہ کالی کھانسی ، استسقاء ( پیٹ میں پانی بھر جانا) اور جوڑوں کے درد میں مفید ھے - ان بیماریوں میں انگور کے پتوں کا جوشاندہ صبح و شام استعمال کرنا مفید ھے ۔

1. نکسیر
میٹھے انگور کا رس نکال کر اس کو نتھنوں میں ڈال کر اوپر کو سانس کے ساتھ سڑکنے سے نکسیر بند ھو جاتی ھے ۔

2. آنکھیں دکھنا
کھٹے انگور کا پانی نکال کر ڈراپر وغیرہ سے دو بوند دکھتی آنکھ میں ڈالنے سے آرام آ جاتا ھے ۔

3.کھانسی
مغز بادام 10گرام ملہٹی پسی ہوئی 10گرام منقا بیج نکال کر 10گرام سب کو پیس کر چنے کے برابر گولیاں بنا لیں اور ایک ایک گولی منھ میں رکھ کر چوسیں ۔ کھانسی ان شاءاللہ دور ھو جائے گی ۔

4. لیکوریا
لیکوریا ، بد ہضمی و قبض اور سر درد کی شکایت رہتی ھو تو انگور کا رس ایک چمچہ ( 90بوند ) صبح و شام استعمال کرنا مفید ھے حاملہ عورت کو اگر روزانہ صبح و شام دیا جائے تو اسے چکر آنا ، غشی ، مروڑ ، اپھارہ اور قبض وغیرہ کی شکایت نہیں ھوتی ۔

5.بندش حیض
اگر ماہواری ٹھیک وقت پر نہ ھوتی ھو -
تو مغز بادام بغیر چھلکا اتارے 40گرام کشمش سبز 100گرام نارجیل 70گرام چھوہارے عمدہ قسم آٹھ عدد سب کو کوٹ کر محفوظ کر لیں ماہواری کے دنوں میں 50گرام روزانہ دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے حیض کھل کر جاری ھو جاتا ھے ۔

6.خوبصورتی میں اضافہ کے لئے
انگور جلد کو نرمی چمک اور غذائیت مہیا کرتا ھے ۔ اس کے لئے انگور اور شہد ملالیں اور 15-20منٹ کے لئے چہرے پر اس کی ہلکی مالش کریں ۔ پھر اچھی طرح دھو کر مناسب کریم لگالیں ۔یہ خشک جلد کے لئے مفید ہے ۔چکنی جلد کے لئے انگور کا جوس دس چمچہ پانی پانچ ، بادام کا روغن دش چمن اچھی طرح ملا کر فریج میں رکھ لیں اور صبح و شام روئی کی پھریری سے چہرے پر لگائیں کچھ دیر بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں ۔ انگور سے سرکہ بھی تیار کیا جاتا ھے - جو تمام سرکوں میں بہتر شمار ھوتا ھے - جس کے اثرات خام - انگور کے مطابق ھوتے ہیں ۔ اس کا کھانا موسم برسات میں مفید ھوتا ھے ۔

7. بال گرنا
بال جھڑنا یعنی گنج کے لئے - کشمش عمدہ ایک حصہ ایلوا آدھا حصہ لے کر کھرل میں خوب باریک پیس لیں - اور پانی شامل کر کے لیپ لگائیں چند روز کے استعمال سے بال گرنا بند ہو جاتے ہیں ۔ اور نہایت عمدہ بال پیدا ھونا شروع ھو جاتے ہیں - پیچش اور دست کی صورت میں انگور نہ کھائیں - شوگر کے مریض اپنے معالج کے مشورے سے استعمال کریں ۔

جدید سائنس نے 100گرام انگور میں درج ذیل اجزاء بتائے ہیں :
پانی 84.6گرام
راکھ 0.2گرام
چکنائی 0.1گرام
پروٹین 0.5گرام
کاپی ۔۔

17/08/2020

ایلوایا گھیکوار (Aloe Vera )کا پودا کسی خاص آب و ہوا یا موسم کا پابند نہیں ، ا سےکہیں بھی اگا یا جا سکتا ہے۔ عام گھروں کے گملوں میں بھی لگا ئے جا سکتے ہیں۔اس پودے کے اجزاءجسم کے اوپر بھی لگائےجاتے ہیں اور اندرونی طور پر بھی بطوردوااستعمال ہوتے ہیں۔جسم کے جلنے یا آبلے کے علاج میں اس کی شفا ئی خصو صیات کا شہرہ سکندر اعظم کے دورسے شروع ہوگیا تھا۔ روایات کے مطابق سکندراعظم نے صومالیہ کے قریب ایک جزیرے کو محض اس لئے فتح کیا تھا کہ وہاں زخم کو ٹھیک کرنے والا یہ حیران کن پودا اگا کرتا تھا۔ ایلوویرا کے پودے کا ایک خاص جزو اس کا دودھ ہےجوتازہ پتے یاڈنٹھل کو توڑ کرحاصل کیا جاتا ہے۔ یہ جوس انتہائی طاقتور قبض کشا ہوتا ہے۔ ایلوا کاذائقہ تلخ کبھی میٹھا بھی ہوتا ہےجبکہ مزاج ٹھنڈا ہے۔ یہ جریان خون کو روکنے والااورخون صاف کرنےمیں لاجواب ہے۔

