Dr waqar bhuta
Infertility Specialist
Providing safe and effective holistic treatment
Committed to patient care and wellbeing
10/07/2026
بہت سی خواتین نچلے حصے میں خارش، جلن، درد یا بدبو دار رطوبت جیسے مسائل کا سامنا کرتی ہیں، لیکن شرم اور جھجک کی وجہ سے اکثر اس بارے میں بات نہیں کر پاتیں اور خاموشی سے تکلیف برداشت کرتی رہتی ہیں۔
یہ مسئلہ صرف جسمانی بے آرامی تک محدود نہیں رہتا بلکہ روزمرہ زندگی، ذہنی سکون اور ازدواجی تعلقات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ بعض اوقات میاں بیوی کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ کسی کی غلطی نہیں بلکہ ایک طبی مسئلہ ہوتا ہے۔
ایسی علامات کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے انفیکشن، صفائی کے مسائل، ہارمونز کی تبدیلی یا دیگر طبی وجوہات۔ اس لیے خود سے علاج کرنے کے بجائے درست تشخیص بہت ضروری ہے۔
خواتین کو چاہیے کہ اپنی صحت کے مسائل کو چھپانے کے بجائے بروقت ڈاکٹر سے مشورہ کریں، کیونکہ بروقت رہنمائی سے اس مسئلے کا مناسب حل ممکن ہوتا ہے اور زندگی دوبارہ پرسکون ہو سکتی ہے۔
— ڈاکٹر وقار بھٹہ
جمعہ مبارک 🤲
آج کا دن دعا، رحمت اور امید کا دن ہے۔ اگر آپ اولاد کی نعمت کے منتظر ہیں تو اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ دعا کریں، کیونکہ وہی ناممکن کو ممکن بنانے والا ہے۔
ہومیو ڈاکٹر وقار بھٹہ
انفرٹیلٹی اسپیشلسٹ
09/07/2026
💔 "آج کلینک میں ایک شادی شدہ خاتون کی آنکھوں میں آنسو تھے..."
وہ خاموش بیٹھی رہی، پھر آہستہ سے بولی:
"ڈاکٹر صاحب... میری شادی کو کافی عرصہ ہو گیا ہے، لیکن آج تک میں اپنے شوہر کے ساتھ نارمل ازدواجی تعلق قائم نہیں کر سکی۔ ہر بار شدید درد، خوف اور جسم میں ایسی جکڑن محسوس ہوتی ہے کہ سب کچھ ناممکن لگتا ہے۔ کیا یہ میری غلطی ہے؟"
میں نے اسے صرف ایک بات کہی...
"نہیں بہن، یہ آپ کی غلطی نہیں، یہ ایک قابلِ علاج طبی مسئلہ ہو سکتا ہے جسے ویجینسمس کہا جاتا ہے۔"
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین برسوں تک خاموشی سے یہ تکلیف برداشت کرتی رہتی ہیں۔ کچھ اپنی قسمت سمجھ لیتی ہیں، کچھ خود کو قصوروار سمجھتی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بروقت تشخیص، درست رہنمائی، مناسب ورزشوں، کونسلنگ اور علاج سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
میں نے اس بہن کو بھی یہی سمجھایا کہ شرمندگی نہیں، علاج کی ضرورت ہے۔ جب بیماری کا نام معلوم ہو جائے تو اس کا راستہ بھی مل جاتا ہے۔
بعض اوقات ایک درست معلومات، ایک تسلی دینے والا جملہ اور ایک صحیح ڈاکٹر، انسان کی برسوں کی پریشانی ختم کر دیتا ہے۔
اگر آپ یا آپ کی کوئی عزیز اس طرح کی تکلیف سے گزر رہی ہیں تو خاموش نہ رہیں۔ بروقت مشورہ اور علاج ایک خوشحال ازدواجی زندگی کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے۔
— ڈاکٹر وقار بھٹہ
07/07/2026
یہ سوال مجھے روزانہ کئی مرد کرتے ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ اسے برسوں تک چھپائے رکھتے ہیں۔
بہت سے مردوں میں جنسی خواہش موجود ہوتی ہے، بیوی بھی تیار ہوتی ہے، مگر عین وقت پر عضو میں مناسب سختی نہیں آتی، یا سختی چند لمحوں میں ختم ہو جاتی ہے، یا دخول سے پہلے ہی انزال ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد مرد بھی پریشان ہوتا ہے اور ازدواجی زندگی بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ Erectile Dysfunction صرف ایک بیماری نہیں بلکہ کئی بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ شوگر، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، کولیسٹرول، ہارمونز کی کمی، سگریٹ نوشی، نشہ، خون کی روانی کے مسائل، اعصابی بیماریاں اور بعض اوقات معدے کی خرابی بھی اس کی وجہ بن سکتی ہے۔
