AL-Musta'rad

AL-Musta'rad

Share

Al Musta'rad is dedicated to provide � organic essential oils to its worthy customers.

09/04/2024

*کوکنگ آٸل۔*

*بازاری آئل سے جان چھڑایں۔اپنا آئل خود بناہیں۔*
*تیل سرسوں 2 کلو میں ادرک 100 گرام جلا لیں۔جب ادرک جل کر سیاہی ماٸل ہونے لگے تو اتار لیں۔ادرک کی لمبی قاشیں بنا کر ڈالیں جب تیل جوش کھانے لگے۔یہ تیل کھانے پکانے میں استعمال کریں۔اعضاۓ رٸیسہ کیلٸے بہترین ٹانک ہے۔*

*تیل سرسوں ایک کلو میں دہی ایک پاٶ ڈال کر ہلکی آنچ پر پکا لیں۔جب دہی کی پُھٹیاں ہلکی سرخی ماٸل ہونے لگیں تو اتار لیں۔تیار ہے۔تیل کی جھاگ اور بُو سب ختم ہو جاۓ گی۔یہ تیل بناسپتی گھی سے ہزار درجے بہتر ہے۔ڈالڈا گھی فقط کیمیکل ہے۔بلکہ یہ صابن کا فارمولہ ہے۔صرف چند کیمیکلز کا فرق ہے۔تجربہ کر لیں۔اگر یہ بات غلط ہے تو یہ بتاٸیں کہ ہر صابن والی فیکٹری گھی کیوں بناتی ہے؟اور ہر گھی والی فیکٹری صابن کیوں بناتی ہے؟۔کیونکہ میٹیریل ملتا جلتا ہے۔اس لٸے بقیہ مواد کو ضاٸع نہیں کرتے۔*
*تیل سرسوں سے بنا ہوا تیل کھانے میں استعمال کرنے سے ہزاروں بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں۔اور کھانے کا ٹیسٹ اور کرارا پن کافی دیر تک قاٸم رہتا ہے۔اعضاۓ رٸیسہ کو طاقت دیتا ہے۔جگر کیلٸیے اکسیر ہے۔*

26/11/2023

سرسوں کا تیل واحد تیل ھے،
جو ساری عُمر نہیں جمتا،
اور اگر جم جائے تو سرسوں نہیں ھے،
ہتھیلی پر سرسوں جمانے والی بات
بھی اسی لیے کی جاتی ھے،
کیونکہ یہ ممکن نہیں ھے،
سرسوں کے تیل کی ایک خوبی یہ بھی ھے کہ اس کے اندر جس چیز کو بھی ڈال دیں گے،
اس کو جمنے نہیں دیتا،
اس کی زِندہ مِثال اچار ھے
جو اچار سرسوں کے تیل کے اندر رہتا ھے،
اس کو جالا نہیں لگتا،
اور اِن شاءالله جب یہ سرسوں کا تیل آپ کے جسم کے اندر جاۓ گا تو آپ کو کبھی بھی فالج،
مِرگی یا دل کا دورہ نہیں ہوگا،
أپ کے گُردے فیل نہیں ہونگے،
پوری زندگی آپ بلڈ پریشر سے محفوظ رہیں گے، (اِن شاء الله)
کیونکہ؟
سرسوں کا تیل نالیوں کو صاف کرتا ھے،
جب نالیاں صاف ہوجاٸیں گی تو دل کو زور نہیں لگانا پڑے گا،
سرسوں کے تیل کے فاٸدے ہی فاٸدے ہیں،
ہمارے دیہاتوں میں جب جانور بیمار ہوتے ہیں تو بزرگ کہتے ہیں کہ ان کو سرسوں کا تیل پلاٸیں،
أج ہم سب کو بھی سرسوں کے تیل کی ضرورت ھے،

3- نمک (نمک بدلیں)