ایلوویراگھیکواراہم جسمانی غدود مثلاگلے میں موجود تھائی رائڈ غدہ اوردماغ کی جڑ میں واقع غدہ نخامی(Pituitary Gland) جو جسمانی افزائش اور افعال کیلئے ضروری ہارمون تیار کرتے ہیں ، پر مثبت اثرڈالتا ہے۔علاوہ ازیں خواتین کی بیضہ دانیوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ اس پودے کے پتے،دودھ اور عرق طب میں استعمال کئے جا تے ہیں۔ گھیگوارسوزش کم کرتا ہے، پٹھےاکڑ جائیں تو انہیں نرم کرتا ہے، خون صاف کرتا ہےاور جگر سے فاسدمادوں کو باہر نکالتا ہے۔ گیکو ارکےنرم دبیزپتوں کو دبا اور نچوڑ جو جیل (Gel) حاصل کیا جا تا ہے اسے جلنے ،آبلہ پڑنے خراش لگنے ،تیز دھوپ سے جلد کے سرخ ہونے اور زخمی ہونے کی صورت میں جلد پر لیپ کی صورت میں لگا یا جا سکتا ہے۔ آشوب چشم کی وجہ سے اگر آنکھیں سرخ ہوں اور دکھ رہی ہوں تو اسں جیل کو آنکھوں کے با ہر پیو ٹے پر ملیں ـ آنکھوں کے اندر ہر گز نہ جانے دیں۔ اگر جلد کشش کھو چکی ہے، بے رونق اور کھر دری نظر آرہی ہے تو گھیکوار کے دودھ سے ان کی تازگی اور شگفتگی بحا ل کی جا سکتی ہے تاہم اس کیلئے تازہ جیل استعمال کرنا ضروری ہے۔ بازار میں پہلے سے تیار شدہ ایلوویرا جیل میں وہ شفائی خوبیاں ہوتیں جو تازہ جیل سے حاصل ہوسکتی ہیں۔ جسم کی اندرونی خرابیوں کو دور کر نے کیلئے ایلویرا کا جوس پئیں اور اس کا جل بیرونی جلد پر لگا ئیں۔ زخم ٹھیک کرنے کیلئے پہلے اسے صابن اور پانی سے صاف کریں پھر ایلویرا کے ایک پتے کو کئی انچ تک لمبا ئی میں کاٹ لیں اس کے بعد اس میں سے جو جیل یا گاڑھا مادہ خارج ہوا سے زخم پر لگا ئیں اور خشک ہو نے کیلئے کئی گھنٹے تک یو نہی چھوڑدیں- اگر اس سے درد ہو تو تھوڑی دیر بعد اسے دھولیں اور پھر تا زہ جیل لگا ئیں۔ ایلوا کے طبی خواص والا تیل آپ گھر پر بھی تیا ر کر سکتے ہیں- اس مقصد کیلئے ایلوا کے پتے کو با ریک کاٹ کر شیشے کے ایک مرتبان میں ڈالیں، پھر ان ٹکڑوں کو کسی بھی نباتاتی تیل میں ڈبو دیں۔ 60 دن تک انہیں اسی طرح پڑا رہنے دیں پھر چھان کر گہرے رنگ کی شیشی میں تیل جمع کر لیں اور اس پر “ایلوا تیل” کا لیبل چپکادیں۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ گھیکوار کی اپنی کوئی بو نہیں ہوتی اور بعد میں اس تیل کو شناخت کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ یہ تیل عرصہ دراز تک قابل استعمال رہ سکتا ہے۔

ایلوا کا تیل چونکہ جراثیم اور پھپھوند کا قلع قمع کر تا ہے اسلئے اسے کیل مہاسوں ، خارش،دنبل ، ایگزیما ،داد،قراع (Candidacies) اور دیگر جلدی امراض میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے جیل کو مسوڑھوں کی خرابی دور کر نے کیلئےماؤتھ واش کے طورپر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جیل تو محفوظ ہے لیکن پورے پتے سے نکالے گئے عرق کو بطور دوااستعمال کرنے میں احتیاط کی ضرورت ہے کیو نکہ اس میں موجود Anthraquinone کے باعث یہ بہت تیز قسم کی قبض کشا دوا بن سکتی ہے۔ اسے طویل عرصے تک یا دوران حمل استعمال کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ بعض لوگوں میں ایلوویرا جیل سے جلن اور خارش ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہو تو اس کا استعمال ترک کر دیں۔ قبض کشادوا کے طور پر کسی طبیب کے مشورے سے استعمال کریں اور مقرر خوراک سے تجاوز نہ کریں۔

گھیکوار یا کوار گندل کے سالن اور اس کے حلوے سے بیسیوں قسم کے بادی اور ریاحی امراض دور ہوتے ہیں۔ ¤یہ قوت مردمی کو بڑھانے کے لیے ایک بے بہا تریاق ہے۔ اور کوئی دھات یا اپدھات ایسی نہیں، جو اس سے نہایت ہی اعلیٰ قسم کی کشتہ نہ بنائی جا سکتی ہو۔ المختصر یہ بوٹی سنیاسیوں کی جان اور کیمیا گری کی کان ہے۔

