SHAH G
yes
😭😭😭سانحہ باجوڑ😭😭😭
Hazrat Molana Irshad Sahab k janaze pr awaam ka jamme ghafeer
*نیکی کا چسکا*
مشہور رئیس حضرت صعصعہ بن ناجیہ دروازہ رسول اللہ ﷺ پر کلمہ پڑھنے آئے مسلمان ہونے کے بعد نبی ﷺ کی بارگاہ میں عرض کرنے لگے رسول اللہﷺ ایک بات پوچھنی ہے۔ حضورﷺنےفرمایا پوچھو۔
کہنےلگےیارسول اللہ دور جاہلیت میں ہم نےجو نیکیاں کی ہیں ان کا بھی اللہ ہمیں اجر عطا کرے گا۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا تو بتا تو نے کیا نیکی کی ہے؟
کہنے لگے یا رسول اللہﷺ میرے دو اونٹ گم ہوگئےتھے میں اپنے تیسرے اونٹ پربیٹھ کر اپنے دو اونٹوں کو ڈھونڈنے نکلا میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل کے اس پار نکل گیاجہاں پرانی آبادی تھی وہاں میں نے اپنے دو اونٹوں کو پا لیا ایک بوڑھا آدمی جانوروکی نگرانی پر بیٹھا تھا اس کو جاکرمیں نےبتایا کہ یہ دواونٹ میرے ہیں وہ کہنے لگا یہ تو چرتے چرتے یہاں آگئےتھےتمہارے ہیں تولےجاؤانہی باتوں میں اس نےپانی بھی منگوا لیا چند کھجوریں بھی آ گئی میں پانی پی رہا تھا کھجوریں بھی کھا رہا تھا کہ ایک بچے کی رونے کی آواز آئی تو بوڑھا پوچھنے لگا بتاؤ بیٹی آئی کہ بیٹا۔۔؟
میں نے پوچھا بیٹی ہوئی تو کیا کروگےکہنےلگااگر بیٹاہوا تو قبیلے کی شان بڑھائے گا اگر بیٹی ہوئی تو ابھی یہاں اسے زندہ دفن کرا دوں گا اس لیے کہ میں اپنی گردن اپنےدامادکے سامنے جھکا نہیں سکتا میں بیٹی کی پیدائش پر آنےوالی مصیبت برداشت نہیں کر سکتا میں ابھی دفن کرا دوں گا۔
حضرت صعصعہ بن ناجیہ فرمانے لگےیارسول اللہﷺ یہ بات سن کے میرا دل نرم ہوگیا میں نے اسے کہا پھر پتہ کروبیٹی ہےکہ بیٹا ہے اس نے معلوم کیا تو پتہ چلاکہ بیٹی آئی ہے۔
میں نے کہا کیا واقعی تو دفن کرے گا کہنے لگا ہاں ! میں نے کہا دفن نہ کر مجھے دے دے میں لے جاتا ہوں۔
یارسول اللہﷺ وہ مجھے کہنے لگا اگر بچی تمہیں دے دوں تو تم کیا کرو گے؟
میں نے کہاتم میرےدو اونٹ رکھ لو بچی دے دو۔
کہنے لگا نہیں دو نہیں یہ جس اونٹ پہ تو بیٹھ کے آیا ہے یہ بھی لونگا۔
حضرت صعصعہ بن ناجیہ عرض کرنے لگے ایک آدمی میرےساتھ گھر بھیجویہ مجھے گھر چھوڑ آئے میں یہ اونٹ اسےواپس دےدیتا ہوں۔
یارسول اللہﷺ میں نے تین اونٹ دےکے ایک بچی لیں اس بچی کو لاکے میں نے اپنی کنیزکو دیا یہ اسے دودھ پلاتی ہے۔
یارسول اللہﷺ وہ بچی میرے داڑھی کےبالوں سے کھیلتی وہ میرے سینےسےلگتی ہے حضورﷺ پھر مجھے نیکی کا چسکا لگ گیا پھر میں ڈھونڈنے لگا کہ کون کون سا قبیلہ بچیاں دفن کرتا ہے۔
یارسول اللہﷺ میں ڈھونڈنے لگا میں تین اونٹ دے کے بچی لایا کرتا۔
یارسول اللہﷺ میں نے360بچیوں کی جان بچائی ہے میری حویلی میں تین سوساٹھ بچیاں پلتی ہیں۔ حضورﷺ مجھے بتائیں میرا مالک مجھے اس کا اجر دے گا؟
کہتے ہیں۔حضورﷺ کا رنگ بدل گیا داڑھی مبارک پر آنسو گرنے لگے مجھے سینے سے لگایا میراماتھا چوم کے فرمانےلگےیہ تجھے اجر ہی تو ملا ہے رب نےتجھےدولت ایمان عطاکردی ہے۔
نبیﷺ فرمانے لگے یہ تیرا دنیا کا آجر ہےاورتیرےرسولﷺ کا وعدہ ہے قیامت کے دن رب کریم تمہیں خزانے کھول کے دے گا۔
