Zia Health Info
We Provide a lot of health related information on daily basis. So being with us
03/05/2026
Use of Less salt Myth or Reality......
14/11/2025
*مونگ پھلی کھلائیں، بچوں کو الرجی سے محفوظ رکھیں*
آج کے بچے انتہائی حساس پیدا ہورہے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ماں کے حاملہ ہونے کے روز اول سے ہی ماں کی خوراک کے ذریعے اکثر جو غذا بچے تک پہنچنا شروع ہوتی ہے، اسے بالکل بھی صحت مند قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مرغن غذائیں، فرائیڈ فوڈز، پراسیسڈ کھانے، کاربوہائیڈریٹڈ ڈرنکس وغیرہ وغیرہ۔
اس کے بعد جب بچہ اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو آج کے زیادہ تر بچوں کا انحصار ماں کے دودھ کے بجائے ’فارمولا مِلک‘ پر ہوتا ہے۔ ان ہی اور ان جیسی دیگر وجوہات کے باعث آج کے بچےجلد ہی اور ہر آئے دن مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں، جن میں ایک مسئلہ ’الرجی‘ کابھی ہے۔
بچوں میں الرجی کے مسئلے پر میڈیکل سائنس میں کئی برسوں سےتحقیق کا عمل جاری ہے۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں ’مونگ پھلی‘ کو اس (الرجی) کا حل قرار دیا گیا ہے۔ جی ہاں، ہم میں سے اکثر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ مونگ پھلی خود الرجی کا باعث بنتی ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ ڈاکٹرز خود الرجی سے متاثرہ افراد کو مونگ پھلی سے دور رہنے کا مشورہ دیتے تھے۔
اگر 10سال پیچھے چلے جائیں تو ایسی ریسرچ موجود ہیں، جن میں الرجی سے نمٹنے کے لیے مونگ پھلی کا استعمال سختی سے منع کیا جاتا تھا۔ تاہم اب نئی ہونے والی متعدد تحقیق میں اِس نظریے کو یکسر مسترد کردیا گیا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں مونگ پھلی اور بچوں میں الرجی کے تعلق پر جب نئی تحقیق کی گئی تو نتائج دیکھ کر ماہرین خود بھی حیران رہ گئے۔
تحقیق کے مطابق، بچپن میں مونگ پھلی سے تیار کردہ مصنوعات کے استعمال سے الرجی کا شکار ہونے کے خطرے میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں برطانیہ میں ڈاکٹرز بڑے پیمانے پر تجربات کررہے ہیں اور ان تجربات کے نتائج کافی حوصلہ افزاء بتائے جاتے ہیں۔
حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ، ابتدائی عمر میں مونگ پھلی سے تیار کردہ مصنوعات کے استعمال سے الرجی کا شکار ہونے کے خطرے میں کمی کی توثیق ایک سے زائد تحقیق نے کی ہے۔
اگر ہم چند سال پیچھے چلیں اور سن 2015کی بات کریں تو اس سال، اسی سلسلے میں ایک سروے کیا گیا تھا اور اس سروے میں پہلی بار یہ بات کی گئی تھی کہ بچوں کو چھوٹی عمر میں مونگ پھلیاں کھلانے سے اس سے ہونے والی الرجی سے 80فی صد تک بچنے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔
اب نئی تحقیق میں مزید پیش رفت سامنے آئی ہے اور محققین کہتے ہیں کہ الرجی سے ’مستقل‘ بچاؤ ممکن ہوسکتا ہے۔
انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی نئی تحقیق میں 550ایسے بچوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں مونگ پھلی سے الرجی پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ تحقیق نے بھی سنہ 2015 میں ہونے والی تحقیق پر اپنے نتائج قائم کیے ہیں۔
