PBC News

PBC News

Share

Social Media
News
Updates

30/09/2025

ثاقب مجید برگیڈ۔
جب 1990 کی دہائی میں جموں و کشمیر (بھارت کے زیرِ انتظام) میں آزادی کی تحریک عروج پر تھی، تو اُس وقت کی بھارتی حکومت اور اداروں نے اس تحریک کو کمزور کرنے کے لیے ("اخوان المجاہدین" )کے نام سے ایک مسلح گروہ بنایا۔ یہ ایک طرح کی کاؤنٹر اِنسرجنسی ملیشیا تھی، جو حکومت کی سرپرستی میں کام کرتی تھی، اور اسے باقاعدہ سہولتیں اور اسلحہ فراہم کیا جاتا تھا۔

اخوان نے آزادی کے لیے آواز بلند کرنے والے بے شمار کشمیریوں کو نشانہ بنایا اور حکومتی آشیرباد سے انہیں شہید کیا۔

آج آزاد کشمیر میں بھی وہی کردار دہرایا جا رہا ہے۔ جس طرح اُس وقت اخوان کو استعمال کیا گیا تھا، اسی طرح یہاں مسلم کانفرنس اور وظیفہ خور افراد کو استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو تقسیم کیا جائے اور پرامن جدوجہد کو تشدد میں بدلا جا سکے

Photos from PBC News's post 07/08/2025

ویسے تو لوگ علماء کے بارے میں بڑی بکواس کرتے ہیں کہ یہ لوگ کسی قابل نہیں ہوتے ، مگر وہیں پر ایسے مولانا حضرات بھی موجود ہیں جو موجودہ زمانے کے حساب سے ڈیجیٹل کاروبار سے لاکھوں روپیہ کماتے ہیں۔۔
یہ مولانا صاحب سب لوگوں کے لیے ایک مثال ہیں ۔۔

05/06/2025

نکیال سیکٹر آزاد کشمیر میں غریب کی بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والا مجرم چار دن کے بعد بھی گرفتار نہیں ہوسکا۔۔کیونکہ مجرم کو بااثرم۔مجرموں کی سپورٹ حاصل ہے ۔۔ہمیں پوری پکی خبر ملی ہے کہ مجرم آج یا کل میں قطر فرار ہونے والا ہے ۔۔۔نکیال پولیس اس کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کیونکہ نکیال پولیس پر حکومتی وزیر کے کچھ خاص لوگ دباؤ ڈال رہے ہیں ۔۔۔
ان لوگوں میں چوہدری کوثر اور چوہدری ظفر چیئر مین شامل ہیں ۔۔۔یہ لوگ ایک طرف تو گجر قبیلے کے ٹھیکیدار بنتے ہیں مگر پھر گجر قبیلے کی بچیوں کی عزت بھی بیچتے ہیں ۔۔ہمارے نمائندے کبیر راجہ نے بتایا کہ یہ لوگ حکومتی وزیر کے خاص لوگوں کو لڑکیاں بھی سپلائی کرتے ہیں ۔۔۔
یہ سب اس اسلامی ملک میں ہو رہا ہے ۔

05/06/2025

عمران خان، مرغی فروش، اور میر شکیل الرحمن

مرغی فروش تنویر احمد کے بارے میں جنگ گروپ کا جیو نیوز کہہ رہا ہے کہ اس نے عمران خان کے ساتھ 7 ملاقاتیں کی ہیں۔ مرغی فروش بھی ان "خبروں" کو endorse کرتا ہے۔

مرغی فروش ایک بار کمپنی کا نمائندہ بن کر خان سے ضرور ملا تھا۔ ڈیل کی آفر کی جو خان نے رد کردی اور کہا دوبارہ ملنے نہ آنا۔ دوبارہ ملنے گئے تو وہی کچھ ہوا جو میر شکیل الرحمن کے ساتھ کبھی ہوا تھا۔

یہ واقعہ خان صاحب نے قریبی دوستوں کو خود کےی بار بتایا تھا۔

اسی کی دہائی کے اواخر میں کراچی میں ٹیسٹ میچ تھا۔ خان صاحب سارا دن ایک اینڈ سے بولنگ کرتے رہے۔ غالبا 40 overs کروائے تھے۔ شام کو ہوٹل آئے تو مینجمنٹ کو کہا کہ میں کھانا کھا کر سو جاؤں گا کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرے۔ کوئی بھی۔

خان صاحب کھانا کھا کر سوگئے۔ لیکن تھکے ہوئے تھے۔ اس لئے کنڈی لگانا بھول گئے۔ آنکھ اچانک کھلی تو کیا دیکھتے ہیں کہ دبلا پتلا سا کوئی آدمی کمرے میں کھڑا مسکرا رہا ہے۔ دانت نکال کر کہہ رہا تھا آپ سے ملنے آیا ہوں۔