*امام طبرانی نے اس واقعہ کو طبرانی میں لکھا ہے*
مؤذن صاحب اور چوہا
مسجد کی اسپیکر والی الماری جو بغیر تالے کے ہے، ایک دن اذان دینے کے لئے مؤذن صاحب نے اسپیکر کا بٹن کھولا تو اسپیکر کی مشین تو چلی مگر آواز ہارن تک نہ جاتی تھی۔
بوڑھے مؤذن صاحب نے مشین اور الماری بند کر کے بغیر اسپیکر کے اذان دی، جب نمازی آئے تو مؤذن صاحب نے ایک نوجوان کو اسپیکر چیک کرنے کو کہا، اُس نے دیکھا تو ہارن کی جانب جانے والی تار ایسے کٹی اور چھیلی ہوئی تھی جیسے کسی نے چھری سے کاٹنے کی کوشش کی ہو، ساری مسجد میں یہ بات پھیل گئی کہ جناب کوئی چور مشین چوری کرنے کی غرض سے آیا تھا اچانک کسی کی آہٹ سنائی دینے پر وہ کام نامکمل چھوڑ کر بھاگ گیا۔
اَب چور تلاش کرنے کی صدا لگائی گئی، محلے کے فُلاں اُوباش کی یہ حرکت ہو سکتی ہے
دوسرے نے کہا فلاں چھوکرا بری صحبت میں اٹھتا بیٹھتا ہے اُس کی کارستانی ہو سکتی ہے
تیسرے بابا جی نے کہا فلاں گھر والا لڑکا دو سال پہلے چوری کے کیس میں پکڑا گیا تھا مجھے تو اُس پر شک ہے، غرضیکہ جتنے منہ اُتنی باتیں
ظاہر ہے کسی کا گھر تو تھا نہیں کہ جب تک کوئی فیصلہ نہ ہو جاتا مجلس برخاست نہ ہوتی، سب اپنی بولی بول کر آہستہ آہستہ بِنا کوئی فیصلہ کئے مسجد سے رخصت ہو گئے.......... تار کو جوڑ دیا گیا، اذان کی آواز آنا شروع ہو گئی، ہر نماز پہ بات چِھڑتی اور مختلف چوروں پہ تبصرے ہوتے رہے۔
کچھ دنوں بعد ظہر کی اذان دینے کے لئے مؤذن صاحب نے جونہی الماری کا دروازہ کھولا تو خَپ کر کے بڑا چوہا مؤذن صاحب کے قدموں کو چھوتا ہوا گیا، اوسان بحال ہونے پہ جب مشین کا بٹن کھولا تو ہارن میں آواز ندارد، وہی تار کٹی ہوئی، وہی پچھلے ہفتے والا مسئلہ، اب جب نمازی تشریف لائے تو مؤذن صاحب نے ساری صورتحال سے آگاہ کیا، سب خاموش.......... لمبی خاموشی
ہمارے اکثر جھگڑے مفروضوں پہ قائم ہوتے ہیں، دشمنیاں شک کی بنیاد پہ ہوتی ہیں، نفرتیں گمانوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، اکثر وہ کچھ نہیں ہوتا جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں
دل پاک کیجیے، سوچ پاک ہو جائے گی!.......... نفرت کی جگہ اُلفت جنم لے گی۔۔۔۔
o
05/06/2023
*قربانی کے گوشت کی تقسیم کا طریقہ*
سوال
قربانی کے گوشت کی تقسیم کا طریقہ کیاہے؟ کیاسات حصے کرنے چاہییں اور ہر شریک اپنے متعین حصے کو تین حصوں میں تقسیم کرے؟
جواب
اگر بڑے جانور میں کئی حضرات شریک ہوں تو ایسی اجتماعی قربانی کے جانور کا گوشت شرکاء کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں ہے، البتہ اگر تقسیم کرنا ہو تو وزن کر کے برابری کے ساتھ تقسیم کرنا لازم ہے، اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں ہے، چاہے شرکاء کمی زیادتی پر راضی ہی کیوں نہ ہوں، البتہ اگر گوشت کی تقسیم کے وقت قربانی کے جانور کے دیگر اعضاء مثلاً کلہ، پائے، وغیرہ کو بھی گوشت کے ساتھ رکھ کر تقسیم کرلیا جائے تو پھر تول کر تقسیم کرنا لازم نہیں ہوگا، بلکہ اندازے سے کمی بیشی کے ساتھ تقسیم کرنا بھی جائز ہوگا۔
