Life talkツ
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Life talkツ, Lahore.
22/09/2023
Growing up, I often saw my mom do a lot for people who never used to do the same for her, and it used to frustrate me. But now, I've come to realise that her kindness was purely for the sake of Allah. She never expected anything from anyone except from Allah.
الصلاة خير من النوم
"مرض لگنے کے اوقات"
(انتہائی حیران کن معلومات پر مشتمل تحریر)
فرمانے لگے: ماہرِ امراضِ دل ہونے کے ناطے مجھے دنیا بھر سے طبی اجتماعات اور محاضرات میں شرکت کی دعوت ملتی ہے۔ مگر یہ والا محاضرہ (سیمینار) مجھے دعوت نہ ملنے کے باوجود بھی شمولیت پر اکسا رہا تھا۔ اور اس شدت سے شرکت کی خواہش کا سبب اس سیمینار کا اچھوتا عنوان تھا جس کے مطابق امراض لگنے کا بھی کوئی وقت ہوتا ہے جیسے
برین ہیمبرج کتنے بجے ہوگا،
شوگر کا مرض دن کے کتنے بجے لگے گا
یا
دل کا دورہ کس وقت پڑ سکتا ہے
یا
دماغ کی شریانیں پھٹنے کا کونسا وقت ہوتا ہے؟
کیا کسی مرض کے لگنے کا ایک وقت بھی ہوتا ہے؟ اور پھر یہ سب کچھ جاننے کیلیئے میرا شوق اور تجسس جیت گیا، میں نے ویزہ لگوایا اور ٹکٹ کٹوا کر جرمنی کے شہر (Düsseldorf) میں ہو رہے اس مناسبت کیلئے رخت سفر باندھ لیا۔
سیمینار کے دوران میری کوشش رہی کہ کسی بھی موضوع پر ہو رہی گفتگو میں اپنی شمولیت لازمی بناؤں مگر امراض دل سے متعلق کوئی بھی نشست چوکنے نہ پائے۔
پہلے دن کی نشست میں ایک جرمن مقرر جن کا مذہب کوئی بھی ہو مگر مسلمان نہیں تھا اور نہ ہی اس کا ہمارے دین اسلام سے کوئی تعلق تھا، تقریر کر رہے تھے۔ آپ کے مطابق :
دنیا بھر سے مریضوں کے اعداد و شمار اکٹھے کرنے کے بعد، طبی علوم کے علماء نے یہ جانا ہے کہ دل کے منجملہ اعراض اور مشاکل جیسے دل کی شریانوں کا بند ہوجانا، یا دماغی امراض جیسے دماغ کو جاتی شریانوں کا بند ہوجانا یا پھٹ جانا صبح کے آٹھ بجے واقع ہوتے ہیں۔
کیا آپ اس بیان کی تفسیر جاننا چاہتے ہیں؟
میں بتاتا ہوں: جب ہم رات کو سوتے ہیں تو ہمارے جسم میں خون کا دوران سست پڑ جاتا ہے۔ اگر شریانیں پہلے سے ہی جامد مواد سے اٹی ہوئی ہوں تو خون کے بہاؤ میں رکاوٹیں نیند کے بعد بڑھتی رہتی ہیں، خون شریانوں میں بہتے ہوئے یا خاص طور پر ان اٹی ہوئی جگہوں سے گزرتے ہوئے لوتھڑوں (Clots - coagulate)کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے جسمانی نظام میں ایسا طریقہ رکھ چھوڑا ہے (کیمیاوی عمل بنا دیا ہے) جو دباؤ کی حالت میں ان شریانوں میں اکڑاؤ پیدا کر کے انہیں پھٹنے سے بچاتا ہے، لیکن شریانوں کا یہ اکڑاؤ اور اُس میں جم جانے والے خون کے لوتھڑوں کی وجہ سے دل کا دوران خون رُک جاتا ہے جو دل کے دورے یا دماغی شریانوں کے پھٹنے کا سبب بن جاتا ہے۔
جرمن مقرر جس کا ہمارے دین سے کوئی تعلق نہیں تھا وہ بتا رہا تھا کہ اس عارضے سے بس وہی بچ سکتے ہیں جو صبح سویرے جاگ جائیں اور اگر نیند کی دوبارہ حاجت محسوس ہو رہی ہو تو گھنٹہ بھر جاگنے کے بعد سونا چاہیں تو پھر سے سو جائیں۔ اس سے ہمارے جسم سے بنا ہو وہ میکینزم جو شریانوں کو اکڑا کر پھٹنے سے بچا رہا ہے وہ میکینزم بند ہو جائے گا اور طبیعی سلسلے پھر سے بحال ہو جائیں گے۔