خان صاحب اپنے کمرے میں intruder کو دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئے۔ پوچھا اوے تم ہو کون اور اندر کیسے آئے؟ تمہاری جرائت کیسے ہوئی؟

شکیل الرحمن نے کندھے اچکا کر، مسکرا کر بتایا کہ وہ جنگ اخبار کے مالک میر خلیل الرحمٰن کے بیٹے میر شکیل الرحمن ہیں اور ملاقات کے لئے آئے ہیں۔

خان صاحب نے کہا دروازہ کھول۔ منہ باہر کی طرف کر۔ شکیل خوش ہوا کہ کوئی انعام ملنے والا ہے۔ خان قریب گیا، پیچھے سے اتنی زور سے لات ماری کہ شکیل الرحمن نے کمرے سے پرواز شروع کی۔ ہوٹل کی راہداریوں سے پرواز کرتے ہوئے ہوٹل کی لابی میں جا کر گرے۔ (تب سے شکیل الرحمن خان صاحب کے دشمن بن گئے۔ ہمیشہ اپنے میڈیا کو ان خلاف استعمال کیا۔)

تنویر احمد مرغی فروش کی خان صاحب سے دوسری ملاقات بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ اڈیالہ سے لات کھا کر پرواز کرتے ہوئے آبپارہ کے قریب جا کر گرے۔

05/06/2025

"بارش کا سوداگر... جس نے سان ڈیاگو کو ڈبو دیا!"

سال 1915...
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو کو شدید خشک سالی کا سامنا تھا۔ بارش کے بغیر کھیت سوکھ رہے تھے، جانور پیاس سے مر رہے تھے، اور شہر والوں کی امیدیں دم توڑ رہی تھیں۔

ایسے میں ایک عجیب و غریب شخص سامنے آیا —
نام تھا: چارلس ہیٹ فیلڈ (Charles Hatfield)
پیشے سے وہ کوئی ماہرِ موسمیات نہیں، بلکہ ایک نام نہاد دعویدار"بارش بنانے والا" تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس ایک خفیہ کیمیائی محلول ہے، جو اگر مخصوص طریقے سے فضا میں چھوڑا جائے، تو وہ بادلوں کو کھینچ لاتا ہے اور بارش برسنے لگتی ہے۔

شہر کی انتظامیہ، جو مایوسی کی انتہا پر تھی، نے آخرکار ہتھیار ڈال دیے۔
ہیٹ فیلڈ سے 10,000 ڈالر کا معاہدہ ہوا:
"اگر تم نے بارش کروائی، تو تمہیں یہ رقم دی جائے گی۔"

چارلس ہیٹ فیلڈ نے کام شروع کیا۔
اس نے شہر کے قریب ایک بلند جگہ پر ٹاور بنایا، وہاں اپنے کیمیکل کا "خفیہ آمیزہ" جلانا شروع کیا، اور پھر سب کی نظریں آسمان کی طرف تھیں…

چند دن بعد — واقعی بارش ہونے لگی!
مگر یہ رحمت کی بارش نہیں تھی…
یہ تھی قیامت کی پیش خیمہ!

سان ڈیاگو پر ایسی طوفانی بارش نازل ہوئی کہ
پل بہہ گئے، سڑکیں تباہ ہو گئیں، ڈیم ٹوٹ گئے
اور شہر کے بیشتر علاقے زیرِ آب آ گئے۔

مورخین لکھتے ہیں کہ یہ 20ویں صدی کا سب سے تباہ کن سیلاب تھا، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور لاکھوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔

اب سوال یہ اٹھا:
کیا واقعی یہ بارش چارلس ہیٹ فیلڈ نے کروائی تھی؟
یا یہ سب محض ایک اتفاق تھا؟

ہیٹ فیلڈ نے اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا اور معاوضے کا مطالبہ کیا۔
مگر شہر والوں نے انکار کر دیا:
"اگر تم نے واقعی یہ بارش کروائی ہے، تو پھر تباہی کا ذمہ دار بھی تم ہی ہو!"

عدالتوں میں مقدمہ چلا، بحثیں ہوئیں —
مگر ہیٹ فیلڈ کو نہ انعام ملا، نہ سزا۔
بس وہ تاریخ کے اوراق میں ایک پراسرار کردار بن کر رہ گیا۔

سبق؟
کبھی کبھی انسان فطرت سے کھیلنے کی کوشش کرتا ہے —
مگر قدرت جب پلٹ کر وار کرتی ہے،
تو نہ سائنس کام آتی ہے، نہ دعوے، نہ منصوبے۔