گوشت کی تقسیم کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس میں سے ایک حصہ غرباء میں دےدے اور ایک حصہ رشتہ داروں میں دےدے اور ایک حصہ خود رکھے۔
لہذا گھر کے افراد مل کر اجتماعی قربانی کرتے ہیں اور گوشت تقسیم کیے بغیر گھر میں اکٹھا رکھ دیتے ہیں تو وہ اجتماعی طور پر باہمی رضامندی سے اس مستحب عمل کو ادا کرسکتے ہیں، اس طور پر وہ اجتماعی طور پر جانور کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کردیں ایک فقراء کے لیے ، ایک رشتہ داروں کے لیے، اور ایک اپنے لیے، ورنہ بصورتِ دیگر ہر شریک اپنے حصے میں سے یہ تین حصے کرلے تو اس کے لیے یہ بہتر صورت ہوگی۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 317):
"ويقسم اللحم وزناً لا جزافاً إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد) صرفاً للجنس لخلاف جنسه.
(قوله: ويقسم اللحم) انظر هل هذه القسمة متعينة أو لا، حتى لو اشترى لنفسه ولزوجته وأولاده الكبار بدنة ولم يقسموها تجزيهم أو لا، والظاهر أنها لاتشترط؛ لأن المقصود منها الإراقة وقد حصلت".فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144012200124
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
*زکوة کی رقم سے مشین کی خریداری کرنا، خون و پیشاب کے ٹیسٹ کی اجرت دینا جائز نہیں*
سوال
ہم غریب لوگوں کو راشن ، طبی تعاون ، تعلیمی مدد فراہم کرنے کے لئے ایک اتنظیم چلاتے ہیں اور غریبوں اور محتاجوں کی مدد کے لیے ہم اپنے ممبران سے زکاة اکٹھا کرتے ہیں، ہمارے پاس جو غریب آتے ہیں تو شریعت کے مطابق استحاق زکاة کے لیے تصدیق کرتے ہیں اورپھر زکاة کی رقم دیتے ہیں۔ اس سال ہم پیتھولوجی لیب (خون اور پیشاب جانچ) کھولنے کا ارادہ کررہے ہیں ، ٹیسٹ میں ڈھائی سے روپئے لگتے ہیں تو ہم اسی سو روپئے لے سکتے ہیں، آج کل دوائی کی بہت زیادہ مہنگی ہوگئی ہے،اسی کے پیش نظر ہم نے ایک چیریٹبل لیب کھولنے کے بارے میں سوچاہے جہاں ہم کم سے کم ریٹ پر خون اور پیشاب کا ٹیسٹ کرسکتے ہیں، اس سے غریبوں کو مدد ملے گی اور اس سے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس زکاة کا فنڈ ہے، تو کیا ہم اس کو مشینوں کی خریدار ی اس رقم سے کرسکتے ہیں؟ہمارے کام پس منظر یہ ہے کہ ہم مارکیٹ ریٹ سے کم ریٹ میں ٹیسٹ کریں گے مثلاً مارکیٹ ریٹ ڈھائی سو روپئے ہیں تو ہم اسی سوروپئے لیں گے تو اس طرح سے تقریباً 150-170روپئے بچیں گے ۔ ہماری تنظیم رجسٹر ڈ ہے اور ہم ممبران اللہ سے ڈر کر بہت سے نیک کاموں میں کررہے ہیں، جیسے کہ ہم رمضان میں اسپتال میں مریضوں کے روشتہ داروں کو سحری فراہم کرتے ہیں، غربیوں کی دوائی اور تعلیم میں مالی مدد کرتے ہیں، کیریئر سازی کے تعلق پرگرام چلارہے ہیں،انٹرویو کی تیاری کا پروگرام چلاتے ہیں، غریبوں کو کپڑے فراہم کرتے ہیں، غریبوں کو ماہانہ راشن دیتے ہیں، اسکالر شپ دیتے ہیں۔ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 961-1077/B=12/1437
