Fun in life
have fun �, life is toooooo short.
کتنی بے بس ہے یہ ماں ایک ماں بن کر سوچو تو پتہ چلتا ہے کیا اپ کی اولاد کو کوئی اس طرح سے مار دے تو کیسا محسوس ہوتا پاکستان کی حکومت کو اب سوچنا چاہیے کہ بہت دیر ہو گئی ہے ہمارے بچے ہمارے اپنے ملک میں محفوظ نہیں اور یہ بچے کسی کے بچے بھی ہو سکتے ہیں خدارا انکھیں کھولیں اور اپنے حق کے لیے اواز اٹھائیں اللہ ہم سب کی اور ہمارے بچوں کی حفاظت فرمائے امین #میم نواز
17/08/2026
محبت جو خاموشی میں مل گئی
بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں کھڑکی کے شیشے پر دستک دے رہی تھیں۔ عائشہ خاموشی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ آج بھی اسے وہ دن یاد تھا جب پہلی بار زید نے اسے دیکھا تھا۔
وہ دونوں ایک ہی دفتر میں کام کرتے تھے، مگر ان کے درمیان کبھی زیادہ بات نہیں ہوئی تھی۔ زید ہمیشہ دور سے اس کا خیال رکھتا، مگر کبھی اپنے دل کی بات زبان پر نہ لاتا۔
ایک دن عائشہ دفتر سے نکل رہی تھی کہ اچانک تیز بارش شروع ہوگئی۔ اس کے پاس چھتری نہیں تھی۔ زید خاموشی سے اپنی چھتری لے کر اس کے پاس آیا اور بولا:
"اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ کو راستے تک چھوڑ دوں؟"
عائشہ نے مسکرا کر کہا، "اور آپ؟"
زید نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، "میں بارش میں بھیگ جاؤں گا… مگر آپ کو بھیگنے نہیں دوں گا۔"
اس ایک جملے نے عائشہ کے دل میں کچھ بدل دیا۔
دن گزرتے گئے۔ محبت کا اظہار کبھی لفظوں میں نہیں ہوا، مگر چھوٹی چھوٹی باتوں میں دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے لگے۔ زید کی خاموش فکر اور عائشہ کی بےاختیار مسکراہٹ ان کی محبت کی زبان بن گئی۔
پھر ایک دن زید نے عائشہ سے کہا:
"میں تمہیں اپنی زندگی میں صرف محبت کے لیے نہیں، عزت کے ساتھ چاہتا ہوں۔ اگر تم راضی ہو تو میں تمہارا ہاتھ ہمیشہ کے لیے تھامنا چاہتا ہوں۔"
عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
وہ مسکرائی اور بولی:
"میں نے تمہاری محبت اس دن محسوس کر لی تھی، جب تم نے بارش میں اپنی چھتری میرے سر پر رکھی تھی۔"
زید نے پوچھا، "اور آج؟"
عائشہ نے آہستہ سے جواب دیا:
"آج مجھے یقین ہے کہ سچی محبت وہ نہیں جو ہر وقت لفظوں میں سنائی دے… سچی محبت وہ ہے جو خاموشی میں بھی محسوس ہو۔"
باہر بارش اب بھی ہو رہی تھی۔
مگر اس رات دونوں کے دلوں میں ایک نئی روشنی اتر چکی تھی—ایسی محبت کی روشنی، جسے نہ وقت مٹا سکتا تھا، نہ فاصلے۔ ❤️
12/08/2026
Teri ye ada janiye
11/08/2026
Lips
Click here to claim your Sponsored Listing.