Saif
Career Guidance Team aims to help you find the correct career path.
We plan to provide you with valuable information and facilitate individuals in their relevant career fields.
🌷 زلیــخا تو بہــت ہیں ، تم یوســف بنو 🌷
والد صاحب نے فرمایا :
بیٹا .....!! کبھی کسی کی عزت سے مت کهیلنا۔
کہیں ایسا نہ ہو ۔۔۔۔۔۔
کسی کی بیٹی تمہارے احساسات کے لیے رف کاپی ہو جائے۔
ایک ﺭﻭﺯ میں نے اپنے والد کی ان تمام نصیحتوں کا
جواب طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس طرح دیا کہ :
ان باتوں کا دور گزر گیا ہے۔ بابا جان ۔۔۔۔۔ !!
آج کے دور کی لڑکیاں خود چل کر آتی ہیں۔
اور وہ تو خود ایسا چاہتی ہیں ______
میرے والد نے میری آنکهوں میں آنکهیں ڈال کر کہا :
بیٹا ﺯﻟـﯿـﺨـﺎ تو بہت بہت ﺯﯾﺎﺩﻩ ہیں۔
مگر ۔۔۔۔۔
آپ ” ﯾـﻮﺳـﻒ “ بن جاؤ ۔۔۔۔۔ !!
جیسے ہی میں نے یہ جملہ سنا۔
میرے رونگھٹے کهڑے ہوگئے۔
قینچی کی طرح چلتی زبان بند ہو گئی۔
میرے پاس اب کوئی بھی جواب نہیں تها...
جو بابا جان کے سامنے پیش کر سکتا۔
ﻭﺍقعی وہ ﺣﻖ اور سچ کہہ رہے تهے۔
ہمیشہ ﺯﻟـﯿـﺨـﺎ ﺯﯾﺎﺩہ ہی رہی ہیں اور ہیں ؛
مجهے چاہیئے کہ میں " ﯾـﻮﺳـﻒ " بنوں ۔۔۔۔۔
تیرے یـــــوســـــف بننے سے ، زلیخـــــا بهی
ہوش و حواس میں آ جائے گی _________
*مطالعہ سے کیا ملتا ہے؟*
۔۔۔مطالعہ انسان کے لئے اخلاق کا معیار ہے۔ *(ڈاکٹر اقبال)*
۔۔۔ بری صحبت سے تنہائی اچھی ہے، لیکن تنہائی سے پریشان ہو جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے اچھی کتابوں کے مطالعے کی ضرورت ہے۔ *(امام غزالی)*
۔۔۔ تیل کے لئے پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے میں رات کو چوکیداروں کی قندیلوں کے پاس کھڑے ہوکر کتاب کا مطالعہ کرتا تھا۔ *(حکیم ابو نصر فارابی)*
۔۔۔ورزش سے جسم مضبوط ہوتا ہے اور مطالعے کی دماغ کے لئے وہی اہمیت ہے جو ورزش کی جسم کے لئے۔ *(ایڈیسن)*
۔۔۔ مطالعہ سے انسان کی تکمیل ہوتی ہے۔ *(بیکن)*
۔۔۔مطالعے کی عادت اختیار کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے گویا دنیا جہاں کے دکھوں سے بچنے کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ تیار کرلی ہے۔
*(سمر سٹ ماہم)*
۔۔۔ تین دن بغیر مطالعہ گزار لینے کے بعد چوتھے روز گفتگو میں پھیکا پن آجاتا ہے۔
*(چینی ضرب المثل)*
۔۔۔انسان قدرتی مناظر اور کتابوں کے مطالعے سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ *(سسرو)*
۔۔۔مطالعے کی بدولت ایک طرف تمہاری معلومات میں اضافہ ہوگا اوردوسری طرف تمہاری شخصیت دلچسپ بن جائے گی۔ *(وائٹی)*
۔۔۔دماغ کے لئے مطالعے کی وہی اہمیت ہے جو کنول کے لئے پانی کی۔ *(تلسی داس)*
۔۔۔مطالعہ کسی سے اختلاف کرنے یا فصیح زبان میں گفتگو کرنے کی غرض سے نہ کرو بلکہ ’’تولنے‘‘ اور ’’سوچنے‘‘ کی خاطر کرو۔ *(بیکن)*
۔۔۔جس طرح کئی قسم کے بیج کی کاشت کرنے سے زمین زرخیز ہو جاتی ہے، اسی طرح مختلف عنوانات پر کتابوں اور رسالوں وغیرہ کا مطالعہ انسان کے دماغ کو منور بنادیتا ہے۔ *(ملٹن)*
۔۔۔ جو نوجوان ایمانداری سے کچھ وقت مطالعے میں صرف کرتا ہے، تو اسے اپنے نتائج کے بارے میں بالکل متفکر نہ ہونا چاہئے۔ *( ولیم جیمز)*
۔۔۔ مطالعے سے خلوت میں خوشی، تقریر میں زیبائش، ترتیب وتدوین میں استعداد اور تجربے میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ *(بیکن)
۔۔۔وہ شخص نہایت ہی خوش نصیب ہے جس کو مطالعہ کا شوق ہے، لیکن جو فحش کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے اس سے وہ شخص اچھا ہے جس کو مطالعہ کا شوق نہیں. *(میکالے)*
۔۔۔مطالعہ ذہن کو جلا دینے کے لئے اوراس کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ *(شیلے)*