مقرر بولتا جا رہا تھا اور میرا دماغ بس ایک ہی بات کو سوچ رہا تھا کہ یہ مقرر شاید مجھے " نماز نیند سے بہتر ہے – نماز نیند سے بہتر ہے" کو سمجھانا چاہ رہا ہے مگر اس کے پاس مناسب الفاظ نہیں ہیں۔
دیکھیئے: اللہ تبارک و تعالٰی ہماری صبح کی میٹھی نیند کو اور اس میٹھی نیند کیلئے ہماری خواہش کو خوب سمجھتے ہیں، کہیں آپ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ اللہ پاک نے ہمیں صبح سویرے جگا کر کسی عذاب میں ڈالا ہے۔ سچ جانئے کہ اللہ پاک نے ہمیں اس وقت جگا کر ہماری زندگی کو بچایا ہے۔
میرے کلینک پر کئی مسیحی بھائی بھی علاج کیلئے آتے ہیں، اگر مجھے ادراک ہو جائے کہ یہ آدمی کسی بڑی مصیبت سے دوچار ہونے والا ہے تو اُسے کہتا ہوں بھائی صبح سویرے چار یا پانچ بجے جاگ کر اپنے گھر کا ایک چکر لگایا کرو، پانی وغیرہ پینے کی حاجت ہو تو پانی پی لیا کرو، دیگر کسی حوائج سے فراغت کی ضرورت ہو تو اُس سے فارغ ہو لیا کرو اور دوبارہ سونے کی حاجت ہو تو پھر سو جایا کرو مگر اپنے آپ پر اُس وقت جاگنا لازمی کر لو۔۔
بھائیو: سائنس نے ثابت کیا ہے اور علمی مباحثوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ صبح نماز کیلئے جاگنے سے جسم کے اندر بن رہے کیمیاوی تغیرات بند ہو جاتے ہیں، اونچا ہو رہا خون کا دباؤ راہ راست پر آ جاتا ہے، خون کے جامد اجزاء پھر سے تحلیل ہو کر بہاؤ کے عمل کو آسان بنا دیتے ہیں اور ہمیں بہت سارے متوقع امراض سے نجات مل جاتی ہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۞
ترجمہ:
(اے انسانوں اور جنات) اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟
EVERYBODY has had a jealous friend, & the thing about jealous friends is they're always the ones who act like they love u the most. Everything u do, they under eye it, Everybody that likes you, if they can, they interfere with it, Whatever you have they want it too, They're always secretly in competition, They pretend they wish you well when they really wish you hell, They want u to do good but not better than them These ppl are noting but Friendenemies ….. Friends that’s really enemies AND THEY GOTTA GOOOO ...
23-30 is not a nice age.
Your dream career has started, Your family is forcing you to get married,
elders treat you as a wise adult, college guys feel that you are too old to have in their group.
You seem to enjoy both cartoons and the news.
You can no longer do whatever you wish.
Every Aunt you meet asks “When are you getting married!!” while uncles ask “What are you doing with your career?”
When the reality is that you are just riding the wave and going with the flow.
You are a stranger to people whom you consider family, you have all the confidence in the world but little achievements to show. You already have the first-hand experience of living, You know that whatever you have been taught in school, life has been a sheer waste of time.