🌧️💧 عجیب و غریب تاریخ

18/05/2025

‏کیا آپ جانتے ہیں شیوانگی سنگھ کی گرفتاری کی خبر جھوٹ تھی ؟
کیا آپ جانتے ہیں بھٹنڈہ ائیر بیس تباہ کرنے کی خبر جھوٹ تھی ؟
کیا آپ جانتے ہیں دلی پر ڈرونز اڑنے کی خبر جھوٹ تھی ؟
کیا آپ جانتے ہیں سری نگر ائیرپورٹ تباہ کرنے کی خبر جھوٹ تھی؟
کیا آپ جانتے ہیں جہازوں کی لڑائی کی سبھی ویڈیوز اے آئی تھیں ؟
کیا آپ جانتے ہیں پاکستانی جہازوں کی انڈیا کی حدود میں جانے کی خبریں جھوٹ تھیں ؟
کیا آپ جانتے ہیں براہموس کی سٹوریج کو تباہ کرنے والی خبر جھوٹ تھی ؟
کیا آپ جانتے ہیں جس ادھم پور ائیرفیلڈ کو تباہ کرنے کا سب سے زیادہ شور مچایا گیا وہاں کا مودی نے تیسرے روز دورہ کردیا۔ پاکستان سے نہ کوئی شہباز ائیربیس گیا نہ کوئی بھولاری ائیربیس۔ کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ ساری جھوٹی خبریں فوج ان صحافیوں ، یوٹیوبرز اور میڈیا کو فیڈ کرتی رہی؟

18/05/2025

جے کے مائن والے کے ساتھ بھی ایسا ہونا چاہیے

جن لوگوں کے پیسے کھائے ہیں وہ اسکو پکڑ کر پیسے وصول کریں۔ ۔
Furqan Ahmad

03/05/2025

‏وہ شہزادہ نہیں ہے !

ایک اور شہزادہ پابند سلاسل ہے۔شہزادے قید و بند برداشت کرتے آئے ہیں۔ یہ دنیا کی تاریخ ہے۔ کبھی دشمنوں کے ہاتھوں تو کہیں باپ اور بھائیوں کے ہاتھوں۔ یہ ازل سے ہوتا آیا ہے۔ شہزادہ ان اذیتوں سے گزر رہا ہے۔ اہلیہ قید میں۔ بہنوں سے ملاقات پر پابندی۔ بھانجا اذیت ناک قید میں۔ شہزادوں پر جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو یہ سب ہوتا ہے۔ تاریخ میں بہت سوں نے یہ سب بھگتا ہے۔ جسم پر گولیوں کے نشان ہیں تو روح ان گھناونے ، گھٹیا اور اوچھے واروں کے زخموں سے چھلنی ہے جو ان لوگوں نے دیے جن کو اپنا سمجھنے کی غلطی کر بیٹھا۔ یہ سب ہوتا آیا ہے۔ یہ سب نیا نہیں ہے۔ یہ بھی بہت بار ہوا ہے کہ شہزادوں نے جن لوگوں پر اعتماد کیا وہ دغا باز نکلے۔ یہ سب بار بار ہوا ہے۔ بہت سوں کے ساتھ ہوا ہے۔

لیکن کچھ ایسا ہے جو تاریخ میں بہت کم ہوا ہے۔ بہت ہی کم۔ تھوڑے لوگ آئے جو ان صعوبتوں میں سے سرخرو ہو کر گزرے۔ ان اذیتوں کو بوجھ نہیں ہتھیار بنایا۔ اسکی زبان بندی ہے۔ آزاد لوگوں سے ملاقاتوں پر پابندی ہے۔ لیکن اسکی آواز پہلے سے توانا گونج رہی ہے۔ وہ خاموش رہ کر بھی بولتا ہے۔ وہ دکھائی نہیں دیتا لیکن سامنے نظر آتا ہے۔ دھوکے ، دغا بازیاں ، غیروں کی چالبازیاں اپنوں کی ستم ظریفیاں اسے روک نہیں پارہیں۔ یہ تاریخ میں بہت کم ہوا ہے۔

دماغ اس وقت حیرت زدہ ہوجاتا ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ اسکے پیغام رساں اسے جھانسے دیتے ہیں ، اسکے سامنے ادھوری تصویر رکھتے ہیں ، لیکن پھر وہ ان ادھوری معلومات سے ، تصویر میں رنگ بھرتا ہے۔ اسکے الفاظ تک مکمل باہر نہیں پہنچتے۔ لیکن اس کی کہی ہوئی باتیں اس قدر معنی خیز ہیں کہ ادھورے پیغامات بھی اسکی گفتگو کا مفہوم روک نہیں پاتے۔ جیل میں بیٹھا ہوا ، اپنے تئیں انتہائی محدود کردیا ہوا بھی وہ فہم و فراست کا پہاڑ ہے۔ یہ سب تاریخ میں کم ہوا ہے۔ بہت کم ہوا ہے۔