*۔۔۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ اچھی اور موزوں کتابوں کے مطالعہ نے انسان کے مستقبل کو سنوار دیا*.
زندگی میں اگر ترقی کرنی ہے تو ما ر نے والا نہیں بننا .
تکبر کرنے والا نہیں بننا بد تمیز نہیں بننا .
تم نے مار کھانے والا بننا ہے .زندگی کو کہو مجھے مارو لیکن تم نے کھڑے رہنا ہے .ایک وقت آ ئے گا کہ یہ وقت گزر جاۓ گا
اور سب سے بڑا بہادر وہ ہے جو سامنا کرتا ہے اور سامنا کر کے کامیابی حاصل کرتا ہے .
کیونکہ اس سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں ہے .اس کے اندر برداشت کرنے کی
صلا حیت ہوتی ہے .زندگی تمہیں پٹخا مارتی ہے .تمہیں تمھارے گھٹنوں پر بٹھاتی ہے .اب یہ تم پر منحصر ہے کہ تم نے اپنے گھٹنوں پر رہنا ہے یا اپنی ٹانگوں پر دوبارہ کھڑے ہونا ہے
اور زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا ہے
اور کہنا ہے پھر آزما مجھے .
منقول۔
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ-
ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺩﻭ‘
ﺟﻮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﻭ‘
ﺟﻮ ﭼﮭﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ‘
ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ‘
ﺟﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎؤ‘
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ‘
ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎؤ ﮔﮯ‘
ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ‘
ﮨﺠﻮﻡ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﺮﻭ‘
ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻨﺎؤ‘
ﻣﻔﺘﯽ ﮨﻮ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺟﺎﺭﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ‘
ﺟﺴﮯ ﺧﺪﺍ ﮈﮬﯿﻞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ-
ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﭻ ﻓﺴﺎﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ‘ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﭻ ﺑﻮﻟﻮ‘ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﭗ ﺭﮨﻮ-
ﻟﻮﮒ ﻟﺬﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﺬﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺑﺮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ-
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎؤ‘ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ-
ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﮨﮯ‘
ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻏﻢ‘ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﺟﺎؤ ﮔﮯ- ﭼﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎؤ ﮔﮯ‘
ﺳﺎﺩﮬﻮؤﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ-
ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺟﮓ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ‘ ﻭﮦ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ-
خوشی کے ہارمونس*
*اتنی سستی خوشی، جلدی کریں*
[4ہارمونس جو انسان میں خوشی کا تعین کرتے ہیں۔]
ایک دن صبح میں پارک میں اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا تھا اس نے باتوں باتوں میں کہا کہ وہ اپنی زندگی سے خوش نہیں ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ تو بڑا نا شکرا پن ہے کہونکہ ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ہماری زندگی میں سب کچھ بہتر تھا۔ میں نے پوچھا۔
"تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟"
"میں نہیں جانتی. ہرکوئی جانتا ہے کہ ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں، لیکن میں خوش نہیں ہوں."