You know now that love is not that blind and when you decide to be with someone it means being forever, you realize that friendship has its terms and conditions and that your overconfidence is now making its way for a humble conscience.
You now know it is not exactly what you thought it would be.
01/09/2023
//MEIN, ALLAH AUR WOH//
ایک دن خُدا نے مجھ سے پوچھا
"کیا دیکھا تُم نے اُس میں ایسا؟ جب کے میں نے تو اُس کے جیسے کئی انسان بنائے تھے"
میں نے جواب دیا کہ
"واقعی آپ نے اُس کے جیسے بہت بنائے ہیں اور شاید اس سے بھی زیادہ اچھے بنائے ہونگے لیکن اسکے جیسا دل تُو نے پھر کسی کا نہیں بنایا"
"ایسا کیا ہے اُس کے پاس، جو تُجھے اتنا پسند ہے اُس میں"
"اُسکی خود پسندی اور بہادری، وہ دنیا سے لڑ جاتا ہے اپنی من پسند چیز کے لیے یہ خود پسندی اور بہادری ہی تو ہے"
"بس اسی لیے تُجھے وہ پسند تھا کیوں کہ وہ تیرے لیے دنیا سے لڑ جاتا تھا، ہہے نا؟
یہ تیرے لیے ایک تحفہ تھا میری طرف سے"
"تو پھر مجھ سے چھین کیوں لیا اُسے، کسی کو تحفہ دے کر اسے واپس نہیں لیا جاتا"
"میں اپنے بندوں کا پروردگار ہوں، میں اس کائنات کہ مالک ہوں۔ میں چاہتا ہوں میں اپنے بندوں کے سب سے قریب رہوں، لیکن جیسے ہی میں نے دیکھا کے تیرے دل میں اُسکے لیے محبّت میری محبّت سے زیادہ بڑھ رہی ہے تو میں نے تُجھے اُس سے دور کردیا، تبھی تُو آج میرے در پر آیا ہے۔ یہ کرنا ضروری تھا۔
"آپ چاہتے تو مُجھے بتا بھی سکتے تھے ، لیکن ایسے چھیننا نہیں چاہئے تھا"
"وہ محبّت یا عبادت ہی کیا جو کہہ کر کروانی پڑے، یہ تو انسانوں میں بھی نہیں ہوتا میں تو پھر بھی خدا ہوں"
"اچھا مُجھے صبر ہی دیدیں، مُجھ پر تھوڑا تو رحم کریں۔میں بہت تکلیف میں رہتی ہوں۔ مُجھے کچھ یاد نہیں رہتا جب جب اُسکے بارے میں سوچتی ہوں میں کھو سی جاتی ہوں، ایسی تو میں کبھی نہیں تھی. پھر یہ ایک دم کیسے مجھ پر اتنا اثر ہوگیا؟؟"
"یہ درد جو میں نے تُجھے دیا ہے نا یہ میری تُجھ سے محبّت کا ثبوت ہے۔ یہ میری طرف سے ایک انعام ہے، تُو بھول گئ تُجھے بات تک کرنا نہیں آتی تھی اور اب ایسے کرتی ہے کہ کبھی کبھی تو تُو خود حیران ہوجاتی ہے اورمیں تیری باتوں پر مسکراتا ہوں تُو بہت خوش نصیب ہے، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو دنیا میں تیرے جیسا باتیں کرنے کا سوچتے ہیں۔ مگر یہ درد میں نے اُنکو نہیں دیا کیوں کہ اُن میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ یہ برداشت کر پائیں۔ اس کے لیے تو ہی بس میری بہترین بندی تھی۔ اللہ سے بات کرنا کوئی آسان بات تھوڑی ہے"
