Mast Mahol

Mast Mahol

Share

ہیلو میرے آل فرینڈز یہ پیج صرف مستی کے لئے ہے اور پیج ان باکس صرف ہوٹ گرل بھابھی آنٹیاں ہی میسج کرے شکریا

یہاں ہمارے پاس ہماری کتنی فین ایسی ہیں جو اپنی رات کو رنگین بنانا چاہتی ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں ہونی والی بے عزتی رکاوٹ آ جاتی ہے۔ ہمارا پیج ایک واحد پلیٹ فارم ہے جو یہ سروس بہت رازداری سے اپنی فین کو مہیا کر رہا ہے۔

کئی لڑکیاں اور آنٹیاں بچاری ترسی ہوئی ہوتی ہیں اور جب انکو موقع ملتا ہے تو وہ کھل کر اپنی جنسی خواہشات و جذبات پر بات کرتی ہیں۔ ہماری پوری یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس طرح کی خواتین کو م

Photos from Mast Mahol's post 24/07/2020

چاچی کا ریپ کہانی مجھے میرے ایک جاننے والے نے سنائی تھی۔جو کہ اس کی اور اس کی چاچی کی آب بیتی تھی ۔ جو کہ اسی کی زبانی تھوڑے سے مرچ مسالحے اور چٹنی کے ساتھ پیش خدمت ہے۔ اب آتے ہیں کہانی کی طرف ۔ دوستو ۔ میرا نام شاہد ہے ۔اور میری عمر اس وقت صرف پچیس سال ہے ۔ جس وقت کا یہ واقعہ ہے ۔ اس وقت میری عمر صرف سولہ سال تھی ۔اور میری ابھی مسیں بھیگ رہی تھیں ۔ میرے چھوٹے چچا کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور گھر میں نئی آنے کی وجہ سے میری چچی ہر کسی سے مسکرا کر بات کرتی تھیں ۔سسرال میں سب کے دلوں میں جگہ جو بنانی تھی۔ میری چچی کی عمر اس وقت تقریباًسترہ سال تھی۔ اور ہماری عمروں میں زیادہ فرق ناں ہونے کی وجہ سے ہم دونوں کافی بے تکلف بھی تھے۔ شادی کے بعد کچھ مہینے چچا گھر پر ہی رہے پھر وہ نوکری کرنے لاہور چلے گئے ۔کیونکہ گھر کے زیادہ تر اخراجات چچا کی تنخواہ سے ہی چلتے تھے۔ جاتے جاتے چچا مجھے چچی کا خیال کرنے کی تاکید کرکے گئے ۔ میں جب سکول سے آتا تو زیادہ وقت چچی کے ساتھ ہی گزارتا۔ اور اسی کھیل کود میں پتا نہیں کب میری نظر بدلی اور میں نے چچی کو دوسری نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا ۔اکثر چچی میرے سامنے دوپٹا ہم ہی لیتی اور اس کے کسے ہوئے ممے مجھے اس کی قمیض کے اندر بڑے نمایاں طور پر نظر آتے ۔ کبھی میرے سامنے بغیر برا کے آتی تو اس کے ممے بے قابو ہو کر کپڑوں سے باہر ابل پڑنے کے لئے بےچین ہوتے۔ لیکن چچی نے کبھی میرے غلط نظروں کو محدوس ناں کیا۔ مجھے اپنے ایک دوست کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ جب ہم اس کے گھر پہنچے تو اس کے گھر میں کوئی نہیں تھا ۔ پانی وغیرہ پینے کے بعد پہلے توہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے ۔پھر اچانک اس نے کہا کہ آؤ آج تمھیں ایک نئی چیز دکھاؤں ۔ میں نے پوچھاکہ کیاتوو ہ مجھے اپنے بھائی کے کمرے میں لے گیا ۔ پھر اس نے اپنے بھائی کا کمپیوٹر چلایا اور تھوڑی دیر انگلیاں چلانے کے بعدایک ویڈیو کلپ چلا دیا ارے یہ کیا اس وڈیو میں ایک آدمی ایک عورت کو چود رہا تھا۔ میں نے زندگی میں یہ سب کچھ پہلی مرتبہ دیکھا تھا ۔میں اپنے دوست سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ۔تو میرے دوست نے کہا کہ اسے چودائی کہتے ہیں اور یہ کام کرنے کا بڑا مزا آتا ہے ۔ کہا کہ میں نے تو کبھی چودائی نہیں کی ۔اور پھر لڑکی چودائی کے لئے کیسے مانتی ہے ۔اور یہ کہ جب لن پھدی کے اندر جاتا ہے تو کیا درد نہیں ہوتا لڑکی کو ۔تو میرے دوست نے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں عام طور پر لڑکا لڑکی شادی کے بعد ہی یہ کام کرتے ہیں ۔ اور لڑکیاں اپنی مرضی سے یہ سب کچھ کرواتی ہیں ۔ لیکن بہت سے لڑکے لڑکیاں یہ کام شادے کرتے ہیں لیکن یہ کام چھپچھپا کرتے ہیں میں یہ کام کیسے کرسکتا ہوں ۔میری تو کسی لڑکی سے بات چیت نہیں ہے۔ میرے دوست نے کہا کہ ایک اور طریقہ بھی ہے ۔لیکن اس کے لئے رازداری کی شرط ہے ۔ میں نے کہا کہ مجھے منظور ہے ۔جس پر اس نے کمرے کا درواز ہ کھول کر باہر جھانکا اورپھر دروازے کی کنڈی لگا دی ۔ پھر اس نے وہی فلم دوبارہ لگا دی ۔فلم میں لڑکی لڑکے کے لنڈ کو مسل رہی تھی ۔تھوڑی دیر کے بعد اس نے لڑکے کا لنڈ اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا ۔ جس پر لڑکے کے منہ سے سیکسی آوازیں نکلنے لگیں پھر لڑکا لڑکی کے ممے دبانے لگا اور پھر اس نے لڑکی کا ایک مما میں لے کر چوسنا شروع کر دیا جیسے بچہ دودھ پیتا ہے ۔ لڑکے کی اس حرکت پر لڑکی بھی مزے سے سسکنے لگی ۔اور اس دوران میرا لن بھی تن چکا تھا ۔ میری حالت دیکھ کر میرادوست ایک دراز سے کنڈوم نکال لایا ۔اور پھر اس نے میری شلوار اتار دی اور کنڈوم میرے لنڈ پر چڑھا دیا اور اسے اپنے ہاتھ میں لے کر اسے دھیرے دھیرے سہلانے لگا اس کے طرح کرنے سے مجھے بہت مزا آنے لگا جب اس نے دیکھا کہ میں مزے سے بے حال ہوگیا ہو تو اس نے اپنی شلوار بھی اتار دی اور میرے سامنے جھک کر کھڑا ہو گیا اور مجھے کہا کہ میں اپنا لنڈ اس کی گا نڈ میں ڈال دوں ۔ اب مجھے اس کی اس حرکت کی وجہ سمجھ آگئی تھی ۔ میں نے اپنے لنڈ کا ٹوپا اس کی گانڈ کے سوراخٓ پر رکھ کر تھوڑا سا زور لگایا تووہ اس کی گانڈ کےاندر چلا گیا ۔ اس دوران جب میری کمپیوٹر پر نظر پڑی تو لڑکا لڑکی کی پھدی کے اندر لنڈ ڈالکر زور زور سے اسے چود رہا تھا ۔ میں بھی اسی طرح لنڈ کو اس کی گانڈ کے اندر باہر کر نا شروع کر دیا ۔اس طرح کرنے سے میرے لنڈ کے اندر مزے اور سرور کی لہریں دوڑنے لگیں ۔اور مجھے بےحد مزا آنے لگا۔ اور میں اس کی گانڈ میں زور زور سے گھسے مارنے لگا ۔تقریباً دس منٹ کے بعد میں اس کی گانڈکے اندر فارغ ہو گیا ۔پھر میں نے اپنا لنڈ اس کی گانڈ سے باہر نکالا اور واش روم میں جا کر کنڈوم اتار کر اسے فلش میں بہا دیا ۔اب میرا جوش ختم ہو گیا تھا ۔اور اس کی جگہ ہلکی سی تھکاوٹ نے لے لی تھی ۔ پھر میرے دوست نے بھی واش روم جا کر صفائی کی ۔اور واپس آکر پو چھا کہ مزا آیا تو میں نے اثبات میں سر ہلا کر کہا کہ بہت ۔پھر کچھ دیر کے بعد میں اپنے گھر واپس آگیا۔ اس طرح سے ہر دوسرے تیسرے روز یہ سلسلہ تقریباً دو ماہ تک چلتا رہا لیکن پھدی ملنے کا کوئی چانس نظر نہیں آرہا تھا۔ گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں ۔میرا دوست بھی گھومنے پھرنے ملتان چلا گیا۔ اور مجھے بنڈ مارنے کا جو چسکا لگا ہوا تھا ۔ میں اس سے بھی گیا۔ لیکن لن تو پھدی یا بنڈ کی ڈیمانڈ کرتا تھا اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں ۔ اسی طر ح دن پر دن گزرتے جارہے تھے ۔لیکن سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں ۔ ایک دن ایسا ہوا کہ گھر میں میں اور چاچی اکیلے تھے۔ اور چاچی کپڑے دھورہی تھیں ۔ اور ان کے اپنے کپڑے بھی گیلے ہو کر ان کے جسم سے چپک گئے تھے ۔اور ان کے ممے اور بنڈ صاف نظر آرہے تھے اور میرا لنڈ بھی بار بار لہرا رہا تھا۔ اور میرا دل کر رہا تھا کہ چاچی کو پکڑکر ہی چود ڈالوں لیکن کوئی رستہ نظر نہیں آرہا تھا۔ پھر اچانک ہی میرے ذہن میں ایک ترکیب آگئی ۔ اور میں بھاگ کر محلے کے میڈکل سٹور پر گیا اور وہاں سے فنرگن کا شربت لے آیا ۔اس کے ساتھ ہی ایک ڈیڑھ لیٹر والی پیپسی بھی لے لی۔ اس دوران چاچی بھی کپڑے دھو کر فارغ ہو چکی تھیں ۔ میں نے بڑخاموشی سے اپنے لئے ایک گلاس میں پیپسی نکالی اور باقی کی بوتل میں فنرگن کا شربت ملا دیا ۔چاچی پیپسی دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور انہوں نے بھی فوراً ایک گلاس بھر لیا ۔انہیں شایدزیادہ پیاس لگی ہوئی تھی ۔اس لئے انہوں نے دو گلاس پی لئے اور مجھے اپنے کمرے میں آنے کو کہا اور جب میں ان کے کمرے پہنچا تو وہ لباس تبدیل کرکے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھیں ۔میں بھی ان کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگا ۔