زکوة کی رقم سے مشین کی خریداری کرنا، خون و پیشاب کے ٹیسٹ کی اجرت دینا جائز نہیں، کیریئر سازی کے تعلق سے پروگرام چلانے میں انٹرویو کی تیاری کا پروگرام چلانے میں بھی زکوة کی رقم خرچ کرنا جائز نہیں، غریب مریضوں کو ہاتھ میں دے کر زکوة کی رقم کا اسے مالک بنانا ضروری ہے پھروہ مریض اپنی دوا علاج میں خود اپنے ہاتھوں سے دے اس کے بغیر زکوة دینے والوں کی زکوة ادا نہ ہوگی۔ زکوة کی رقم تنظیم میں نہ لگائیں تو بہتر ہے۔ آپ لوگوں سے امدادی رقم لے کر تنظیم چلائیں کیونکہ زکوة کے مسائل بہت باریک اور نازک ہوتے ہیں غیر عالم انہیں نہیں سمجھ سکتا۔ پھر ہمیں اس کا شریعت نے مکلف بھی نہیں بنایا ہے کہ ہم لوگوں کی زکوة وصول کرکے لوگوں میں تقسیم کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
*کیا شاگردہ سے استاد کا نکاح جائز ہے؟*
سوال:
ایک شاگردہ نے کسی مدرسہ میں استاد سے پڑھا تھا اور اب اس شاگردہ سے وہ استاد نکاح کرنا چاہتے ہیں، کیا شاگردہ سے استاد کا نکاح جائز ہے، جبکہ معاشرے میں اسے معیوب سمجھا جاتا ہے؟
جواب: واضح رہے کہ کسی لڑکی کا شاگردہ ہونا اسبابِ حرمت میں سے نہیں ہے کہ جن کی وجہ سے اس سے نکاح کرنا حرام ہوجائے، لہذا شاگردہ سے استاد کا نکاح کرنا جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (النساء، الآیۃ: 23- 24)
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَاَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الاَخِ وَبَنَاتُ الاُخْتِ وَاُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِيْ اَرْضَعْنَكُمْ ۔۔۔۔الخ
وَاُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِأَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسَافِحِيْنَ۔۔۔۔الخ
رد المحتار: (فصل في المحرمات، 28/3، ط: دار الفکر)
أسباب التحريم أنواع قرابة مصاهرة رضاع۔۔۔الخ
الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (7655/9، ط: دار الفکر)
الاولی مراعاۃ التقارب بین ھذہ الاوصاف وبخاصۃ السن والثقافۃ لان وجودھما ادعی لتحقیق الوفاق الخ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی*زکوة کی رقم سے مشین کی خریداری کرنا، خون و پیشاب کے ٹیسٹ کی اجرت دینا جائز نہیں*
سوال
ہم غریب لوگوں کو راشن ، طبی تعاون ، تعلیمی مدد فراہم کرنے کے لئے ایک اتنظیم چلاتے ہیں اور غریبوں اور محتاجوں کی مدد کے لیے ہم اپنے ممبران سے زکاة اکٹھا کرتے ہیں، ہمارے پاس جو غریب آتے ہیں تو شریعت کے مطابق استحاق زکاة کے لیے تصدیق کرتے ہیں اورپھر زکاة کی رقم دیتے ہیں۔ اس سال ہم پیتھولوجی لیب (خون اور پیشاب جانچ) کھولنے کا ارادہ کررہے ہیں ، ٹیسٹ میں ڈھائی سے روپئے لگتے ہیں تو ہم اسی سو روپئے لے سکتے ہیں، آج کل دوائی کی بہت زیادہ مہنگی ہوگئی ہے،اسی کے پیش نظر ہم نے ایک چیریٹبل لیب کھولنے کے بارے میں سوچاہے جہاں ہم کم سے کم ریٹ پر خون اور پیشاب کا ٹیسٹ کرسکتے ہیں، اس سے غریبوں کو مدد ملے گی اور اس سے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس زکاة کا فنڈ ہے، تو کیا ہم اس کو مشینوں کی خریدار ی اس رقم سے کرسکتے ہیں؟