"ہاں یہ تو مجھے پتہ ہے کے آپ کو میرا بات کرنا بہت پسند ہے۔ تبھی تو دل کا حال بیان کرنے کے لیے روز مسلے پر آپکو حال سناتی ہوں ، لیکن بس ایک خوایش ہے میری کہ میری ہر تحریر ہر ایک لفظ اُس تک پہنچ جائے، آپ سمجھ رہے ہیں نا؟ آپ ہی تو سب سمجھتے ہیں"
"آج ایک بات تجھے بتاتا ہوں کہ وہ تیرا ہر ایک لفظ پڑھتا ہے اور پڑھ کر پہلے مُسکراتا ہے کیوں کے اسکو پتہ ہے کہ تم نے اسکے لیے لکھا ہے، پھر روتا ہے کیوں پھر اسکو تمہاری یاد آتی ہے اور پھر تیرے لیے مجھ سے دعا کرتا ہے کیوں کہ وہ تجھ سے محبت کرتا ہے اور جب کبھی بہت دیر تک تیری طرف سے کچھ موصول نہیں ہوتا تو کافی پریشان ہوجاتا ہے"
"یہ تو میں اس سے تب پوچھوں گی ہے جب وہ مجھے ملے گا, خیر آپ مجھے یہ تو بتائیں کہ میں کب اس سے دوبارہ مل رہی ہوں؟"
"اگر میں کہوں کہ تیری تقدیر میں اس سے دوبارہ ملنا لکھا ہی نہیں ہے میں نے تو؟ اس کے نصیب میں کوئی اور ہے پھر؟"
"نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا، میں اسے کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھوں گی تو روؤنگی، تڑپونگی، مرجاؤنگی۔ میرے مالک، میرے آقا بس اُسکو آخر میں میرے لیے ہی محفوظ رکھئے گا۔ اگر ہم دونوں ایک دوسرے کہ نصیب میں نہیں ہیں تو ہمارے نصیب بدل دیں۔ میں ساری زندگی تیری ہی رہوں گی صدقے دوں گی ساری زندگی شکر میں گزار دوں گی مگر بدلے میں اُسے بس میرا کردیں۔ میں وعدہ کرتی ہوں اُسے سب سے زیاد خوش رکھونگی اور آپ کی بندگی میں اسکی وجہ سے کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اُسے بس میرا محرم بنادیں کسی طرح میں جائز طریقے سے اُسے اپنے حصار میں لانا چاہتی ہوں"
"تیری محبت پر مُجھے فخر ہے، تیری ہر ایک دعا میں نے سن لی ہے بس بہترین موقع پر تجھ تک تیری امانت پہنچ جائیگی۔ اپنے آپ کو اتنا دکھی مت رکھا کر، دنیا کی فکر چھوڑ دے۔ تو مُجھے دوست بنا کر رکھ میں تُجھے تیرے مسئلوں سے بالکل بیگانہ کردونگا، اپنا خیال رکھ"
"بیشک، آپ پوری کائنات کے مالک ہیں، مجھے پورا یقین ہے آپ کا کیا ہوا فیصلہ ہر طرح سے میرے لیے بہتر ثابت ہوگا۔ آپ کسی کے ساتھ نہ انصافی نہیں کرتے، یہ میرا پختہ ایمان ہے، آپ بہترین سے بہترین نوازنے والے ہیں۔ بس میری محبّت پر کن فرما دیں۔ کبھی جو مُجھے صبر کرنا پڑے تو میرا ایک آنسو بھی گرنے سے پہلے میرے اندر صبر پیدا کردیئے گا۔ میں چلتی ہوں، ہمیشہ میرے محافظ رہیے گا...
When hamdan sheikh wrote;
اپنی یادوں کو چھوڑ کر مستقل یہاں
اس دلِ ویران کو تو قبرستان کر گیا
I had a series of flashback to the time when we used to be together. I remember how happy I used to be with you. How I used to get scared at the thought of losing you even though once I told you "koi nahi marta kisi ky begair". What I didn't knew, those memories that we made together will be the slow death of me.
