Muhammad waqas khichi
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad waqas khichi, Health/Beauty, Chinoit, Lahore.
08/04/2022
کسی گاؤں کے لوگ بہت زیادہ مہمان نواز تھے۔ان کے گاؤں میں کوئی مہمان آجائے تو بہت آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ ان کے گاؤں میں ایک مہمان آیا۔گاؤں والوں نے اس کے آگے طرح طرح کے کھانے دسترخوان پر چُن دیے۔
ساتھ ہی ایک بڑا سا ڈنڈا رکھ دیا۔مہمان کھانے دیکھ کر بہت خوش ہوا،لیکن ڈنڈا دیکھ کر ڈر گیا۔میزبانوں سے پوچھا:یہ ڈنڈا کیوں رکھا ہے؟“
انھوں نے کہا:”یہ ہماری روایت ہے۔آپ ڈریں نہیں اور کھانا شروع کریں۔“
مہمان اَڑ گیا کہ پہلے مجھے ڈنڈے کی حقیقت سے آگاہ کریں۔
میزبان لاکھ قسمیں کھائیں کہ اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا،لیکن مہمان نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔دل ہی دل میں وہ ڈر رہا تھا کہ کھانا کھلانے کے بعد یہ لوگ میری درگت بنائیں گے
مہمان کا کھانا کھانے سے انکار سن کر پورے گاؤں میں کھلبلی مچ گئی
ایک بزرگ کو مہمان کے پاس لایا گیا کہ وہ ڈنڈے کی حقیقت بیان کریں۔بزرگ ڈنڈا دیکھ کر غصے ہوئے اور کہا اتنا لمبا ڈنڈا نہیں رکھتے۔ اسے تین فٹ کم کرو۔ڈنڈے کو فوراً تین فٹ کم کیا گیا،لیکن مہمان اب بھی کھانے سے انکاری تھا۔
وجہ ڈنڈے کی اب بھی لمبائی پانچ فٹ تھی۔گاؤں والے بہت پریشان ہوئے ایک اور بزرگ جن کی عمر نوے برس ہو گی ان کو لایا گیا۔وہ بھی ڈنڈے کی لمبائی دیکھ کر آگ بگولا ہو گئے۔کہنے لگے کہ ہاتھ کی لمبائی کے مطابق چھڑی رکھتے ہیں۔اس کو کم کرو۔
ڈنڈے کٹ کر چھڑی کے برابر ہو گیا۔اب چھڑی سے تو مہمان کو کوئی ڈر نہ تھا،لیکن اس کا تجسس برقرار تھا کہ اس ڈنڈے کی اصل حقیقت ہے کیا؟
آخر ایک بزرگ کو جن کی بھنوؤں اور پلکوں کے بال تک سفید تھے ڈنڈا ڈولی کرکے لایا گیا۔انھوں نے چھڑی دیکھی تو برس پڑے اور کہنے لگے،پیالی میں ایک تنکا رکھا جاتا ہے تاکہ اگر مہمان کے دانتوں میں گوشت کا کوئی ریشہ رہ جائے تو وہ اسے نکال سکے۔
ڈنڈے کی حقیقت جان کر مہمان نے سکون کا سانس لیا،پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور گاؤں والوں کا شکریہ ادا کرکے اپنی راہ ہو لیا۔
UrduPoint.com, Urdu News, Poetry Technology Sports, Health and more The largest Urdu web site of the world, Urdu News, Urdu Poetry, Horoscope, Technology, Weather, Business, Sports, Health, Islam, Women, Show-biz, Addab, Islamic Names, Articles and Features.
30/03/2022
لکھاری
شازل سعید
وہ ایک ٹانگ سے اپاہج تھی اور اس کا شوہر اسے وہیل چیئر پر بٹھا کر حج کروا رہا تھا رکن یمانی کے دوران حجر اسود کو بوسہ دینا اس کی سب سے بڑی خواہش تھی جو بظاہر ناممکن تھی مگر پھر بھی اسے یقین تھا اللہ تعالیٰ کی مدد اس کا شوہر اس کے لئیے یہ بھی ممکن بنا دے گا ۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی ہے یشفہ ملک کی آپ بھی پڑھئیے اور سبق لیجئے خود کو والدین کی فرمانبرداری پر آکسائیے ۔۔۔۔
یشفہ بتاتی ہیں کہ
میرا تعلق مردان سے ہے ہم دو بہنیں اور دو بھائی ہیں الحمدللہ چاروں بہن بھائی پڑھے لکھے ماسٹر ڈگری ہولڈر ہیں میرے والد صاحب گاؤں کے چھوٹے سے زمیندار مگر انتہائی معزز اور بارعب شخصیت کے مالک ہیں ہم لوگ پٹھان ہیں مگر ہمارے ہاں گاؤں کے معزز شخص جو لوگوں کے درمیان عدل کر کے تنازعات کو مٹاتا ہو اسے ملک کہا جاتا ہے اور لوگ اسے انتہائی عزت و احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں الحمدللہ میرے والد صاحب بھی اپنے گاؤں میں ملک تھے اور ہمارے گھرانے کی عزت تھی والد صاحب کی نسبت سے ہی میں بھی اپنے نام کے ساتھ یشفہ کے بعد ملک لکھتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
میں بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی اور بے حد لاڈلی تھی ہمارے گھر میں بلا وجہ کی روک ٹوک نہیں تھی مگر اس کے باوجود ہم لوگ اپنے مذہب اسلام سے انتہائی لگاؤ رکھتے ہیں اور عملی زندگی میں ہر ممکن اسلامی تعلیمات کو مد نظر رکھ کر چلتے ہیں میں ایک بار شیطانی وسوسے میں آ کر راہ ہدایت سے بھٹکنے والی تھی مگر میرے والدین کی سمجھداری اور دعاؤں نے مجھے بچا لیا ہوا کچھ یوں کہ دوران تعلیم مجھے قریبی گاؤں کے ایک لڑکے جلال خان سے محبت ہو گئی تھی جلال خان بلا شبہ ایک خوبصورت جوان تھا بطور شوہر وہ کسی بھی لڑکی کے لئیے آئیڈیل ہو سکتا تھا جلال نے مجھے اپنے دل کے میرے متعلق محبت بھرے جذبات سے آگاہ کیا تو میں نے بھی جلال کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہوئے بتایا کہ میں بھی اسے پسند کرتی ہوں یوں ایک حد میں رہتے ہوئے میں اور جلال ایک دوسرے کے قریب ہوتے گئیے مگر پھر بھی اس سے میں کبھی بھی محبت کے نام پر اتنا قریب نہیں ہوئی کہ وہ مجھے بنا نکاح کے چھو سکے یا عام لڑکیوں کی طرح میرے ساتھ آوارہ گردی کر سکے بظاہر وہ مجھے ایک مخلص اور وفادار انسان لگا اور پھر اس کے کہنے پر میں نے اپنے گھر اس کے متعلق بات کی کیوں کہ جلال نے مجھ سے کہا تھا کہ اس کے گھر والے میرے گھر آنا چاہتے ہیں تا کہ اس کے لئیے میرا ہاتھ مانگ سکیں ۔۔۔۔