گھیکوار قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جو جلد کی خوبصورتی میں جادوئی دوا کا کام کرتا ہے۔ اور بہت سے امراض کا علاج بھی اس میں پوشیدہ ہے۔ امریکی ماہرین کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ گھیکوار چہرے کی تازگی اور جلد کی خوبصورتی میں جادوئی کردار ادا کرتا ہے ۔
اس میں زخم بھرنے کی حیرت انگیز صلاحیت موجود ہے ۔ گھیکوار یا ایلو ویرا میں پائے جانے والے اجزا جسم میں کینسر ٹیومر کو بڑھنے سے روکتے ہیں۔ کولیسٹرول نارمل کرتا ہے

26/07/2020

Benifits of alovera
ایلوویرا کے 10زبردست فوائد📗

ایلوویرا کی مقبولیت کے پیش نظر اب اس سے تقریباً سب ہی لوگ واقف ہیں ۔یہ پود ادوائی خصوصیات کے باعث لوگوں میں زیادہ مقبولیت حاصل کرتاجارہاہے۔ایلوویرا کا پودا بڑی آسانی سے گھر میں اگایا جاسکتاہے اور تیزی سے بڑھتاہے اتناکہ اگر آپ اسے روز بھی استعمال کریں تو یہ ختم نہیں ہوتا۔

اگر آپ چاہیں تو اسے خریدنے کے بجائے اپنے دوستوں سے شیئر بھی کرسکتے ہیں۔اس ایک پودے میں جتنے فوائد پائے جاتے ہیں تواس اعتبار سے اسے ہر گھرمیں ضرور موجود ہونا چاہئے۔ خاص طور پر خواتین کے چھوٹے موٹے مسائل کے حل میں ایلو ویرا کا پودا بغیر پیسہ خرچ کئے آپکو بے پناہ فائدے پہنچاسکتا ہے لیکن اگر آپ چاہیں تو، بس تھوڑی سی محنت چاہئے اور مسائل کی چھٹی۔

ویسے تو ایلوویرا کے لامحدور فائدے ہیں لیکن ذیل میں ایلوویرا کے چند اہم فوائد درج ہیں جن سے آپ مستفید ہوسکتے ہیں۔

۱۔پیٹ اندر کرنے کے لئے
تین کھانے کے چمچ ایلوویراجیل،گرائپ فروٹ ایک کپ دونوں کو ملاکر بلینڈ کرکے پی لیں۔
۲۔ڈرائے بالوں کے لئے
دو چمچ ایلوویرا جیل،دوچمچ کوکونٹ آئل اور دو چائے کے چمچ کوکونٹ پیسٹ بلینڈ کرکے نہانے سے پہلے بالوں میں لگالیں بیس منٹ بعد دھولیں۔
۳۔پورز کو بند کرنے کے لئے
ایک چائے کاچمچ ایلوویراجیل اور لیموں کارس چند قطرے ملاکر چہرے پر لگائیں۔
۴۔سن برن کیلئے
یہ سن بلاک کاکام کرتاہے۔دھوپ میں نکلنے سے قبل اسکا رس لگانے سے جلد، سورج کی تیز اورمضر شعاعوں سے محفوظ رہتی ہے۔
۵۔جل جانے کی صورت میں
جلنے کی صورت میں فوراً ایلوویرا کارس لگالیں۔جلن دوراور اسکے جراثیم کش اثرات زخموں کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں اورچھالے اور بھی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔
۶۔ناخنوں کے امراض
ناخنوں کے فنگس یا دیگرا مراض میں اسکاگودا لگاکر یااس کے رس میں روئی ڈبو کر ناخن پر رکھ کرپٹی باندھ لیں۔
۷۔میک اپ کے مضر اثرات سے بچاؤ
ایلوویرا کا رس لگا کر دو سے تین گھنٹے کے بعد دھولیں۔رنگت نکھارتاہے اورجلد کو تروتازہ رکھتاہے۔
۸۔اسٹریچ مارکس سے بچاؤ
دورانِ حمل اگر ایلوویرا کا رس پابندی سے پیٹ پر ملاجائے تو اسٹریچ مارکس نہیںآتے۔
۹۔جوڑوں کے درد کے لئے
روزانہ ایک چمچ ایلوویرا کا گودا کھائیں جوڑوں کا درد دور ہوجائے گا۔اسکا ذائقہ اچھانہیں ہوتااسکے لئے آپ اسے چبائیں نہیں بلکہ دواکی طرح منہ میں رکھیں اور پانی سے نگل لیں۔
۱۰۔قبض اور بواسیر
رات سونے سے قبل دوچمچ ایلوویرا کا گودا کھالیں قبض اور بواسیر دونوں مسائل حل ہوجائیں گے۔

📗📗📗📗📗📗📗

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

82/D1 Johar Town
Lahore
54782