پھر میں نے اپنے آپ سے؟ پوچھا کہ،
"کیا میں خوش ہوں؟"
میرےاندرون سے آواز آئی "نہیں۔۔۔!!"
اب، اس واقعہ سے میں بےچین ہوگیا۔
میں نے خوشی کی اصل وجہ کو سمجھنے کے لئے مطالعہ شروع کردیا،
لیکن مجھے کچھ خاص نہیں ملا.
میں نے اپنی تلاش تیز کی کئی مضامین پڑھ لیا، بہت سے لائف کوچ سے بات کی لیکن کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا.
آخر میں میرے ایک ڈاکٹر دوست نے مجھے خوشی کے ہارمونس کے بارے میں بتایا ان ہارمونس کے اخراج سے ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔
میں نے ان پر عملدرآمد کیا اور اب میں خوش رہنے لگا ہوں.
اس نے کہا، چار ہارمون ہیں جن کے خارج ہونے سے انسان خوشی محسوس کرتا ہے:
1. *Endorphins*، اینڈورفنس
2. *Dopamine* ڈوپامائین
3. *Serotonin*، سیروٹونائین
and اور
4. *Oxytocin* آکسی ٹوسین
*ہمارے اندر خوشی کا احساس ان چار ہارمونس کی وجہ سے ہوتا ہےاس لئےضروری ہے کہ ہم ان چار ہارمونس کے بارے میں جانیں*۔
▪پہلا ہارمون اینڈورفنس ہے :
جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہمارا جسم درد سے نپٹنے کیلئے اینڈورفنس خارج کرتا ہے تاکہ ہم ورزش سے لطف اٹھا سکیں۔ اسکےعلاوہ جب ہم کامیڈی دیکھتے ہیں، لطیفے پڑھتے ہیں اس وقت بھی یہ ہارمون ہمارے جسم میں پیدا ہوتا۔ اسلئے خوشی پیدا کرنے والے اس ہارمون کی خوراک کیلئے ہمیں روزانہ کم از کم 20منٹ ایکسرسائز کرنا اور کچھ لطیفے اور کامیڈی کے ویڈیوز وغیرہ دیکھنا چاہیئے۔
▪دوسرا ہارمون ڈوپامائین ہے:
زندگی کے سفر میں، ہم بہت سے چھوٹے اور بڑے کاموں کو پورا کرتے ہیں، جب ہم کسی کام کو پورا کرتے تو ہمارا جسم ڈوپامائین کو خارج کرتا ہے. اور اس سے ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے۔
جب آفس یا گھر میں ہمارے کام کے لئے تعریف کی جاتی تو ہم اپنے آپ کو کامیاب اور اچھا محسوس کرتے ہیں، یہ احساس ڈوپامائین کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عورتیں عموماً کھر کا کام کرکے خوش کیوں نہیں ہوتی اسکی وجہ یہ ہیکہ گھریلو کاموں کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔
جب بھی ہم نیا موبائیل، گاڑی، نیا گھر، نئے کپڑے یا کچھ بھی خریدتے ہیں تب بھی ہمارے جسم سے ڈوپامائین خارج ہوتا ہے۔اور ہم خوش ہوجاتے ہیں.