ہمارے کام پس منظر یہ ہے کہ ہم مارکیٹ ریٹ سے کم ریٹ میں ٹیسٹ کریں گے مثلاً مارکیٹ ریٹ ڈھائی سو روپئے ہیں تو ہم اسی سوروپئے لیں گے تو اس طرح سے تقریباً 150-170روپئے بچیں گے ۔ ہماری تنظیم رجسٹر ڈ ہے اور ہم ممبران اللہ سے ڈر کر بہت سے نیک کاموں میں کررہے ہیں، جیسے کہ ہم رمضان میں اسپتال میں مریضوں کے روشتہ داروں کو سحری فراہم کرتے ہیں، غربیوں کی دوائی اور تعلیم میں مالی مدد کرتے ہیں، کیریئر سازی کے تعلق پرگرام چلارہے ہیں،انٹرویو کی تیاری کا پروگرام چلاتے ہیں، غریبوں کو کپڑے فراہم کرتے ہیں، غریبوں کو ماہانہ راشن دیتے ہیں، اسکالر شپ دیتے ہیں۔ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 961-1077/B=12/1437
زکوة کی رقم سے مشین کی خریداری کرنا، خون و پیشاب کے ٹیسٹ کی اجرت دینا جائز نہیں، کیریئر سازی کے تعلق سے پروگرام چلانے میں انٹرویو کی تیاری کا پروگرام چلانے میں بھی زکوة کی رقم خرچ کرنا جائز نہیں، غریب مریضوں کو ہاتھ میں دے کر زکوة کی رقم کا اسے مالک بنانا ضروری ہے پھروہ مریض اپنی دوا علاج میں خود اپنے ہاتھوں سے دے اس کے بغیر زکوة دینے والوں کی زکوة ادا نہ ہوگی۔ زکوة کی رقم تنظیم میں نہ لگائیں تو بہتر ہے۔ آپ لوگوں سے امدادی رقم لے کر تنظیم چلائیں کیونکہ زکوة کے مسائل بہت باریک اور نازک ہوتے ہیں غیر عالم انہیں نہیں سمجھ سکتا۔ پھر ہمیں اس کا شریعت نے مکلف بھی نہیں بنایا ہے کہ ہم لوگوں کی زکوة وصول کرکے لوگوں میں تقسیم کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
02/06/2023
Follow this link to join my WhatsApp group: https://chat.whatsapp.com/DciF8FGeWeACaWU6c16A9T
*یونیفارم میں ٹائی کا لازم ہونا*
سوال
میں اپنے بیٹے کا داخلہ جس اسکول میں کروانا چاہتا ہوں وہاں کے قوانین کے مطابق اسکول یونیفارم میں پینٹ شرٹ کے ساتھ ٹائی پہننا بھی لازمی ہے، ایسی صورتِ حال میں میرے لیے شریعت کا کیا حکم ہے کہ میں پہلے اسکول کے مالکان سے بات کروں کہ آپ اپنے اسکول سے ٹائی پہننے کی شرط ختم کریں؟ یا اپنے صاحب زادے کا داخلہ کسی اور اسکول میں کراؤں، جب کہ یہ اسکول میرے گھر کے بہت قریب بھی ہے اور اس کی فیس بھی بہت مناسب ہے اور اس اسکول کا تعلیمی معیار بھی بہت بہتر ہے؟
جواب
واضح ہے کہ ٹائی کا استعمال، صلحاء، شرفاء کے لباس کا حصہ نہیں، بلکہ فساق و فجار یا ان سے مرعوب لوگوں کے لباس کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے اور جو لباس فساق و فجار کا شعار ہو یا اس میں فساق و فجار سے مشابہت نظر آتی ہو اس کو استعمال کرنا مکروہ ہے، کئی احادیثِ نبویہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کافروں کی مشابہت سے ممانعت فرمائی ہے اور ان کی مخالفت کا حکم دیا ہے، اور جو لباس دشمنانِ خدا سے مشابہت کا سبب بنے ایسے لباس کو ممنوع قرار دیا ہے۔
حدیثِ مبارک میں ہے:
"قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: .... من تشبه بقوم فهو منهم."
