Icebird
please share my page and romote
*نہ جانے کس بات سے ناراض ہے وہ شخص ....❤🩹🥺*
* آج کل بات تو کرتا ہے مگر باتیں نہیں کرتا...💔😭*
22/04/2025
میراثی!
میں آفس میں آتے ہی ایک کپ چائے ضرور پیتا ہوں۔ اُس روز ابھی میں نے پہلا گھونٹ ہی بھرا تھا کہ اطلاع ملی: کوئی صاحب مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔
میں نے کہا: بھجوا دیجیے۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور شلوار قمیض پہنے گریبان کے بٹن کھولے گلے میں کافی سارا ٹیلکم پاؤڈر لگائےہاتھوں میں مختلف قسم کی مُندریاں اور کانوں میں رِنگ پہنے ہوئے ایک نیم کالے صاحب اندر داخل ہوئے۔ سلام لیا اور سامنے بیٹھ گئے۔ ان کا ڈیل ڈول اچھا تھا، اس لیے میں نے خود کو قابو میں رکھا اور آنے کا مقصد پوچھا۔ اُس نے محتاط نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا‘ پھر ٹیبل پر آگے کو جھک کر بولا ''میں بھی ایک مراثی ہوں۔ میں بوکھلا گیا، کیا مطلب.؟
وہ تھوڑا قریب ہوئے اور بولے ''مولا خوش رکھے میں کافی دنوں سے آپ سے ملنا چاہ رہا تھا سنا ہے آپ بھی میری طرح... میرا مطلب ہے آپ بھی لوگوں کو ہنساتے ہیں؟‘‘
میں نے جلدی سے کہا، ہاں لیکن میں مراثی نہیں ہوں۔
“اچھی بات ہے‘‘ وہ اطمینان سے بولے ''میں نے بھی کبھی کسی کو اپنی حقیقت نہیں بتائی. میرا خون کھول اٹھا۔ عجیب آدمی ہو تم، تمہیں لگتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ یہ دیکھو میرا شناختی کارڈ... ہم یوسفزئی ہیں ۔وہ کارڈ دیکھتے ہی چہکا. “مولا خوش رکھے... وہی بات نکلی ناں.. میرا دل چاہا کہ اچھل کر اُس کی گردن دبوچ لوں‘ لیکن کم بخت ڈیل ڈول میں میرے قابو آنے والا نہ تھا۔ وہ پھر بولا مجھے نوکری چاہیے‘‘۔ میں پہلے چونکا‘ پھر غصے سے بھڑک اٹھا ''یہ کوئی کمرشل تھیٹر کا دفتر نہیں ہے‘تم نے کیسے سوچ لیا کہ یہاں مراثی بھرتی کیے جاتے ہیں؟‘‘
وہ کچھ دیر مجھے گھورتا رہا‘ پھر اپنی مندری گھماتے ہوئے بولا ''یہاں نہ سہی‘ کسی دوسرے دفتر میں ہی کام دلوا دیں۔ میں کوئی سخت جواب دینے ہی والا تھا کہ اچانک میرے ذہن میں ایک اچھوتا خیال آیا اور میں مسکرا اٹھا۔ آفس بوائے سے اُس کے لیے بھی چائے لانے کے لیے کہا اور خود اُٹھ کر اُس کے ساتھ والی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں الجھن سی اُتر آئی۔ میں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، سنو! تمہیں بہت اچھی نوکری مل سکتی ہے‘ اگر تم مجھے ہنسا کے دکھا دو۔
وہ ہونقوں کی طرح میرا منہ دیکھنے لگا۔ میں نے اُس کی حالت کا مزا اٹھاتے ہوئے اُسے زور سے ہلایا ''ہیلو! ہوش کرو بتاؤ‘ یہ چیلنج قبول ہے؟؟ اُس نے کچھ دیر پھر مندری گھمائی اور نفی میں سر ہلا دیا. میں حیران رہ گیا‘ وہ مراثی ہونے کے باوجود مجھ جیسے اچھے خاصے معزز انسان سے ہار مان رہا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اُس نے عجیب سا جواب دیا ''میں نے لوگوں کو ہنسانا چھوڑ دیا ہے۔ میں اچھل پڑا ''یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اُس نے لمبا سانس لیا اور بیزاری سے بولا ''لوگ اب ہنسنا چھوڑ چکے ہیں۔ میں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا ''یہ تمہاری غلط فہمی ہے..
