PsychConnect by Khizra

PsychConnect by Khizra

Share

clinical psychologist possessing experience tending to children with unique development needs

08/06/2026

💚 ذہنی صحت ہر بچے کا حق ہے 💚
خصوصی ضروریات رکھنے والے بچے بھی خوشی، غم، پریشانی، خوف اور دیگر جذبات اسی طرح محسوس کرتے ہیں جیسے دوسرے بچے۔ ان کی ذہنی صحت کا خیال رکھنا ان کی جسمانی، تعلیمی اور نشوونمائی ضروریات جتنا ہی اہم ہے۔
ایک بچہ تب بہتر طور پر ترقی کرتا ہے جب وہ: ✨ خود کو محفوظ محسوس کرے ✨ قبولیت اور محبت پائے ✨ اپنے جذبات کا اظہار کر سکے ✨ سمجھا اور سنا جائے ✨ مثبت اور معاون ماحول میں پرورش پائے
والدین، اساتذہ، تھراپسٹس اور معاشرے کے دیگر افراد مل کر ایسا ماحول تشکیل دے سکتے ہیں جہاں ہر بچہ خود کو قابلِ قدر، بااعتماد اور بااختیار محسوس کرے۔
آئیں مل کر خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کی ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی پھیلائیں اور ایک زیادہ ہمدرد، معاون اور جامع معاشرہ تشکیل دیں۔

01/06/2026

میں آپ کی توجہ ایک نہایت اہم اور حساس مسئلے کی طرف دلانا چاہتی ہوں۔ جب آپ اپنے بچے کے لیے کسی تھراپسٹ یا پروفیشنل کا انتخاب کرتے ہیں تو صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ بچہ اس کے ساتھ خوش ہے، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ بچہ مختلف لوگوں کے ساتھ سیکھنے اور کام کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے یا نہیں۔

اگر آپ محسوس کریں کہ آپ کا بچہ صرف ایک ہی تھراپسٹ کے ساتھ کام کرتا ہے، اس کے علاوہ کسی اور کے ساتھ تعاون نہیں کرتا، یا تھراپسٹ کی غیر موجودگی میں سیشن مؤثر نہیں رہتے، تو یہ ایک ریڈ فلیگ (Red Flag) ہو سکتا ہے۔ ایک مؤثر تھراپسٹ بچے کو اپنی ذات کا محتاج نہیں بناتا بلکہ اسے مختلف لوگوں، ماحول اور حالات میں کامیابی سے کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔

اسی حوالے سے ایک اہم بات والدین کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں:
ایک پروفیشنل کا مقصد بچے کو اپنی ذات سے وابستہ کرنا نہیں بلکہ اسے مختلف لوگوں، ماحول اور حالات میں سیکھنے کے قابل بنانا ہوتا ہے۔
بچے کو جان بوجھ کر اپنے ساتھ اس حد تک اٹیچ کر لینا کہ وہ صرف ایک ہی تھراپسٹ یا ٹیچر کے ساتھ کام کرے، نہ صرف غیر پیشہ ورانہ رویہ ہے بلکہ بچے کی ترقی کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
✅ کامیاب تھراپی وہ ہے جس میں بچہ سیکھی ہوئی مہارتیں مختلف لوگوں کے ساتھ بھی استعمال کر سکے۔
✅ بچے کی خودمختاری اور اعتماد کو بڑھانا اصل مقصد ہونا چاہیے۔
✅ پروفیشنلز کو چاہیے کہ وہ بچے کی وابستگی اپنے ساتھ نہیں بلکہ اس کی سیکھنے اور ترقی کے عمل کے ساتھ پیدا کریں۔
اگر بچہ صرف ایک شخص کے ساتھ کام کر سکتا ہے تو یہ بچے کی کامیابی نہیں، بلکہ اس کی انحصاریت (dependency) کی علامت ہو سکتی ہے۔
🌸 ایک اچھا پروفیشنل بچے کو اپنے ساتھ نہیں باندھتا، بلکہ اسے دنیا کے لیے تیار کرتا ہے۔