اب، آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ شاپنگ کرنے کے بعد ہم خوشی کیوں محسوس کرتے ہیں۔
▪تیسرا ہارمون سیروٹونائین:
جب ہم دوسروں کے فائدہ کیلئے کوئی کام کرتے ہیں تو ہمارے اندر سے سیروٹونائین خارج ہوتا ہے اور خوشی کا احساس جگاتا ہے۔
انٹرنیٹ پر مفید معلومات فراہم کرنا، اچھی معلومات لوگوں تک پہنچانا، بلاگز، Quora اور فیس بک پر پر عوام کے سوالات کا جواب دینا اسلام یا اپنے اچھے خیالات کی طرف دعوت دینا ان سبھی سے سیروٹونائین پیدا ہوتا ہے اور ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔
▪چوتھا ہارمون آکسی ٹوسین ہے:
جب ہم دوسرے انسانوں کے قریب جاتے ہیں یہ ہمارے جسم سے خارج ہوتا ہے۔
جب ہم اپنے دوستوں کو ہاتھ ملاتے ہیں یا گلے ملتے ہیں تو جسم اکسیٹوسین کو خارج کرتا ہے۔
واقعی یہ فلم 'منا بھائی' کی جادو کی چھپی کی طرح کام کرتا ہے۔ جب ہم کسی کو اپنی باہوں میں بھر لیتے ہیں تو آکسی ٹوسین خارج ہوتا ہے اور خوشگواری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
📌 خوش رہنا بہت آسان ہے:
ہمیں اینڈروفنس حاصل کرنے کے لئے ہر روز ورزش کرنا ہے۔
ہمیں چھوٹے چھوٹے ٹاسک پورا کرکے ڈوپا مائین حاصل کرنا ہے۔
دوسروں کی مدد کرکے سیروٹونائین حاصل کرنا ہے۔
اور
آخر میں اپنے بچوں کو گلے لگاکر، فیملی کے ساتھ وقت گزار کر اور دوستوں سے مل کر آکسی ٹوسین حاصل کرنا ہے۔
اس طرح ہم خوش رہیں گے۔ اور جب ہم خوش رہنے لگیں گے تو ہمیں اپنے مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے میں آسانی ہوگی۔
*اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ بچہ اگر خراب موڈ میں ہو تو اسے فوری گلے لگانا کیوں ضروری ہے؟*
بچوں کیلئے:
1.موبائیل یا ویڈیو گیم کے علاوہ گراونڈ پر جسمانی کھیل کھیلنے کی ہمت افزائی کریں۔ (اینڈروفنس)
2. چھوٹی بڑی کامیابیوں پر بچے کی تعریف کریں، اپریشیئٹ کریں۔(ڈوپامائین)
3. بچے کو اپنی چیزیں شیئر کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی عادت ڈالیں۔اسکے لئے آپ خود دوسروں کی مدد کرکے بتائیں۔(سیروٹونائین)
4. اپنے بچے کو باہوں میں بھر کر پیار کریں۔(آکسی ٹوسین)
خوش رہیں۔ خوشیاں بانٹتے رہیں۔ 😊😊💐💐💐
موسی علیہ سلام کی سرگوشی
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا اے پروردگار ! تیرا چہرا کدھر ہے؟
شمال یا جنوب کی جانب؟
تاکہ میں اس کی طرف منہ کرکے تیری عبادت کر سکوں۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی:
اے موسیٰ! آپ آ گ جلائیں، پھر اس کے اردگرد چکر لگا کر دیکھیں کہ آگ کا رخ کس جانب ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے آ گ روشن کی اور اس کے اردگرد چکر لگایا، دیکھا تو آ گ کی روشنی ہر چار سو یکساں ہے۔
چنانچہ دربارِ الٰہی میں عرض کیا: پروردگا ! میں نے آگ کا رخ ہر جانب یکساں ہی دیکھا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ میری مثال بھی ویسی ہی ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا ؛
اے پرودگار! تو سوتا ہے یا نہیں؟
اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی:
اے موسیٰ! پانی سے بھرا ہوا ایک پیالہ اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھ لو، پھر میرے سامنے کھڑے رہو اور نیند کی آغوش میں مت جاؤ۔
موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالٰی نے ان پر ہلکی سی اونگھ ڈالی، پیالہ ان کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا اور پانی بہہ گیا۔