جلال کے لئیے میں گھر بات کی تو میری والدہ نے انتہائی توجہ سے میری بات سنی اور پھر مجھے کہا بیٹا کوشش کرنا تمہاری وجہ تمہارے باپ کی پگڑی پر کبھی داغ نہ لگے کیونکہ بیٹا اگر پگڑی داغدار کر دے تو داغ دھویا جا سکتا ہے پگڑی کو بدلا جا سکتا ہے مگر بیٹی پگڑی کو داغدار کر دے تو وہ داغ پگڑی کے ساتھ ساتھ گھر کے مردوں کے منہ پر مہر کی طرح ثبت ہو جاتا ہے اور آنے والی نسل پر بھی اس داغ کے آثار باقی رہتے ہیں اپنی ان پڑھ ماں کے منہ سے اتنی گہری بات سن کر میں سکتے میں رہ گئی اور اپنی ماں کے چہرے پر اپنے لئیے فکر دیکھ کر تھوڑی پریشان ہو گئی خیر میری ماں نے میرے سامنے والد صاحب سے بات کرنے کی ہامی بھر لی اور مجھے نماز کا کہہ کر خود بھی مصلہ بچھانے لگیں ۔۔۔۔۔
میری ماں نے میرے والد صاحب سے بات کی والد صاحب نے رات کو مجھے کمرے میں بلایا مجھ سے جلال کے متعلق پوچھا میں نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا والد صاحب کو جلال کا اتہ پتہ بھی بتا دیا میرے والد صاحب نے چند دن کا وقت مانگا اور مجھے کچھ نصیحتیں کیں پھر سونے کا کہہ کر مجھے کمرے میں بھیج دیا یہاں یہ کلئیر کر دوں کہ جس طرح کا پٹھانوں کا کلچر دکھایا جاتا ہے پٹھان اس سے بہت مختلف ہیں عورت چاہے بیٹی بیوی بہن یا ماں کے روپ میں ہو اسے ہر ممکن عزت اور محبت دی جاتی ہے اس کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے اگر اس کے باوجود عورت کوئی غلط قدم اٹھائے تو غصہ آنا فطری بات ہے لہذا مجھ پر بھی کسی قسم کی پابندی لگائے بنا مجھے فقط چند نصیحتیں کر کے میری مرضی پر چھوڑ دیا گیا کیونکہ میرے والدین کو اپنی تربیت پر بھروسہ تھا ۔۔۔۔۔
میری تعلیم جاری رہی یونیورسٹی میں جلال سے رشتے کے لئیے گھر والوں کو بھیجنے کے متعلق بات چیت ہوتی رہی میں نے اس کو بتایا کہ میرے گھر والوں نے کچھ ٹائم مانگا ہے اسی دوران انتظار طویل ہوتا گیا آخری سال کے پیپر سر پر آ پہنچے تو جلال کا اسرار بڑھنے لگا میں نے ایک بار پھر گھر بات کی جب میرے والدین اکٹھے بیٹھے تھے میری بات سن کر میرے والد صاحب کے آنسو آ گئے انہوں نے سچ مچ میں اپنی سر کی پگڑی اتار کر میرے سامنے فرش پر رکھی اور پھر زمین پر بیٹھ کر مجھے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا بیٹی آپ میرے لئیے میرے اللہ کی رحمت ہیں میں آپ کو ناراض کر کے روز محشر اللہ کے سامنے جوابدہ نہیں ہو سکتا اگر آپ اپنے باپ کے ان جڑے ہوئے ہاتھوں اور قدموں میں پڑی اس پگڑی کی خاطر اپنی محبت چھوڑ دیں تو آپ کا احسان ہو گا نہیں تو آپ کا جب دل کرے جلال کو فیملی کے ساتھ گھر بلال لیں 😭😭😭😭
میرے والد صاحب کے منہ اس حالت میں جب جلال کا نام نکلا تو پہلی بار مجھے اس نام سے نفرت ہوئی اور نام کے ساتھ ساتھ مجھے خود سے بھی نفرت محسوس ہونے لگی میں اسی وقت اٹھ کر والد صاحب کے سینے سے جا لگی اور کہا کہ بابا جان آپ پر ایک نہیں سو بار میں قربان جاؤں میں دوبارہ کبھی اس شخص کا نام بھی نہیں لوں گی میری بات سن کر میرے والد صاحب کے چہرے پر مطمئن ہونے کے اثرات نظر آئے اور وہ نوافل ادا کرنے لگے نوافل ادا کرنے کے بعد میرے والد صاحب نے مجھے مخاطب کر کے کہا تھا بیٹا ان شاءاللہ تم حج کرنے جاؤ گی اور حج کے وقت صحن حرم میں کھڑے ہو کر ایک بار مجھے مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر صدق دل سے معاف کر دینا میں والد صاحب کے سینے سے لگ کر سسکنے لگی اور کہنے لگی کہ بابا جان باپ کی رضا میں تو اللہ کی رضا ہوتی میں تو آپ کا ہر حکم ماننے کو تیار ہوں میرے دل میں کوئی بھی ملال نہیں ہے مجھے میرے والدین سے زیادہ عزیز کچھ بھی نہیں میں آپ کی خاطر اپنی جان تک دے سکتی ہوں یہ تو فقط ایک غیر محرم کی محبت تھی ۔۔۔۔