(المسند الجامع، (الجھاد)، 10/716 ،رقم الحدیث؛8127، دار الجیل، بیروت)
ترجمہ : حضورﷺ کا ارشاد ہے؛ جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ شخص اسی قوم میں شمار ہوگا۔
ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے:
"إن هذه من ثیاب الکفار فلاتلبسها".
(مسلم، 3/1648، باب النھی عن لبس الرجل الثوب المعصفر،ط؛ داراحیاء التراث)
یعنی یہ کافروں کے(جیسے) کپڑے ہیں، پس ان کو نہ پہننا۔
لہذا ٹائی اگرچہ اب نصاری کا خاص شعار نہیں رہا، لیکن اب بھی یہ عموما کفار اور فساق کے لباس کا حصہ ہے، صلحاء اور علماء کا لباس نہیں ہے، اس لیے ٹائی کا استعمال ناجائز اور حرام تو نہیں، لیکن کراہت سے خالی بھی نہیں ہے، اس کو پہننے سے اجتناب ضروری ہے۔
لہٰذا سائل کو چاہیے کہ اسکول والوں سے گزارش کرے کہ وہ یونیفارم میں ٹائی کی پابندی کو ختم کردیں، یا کم از کم اپنے بیٹے کے لیے اس سے استثنا حاصل کرنے کی کوشش کرے، اگر وہ اس پر تیار نہ ہوں تو سائل کو چاہیے کہ تھوڑی مشقت برداشت کرلے؛ لیکن بچے کی دینی تربیت اور ذہن سازی کے بڑے مقصد کے پیش نظر اپنے بیٹے کو کسی اور اسکول میں داخل کرادے۔ فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144205200269
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
اسلامک معلومات عامہ (20) WhatsApp Group Invite
01/06/2023
*غسل کا مسنون طریقہ*
سوال
غسل کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
جواب
غسل میں تین چیزیں فرض ہیں، ان کے بغیر غسل درست نہیں ہوتا، آدمی ناپاک رہتا ہے:
اس طرح کلی کرنا کہ سارے منہ میں پانی پہنچ جائے۔
ناک میں پانی ڈالنا جہاں تک ناک نرم ہے۔
سارے بدن پر پانی پہنچانا۔
ان تین چیزوں کے علاوہ باقی چیزیں سنت ہیں، ان کے کرنے سے ثواب ملتا ہے اور اگر نہ کرے تو بھی غسل ہوجاتا ہے مگر سنت کے موافق نہیں ہوتا۔ غسل کرنے کا مسنون طریقہ درج ذیل ہے:
غسل کرنے والے کو چاہیے کہ پہلے گٹوں تک دونوں ہاتھ دھوئے پھر استنجے کی جگہ دھوئے، ہاتھ اور استنجے کی جگہ پر نجاست ہو تب بھی اور نہ ہو تب بھی ہر حال میں ان دونوں کو پہلے دھونا چاہیے۔
پھر جہاں بدن پر نجاست لگی ہو اسے پاک کرے۔
پھر وضو کرے۔ اگر کسی چوکی(اسٹول) یا پتھر پر بیٹھ کر غسل کررہا ہے تو وضو کرتے وقت پیر بھی دھولے اور اگر ایسی جگہ ہے کہ پیر بھر جائیں گے اور غسل کے بعد پھر دھونے پڑیں گے تو سارا وضو کرے مگر پیر نہ دھوئے۔
وضو کے بعد تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈالے، پھر تین مرتبہ داہنے(سیدھے) کندھے پر اور پھر تین بار بائیں(الٹے) کندھے پر پانی ڈالے اس طرح کہ سارے جسم پر پانی بہہ جائے۔ ایک مرتبہ پانی بہانے کے بعد پہلے سارے جسم پر اچھی طرح ہاتھ پھیر لے پھر دوسری بار پانی بہائے تاکہ سب جگہ اچھی طرح پانی پہنچ جائے، کہیں سوکھا نہ رہے۔
