Dr. syed Umar Farooq
WhatsApp for appointment. reg 187662
Dr. Syed Umar Farooq is a Homeopathic Specialist with 10+ years of experience in treating depression, anxiety, panic attacks and insomnia.Online consultation available across Pakistan.
27/07/2026
😣 کیا آپ معدے کے مسائل سے مسلسل پریشان ہیں؟
اگر آپ کو بار بار:
🔹 معدے میں جلن
🔹 H. pylori
🔹 معدے کا السر
🔹 IBS (چڑچڑا آنتوں کا مسئلہ)
🔹 ایسڈ ریفلکس (Acid Reflux) / GERD
🔹 گیس، اپھارہ، بدہضمی
🔹 کھانے کے بعد بھاری پن یا درد
جیسے مسائل کا سامنا ہے، تو انہیں نظر انداز نہ کریں۔
ڈاکٹر سید عمر فاروق (DHMS) مریض کی مکمل علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہومیوپیتھک طریقۂ علاج فراہم کرتے ہیں تاکہ مسئلے کی بنیادی وجہ کو سمجھ کر علاج کیا جا سکے۔
📱 آن لائن مشاورت دستیاب ہے۔
💬 اپنی علامات، عمر اور شہر کا نام ان باکس کریں یا واٹس ایپ پر رابطہ کریں تاکہ آپ کی رہنمائی کی جا سکے۔
صحت مند معدہ، بہتر زندگی کی بنیاد ہے۔
27/07/2026
🌿 کیا آپ الرجی یا دمہ سے پریشان ہیں؟
بار بار چھینکیں آنا، ناک بہنا، سانس پھولنا، سینے میں جکڑن یا کھانسی آپ کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنا سکتی ہے۔
ڈاکٹر سید عمر فاروق (DHMS) ہومیوپیتھک طریقۂ علاج کے ذریعے مرض کی بنیادی وجہ کو سمجھ کر علاج فراہم کرتے ہیں۔
✅ الرجی
✅ دمہ (Asthma)
✅ سانس کی تکلیف
✅ موسمی الرجی
✅ بار بار نزلہ زکام
اگر آپ یا آپ کے گھر میں کوئی ان مسائل کا شکار ہے تو آج ہی رابطہ کریں۔
📞 آن لائن مشاورت دستیاب ہے
💬 اپنی علامات ہمیں ان باکس کریں یا واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔
صحت مند سانس، پرسکون زندگی کی طرف ایک قدم۔
27/07/2026
Dr syed umar Farooq regestration no 187662
کیا آپ بھی منفی خیالات، بے چینی، دل کی دھڑکن، نیند کی کمی یا موت کے خوف جیسے مسائل سے پریشان ہیں؟
تو یہ سمجھ لیں کہ یہ صرف "ذہنی دباؤ" نہیں — بلکہ مکمل علاج طلب بیماری ہے۔
🌿 ہومیوپیتھی میں ایسے مریضوں کا بغیر کسی سائیڈ ایفیکٹ کے کامیاب علاج ممکن ہے۔
👨⚕️ ڈاکٹر سید عمر فاروق (DHMS)
Registration no187662 lahore
✅ ماہر نفسیاتی و معدہ امراض کا ہومیوپیتھک علاج
📍 جن مسائل کا کامیاب علاج کیا جا رہا ہے:
✔️ Anxiety (گھبراہٹ)
✔️ Depression (مایوسی)
✔️ Sleeplessness (نیند کی کمی) ✔️ دل کی دھڑکن تیز ہونا / ہارٹ اٹیک یا موت کا خوف
✔️ Panic Attacks (دل کی دھڑکن تیز ہونا)
✔️ OCD (وسوسے)
✔️ Weakness & Hormonal Issues
✔️ Stomach Problems (گیس، قبض، بدہضمی، IBS)
✔️ Migraine (آدھے سر کا درد
)صرف سنجیدہ مریضوں کے لیے آن لائن کنسلٹیشن دستیاب ہے
⚠️ مہربانی فرما کر صرف وہی افراد رابطہ کریں جو گھر بیٹھے باقاعدہ علاج کروانا چاہتے ہیں
consultation fees 300 only
25/07/2026
کیا قبض صرف پیٹ کا مسئلہ ہے؟ یا یہ آپ کے دماغ اور خوشی کے احساس پر بھی اثر ڈالتی ہے؟