2015 میں سامنے آنے والی تحقیق، کنگز کالج لندن کی جانب سے کی گئی تھی، جس میں پہلی بار سائنسدانوں کی توجہ اس جانب دلائی گئی تھی کہ بچوں کو مونگ پھلی کے اسنیکس یا دیگر تیار کردہ اشیاء محدود مقدار میں دینے سے ان میں الرجی پیدا ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق، اگر ایک بچہ اپنی پیدائش سے 11 ماہ کی عمر تک مونگ پھلی سے تیارکردہ اسنیکس کھاتا ہے اور پانچ سال کی عمر میں وہ یہ غذا ایک سال کے لیے چھوڑ دیتا ہے، تو اس میں الرجی پیدا نہیں ہوگی۔
اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر گیڈیون تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’(تحقیق) سے واضح ہوتا ہے کہ بیشتر شیرخوار بچے محفوظ رہتے ہیں اور یہ تحفظ مستقل ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ ’غذا سے خوف کے ماحول‘ میں رہتے ہیں۔ یہ بات سچ بھی ہے۔
ہم میں سے اکثر والدین اپنے بچوں کو مختلف غذا دینے کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا رہتے ہیں۔ نتیجتاً، بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو اس وقت تک ان کی طبیعت ایسی ہوجاتی ہے کہ وہ کچھ چیزوں کو زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاتے۔
پروفیسر گیڈیون اس بات کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں،’میرے خیال میں غذا سے الرجی کا خوف خودساختہ طور پیدا کردہ ہے، چونکہ غذا کو خوراک سے نکال دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بچہ برداشت پیدا نہیں کر سکتا‘۔ پرفیسر نے اس پیچیدہ مسئلے کو انتہائی آسان الفاظ میں سمجھا دیا ہے، جسے شاید مزید بیاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
محققین نے سنہ 2015 کی تحقیق میں شامل بچوں کو ہی استعمال کیا۔ اس میں سے نصف کو مونگ پھلی کے اسنیکس دیے گئے اور دیگر کی غذا صرف ماں کا دودھ تھی۔ محققین کا کہنا ہے کہ ’تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چھ سال کی عمر میں، 12 مہینے کے تعطل کے بعد بھی عددی اعتبار سے الرجی میں اضافہ نہیں ہوا ہے، ان بچوں میں جنھوں نے (2015کے) تجربے میں مونگ پھلیاں کھائی تھیں‘۔
تحقیق میں ان بچوں کو شامل کیا گیا تھا جنھیں مونگ پھلی کی الرجی کا خطرہ تھا اور ان کی جلد پر خارش جیسی ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہوچکی تھیں۔تحقیق میں شریک پروفیسر لیک سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کیا ایسا 12 ماہ سے زائد عرصے تک بھی رہ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج الرجی کی دیگر اقسام پر بھی لاگو کیے جا سکتے ہیں لیکن انہوں نے والدین کو متنبہ کیا کہ وہ اپنے گھر میں یہ تجربہ نہ کریں۔ ماہرین کو توقع ہے کہ آنے والے عرصے میں اس طرح کی تحقیق سے نتائج زیادہ واضح ہوں گے، جن کی روشنی میں بچوں میں الرجی کے خلاف قابلِ عمل اقدامات لینا ممکن ہوگا۔
14/11/2025
جگر کا نقصان خاموشی سے شروع ہوتا ہے چربی جمع ہونے سے، اور اگر علاج نہ کیا جائے تو جان لیوا بن جاتا ہے۔
یہ ہیں جگر کے نقصان کے مراحل 👇
جگر کا نقصان ایک دن میں نہیں ہوتا، یہ ایک خاموش اور بتدریج بڑھنے والی بیماری ہے جو اکثر اُس وقت تک ظاہر نہیں ہوتی جب تک کہ صورتحال خطرناک نہ ہو جائے۔
🔸 پہلا مرحلہ:
چربی والا جگر (Fatty Liver) — جب غلط خوراک، الکحل یا میٹابولک مسائل جیسے موٹاپا یا ذیابطیس کے باعث جگر کے خلیوں میں چربی جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