جب والد صاحب چلے گئے تو مجھے میری ماں نے بتایا کہ جلال کے والد اور چچاؤں نے مل کر تمہاری ایک پھپھو اور تایا کو برہنہ کر کے زندہ جلا دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ انہیں غلیظ فعل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے جو کہ سرا سر جھوٹ تھا کیونکہ دو سگے بہن بھائی جن کے ہواس قائم ہوں وہ کبھی ایسا نہیں کرتے بلکہ حقیقت یہ تھی کہ جلال کا خاندان تمہارے باپ دادا کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتا تھا جبکہ تمہارے تایا مزاحمت کرتے تھے انہوں نے اس گھٹیا الزام میں تمہارے تایا اور پھپھو دونوں کو زندہ جلا دیا تھا اپنے دو بچوں کی موت کے بعد تمہاری دادی تمہارے والد صاحب کو لے کر اپنے میکے چلی آئی تھی تب تمہارے والد صاحب جو اس وقت فقط چودہ سال کے تھے یہ جس گاؤں میں آج ہم رہ رہے ہیں یہ تمہارے والد کا ننھیال ہے وہاں جلال کے ظالم خاندان نے تمہاری پھپھو کو جلایا تھا یہاں اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد صاحب کو عزت بخشی اور گاؤں کا سر براہ بنا دیا جب تم نے جلال کے متعلق بتایا تو تحقیق کے بعد تمہارے والد صاحب کو جب اس کے خاندان کا پتہ چلا تو وہ بہت پریشان ہوئے مگر اس کے باوجود وہ تمہاری محبت میں جھک گئیے ان میں ہمت نہیں ہوئی کہ وہ تمہاری پسند تم سے چھین لیں اس لئیے انہوں نے تمہاری منت کی جو تم نے مان لی اگر تم نہ مانتی تو وہ تمہاری بات مان لیتے ۔۔۔۔۔
ماں کی بات سن کر میں لرز کر رہ گئی تھی تب مجھے پہلی بار احساس ہوا تھا ایک باپ اپنی اولاد اور خاص کر اپنی بیٹی کی محبت میں کس حد تک جھک جاتا ہے ایک باپ اپنی بہن پر لگا بد کرداری کا داغ ، اپنے جوان بہن بھائی کو برہنہ کرنے والے اور ان کو زندہ جلانے والوں کو اپنے دہلیز پر آنے کی اجازت دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے فقط اس لئیے کہ اس ظالم خاندان کا ایک لڑکا اس والد کی بیٹی اپنی مرضی سے ہمسفر چننا چاہتی ہے ؟
میں نے لعنت بھیجی ایسی محبت پر جس سے میرے والد صاحب کا دل دکھا اس دن کے بعد کبھی جلال کے متعلق سوچا بھی نہیں اور اپنے والدین کے کہنے پر اصغر خان نامی لڑکے سے شادی کر لی جو فوج میں سپاہی تھا بعد ازاں اس نے کمیشن اپلائی کیا اور کمیشن آفیسر بن گیا آج میرا شوہر لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز ہے کچھ عرصہ قبل ایک حادثے میں میری ٹانگ ضائع ہو گئی تھی میں چلنے پھرنے سے قاصر ہو گئی مگر میرا شوہر میرا سہارا بن گیا میری خواہش پر مجھے اپنے ساتھ حج کرنے لایا ابھی بظاہر ممکن نہیں تھا مگر پھر بھی مجھے یقین تھا اپنے ہمسفر پر کہ وہ ہجر اسود کو بوسہ دینے کا انتظام کرے گا اور آخر کار اس نے میری ہجر اسود بوسہ دینے کی خواہش پوری کر دی میرے والدین فوت ہو چکے ہیں ہر کوئی حجر اسود کو بوسہ دے کر خوش ہو رہا ہے مگر میں تو رو پڑی ہوں اور روتے ہوئے میں نے بآواز بلند اپنے والد صاحب کا نام لیتے ہوئے پکار کر کہا بابا جان مجھے آپ کی پسند پر فخر ہے اے اللہ مجھے تو نے میرے باپ کے لئیے اس جہاں میں رحمت بنا کر بھیجا اے اللہ آج اسی رحمت کے صدقے میرے والد صاحب کو بخش دے ان کے گناہ معاف فرما آمین ثم آمین یارب العالمین ۔۔۔۔
آخر میں نصیحت کروں گی کہ والدین کی رضا میں رب کی رضا ہے
اختتام
ایک گاؤں میں ڈاکو داخل ہوئے اور وہاں کی تمام عورتوں کی عصمت دری کر دی..... مگر ایک خاتون ایسی تھی جب اس کے گھر میں ڈاکو داخل ہوا تو اس نے اس ڈاکو کو قتل کر دیا اور سر کاٹ دیا... واردات کے بعد جب تمام ڈاکو اس گاؤں سے چلے گئے تو تمام عورتیں اپنے پھٹے ہوئے کپڑوں سمیت گھروں سے نکل آئیں اور روتے ہوئے ایک دوسرے کو روداد بیان کرنے لگیں.... اتنے میں وہ بہادر خاتون اپنے گھر سے باہر نکلی, عورتوں نے دیکھا کہ اس کے گھر میں داخل ہونے والے ڈاکو کا سر اس نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے اور نہایت غیرت و خودداری کے ساتھ وہ ان کی طرف آنے لگی... اس خاتون نے بلند آواز سے کہا کہ کیا تم نے سوچ لیا تھا کہ وہ مجھے مارے بغیر میری عزت تار تار کرتے سکتا تھا..؟
گاؤں کی عورتوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور فیصلہ کیا کہ اسے قتل کر دیا جائے تاکہ ان کی عزت بچی رہے اور ان کے شوہر کام سے واپس آنے پر ان سے یہ نہ پوچھیں کہ تم نے اس کی طرح مزاحمت کیوں نہیں کی؟؟؟
پھر انہوں نے اس بہادر خاتون پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا ۔
"انہوں نے ذلت کو زندہ رکھنے کے لئے عزت کا قتل کر دیا"
یہی حال آج ہمارے معاشرے کے چور، حرام خور، جھوٹے اور کرپٹ لوگوں کا ہے
وہ ہر عزت دار, خوددار شخص کو مارتے ہیں, غریب اور سفید پوش کو حقیر جانتے ہیں اور استحصال کرتے ہیں تاکہ وہ ان کی کرپشن, جھوٹ, چوری اور حرام خوری کے خلاف بات نہ کر سکیں.