And then maria jay said;
میں کیا خوف کروں کچھ بھی کھونے کا تیرے بعد
میرے پاس کچھ رہا ہی کب ہے ہارنے کے واسطے
23/08/2023
“Idher aao, mery pas betho.”
I went to my mother and sat by her side.
“Kya hua hy meri Shehzadi ko?” she asked.
“Kuch nhi amma bss mood nhi theek thora.” I replied while trying to remain calm and composed.
“Kuch tou hua hai na, aesy tou koi itna pareshan nhi ho jaaya krta?” she insisted. Her voice becoming more and more full of love. But there was a slight hint of worry and sadness that I could feel.
“Ho jaaungi theek ama ap na pareshan hua kren bss dua kren.” I said while holding back tears.
“Tumhary liye rishta dhundun main? Engagement kr dun tumhari?” she asked, her concern becoming more apparent now.
I had never outright told her about you, but she knew enough. She knew your name, she knew how much I loved you. And she knew that your family was the cause of the state that I was in. Even though she had not outright asked me about it yet, she knew.
“Nhi amma, main nhi krna chahti, main kisi ki zindagi nhi barbaad krna chahti fazool mn.” I replied while smiling; a hollow smile to reassure her. It didn't work. She uttered your name and my heart stopped. It was the first time she had outright asked me about you, and I had never imagined that the first time I openly talked to her about you, regarding my feelings for you, would be when you weren't here anymore.
“Tum us bat ki wajah sy aesi hui ho?” she asked; tears in her eyes over seeing me in such a sorry state. I let some of mine fall too at the mention of your name. I simply nodded.
Her tears streamed down her cheeks. This was the first time she had ever cried because of me, because of seeing me in so much pain, yet I still tried to put up a happy face.
I replied while trying to hold back my own tears and smiling, “Kuch nhi amma bs chorein in baaton sy kya faida"
She asked "Kya tumhein Allah pr Yaqeen hai?
I simply shook my head while looking down at my lap; my vision becoming all blurry as rain fell from my eyes onto my lap.
“Mujhay tou bss tumhari khushi dekhni thi. Tum jesy kehtin main waisa kr leti, main kbhi tumhari khushi par compromise na krti. Mujhay tumhary dil sy aur tumhari khushi sy ziyada kuch bhi azeez nhi hai.” her voice cracking as she tried to wipe her tears away.
“Main jaanti hun amma is mn apka koi qusoor nhi tha.” I said as I held her face between my hands and wiped her tears away.
“Mujhsy tum aesy nhi dekhin jatin, humaara tou sub kuch tum he ho, theek ho jao, theek rehnay ki koshish kro.” she pleaded.
“Ap pareshan na hon main theek ho jaaungi,main keh rhi hun na? Aur main keh rhi hun tou meri baat ka yaqeen bhi kr len phr.” I lied as I kissed her forehead. How could I ever admit to her that I'll never be okay again? That your memories, the memories that we made together, still haunted me and would haunt me forever. That I'll always imagine hearing your voice echoing in the empty spaces between my mind. How could I ever admit to her that I remembered each and every moment I spent with you, like it was yesterday? How could I tell her that I remembered the exact date and time I fell in love with you three years ago? How could I tell her that I remembered the exact date and time you told me that you loved me ?
How could I tell her that I remembered the exact dates of each and every time we met? How could I tell her I still have that chocolates in my purse when we went out together for the first time? How could I tell her I still have that empty bottle that you drink? How could I ever tell her that the reason
I couldn't tell her. I couldn't tell her anything. Because it would've broken her heart, more than it broke mine.