دنیا آج بھی ہنستی ہے، مزاحیہ تحریریں پڑھتی ہے‘ مزاحیہ ڈرامے دیکھتی ہے، جگتیں پسند کرتی ہے۔ اُس نے اپنی مندری نکال کر دوسری انگلی میں پہنی. اور اپنی بڑھی ہوئی شیو پر خارش کرتے ہوئے بولا ''دنیا ہنستی نہیں دوسروں کی ذلت پر خوش ہوتی ہے‘‘
میں نے پھر قہقہہ لگایا وہ کیسے؟ اُس نے قمیض کی سائیڈ والی جیب سے سستے والے سگریٹ کی مسلی ہوئی ڈبی نکالی اور میری طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا‘ میں نے ایش ٹرے اُس کے سامنے رکھ دی.
اُس نے شکریہ کہا اور سگریٹ سلگا کر گہرا کش لیا۔ میں اُس کےجواب کا منتظر تھا۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی پھر اُس کی آواز آئی ''آپ کا منہ پلسطین کے لومڑ جیسا ہے۔
مجھے گویا ایک کرنٹ سا لگا اور میں کرسی سے پھسل گیا۔ میری رگ رگ میں طوفان بھر گیا۔ وہ میرے دفتر میں بیٹھ کر مجھے ہی لومڑ کہہ رہا تھا‘ اور وہ بھی پلسطین کا ۔بات تو سچ تھی مگر بات تھی رسوائی کی۔ میرا چہرہ سرخ ہو گیا‘ اس سے پہلے کہ میں اُس پر چائے کا گرم گرم کپ انڈیل دیتا‘ وہ جلدی سے بولا ''آپ کا ایک جگری دوست شہزاد ہے ناں؟‘‘
میں پوری قوت سے چلایا ''ہاں ہے...پھر؟ وہ فوراً بولا ''اُس کی شکل بینکاک کے جمعدار جیسی ہے۔ میں نے بوکھلا کر اُس کا یہ جملہ سنا ... کچھ دیر غور کیا اور پھر بے اختیار میری ہنسی چھوٹ گئی.
میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔ تین چار منٹ تک آفس میں میرے قہقہے گونجتے رہے بڑی مشکل سے میں نے خود پر قابو پایا اور دانت نکالتے ہوئے کہا ''شرم کرو... وہ میرا دوست ہے۔ میری بات سنتے ہی مراثی نے پوری سنجیدگی سے کہا ''ایسی ہنسی آپ کو اپنے اوپر لگنے والی جگت پر کیوں نہیں آئی؟
میں یکدم چونک اٹھا‘ ساری بات میری سمجھ میں آ گئی تھی...ہمارے معاشرے میں واقعی وہ چیز زیادہ ہنسی کا باعث بنتی ہے جس میں کسی دوسرے کی ذلت کا سامان ہو‘ یہی وجہ ہے کہ سٹیج ڈراموں اور عام زندگی میں جب ہم کسی دوسرے کو ذلیل ہوتے دیکھتے ہیں تو ہمارے دل و دماغ فریش ہو جاتے ہیں۔ کوئی بندہ چلتے ہوئے گر جائے، کسی کی گاڑی خراب ہو جائے کسی کے پیچھے کتا دوڑ لگا دے، کسی کی بس نکل جائے اور وہ آوازیں لگاتا رہ جائے تو ہماری ہنسی نہیں رکتی۔ یہی عمل اگر ہمارے ساتھ ہو اور دوسرے ہنسیں تو ہم غصے سے بھر جاتے ہیں۔
گویا ہنسنے کے لیے کسی کا ذلیل ہونا لازمی امر قرار پا چکا ہے۔ یہی رویہ ہماری زندگی کے ہر پہلو میں در آیا ہے. ہمیں اپنے سکھ سے اتنی راحت نہیں ملتی جتنے کسی کے دکھ ہمیں سکون دیتے ہیں۔