نمک ہوتا کیا ھے؟
نمک اِنسان کا کِردار بناتا ھے،
ہم کہتے ہیں بندہ بڑا نمک حلال ھے،
یا پھر
بندہ بڑا نمک حرام ھے،
نمک انسان کے کردار کی تعمیر کرتا ھے،
ہمیں نمک وہ لینا چاہیٸے جو مٹی سے آیا ہو،
اور وہ نمک أج بھی پوری دنیا میں بہترین پاکستانی کھیوڑا کا گُلابی نمک ھے،
پِنک ہمالین نمک 25 ڈالر کا 90 گرام یعنی 8000 روپے کا نوے گرام اور 80000 روپے کا 900 گرام بِکتا ھے،
اور ہمارے یہاں دس تا بِیس روپے کلو ھے،
بدقسمتی دیکھیں!
ہم گھر میں آیوڈین مِلا نمک لاتے ہیں،
جس نمک نے ہمارا کردار بنانا تھا،
وہ ہم نے کھانا چھوڑ دیا۔
اس لٸے میری أپ سے گذارش ھے کہ ہمیشہ پتھر والا نمک استعمال کریں،

*4- مِیٹھا
ہم سب کے دماغ کو چلانے کے لٸے میٹھا چاہیٸے،
اور میٹھا الله کریم نے مٹی میں رکھا ھے،
یعنی گَنّا اور گُڑ،
اور ہم نے گُڑ چھوڑ کر چِینی کھانا شروع کر دی،
خدارہ گُڑ استعمال کریں،

*5- پانی
انسان کے لٸے سب سے ضروری چیز پانی ھے،
جس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا ممکن نہیں،
پانی بھی ہمیں مٹی سے نِکلا ہُوا ہی پینا چاہیٸے،
پوری دنیا میں آبِ زم زم سب سے بہترین پانی ھے،
اور اس کے بعد زمین کا پانی ھے،
اس کے بعد مٹی سے نکلنے والی گندم استعمال کریں،
لیکن گندم کو کبھی بھی چھان کر استعمال نہ کریں،
گندم جس حالت میں آتی ھے،
اُسے ویسے ہی استعمال کریں،
یعنی سُوجی، میدہ اور چھان وغیرہ نکالے بغیر
کیونکہ!
ہمارے آقا کریم حضرت محمد ﷺ بغیر چھانے أٹا کھاتے تھے،
تو پھر طے یہ ہوا کہ ہمیں یہ پانچ کام کرنے چاہٸیں،
1- مٹی کے برتن،
2- سرسوں کا تیل،
3- گُڑ،
4- پتھر والا نمک،
5- زمین کے اندر والا پانی،
زمین کے اندر والا پانی،
مٹی کے برتن میں رکھ کر،
مٹی کے گلاس میں پئیں،
اور ان ساری چیزوں کے ساتھ گندم کی روٹی کھائیں-

جزاک اللہ خیر

23/11/2023

ایکسپریس اردو
جمعرات 23نومبر 2023
تیل کے مختلف استعمال اور طبی فواٸد
حکیم نیازاحمدڈیال