15/05/2026

Every child deserves understanding, patience, and the opportunity to shine. 🌈
As a Clinical Psychologist & ABA Therapist, I am committed to helping children with autism grow with confidence, communication, and independence through compassionate care and evidence-based support. 💙
Together, we can create a more inclusive and supportive world for every child.
— Khizra Salman
Clinical Psychologist / ABA Therapist
Kamcare Rehab Center
ALLAH Yar Khan Hospital, Awasia Society, Lahore ✨
https://www.facebook.com/share/1HfYWsSUhj/
tiktok.com/.warehouse

13/05/2026

✏️ بچوں کی لکھائی بہتر بنانے میں پینسل گریپس کا اہم کردار ✏️
ہر بچہ اپنی سیکھنے کی رفتار اور انداز میں منفرد ہوتا ہے۔ بعض بچوں کو پینسل صحیح طریقے سے پکڑنے میں مشکل پیش آتی ہے جس کی وجہ سے لکھائی متاثر ہوتی ہے، ہاتھ جلد تھک جاتے ہیں اور بچے لکھنے سے گھبرانے لگتے ہیں۔
ایسے میں پینسل گریپس ایک نہایت مفید اور آسان معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہ بچوں کی انگلیوں کو درست پوزیشن میں رکھنے، ہاتھ کے عضلات مضبوط بنانے اور خوبصورت و واضح لکھائی میں مدد دیتے ہیں۔ 🌸
خاص طور پر وہ بچے جنہیں: ✔️ Fine Motor Skills میں مشکل ہو
✔️ ہاتھ جلد تھک جاتے ہوں
✔️ Autism, ADHD یا Learning Difficulties ہوں
✔️ لکھائی میں کمزوری ہو
ان کے لیے مناسب پینسل گریپس بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ 💡
درست سپورٹ اور مثبت رہنمائی بچوں کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے اور سیکھنے کے عمل کو خوشگوار بناتی ہے۔ 🌈
ہر چھوٹی پیش رفت، ایک بڑی کامیابی کی طرف قدم ہے۔ ❤️
👩‍⚕️ خضرا حفیظ
ABA Therapist
اللہ یار خان ہسپتال، آواسیا سوسائٹی لاہور۔