اللہ ہم سب کے حال پر رحم کرے ۔ آمین ۔
دعا گو ۔۔
20/03/2025
● خدا نہ کرے، کسی بستی سے چڑیاں روٹھ جائیں ●
(بیس مارج چڑیوں کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)
چڑیا کے گھونسلے سے جونہی کوئی بچہ (چیم بوٹ) نیچے گرتا تو اس کی ماں ایک دم شور مچانا شروع کر دیتی۔ بعض مرتبہ انڈے نیچے گرتے اور ٹوٹ جاتے، بعض اوقات بچہ اس قدر چھوٹا ہوتا کہ گرتے ہی دم توڑ دیتا اور سیاہ چیونٹیوں کا جھرمٹ اس پر ٹوٹ پڑتا۔ لیکن کچھ بچے ایسے ہوتے تھے جو بچ جاتے تھے۔ ان کے چھوٹے چھوٹے پر نکل چکے ہوتے تھے لیکن بیچارے اڑ نہیں سکتے تھے۔ ہمیں پتا تھا کہ یہ نیچے رہا تو بلی کھا جائے گی۔ ہمارے گھر میں لکڑی کی ایک سیڑھی ہوتی تھی۔ ہم اس تھرتھراتی ہوئی باریک باریک ٹانگوں اور چھوٹی سی پیلی جونچ والے بچے کو پکڑتے اور اسے دوبارہ اس کے گھونسلے میں رکھ دیتے۔ بعض مرتبہ تو یہ خوف سے اپنی مکمل طاقت کے ساتھ انگلی کا ماس چونچ سے پکڑ لیتا یا پھر پنجے کے باریک لیکن تیز ناخنوں سے نشان ڈال دیتا۔ یہ منظر ہمیں تواتر سے دیکھنے کو ملتا تھا۔ ہمارے کچے صحن کے بائیں جانب واقع یہ کمرہ نما برآمدہ چڑیوں کے گھونسلو ں سے بھرا پڑا تھا۔ ہم اس بڑے برآمدے کے لیے پنجابی کا لفظ “ٹارا” استعمال کرتے تھے۔
پچھلے دنوں امرتا پریتم کی ایک پنجابی نظم نظر سے گزری تو مجھے فورا اپنا ٹارا یاد آ گیا۔
امبر ہَس کے ویکھن لگا
اس ٹارے چھتن والی نُوں
وے سائیں تیرے چرخے نے
کت لیا کتن والی نُوں
اس ٹارے کی چھت مکمل لکڑی کی تھی۔ شہتیر اور “بالوں” کے درمیان خالی جگہیں ان چڑیوں کے تنکوں سے بنے گھونسلوں نے پُر کر رکھی تھی۔ گرمیوں میں رات کو بارش آتی تو دو تین چار پائیاں اس ٹارے میں بھی آ جاتیں۔ بارش کے ساتھ تیز ہوا چلتی تو پھوار کھیس سے باہر نکلے ہوئے چہرے کو ترو تازہ کر جاتی۔ یہ کمرہ نما برآمدہ اسٹور کا کام بھی دیتا تھا۔ چولہا جلانے کے لیے لکڑیاں کاٹ کر بھی ہم وہاں رکھتے، کچی چھتوں کی لپائی میں اور بھینس کو ڈالنے کے لیے توڑی (بھوسی) بھی ادھر رکھتے۔ کسی چارپائی کا پایا بھی ٹوٹتا تو اس کے لیے محفوظ جگہ یہی اسٹور نما برآمدہ تھا۔ بعض مرتبہ امی کچے اچاری آم لاتیں تو ہم چند ایک آم وہاں رکھی توڑی (بھوسے) میں دبا دیتے تا کہ اس کی گرمی سے جلدی پک جائے۔
