Nazi Khan Official
Well come on my page.
06/09/2025
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
میری طرف سے آپ سب کو حضور آقا کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا 1500 سالہ جشن ولادت بہت بہت مبارک ہو ۔ اللہ کریم اس عظیم دن عید میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے کل عالم انسانیت بالخصوص کل عالم اسلام کی خیر فرمائے اور ہمارے ملک پاکستان کو ہر قسم ناگہانی آفات سے محفوظ فرمائے آمین
05/09/2025
🌸 ناول: صبر کا صلہ
پہلا حصہ: رشتہ اور خواب
عالیہ ایک خوش اخلاق اور نیک دل لڑکی تھی۔ درمیانے طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھنے والی، جہاں محبت، سادگی اور خلوص کی فراوانی تھی۔ اس کے والد ایک عام سرکاری ملازم تھے مگر دل کے امیر انسان۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی بیٹی کو یہی سکھایا تھا کہ صبر سب سے بڑی طاقت ہے۔
شادی کے دن عالیہ کے دل میں خوابوں کی ایک دنیا بسی ہوئی تھی۔ سہاگ رات سے پہلے اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے کہا:
"اب میری زندگی کا نیا سفر شروع ہونے والا ہے۔ میں دعا کرتی ہوں کہ میرا نیا گھر میکے کی طرح محبت بھرا ہو۔"
لیکن قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے؟ فیضان کے گھر میں قدم رکھتے ہی اسے اندازہ ہونے لگا کہ سب کچھ اتنا آسان نہ ہوگا۔
ساس نے استقبال تو کیا، مگر چہرے پر سختی نمایاں تھی۔ نندیں عجیب نظروں سے اسے پرکھ رہی تھیں۔ فیضان خاموش کھڑا تھا، ماں کے اشاروں پر چلنے والا بیٹا۔
چند دن تو سکون سے گزر گئے، مگر آہستہ آہستہ اصل رویے سامنے آنے لگے۔ کبھی کھانے میں نمک کم ہونے پر طعنے، کبھی صفائی میں کوتاہی کے الزامات۔ عالیہ حیران تھی کہ وہ دن رات محنت کرتی ہے، مگر پھر بھی کوئی خوش نہیں۔ continue
05/09/2025
02/09/2025
✨ ناول: محبت کا سفر
🌸 قسط سوم: "محبت کی جیت"
گاؤں میں چہ میگوئیاں بڑھتی گئیں۔ ہر کوئی آمنہ کے والد کو طعنے دیتا:
"مولوی صاحب! اپنی بیٹی کو قابو میں رکھیں۔"
"یہ زمیندار کے بیٹے کا خواب ہے، مگر تمہاری بیٹی کے لیے تباہی ہے۔"
آمنہ کا دل ٹوٹ رہا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ کاش وہ ارباز کو بھول پائے، مگر جب بھی کوشش کرتی، ارباز کی آنکھیں اور اس کا سچا جذبہ سامنے آ جاتا۔
🌑 ادھر ارباز نے فیصلہ کر لیا۔
اس نے باپ کے سامنے اعلان کر دیا:
"ابا! اگر آپ مجھے آمنہ سے شادی کرنے سے روکیں گے، تو مجھے اپنی دولت، زمین اور عزت سب چھوڑنی پڑے گی۔"
زمیندار غصے سے لرز گیا۔
"تم میری عزت کے خلاف جا رہے ہو؟"
ارباز نے کہا:
"نہیں ابا! میں عزت کے لیے ہی کھڑا ہوں۔ مگر وہ عزت دولت میں نہیں، ایک لڑکی کی پاکیزہ محبت میں ہے۔"
یہ الفاظ سن کر باپ کی آنکھوں میں بھی لمحے بھر کو سکوت چھا گیا، مگر انا نے فوراً حاوی ہو کر اسے دروازے سے نکال دیا۔
🌙 ارباز کا امتحان
ارباز نے گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ وہ مزدوری کرنے لگا، کپڑوں پر مٹی اور پسینہ، مگر دل میں سکون کہ یہ سب وہ آمنہ کے لیے کر رہا ہے۔
یہ خبر آمنہ تک پہنچی تو اس کے آنسو تھم نہ سکے۔
"یہ لڑکا مجھ پر اپنی دنیا وار رہا ہے، کیا میں اس کی محبت کا جواب ہاں کے سوا دے سکتی ہوں؟"
لیکن اس کا باپ سختی سے کہہ چکا تھا:
"یہ رشتہ کبھی نہیں ہوگا!"