پھر اس جگہ سے ہٹ کر پاک جگہ میں آجائے اور پیر دھوئے اور اگر وضو کے وقت پیر دھو لیے ہوں تو اب دھونے کی حاجت نہیں۔ اس طرح غسل مکمل ہوجائے گا۔
مذکورہ بالا طریقہ کے علاوہ اور بھی چند باتیں ہیں جن کا غسل کرتے وقت خیال رکھنا چاہیے:
غسل کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرے۔
پانی بہت زیادہ نہ پھینکے اور نہ بہت کم لے کہ اچھی طرح غسل نہ کرسکے۔
ایسی جگہ غسل کرے کہ اسے کوئی نہ دیکھے۔
غسل کرتے وقت باتیں نہ کرے۔
غسل کے بعد کسی کپڑے سے اپنا بدن پونچھ ڈالے۔
بدن ڈھکنے میں بہت جلدی کرے، یہاں تک کہ اگر وضو کرتے وقت پیر نہ دھوئے ہوں تو غسل کی جگہ سے ہٹ کر پہلے اپنا بدن ڈھکے پھر دونوں پیر دھوئے۔
اگر تنہائی کی جگہ ہو جہاں کوئی نہ دیکھ پائے تو ننگے ہوکر نہانا بھی درست ہے، چاہے کھڑے ہوکر نہائے یا بیٹھ کر، لیکن بیٹھ کر نہانا بہتر ہے کیوں کہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔
نہاتے وقت زبان سے کلمہ یا کوئی دعا نہ پڑھے۔
اگر غسل کے بعد یاد آئے کہ فلانی جگہ سوکھی رہ گئی تھی تو پھر سے نہانا واجب نہیں، بلکہ جہاں سوکھا رہ گیا تھا اسی کو دھولے، لیکن فقط ہاتھ پھیر لینا کافی نہیں ہے بلکہ تھوڑا پانی لے کر اس جگہ بہا لینا چاہیے، اور اگر کلی کرنا بھول گیا ہو تو اب کلی کرلے، اگر ناک میں پانی نہ ڈالا ہو تو اب ڈال لے، غرض کہ جو چیز رہ گئی ہو اب اس کو کرلے، نئے سرے سے غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔
سر کے سب بال بھگونا اور ساری جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے، اگر ایک بال بھی سوکھا رہ گیا یا ایک بال کی جڑ میں پانی نہیں پہنچا تو غسل نہیں ہوگا۔ البتہ خواتین کے بال اگر گُندھے ہوئے ہوں تو بالوں کا بھگونا معاف ہے لیکن سب جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے، ایک جڑ بھی سوکھی نہ رہنے پائے اور اگر بغیر بال کھولے سب جڑوں میں پانی نہ پہنچ سکے تو بال کھول ڈالے اور بالوں کو بھی بھگودے۔
انگوٹھی، چھلےوغیرہ بہتر ہے کہ اُتار کر غسل کرے، البتہ اگر انگوٹھی، چھلے پہنے ہوں تو انہیں خوب ہلالے تاکہ پانی سوراخوں میں پہنچ جائے۔ اسی طرح خواتین نتھ اور بالیوں کو خوب ہلائیں اور اگر بالیاں نہ پہنے ہوں تب بھی سوراخوں میں پانی ڈال لیں، ایسا نہ ہو کہ پانی نہ پہنچے اور غسل صحیح نہ ہو۔
کان اور ناک میں بھی خیال کرکے پانی پہنچانا چاہیے، پانی نہ پہنچے گا تو غسل نہ ہوگا۔
(ماخوذ از بہشتی زیور، مؤلفہ: حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144111200176
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
05499