09/10/2025

میری پھپھو اپنے جوانی میں بہت خوبصورت تھیں ۔ شاید انہیں خوبصورتی پسند بھی تھی مگر نا تو انہیں شوہر ویسے ملا نا اولاد ۔
انہیں ایک ہی بیٹی اللہ نے عطا کی ۔ جو بھولی تھی ۔ شاید ڈاؤن سنڈروم تھی ۔ وہ سب بچوں سے پیار کرتی تھی ۔ شاید مل کر کھیلتی بھی تھی۔
جب اس نے سکول جانا شروع کیا تو سکول میں بچیاں اسکی شکل کا مذاق اڑاتی تھیں ۔
وہ گھر آ کر پریشان ہوتی ۔ ماں نے سکول چھڑوا دیا ۔۔
جب گھر کے ارد گرد کچھ بچے بھی شاید تنگ کرتے ہوں۔ماں نے اسے ایک چھوٹے سے کمرے تک محدود کر دیا ۔
وہ جب بھی باہر ہوتی ۔ ارد گرد جیسے ہی کہیں سے بچوں کی آواز آتی ۔۔ماں اسے کہتی جاؤ اندر جا کر بیٹھ جاؤ۔
شاید ماں کے لئے بھی اسکی صورت باعث شرمندگی تھی ۔ اسلئے کوئی عورت بھی آتی تو وہ بیٹی کو اندر بھیج دیتی ۔
وہ بہت ذہین بچی تھی ۔ وہ سکول نہیں گئی مگر پھر بھی وہ اردو پڑھنا سیکھ گئی ۔
اس کمرے میں اسکی دنیا رسالے اور ناولز تھے جو وہ بیٹھ کر پڑھے رکھتی تھی ۔
پھر آہستہ آہستہ وہ بچوں سے بہت چڑنے لگی ۔۔ ذرا کہیں بچے کی آواز آتی۔ وہ شور ڈال دیتی ۔
اسکی ماں بچوں کو بھگانے میں لگی رہتی ۔
پھر آہستہ آہستہ اس نے شور ڈالنے کے ساتھ زور زور سے رونا ، چیخنا چلانا بھی شروع کردیا ۔
وہ کانوں کو زور سے بند کر لیتی ۔
اندر بیٹھے رسالے پڑھ پڑھ کر نظر کمزور پڑنے لگی ۔
آہستہ آہستہ وہم بھی بڑھتے چلے گئے ۔
پھر اسے ٹی وی لے کر دے دیا گیا ۔
وہ فل اونچی آواز میں ٹی وی چلا کر بیٹھتی۔ ساتھ کانوں پہ زور سے ہاتھ بھی رکھ کر بیٹھتی تا کہ بچوں کی آواز نا آئے ۔
پھر ساتھ پنکھا بھی مسلسل سردیوں میں بھی چلتا رہتا کہ بچوں کی آواز نا آئے ۔
اہنا فیس تھپڑ مار مار کر خراب کر دیا ۔ آنکھوں کی بینائی گنوا بیٹھی۔
کانوں نے سننا چھوڑ دیا ۔
مگر جو وہم دل میں بیٹھ چکا تھا وہ اسے چین نا لینے دیتا ۔
رات دو دو بجے وہ شور ڈال دیتی کہ بچوں کی آواز ہے ۔
پوری پوری رات وہ جاگ کر گزار دیتی ۔
آج وہ 40 سال کی ہے ۔ اسکی ماں ہمیشہ کے لئے جا چکی ہے ۔
مگر اسکی زندگی اب بھی ایک بےسکون ندی کی طرح بہہ
رہی ہے

💔 بس ایک گزارش ہے…
اپنے اسپیشل بچوں کو دنیا سے دور مت کریں۔
انہیں اعتماد دیں، احساسِ کمتری نہیں۔
انہیں یہ مت جتائیں کہ وہ الگ ہیں۔
کیونکہ وہ بچی یہی سمجھتی ہے

کہ وہ بدصورت ہے… کیونکہ اسے بار بار یہی احساس دلایا گیا تھا۔

05/10/2025

🚨 Critical Public Advisory Regarding Stem Cell Therapy in Pakistan 🚨

The Pakistan Society of Hematology (PSH) and the Pakistan Blood and Marrow Transplant (PBMT) Group have recently promulgated an official consensus, asserting that stem cell therapies proffered by numerous private clinics within Pakistan are neither sanctioned nor licit.

According to the aforementioned statement, these establishments are administering treatments lacking FDA approval and bereft of regulatory endorsement within Pakistan. Such interventions are devoid of empirical substantiation concerning their safety and efficacy, thereby engendering significant adverse effects, encompassing bacterial infections, hepatitis, HIV, and the potential induction of malignancy.

⚠️ Salient Points:

Stem cell therapy remains unapproved in Pakistan and by the FDA.
Any such treatment must be conducted within the purview of a regulated clinical trial, duly authorized by the National Bioethics Committee (NBC).
Clinics currently extending these treatments are perpetrating unethical and illicit medical practices.
This is deemed a corrupt enterprise, prompting calls for stringent enforcement by the relevant authorities.
Should you encounter any physician, clinic, or social media platform advocating stem cell therapy as a panacea for autism, cerebral palsy, spinal cord injuries, or any chronic ailment, exercise prudence and seek verification. Many such assertions are spurious, perilous, and capitalize on vulnerable families.

💬 Always consult authoritative sources such as the PSH, PBMT, or the National Bioethics Committee of Pakistan prior to endorsing or reposing trust in such interventions.

Let us collectively oppose disinformation and unethical medical conduct.

🛑 Refrain from allowing experimental procedures on your kin under the guise of "stem cell" therapy.

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Lahore