انسان زمانہ قدیم کا ہو یا جدید ترقی یافتہ دور میں زندگی گزارنے والا، اسے اپنی صحت کے قیام اور بحالی کے بہت سے طریقے اپنانے پڑتے ہیں۔
انسانی صحت و تن درستی کا دارومدارعمدہ ماحول، بہترین آب وہوا، فطری طرز بود وباش، متوازن ومعیاری خوراک اور تعمیری معمولات پر ہوتاہے۔ متوازن خوراک میں اناج، پھل، سبزیاں ترکاریاں اور بیج یا بیجوں کے تیل شامل ہیں۔
تیل انسانی بدن کی خوبصورتی ملائمت اور تراوت کالازمی حصہ ہیں۔ مختلف اقسام کے تیل ہماری روز مرہ خوراک کا حصہ بھی ہوتے ہیں۔
ہمارے گھروں میں کھانا بناتے وقت کوکنگ آئل، بناسپتی یا دیسی گھی، سرسوں کا تیل یا زیتون کے تیل میں سے کوئی ایک لازمی استعمال کیا جاتا ہے۔
زمانہ قدیم میں سمجھدار معالجین مختلف امراض سے چھٹکارا پانے کے لیے مختلف تیلوں سے بدن پر مالش کرواتے تھے۔ جسمانی و اعصابی دردوں کمر درد، چوٹ، موچ اور گھنٹیا سے نجات دلانے کے لیے تلوں کا تیل، روغن زیتون اور کئی دوسرے تیل بڑے اعتماد سے استعمال کرائے جاتے تھے۔
موجودہ دور میں خون گاڑھا ہونے سے پیدا ہونے والی بیماریاں جیسے امراض قلب، کولیسٹرول، یورک ایسڈ، ذیابیطس، امراض گردہ، جگر کی بیماریوں اور فالج، برین ہیمریج وغیرہ مسلط ہونے کے ڈر سے معالجین قدرتی تیل کے استعمال کا مشورہ دینے لگے ہیں۔
تیلوں میں چکنائی پائی جاتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق چکنائیاں دوقسم کی ہوتی ہیں۔ ایک مفید چکنائی دوسری مضر چکنائی۔ مفید چکنائی انسانی بدن کی حرارت سے پگھل جاتی ہے جسے ’انسیچوریٹیڈ فیٹس‘ کہاجاتا ہے۔
دوسری مضر صحت چکنائی کو ’سیچوریٹیڈ فیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ دیسی گھی، سرسوں، زیتون، مونگ پھلی، بادام اورسویابین وغیرہ کا تیل انسانی صحت کے لیے مفید خوردنی تیل سمجھے جاتے ہیں۔ جبکہ ناریل اور سورج مکھی وغیرہ کے تیل سیچوریٹیڈ فیٹس ہونے کے سبب کسی حد تک مضر صحت خیال کیے جاتے ہیں۔
دیسی گھی سے متعلق ایک تو جدید طب سے وابستہ معالجین نے غلط فہمیاں بہت زیادہ پھیلا دی ہیں، دوسرے دیسی گھی خاصا مہنگا بھی ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید سے ہی دور ہے۔ دیسی گھی دماغی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے، بدن کو فربہ اور خوبصورت بنانے اور قوت مدافعت بڑھانے کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے۔
دیسی گھی وٹامن ڈی کا بہترین قدرتی ماخذ بھی ہے۔ ایسے بچے جن کی جسامت کمزور ہو، مناسب نشوونما نہ ہو رہی ہو تو بچے کے بدن پر دیسی گھی کی مالش کرکے تھوڑی دیر ’سن باتھ‘ یعنی دھوپ میں لٹانے سے بچے کی نشوونما میں بہتری اور جسامت میں مضبوطی آنے لگتی ہے۔
اسی طرح زیتون کا تیل بھی ہمارے ملک کی پیداوار نہ ہونے کے باعث مہنگا پڑتا ہے اور اس کے خالص ہونے پر بھی سوالیہ نشان اپنی جگہ ہے۔ منافع خور تاجر مبینہ طور پر عام کوکنگ آئل کو ہی زیتون کی خوشبو اور رنگ دے کر فروخت کرنے میں مصروف ہیں۔
بدنصیبی ہے کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہماری مقامی اجناس جیسے سرسوں، مونگ پھلی، مکئی، سورج مکھی وغیرہ کی کاشت اپنی ضرورت سے بہت کم ہے۔
حالیہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ہم اپنی ضرورت کا 75 فیصد خوردنی تیل بیرون ممالک سے درآمد اور صرف 25 فیصد تک مقامی تیل استعمال کرپاتے ہیں۔ حالانکہ ایک زرعی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ سرسوں، سویابین، مکئی، سورج مکھی اور مونگ پھلی وغیرہ کی کاشت کے لیے ہماری زمینیں اور آب وہوا بھی موزوں ہے۔