ہمارے صحن کے بائیں جانب واقع کمرے میں بھی چڑیوں نے گھونسلے بنانے کی کوشش کی۔ ہم سبھی بہن بھائیوں کا یہی کمرہ تھا۔ بڑی باجی کو جھاڑو دینا پڑتا تھا اور ہمیشہ یہ اعتراض رہتا تھا کہ یہ چڑیاں گند بہت ڈالتی ہیں۔ باہر سے تنکے لاتی رہتی ہیں اور یہاں گراتی رہتی ہیں۔ ویسے تو اب باجی کا نظریہ بدل چکا ہے۔ دو ہفتے پہلے بڑی باجی سے بات ہو رہی تھی تو وہ اب اس بات پر بہت خوش تھیں کہ ان کے ایک کمرے میں چڑیوں نے گھونسلے بنا لیے ہیں۔
خیر بات ہمارے پرانے گھر کی ہو رہی تھی۔ تو چڑیاں جلد ہی اس کمرے سے ہجرت کر گئیں اور اس کی وجہ گوں گوں کی آواز دینے والا پرانا چھت والا پنکھا تھا۔ لائٹ اس وقت کم کم ہی آتی تھی۔ ہم جب بھی پنکھا چلاتے تو آتے جاتے کوئی چڑیا اس سے ٹکراتی اور بیچاری ماری جاتی۔ ہم کئی مرتبہ پنکھا بند کر کے چڑیوں کو کمرے سے باہر نکال دیتے۔ لیکن چار پانچ چڑیوں کے مرنے کے بعد وہ خود ہی یہ کمرہ چھوڑ گئیں۔ لیکن اس کے برعکس اس برآمدے (ٹارے) میں ان کی نسل پروان چڑھتی رہی۔
انسان کے ضمیر کی سب سے بڑی “خرابی یا خوبی” یہ ہے کہ یہ اکثر تو سویا رہتا ہے اور جب کبھی بھی اسے بھنک پڑ جائے، پتا چل جائے، احساس ہو جائے، ادراک ہو جائے کہ اس نے کچھ غلط کیا ہے تو یہ سکون نہیں لینے دیتا۔ چند ماہ پہلے کی بات ہے، ڈوچے ویلے میں ہم چند دوست بیٹھے ہوئے تھے۔ گفتگو یہ چل رہی تھی کہ ضمیر جب کوئی بات پکڑتا ہے، چاہے وہ نہایت معمولی ہی کیوں نا ہو تو جان نہیں چھوڑتا۔ عدنان نے بتایا کہ ایک مرتبہ اس نے جان بوجھ کر کسی کو راستہ غلط بتایا تھا اور یہ بات آج تک اس کا پیچھا کرتی ہے۔ عاطف بلوچ نے بھی ایک قصہ سنایا۔ مجھے بھی ایک بات جو ہانٹ کرتی ہے، پیچھا کرتی ہے، ضمیر جس پر ملامت کرتا ہے وہ ایک چڑیا کی موت ہے۔ چھٹی یا ساتویں جماعت کا واقعہ ہے۔ میں گرمیوں کی چھٹیوں میں نیم کے درخت کے نیچے چار پائی پر لیٹا ہوا تھا۔ میرے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، چھوٹی سی۔ سامنے ایک ٹہنی پر دو چڑیاں لڑ رہی تھیں ایک دوسرے پر چونچوں سے حملہ آور تھیں اور میں غور سے دیکھتا جا رہا تھا۔ میرے ذہن میں پتا نہیں کیا آیا، میں نے چھڑی زور سے ان کی طرف پھینکی۔ وہ ایک چڑیا کو لگی اور وہ وہیں مر گئی۔ اب مجھے بہت دکھ ہوا۔ پھر میں نے اس چڑیا کی قبر بھی کھودی اور بھاری دل کے ساتھ اسے دفنایا بھی لیکن وہ شرمندگی اور ہلکا سا احساس ندامت میں آج تک محسوس کرتا ہوں۔
