آوارگی
Public User
بعض اوقات جوانی اپنے حصے کا سکھ مانگتی ہے
اکثر تیری جگہ پہ رات کو تکیہ رکھنا پڑتا ہے
゚viralシ
15/07/2026
جس شخص سے تم سترہ برس کی عمر میں شدید محبت کرتے تھے، وہ پچیس برس کی عمر میں تمہیں اتنا اہم نہیں لگے گا۔
وہ امتحان جس میں تم پہلے سال ناکام ہوئے تھے، تمہیں بالکل یاد نہیں آئے گا جب تم آخری سال میں فارغ التحصیل ہونے کے قریب ہو گے۔
وہ مسائل جو آج تمہیں دنیا کا اختتام لگتے ہیں، ایک سال بعد نہ تمہیں ان کی پرواہ ہو گی، نہ وہ کوئی فرق ڈالیں گے۔
تم بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے۔۔۔❤️
13/07/2026
ڈاکٹر بلال کہتے ہیں
عورت دنیا کا ہر دکھ برداشت کر سکتی ہے
لیکن وہ یہ پچھتاوا کبھی نہیں دل سے نکال پاتی اس نے ایک غلط اور نااہل انسان پہ اپنے پاکیزہ جذبات اور وقت ضاٸع کر دیا۔
11/07/2026
اگر آپ کی موجودگی آپ کی غیر موجودگی سے ملتی جلتی ہے ,تو چھوڑ دیں …..!
16/05/2025
پھر دل کو ہو گئی ہے وہی راہ گزر عزیز
پھر آ گئے فریب میں ہم مدتوں کے بعد
15/05/2025
نیت شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں
آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصرؔ
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہی
#اردوشاعری
#محبت
#شاعری
#درد
#احساس
#الفاظ
#یادیں
#تنہائی
#خواب
#اداسیاں
#محبتنامہ
#پیار
#دل
#سچیبـــات
#شعر
#ادبیات
15/05/2025
اک پل بغیر دیکھے اسے کیا گزر گیا
ایسے لگا کہ ایک زمانہ گزر گیا
سب کے لیے بلند رہے ہاتھ عمر بھر
اپنے لیے دعاؤں کا لمحہ گزر گیا
کوئی ہجومِ دہر میں کرتا رہا تلاش
کوئی رہِ حیات سے تنہا گزر گیا
ملنا تو خیر اس کو نصیبوں کی بات ہے
دیکھے ہوئے بھی اس کو زمانہ گزر گیا
دل یوں کٹا ہوا ہے کسی کی جدائی میں
جیسے کسی زمین سے دریا گزر گیا
اس بات کا ملال بہت ہے مجھے عدیمؔ
وہ میرے سامنے سے اکیلا گزر گیا
ہم دیکھنے کا ڈھنگ سمجھتے رہے
اتنے میں زندگی کا تماشا گزر گیا
13/05/2025
ترے فراق میں، آئے تھے جو وصال کے دن !
ہیں مدتوں سے کہیں لا پتا کمال کے دن !
بلندیوں پہ گلے سے ہمیں لگاتا رہا !
پھر ایک شخص کہیں کھو گیا زوال کے دن
یہی دعا ہے ! رہیں سبز ہی ترے موسم
خدا کبھی نہ دکھائے تجھے ملال کے دن
یہ عمر بھر کی ریاضت بھی کام آ نہ سکی
جواب دے نہ سکا میں کسی سوال کے دن
تصورات کی راتوں میں سوگ برپا ہے
کہیں تو قتل ہوئے ہیں مرے خیال کے دن
یہ جانتا ہوں کہ ممکن نہیں، وہ لوٹ آئے !
گزارتا ہوں مگر زینؔ احتمال کے دن
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan
60000