لیکن تھوڑی سی دیر کے بعد ہی وہ سو گئیں۔ میں نے انہیں پہلے تو آوازیں دیں پھر ہلایا جلایا لیکن ان کی طرف سے کوئی ردعمل ناں آیا۔ پھر سب سے پہلے میں نے اپنے گھر کےخارجی دروازے کی کنڈی لگائی۔ اور دوبارہ آکر چاچی کے پاس بیٹھ کر انہیں ہلایا جلایا لیکن انہیں دین دنیا کی کوئی ہوش ناں تھی۔ پھر میں نے ڈرتے ڈرتے ان کی چھاتی پر ہاتھ رکھا لیکن ان کی طرف سے کوئی ردعمل ناں آیا جس پر میراحوصلہ کچھ مزید بڑھا اور دھیرے دھیرے میں کمیض کے اوپر سے ان کے ممے سہلانے لگا ۔پھر آہستہ آہستہ میں نے ان کی قمیض اوپر کر دی اور بریزر کے اوپر اوپر سے ہی انہیں سہلانے لگا۔ پھر میں نے انہیں بریزر سے نکال لیا اور انہیں چومنے چاٹنے لگا لیکن چاچی کو کسی بات کی ہوش ناں تھی۔ اور میرا لن مزے کی شدت سے پھٹنے والا ہو گیا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے میں نے چاچی کی شلوار بھی اتار دی ۔واہ کیا پھدی تھ چاچی کی ایک دم صاف اور چکنی ۔میں نے اپنی شلوار بھی اتار دی اور چاچی کی ٹانگیں کھول کر ان کے درمیان بیٹھ گیا اور اپنے لن کو چاچی کی پھدی پر مسلنے لگا لیکن میں زیادہ دیر تک ایسا ناں کر سکا کیوںکہ مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔ پھر میں نے چاچی کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور لن کو ان کی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کرکے ایک زوردار دھکا مارا میرے اس عمل سے میرا آدھا لن چاچی کی پھدی کو چیرتا ہوا اس کے اندر گھس گیا ۔اس کے ساتھ ہی میں نے ایک اور دھکا مارا اور میرا پورالن چاچی کی پھدی کے اندر چلا گیا ۔لیکن شائد میرا یہ فعل چاچی کے لئے تکلیف کا باعث تھا۔ کیونکہ چاچی کی آنکھ کھل چکی تھی ۔لیکن میں ان کی پھدی میں لن کو تیزی سے اندر باہر کر رہا تھا اور مجھے اس طرح جرکے بے حد مزا آرہا تھا ۔لیکن چاچی میرے نیچے سے نکلنے کی کوشش کرہی تھی اور ساتھ مجھے گالیاں بھی دے رہی تھی اور مجھے اپنی پھدی سے لن نکالنے کا کہہ رہی تھی ۔لیکن جتنی وہ مزاحمت کرتی میں اتنی ہی تیزی سے گھسے مارتا ۔ تقریباًدس منٹ ان کو چودنے کے بعد میں ان کی پھدی کے اندر ہی فارغ ہو گیا۔ لیکن چاچی اب بھی مجھے گالیاں دے رہی تھیں۔فارغ ہونے کے بعد میں اپنے کپڑے پہنے اور ان کے کمرے سے باہر چلاگیا لیکن ساتھ اب میں پریشان بھی تھا کہ اگر چاچی نے گھر والوں سب کچھ بتا دیا پھر کیا ہو گا۔ دیر تک تو میں ادھر ادھر آوارہ گردی کرتا رہا اور اس ڈر سے گھر کا رخ ناں کیا کہ کہیں چاچی گھر والوں کو ناں بتا دے لیکن پھر دل بڑا کرکے میں دوبارہ گھر کی طرف چل دیا ۔جب میں گھر میں داخل ہوا تو گھر میں صرف چاچی ہی تھی ۔ اچانک مجھے ایک ترکیب سو جھی ۔ میں سیدھا چاچی کے کمرے میں داخل ہوا اور جاتے ہی چاچی کے پاؤں پکڑلئے اور رو رو کر ان سے معافی مانگنے لگا ۔پہلے پہل تو چاچی نے مجھے دھتکارا لیکن پھر اچانک بولی کہ تمھیں صرف ایک شرط پر معافی مل سکتی ہے ۔میں نے پوچھا ۔ کہ کس شرط پر چاچی نے کہا کہ جب میں کہوں تو آج جو کام تم نے میرے ساتھ کیا ہے وہی کا م کرنا پڑےگا۔ تو خود بھی یہی چاہتا تھا اس لئے فوراً حامی بھر لی اور چاچی کو کس کر جپھی ڈال لی ۔پھر ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے ۔اسی دوران میری امی بھی بازار سے واپس آگئیں ۔اور میں پڑھائی کا بہانہ بنا کر بیٹھک میں آگیا۔ اس رات جب میں سونے کے لئے لیٹا تو میری آنکھوں میں چاچی کا سراپا گھوم رہا تھا۔ پھر ایک دن میں نے ایک عجب ماجرا دیکھا ۔اس دن مجھے سکول سے جلدی چھٹی ہو گئی تھی اور میں جلدی گھر چلا گیا۔ ہمارے پورے گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا ۔جب میں اپنے کمرے کی طرف گیا ۔تو میری امی کی دھیمی دھیمی سسکیا ں سنائی دیں ۔ میں تیزی سے بھاگ کر اپنے کمرے میں داخل ہوا لیکن یہ کیا میرے دادا میرے امی کی ٹانگیں کندھوں پر رکھے میری امی کو زور زور سے چود رہے تھے اور امی کے منہ سے سیکسی آوازیں نکل رہی تھیں ۔ مجھے اچانک کمرے میں دیکھ کر وہ دونوں تو ہکا بکا ہی رہ گئے ۔ دادا ابو نے جلدی سے اپنی دھوتی ٹھیک کی اور کمرے سے باہر نکل گئے ۔امی نے بھی جلدی سے اپنے کپڑے پہنے اور مجھے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے بٹھا لیا ۔پھر میرا ماتھا چوم کر کہنے لگیں کہ تم یہ بات کسی کو مت بتانا ورنہ تمھارے ابو مجھے جان سے ماردیں گے اس کے بدلے میں تم جو مانگو گے ۔ میں تمھیں وہی کچھ دلادوں گی۔ میں نے پہلے تو تھوڑی سی ضد کی کہ نہیں میں ابو کو بتاؤں گا۔ پھر کہا کہ سوچ لیجئے ۔بعد میں مکر ناں جائے گا۔امی نے کہا کہ نہیں مکرتی میں نے کہا کہ ٹھیک ہے ۔جس طرح آپ دادا ابو کے ساتھ کررہی تھیں میرے ساتھ بھی کریں ۔ کیا امی کے منہ سے نکلا ۔میں نے کہا کہ اگر دادا ابو کر سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں ۔ امی نے کچھ دیر کچھ سوچا پھر کہا کہ ٹھیک ہے لیکن تم بھی اپنے وعدے پر قائم رہنا کہا کہ آپ فکر ہی ناں کریں۔ لیکن یہ سارا کچھ ابھی ہوگا ۔امی نے کہا کہ کوئی آناں جائے جیسے ابھی تھوڑی دیر پہلے تم آگئے تھے ۔میں نے کہا آپ اس بات کی بالکل فکر ناں کریں۔ یہ کہہ کر میں کمرے سے باہر نکل آیا اور ہر طرف سے تسلی کرکے اپنے گھر کا بیرونی دروازہ بند کر دیا پھر میں کمرے میں آگیا اور کمرے کی بھی اندر سے کنڈی لگا دی۔اور امی سے کہا کہ اب جلدی سے اپنے کپڑے اتار دیں ۔یہ کہہ کر میں نے بھی جلدی سے اپنے کپڑے اتاردئیے ۔اس وقت ہمیں کسی کی مداخلت کا ڈر تو نھیں تھا ۔لیکن میں یہ سب کچھ اس لئے چاہتاتھا کہ امی کہیں بعد میں مکر ناں جائیں ۔امی نے بھی جلدی سے اپنے کپڑے اتار دئیے ۔اف امی کی چھاتیاں کافی بڑی تھیں اور مست بھی میں جلدی سے ان پر ٹوٹ پڑا اور بے تحاشا انھیں چومنے لگا اور امی کے بدن پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد امی بھی مجھے پیار کر نے لگیں لیکن مجھے سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہاتھا ۔اس لئیے تھوڑی دیر کے بعد میں نے امی کو بستر پر لٹا دیا اور خود ان کی ٹانگیں کھول کر ان کے درمیان بیٹھ گیا اور امی کی پھدی پر اپنا لن رگڑنے لگا ۔امی کی پھدی پانی چھوڑرہی تھی اور کافی چکنی تھی ۔پھر میں نے اپنا لن ان کی پھدی کے سوراخ پر سیٹکیا اور ایک زوردار جھٹکے سے اسے پھدی کے اندر گھسا دیا اور زورزور سے گھسے مارنے لگا ۔تھوڑی دیر کے بعد امی بھی اپنی بنڈاٹھا اٹھا کر میرے لن کا ساتھ دینے لگیں ۔ان کے اس عمل سے میرے لن میں مزے کی لہریں دوڑ نے لگیں اور میں مزید زور زور سے گھسے مارنے لگا ۔ اور کافی دیر تک ایسے ہی لگا رہا ۔اچانک امی کا جسم اکڑ گیا اور انہوں اپنی ٹانگیں میری کمر کے گرد لپیٹ لیں ۔ مجھے ایسے لگا کہ جیسے امی کی پھدی میں کسی نے پانی کا نل کھول دیا ہے اس کے ساتھ ہی امی کی پھدی نے میرے لن کو زور سے جکڑلیا ۔جس سے مجھے مزید مزا آنے لگا ۔پھر کچھ دیر کے بعد میرا لن بھی پھولنا شروع ہو گیا ۔اور پھر یکدم میرے لن نے بھی منی کا فوارا امی کی پھدی کے اندر ہی چھوڑ دیا اور مجھے یوں لگا کہ جیسے میری ٹانگوں جان ہی نہیں رہی اوت میں بے سدھ ہو کر امی کے اوپر ہی لیٹ گیا مجھے کچھ ہوش آیا تو میں امی کے سینے پر لیٹا ہوا تھا اور امی میرے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کر رہی تھیں ۔پھر ہم دونوں نے اپنے جسم صاف کئے ۔اور اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو گئے۔

23/07/2020

اچھی چدای کی نشانی یہ ھے کہ اس کے بعد عورت کے بال بھکرے جسم پسینے سے شرابور اور چوت سے آھستہ آھستہ لن کا سفید پانی نکل رہا ھو اور وہ حلنے جلنے کی قابل نہ ھو اور مرد بھی آدھہ مدہوشی پڑا ھو..