"اصل میں یہ لوگ اپنی عزتیں گنوا چکیں ہیں اور عزت داروں کا جینا حرام کر رکھا ہے"
ایماندار سرکاری ملازم ہو تو کھڈے لائن, تاجر ہو تو دیوالیہ, سیاستدان ہو تو کردار کشی.... آپ جب کہیں بھی ایسے لوگ دیکھیں جو چور، جھوٹے، حرام خور، کرپٹ کا ساتھ دے رہے ہیں تو سمجھ جائیں کہ یہ انہیں عورتوں کی اولاد سے ہیں جنہوں نے اپنی ذلت چھپانے کے لئے عزت کو قتل کر دیا تھا.... منقول
لڑکی کا پہلا محبت نامہ
اس دن جب گلی میں میں کھڑا تھا تو ایک لڑکا ایک گھر کے باہر بار بار چکر لگا رہا تھا۔میں نے اس سے جا کے پوچھا بھائی کس کی تلاش ہے تو اس نے کہا کسی کی نہیں بس ایک دوست نے ادھر آنے کا وقت دیا وہ ابھی تلک آیا نہیں خیر میں اس کی بات سن کے گھر چلا گیا اور کچھ لمحوں بعد اچانک سے نکلا تو میں نے دیکھا اسی گھر سے ایک لڑ کی سر جھکائے تیزی سے باہر آئی اور جلدی سے اس لڑکے کو ایک لفافہ دے کیرگھر بھاگ گئی۔۔
لڑکا وہ لفافہ لے کر بہت ہی مسکریا اور اسے دل سے لگاتا ہوا وہاں سے چل دیا میں اپنی بری عادت کے مطابق تحقیق کرنے کے لیے اس کے پیچھے چل دیا وہ لڑکا ایک درخت کے نیچے جا کر رکا اور اس نے اسلفافہ کو کھولا جس کے اندر سے ایک صفحہ نکلا اس نے اس صفحہ کو کوئی تین سے چار بار چوما اور اپنی آنکھوں سے لگایا اور پڑھنے لگا میں دور سے اس کے چہرے کو اور حرکات کو دیکھ رہا تھا اور اپنی قیاس آرائیوں میں مصروف تھا اچانک سے دیکھا لڑکے نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور بے ہوش ہو کے گر پڑا۔میں بھاگتے ہوئے اس کے قریب گیا اور اس کے ہاتھ سے وہ ورق لے کر تجسس سے پڑھنے لگا۔۔یہ ایک خط تھا جو اس لڑکی نے اپنے اس عاشق کو لکھا۔۔خطالسلام علیکم!اے وہ نوجوان جس نے ابھی اپنی ماں کی گود سے باہر قدم رکھا ہے اور
اس کی تربیت کرنے پر تھوک ڈالا ہے میں مانتی ہوں تیری سوچ کے مطابق جس محبت کا تو دعویدار ہے وہ سچی اور پکی ہے اور تو اس کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے وفا بھی کرے گا کیونکہ اس محبت کا آغاز نظر کے ملنے سے ہوا تھا اور انجام جسم کے ملنے پر ہو گا کیونکہ میری ماں نے اپنے بیٹے عبدالرسول کو ایک دن کہا تھا بیٹا یہ نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک ہے اور جب یہ تیر چلتا ہے نا اس کی طاقت کبھی کبھی پورے پورے خاندان برباد کر دیتی ہے اور پھر جب اس کا بدلا مڑتا ہے تو لفظ عزت بھی سر جھکا کر انسانوں کی بستی سے نکل جاتا ہے لہذا اس آنکھ کو صرف اپنے سوہنے نبی کے چہرے کو دیکھنے کے لیے منتظر رکھنا ورنہ قیامت کے دن اپنے ماں کو نانا حضور ? کی بارگاہ میں شرمندہ نہ کرنا کہ میں اس بات پر شرم کے مرے ڈوب مروں کے میں نے تیری تربیت میں کمی چھوڑ دی تھی۔۔
تو سن اے خود کو خوبصورت شہزادہ اور مجھے دنیا کی حور سمجھنے والے میں ایک سید زادی ہوں اور میرا تعلق اماں فاطمہ ? کے قبیلہ سے ہے جو قیامت کو تمام جنتی عورتوں کی سردار ہوں گی میں نے اپنے لیے دعا مانگی ہے کہ اے اللہ مجھے جنت میں ان کی خادم بنانا تو تو خود فیصلہ کر اگر میں تیری محبت میں مبتلا ہو جاؤں تو خادمیت تو کیا مجھے جنت کے قریب بھی نہیں آنے دیا جائے گا۔۔رہا سوال تو نے جو مجھے کل شام باغ کے اس پیڑ کے نیچے ملنے کو بلایا ہے میں وہاں بھی آجاتی لیکن میں تم سے ایک وعدہ لوں کہ تو اپنی بہن گڈی کو بھی ساتھ لے کر آنا اور میں اپنے بھائی کو۔۔کیونکہ تیری نظر میں دنیا کی سب سے شریف عورت تیری گڈی بہن ہے اور میرے بھائی کی نظر میں دنیا کی سب سے شریف عورت میں ہوں اسطرح دونوں مردوں کی غلط فہمی دور ہو جائے گی اور اس کے بعد جب گاؤں میں یہ خبر پھیلے گی تو کوئی بھائی اپنی بہن کو شریف نہیں سمجھے گا
