Dr. Fateh Muhammad Kathia
Dr. Fateh Muhammad Kathia MBBS FCPS (General Surgery) is a Professional Surgeon
15/05/2026
04/03/2026
دل کے مریضوں کے لیے خوشخبری
اب اپ کو منڈی گجرات جانےکی ضرورت نہیں
اب اپ کے اپنے شہر پھالیہ میں منڈی کے مشہور کارڈیالوجسٹ روزانہ صبح 10بجے سے دوپہر 3بجے تک شاہزیب ھسپتال پھالیہ میں مریضوں کا چیک اپ کرتے ہیں
07/02/2026
میڈیکل نیگلیجنس: حقیقت، افسانہ اور قانون
پاکستان میں “میڈیکل نیگلیجنس” اب صرف ایک قانونی اصطلاح نہیں رہی، بلکہ یہ غصے، مایوسی، خوف اور ناکام نظام کا مشترکہ اظہار بن چکی ہے۔ کسی مریض کی حالت بگڑنے، علاج میں تاخیر یا موت کے بعد سب سے پہلا سوال اکثر یہ نہیں ہوتا کہ کیا ہوا؟ بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کس کو قصوروار ٹھہرایا جائے؟
اور بدقسمتی سے، اس سوال کا سب سے آسان جواب اکثر “ڈاکٹر” بن جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر طبی نقصان، ہر پیچیدگی، اور ہر موت میڈیکل نیگلیجنس نہیں ہوتی۔
میڈیکل نیگلیجنس ایک واضح اور محدود تصور ہے۔ یہ تب ثابت ہوتی ہے جب کوئی ڈاکٹر یا ادارہ متفقہ طبی اصولوں (Standard of Care) سے ہٹ کر عمل کرے، اور اس لاپرواہی کا براہِ راست اور ثابت شدہ نقصان مریض کو پہنچے۔
صرف یہ کہنا کہ “علاج فائدہ نہیں ہوا” یا “مریض بچ نہیں سکا” نیگلیجنس نہیں کہلاتا، کیونکہ طب کوئی ریاضی کا فارمولہ نہیں—یہ امکانات، خطرات اور غیر یقینی نتائج پر مبنی علم ہے۔
افسانہ یہ ہے کہ ہر ناکام علاج، ہر آپریشن کے بعد کی پیچیدگی، یا ہر ایمرجنسی میں ہونے والی موت لازماً کسی کی غفلت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کینسر، دل کے شدید امراض، سیپسس، حادثات، دماغی فالج اور انفیکشنز میں بہترین سہولیات اور تجربہ کار ماہرین کے باوجود بھی نتائج ہمیشہ انسانی کنٹرول میں نہیں ہوتے۔ دنیا کے جدید ترین ہسپتالوں میں بھی اموات ہوتی ہیں—فرق یہ ہے کہ وہاں جذبات کے بجائے شواہد بولتے ہیں۔
پاکستان میں مسئلہ اس وقت سنگین ہو جاتا ہے جب میڈیکل نیگلیجنس اور نظامی ناکامی (System Failure) کو ایک ہی ترازو میں تول دیا جاتا ہے۔
جب ہسپتال میں ضروری ادویات دستیاب نہ ہوں،
جب ایک نرس پر پچاس مریضوں کی ذمہ داری ہو،
جب آئی سی یو بیڈ نہ ملے،
جب ایمبولینس تاخیر سے پہنچے،
جب مریض علاج کے آخری مرحلے میں لایا جائے—
تو ان تمام فیصلوں اور ناکامیوں کا بوجھ اکثر اس ڈاکٹر پر ڈال دیا جاتا ہے جو فرنٹ لائن پر کھڑا ہوتا ہے، حالانکہ ان فیصلوں میں اس کا اختیار ہی نہیں ہوتا۔
قانونی پہلو بھی اسی ابہام کا شکار ہے۔ پاکستان میں میڈیکل نیگلیجنس کے لیے واضح، تیز اور قابلِ اعتماد قانونی راستے کمزور ہیں۔ ہیلتھ کیئر کمیشن، پی ایم ڈی سی، اور عدالتیں موجود تو ہیں، مگر مریض کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کہاں جائے، کیس کیسے ثابت کرے، ماہر رائے کیسے حاصل کرے، اور برسوں کے عدالتی عمل کا سامنا کیسے کرے۔
دوسری طرف، ڈاکٹر اکثر بغیر کسی عدالتی فیصلے کے ہجوم، سوشل میڈیا ٹرائل، کردار کشی اور تشدد کا سامنا کرتے ہیں—جو خود ایک سنگین انسانی اور قانونی مسئلہ ہے۔
ترقی یافتہ ممالک نے اس مسئلے کو الزام سے نہیں، نظام سے حل کیا ہے۔
برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں آزاد میڈیکل ریویو بورڈز، شفاف انکوائری میکانزم، اور بعض جگہ No-Fault Compensation Systems موجود ہیں۔ اگر غلطی ثابت ہو تو مریض کو بروقت معاوضہ ملتا ہے، اور اگر نہیں تو ڈاکٹر کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ مقصد انصاف ہوتا ہے، انتقام نہیں۔
پاکستان کو بھی اسی سمت جانا ہوگا۔ میڈیکل نیگلیجنس کو جذباتی نعروں، ہجوم کے فیصلوں اور میڈیا ٹرائل سے نکال کر قانونی، سائنسی اور ادارہ جاتی دائرے میں لانا ہوگا۔ مریض کو یہ حق ضرور ہونا چاہیے کہ وہ شکایت کرے، سوال کرے اور انصاف مانگے—لیکن ڈاکٹر کو بھی یہ حق ہونا چاہیے کہ اسے بغیر ثبوت مجرم نہ ٹھہرایا جائے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ
“ڈاکٹر قصوروار ہے یا نہیں؟”
اصل سوال یہ ہے کہ:
کیا ہمارے پاس سچ جاننے، غلطی ثابت کرنے، اور انصاف فراہم کرنے کا منصفانہ نظام موجود ہے؟
جب تک ہم نیگلیجنس اور نظامی ناکامی میں فرق نہیں کریں گے، نہ مریض محفوظ ہوگا، نہ ڈاکٹر، اور نہ ہی صحت کا نظام۔
یہ بحث کسی ایک فریق کے دفاع میں نہیں—یہ انصاف، اعتماد اور ایک ذمہ دار ریاست کے حق میں ہے۔
کیونکہ صحت کا نظام الزام سے نہیں، قانون، شفافیت اور اعتماد سے مضبوط ہوتا ہے۔
سلسلہ: صحت، ریاست اور معاشرہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Mandi Bahauddin
50400
Opening Hours
| Monday | 10:00 - 14:00 |
| Tuesday | 10:00 - 14:00 |
| Wednesday | 10:00 - 14:00 |
| Thursday | 10:00 - 14:00 |
| Friday | 10:00 - 14:00 |
| Saturday | 10:00 - 14:00 |