Photos from Mast Mahol's post 07/03/2019

میرا نام عشا ہے میں کراچی میں رہتی ہوں۔ یہ اسوقت کی بات ہے جب میری عمر27 سال تھی۔ ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی کہ ایک دن صبح کام پر جانے سے پہلے میاں کہنے لگے کے وہ شام کو جلدی آئیں گے ان کے دوست کے گھر دعوت ہے۔
شام کو میاں آئے تو میں تیار تھی۔ شادی کے بعد سیکس کا نیا نیا نشہ تھا اس لئے میں بھی میاں کو گرم کر دینے کے حساب سے تیار ہوئی۔ ہلکی پنک ساڑھی میں میرا جسم غضب ڈھا رہا تھا۔ بوبس جیسے باہر نکلنے کو بے چین تھے۔ میاں نے جیسے ہی دیکھا تو ٹھٹک گئے شاید ان کے لنڈ میں کرنٹ دوڑنے لگا تھا۔ وقت کم تھا اس لئے جلدی سے میرے میاں اپنے دوست عماد کے گھر دعوت لے گئے۔

گاڑی سے اترنے سے پہلے اپنے سیکسی بدن کو دوسروں کی نظر سے بچانے کے لئے میں نے عبایا پہن لیا۔ اب میری نرم جلد نظر نہیں آ رہی تھی مگر پھر بھی گانڈ کا ابھار واضح تھا اور میری نپل جو تنے ہوئے تھے وہ عبایا کہ اوپر نشان چھوڑ رہے تھے۔

دعوت کے دوران عماد نے میرے میاں کو خوب مبارک دی اور آنکھ بھی ماری۔ میاں سے کہہ رہا تھا کہ پورے کراچی کا خزانہ تم نے لے لیا ہے اب ہم بے چارے کہاں جائیں گے۔ میں شرم سے سرخ ہو گئی۔ میاں ادھر ادھر دیکھ رہے ہوتے تو عماد مجھے بھی گھور کر دیکھتا۔ جیسے نظروں میں ہی تول رہا ہو۔ عماد نے کوشش تو بہت کی مگر میرا نام بھی عشا ہے۔ اسے اپنے جسم کا نظارہ نہ کرنے دیا اور وہ بےچارہ تڑپتا رہ گیا۔

گاڑی میں بیٹھے تو میں نے عبایا اتار دیا۔ گھر کی پارکنگ میں گاڑی سے نکلنے لگی تو میاں نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ میں مسکرا کر ہاتھ چھڑانے لگی مگر ان کی گرفت مضبوط تھی۔ میں نے ان کے ہاتھ پر کاٹ لیا۔ جیسے ہی انہوں نے ہاتھ چھوڑا میں بھاگ کر اندر گئی۔ باگھنے کے چکر میں میری ساڑھی دروازے میں پھنسی اور میں چکرا گئی۔ اس ایکسیڈنٹ میں میری ساڑھی کھل کر نیچے گر گئی۔ اب صرف چولی نے میری چھاتیوں کو ڈھانپ رکھا تھا یا پینٹی نے میری چوت کا پردہ کیا تھا۔ میں ساڑھی سمیٹنے کو جھکی تو پیچھے سے میاں نے آکر مجھے دبوچ لیا۔

میں ایسے ہی ننگی حالت میں اٹھا کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈال دیا۔ اپنا لنڈ باہر نکالا جو اکڑ کے لوہے کا بن چکا تھا اور میری دونوں ٹانگیں کھول کر رگڑنے لگے۔ میری چولی کو کھول کر نپل باہر نکالے اور میرے کاٹنے کے بدلے میں میری نپل کو انہوں نے کاٹا۔

اس رات گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا کر میاں نے خوب چودا۔ میری چوت سے پانی نکل کر ان کا لنڈ بھی گیلا کرنے لگا۔ چودائی کر کے جب وہ نڈھال ہو گئے تب جا کر جان چھوٹی۔ درد تو ہوا مگر مزہ بھی بہت آیا۔ جس مقصد کے لئے میں اتنا تیار ہوئی تھی وہ پورا ہو گیا۔

شادی کے بعد یونہی وقت گزرنے لگا۔ عماد بھی ہمارے گھر آنے جانے لگا تھا۔ کبھی کبھی تو آدھی رات کو اسے کوئی کام پڑ جاتا۔ اور پھر میاں جب تک میری چدائی نہ کر لیتے وہ مہمان خانے میں انتظار کرتا رہتا۔

عماد اکثر میاں کی غیرموجودگی میں بھی آتا رہتا تھا اور میں دروازے کی اوٹ سے ہی اسے واپس کر دیتی۔ میاں اس بات پر ناراض ہوتے کے میں ان کے دوست کو پانی تک نہیں پوچھتی۔ عماد بھی اکثر جاتے جاتے چوٹ کر جاتا۔ کبھی کہتا کہ بھابھی ابھی تو جا رہا ہوں مگر میرا حصہ کب ملے گا۔ کبھی کہتا کہ رات آپ کو خواب میں دیکھا۔

گھر کی بات اب گھر تک نہیں رہی تھی بلکہ مہمان خانے تک پہنچ رہی تھی۔ میرے میاں شرارت بھری باتیں عماد کو بھی بتانے لگے تھے۔ ایک دفعہ جب میں مہمان خانے میں چائے دینے گئی تو وہ عماد کو بتا رہے تھے کہ رات کی مستی میں ان کے لنڈ پر عشاء نے کاٹا ہے۔ میں شرم سے لال ہو گئی اور دروازے میں ہی رک گئی۔ عماد بھی الٹی باتیں پوچھنے لگا کہ میرے ممے کتنے بڑے ہیں اور میری چوت کس رنگ کی ہے۔

اففف توبہ، یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ ایسے تو میں مہمان خانے نہیں جا سکتی۔ شرم سے ڈوب جائوں گی عماد کے سامنے۔ میں واپس کچن میں چلی گئی اور جان بوجھ کر ایک کانچ کا گلاس فرش پر پھینک کر توڑ دیا۔ میاں اندر پوچھنے آئے تو میں ایسے پیش آئی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور پھر ان کے پیچھے پیچھے مہمان خانے چائے دینے پہنچ گئی۔

شرم سے میرا چہرہ لال ہو رہا تھا۔ ان دونوں کو نہیں پتہ تھا کہ میں ان کی باتیں سن چکی ہوں۔ عماد میرے بوبس کو ہی گھورے جا رہا تھا جیسے ابھی کاٹ کھائے گا۔ عماد کی نظروں کی تپش مجھے اندر تک جلا رہی تھی۔ جب میں اسے چائے دینے کو آگے جھکی تو اس کے ٹرائوزر کا ابھار مجھے بہت کچھ سمجھا گیا۔

دن یوںہی گزرتے گئے مگر اب میاں کام میں زیادہ مصروف ہو گئے تھے۔ کراچی میں ہوتے ہوئے بھی دیر سے گھر آتے اور جلدی سے چدائی کر کے سو جاتے۔ مجھے مزہ نہیں آرہا تھا۔

میں شاور لے رہی تھی اور میاں گھر پر نہیں تھے ۔ پھر سے عماد آ گیا۔ میں نے اندر سے ہی آواز لگائی کے مہمان خانے میں بیٹھے میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں۔ افف توبہ عماد کے ٹرائوزر کا ابھار یاد تھا مجھے۔ کچھ دنوں سے میری چوت پیاسی تھی اور عماد کا ابھار یاد آتے ہی میری چوت میں ہلچل ہوئی۔ میری چوت شاور میں بھی آگ لگانے لگی۔
تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے
میں نے جلدی سے شاور لیا، کپڑے پہنے اور مہمان خانے کا رخ کیا جہاں عماد میرا انتظار کر رہا تھا۔ عماد نے سلام کیا اور ساتھ ہی اس کے نظریں میری چھاتیوں پر مقناطیس کی طرح چپک گئیں۔ میں نے اپنی چھاتیوں کی طرف دیکھا تو میں چکرا گئی۔ کیونکہ میں نے جلدی میں برا نہیں پہنی تھی اور شاور لینے سے بدن گیلا تھا جس سے میری سفید قمیض بھی گیلی ہو کر بدن سے چپک گئی تھی۔ میرے بوبس کا نظارہ عماد کے سامنے تھا۔

میں ہمیشہ عبایا پہنتی تھی اور کسی غیر مرد کو اپنے قریب آنے نہیں دیا۔ میں نے ہمیشہ اپنا بدن عماد سے چھپایا تھا مگر آج مجھے لگا جیسے میں عماد کے سامنے ننگی ہو گئی ہوں۔ اور بات بھی کچھ ایسی تھی میری برائون نپل سفید قمیض سے واضح نظر آرہی تھی جیسے سفید چادر پر پیتل کر سکہ رکھا ہو۔

میں اتنی بوکھلا گئی کے میں کچھ پوچھنا ہی بھول گئی۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کے میں کیا کروں۔ میں اپنی چھاتیوں کو بانہوں میں چھپایا اور آخر کار گھبرا کر میں اندر کی طرف دوڑ گئی۔

آج پھر عماد کے گھر دعوت تھی۔ شاور والے واقعے کے بعد میں عماد سے کترا رہی تھی مگر میاں کے اصرار پر جانا پڑا۔ میں نے عبایا پہنا ہوا تھا اس لئے تھوڑا سا سکون محسوس کر رہی تھی کہ وہ میرا بدن نہیں دیکھ سکتا۔