🔸 دوسرا مرحلہ:
سوزش (Inflammation) — اگر وجوہات برقرار رہیں تو جگر میں سوزش پیدا ہوتی ہے، جو Fibrosis یعنی نشانات بننے کا باعث بنتی ہے۔ اس دوران جگر کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔
🔸 تیسرا مرحلہ:
جب زخموں کے نشانات بڑھتے ہیں تو Cirrhosis پیدا ہوتی ہے — جگر مستقل طور پر خراب ہو جاتا ہے اور اس کی کارکردگی خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے۔
🔸 آخری مرحلہ:
اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ جگر فیل ہونے یا جگر کے کینسر میں تبدیل ہو سکتا ہے، کیونکہ خلیوں میں مستقل تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔
۔ڈیٹاکس واٹر کیا ہے؟
ڈیٹاکس واٹر ایسا پانی ہوتا ہے جس میں قدرتی اجزاء جیسے لیموں، کھیرے، پودینہ، سیب، ادرک وغیرہ شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ پانی جسم سے فاضل مادوں (ٹاکسنز) کو خارج کرنے، ہاضمہ بہتر بنانے، وزن کم کرنے اور جلد کو صاف رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
Follow the Medical Information channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va89ke0DDmFNpu4ZN43f
مشہور ڈیٹاکس واٹر ریسیپیز:
1. لیموں اور پودینہ واٹر
اجزاء: 1 لیموں کے سلائس، چند پودینہ کے پتے، 1 لیٹر پانی
فائدے: قوتِ مدافعت میں اضافہ، ہاضمہ بہتر، منہ کی بدبو کا خاتمہ
2. کھیرا اور لیموں واٹر
اجزاء: آدھا کھیرا (سلائس)، 1 لیموں، 1 لیٹر پانی
فائدے: جسم میں پانی کی کمی پوری، پیٹ کی سوجن کم، جلد صاف
3. سیب اور دار چینی واٹر
اجزاء: 1 سیب (سلائس)، 1 دار چینی کی لکڑی، 1 لیٹر پانی
فائدے: بلڈ شوگر کنٹرول، میٹابولزم میں اضافہ
4. ادرک اور لیموں واٹر
اجزاء: ایک چھوٹا ٹکڑا ادرک، 1 لیموں، 1 لیٹر پانی
فائدے: ہاضمہ بہتر، سوزش کم، متلی میں آرام
طریقہ استعمال:
1. تمام اجزاء پانی میں شامل کریں۔
2. فریج میں 2 سے 4 گھنٹے (یا رات بھر) کے لیے رکھ دیں۔
3. دن بھر تھوڑا تھوڑا پیئیں.❤️😊
30/10/2025
میرا اشرف چوہدری پہ اعتراض کرنا بہت لوگوں کو برا لگا ہے لیکن میں نے ان جیسے لوگوں کی وجہ سے اپنے سامنے لوگوں کو مرتے دیکھا ہے، ان کی زندگی برباد ہوتے دیکھی ہے۔ میں کیسے نہ ایسے شخص پہ انگلی اٹھاؤں؟
ظاہری باتوں سے ہٹ کر جب آپ کسی بھی شے کا گہرائی میں معائنہ کرتے ہیں تو آپ پہ بہت سی حقیقتیں کھلتی ہیں۔ سب سے پہلے شوگر کو سمجھیے۔
ہم کوئی بھی چیز کھائیں تو ہمارے جسم میں اس کی توڑ پھوڑ ہوتی ہے اور اس میں موجود شوگر ہمارے خون میں جا کر وہاں شوگر کی مقدار بڑھا دیتی ہے۔ ہمارے جسم میں انسیولین بنتی ہے اور خون سے شوگر کو لے کر جسم کے مختلف حصوں میں سٹور کر دیتی ہے۔ اگر انسیولین نہ بنے، کام نہ کر پائے تو شوگر کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ یا اگر بہت عرصے تک بدپرہیزی کرتے رہیں تو مسلسل خون میں بڑھا ہوا شوگر کا لیول آپ کو اس مرض کا شکار کر سکتا ہے۔
اسے ٹائپ ٹو ذیابیطس کہتے ہیں۔ شوگر کی دوسری قسم جسے ٹائپ ون کہا جاتا ہے جسم میں انسیولین کے نہ بننے سے ہوتی ہے۔ ٹائپ ٹو کو غذا اور ورزش کے اندر تبدیلی لا کر شروع میں بہت آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ٹائپ ون کے لیے انسیولین کے علاوہ کوئی حل ہی نہیں ہوتا۔ اشرف چوہدری کا یہ دعویٰ کہ شوگرکے لیے انسیولین کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، جھوٹا ہے۔ سب علاج کرنے والوں کو مافیا کہنا گمراہ کن ہے کیونکہ ٹائپ ون میں انسیولین نہ لیں تو زندگی نہیں بچتی۔