لاپرواہی اور بے دھیانی کی وجہ سے ملک کے قیمتی زرمبادلہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ حکومتی اور محکمانہ ذمے داران سے ہماری گزارش ہے کہ سرسوں، سویابین، مکئی، سورج مکھی اور مونگ پھلی وغیرہ کی کاشت پر بھرپور توجہ دے کر نہ صرف ہم اپنی ملکی خوردنی ضروریات پوری کرسکتے ہیں بلکہ برآمد کر کے ملکی زرمبادلہ میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
یوں تو تلوں کی کاشت بھی ہمارے ہاں وسیع بنیادوں پر ہو سکتی ہے اور ہو بھی رہی ہے لیکن طبی ماہرین تلوں کا تیل پکانے کے لیے تجویز نہیں کرتے۔ تلوں کے تیل کا زیادہ استعمال بیرونی طور پر بدن کو گرمانے، جسمانی واعصابی دردیں بھگانے، چوٹ، موچ، کمر اور جوڑوں کے درد سے پیچھا چھڑانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے خیال میں تلوں کا تیل ثقیل ہوتا ہے جو نظام ہضم کی کارکردگی کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
اگر سرکاری سطح پر مقامی طور سرسوں، سورج مکھی، مکئی، بنولہ، مونگ پھلی اور سویابین کی کاشت پر توجہ دی جائے تو ملکی زر مبادلہ بچانے کے ساتھ عوام الناس کو جان لیوا اور موذی امراض سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
سرسوں کے تیل کے حوالے سے ایک وضاحت ضروری ہے کہ سرسوں کی کئی اقسام ہیں، جن میں رایا دیسی سرسوں، توریا تارامیرا اور گوبھی سرسوں کینولا آئل شامل ہیں۔
دیسی عام سرسوں جسے رایا بھی کہا جاتا ہے کے تیل میں 50 فیصد تک تیزابی مادے ہونے کی وجہ سے یہ تیل کھانے کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ اس سے کھانا بدمزہ اور تلخ سا ہو جاتا ہے، جسے کھانے میں دقت پیش آ تی ہے۔کینولا آئل جسے گوبھی سرسوں کا نام دیا جاتا ہے اس کا تیل کھانے کیلیے بہترین سمجھاجاتا ہے۔ گوبھی سرسوں کینولا آئل میں تیزابی مادوں کی مقدار بھی کم ہوتی ہے، یوں اس میں پکایا ہوا کھانا ذائقے اور لذت سے بھرپور ہوتا ہے۔
کینولا آئل تندرستی برقرار رکھنے کے لیے بھی بہترین مانا جاتا ہے۔ یہ نہ جمنے والی چکنائی ہے اور خون کی نالیوں میں جمتا نہیں اور نہ ہی خون گاڑھا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
سورج مکھی کے تیل میں اگر چہ جمنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے تاہم کیمیائی پروسس سے گزار کر اسے بھی خوردنی معیار کے لائق بنایا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں صابن سازی کی صنعت میں سورج مکھی کے تیل کا استعمال کرکے ہم ملکی زرمبادلہ بچاسکتے ہیں۔
زیتون کے تیل کو کھانوں میں شامل کرنا صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔ زیتون کا مزاج گرم خشک ہے اور یہ دل ودماغ، اعصاب اور جگر و معدے کو تقویت دیتا ہے۔ لیکن پاکستان کی مقامی فصل نہ ہونے کے سبب کافی مہنگا پڑتا ہے۔
تاہم صاحب استطاعت زیتون کے تیل کو اپنی خوراک میں شامل کرکے لاتعداد مہلک اور جان لیوا امراض سے محفوظ ہوسکتے ہیں۔ زیتون کے تیل اور روغن بادام کے استعمال سے متعلق دھیان رہے کہ انہیں آگ پر پکانے سے ان کے مفید صحت مند اجزا جل جاتے ہیں اور یہ خاطر خواہ صحت بخش ثابت نہیں ہوتے۔ زیتون کے تیل اور روغن بادام کو سبزیاں ابال کر شامل کرنے سے ہی ان کے صحت بخش اجزا سے مکمل استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح دودھ، پھلوں کے جوسز یا شوربے والے سالن میں حسب ضرورت وگنجائش شامل کرکے ان کے بھرپور فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