واپس آنے لگے تو میاں کے فون کی گھنٹی بج گئی اور ساتھ ہی میری قسمت کی بھی۔ میاں کو آفس کے کام سے جانا تھا اور عماد سے کہا کے مجھے گھر چھوڑ دے۔ میں ہچکجانے کے باوجود نہ نہیں کر سکی اور عماد کی گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ سارے راستے میں اپنا جسم سمیٹنے میں لگی رہی اور عماد شیشے سے مجھے گھورتا رہا۔

گھر پہنچتے ہی میں گاڑی سے اتری اور عماد کو بائے بول دیا۔ ساتھ ہی عماد بھی گاڑی سے اتر آیا۔ کہنے لگا بھابھی آپ کے پاس دودھ ہے؟ میں نے غصے سے بولا کیا مطلب تو کہنے لگا کچھ نہیں میں تو کہہ رہا تھا کہ ایک کپ چائے پلا دیں۔

اوہ اچھا۔ مہمان خانے میں بیٹھو میں لاتی ہوں۔ اور وہ میرے پیچھے پیچھے اندر آنے لگا۔ اس کے آگے چلتے ہوئے مجھے لگا جیسے وہ میری گانڈ کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہا ہے۔ عبایا تو پہنا تھا مگر جیسے جیسے میں چلتی جاتی میری گانڈ بھی جھوم رہی تھی۔ مجھے لگا جیسے وہ میری گانڈ کو چھونے لگا ہے۔

شکر ہے اندر آنے تک ایسا ویسا کچھ نہ ہوا جو میں سوچ رہی تھی۔ مگر جیسے ہی گھر کے اندر داخل ہوئے تو عماد نے دروازے کی کنڈی چڑھا دی۔ میرے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہو گئی جیسے ابھی حلق سے باہر نکل آئے گا۔ میرے ہونٹ تو جیسے سوکھ گئے۔ میں سوچ رہی تھی کہ اگر آج عماد نے کچھ ایسا ویسا کیا تو میں کیا کروں گی۔

میری چوت جو اتنے دنوں کی پیاسی تھی وہ کچھ اور کہہ رہی تھی مگر یہ جسم کسی اور کی امانت ہے۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کے اگر عماد نے مجھے چودنے کا بولا تو میں اسے تھپڑ ماروں یا کہیں بھاگ کر چھپ جائوں۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کے اگر عماد کی نیت خراب ہے تو میاں کو بتائوں یا چپ رہوں۔

ایسے ہی کھڑے کھڑے نہ جانے کتنی دیر ہوئی کے عماد نے میری کمر پر ہاتھ رکھا۔ میں ایک دم سے ڈر گئی۔ میرے بدن میں کرنٹ سا دوڑ گیا اور چوت پر چیونٹیاں سی رینگنے لگی۔ نپل ایک دم تن گئے۔ جیسے ہی پیچھے مڑی تو عماد نے کہا بھابھی چائے۔

میں نے کہا اچھا بیٹھو۔ اور پھر کچن میں چلی گئی۔ میں عبایا اتارتے ہوئے ڈر رہی تھی کے میں نے عبایا اتارا تو میرے مست بوبس عماد کو اپنی طرف متوجہ کر دیں گے۔ ایسے ہی میں نے چائے بنا کر عماد کو پیش کی اور سامنے بیٹھ گئی۔ عماد مجھے ہی گھورے جا رہا تھا اور مجھ میں نظریں ملانے کی ہمت نہیں تھی۔

میں نے دیکھا کے عماد کی پینٹ میں ٹینٹ سا بن گیا ہے۔ یقینا اس کا لنڈ کھڑا ہو گا مگر میں تو عبایا میں بیٹھی ہوں پھر کس چیز نے اس کا لنڈ کھڑا کر دیا۔ میں یہ سب سوچتے ہوئے لاشعوری طور پر اس کے لنڈ کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ عمام نے کھانس کر مجھے اپنی طرف متوجہ کیا تو میں جھینپ سی گئی۔ گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھی اور خالی کپ اٹھانے کو آگے بڑھی۔ جیسے ہی میں نے کپ کو پکڑا عماد نے بھی کپ کو پکڑنے کے انداز میں میرا ہاتھ پکڑ لیا۔

میرا جسم گرمی اور گھبراہٹ سے آگ بنا ہوا تھا۔ جیسے ہی عماد نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں کانپ سی گئی۔ عماد نے بولا کیا ہوا بھابھی۔ میں نے کہا کچھ نہیں۔
اور عماد نے میرے ہاتھ سے کپ لے کر میز پر رکھ دیا۔ اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی پینٹ کے ابھار پر رکھ دیا۔

میں نے کہا یہ کیا کر رہے ہو عماد۔ عماد بولا کچھ نہیں۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ میرے لنڈ کو ہی دیکھنا چاہتی ہیں۔
میں نے انکار کر دیا اور اپنا ہاتھ چھڑانے لگی۔ عماد کی گرفت مضبوط ہو گئی اور میرا ہاتھ اسے کے لنڈ کو محسوس کرنے لگا۔ شاید 5 انچ لمبا اور 2 انچ موٹا لنڈ تھا اس کا۔ میں نے نظریں جھکا لی اور کہا کے ایسا کرنا ٹھیک نہیں۔ تو عماد نے کہا آپ جو ایک سال سے مجھے تڑپا رہی ہیں کیا وہ کرنا ٹھیک ہے۔

میں کچھ نہ بولی۔ میرے ہاتھ پر اس کے لنڈ کا ابھار محسوس ہو رہا تھا۔ میری نپل ٹائٹ ہو گئی اور مجھ پر حوس حاوی ہونے لگی۔ مجھے لنڈ چاہئے مگر صرف اپنے میاں کا۔ میں کسی غیر مرد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھ سکتی۔

میں نے فیصلہ کیا اور اپنا ہاتھ عماد کے ہاتھ سے چھڑوا لیا۔ میں جانے کے لئے جیسے ہی مڑی تو عماد نے مجھے پیچھے سے دبوچ کر اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا۔ میری کمر عماد کے سینے کو محسوس کر سکتی تھی اور عماد کی گرم سانس میری گردن میں آگ لگاتی ہوئی گزر گئی۔ عماد کی پینٹ کا ابھار جو کے اس کا لنڈ تھا وہ بھی میری گانڈ کے آس پاس ہی تھا۔ یوں سمجھ لو کے عماد نے مجھے کمر سے گلے لگایا تھا۔

عماد نے میرے کان کے پیچھے چوما اور پھر میرے کان کا نچلا حصہ اپنے ہونٹوں میں دبا کر چوسنے لگا۔ میری ہمت جواب دینے لگی۔ اس نے میری کمزوری پکڑ لی تھی۔ کان کو چوسنے کے ساتھ ہی میری چوت سے پانی نکلنا شروع ہو گیا اور میں یکدم سب کچھ بھول گئی۔ اب میں صرف ایک عورت تھی جسے ایک تگڑے لنڈ کی ضرورت تھی اور عماد وہ دیوتا تھا جو کسی چوت کے لئے ہر مشکل سے گزر سکتا تھا۔

میں یہ سب عماد پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے میری مزاحمت جاری تھی۔ میں نے کہا عماد چھوڑو مجھے۔ مگر عماد تو جیسے میری بات سن ہی نہیں رہا تھا۔ اس نے عبایا کے اوپر سے ہی اپنا لنڈ میری گانڈ پر رگڑنا شروع کر دیا۔ اور اپنے دونوں ہاتھوں میں میرے بوبس کو پکڑ کر دبانے لگا۔

افففف یہ سب حیرت انگیز طور پر جادوئی تھا۔ اپنے میاں کے علاوہ کسی اور کا لمس مجھے اور ہی نشہ دے رہا تھا۔ جیسے جیسے عماد میرے کان چوس رہا تھا اور میرے نپل کو دبا رہا تھا میری چوت سے پانی رستا جا رہا تھا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کے میری پینٹی مکمل گیلی ہو چکی ہے۔
میری ہمت جواب دینے لگی

میں نے اپنی شرم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عماد کے لنڈ کا مزہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ اب میں نے عماد کی جینز کے اوپر سے ہی اس کے لنڈ کو پکڑ لیا۔ اس کا موٹا لنڈ اکڑا ہوا تھا۔ میرے ہاتھوں کو محسوس کرتے ہی اس کا لنڈ سرشار ہو گیا ہو گا۔ وہ گھوم کر میرے سامنے آیا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹوں کا بوسہ دیا۔

اس کی آنکھوں میں ایک وحشی چمک تھی جیسے ایک سپہ سالار کسی قلعہ کو فتح کرتا ہے اور پھر اس کی سب دیواروں کو روندتا ہوا تخت پر جا بیٹھتا ہے۔ آج عماد میرے ساتھ بھی وہی کچھ کرنے جا رہا تھا۔ اس نے میرے ہونٹوں کو دانتوں میں دبا کر کاٹا اور درد سے میری آہ نکل گئی۔ شاید اسے اسی لمحے کا انتظار تھا۔

ہونٹ چوسنے اور کاٹنے کے ساتھ عبایا کے اوپر سے ہی اس نے میرے بوبس کو مسلنا شروع کر دیا ۔ میے نپل اکڑ کر سخت ہو گئے۔ اس کے ہاتھوں کی گرفت مجھے سرنڈر کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ اس نے عبایا اور قمیض کے تہہ کے اندر ہاتھ ڈالا اور میرے جسم کو ٹٹولتے ہوئے میرے بوبس کو برا سے باہر نکال دیا۔ اس نے عبایا کو سامنے سے اٹھایا اور میری چھتیوں کو ننگا کر اپنے چومنے لگا۔ نپل کو چومنے کے ساتھ جب وہ دانتوں سے دباتا تو درد اور لذت کے ملے جلے جذبات سے میری آہ نکل جاتی اور یہ بات اسے سکون دے رہی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں میری دونوں نپل سرخ ہو چکی تھیں۔

لذت کا یہ دور شروع ہوا تو میری حوس بھی جاگ گئی۔ میں نے اس کی جینز کھول کر اس کا لنڈ باہر نکال دیا۔ جیسے جیسے وہ میرے نپل کو چوس رہا تھا میرے ہاتھ بھی اس کے لنڈ کو مسل رہے تھے۔ اس کا لنڈ لوہے کے راڈ کی طرح سخت تھا اور مجھے یقین ہونے لگا کے اب میری چوت پیاسی نہیں رہے گی۔