ٹائپ ٹو کے لیے کسی بھی ماہر غذائیت سے نسخہ بنوائیے اور اس پہ سختی سے عمل کیجیے، آپ کو ادویات کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اتنی سی بات کے لیے آپ کو بیس پچیس ہزار لگا کر کسی کورس کو جوائن کرنے کی ضرورت نہیں۔
لیکن یہ کہنا کہ شوگر کا علاج دوائی نہیں ، غذا ہے اور اس کے لیے میرا پچیس ہزار کا کورس جوائن کریں، آپ کو لوٹنے کا بہانہ ہی ہے۔
اور عوام کو لوٹنے کے لیے پھر شوگر کے باقی ہر علاج کو فریب قرار دینا، اپنا شکار گھیرنے کے لیے اسے باقی سب سے متنفر کرنا سیدھی سادی گمراہی ہے۔
یہ سادہ سی بات بچہ بچہ جانتا ہے کہ شوگر کی بیماری کا غذا کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ اس لیے اگر شوگر سے بچنا ہے یا اس کو ابتدائی طور پہ کنٹرول کرنا ہے تو اپنی غذا کو ٹھیک رکھنا ہو گا۔ دوسری چیز ورزش ہے، جو آپ کے خون میں موجود اضافی شوگر کو استعمال میں لانے کا باعث بنتی ہے۔ آپ غذا اور ورزش کا خیال رکھیے اور بچے رہیے۔
ہر ڈاکٹر ، ہر معالج شوگر کے ہر مریض کو پہلی بات ہی یہ کہتا ہے کہ اپنی غذا پہ دھیان دیں، ورزش کرنا شروع کریں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں پچیس ہزار کا کورس خرید کر تو غذا پہ دھیان دیا جا سکتا ہے، مفت کے ملے مشورے پہ نہیں دیا جا سکتا۔
پھر اس فاتح کا یہ دعویٰ کہ شوگر کا علاج ممکن ہے ، جھوٹا دعویٰ ہے۔ علاج اور احتیاط میں فرق ہوتا ہے، اگر آپ یہ فرق نہیں سمجھتے تو آپ اس سے لٹنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔ اگر آپ شوگر کے مرض کا شکار ہو چکے ہیں تو جب تک آپ غذا اور ورزش کا دھیان رکھیں گے، آپ کی شوگر کنٹرول رہے گی ، جب بے احتیاطی کریں گے پھر بگڑ جائے گی۔ اسے مسلسل احتیاط سے قابو میں رکھا جاتا ہے، اسے علاج نہیں کہا جاتا۔
اس کے بعد سمجھنے والی بات یہ ہے کہ شوگر کے ہر مریض کا مرض ایک درجے پہ نہیں ہوتا۔ کوئی صرف ان احتیاطی تدابیر سے شوگر کنٹرول کر سکتا ہے اور کسی کا مرض اتنا آگے بڑھ چکا ہوتا ہے کہ دوائی لینے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ سب مریضوں کو ایک صف میں نہیں کھڑا کیا جا سکتا۔ ایسا کرنے والا بددیانت ہو گا۔
اب وہ مریض جن کا مرض بگڑا ہوا ہے ، انھیں بھی اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اپنے کورس میں رکھ کر ان کا مرض مزید بگاڑنا تباہ کن ہے۔ انھیں دوائیوں سے متنفر کرنا ان کی جان کے ساتھ کھیلنا ہے۔
یاد رہے شوگر کے مریض کا مرض بگڑے تو اسے جسمانی طور پہ کوئی زیادہ مسئلہ نہیں بنتا لیکن خون میں شوگر کی بڑھی ہوئی مقدار مسلسل اس کے گردے، دل ، آنکھیں، خون کی شریانیں ، سب کو نقصان پہنچاتی رہتی ہے اور جب جسم میں مسائل بننا شروع ہو جاتے ہیں تب اتنا نقصان ہو چکا ہوتا ہے کہ علاج کر کے بھی تلافی نہیں ہوتی۔
اس لیے یہ طے کرنا کہ کس مریض کو کب صرف غذائی تبدیلی کی ضرورت ہے اور کب باقاعدہ علاج کی ، انتہائی ضروری ہے۔ جو یہ نہیں کرتا وہ لوگوں کو گمراہ کر کے ان کا نقصان ہی کر رہا ہے۔