🌹 فیصلہ کن لمحہ
ایک دن گاؤں کے سامنے ارباز آیا۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے مگر آنکھوں میں عزم کی روشنی تھی۔
اس نے سب کے سامنے کہا:
"میں آمنہ کو عزت دینا چاہتا ہوں۔ اگر محبت جرم ہے تو میں یہ جرم قبول کرتا ہوں۔ اگر غریب کی بیٹی کو اپنانا گناہ ہے تو میں یہ گناہ اپنی جان پر لکھوانے کو تیار ہوں۔"
گاؤں والوں پر سناٹا چھا گیا۔
مولوی صاحب کے دل میں بھی ہلچل مچی۔ انہوں نے بیٹی کو دیکھا، جو آنسوؤں میں ڈوبی ارباز کو دیکھ رہی تھی۔ ایک لمحے کو وہ نرم پڑ گئے، مگر زبان سے کچھ نہ بولے۔
🌅 انجام
چند دن بعد مولوی صاحب نے پنچایت کو بلا کر اعلان کیا:
"میں اپنی بیٹی کی شادی ارباز سے کروں گا۔ کیونکہ اس نے دولت نہیں، محبت کو چنا ہے۔"
یہ سن کر آمنہ کے آنسو خوشی میں بدل گئے۔ ارباز کے چہرے پر سکون کی لہر دوڑ گئی۔
زمیندار بھی خاموشی سے کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں پہلی بار غرور کے بجائے بیٹے کے لیے فخر کی جھلک تھی۔
💖 اختتام
یوں آمنہ اور ارباز کی محبت نے وہ دیواریں توڑ ڈالیں جو دولت اور غربت کے بیچ کھڑی تھیں۔ ان کی کہانی گاؤں والوں کے لیے مثال بن گئی کہ سچی محبت نہ دولت دیکھتی ہے، نہ حیثیت… وہ صرف دل کی پاکیزگی پہچانتی ہے۔
📌 (اختتام، مگر ایک نئی محبت کی شروعات!)
31/08/2025
محبت کا سفر
🌸 قسط دوم: "رکاوٹوں کا آغاز"
اگلے چند دنوں میں ارباز کے قدم بار بار اسی راستے پر پڑنے لگے جہاں آمنہ لکڑیاں لے کر گزرتی تھی۔ وہ خود حیران تھا کہ کیوں اسے اس لڑکی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بےچینی ہونے لگی ہے۔
دوسری طرف آمنہ نے بھی محسوس کیا کہ وہ اجنبی، جو پہلی بار راستے میں ملا تھا، بار بار اس کے قریب آ رہا ہے۔ دل دھڑکنے لگتا، مگر وہ اپنی غربت اور سماج کے ڈر کے باعث نظریں جھکا لیتی۔
ایک دن ارباز نے ہمت کر کے بات کر ہی لی۔
"تم ہر روز اتنی مشقت کرتی ہو… تمہیں تھکن نہیں ہوتی؟"
آمنہ نے چونک کر دیکھا۔ "تھکن… غربت میں پلنے والوں کے لیے معمولی چیز ہے۔ ہمیں تو بس جینا ہوتا ہے۔"
یہ سادہ سا جواب ارباز کے دل پر بجلی کی طرح گرا۔ اس کی دنیا عیش و آرام میں بسی ہوئی تھی، مگر یہ لڑکی اپنی غربت کے باوجود اتنی مضبوط تھی۔
وقت گزرتا گیا اور دونوں کی ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔ کبھی آمنہ کھیتوں میں کام کر رہی ہوتی، تو ارباز گھوڑے پر وہاں آ نکلتا۔ کبھی وہ کنویں پر پانی بھرنے جاتی، تو اچانک ارباز کے سوال اسے روک لیتے۔
🌹 آمنہ کے دل میں وہ جذبہ ابھر رہا تھا جسے وہ الفاظ میں نہیں سمجھ پا رہی تھی۔ یہ محبت تھی، مگر وہ اسے قبول کرنے سے ڈرتی تھی۔
🌑 پھر ایک دن۔۔۔
گاؤں کی پنچایت کے کسی آدمی نے ارباز اور آمنہ کو ایک ساتھ بات کرتے دیکھ لیا۔ بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔
شام تک پورے گاؤں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں:
"زمیندار کا بیٹا اور مولوی کی بیٹی؟"
"یہ کیسے ممکن ہے؟"
"یہ عزت کا سوال ہے!"