میرے دودھ کو چکھنے کے بعد اس کا دھیان میری گیلی ہوتی ہوئی چوت کی طرف گیا۔ یہ اس کا تخت تھا جہاں اس نے کسی بادشاہ کی طرح بیٹھنا تھا۔ اس نے ہاتھ میرے ٹرائوزر میں ڈال دیا اور میرے چوت کا گیلا پن محسوس کر کے مسکرانے لگا۔ نہ جانے اس کے مسکرانے کا مطلب کیا تھا مگر جیسے ہی اس کا ہاتھ میری چوت کے ساتھ لگا میرے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا۔ میری چوت نے ایک گرم پانی کا ایک تازہ سیلاب چھوڑ کر اس کا استقبال کیا۔ اس کی انگلیاں بہت مہارت سے میری چوت کو مسل رہی تھیں۔ اور میری برداشت ختم ہو گئی۔

میری چوت کو اسی وقت لنڈ چاہئے تھا۔ میری حوس پوری طرح حاوہ ہو چکی تھی۔ مجھ سے اب مزید صبر نہیں ہوتا۔ میں نے اس کے لنڈ کو اپنی چوت کے قریب رگڑنا شروع کیا۔ شاید اسے اندازہ ہو گیا تھا کے اب میں کیا چاہتی ہوں۔

اب اس نے میرا رخ صوفے کی طرف کیا اور میں دونوں ہاتھ سوفے پر رکھ کر جھک گئی۔ اس نے میری کمر سے عبایا تھوڑا سا اٹھایا اور پھر میرا ٹرائوزر اتار کر میری گانڈ ننگی کر دی۔ اس سے پہلے کے وہ اسی پوزیشن میں میری چوت میں لنڈ ڈالتا اس نے پٹاخ کی آواز کے ساتھ میری گاںڈ پر تھپڑ مارا۔ آہ ہ ہ

میری چیخ نکل گئی۔ اور پھر میری گانڈ کو مسلتے ہوئے اس نے اپنا لنڈ میری ٹاگوں کے بیچ سے گزار کر چوت پر رگڑ دیا۔ میرا انتظار طویل ہو رہا تھا اور مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی جب اس نے ایک جھٹکے سے اپنا لنڈ میری چوت میں اتار دیا۔
اف ف ف ف ف

میری چوت رس سے بھر گئی تھی۔ گیلی چوت میں اس کا لنڈ سرکتا ہوا اندر چلا گیا۔ میرے جسم میں ایک سرور کی لہر دوڑ گئی۔ اپنے میاں کے بعد یہ پہلا لنڈ تھا جس نے میری چوت کو سیراب کیا تھا۔

پہلے پہل تو وہ آہستہ آہستہ چودتا رہا اور میری چوت کو ترساتا بھی رہا مگر اب اس کے دھکوں میں تیزی آگئی۔ اس کا لنڈ میری چوت کے آخری کونے تک سرکتا ہوا جاتا اور پھر واپس چوت کے داہنے تک آتا۔ اور ایک بار پھر وہ تیزی سے دھکا لگاتا۔

لگاتار پانچ منٹ چودنے کے دوران میری چوت جھڑ گئی۔ اس کا لنڈ بھی میری چوت سے گیلا ہو گیا اور تیزی سے پھسلنے لگا۔ اب وہ بھی فارغ ہونے لگا تھا۔ اس نے مجھے زور سے اپنے بازو میں جکڑ لیا اور میرے بوبس کو ہاتھوں میں دبا لیا۔ اس کا لنڈ میری چوت میں پانی چھوڑ رہا تھا۔

چود کر وہ فارغ ہوا اور اس نے اپنا لنڈ میری چوت سے نکالا تو اچانک مجھے خیال آیا کے یہ میں نے کیا کر دیا۔ ایک غیر مرد سے چدوا لیا۔ شرم سے مجھے پسینہ آنے لگا۔ اور ٹرائوزر پہن کر عبایا ٹھیک کر کے میں مہمان خانے سے بھاگ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔

Photos from Mast Mahol's post 07/03/2019

میرا نام شازیہ ہے اور میں لاہور کے ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں میری عمر اس وقت بیس سال کے قریب ہے اور یہ واقعہ جو میں آپ کے سامنے پیش کررہی ہوں یہ دو سال پہلے کا ہے جب میں بی اے کررہی تھی میری بڑی بہن ناذیہ کی عمر مجھ سے تین سال زیادہ ہے اس کی شادی چھ ماہ پہلے زمیندار گھرانے کے ایک لڑکے سے ہوئے ہے جو گاﺅں میں اپنی زمینوں پر کھیتی باڑی کی نگرانی کرتے ہیں شادی کے دو ماہ بعد میری بہن ناذیہ میکے آئی تو اس نے مجھے کہا کہ میں گرمیوں کی چھٹیاں اس کے ہاں گزاروں جس کی میں نے حامی بھر لی
گرمیوں کی چھٹیاں ہوئیں تو میں ان کے گھر چلی گئی جب ان کے گھر پہنچی تو دوپہر کا وقت تھا اور سخت گرمی تھی گھر پہنچتے ہی میں نے نہا کر کپڑے تبدیل کئے اس کے بعد کھانا کھایا میرے بہنوئی فاروق بھی کھانے کے وقت گھر آگئے اور انہوں نے لنچ ساتھ میں کیا تھوڑی دیر کے بعد وہ دوبارہ کھیتوں کو چلے گئے
اب میں اپنی باجی کے گھر کے بارے میں بتادوں یہ گھر نہیں بلکہ ایک محل تھا جو گاﺅں سے ذرا ہٹ کر کھیتوں میں ہی بنایا گیا تھا ڈبل سٹوری اس گھر کو دیکھ کر حیرانگی ہوتی تھی کہ گاﺅں میںبھی ایسے گھر بن سکتے ہیں میری باجی نے مجھے رہنے کے لئے اپنے ساتھ والا کمرہ دیا جس کے ساتھ ایک اور کمرہ تھا جس میں ان کا دیور ایوب رہتا تھا جو عمر میں مجھ سے دو اڑھائی سال بڑا ہوگا اور پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتا تھا اور چھٹیاں گزارنے یہاں آیا ہوا تھا
جس روز میں یہاںپہنچی اس دن میں کافی تھکی ہوئی تھی اس لئے جلدی سو گئی اگلی صبح تقریباً پانچ بجے باجی نے مجھے اٹھایا اور چائے دی جس کے بعد مجھے کہا کہ چلو صبح کی سیر کو چلتے ہیں میں حیران ہوگئی کہ باجی اس وقت اٹھ گئی ہیں شادی سے پہلے تو اس وقت ان کی نیند شروع ہوتی تھی خیر میں چپ رہی اور ان کے ساتھ سیر کو چل دی صبح صبح ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس پر چل کر کافی مزہ آرہا تھا دس پندرہ منٹ کی واک کے بعد باجی کہنے لگی کہ چلو واپس چلتے ہیں مگر میںنے ان سے کہا کہ آپ چلیں میں آجاتی ہوں میں مزید کچھ وقت یہاں گزارنا چاہتی تھی باجی واپس چلی گئیں اور میں چلتے چلتے کھیتوں میں چلی گئی ایک جگہ میری نظر پڑی تو میں ٹھٹھک کر رہ گئی میں نے دیکھا ایوب ٹیوب ویل میں ننگا نہا رہا ہے اس کے جسم پر کوئی کپڑا نہیں تھا میں ایک درخت کی اوٹ میں ہوگئی اور اسے دیکھنے لگی میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار کسی مرد کو ننگی حالت میں دیکھا تھا مجھے شرم بھی محسوس ہورہی تھی لیکن میں کھڑی رہی ایوب میری اس جگہ موجودگی سے بے خبر نہا رہا تھا اس نے پانی میں ڈبکی لگائی اور پھر باہر نکل کر کھڑا ہوگیا میری نظر جیسے ہی اس کی ٹانگوں کے درمیان گئی میرے منہ سے اوئی ماااا۔۔۔۔۔نکل گیااس سے پہلے میں نے تصویروں میں کسی مرد کے لن کو دیکھا لیکن اپنی حقیقی لائف میں پہلی بار کسی شخص کو ننگا کھڑے دیکھ رہی تھی ایوب کا بڑا سا کالا لن اس کی ٹانگوں کے درمیان جھول رہا تھا اس کے لن کے گرد کالے رنگ کے بال بھی کافی زیادہ تھے اس کے لن کے نیچے دو بال بھی نیچے جھول رہے تھے وہ میری موجودگی سے بے خبر اپنے جسم پر صابن ملنے لگا اس نے اپنی لن پر صابن ملا اور پھر پانی میں ڈبکی لگا کر باہر نکل کر کپڑے پہن لئے اس کے بعد گھر کی طرف چل دیا میں کچھ دیر وہاں رکی اور پھر میں بھی گھر کی طرف چل پڑی اس کو ننگی حالت میں دیکھ کر میں کافی گرم ہوچکی تھی گھر پہنچی تو باجی نے ناشتہ لگا دیا تھا میں ٹیبل پر آئی تو ایوب بھی آگیا اور میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا مجھے کافی شرم محسوس ہورہی تھی ناشتے کے بعد میرے بہنوئی فاروق کسی کام سے شہر چلے گئے اور باجی نے ایوب کو کہا کہ وہ شازیہ کو اپنا فارم ہاﺅس دکھا لائے جس پر ایوب کہنے لگا کیوں نہیں چلو شازیہ تمہیں اپنا فارم ہاﺅس دکھاتے ہیں صبح اس کو ننگی حالت میں دیکھنے کے بعد مجھے اس کے پاس بیٹھنے پر بھی شرم محسوس ہورہی تھی اب باجی نے مجھے اس کے ساتھ جانے کو کہہ دیا آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس وقت میری کیا حالت ہوگی خیر میں انکار نہ کرسکی اور اس کے ساتھ ہولی ہم لوگ پیدل ہی فارم ہاﺅس کی طرف چل دیئے فارم ہاﺅس گھر سے کچھ فاصلے پر تھا راستے میں باتوں باتوں میں میں نے محسوس کیا کہ ایوب کافی ہنس مکھ ہے راستے میں ہم لوگ باتیں کرتے گئے کچھ دیر کے بعد ہم لوگ فارم ہاﺅس پہنچ گئے جہاں اس نے مجھے اپنے کنو اور مالٹے کے باغ دکھائے اور اس کے بعد اپنے ڈیری فارم لے گیا اور کہنے لگا آﺅ میں تم کو ڈیری فارم دکھاتا ہوں اس نے بتایا کہ اس فارم میں آسٹریلین گائے ہیں جو بہت زیادہ دودھ دیتی ہیں ڈیری فارم کے ایک کونے پر ایک بیل چل رہا تھا جس کے بارے میں اس نے فخر سے بتایا کہ اس علاقے میں اس نسل کا بیل صرف ہمارے پاس ہے اس کو خریدنے کے لئے لوگوں نے ہمیں لاکھوں روپے کی آفر کی لیکن ہم نے اسے نہیں فروخت کیا ابھی باتیں کررہے تھے کہ بیل گائیوں کے پاس پہنچ گیا اور اچانک اس نے ایک گائے کی دم کو سونگھنا شروع کردیا تھوڑی دیر کے بعد اس کا بڑا سا لن باہر نکل آیا اور وہ گائے کے اوپر چڑھ گیا میں یہ سین دیکھ کر بہت شرمندہ ہوئی اور ایوب سے کہا چلو مجھے گھر جانا ہے
کیوں کیا ہوا ‘ ایوب نے پوچھا
یہ سب کیا دکھا رہے ہو تم مجھے
یہ سن کر ایوب کے چہرے پر ایک مسکان سی آگئی اور وہ کہنے لگا ارے اس میں کون سی بات ہے سانڈ کا کام ہے وہ گائے کو نئی کرتا ہے دیکھا نہیں تم نے وہ اپنا کام کررہا ہے
بیل ابھی تک گائے کے اوپر چڑھا ہوا تھا اور ایوب اسی کی طرف دیکھ رہا تھا یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہورہا تھا اس لئے وہاں سے واپس کو چل دی ایوب بھی ساتھ ہوگیا اور کہنے لگا کہ یہ نیچرل بات ہے اس کے چہرے پر اب بھی عجیب سی مسکراہٹ تھی میں نے اپنے قدم تیز تیز اٹھانا شروع کردیئے ایوب نے بھی اپنی رفتار بڑھا دی اور چلتے چلتے کہنے لگا دیکھو شازیہ یہ نیچرل بات ہے انسان بھی یہی کچھ کرتے ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے بیڈ روم میں کرتے ہیں اور کوئی ان کو نہیں دیکھتا میں خاموشی سے چلتی رہی اور گھر آکر اپنے کمرے میں چلی گئی کمرے میں جاکر میری حالت خراب ہونے لگی میں گرم ہورہی تھی صبح صبح ایوب کو ننگی حالت میں دیکھنے کے بعد اب بیل اور گائے کا لائیو سیکس شو دیکھ کر میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں مجھے نہیں معلوم کس وقت مجھے نیند آگئی دوپہر کے وقت باجی نے مجھے اٹھایامیں نے دوپہر کا کھانا کھایا اور شام کو فاروق بھائی بھی آگئے ہم لوگوں نے مل کر کھانا کھایا اس دوران فاروق بھائی کہنے لگے شازیہ یہاں کی زندگی بھی عجیب سی لگے گی تم کو یہاں لوگ صبح سویرے اٹھ جاتے ہیں اور رات کو جلدی سوجاتے ہیں کھانے کے بعد میں اپنے اور باجی فاروق بھائی کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ ایوب باہر نکل گیا شائد وہ سگریٹ وغیرہ پینے کے لئے باہر گیا تھا میں اپنے کمرے میں آگئی ذہن میں صبح ایوب کو ننگے دیکھنے اور بیل اور گائے کے سیکس کے سین چل رہے تھے جس سے میں کافی گرم ہورہی تھی میرے جسم میں عجیب سی بے چینی ہورہی تھی کچھ دیر بستر پر لیٹی سونے کی کوشش کرتی رہی لیکن نیند نہ آئی جس پر میں نے سوچا کہ باہر چل کے تازہ ہوا میں کچھ دیر چہل قدمی کرتی ہوں یہ سوچ کر میں اپنے کمرے سے باہر آگئی گھر کے چاروں طرف برآمدہ تھا جس میں تمام بلب آف تھے میں برآمدے میں چہل قدمی کررہی تھی کہ باجی کے کمرے کی کھڑکی کے پاس پہنچی تو اندر سے کچھ آوازیں سنائی دیں جس پر میں کھڑکی کے پاس ہی رک گئی کمرے کے اندر نیلے رنگ کا زیرو کا بلب جل رہا تھا میں نے دیکھا کہ فاروق بھائی بیڈ کے پاس کھڑے ہیں انہوں نے دھوتی پہن رکھی ہے جبکہ میری باجی بیڈ کے اوپر بیٹھی ہوئی ہیں انہوں نے شلوار قمیص پہنی ہوئی ہے فاروق بھائی نے باجی کا بازو پکڑ کر ان کو اٹھایا اور ان کے ہونٹوں پر کس کردی اور کہنے لگے میری رانی آج تو بہت سیکسی لگ رہی ہو
آہستہ بولوساتھ کمرے میں نازی ہے وہ سن لے گی
وہ سو گئی ہوگی تو اس کی فکر نہ کر آج تو میں تمہاری لمبی چدائی کروں گا
چھوڑو بھی ابھی کل تو کیا تھا ‘ باجی نے خود کو فاروق بھائی سے چھڑاتے ہوئے کہا