اس طرح آئندہ محبت کرنے والوں پر ہمارا احسان رہے گا کہ یا تو وہ اس گنا سے ہماری وجہ سے دور رہیں گے یا انہیں ہر طرح کی آسانیا ں ہو جائیں گی رات کے تیسرے پہر کوئی بھائی اپنی بہن کو کسی باغ کے پیڑ کے نیچے ملنے سے نہیں روکے گاپھر جب یہ گنا اتنا عام ہو جائے گا تو لفظ غیرت کی تعریف بھی سب کو سمجھ آ جائے گی کہ اپنی بہن کی طرف کسی کی نگاہ نہ اٹھنے دینا غیرت نہں بلکہ اپنی نظروں کو کسی کی بہن کی طرف بڑھنے سے روکنے کا نام غیرت ہے۔۔ اور اگر تو اس فلم یا ڈارامے کی بات کرتا ہے جس کو دیکھ کر تو نے مجھے خط لکھا تو ٹھیک ہے میں اسی طرح اسی لباس میں تجھے ملنے چلی آتی ہوں مگر تیری آنکھوں اور دل کی ہوس نے جب میرا بدن نوچا تو تو ناراض نہ ہونا کہ
اس طرح کا ظاہری حسن و لطف سے لبریز موقع دنیا کا ہر مرد چاہتا ہے تو میری بات کو سمجھ تو رہا ہے نا کہ میرا بھائی خدا گوا ہ ہے وہ کردار کا بہت پکا ہے اس کا بھی تو حق بنتا ہے کہ وہ عیش کے کچھ لمحے گزارے وہ بھی تو جانے عشق کا لطف کیا ہے کسی کو ایک انگلش جملہ بول کر اس سے ایسی امیدیں وابستہ کرنا جس سے عورت بھی خود پر شرما جائے اور مرد کو جنم دینے والی عورت اپنی کوکھ پر لعنت بیجھے کہ عورت نے انبیاء4 کو جنم دیا اور ان کی تربیت کر کے زمانے کی دکھی انسانیت کو ظلم و ستم سے نکالا اور میں نے ایک اسے آدمی کو جنم دیا جو انسانیت ہی سے خالی ہے۔۔۔۔اے میرے خوبرو عاشق تو جو محبت کر رہا ہے اس میں ہوس کی بو کے سوا کچھ نہیں کیا تیری ماں نے تجھے وہ قرآن نہیں پڑھایا جس میں مومن کی حیا کا ذکر ہر کیا تو مرد مومن اور حضور ? کا وہ امتی نہیں جس نے ایمان کے درجوں میں سے ایک درجہ حیا کا پایا ہو۔۔۔
میری باتیں پڑھ کر تجھے غصہ آیا ہو گا کہ میں نے تیری بہن کا ذکر کیوں کیا لیکن ایمان کی بات ہے ہر با حیا بھائی کی یہ کیفیت ہی ہوتی ہے مگر ایسا ہونا کہ اپنی بہن کے علاوہ کسی بھی عورت کو شریف نہ سمجھنا یہ گندی سوچ اور تربیت کا نتیجہ ہے۔۔تو حضرت علی ? کا بہت ہی ماننے والا ہے جیسا کے تیرا تذکرہ اس معاشرے میں کیا جاتا ہے مگر کیا تو نے مولا کائنات کا یہ فرمان نہیں پڑھا’’اپنی سوچ کو پانی کے قطروں کی طرح صاف رکھو کیونکہ جس طرض پانی کے قطروں سے دریا بنتا ہے اسی طرح سوچ سے ایمان بنتا ہے‘‘۔۔۔کیا تیرے پاس جو ایمان ہے وہ دیکھلاوے کا ہے حضرت علی ? کا سچا پیارا تیرے دل میں نہیں۔۔۔اور جیسا کرو گے ویسا بھرو گے والا قول بھی تو کسی عاقل کا ہے اس کا مطلب ہے تو اس کام کے انجام کے لیے تیار ہے اپنی ماں بہن کی ایسی عزت کا ہونا تیرے لیے عجیب نہیں ہو گا۔۔۔۔
میں تجھے تبلیغ نہیں کر رہی بس اتنا بتا رہی ہوں کہ تیری بہن گڈی جو کہ میری دوست ہے اس کو بھی ایک تجھ جیسے بے ایمان اور راہ بھٹکے نوجوان نے خط لکھا اور اسی پیڑ کے نیچے بلایا لیکن عین اسی وقت جب کے میں تجھے خط دے رہی ہوں تیری بہن نے بھی اسے خط دیا اور اسے اس کی محبت کا جواب دیا کہ وہ اس سے محبت کرے گی انہی باتوں اور شرائط کے ساتھ جو میں تجھے لکھ رہی ہوں اگر تجھے یہ سب میری باتیں منظور ہیں تو جا اور جا کہ گڈی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت دے دے جو تو مجھ سے چاہتا ہے کیوں کہ اس لڑکے کو بھی میں نے یہ ہی الفاظ گڈی سے لکھوا کے دئیے اور اگر میں ایسا نہ کرتی تو وہ لڑکا بھی راہ راست پر نہ آتا اور تیری بہن بھی گمراہ ہو چکی ہوتی۔۔اب آخری دو باتیں جن کا تو اپنے اللہ سے وعدہ کرنا۔۔۔تونے مجھ پر بری نظر ڈالی تو
تیرے لیے اللہ نے یہ مکافات عمل والا سبق پیدا کیا۔۔اور میں نے تیری بہن کو بری راہ سے بچایا اس لیے میں بھی اللہ کی عطاکردہ ہمت سے تیرے گمراہی اور اللہ کی ناراضگی والے جال سے بچ گئی ہوں۔۔اب اگر میرا تیری بہن پر احسان ہے تو پھر اس کو بھول کر اپنی گناہ کی ضد پر قائم رہنا چاہتا ہے تو اس دفعہ یاد رکھنا اللہ نے تجھے چار بہنیں اور ایک ماں دی ہے۔۔۔۔میں بھی اللہ سے دعا کروں گی کہ اللہ تجھے اور تیرے گھر والوں کو گمراہی اور ایسے گنا ہ سے بچائے اور تو بھی اللہ سے توبہ کر کہ حضرت علی ? جن سے تیری محبت مشہور ہے ان سے سچی اور دیکھلاوے سے پاک محبت کرنے لگ جا اور ان جیسی عظیم اور پاک ہستی کی محبت میں کسی عورت کو نہ لا ایسا نہ ہو جس حوا نے آدم کو جنت سے نکلوایا ہے وہ تجھے اس دنیا میں کہیں کا نہ چھوڑے اور تیری وہ پگڑی جس پر تجھے مان ہے وہ خاک کا حصہ بن جائے اور تیرے گھر میں عورت کا جنم لینا گناہ سمجھا جانے لگے۔۔