آج کی جدید تحقیق کے مطابق ہماری آنتوں اور دماغ کے درمیان ایک مضبوط تعلق موجود ہے، جسے Gut-Brain Axis کہا جاتا ہے۔
اگر آنتیں صحت مند ہوں تو دماغ بھی بہتر انداز میں کام کرتا ہے، لیکن اگر مسلسل قبض رہے اور آنتیں درست طریقے سے صاف نہ ہوں تو اس کے کئی منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
قبض کی وجہ سے کیا ہو سکتا ہے؟
• آنتوں میں مفید بیکٹیریا کا توازن بگڑ سکتا ہے۔
• جسم میں سوزش (Inflammation) بڑھ سکتی ہے۔
• دماغ اور آنتوں کے درمیان پیغامات کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
• موڈ ریگولیٹ کرنے والے نظام پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
خراب گٹ ہیلتھ اور مسلسل قبض سیروٹونن (Serotonin) جیسے موڈ سے متعلق نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جسم کا زیادہ تر سیروٹونن آنتوں سے وابستہ نظام میں بنتا ہے، اس لیے آنتوں کی صحت ذہنی سکون سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
ممکنہ علامات:
✔ بار بار قبض
✔ گیس اور پیٹ پھولنا
✔ بے چینی اور گھبراہٹ
✔ اداسی یا موڈ خراب رہنا
✔ چڑچڑاپن
✔ تھکن اور جسمانی کمزوری
✔ توجہ اور یادداشت میں کمی
اگر قبض ایک مستقل مسئلہ بن جائے تو صرف وقتی جلاب لینے کے بجائے اس کی اصل وجہ معلوم کرنا اور مناسب علاج کروانا ضروری ہے۔
صحت مند آنتیں، صحت مند دماغ اور بہتر زندگی کی بنیاد ہیں۔
Dr. Syed Umar Farooq (DHMS)
Farooq Homeopathic Clinic
کیا H. pylori کا ہومیوپیتھک علاج ممکن ہے؟
اگر آپ H. pylori کی وجہ سے معدے کی جلن، تیزابیت، بدہضمی، پیٹ میں درد، گیس، متلی یا بھاری پن کا شکار ہیں تو مایوس نہ ہوں۔
ہومیوپیتھی میں ہر مریض کا علاج اس کی انفرادی علامات، مزاج اور مکمل کیس ہسٹری کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ مقصد صرف علامات کو دبانا نہیں بلکہ جسم کی قدرتی شفایابی کی صلاحیت کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا ہوتا ہے۔
بہت سے مریض علاج کے آغاز کے چند ہفتوں میں بدہضمی، گیس، جلن اور پیٹ کے درد میں واضح بہتری محسوس کرتے ہیں۔ تاہم ہر مریض کی حالت مختلف ہوتی ہے، اس لیے مکمل بہتری کا وقت بیماری کی شدت، پرانی کیفیت، غذا اور علاج کی پابندی پر منحصر ہوتا ہے۔
ہومیوپیتھک ادویات مستند اور تربیت یافتہ معالج کی نگرانی میں استعمال کی جائیں تو عموماً محفوظ سمجھی جاتی ہیں، لیکن کسی بھی علاج کی طرح انہیں خود سے استعمال کرنے کے بجائے مکمل کیس لینے کے بعد ہی تجویز کیا جانا چاہیے۔
اگر آپ کو H. pylori کے ساتھ ساتھ انزائٹی، ڈپریشن، نیند کی کمی یا ذہنی دباؤ بھی ہے تو علاج کے دوران ان پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جا سکتا ہے، کیونکہ بعض مریضوں میں ذہنی دباؤ معدے کی علامات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