روغن بادم بدن ودماغ کی خشکی ختم کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ جسم پر مالش کرنے سے بدن کے مسام کھلتے ہیں اور جلدی خلیات میں آکسیجن کی جاذبیت بڑھ کر صحت وتوانائی کا سبب بنتی ہے۔ بادام روغن نیم گرم دودھ میں ملاکر پینے سے قبض سے نجات ملتی ہے اور بے خوابی کے مرض کاخاتمہ ہوجاتا ہے۔
مونگ پھلی کا تیل بھی انسیچوریٹیڈ خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ ملکی غذائی ضروریات کے تحت تجارتی طور پر مونگ پھلی کی کاشت بھی بڑھانی چاہیے، اس سے صحت افزا خوردنی تیل بھی عام دستیاب ہوسکتا ہے اور ملکی زر مبادلہ کی بچت بھی کی جاسکتی ہے۔
مونگ پھلی کے تیل کو طبی ماہرین صحت بخش اور قلب دوست خیال کرتے ہیں۔ یہ دل کی حفاظت کرتا ہے اور مجموعی صحت برقرار رکھنے میں بھی کلیدی کردار کا حامل ہے۔ ناریل کا تیل جمنے والا اور خون کو گاڑھا کرنے والا ہوتا ہے۔
ناریل کے تیل کو کھانے میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔ یہ جلد کی خوبصورتی اور بالوں کی نشوونما کے لوازمات میں بھاری مقدار میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔کدو کا تیل دماغی خشکی، دماغی کمزوری، ذہنی امراض میں بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔ نیند نہ آنے کی صورت میں روغن کدو شیریں کے چند قطروں سے سر کی چوٹی پر مساج کریں تو بھرپور نیند آتی ہے۔
ہمارے گھروں میں السی اور السی کاتیل بھی موسم سرما میں وافر استعمال کیاجاتا ہے۔ السی کولیسٹرول، یورک ایسڈ اور جسمانی واعصابی کمزوری دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ آملے دھنیا اور سیکاکائی کے تیل بالوں کی حفاظت، مضبوطی اور نشوونما کے لیے عام استعمال کیے جاتے ہیں۔ روغن ارنڈ یاکیسٹر آئل کا استعمال بھی ہمارے ہاں عام کیا جاتا ہے۔
کیسٹر آ ئل عام طور پر قبض دور کرنے کے لیے مائیں بچوں کو دودھ میں ملاکر پلاتی ہیں۔ طبی ماہرین کے نزدیک کیسٹر آئل ایک بے ضرر اور مفید دوا ہے جو بچوں، بزرگوں اور جوانوں کے لیے یکساں مفید ہے۔
قارئین کو یاد رکھنا چاہیے کہ بہترین اور فوری نتائج کے حصول کے لیے جملہ تیلوں سمیت کسی بھی نباتاتی دوائی کا استعمال کسی ماہر کے مشورے سے کریں۔ سیلف میڈیکیشن اور سنے سنائے ٹوٹکے صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں

23/03/2023
Photos from AL-Musta'rad's post 26/02/2023

پاکستان کا سب سے خالص سرسوں کا تیل
(سو فیصد گارنٹی کے ساتھ)
Benefits Of (المسترد) Mustard Oil
For Hair
Natural Conditioner. ...
Nourishes Hair. ...
Full Of Minerals, Vitamins And Antioxidants. ...
Boosts Blood Circulation. ...
Promotes Hair Growth. ...
Anti-Fungal Properties. ...
Prevents Dandruff.

This (المسترد ہئر آئل) Mustard oil Can help make your hair shinier and smoother. And it may help prevent:

dry hair
dry, flaky scalp
frizziness
split ends
hair breakage
heat damage
water damage

Photos from AL-Musta'rad's post 04/02/2023

With long, thick and beautiful hair, the beauty and strength of hair gives a distinct identity to your personality.

for more Details please contact
+92 300 4694002

05/01/2023

Photos from AL-Musta'rad's post 05/01/2023

05/01/2023

Now available in Lahore Every store

05/01/2023

Available at

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Johar Town
Lahore
54000