موسیٰ علیہ السلام کی چیخ نکل گئی اور وہ گھبرا گئے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسی ! میں آنکھ کی ایک جھپک بھی سو جاؤں تو یہ آسمان زمین پر دھڑام سے گر پڑے گا جیسے تیرا پیالہ زمین پر گر پڑا۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف اِشارہ ہے۔۔
۔"یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانون اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائے تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا، وہ حلیم و غفور ہے۔(فاطر۔41)۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے پروردگار ! تو نے مخلوق کی تخلیق کیوں کی جبکہ ان سے تجھے کوئی ضرورت نہیں پڑتی؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:میں نے ان کی تخلیق اس لیے فرمائی ہے تاکہ یہ مجھے پہچانیں، مجھ سے اپنی مرادیں مانگیں اور میں ان کی مرادیں پوری کروں،اور میری نافرمانی کے بعد مغفرت و بخشش کی درخواست لے کر میری خدمت میں حاضر ہوں اور میں ان کے لیے مغفرت و بخشش کا پروانہ جاری کروں۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا میرے رب ! کیا تو نے کوئی ایسی چیز بھی پیدا کی ہے جو تیری ہی جستجو میں رہتی ہے؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں مومن بندے کا دل جو میرے لیے خالص ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: یہ کیسے اے پروردگار؟
اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے فرمایا:جب مومن بندہ مجھے نہیں بھولتا تو اس کا دل میری یاد سےلبریز رہتا ہے اور میری عظمت اس پر محیط ہوتی ہے اور مجھے جو یاد کرتا ہے میں اس کا ساتھی بن جاتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔
(کتاب سنہرے اوراق صفحہ نمبر269)
بچوں کی اچھی یا بری عادت کا ذمہ دار کون؟
بچے وہ نہیں کرتے جو والدین کہتے ہیںبلکہ بچے وہ کرتے ہیں جو والدین کرتے ہیں ۔ عادات وہ روٹین اورمعمول ہیں جو انسان مسلسل سرانجام دیتاہے۔کسی بھی انسان میں 65%عادات بطورِ وراثت کے ملتی ہیں ۔کسی بھی بچے کا مہذب گفتگو ،اچھے آداب ، صحیح ،غلط میں تمیز نافرمانی اورضد ، والدین کی عادات اور معاملاتِ زندگی کا نتیجہ ہے ۔
بقولِ واصف علی واصفؒ:
’’ ذہن پختہ ہوجائیں تو ان میں اصلاح کا امکان کم ہوجاتاہے۔‘‘
اسی لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں کوصحیح عادات کے چنائو میں رہنمائی فراہم کریں اور ان کی اصلاح اور تربیت کے لیے احتساب ، بقدرِ ضرورت تنبیہ ،اچھے کاموں پر حوصلہ افزائی، روشن مستقبل کی دعا نیز اپنے قول وفعل میں موافقت برقرار رکھیں۔تاکہ بچہ صحیح عمر میں مناسب عادات کا چنائو کرکے ایک خوش آئند مستقبل کو ممکن بناسکے۔
کیونکہ والدین کی جانب سے اولاد کے لیے بہترین وراثت ، اچھی عادات کی وراثت ہے اور بہترین عادات ہی روشن مستقبل کی ضامن ہیں ۔
ایک لومڑی نے نہر کے دوسری کنارے کھڑے اونٹ سے پوچھا: نہر کا پانی کہاں تک پہنچتا ہے؟
اونٹ نے جواب دیا: گھٹنے تک.
جیسے ہی لومڑی نے پانی میں چھلانگ لگائی ڈوبنے لگی، کبھی غوطے کھاتی کبھی سر باہر نکالتی، بڑی مشکل سے نہر میں ایک چٹان کے ساتھ چپک گئی آہستہ آہستہ چٹان کے اوپر آگئی اور سانس بحال ہوتے ہی غصے سے اونٹ سے کہا: تم نے کیوں کہا کہ پانی گھٹنے تک آتا ہے؟ اونٹ نے جواب دیا : ہاں پانی میرے گھٹنے تک آتا ہے۔
جب آپ کسی سے مشورہ کرتے ہیں تو عموما وہ آپ کو اپنے تجربات کی روشنی میں جواب دیتا ہے، ممکن ہے جوباتیں اس کے لیئے فائدہ مند ہوں وہ آپ کے لیئے نقصان دہ ثابت ہوں، اس لیئے کسی اور کے تجربات قطعی حل کے طور پر نہ اپنائیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کو لے ڈوبیں..
Click here to claim your Sponsored Listing.
10/02/2024