صرف جسمانی بیماریاں ہی نہیں، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی، میاں بیوی کے درمیان غلط فہمیاں، کاروباری پریشانیاں اور مسلسل سٹریس بھی مردانہ صحت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر نظر آنے والے نسخوں، اشتہارات یا فوری اثر دکھانے والی دواؤں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، جبکہ اصل بیماری جوں کی توں رہتی ہے۔ یاد رکھیں، ہر مریض کی وجہ مختلف ہوتی ہے، اس لیے ہر مریض کا علاج بھی مختلف ہوتا ہے۔
اگر یہ مسئلہ بار بار پیش آ رہا ہے تو شرمندہ ہونے کے بجائے مستند ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔ جب اصل وجہ سامنے آئے گی، تب ہی درست علاج ممکن ہوگا۔
خاموش رہنے سے مسئلہ بڑھتا ہے، بروقت رہنمائی لینے سے حل نکلتا ہے۔
— ڈاکٹر وقار بھٹہ
07/07/2026
آج ایک نوجوان نے آن لائن کنسلٹیشن میں ایک دلچسپ سوال کیا کہ "ڈاکٹر صاحب، کیا جم کرنے سے سیکس پاور بہتر ہو جاتی ہے اور مرد زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے؟"
میں نے اسے بتایا کہ باقاعدہ ورزش اور جم صرف جسم بنانے کا نام نہیں، بلکہ مجموعی صحت کو بہتر بنانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ ورزش سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، جسمانی فٹنس میں اضافہ ہوتا ہے، ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور خود اعتمادی بہتر ہوتی ہے، یہ تمام چیزیں صحت مند ازدواجی زندگی میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔
لیکن یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ صرف جم کرنے سے ہر مسئلہ خود بخود حل نہیں ہو جاتا۔ مردانہ صحت کا تعلق صرف جسمانی طاقت سے نہیں بلکہ متوازن غذا، مناسب نیند، ذہنی سکون، ہارمونز اور مجموعی صحت سے بھی ہوتا ہے۔
کچھ لوگ صرف جسم بنانے پر توجہ دیتے ہیں لیکن نیند، خوراک اور ذہنی صحت کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جبکہ بہترین نتائج کے لیے زندگی کے تمام پہلوؤں میں توازن ضروری ہے۔
میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ نوجوانوں تک درست معلومات پہنچیں تاکہ وہ غلط فہمیوں کے بجائے سائنسی اور صحت مند طریقہ اپنائیں۔
— ڈاکٹر وقار بھٹہ
اگر سپرم رپورٹ میں معمولی کمی ہو تو گھبرانے کی ضرورت نہیں اکثر طرز زندگی بہتر کرنے اور علاج سے واضح بہتری آ سکتی ہے
ہومیو ڈاکٹر وقار بھٹہ
انفرٹیلٹی اسپیشلسٹ
سپرم سیمپل ہمیشہ صاف اور جراثیم سے پاک ڈبے میں جمع کریں کیونکہ معمولی آلودگی بھی رپورٹ کے نتائج کو متاثر کر سکتی ہے
ہومیو ڈاکٹر وقار بھٹہ
انفرٹیلٹی اسپیشلسٹ
06/07/2026
میری ایک پوسٹ کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا گیا کہ "ڈاکٹر صاحب، سپرم ٹیسٹ کروانے سے پہلے کتنے دن بیوی سے تعلقات نہیں بنانے چاہئیں؟"
یہ ایک بہت اہم سوال ہے کیونکہ اگر سپرم سیمپل صحیح طریقے سے نہ دیا جائے تو رپورٹ کے نتائج بھی متاثر ہو سکتے ہیں، اور بعض اوقات مریض بلاوجہ پریشان ہو جاتا ہے۔
عام طور پر سپرم ٹیسٹ سے پہلے 2 سے 7 دن تک انزال سے پرہیز کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے، جبکہ زیادہ تر ماہرین 3 سے 5 دن کا وقفہ بہترین سمجھتے ہیں۔
اگر آپ ایک یا دو دن کے اندر سیمپل دے دیں تو سپرم کی تعداد کم آ سکتی ہے، اور اگر بہت زیادہ دن یعنی ایک ہفتے سے زیادہ پرہیز کریں تو سپرم کی حرکت (Motility) متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں رپورٹ اصل صورتحال کو صحیح طریقے سے ظاہر نہیں کرتی۔
سپرم سیمپل ہمیشہ صاف، خشک اور جراثیم سے پاک ڈبے میں دینا چاہیے۔ کوشش کریں کہ سیمپل کا پورا حصہ ڈبے میں جمع ہو، کیونکہ ابتدائی حصہ سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اگر سیمپل گھر سے دے رہے ہیں تو اسے جلد از جلد، بہتر ہے ایک گھنٹے کے اندر، لیبارٹری پہنچا دیں اور زیادہ گرمی یا زیادہ ٹھنڈ سے بچائیں۔