اس واقعے کے بعد چڑیوں اور چھوٹے جانوروں کے لیے میری محبت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ایک تو جرم پر شرمندگی تھی، جرم کا احساس تھا اور دوسرا یہ خیال آیا کہ نہیں اب میں ان کے لیے بہتری کروں گا، اس کا ازالہ کروں گا۔ اس کے بعد ایک اور میرے اندر تبدیلی آئی کہ میں نے چیونٹیوں کا تھوڑا بہت خیال کرنا شروع کر دیا۔ گرمیوں میں نلکے کے قریب چند ایک چیونٹیاں وغیرہ ہوتیں تو پانی چلانے سے پہلے میں جھاڑو کے ایک تنکے سے انہیں دائیں بائیں کر دیتا۔ یا پانی میں گھری چیونٹی کو سوکھی جگہ پر رکھ دیتا۔
ابھی پچھلی گرمیوں کی بات ہے۔ جرمنی میں میرے گھر کے قریب دو بچے کھیل رہے تھے ۔ ایک بچے نے چیونٹی پر پاوں مارا تو دوسرے نے بڑھ کر اسے فورا روک دیا اور کہنے لگا، “دیکھو تم اگر چیونٹی ہوتے اور وہ تم پر پاوں مارتی تو تم فورا مر جاتے، تمہاری زندگی ختم ہو جاتی، پھر تم نہ کھیل سکتے نہ تم لولی پاپ کھا سکتے۔” یقین جانیے مجھے اس بچے کی بات سن کر بہت خوشی ہوئی۔ اگر یہی سوچ پروان چڑھے گی تو کل کو یہ بچے چڑیوں کا شکار کرنے کی بجائے انہیں دانہ ڈالنے اور انہیں پانی پلانے میں زیادہ خوشی محسوس کریں گے۔
بات اس برآمدے (ٹارے) اور چڑیوں کے گھونسلے کی چل رہی تھی۔ میں جرمنی آ چکا تھا، سن دو ہزار چھ یا سات کی بات ہے کہ ایک دن فون آیا کہ رات شدید بارش اور تیز آندھی کی وجہ سے وہ ٹارا گر گیا ہے۔ لیکن گھر والے پریشان بھی نہیں تھے۔ اعجاز بھائی نے ساتھ ہی یہ “خوشخبری” بھی سنائی کہ اب ہم پکی چھت ڈالیں گے، لینٹر ڈالیں گے۔ مکان نئے بنے تو جہاں کبھی نیم اور بکائن کا درخت تھا، وہ جگہ پانچ چھ فٹ کی ڈاولینس کی فریج نے لے لی۔ ہم سب کو لینٹر اور پختہ چھت کی خوشی تو تھی لیکن ہم میں سے کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ کچی چھت پر بارش کی قطروں سے پیدا ہونے والی مترنم آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے۔ کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ چڑیاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس گھر سے روٹھ گئی ہیں۔ کسی نے بھی یہ سوچا کہ وہ چہچہاہٹ، شام ڈھلتے ہی لگنے والا پنچھیوں کا میلہ، ان کے چھوٹے چھوٹے بچے (بوٹ) اب کبھی بھی اس گھر واپس لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ اور اب بھی یہ کوئی نہیں سوچ رہا کہ اگر چھتیں اسی طرح پختہ ہوتی رہیں، لینٹر پڑتے اور درخت کٹتے رہے تو چڑیاں بیچاری اپنے بچوں کو لے کر کدھر جائیں گی؟
بیس مارچ چڑیوں کا عالمی دن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
● اللہ ہم سب کے حال پر رحم کرے ۔ آمین ۔۔
دعا گو
Click here to claim your Sponsored Listing.