آمنہ کے والد کو خبر ملی تو ان کا چہرہ غصے اور شرمندگی سے سرخ ہو گیا۔
"آمنہ! یہ کیسی باتیں سن رہا ہوں میں؟ کیا تُو نے ہماری عزت خاک میں ملانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟"
آمنہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ نہ نکل سکے۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے والد کبھی اس رشتے کو قبول نہیں کریں گے۔
دوسری طرف ارباز نے بھی ہمت جمع کی اور اپنے والد کے سامنے بات رکھ دی:
"ابا جان، میں آمنہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔"
زمیندار کے قہقہے کی آواز پورے کمرے میں گونج گئی۔
"شادی؟ ایک غریب کی بیٹی سے؟ بیٹا، یہ خواب بھول جا۔ ہماری نسل کا خون اتنا کمزور نہیں۔"
ارباز کے دل میں طوفان مچ گیا۔ پہلی بار اس نے محسوس کیا کہ دولت کا غرور انسان کو اندھا بنا دیتا ہے۔
🌙 قسط کا اختتام
آمنہ رات بھر آنکھوں میں آنسو لیے سوچتی رہی:
"کیا میرا خواب ادھورا رہ جائے گا؟ کیا میرا پیار سماج اور دولت کی دیواروں کے نیچے دب جائے گا؟"
اور ارباز اپنے کمرے کی کھڑکی سے آسمان کو دیکھتے ہوئے عہد کر رہا تھا:
"نہیں آمنہ! میں تجھے چھوڑوں گا نہیں۔ یہ محبت ہے… اور اس کے لیے میں سب کچھ قربان کر دوں گا۔"
📌 (آگے جاننے کے لیے قسط نمبر 3 کا انتظار کریں!)
30/08/2025
✨ ناول: محبت کا سفر
🌸 قسط اول: "پہلی ملاقات"
گاوں کے کنارے ایک چھوٹا سا ٹوٹا پھوٹا مکان تھا جہاں آمنہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتی تھی۔ غربت نے ان کی زندگی کو گھیر رکھا تھا۔ آمنہ صبح سویرے کھیتوں میں مزدوری کرنے جاتی اور شام کو گاؤں کی بچیوں کو قرآن پڑھاتی۔ وہ حسین تھی مگر اس کی آنکھوں میں ہمیشہ تھکن اور خوابوں کا بوجھ دکھائی دیتا تھا۔
دوسری طرف ارباز تھا۔ شہر کے سب سے بڑے زمیندار کا بیٹا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، خوش پوش، پرکشش نوجوان۔ مگر غرور اور دولت کی چمک اس کی شخصیت کا لازمی حصہ سمجھی جاتی تھی۔ گاؤں والے اسے دور سے دیکھ کر ہی دب جاتے تھے۔
ایک دن قسمت نے دونوں کو آمنے سامنے کر دیا۔
گاؤں کی پگڈنڈی پر آمنہ لکڑی کا گٹھا اٹھائے چل رہی تھی کہ اچانک پیر پھسلا اور وہ زمین پر گر گئی۔ لکڑیاں بکھر گئیں۔ وہ بمشکل اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ایک مضبوط ہاتھ نے اسے سہارا دیا۔
یہ ہاتھ ارباز کا تھا۔
آمنہ نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ دولت اور غرور سے بھری آنکھیں، مگر ان میں ایک لمحے کے لیے نرمی جھلک رہی تھی۔
"دیکھ کر نہیں چل سکتی تھیں؟" ارباز نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
آمنہ نے نظریں جھکا لیں اور آہستہ سے بولی: "میں… میں سنبھل گئی ہوں۔ شکریہ۔"
ارباز کچھ دیر اس کے سادہ چہرے اور بکھرے بالوں کو دیکھتا رہا۔ وہ پہلی بار کسی غریب لڑکی میں ایسی معصومیت دیکھ رہا تھا۔