میں چاہتی تو اپنے حقیقی غیرت مند بھائی کو بتا دیتی مگر میں نے تجھے تیری بہن کی خاطر معاف کیا کیونکہ تیرے لیے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے سمجھنا مشکل نہیں رہا۔۔۔اپنی بہن کو اس لڑکے کا مت پوچھنا ایسا نہ ہو کہ میرا بھائی بھی مجھ سے ایسی ضد کرے اس وقت سب سے اچھا حل اللہ کی باگاہ میں سچی معافی ہے میں اتجھے اللہ کے نام پر معاف کرتی ہوں اللہ سے بھی اس کی ایک سی زادی بندی کے متعلق غلط سوچ رکھنے کی معافی مانگ لینا۔۔۔یہ میرا پہلا پیار کا خط ہے جس میں میں اعتراف کرتی ہوں کہ میں اللہ سے اس کے حبیب ? سے پیار کرتی ہوں اگر جس چیز کی تو دعوت دیتا ہے یہ میرے نبی پاک ﷺ کی سیرت میں ہوتی تو میں اس پر عمل کرتی اور اگر ایسا عمل اور اس کی مثال اماں فاطمہ کی زندگی میں ملتی تو میں اس پر عمل کرتی اور اگر ان کی زندگی میں نہیں اورمیری اور تیری والدہ کی زندگی میں ایسی ایک نہیں ہزار مثالیں بھی ہوتی تو بھی تو مجھے ہرگز اس دعوت کا قبول کرنے والا نہ پاتا۔۔اللہ تیری بہنوں اور میری عزت کی حفاظت فرمائے۔۔میں اللہ سے پیار کرتی ہوں۔۔میں اللہ سے پیار کرتی ہوں۔۔میں اللہ سے پیار کرتی ہوں، والسلام۔۔۔۔ اللہ کی بندی حضور کی امتی امت محمدی کی بیٹی۔۔
25/02/2022
نہیں نورین میں اسے نہیں بھول سکتی وہ میری زندگی میں آنے والا واحد شخص تھا اب میں اس کے بعد کسی اور سے محبت نہیں کر سکوں گی وہ میری سانسوں میں بس گیا تھا اور رہے گا۔ عائشہ بری طرح روتے ہوئے اپنے دوست کو بتا رہی تھی جو اسے سنبھالنے کی کوشش میں خود بھی نڈھال ہو رہیں تھی اسے یوں روتے دیکھ کر میرے قدم اپنے آپ ہی رُک گئے اور بے اختیار ہی ان کی طرف بڑھ گئی اور اس کی دوست سے اس کے رونے کا سبب پوچھا۔ میں اس کی بات سن کر سوائے تاسف کے کچھ نہ کہہ سکی۔ مجھے اس پر غصہ بھی آرہا تھا جو اس بے وفا شخص کیلئے رو رہی تھی جس نے تین سال اس سے محبت کی پینگیں بڑھانے کے بعد یہ کہہ کر چھوڑا ہے کہ ’’تم میری اچھی دوست کے سانچے میں تو ڈھلتی ہو لیکن بیوی کے فریم میں فٹ نہیں ہوتی‘‘ اس کی باتیں سن کر حقیقتاً مجھے افسوس ہوا تھا لیکن ساتھ میں اس کی بے وقوفانہ حرکت پر بھی غصہ آرہا تھا جو اس شخص کیلئے رو رہی تھی جس نے اسے چھوڑتے ہوئے بے وفائی کی آخری حد تو پار کی ہی تھی ساتھ ہی اسے وقت گزاری کا ذریعہ کہہ کر بے عزت کیا۔ پھر میں اور اس کی دوست مل کر اس سے چھپ کر رونے لگے اور اس مصروفیت میں چھٹی کا وقت آگیا۔ ابھی اس بات کو چند ہی دن گزرے تھے کہ وہی لڑکی اپنی منگنی کی تصویریں لے آئی جس طرح اس کے چہرے پر حیا کی لالی اتر آئی تھی اس کی کھلتی باچھوں سے میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ کیا وہ واقعی اس لڑکے سے سچی محبت کرتی تھی یا واقعی انہوں نے وقت پاس کرنے کے نام کو محبت کا نام دیا تھا۔ اس کی یہ ہنسی حقیقت ہے یا اس کا رونا سچ تھا۔ وقت اور حالات گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے اس بات کا احساس شدت سے ہوا کہ واقعی عائشہ ٹھیک تھی۔ اس نے اپنے وقتی جذبوں سے مغلوب ہو کر اپنے رشتے کو محبت کا نام دیا تھا لیکن اپنی منزل تک پہنچنے تک انہیں احساس ہو گیا تھا کہ جن باتوں کو وہ پیار کا انداز سمجھے تھے وہ تکلم و تبسم تو آج کے دور میں عادت میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ پیار محبت ایک خوبصورت جذبہ ہے ‘ ایک میٹھا احساس‘ یہ بھی حقیقت ہے کہ زندہ رہنے کیلئے پیار و محبت حقیقی امر ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج کے دور میں عشق و محبت حقیقی انداز میں صرف کتابوں‘ فلموں اور ڈراموں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اب وہ زمانے ختم ہو گئے ہیں جب سچی محبتوں کی مالا جپی جاتی تھی‘ جب عہد وفا کو نبھانے کیلئے ہر قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جاتا تھا اور جذبوں کی پامالی بڑی بات ہوا کرتی تھی بلکہ انہیں سینت سینت کر رکھا جاتا تھا جب محبت کرنے والے ایک دوسرے کی خاطر اپنی پہچان بھی مٹا دیتے تھے۔ حقیقی معنوں میں اب وہ دور اور اس دور کی چاشنی ختم ہو گئی ہے۔ اب تو صرف مطلب کیلئے لوگ نام وفا لیتے ہیں آج کے دور میں محبت کو بھی کھیل میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک جوئے کی طرح اس پر داؤ پیچ لگائے جاتے ہیں مل گئی تو ٹھیک نہ ملی تو نہ سہی۔ یہ سچ ہے کہ آج کل کے دور میں ’’فلرٹ‘‘ زیادہ اور سچی محبتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اگر کچھ خلوص اور سچی محبتیں باقی ہیں تو وہ بے تحاشہ ’’فلرٹ‘‘ کی بھٹی میں آکر دم توڑ رہی ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ بے ایمان محبتوں نے سچی محبتوں کو بھی بدنام کر دیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے انسان ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے مادیت پرستی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اسی طرح سچے جذبے اور پیار بھی ناپید ہوتے جا رہے ہیں یہ نہیں کہ اب محبتیں اور چاہتیں اب بھی باقی ہیں لیکن ان جذبوں کی پاکیزگی اور حیا ختم ہو گئی ہے۔ یہ قیاس کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کون سی بات لڑکی کے کرنے والی ہے اور کون سی بات لڑکے کے کرنے والی ہے۔ کبھی زمانہ تھا کہ لڑکا‘ لڑکی اپنے جذبوں اور محبتوں کو دوسروں سے کیا خود سے بھی چھپا رکھتے تھے۔ انہیں اپنے جذبوں کی سچائی کیلئے لفظوں کی ضرورت نہیں ہوتی تھی لیکن اب اس دور میں اس مقولے پر عمل کیا جاتا ہے کہ ’’محبت کے پودے کو اظہار کے پانی کی ضرورت ہوتی ہے‘‘ چاہے پانی چوری کا ہی کیوں نہ ہو‘ لیکن اظہار ہوناچاہئے۔ یہ سچ ہے کہ اظہار ضروری ہے لیکن غلط یہ بھی نہیں کہ اظہار کیلئے ڈھکے چھپے لفظوں کا ہونا ضروری ہے‘ بجائے اس کے کہ کھلے ڈھلے بے باک لفظ استعمال کئے جائیں جیسا کہ آج کل کے ترقی یافتہ دور میں ہو رہا ہے۔ جہاں کھل کر اپنے بوائے فرینڈز یا گرل فرینڈز کو متعارف کروایا جاتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے شرم و حیاء کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ مہینوں اور کبھی سالوں ایک دوسرے سے عشق و محبت کی پینگیں بڑھانے کے بعد آرام سے اس رشتے کو دوستی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی کسی لڑکے اور لڑکی کے درمیان کبھی بھی دوستی کا رشتہ قائم نہیں ہو سکتا۔ چاہے اس انکار کو کتنی طوالت ہی کیوں نہ دی جائے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آج کے دور میں لڑکی ہو یا لڑکا ’’فلرٹ‘‘ کرنے کے کھیل میں برابر کے شریک ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ اب وہ دور نہیں رہا جب محبتوں کے نہ ملنے پر لڑکا یا لڑکی مہینوں اداس رہتے تھے اور کچھ تو ان میں سے غلط فیصلے بھی کر جاتے تھے اگر کبھی دو دل نہیں مل پاتے تھے تو اس میں یا تو قصور وار زمانہ کو ٹھہرایا جاتا تھا یا پھر عورت کی ازلی بزدلی اس کی راہ میں رکاوٹ بنتی تھی جو اپنے ماں باپ کی عزت کی خاطر محبت سے بھی انکار کر جاتی تھی۔مگر آج کے زمانے میں لڑکا ‘ لڑکی اگر آپس میں مخلص ہوں تو وہ ہر لحاظ سے اور بلا جھجک اپنے حق کیلئے لڑتے ہیں چاہے انہیں اپنی محبت کو پانے کیلئے اپنے والدین کو عدالتوں میں ہی کیوں نہ گھسیٹنا پڑے وہ ایک ہو کر رہتے ہیں چاہے اس کے بعد عمر بھر ان کا نباہ نہ ہو سکے۔ اول تو اب لڑکے لڑکیاں اس کھیل میں اس قدر طاق ہو گئے ہیں کہ وہ ان وقتی محبتوں کو روگ نہیں بناتے بلکہ انجوائے کرتے ہیں۔ یعنی ’’خوابوں میں کسی کے اور بانہوں میں کسی کے‘‘ کے مصداق عمل کرتے ہیں۔ حقیقتاً وہ دور وہ زمانے ختم ہو گئے ہیں جو اہل دل کو راس تھے۔ یہ بھی سچ ہے کہ آج کے دور کی سچی اور جنونی محبتیں بے اعتباری اور ’’فلرٹ‘‘ کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے تو کیا دنیا محبت سے خالی ہو رہی ہے؟ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب نی ڈھونڈا گیا تو آنے والے معاشرے خدانخواستہ محبت اور روح دونوں سے خالی ہو کر رہیں گے؟ بہت سے لوگ لڑکیوں کو محبت اور شادی کا لالچ دے کر ان کی عزتوں سے کھیلتے ہیں اور جب عزتوں سے کھیل کھیل کر دل بھر جاتا ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے لڑکی سے جان چھڑا لیتے ہیں اور بیچاری لڑکیاں اُن کی محبت میں اندھی ہو جاتی ہیں اور اپنا سب کچھ لٹا بیٹھتی ہیں ایک ایسے شخص کی خاطر جو چند عرصے بعد اسے چھوڑ کر کسی اور لڑکی سے شادی کر لیتا ہے۔ چند لمحوں کی لذت کی خاطر برسوں لڑکیوں کو دھوکے میں رکھا جاتا ہے اور جب لڑکی کی آنکھوں سے جھوٹی محبت کی پٹی اترتی ہے تو اُس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔میں تو کہوں گا حقیقت تو یہ ہے کہ آج کل محبت صرف ہوس کو پورا کرنے کیلئے کی جا رہی ہے۔ آخر میں میں بہنوں سے چند باتیں کرنا چاہوں گا۔ میں مانتا ہوں کہ آج کل کے والدین کی بہت بڑی غلطی ہے کہ لڑکیوں کی شادی میں تاخیر کرتے ہیں جن کے غلط نتائج بھی آرہے ہیں لیکن والدین کو ہوش تب آتی ہے جب بیٹی اپنا سب کچھ (عزت) گنوا بیٹھتی ہے۔ خیر بہنو! گزارش ہے کہ پورے خاندان کی عزت آپ کے ہاتھ میں ہوتی ہے کتنے پیار سے ماں باپ آپ کو تکلیفیں برداشت کرکے جوان کرتے ہیں‘ بہن بھائی کتنا پیار کرتے ہیں آپ کو آپ کی ہر چیز کا خیال رکھتے ہیں اور آپ ایک غیر مرد کی جھوٹی محبت میں گرفتار ہو کر اپنا سب کچھ لٹا دیتی ہیں برائے مہر بانی خود پر اور اپنے گھر والوں پر رحم کھائیں۔ جو والدین‘ بہن بھائی آپ کو دوپٹہ لینا سیکھاتے ہیں پردہ کرنا سیکھاتے ہیں ان کی عزتوں کو کسی غیر مرد کے قدموں تلے مت روندو۔ والدین بھی اپنی جوان اولاد کی عمر سے گزر چکے ہیں تو اپنی اولاد کے جذبات کا احترام کریں نہیں تو جوان اولاد آپ کی عزت کا احترام بھول جائے گی اور کچھ غلط کر بیٹھے گی۔ میں آج کل روزگار کی تلاش میں ہوں سب سے دعا کی التماس ہے۔ یہاں میں ضروری سمجھتا ہوں کہ صرف برادری ہی میں رشتے کرنے ہیں باہر نہیں چاہے اولاد بوڑھی ہو جائے والے لوگ بھی متوجہ ہوں بہت سے خاندان ایسے ہیں جو اپنے خاندان سے باہر بیٹی یا بیٹے کی شادی نہیں کرتے اور اسی ضد میں اولاد گھر بیٹی بوڑھی ہو جاتی ہے جب اولاد کے ذہن میں بیٹھا دیا جاتا ہے کہ آپ کی شادی خاندان سے باہر تو کرنی ہی نہیں تو جب خاندان میں اُن کو اپنے ساتھ کا کوئی نظر نہیں آتا تو ایسی اولاد بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہے کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے شادی تو ہونی نہیں تو کیا فائدہ انتظار کرنے کا ۔بہت سی ایسی برادریاں ہیں جو اپنے خاندان سے باہر شادی کرنا بہت برا سمجھتے ہیں تو یاد رکھیں کہ ایسے ہی خاندانوں کی اولادیں آج کل بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہیں۔ چاہے وہ جھوٹی محبت میں گرفتار ہو کر سب کچھ لٹا دیں یا پھر کسی اور وجہ سے تو ہمیں یہ نظام بدلنا چاہئے۔
Page not found - JhelumGeo.com جہلم جیو ڈاٹ کام پچھلے کئی سالوں سے قارئین کی خدمت میں مصروفِ عمل ہے۔ اسے مزید بہتر بنانے کیلئے اپنی آراء اور تجاویز سے ہمیں ضرور آگاہ کیجئے.
Single life is best
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Lahore
786123