یہ فاتح صاحب خود کہتے ہیں کہ میں کوئی ماہر غذائیت نہیں، کوئی ڈاکٹر نہیں تو پھر یہ ان کے علم کو چیلنج کر کے انھیں غلط کہنے کا جواز ہی کیسے رکھتے ہیں۔ پھر ان کے کورس لینے کے بجائے کسی ماہر غذائیت سے کھانے کی ترتیب بنوانے اور اس پہ عمل کرنے پہ ہی کیوں اکتفا نہ کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ میں نے اٹھارہ سال دوائی کھائی اور پھر تین دن میں میری شوگر ٹھیک ہو گئی ، یہ سراسر جھوٹا دعویٰ ہے۔ ہمارے پیچیدہ جسمانی نظام کے متعلق رکھنے والا کوئی بھی انسان اس دعویٰ کے جھوٹا ہونے میں کوئی شک نہیں رکھتا۔
لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن مختصر یہ کہ شوگر ایک باقاعدہ بیماری ہے۔ اس کا علاج اس کے ماہرین سے کروانا چاہیے۔ غذائی احتیاط ضرور کریں اور اس کا مشورہ کسی باتوں کے غازی سے نہیں کسی ماہر غذائیت سے لیں۔ اس کے متعلق غلط بیانیہ پھیلانے والا، علاج کرنے والوں کو مافیا کہہ کر عام عوام کو ان سے متنفر کرنے والا لوگوں کو گمراہ ہی کر رہا ہے اور اس گمراہی کا شکار لوگ بروقت علاج نہ کروا کے اپنا جو نقصان کریں گے، اس کا ذمہ دار یہی شخص ہوگا، اس لیے اس کی باتوں سے بچنا اور بچانا ہی ہر کسی کی ذمہ داری ہے۔
۔۔۔۔۔ ڈاکٹر ضیاء الرحمن ۔۔۔۔۔
*❄️ سردیوں میں فالج اور ہارٹ اٹیک کے بڑھنے کی وجوہات ❄️*
•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•
سردی کا موسم خوبصورت ضرور ہوتا ہے،
لیکن اسی دوران دل اور دماغ کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ماہرینِ طب کے مطابق اس کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•
*1️⃣ خون کی نالیاں سکڑ جانا* (Vasoconstriction):
سرد موسم میں جسم حرارت بچانے کے لیے خون کی رگوں کو تنگ کر دیتا ہے،
جس سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔
یہی دباؤ بعض اوقات ہارٹ اٹیک یا فالج کا سبب بن سکتا ہے۔
•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•
*2️⃣ پانی کم پینا (Dehydration):*
سردیوں میں پیاس کم لگنے کے باعث زیادہ تر لوگ پانی کم پیتے ہیں،
جس سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور خون کے لوتھڑے (clots) بننے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
یہ لوتھڑے دماغ یا دل کی نالی بند کر کے فالج یا ہارٹ اٹیک پیدا کر سکتے ہیں۔
•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•
*💡 احتیاطی تدابیر:*
✅ روزانہ مناسب مقدار میں نیم گرم پانی یا گرم مشروبات پئیں۔
✅ گرم کپڑے، جرابیں، ٹوپی، دستانے، چادر یا کوٹ پہن کر خود کو گرم رکھیں۔
✅ بلڈ پریشر اور شوگر کو باقاعدگی سے چیک کریں۔
✅ خاص طور پر بوڑھے افراد اور مریضوں کا زیادہ خیال رکھیں۔
ممکن ہے آپ کی پوسٹ سے کسی کی جان بچ جائے۔ اس لئے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں کیوں کہ؛
"جس نے ایک انسان کی جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی"
(القرآن)
•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•ــــــ•
Zia Health Info
09/10/2025
ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻻﺋﻒ ﻣﯿﮟﺍﯾﮉ ﻻﺯﻣﯽ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩُﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ . :)
ﺟﯿﺴﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﯿﺮ ﺍﺏ ﯾﮧ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟﺍﺏ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ :(
ﻣﺮﺩﻭﮞﮐﻮ ﭨﯿﻨﺸﻦ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺷﻮﮔﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﭨﺎﭘﮯ ﺟﯿﺴﯽ ﺧﺒﯿﺚ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞﻧﮯ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﻣﯿﻨﻮﭘﺎﺯ جسے سن یاس بھی کہتے ہیں، ﺟﻠﺪﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ، ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﭘﺮﺍﺑﻠﻢ، PCOS ﮐﺎ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ۔ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﺟﻮ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﺝ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﺎﺅ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺩﻭﮌ ﺑﮭﺎﮒ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﺮﯾﺲ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮐﺮﺩﯼ ﮨﮯ۔
ﺁﺝ ﻣﯿﺮﯼ ﭨﭗ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﮨﮯ۔
ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﮭﺮﯾﺎﮞ، ﺍﯾﮑﻨﯽ ﭘﻤﭙﻠﺰ، ﺩﺍﻍ ﺩﮬﺒﮯ، ﻓﺮﯾﮑﻠﺰ، ﺳﺎﻧﻮﻻ ﭘﻦ، ﮔﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﮨﻮﺗﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﯿﺎﭘﺎ، ﺍﻧﺮﺟﯽ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ، ﮨﺮﻭﻗﺖ ﺗﮭﮑﻦ ﺭﮨﻨﺎ، ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﭼﮍﭼﮍﺍﭘﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﺎﺭﭦ ﺍﭨﯿﮏ ﮐﺎ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ۔
ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺭﺵ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮨﯽ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺣﻞ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭨﻮﭨﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔
ﺻﺒﺢ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﺱ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ EVION 400 MG ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﻧﯿﻠﮯ ﺭﻧﮓ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﻣﯿﮟﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ . ﺍﻣﭙﻮﺭﭨﮉ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮔﺮﯾﻦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻟﯿﮟ .
خوراک استعمال ﮐﺮﻧﺎ ﺻﺮﻑ 400 ملی گرام ﻭﺍﻻ ﮨﯽ ﮨﮯ،
600 ﺍﻭﺭ 200 ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟﮐﺮﻧﺎ .
ﻧﮑﺘﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﺍﺗﻨﺎ ﺍﺛﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻨﮕﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﻧﮧ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺻﺒﺮ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﻨﺎ . ﻭﯾﺴﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟﮨﺮ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﺳﭩﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﺍﯼ ﻭﺍﻻ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ .
ﻭﭨﺎﻣﻦ E ﮐﮯ ﺟﺎﺩﻭﺋﯽ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻭﺍﻻ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﮨﺮ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﺳﭩﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﺎﺁﺳﺎﻧﯽ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺴﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ ہفتہ دو ہفتہ بھر استعمال کریں'پھر دو دن وقفہ کریں
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺳﮯ ﮐﻨﻔﺮﻡ ﮐﺮﯾﮟ، ﻻﻧﮓ ﭨﺮﻡ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﺍﯾﻔﯿﮑﭧ سے اجتناب کریں۔
چ
ﺣﺎﻣﻠﮧ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺳﺐ ﺑﻼ ﺧﻮﻑ ﻭ ﺧﻄﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ۔
ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﮨﯿﮟ ﺟﺘﻨﮯ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺗﯿﻦ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺭﯾﮕﻮﻟﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﺣﻞ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﻦ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺍﺛﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﺳﮑﻦ ﭘﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﻮﺭﯼ ﺑﺎﮈﯼ ﮐﯽ ﺍﻟﺮﺟﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺍﻍ ﺩﮬﺒﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﺍﯾﮑﻨﯽ ﭘﻤﭙﻠﺰ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺳﮑﻦ ﺗﯿﻦ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻟﮧ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﭼﮩﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮈﯼ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺪﯼ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﮭﺮﯾﺎﮞ ﭘﮍﯾﮟ۔ ﺳﮑﻦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﭨﺎﺋﭧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ ﯾﮧ ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﮨﮯ۔
ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﮐﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﻭﺗﮫ ﮨﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﮐﺌﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺮﺩ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻮ ﺳﺎﭨﮫ ﭘﯿﻨﺴﭩﮫ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺟﻮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮑﭩﻮ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﻓﯽ ﻣﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﻞ ﻣﺎﮈﻟﺰ ﺍﯾﮑﭩﺮﺯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﯿﺲ ﺑﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ .
ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻔﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﺎ۔ ﻧﻮﺧﺸﮑﯽ، ﻧﻮ ﮨﺌﯿﺮ ﻓﺎﻝ ﻧﻮ ﺑﺎﻟﭽﺮ ﻧﻮ ﮔﻨﺞ ﭘﻦ۔ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﺗﯿﺮﺑﮩﺪﻑ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ۔
ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﻧﺮﺟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮑﭩﻮﻧﺲ ﮨﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺑﺠﻠﯽ ﺑﮭﺮﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﺑﻨﺪﮦ ﮈﭘﺮﯾﺲ ﮨﻮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻟﻮ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺰ ﻻﺋﻒ ﮨﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﯿﻨﺸﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺮﺿﯽ ﺑﮍﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔
ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻤﮏ، ﺳﮑﻦ ﭨﺎﺋﭧ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻠﻘﮯ ﻏﺎﺋﺐ، ﺑﺎﻝ ﮔﮭﻨﮯ ﺳﯿﺎﮦ، ﭼﮩﺮﮦ ﻓﺮﯾﺶ، ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺍﻍ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮬﺒﮧ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ؟؟؟۔
ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﻣﺮﺩﻭﮞﻣﯿﮟ ﮨﺎﺭﭦ ﺍﭨﯿﮏ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎتا ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﺎﻧﻮﮞﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺮﯾﮉﺯ ﺭﯾﮕﻮﻟﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺩﺑﺎﺅ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺍﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﯿﺴﭧ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ.
ﺟﻦ ﮐﻮ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ، ﺍﯾﻨﯿﻤﯿﺎ ﻭﺍﻻ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ ﺍُﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﮧ ﻋﻈﯿﻢ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ.
ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﮐﻮ ﺑﯿﻠﻨﺲ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، . ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﺳﮯ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ .
مردانہ طاقت کیلئے بڑھاپے میں بھی کارآمد وٹامن ای۔۔۔
یہ وٹامن ای ہے ۔
میاں بیوی کے درمیان جنسی عمل ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف انسانی بڑھوتری کا سبب ہے بلکہ اس سے زیادہ انسان کی جذباتی تسکین کا ذریعہ بھی ہے ۔ اس فعل کو بڑھانے اور زیادہ دیر تک لطف اندوز ہونے کے لئے۔
اس کی کمی سے جنسی ہارمون اور غدود نخامیہ کا ہارمون دونوں کم ہوجاتے ہیں۔ یہ وٹامن بانجھ پن کو دور کرنے اوراسقاط حمل کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﺻﺒﺢ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﮯ .
ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﻨﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﻮﭨﺎﭘﺎ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ 15 ﻣﻨﭧ ﻭﺍﮎ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺭﺯﻟﭧ ﻣﻠﯿﮟ گے۔
وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے ہونے والی علامات
🎗️ وٹامن ای کی کمی کی علامات
عصبی پٹھوں کی کمزوری
وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے ہمیں پٹھوں کی کمزوری ہوتی ہے ہمارے اعصابی نظام کے لئے وٹامن ای بہت ضروری ہے یہ اہم آکسیڈنٹ میں شامل ہے۔اس کی کمی کی وجہ سے پٹھوں میں تناؤ پیدا ہوتا ہے جو پٹھوں کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔
چلنے میں دشواری
وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے پیدل چلنے میں دشواری ہوتی ہے اور جسم میں کمزوری پیدا ہوتی ہے جس وجہ سے انسان پیدل چلنے سے تھک جاتا ہےاور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
نظامِ انہظام کے مسائل
وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے ہمارا نظامِ انہظام ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتا۔وٹامن ای کی کمی ہمارے مدافعتی خلیوں کو روکتی ہے اس لئے بڑی عمر کے لوگوں کو نقصان ہوسکتا ہے۔
مزید معلومات کےلئے اپنے معالج سے مشورہ کریں۔۔
08/09/2025
مونگ پھلی – سستی لیکن قیمتی سوغات! 🌰
یہ جو عام سی نظر آنے والی مونگ پھلی ہے، حقیقت میں یہ صحت، توانائی اور شفاء کا قدرتی خزانہ ہے۔ صرف ناشتہ نہیں بلکہ مکمل طاقت کا پیکج! 💪
✅ مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد
1️⃣ پروٹین سے بھرپور – ورزش کرنے والوں کے لیے بہترین قدرتی سپلیمنٹ۔
2️⃣ دل کا محافظ – دل کی بیماریوں سے بچاؤ اور کولیسٹرول کنٹرول میں مددگار۔
3️⃣ دماغ کی طاقت – وٹامن B3 اور نیاسن یادداشت اور دماغی کارکردگی بڑھاتے ہیں۔
4️⃣ وزن پر کنٹرول – اعتدال میں کھائیں تو وزن کم کرے، زیادہ کھائیں تو وزن بڑھا دے۔
5️⃣ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید – بلڈ شوگر لیول متوازن رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
🔥 سردیوں کا خاص تحفہ
سردیوں میں جسم کو گرم رکھنے، توانائی بڑھانے اور قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانے کے لیے مونگ پھلی بہترین ہے۔
✨ ماہرین کا کہنا ہے:
روزانہ ایک مٹھی مونگ پھلی کھانے سے کمزوری اور بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔
💬 آپ مونگ پھلی کس طرح پسند کرتے ہیں؟
➡️ نمکین؟ ➡️ بھنی ہوئی؟ ➡️ یا گڑ کے ساتھ؟
⭕اگر آپ روزانہ مفت طبی معلومات اپنے واٹسپ پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ابھی ہمارا واٹسپ چینل جوئن کریں
لنک نیچے موجود ہے
⤵️⤵️⤵️⬇️⬇️⬇️
Channel link 🔗: ⬇️
https://whatsapp.com/channel/0029Va89ke0DDmFNpu4ZN43f
👇👇
#مونگپھلی
#قدرتیناشتا
#میلادرضا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
23200