شاید وہ کسی وقت اکتا بھی جاتا ہوگا۔ شاید کبھی اس کا دل بھر آتا ہوگا۔ شاید کسی کمزور لمحے میں خیال گزرتا ہوگا کہ بس بہت ہوا ۔ لیکن دو سال میں اس کا ایک بھی پیغام ، اسکی ایک بھی بات ، اسکا کہا ہوا کوئی ایک بھی لفظ نہ کمزوری دکھاتا ہوا آتا ہے ، نہ ہمت ہارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، نہ پسپا ہوتا ہے۔ اسکی وجہ معلوم ہے ؟ وہ کسی نسل در نسل بادشاہت کا تسلسل نہیں ہے۔ وہ کسی اقتدار کی جنگ کا مرکزی کردار نہیں ہے۔ وہ عوام میں سے ہے اور عوام کے لیے ہے۔ وہ کمزور پڑ ہی نہیں سکتا۔ وہ پسپا ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ گھبرانے والا دماغ ہی نہیں ہے۔ کیونکہ وہ عوامی امنگوں اور امیدوں کی مجسم صورت ہے۔ جہاں امید ہوتی ہے وہاں مایوسی جنم لے ہی نہیں سکتی۔ وہ امید ہے۔ وہ محض شہزادہ نہیں ہے۔

01/05/2025

ڈی جی ISPR كو آج کی پریس کانفرنس پر میرا جواب

سب سے پہلے تو میں احمد شریف کو 130 ارب روپے کرپشن کے مجرم اسحاق ڈار کے ساتھ بیٹھنے پر خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں، پاکستان فوج کا اس قدر زوال میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا

• خیر، احمد شریف نے آج کہا کہ بھارت نے سچائی بیان کرنے والے ٹوئٹر اکاؤنٹس کو اپنے ملک میں بند کردیا ہے جسکا مطلب ہے کہ بھارت سچائی سے ڈرتا ہے
جواب: سبحان اللہ، احمد شریف صاحب، پہلی بار آپکے منہ سے سچ نکلا ہے، سوشل میڈیا چونکہ سچائی بیان کرتا ہے تو جو بھی سوشل میڈیا کو بند کرتا ہے یقیناً وہ سچائی سے ڈرتا ہے، آپکی بات بلکل درست ہے، میں تسلیم کرتی ہوں اس جملے میں آپ نے حرف باحرف حق کہا ہے، پاکستان میں سارا ٹوئٹر بند ہے، یقیناً پاکستان میں جن لوگوں نے ٹوئٹر بند کیا ہے وہ سچائی سے خوفزدہ ہیں

• احمد شریف نے کہا کہ ہم پر الزامات کے بجائے بھارت کو پہلگام واقعے کی تحقیقات کرنی چاہئیں
جواب: جی بلکل، بغیر تحقیقات کے الزامات وہی لگاتے جو بغض رکھتے ہوں اور جھوٹے ہوں، جیساکہ ایک سیاسی جماعت پر ۹ مئی کے الزامات لگانا جن کو تین سال گزر چکے مگر ابھی تک ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا

• احمد شریف نے کہا کہ جنگ کے معاملے پر قوم اور تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں
جواب: جی بیشک، پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت جوکہ واحد وفاقی جماعت ہے، جو الیکشن جیتی ہوئی ہے آپ نے اُس جماعت سے الیکشن چھین کر اُسکے لیڈر کو ڈھائی سو جعلی کیسز میں جیل میں ڈالا ہوا ہے، اور آپ فرما رہے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں ہمارے ساتھ متحد ہیں

• احمد شریف نے کہا کہ مودی دہشت گردی کے واقعات کو اپنے سیاسی مقاصد اور الیکشن جیتنے کیلئے استعمال کرتا ہے
جواب: ۹ مئی کو پاکستان فوج نے خود فالس فلیگ آپریشن کرکے اور خودساختہ دہشت گردی کرکے الزام تحریکِ انصاف پر ڈال دیا اور پھر پاکستان فوج کی سیاسی جماعت نون لیگ نے اپنی ساری الیکشن کمپین میں ۹ مئی کو استعمال کیا

احمد شریف صاحب، آپ نے بطور پاکستان فوج کا ترجمان آئی ایس پی آر کو ایک سرکس بنا ڈالا ہے، آپ کی باتیں مضحکہ خیز ہیں، آپ جب بھی منہ کھولتے ہیں جھوٹ ہی بولتے ہیں اور اپنا تھوکا ہوا ہی چاٹتے ہیں، کہیں سے نہیں لگتا ہے کہ آپ فوج کے ترجمان ہیں، آپ کی باتوں کا کوئی سر پاؤں نہیں ہوتا، آپ جو بھی بات کرتے ہیں بادی النظر میں وہ بات خود آپکے گلے پڑ جاتی ہے
ڈاکٹر حمنہ

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Lahore