وفات سے 3 روز قبل جبکہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
ام المومنین
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے،
ارشاد فرمایا
کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات
جمع ہو گئیں۔
تو
حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے
دریافت فرمایا:
کیا
تم سب
مجھے اجازت دیتی ہو
کہ
بیماری کے دن
میں
عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا
اے اللہ کے رسول
آپ کو اجازت ہے۔
پھر
اٹھنا چاہا
لیکن اٹھہ نہ پائے
تو
حضرت علی ابن ابی طالب
اور
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے
اور
نبی علیہ الصلوة والسلام کو
سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو
اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو
گھبرا کر
ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ
صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور
مسجد نبوی میں
ایک رش لگ گیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا
پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ
میں نے اپنی زندگی میں
کسی کا
اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور
فرماتی ہیں:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور
اسی کو
چہرہ اقدس پر پھیرتی
کیونکہ
نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ
میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ
محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید
فرماتی ہیں
کہ حبیب خدا
علیہ الصلوات والتسلیم
سے
بس یہی
ورد سنائی دے رہا تھا
کہ
"لا إله إلا الله،
بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں
مسجد کے اندر
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
یہ
کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا
کہ
اے اللہ کے رسول!
یہ
لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ
مجھے ان کے پاس لے چلو۔
پھر
اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن
اٹھہ نہ سکے
تو
آپ علیہ الصلوة و السلام پر
7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے،
تب
کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا
تو
سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا
آخری خطبہ تھا
اور
آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید
تمہیں
میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں،
تم سے
میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے،
اللہ کی قسم گویا کہ
میں یہیں سے
اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر
تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر
دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے،
کہ
تم اس (کے معاملے) میں
ایک دوسرے سے
مقابلے میں لگ جاؤ گے
جیسا کہ
تم سے پہلے
(پچھلی امتوں) والے لگ گئے،
اور
یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے گی
جیسا کہ
انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر
مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
نماز کے معاملے میں
اللہ سے ڈرو،
اللہ سےڈرو۔
نماز کے معاملے میں
اللہ سے ڈرو،
(یعنی عہد کرو
کہ نماز کی پابندی کرو گے،
اور
یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔!
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،
میں تمہیں
عورتوں سے
نیک سلوک کی
وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔!
ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا
کہ
دنیا کو چن لے
یا اسے چن لے
جو
اللہ کے پاس ہے،
تو
اس نے اسے پسند کیا جو
اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے
حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد
کوئی نہ سمجھا حالانکہ
انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ
وہ
تنہا شخص تھے
جو
اس جملے کو سمجھے اور
زارو قطار رونے لگے
اور
بلند آواز سے
گریہ کرتے ہوئے
اٹھہ کھڑے ہوئے
اور
نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا
آپ پر قربان،
ہماری
مائیں آپ پر قربان،
ہمارے بچے آپ پر قربان،
ہمارے مال و دولت
آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں
اور
یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے
کہ
انہوں نے
نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کر دی؟
اس پر
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع
ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔!
ابوبکر کو چھوڑ دو
کہ
تم میں سے ایسا کوئی نہیں
کہ جس نے
ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو
اور
ہم نے
اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو،
سوائے ابوبکر کے،
کہ
اس کا بدلہ
میں نہیں دے سکا۔
اس کا بدلہ
میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔
مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں،
سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ
جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
آخر میں
اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے
آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے،
تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
اور
آخری بات
جو ممبر سے اترنے سے پہلے
امت کو
مخاطب کر کے
ارشاد فرمائی
وہ
یہ کہ:"اے لوگو۔۔۔!
قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو
میرا سلام پہنچا دینا۔"
پھر
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو
دوبارہ سہارے سے
اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
اسی اثناء میں
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے
اور
ان کے ہاتھ میں مسواک تھی،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
مسواک کو دیکھنے لگے لیکن
شدت مرض کی وجہ سے
طلب نہ کر پائے۔
چنانچہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں
اور
انہوں نے
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے کر
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے
دہن مبارک میں رکھ دی،
لیکن
حضور صلی اللہ علیہ و سلم
اسے استعمال نہ کر پائے
تو
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم
صلی اللہ علیہ وسلم سے
مسواک لے کر
اپنے منہ سے نرم کی اور
پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی
تاکہ دہن مبارک
اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو
نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے
پیٹ میں گئی
وہ
میرا لعاب تھا،
اور
یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا
کہ
اس نے وصال سے قبل میرا
اور
نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
اُم المؤمنين
حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں
اور
آتے ہی رو پڑیں
کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ
نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا
کہ
جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم
انکے ماتھے پر
بوسہ دیتے تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
اے فاطمہ! "
قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے
ان کے کان میں
کوئی بات کہی
تو
حضرت فاطمہ
اور
زیادہ رونے لگیں،
انہیں اس طرح روتا دیکھ کر
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
پھر فرمایا
اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں
کوئی بات ارشاد فرمائی
تو
وہ خوش ہونے لگیں
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد
میں نے
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا
کہ
وہ کیا بات تھی
جس پر روئیں
اور
پھر خوشی کا اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں
کہ
پہلی بار
(جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب
انہوں نے
مجھے بے تحاشا روتے دیکھا تو
فرمانے لگے: "فاطمہ!
میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے
تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر
میں خوش ہوگئی۔۔۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
سب کو
گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ!
میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی
اور
ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے
وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔
(میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء
اور
صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں
سمجھ گئی
کہ
انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله!
ملَکُ الموت
دروازے پر کھڑے
شرف باریابی چاہتے ہیں۔
آپ سے پہلے
انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے،
اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله!
مجھے اللہ نے
آپ کی چاہت جاننے کیلئے بھیجا ہے
کہ
آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں
یا
الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے،
مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
ملَکُ الموت
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے
سرہانے کھڑے ہوئے
اور
کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف
جو
غضبناک نہیں۔۔۔!"
سیدہ عائشہ
رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا،
اور
سر مبارک
میرے سینے پر
بھاری ہونے لگا،
میں
سمجھ گئی
کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔
مجھے اور تو
کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں
اپنے حجرے سے نکلی اور
مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!
رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
مسجد آہوں
اور
نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر
علی کرم الله وجہہ
جہاں کھڑے تھے
وہیں بیٹھ گئے
پھر
ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
ادھر
عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ
معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ
تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار!
جو کسی نے کہا
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں،
میں
ایسے شخص کی
گردن اڑا دوں گا۔۔۔!
میرے آقا تو
الله تعالی سے
ملاقات کرنے گئے ہیں
جیسے
موسی علیہ السلام
اپنے رب سے
ملاقات کوگئے تھے،
وہ لوٹ آئیں گے،
بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔!
اب جو
وفات کی خبر اڑائے گا، میں
اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"
اس موقع پر
سب سے زیادہ ضبط، برداشت
اور صبر کرنے والی شخصیت
سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔
آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے،
رحمت دوعالَم
صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر
سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔!
ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!
ہائے میرا محبوب۔۔۔!
ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر
آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر
بوسہ دیا
اور کہا:"یا رسول الله!
آپ پاکیزہ جئے
اور
پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے
اور خطبہ دیا:
"جو
شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی
عبادت کرتا ہے سن رکھے
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور
جو الله کی عبادت کرتا ہے
وہ جان لے
کہ الله تعالی شانہ کی ذات
ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر
میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں
اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ
رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ
نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ
اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے،
ہائے میرے پیارے بابا جان،
کہ
جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے،
ہائے میرے پیارے بابا جان،
کہ
ہم جبریل کو
ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔
میں نے آج تک
اس سے اچّھا پیغا م کبھی پوسٹ نہیں کیا۔
اسلۓ
آپ سے گزارش ہے
کہ
آپ اسے پورا سکون
و اطمینان کے ساتھ پڑھۓ۔
ان شاء اللہ,
آپکا ایمان
Click here to claim your Sponsored Listing.