اگر آپ کافی عرصے سے H. pylori کی تکلیف برداشت کر رہے ہیں اور مناسب رہنمائی چاہتے ہیں تو اپنی مکمل علامات کے ساتھ رابطہ کریں تاکہ آپ کا انفرادی کیس سمجھ کر مناسب مشورہ دیا جا سکے
03091403537
Dr Syed Umar Farooq homeopathic
کیا آپ H. pylori کی وجہ سے پریشان ہیں؟
اگر آپ کو بار بار معدے میں جلن، درد، گیس، اپھارہ، کھٹی ڈکاریں، متلی یا کھانے کے بعد بھاری پن محسوس ہوتا ہے تو ممکن ہے اس کی ایک وجہ H. pylori انفیکشن ہو۔
اکثر لوگ وقتی آرام کے لیے بار بار دوائیاں لیتے رہتے ہیں، لیکن اگر بیماری کی اصل وجہ پر توجہ نہ دی جائے تو مسئلہ دوبارہ لوٹ سکتا ہے۔
🌿 ہومیوپیتھی میں ہر مریض کا علاج اس کی مکمل علامات، جسمانی کیفیت اور مزاج کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے، اس لیے ہر مریض کی دوا مختلف ہو سکتی ہے۔
اپنی صحت کے لیے چند اہم احتیاطیں:
✔ مصالحے دار اور تلی ہوئی غذا سے پرہیز کریں۔
✔ چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس کم استعمال کریں۔
✔ کھانا وقت پر کھائیں، زیادہ دیر بھوکے نہ رہیں۔
✔ صاف پانی مناسب مقدار میں پئیں۔
✔ ذہنی دباؤ کم کریں اور بھرپور نیند لینے کی کوشش کریں۔
اگر آپ کافی عرصے سے معدے کے مسائل کا شکار ہیں اور بار بار علاج کے باوجود آرام نہیں آ رہا، تو اپنی مکمل تشخیص ضرور کروائیں۔
📩 اپنی علامات کمنٹ کریں یا ان باکس میں رابطہ کریں۔
کبھی کبھی H. pylori صرف معدے کی بیماری نہیں لگتی، بلکہ زندگی کے بوجھ کی ایک کہانی بھی محسوس ہوتی ہے۔
جب انسان لمبے عرصے تک ذہنی دباؤ، غم، بے چینی یا جذباتی صدمے کے ساتھ جیتا ہے تو اس کا اثر صرف ذہن تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورا جسم اس کا اثر محسوس کرتا ہے۔ مسلسل اسٹریس ہارمونز، مدافعتی نظام، معدے کی حرکت اور تیزابیت میں تبدیلیاں لا سکتے ہیں، جس سے معدے کی تکالیف بڑھ سکتی ہیں۔
یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ H. pylori ایک بیکٹیریا ہے۔ یہ بیماری اس بیکٹیریا کی موجودگی سے ہوتی ہے، نہ کہ صرف ڈپریشن یا جذباتی تکلیف سے۔
البتہ بہت سے لوگوں میں H. pylori پہلے سے موجود ہوتا ہے اور کوئی واضح علامات نہیں دیتا۔ جب زندگی میں شدید ذہنی دباؤ، غم یا مسلسل بے چینی آتی ہے تو جسم کا توازن متاثر ہو سکتا ہے، جس سے یہی بیکٹیریا زیادہ فعال ہو جاتا ہے یا اس کی علامات نمایاں ہونے لگتی ہیں۔
اسی لیے H. pylori کے علاج میں صرف دوا ہی کافی نہیں ہوتی۔ ذہنی سکون، اچھی نیند، متوازن غذا، اسٹریس مینجمنٹ اور جذباتی شفا بھی صحت یابی کے سفر کا اہم حصہ ہیں۔
جسم اور ذہن ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ جب دونوں کی دیکھ بھال کی جائے تو شفا کا سفر زیادہ مکمل اور دیرپا ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر زرقا حمید بیان کرتی ہیں:
میرے پاس ایک مریضہ لائی گئی جو زندگی کے آخری مرحلے میں تھی۔ میرے تجربے کے مطابق اس کے پاس صرف 12 سے 16 گھنٹے باقی تھے، مگر وہ ناقابلِ برداشت تکلیف میں مبتلا تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ علاج سے افاقہ ممکن نہیں، پھر بھی اس کی اذیت دیکھ کر میں نے اسے ہسپتال میں داخل کر لیا تاکہ شاید کچھ سکون مل جائے۔ مگر تمام کوششوں کے باوجود اس کی حالت بگڑتی گئی۔
اپنے پیشے میں میں نے بہت سے لوگوں کو موت کی دعا مانگتے دیکھا ہے۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ ان میں سے اکثر کی زندگی میں کوئی نہ کوئی بڑا ظلم موجود تھا۔ یہ مریضہ بھی انہی میں سے ایک تھی۔ اسے پھیپھڑوں کا کینسر تھا، سانس صرف سینے میں اٹکی ہوئی تھی، مگر جان نہیں نکل رہی تھی۔ 12 سے 16 گھنٹوں کی بجائے تین دن گزر گئے اور اس کی تکلیف اتنی بڑھ گئی کہ دوسرے مریضوں نے احتجاج کیا، لہٰذا مجھے اسے الگ کمرے میں منتقل کرنا پڑا، جس کا خرچ میں نے خود برداشت کیا۔
اس کے ورثاء اس سے بے زار تھے۔ جب میں نے کہا کہ اب مزید علاج ممکن نہیں، تو انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ کوئی انجیکشن لگا کر اس کی جان ختم کر دیں تاکہ وہ اس ذمہ داری سے آزاد ہو جائیں۔ میں نے سختی سے انکار کر دیا، کیونکہ ڈاکٹر کا فرض جان بچانا ہے، لینا نہیں۔
میں نے مریضہ سے پوچھا: "کیا زندگی میں کوئی ایسا گناہ کیا ہے جس پر کبھی توبہ نہ کی ہو؟"
کافی سوچنے کے بعد اس نے بتایا کہ اس کے بھائی نے پسند کی شادی کی تھی۔ وہ اور اس کی والدہ اپنی بھابھی کو پسند نہیں کرتی تھیں، اس لیے انہوں نے اس پر بدکرداری کی جھوٹی تہمت لگائی، ایک جھوٹا گواہ بھی تیار کیا، اور یوں اس کی طلاق ہو گئی۔ بعد میں بھائی نے دوبارہ شادی بھی نہ کی اور خاندان سے تعلق ختم کر لیا۔
میں نے کہا: "یہ معمولی گناہ نہیں، بلکہ بہت بڑا ظلم ہے۔ اس کی معافی یا تو وہ خاتون دے سکتی ہے یا اللہ تعالیٰ۔ اگر ممکن ہو تو اسے تلاش کرو، ورنہ سچے دل سے توبہ کرو، صدقہ کرو اور اللہ سے معافی مانگو۔"
اس نے اپنے زیورات منگوا کر مجھے دیے کہ کسی مستحق پر خرچ کر دوں۔ میری والدہ نے وہ زیورات فروخت کر کے چند یتیم بچیوں کی شادی کروا دی اور باقی رقم بھی انہیں دے دی۔
چند دن بعد جب میں نے مریضہ کو بتایا کہ صدقہ اپنی جگہ پہنچ گیا ہے تو اس کے چہرے پر اطمینان آ گیا۔ اگلی صبح اس نے مجھے بتایا کہ خواب میں اس کی سابقہ بھابھی ملی، اسے گلے لگایا، بوسہ دیا اور کہا: "تمہیں سفر مبارک ہو۔"
کچھ دیر بعد جب میں واپس اس کے کمرے میں آئی تو وہ آخری سانسوں پر تھی۔ میں نے اس کے پاس کلمۂ طیبہ اور کلمۂ شہادت پڑھنا شروع کیا۔ اس کے ہونٹ بھی ہلے، اور میرے سامنے اس کی روح پرواز کر گئی۔
یہ واقعہ آج بھی مجھے یاد ہے۔ اس نے مجھے سکھایا کہ صدقہ اللہ کی رحمت کو متوجہ کرتا ہے، آزمائشیں ہلکی کر دیتا ہے اور بندے کے لیے مغفرت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ جب بھی کسی آزمائش میں مبتلا ہوں، صدقہ ضرور کریں اور اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ اور معافی مانگیں۔
#منقول
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Lahore
54890