یاد رکھیں، ایک ہی رپورٹ پر حتمی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ اگر رپورٹ میں کوئی غیر معمولی تبدیلی ہو تو اکثر ڈاکٹر چند ہفتوں بعد دوبارہ ٹیسٹ بھی کرواتے ہیں تاکہ درست تشخیص ہو سکے۔
درست رپورٹ ہی درست علاج کی پہلی سیڑھی ہے، اس لیے سپرم ٹیسٹ سے پہلے دی گئی ہدایات پر ضرور عمل کریں۔
— ڈاکٹر وقار بھٹہ
06/07/2026
یہ ایک ایسا سوال ہے جو بہت سی خواتین پریشانی کے ساتھ پوچھتی ہیں۔ جیسے ہی الٹراساؤنڈ رپورٹ میں "رحم میں رسولی" لکھی نظر آتی ہے، اکثر خواتین گھبرا جاتی ہیں اور یہی سوچتی ہیں کہ شاید اب آپریشن ہی واحد حل ہے۔ حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔
رحم کی رسولیاں ایک عام مسئلہ ہیں، خاص طور پر 30 سے 50 سال کی عمر کی خواتین میں۔ ان کی اصل وجہ ابھی تک مکمل طور پر معلوم نہیں، لیکن تحقیق کے مطابق ایسٹروجن اور پروجیسٹرون ہارمونز، خاندانی رجحان، موٹاپا، عمر، دیر سے شادی یا حمل میں تاخیر، اور بعض اوقات طرزِ زندگی بھی ان کے بننے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
ہر رسولی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کچھ رسولیاں اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ برسوں تک کوئی علامت پیدا نہیں کرتیں، جبکہ بعض خواتین میں زیادہ حیض آنا، خون کی کمی، پیٹ یا کمر میں درد، پیٹ کا بھاری محسوس ہونا، بار بار پیشاب آنا، یا حمل ٹھہرنے میں دشواری جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
یہ بات یاد رکھیں کہ ہر رسولی کا علاج یا آپریشن ضروری نہیں ہوتا۔ بہت سی خواتین صرف باقاعدہ معائنے کے ساتھ نارمل زندگی گزارتی ہیں۔ علاج کا فیصلہ رسولی کے سائز، تعداد، جگہ، علامات، عمر اور آئندہ حمل کی خواہش کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
اس لیے اگر رپورٹ میں رحم کی رسولی آئے تو فوراً خوفزدہ نہ ہوں، بلکہ کسی مستند ماہر ڈاکٹر سے مکمل معائنہ کروائیں اور صحیح رہنمائی حاصل کریں۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج ہی بہترین فیصلہ ہوتا ہے۔
05/07/2026
آج کی ایک کنسلٹیشن میں ایک نوجوان نے نہایت سنجیدگی سے مجھ سے یہی سوال کیا۔ وہ بار بار یہی پوچھ رہا تھا کہ "ڈاکٹر صاحب، صحیح وقفہ کیا ہے؟ روزانہ، ایک دن چھوڑ کر یا ہفتے میں چند بار؟" ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کسی مقررہ اصول یا فارمولے کی تلاش میں ہو۔
میں نے مسکرا کر اس سے کہا، ازدواجی زندگی کسی کیلنڈر یا ٹائم ٹیبل سے نہیں چلتی، بلکہ محبت، باہمی رضامندی، جسمانی صحت اور ذہنی سکون سے چلتی ہے۔
میں نے اسے سمجھایا کہ دنیا میں کوئی ایسا طبی اصول موجود نہیں جو یہ کہے کہ ہر میاں بیوی کے لیے ایک ہی وقفہ درست ہے۔ اگر دونوں کی خواہش موجود ہو، دونوں جسمانی طور پر صحت مند ہوں اور تعلق کے بعد اطمینان محسوس کریں تو یہی نارمل ہے۔ کسی جوڑے کے لیے روزانہ تعلق بھی معمول ہو سکتا ہے، جبکہ کسی کے لیے چند دن کا وقفہ بھی بالکل فطری بات ہے۔
میں نے مزید کہا کہ سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ لوگ اپنی ازدواجی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرنے لگتے ہیں۔ ہر انسان کی عمر، صحت، ہارمونز، مصروفیات، ذہنی کیفیت اور جنسی خواہش مختلف ہوتی ہے، اس لیے کسی ایک کا معیار سب پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
آخر میں میں نے اس سے یہی کہا کہ اپنی خوشی کا معیار دوسروں سے نہ پوچھیں۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے سے مطمئن ہیں، ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور خوشگوار تعلق قائم ہے، تو یہی بہترین وقفہ ہے۔ اگر خواہش میں غیر معمولی کمی، درد یا کوئی اور مسئلہ ہو تو پھر اس کی وجہ معلوم کرکے علاج کروانا چاہیے، نہ کہ دوسروں کے تجربات کی بنیاد پر خود کو پریشان کرنا چاہیے۔
— ڈاکٹر وقار بھٹہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Lahore
TAIR