اسی لمحے آمنہ کی ماں آواز دیتی ہوئی قریب آئی اور آمنہ کو دیکھتے ہی پریشان ہوگئی:
"بیٹی! تم ٹھیک تو ہو نا؟"
آمنہ نے جلدی سے لکڑیاں سمیٹیں اور ماں کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ارباز خاموش کھڑا انہیں جاتا دیکھتا رہا۔
اس رات آمنہ بہت دیر تک سوچتی رہی کہ یہ لڑکا جو اس کی دنیا سے اتنا مختلف ہے، اسے دیکھتے ہی دل کیوں دھڑکنے لگا؟
دوسری طرف ارباز بھی بےچین تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ لڑکی کون ہے، جس کی آنکھوں کی سادگی نے دل کی سخت دیواروں کو ہلا دیا ہے؟
کھڑکی سے چاندنی اندر آ رہی تھی اور آمنہ خاموش بیٹھی سوچ رہی تھی کہ کیا یہ ایک معمولی اتفاق تھا؟ یا قسمت نے کوئی نیا کھیل شروع کر دیا ہے۔۔۔
📌 (آگے جاننے کے لیے قسط نمبر 2 کا انتظار کریں!)
30/08/2025
🕯️ اندھی گلی کا راز
✨ قسط 1
رات کے اندھیرے میں اچانک ایک چیخ سنائی دی۔
گاوں کے لوگ دوڑتے ہوئے اس پرانی ویران حویلی کے قریب پہنچے، جہاں کئی سالوں سے کوئی نہیں رہتا تھا۔
اندر جانے کی کسی میں ہمت نہ ہوئی، بس کھڑکی سے جھانکا تو ایک سفید کپڑوں میں لڑکی کو زمین پر بیٹھے روتے دیکھا۔
کچھ لوگوں نے کہا یہ کسی کی بیٹی ہے، کوئی بھاگ کر آئی ہے۔
کچھ نے کہا یہ اُس پرانی حویلی کی “چڑیل” ہے جو ہر پچھلی رات کسی نہ کسی کو نظر آتی ہے۔
مولوی صاحب کو بلایا گیا۔ وہ آگے بڑھے مگر جیسے ہی دروازہ کھولا گیا۔۔۔ اندر کا منظر دیکھ کر سب کے ہوش اڑ گئے۔
📌 گے کی حقیقت جاننے کے لیے اگلی قسط پڑھیں...
29/08/2025
رات کے سناٹے میں اچانک مولوی کے دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
گھر کے صحن میں بیٹی تڑپ رہی تھی اور پورا گاوں یہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے کوئی بڑا گناہ کیا ہے۔
کسی نے کہا یہ ماں بننے والی ہے، کسی نے کہا اس پر آسیب ہے۔۔۔
لیکن حقیقت کچھ ایسی تھی جسے جان کر سب کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
👉 آگے کی پوری کہانی پڑھنے کے لیے نیچے لنک پر کلک کریں:
https://shrturl.app/DR5TTB
29/08/2025
کنواری حاملہ – حقیقت یا الزام؟
ایک چھوٹے سے گاوں میں ایک غریب مگر نیک دل مولوی صاحب رہتے تھے۔ وہ مسجد کے امام بھی تھے اور بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے تھے۔ ان کی بیوی بھی دین کی تعلیم دینے کے لئے محلے کی لڑکیوں کو پڑھاتی تھی۔ انہی کا ایک ہی سہارا تھا—ان کی اکلوتی بیٹی، جو اپنی خوبصورتی کی وجہ سے گاوں بھر میں مشہور تھی۔
اسی حسن کی شہرت چودھری کے بیٹے تک بھی جا پہنچی۔ تجسس کے مارے وہ مولوی کے گھر ایک دن نیاز دینے کے بہانے آ پہنچا تاکہ لڑکی کو دیکھ سکے۔ موقع ملا اور اس نے لڑکی کو دیکھ بھی لیا۔ وہ پہلی ہی نظر میں اس پر دل ہار بیٹھا............... Continue
http://bit.ly/47kvx9o
29/08/2025
Like and follow up.
29/08/2025
Like and follow me.
Click here to claim your Sponsored Listing.