فاروق بھائی نے ان کو پھر پکڑا اور ان کو کسنگ کرنے لگے چند منٹ کے بعد انہوں نے باجی کے کپڑے اتار دیئے اور خود بھی دھوتی اتار دی وہ باجی کو کسنگ کررہے تھے اس کے ساتھ وہ باجی کے چیتڑوں پر اپنے ہاتھوں سے تھپڑ مارہے تھے جس کی کافی آواز آرہی تھی اس کے بعد دونوں نے ایک لمبی سی جپھی ڈالی پھر کسنگ کرنے لگے اس کے بعد فاروق بھائی نے باجی کو بیڈ پر بٹھا دیا اور خود کھڑے ہی رہے اب ان کا لن میرے سامنے تھا جو کافی لمبا اور کالے رنگ کا تھا اور اس کے گرد کافی بال تھے اب باجی نے فاروق بھائی کا لن اپنے منہ میں لے لیا اور اس کو لالی پاپ کی طرح چوسنے لگیں مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہورہا تھا فاروق بھائی نے باجی کو بالوں سے پکڑ رکھا تھا اور وہ باجی کے سر کو آگے پیچھے کررہے تھے باجی نے اپنے ہاتھ فاروق بھائی کی پیٹھ کر رکھے ہوئے تھے اور ان کو آہستہ آہستہ سے ہلا رہی تھی تھوڑی دیر بعد فاروق بھائی کہنے لگے اب بس کر نہیں تو میں چھوٹ جاﺅں گا جس پر باجی نے ان کا لن اپنے منہ سے نکال دیا اور خود بیڈ پر لیٹ گئیں فاروق بھائی بھی بیڈ پر آگئے اور باجی کے مموں کے ساتھ کھیلنے لگے ان کو کسنگ کی پھر باجی کے جسم کے دوسرے حصوں پر کسنگ کرنے لگے پھر وہ اپنا منہ باجی کی ٹانگوں کے درمیان لے گئے اور باجی کی چوت کو چومنے لگے باجی کے منہ سے آہ ہ ہ ہ ہ ہ کی آواز نکل آئی تھوڑی دیر ایسے ہی رہنے کے بعد وہ اٹھے اور باجی کی ٹانگوں کے درمیان آگئے انہوں نے باجی کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور اپنا لوہے کے راڈ جیسا لن باجی کی پھدی پر رکھا اور پھر پوری طاقت سے اس کو اندر ڈال دیا باجی کے منہ سے اوئی ئی ئی ئی ئی ئی میں مر گئی کی آواز نکلی لیکن اس کے ساتھ ہی ان کے منہ سے مزے کی ہلکی ہلکی سی آوازیں آنے لگی اس کے بعد فاروق بھائی زور زور سے دھکے دینے لگے فاروق بھائی اپنے لن کو پورا باہر لاتے اور جیسے ہی زور سے اندر کرتے باجی آہ ہ ہ کرتی جس سے فاروق بھائی کے گھسے کی طاقت اور بڑھ جاتی ہر گھسے سے باجی کے ممے بھی ہل رہے تھے اوہ ہ ہ ہ آہ ہ ہ ہاںںںں اوہ ہ ہ ہ ہ ام م م م م اف ف ف باجی کے منہ سے مسلسل مزے کی آوازیں نکل رہی تھیں باجی نے اپنے بازو فاروق بھائی کے جسم کے گرد لپیٹ رکھے تھے جن کی پکڑ ہر گھسے کے ساتھ ہی سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی تھوڑی دیر ایسے ہی گھسے مارنے کے بعد فاروق بھائی اوپر سے اٹھ گئے انہوں نے اپنا لن پھدی سے نکال لیا اور باجی سے کہنے لگے اب گھوڑی بن جا جس پر باجی حکم بجا لائی اور الٹی ہوکر اپنے بازو بھی بیڈ پر لگا لئے انہوں نے اپنے گٹنے ٹیک لئے جس پر ان کی پھدی بھی مجھے صاف نظر آنے لگی ایسے گھوڑی بننے کے بعد باجی کہنے لگی آجا راجا گھوڑی پر چڑھ جا فاروق بھائی اس کے پیچھے گھٹنے ٹیک کر کھڑے ہوگئے اور اپنا لن چوتڑوں کے درمیان سے ان کی پھدی پر سیٹ کرنے لگے انہوں نے اپنا لن ایک ہی جھٹکے سے باجی کی پھدی کے اندر ڈال دیا اور اس کو تیزی سے حرکت دینے لگے جس سے کمرے میں پچ پچ کی آوازیں آنے گلی ہر جھٹکے سے باجی کے ممے نیچے سے ہل رہے تھے جن کو کبھی کبھی فاروق بھائی اپنی رفتار تیز کرکے پکڑتے اور پھر ان کو چھوڑ کر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ گھسا مارتے تھوڑی دیر کے بعد فاروق بھائی نے اپنا لن پھر باہر نکالا اور کہنے لگے رانی آج مزہ آگیا آج میں پیچھے سے بھی کروں گا جس پر باجی کہنے لگی
رحم کرو راجا میں مر جاﺅں گی
آج نہیں چھوڑو ں گا
پھر تھوڑا سا تیل لگا لیں اپنے لن پر جس پر فاروق بھائی چل کر ڈریسنگ ٹیبل پر گئے اور تیل کی شیشی پکڑ کر لے آئے اور بوتل کو کھول کر اپنی ہتھیلی پر تیل ڈال کر اپنے لن کو ملنے لگے اب ایسی پوزیشن میں تھے کہ فاروق بھائی کی کمر میری طرف آگئی مجھے نہیں معلوم کہ کیا کررہے تھے صرف مجھے باجی کی قدرے زور سے آواز سنائی دی ” میں مررررر گئی“ ہائے“
”چپ کر اور تھوڑا سا رہ گیا ہے“ فاروق بھائی کی آواز آئی
انہوں نے اور تھوڑا زور لگایا اور پھر کہنے لگے لے اب پورا لن تیری گانڈ کے اندر چلا گیا ہے اب آئے گا مزہ ‘ پھر وہ آگے پیچھے ہونے لگے اور باجی کی آواز بھی آنے لگی ہائے ئے ئے ئے میں مر گئی اور نہیں تھوڑا آہستہ اور نہیں نہ ہ ہ ہ ہ میں مر گئی آہ ہ ہ اب جلدی کرو اور پھر چند منٹ کے بعد فاروق بھائی کی آواز آئی میں چھوٹنے لگا ہوں اور چند سیکنڈکے بعد فاروق بھائی پیچھے ہوئے اور بیڈ پر لیٹ گئے اور باجی جو گھوڑی بنی ہوئی تھیں وہ بھی لیٹ گئیں فاروق بھائی باجی سے کہنے لگے
کیسا لگا رانی
آج تو آپ نے مار ہی ڈالا ‘ باجی نے کہا اور ساتھ ہی فاروق بھائی کو کسنگ کرنے لگیں
میں چپکے سے اپنے کمرے میں آگئی اگلی صبح میں واک کے لئے نکلی تو اسی جگہ جاکر رک گئی جہاں کل ایوب کو نہاتے ہوئے دیکھا تھا آج بھی وہ وہیں موجود تھا اورنیکر پہنے ہوئے تھا وہ اپنے جسم کو تیل کی مالش کررہا تھا میں ایک درخت کی اوٹ میں کھڑی ہوکر اس کو دیکھنے لگی اس نے جسم کے بعد اس نے نیکر میں ہاتھ ڈالا اور اپنے لن کو تیل کی مالش کرنے لگا جس سے اس کے لن میں حرکت ہوئی اور وہ نیکر سے ہی دیکھنے لگا وہ شائد کھڑا ہورہا تھا اس کے بعد اس نے نہانا شروع کردیا آج اس نے نیکر نہیں اتاری تھی میں گھر کو لوٹ آئی اور ناشتے کے بعد کمرے میں آگئی اس رات بھی کھانا حسب معمول جلدی کھایا اور اپنے کمرے میں آگئی مجھے نیند نہیں آرہی تھی تھوڑی دیر کے بعد میں پھر باہر آئی اور اسی کھڑکی کے پاس کھڑی ہوگئی جہاں سے فاروق بھائی کی آواز آرہی تھی اب کیا شرما رہی ہے دیکھ میرا لن کیسے پھدک رہا ہے تیری پھدی کے اندر جانے کے لئے اور تیری پھدی بھی بے چین ہے اپنے اس لور کے لئے
اب چپ بھی کر بے شرم کہیں کے اور پھر کمرے سے سیکسی آوازیں آنے لگیں اوئی ماں اتنے زور سے تو نہ کرو
تیری چوت اتنی چکنی ہے کہ خود کو روک نہیں سکتا آج میں دوسری پوزیشن میں کرتا ہوں میں نے دیکھا آج فاروق بھائی اور باجی دونوں کے منہ ایک دوسرے کی شرم گاہ پر تھے اور دونوں کے منہ سے آوازیں آہ ہ ہ ہ ہ م م م م م م آہ ہ یس آو و و گڈ“ آرہی تھیں تھوڑی دیر کے بعد باجی کہنے لگیں اب آجاﺅ
کہاں پھدی منہ یا گانڈ
جہاں تم چاہو میرے راجا
پھر آج بھی گانڈ
پھر میں نے دیکھا باجی کرسی کے اوپر بازو رکھ کر کھڑی ہوگئیں اور فاروق بھائی نے ان کی گانڈ میں اپنا لن ڈال کر ان کو چودنا شروع کردیا ابھی ان کا کھیل جاری تھا اور میں ان کو بغور دیکھ رہی تھی میں اس وقت کا فی ہاٹ ہوچکی تھی اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میرے پیچھے کوئی کھڑا ہوا ہے میں نے مڑ کر دیکھا تو ایوب میرے پاس ہی کھڑا اندر کا منظر دیکھ رہا تھا میں نے اس کو دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کی لیکن اس نے مجھے پکڑ لیا اور ایک ہاتھ میرے منہ پر رکھ کر مجھے تقریباً اٹھائے ہوئے میرے کمرے میں لے آیا اور کمرے کا دروازہ بند کردیا اور بولا کیا دیکھ رہی تھی میں شرم سے مری جاری تھی میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے منہ کو چھپا لیا چند لمحے بعد ہنستے ہوئے بولا اس میں شرمندہ ہونے والی کون سی بات ہے تمام مرد اور عورتیں یہ کام کرتی ہیں مرد کا کام ہی اپنی عورت کی چدائی کرنا ہے اس وقت میں کافی ہاٹ تھی اور میرے ہونٹ خشک ہورہے تھے ایوب نے مجھے آہستہ سے چھوا اور میرے بدن پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا مجھے اس کا بہت مزہ آنے لگا اچانک وہ اپنا منہ آگے لایا اور میرے ہونٹوں پرکس کردی اس سے پہلے کہ مجھے کچھ سمجھ آتا کہ کیا ہورہا ہے اس نے میری شلوار اتار دی اور میرے منع کرنے کے باوجود زبردستی میری قمیص تھی اتار دی میں نے نیچے کچھ بھی نہیں پہن رکھا تھا اس لئے شلوار اور قمیص اترتے ہی پوری ننگی ہوگئی میں فوری طورپر بیٹھ گئی اور اپنے ہاتھوں سے اپنے جسم کو چھپانے کی کوشش کی میں نے اپنے ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لئے اور ٹانگوں سے اپنی پھدی کو چھپا لیا ایوب نے میرے ہاتھ پیچھے کئے اور اپنی دھوتی بھی اتار کر مجھے بیڈ پر لٹا دیا اور میرے جسم پر کسنگ کرنے لگا اس کا لن پوری طرح کھڑا ہوچکا تھا اور مجھے چبھ رہا تھا وہ میرے اوپر ہی لیٹا ہوا تھا کسنگ کرتے کرتے ایوب کہنے لگا ” تو بہت چکنی ہے شازی تیرے ممے انار جیسے ہیں اور تیرے گلابی ہونٹ کتنے سیکسی ہیں اور تیری گانڈ۔۔۔۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے اس نے میری گانڈ پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا اور پھر اپنی ایک انگلی میری گانڈ کے اندر گھسا دی درد کی ایک لہر میرے پورے جسم میں دوڑ گئی میں نے اپنے منہ سے نکلنے والی چیخ کو بہت مشکل سے کنٹرول کیا کیوں کہ ساتھ والے کمرے میں باجی اور فاروق بھائی موجود تھے اگر وہ سن لیتے تو کام بہت خراب ہوجاتا اس کے بعد ایوب نے اپنا لن میرے ایک ہاتھ میں پکڑا دیا اور بولا دیکھ میرا لن کتنا تگڑا ہے اس کے بعد اس نے اپنا ایک ہاتھ میری ٹانگوں کے درمیان میں گھسا دیا اور پھر بولا تیری چوت کتنی چکنی ہے اس نے اپنی ایک انگلی میری چوت کے اندر ڈال دی جو گیلی ہوچکی تھی پھر اپنا منہ میرے کان کے قریب لا کر آہستہ سے بولا تیری چوت میرے لن کی بھوکی ہے مجھے اس بات کی فکر ہورہی تھی کہ جیسے کچھ دیر پہلے میں اور ایوب دوسرے کمرے میں باجی اور فاروق بھائی کی آواز سن رہے تھے اسی طرح باجی اور فاروق بھائی بھی اس کمرے سے ہماری آواز سن سکتے تھے میں نے ایوب اور کان میں آہستہ سے کہا دیکھیں دوسرے کمرے میں باجی اور فاروق بھائی ہے وہ سن لیں گے جس پر ایوب کو بھی خطرے کا احساس ہوا جس پر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور مجھے بھی کھڑا کر کے چلنے لگا میں نے کہا ” کہاں“ تو کہنے لگا ” میرے پیچھے آﺅ“اس نے اپنی دھوتی جبکہ میں نے اپنی شلوار اور قمیص اٹھائی اور کمرے سے نکل آیا ہم دونوں ننگے تھے میں اس کی رہنمائی میں کمرے سے تقریباً بیس قدم کے فاصلے پر ایک اور کمرے میں چلی گئی جو گیسٹ روم کی طرح تھا جس میں دو بیڈ تھے اور اٹیچ باتھ روم تھا کمرے میں آتے ہی اس نے دروازہ بند کیا اور اپنی دھوتی اور میرے ہاتھ سے شلوار قمیص پکڑ کر نیچے پھینک دی اور مجھے بیڈ پر لٹا دیا اس کے بعد میرے جسم پر کسنگ کرنے لگا میرے ہونٹ‘ گردن‘ گالوں‘ بازوﺅں ‘ میرے مموں پیٹ اور پھر۔۔۔۔۔۔اس کے گرم ہونٹ میری پھدی کے ہونٹوں پر آگئے اس نے پہلے میری پھدی کے ہونٹوں کو چوسا پھر اپنی زبان اس کے اندر ڈال دی میرے پورے جسم کے اندر مزے کی ایک لہر سی دوڑ گئی میں ہواﺅں میں اڑ رہی تھی میں نے اس کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا چند منٹ بعد اس نے اپنا منہ ہٹایا اور میرے جسم کے اوپر والے حصے پر لے آیا اور پھر بیٹھ کر اپنا لن پکڑا اور میرے منہ کے اوپر اس کی ٹوپی رکھ دی جو بہت گرم تھا اور اس کے اندر سے ایک عجیب قسم کی بو آرہی تھی اور اس کے سوراخ سے مائع نکل رہا تھا پھر وہ مجھے کہنے لگا اس کو چوسو مزہ آئے گا میں کوئی مزاحمت نہ کرسکی اور اس کے لن کو منہ میں ڈال لیا اس کا صرف ٹوپا ہی میرے منہ میں تھا اس وقت میرے ذہن میں ایک دن پہلے والا سین آگیا جب باجی فاروق بھائی کا لن چوس رہی تھی میں نے اسی طرح لن کو چوسنا شروع کردیا کچھ دیر بعد ایوب نے مجھے روک دیا اور اپنا لن میرے منہ سے نکال لیا اس نے مجھے لٹایا اور پھر میرے ٹانگوں کے پاس آگیا اس نے میری ٹانگوں کو کھولا اور اپنے لن کو میری پھدی کے اوپر رکھ کر بولا ” اب میں اپنے لن کو تمہاری پھدی سے چسواﺅں گا“
نہیں بابا نہیں اتنا لمبا اور موٹا میں نہیں یہ میرے اندر نہیں جاسکتا یہ تو فاروق بھائی سے بھی بڑا ہے میں مر جاﺅں گی“ میرے منہ سے غیر ارادی طورپر نکل گیا
ایوب کے منہ پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور پھر وہ کہنے لگا چپ کر دیکھا نہیں بھیا کیسے بھابھی کو چود رہے تھے اب میں تجھے اسی طرح چودوں گا آج سے تو میری بیوی اور میں تیرا خاوند اب تو صرف مجھ سے ہی اپنی پھدی اور گانڈ مروائے گی
اچانک مجھے میری ٹانگوں کے درمیان درد سا محسوس ہوا جیسے کوئی گرم لوہے کی چیز میری پھدی کے اندر جارہی ہے میں نے دیکھا ایوب کچھ زور لگا رہا ہے میری آنکھوں سے آنسو نکل کر میرے گالوں پر آگئے میں نے ایوب سے التجا کی کہ اب بس کرے مگر وہ ہنسا اور مزید زور لگا دیا میری پھدی میں تکلیف مزید بڑھ گئی میں نے چیخ مارنے کے لئے منہ کھولا تو اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور ان کو چوسنے لگامیری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آگیا جو چند سیکنڈ تک رہا پھر آہستہ آہستہ اندھیرا ختم ہونے لگا لیکن درد تھا کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ایوب مسلسل میرے ہونٹ چوس رہا تھا اور اپنے ایک ہاتھ سے میرے مموں کو مسل رہا تھا اس کے ناک سے ہوںںںں ہوںںںں کی آواز آرہی تھی پھر اس نے میرے کان میں ہلکے سے کہا ”تیری چوتکا پردہ پھٹ گیا ہے میرا لن تیری پھدی کے اندر چلا گیا ہے اب میں تیری جم کر چدائی کروں گا اس کے بعد اس نے اپنے جسم کو تھوڑا سا اوپر کیا اور اپنی ہپ کو اوپر اور نیچے کی طرف حرکت دینے لگا ہر بار جب وہ اپنی ہپ نیچے کی طرف لاتا تو اس کا لن میری پھدی کے اندر کسی چیز کے ساتھ ٹکراتا پانچ چھ منٹ کے بعد مجھے بھی مزہ آنے لگا میں نے اپنی ٹانگیں مزید اوپر کیں اور اس کے گرد لپیٹ لیں وہ مجھے کتنی دیر تک پمپنگ کرتا رہا کچھ دیر بعد وہ پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا ” اب تو گھوڑی بن جا میں تیری گانڈ ماروں گا“ میں نے اس کے لن کو دیکھا تو بہت خطرناک لگ رہا تھا میں نے ایوب کی بات سن کر کہا کبھی نہیں جس پر وہ کہنے لگا گانڈ مارنے اور مروانے کا مزہ کچھ اور ہی ہے میری جان
مزہ تو تم کو ملے گا اور میں درد سے مر جاﺅں گی ’ میں نے اس کو جواب دیا
وہ پھر بولا اپنی گانڈ مروا کے دیکھ کتنا مزہ ملتا ہے تجھے دیکھا نہیں تیری باجی کتنے مزے سے گانڈ مرواتی ہے
اس کی بات سن کر میں بھی گھوڑی کی طرح ہوگئی اور اپنی گانڈ اس کے سامنے کردی تو اس نے کہا اس کو میرے لئے کھولومیں نے اس کے حکم کے مطابق اپنی گانڈ کو کھولنے کے لئے تھوڑا سا زور لگا اس وقت میرے کندھے بیڈ پر تھے اور میرا منہ تکیے کے اوپر تھا اس نے میرے ہاتھ میرے سر کے اوپر کردیئے پھر میرے پیچھے آگیا اور میری گانڈ کے اندر ایک انگلی ڈال دی پھر دوسری تیسری اور پھر چوتھی بھی ڈال دی اور پھر ان کو تھوڑی دیر ہلاتا رہا مجھے کچھ درد بھی ہورہا تھا اور مزہ بھی آرہا تھا پھر اس نے اپنا لن میری گانڈ کے اوپر رکھا اور اس کو اندر کرنے کی کوشش کرنے لگا مجھے باجی کی بات یاد آگئی میں نے ایوب سے کہا کہ تھوڑا تیل لگا لو مگر ایوب نے کہا یہاں تیل نہیں ہے تو ڈر مت میں تھوک لگا لیتا ہوں اس نے اپنا منہ میرے چوتڑوں کے پاس کیا اور میری گانڈ کے اوپر تھوک دیا پھر اپنا لن میری گانڈ کے اوپر رکھ دیا اور اس کو نیچے کی طرف دبانے لگا اس کا لن تھوڑا سا اندر گیا تو مجھے کافی تکلیف ہوئی اور میں نے اپنے چوتڑ ہلا کر اس کا لن باہر کردیا اس نے پھر میرے چوتڑ سیدھے کئے اور مجھے نہ ہلنے کی ہدایت کرکے اپنا لن میری گانڈ کے اندر ڈالنے لگا میرا منہ تکیئے کے اندر دھنس گیا اور میرا چہرا درد سے سرخ ہوگیا ” اوئی ئی ئی ماں میں مر گئی میں مر گئی نکالو اس کو “ میرے منہ سے نکلا مگر ایوب نے میری کوئی بات نہ سنی اور میرے مموں کو پکڑ کر مزید زور لگانے لگا اور پھر کہنے لگا کم آن کم آن لے اس کو اپنی گانڈ کے اندر “ میرے آنسو بدستور جاری تھے مگر وہ نہ رکا اور آخر کار اس کا لمبا اور سخت لن میری گانڈ میں پورا چلا گیا جس پر اس کے منہ سے نکلا ”یس س س س “
وہ کچھ دیر رکا اور پھر اپنے لن کو حرکت دینے لگا اس کا لن جب بھی میری گانڈ کے اندر جاتا تکلیف ایک دم بڑھ جاتی اور جب لن باہر آتا تو اس میں کچھ کمی ہوجاتی وہ آہستہ آہستہ اپنے کام میں جتا رہا اس کے ہاتھ ابھی میرے مموں پر تھے جب وہ میرے اندر اپنا پورا لن ڈال دیتا تو مجھے اپنی پھدی کے اوپر اس کے ٹٹے ٹکراتے ہوئے محسوس ہوتے اور اس کے بال مجھے چبھتے چند منٹ بعدمیرا درد کم ہوگیا اور پھر اس نے میرے بال پکڑ کر میرا منہ اوپر کیا اور کہنے لگا اب تیری گانڈ ڈھیلی ہوگئی ہے اب تجھے بھی مزہ آئے گا اس کے بعد اس نے اپنے جھٹکوں کی رفتار ایک دم بڑھ ا دی دس منٹ کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ اس کے لن سے میری گانڈ کے اندر کچھ مائع نکل رہا ہے چند لمحے بعد مجھے لگنے لگا کہ ایوب کا لن کچھ ڈھیلا ہورہا ہے اس کے بعد اس نے میری گانڈ سے اپنا لن نکال لیاوہ میرے اندر ہی فارغ ہوگیا تھا مجھے اس وقت بہت زیادہ پین ہورہی تھی میں نے ایوب سے کہا کہ میں درد سے مرے جارہی ہوں میری چوت میں بھی جلن ہورہی ہے اس نے مجھے کس کیا اور کہنے لگا جانو ڈر مت کچھ بھی نہیں ہوگا یہ کہہ کر اس نے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا پھر ہم دونوں بیڈ کے اوپر لیٹ گئے تقریباً آدھ گھنٹے کے بعد اس نے ایک بار پھر مجھے چودا اور اس نے پھر اپنے لن کا رس میری گانڈ کے اندر ہی چھوڑا اس کے بعد میں اپنے اور وہ اپنے کمرے میں جاکر سو گئے اگلی صبح باجی نے ناشتے کے لئے اٹھایا میں نے ناشتہ کیا اور پھر کمرے میں جاکر سو گئی باجی نے مجھے مورننگ واک کے لئے کہا مگر میری گانڈ اور چوت کے اندر درد ہورہی تھی میں نے نیند کا بہانہ کیا اور اپنے کمرے میں جاکر سو گئی شام کو اٹھی تو کھانا کھانے کے بعد جب سو گئے تو پھر ایوب میرے کمرے میں آگیا اور مجھے لے کر اسی کمرے میں چلا گیا جہاں ہم نے پھر دو بار سیکس کیا اس کے بعد پورا مہینہ ہم لوگ مزے کرتے رہے جب مجھے مینسز ہوئے ان دنوں میں بھی ہم لوگ ملتے رہے ان دنوں ایوب صرف میری گانڈ مارتا ایک مہینے کے بعد میں واپس اپنے گھر آگئی اگلے سال بھی میں چھٹیاں گزارنے اپنی باجی کے گھر گئی اور خوب مزے کئے

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Lahore
53770